PDA

View Full Version : وکی لیکس … ایں چہ بو العجبیست؟



گلاب خان
12-08-2010, 08:24 PM
شوکت علی شاہ ـ 15 گھنٹے 31 منٹ پہلے شائع کی گئی
اس یہودی تنظیم نے ہزاروں کی تعداد میں ’’راز ہائے سربستہ‘‘ کے انکشافات سے پہلے پروپیگنڈہ کے ذریعے کچھ ایسا تاثر دیا جیسے بلی کے تھیلے سے باہر آتے ہی زمین پھٹ جائیگی۔ آسمان تاریکی کی چادر اوڑھ لے گا، دنیا میں ہیروشیما اور ناگاساکی سے زیادہ تباہی آئیگی۔ گویا یہ انکشافات ایٹم بم سے بھی زیادہ خطرناک ہونگے۔ مختلف ممالک ایک دوسرے سے ٹکرا جائینگے۔ ریاستی حکمران ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کے بھی روادار نہ ہونگے۔ ڈپلومیسی کو شدید جھٹکا لگے گا۔ کجکلاہوں کے سر اگر کٹیں گے نہیں تو جھک ضرور جائینگے لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا، ہوگا بھی نہیں! یہ چائے کی پیالی میں طوفان اٹھا ہے جو جلد ہی تھم جائیگا۔ یہ درست ہے کہ میڈیا کو کچھ عرصے کے بعد (Juicy Material) مل گیا ہے۔ عوام نے بھی ایک حد تک حِظ اٹھایا ہے۔ کچھ لوگوں کو شاید دردِ سر بھی ہوا ہو لیکن کوئی ایسی بات نہیں کہی گئی جس کا لوگوں کو پہلے سے علم نہ ہو۔ امریکی حکومت نے چونکہ اسکی مذمت کی ہے اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ یہ سپر پاور کی واضح پالیسی نہیں ہے۔ سب ’’راز‘‘ دراصل ان مکتوب پر مبنی ہیں جو امریکی سفیر وقتاً فوقتاً اپنی حکومت کو بھیجتے رہے ہیں۔ یہ Assesment درست بھی ہوسکتی ہے اور اسے انکی ذاتی رائے بھی سمجھا جاسکتا ہے۔ اس محدود کالم میں سب انکشافات پر تبصرہ نہیں کیا جاسکتا اس لئے ہم صرف ان باتوں پر اکتفا کرینگے جن کا تعلق پاکستان سے ہے۔
-i مثلاً یہ کہا گیا ہے کہ سعودی فرمانروا صدر زرداری کے متعلق کچھ اچھے خیالات نہیں رکھتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جب سر ہی گلا سڑا ہو تو دھڑ سلامت نہیں رہ سکتا۔-ii صدر زرداری نے اپنے قتل کی صورت میں فریال تالپور کو جانشین مقرر کیا۔-iii حکومت کمزور، غیرموثر اور بدعنوان ہے۔-iv متحدہ عرب امارات کے حکمران کی نظر میں زرداری ’’ڈرٹی‘‘ ہیں اور نوازشریف ’’ڈینجرس‘‘-v مولانا فضل الرحمن نے وزیراعظم بننے کیلئے امریکہ سے مدد مانگی۔-vi سعودی حکمران نے امریکہ کو ایران پر حملہ کرنے کیلئے کہا نیز اسرائیل از خود حملہ کرنا چاہتا تھا لیکن امریکہ نے اسے اسکے مضمرات سے آگاہ کیا۔-vii جنرل کیانی حکومت اور پارلیمنٹ پر چھائے ہوئے ہیں اور اکثر ڈکٹیشن دیتے ہیں۔
ان تمام امور کا جائزہ لینے سے ایک بات کا سمجھنا ضروری ہے اور اس کا تعلق ڈپلومیسی سے ہے۔ عام فہم انصاف میں اسکا مطلب منافقت ہے۔ یہ ہمیشہ ایمانداری اور وفاداری سے غیرشریفانہ فاصلے پر رہتی ہے۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ:
"Sincere diplomacy is no more possible than a wooden iron or dry water" (جس طرح لکڑی کا بنا ہوا لوہا نہیں ہوتا، خشک پانی نہیں ہوتا، اسی طرح ایماندار سفارتکاری بھی نہیں ہوتی)
بہت عرصہ پہلے عوامی جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے زاہد سرفراز نے امریکی سفیر کو پاکستان کا وائسرائے کہا تھا۔ طنزاً کہا گیا وہ جملہ آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں گونج رہا ہے۔ ہمارے سیاستدان اور حکمران اب بھی اس ہی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ اس سے دنیا کے دکھ سکھ بانٹتے ہیں۔ اقتدار میں آنے کیلئے اپنی وفاداریوں کا یقین دلاتے ہیں کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ حکمرانی کا ہر راستہ واشنگٹن سے ہو کر گزرتا ہے۔ اگر یہ نہ ہوتا تو سنگاپور کے ہسپتال میں لیٹا ہوا کینسر کا مریض (معین قریشی) کبھی بھی پاکستان کا عبوری وزیراعظم نہ بن پاتا۔ شوکت عزیز سٹی بینک کے کسی گوشے میں بیٹھا ہوا دو جمع دو کرتا دکھائی دیتا۔ امریکہ بے شک سپرپاور ہے لیکن ہمارا مسئلہ کچھ اور ہے۔ جس ملک نے اپنی سانسیں تک اس ملک کے پاس گروی رکھ چھوڑی ہوں، وہ آزاد فارن پالیسی کا سوچ تک نہیں سکتا۔ رہی سہی کسر اسکے ذیلی ادارے از قسم آئی ایم ایف اور ورلڈبینک نکال دیتے ہیں جنہوں نے ہمارے منہ پر مالی آکسیجن کا ماسک چڑھایا ہوا ہے۔
جہاں تک سعودی شاہ کے زرداری کے متعلق خیالات کا تعلق ہے تو صدر زرداری بھی ان سے کچھ زیادہ ’’عقیدت‘‘ نہیں رکھتے۔ یہی وجہ ہے کہ دو سال تک وہ حج کی سعادت بھی حاصل نہیں کر سکے۔ دوسرا انکشاف بھی خاصا دلچسپ ہے۔ زرداری نے اپنے ممکنہ قتل کی صورت میں فریال تالپور کو صدر بنانے کی وصیت کی ہے۔ اس میں بھی چونکا دینے والی کوئی بات نہیں ہے۔ صدر صاحب وقتاً فوقتاً اپنے ’’چل چلائو‘‘ کی پیشن گوئیاں کرتے رہتے ہیں۔ صدارتی محل سے سٹرٹیچر پر نکلنے کا ذکر کئی بار کرچکے ہیں اور یہ کہ وہ کاروانِ شہداء کے آخری چراغ ہیں۔ اپنے ’’مفروضہ قتل‘‘ کے بعد انہوں نے کسی نہ کسی کو تو نامزد کرنا ہی ہے۔ فریال تالپور کو نہ کرتے تو کیا میاں نوازشریف کو اپنا جانشین مقرر کردیتے؟
حکومت کمزور، غیرموثر اور بدعنوان ہے۔ یہ انکشاف تو نہیں لطیفہ ضرور ہوسکتا ہے۔ وطن عزیز میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں حکومت کی کارکردگی پر جو ٹنوں کے حساب سے تبصرے ہوئے ہیں انہیں دیکھ کر ان ریمارکس کو حکومت مخالف نہیں بلکہ ’’مدگار‘‘ ہی کہا جاسکتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے حکمران نے زرداری کو ’’ڈرٹی‘‘ اور ’’نوازشریف‘‘ کو ’’ڈینجرس‘‘ کہا ہے۔ ڈرٹی شخص کی گندگی اسکی ذات تک محدود رہتی ہے لیکن خطرناک شخص سارے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ جہاں تک سعودی شاہ کے امریکہ کو ایران پر حملے کا مشورہ دینے کا تعلق ہے، یہ بھی کوئی ورطہ حیرت میں ڈالنے والی خبر نہیں ہے۔ سعودی عرب نے دس سالہ عراق، ایران جنگ میں ایران کی کھل کر مخالفت کی تھی۔ وہ سمجھتا ہے کہ ایٹمی ایران سے اسکو بھی اتنا ہی خطرہ ہے جتنا کہ اسرائیل کو ہے…! آخری انکشاف البتہ ہلا دینے والا ہے اور حاصلِ کالم بھی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے وزیراعظم بننے کیلئے امریکی سفیر سے مدد مانگی ہے۔ پتہ نہیں لوگ اس بات پر حیرت کا اظہار کیوں کرتے ہیں کہ مولوی وزیراعظم بننے کی خواہش کیوں رکھتا ہے۔
اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں تک پہنچنا مولانا صاحب کا جمہوری حق ہے البتہ انکا امریکہ بہادر سے مدد مانگنا محلِ نظر ہے۔ ہوس لیلائے اقتدار اکثر طوافِ کوئے ملامت کرواتی ہے۔ مولانا دیندار شخص ہیں اور بظاہر امریکہ مخالفت میں بھی پیش پیش رہتے ہیں لیکن ایک سیاستدان ہونے کے ناتے انہوں نے میکاولی کا وہ مشورہ ضرور پڑھ رکھا ہوگا… ’’ENDS JUSTIFY MLANS‘‘۔


یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے