PDA

View Full Version : ڈاکٹر عافیہ کا شکوہ ::: کیا میں ارفع کی قوم کی بیٹی نہیں



گلاب
10-20-2012, 09:26 PM
http://urdulook.info/imagehost/?di=D02V امریکی فوجیوں کے قدموں میں پڑے یہ دونوں بچے 4 سالہ جہانزیب زادہ اور 3 سالہ لعل گل آپس میں بھائی ہین اور یہ افغان کے سرحدی قصبے خوست کے قریب ایک گائوں کا منظر ہے۔ امریکی اسپیشل فورسز کو اپنی انٹیلی جنس سے اطلاع ملی کہ علاقےمیں طالبان موجود ہیں۔ انہوں نے مقامی افغان دستے کے ہمراہ یہاں چھاپہ مارا۔ علاقےمیں پیش قدمی کے دوران انہیں اپنے پاس موجود خصوصی سینسرز کے ذریعے پتہ چلا کہ اس گلی میں دو افراد حرکت کررہے ہیں جس پر یہاں گولیوں کی بارش کردی گئی اور پھر فاتح فوجی جب یہاں داخل ہوئے تو دونوں مقتول جائے واردات پر موجود تھے۔ یہ تصویر امریکیوں کے ساتھ موجود ایک افغان فوجی نے بنائی جس میں امریکی ایک مردہ بچے پر اب تک ہیوی مشین گن تانے کھڑا ہے۔ ان کے والد عبدالوہاب کو امریکی فوج نے فی بچہ دس ہزار روپے پاکستانی ہرجانہ ادا کردیا ہے۔ یہ واقعہ رواں برس مئی کا ہے۔ ان کے والدین کا سوال ہے کہ ہمارے بچوں کے قتل پر کیوں دنیا نے شور نہیں مچایا؟ کیا یہ انسان کے بچے نہیں تھے؟

گلاب
10-20-2012, 09:28 PM
بے وقوف مفلس زادیاں پوچھتی ہیں ان کے قتل پر کیوں شور نہیں اٹھا؟
http://urdulook.info/imagehost/?di=J8JK
یہ تین بچیاں ہیں اور تینوں ہی پاکستانی ہیں۔ا ن میں سےایک ڈیڑھ سال کی ملالہ ہے۔ دوسری ڈھائی سال کی گل زینب ہے اور تیسری ساڑھے تین سال کی گل پری ہے۔ یہ تینوں امریکی حملے میں اپنے گھر میں ماری گئیں اور تینوں ہی بہنیں تھیں۔ وزیرستان میں ایسے بچیاں ہر روز امریکی حملے میں جان ہار دیتی ہیں مگر ان کو والدین پوچھتے ہیں کہ ان کی بچیوں کے قتل پر کیوں کسی طرف سے شور نہیں اٹھا؟

گلاب
10-20-2012, 09:33 PM
http://urdulook.info/imagehost/?di=3M2N ہ برما کے علاقے اراکان میں روہنگیا مسلمانوں کی لاشیں ہیں۔ انہیں عشروں سے قتل عام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ برما میں بدھ مت کی چینی حمایت یافتہ حکومت ہے جو کسی مسلمان کو ملک میں برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ اس لئے ہر چند برس بعد وہاں منظم طور پر مسلمانوں کا قتل عام کیا جاتا ہے جس میں فوج اور دیگر سرکاری ادارے مسلمانوں کو کھلے عام قتل عام کرتے ہیں۔ تازہ& قتل عام چند ہفتے قبل شروع ہوا اور سڑکوں پر پڑی مسلمانوں کی لاشوں کی تصاویر انصاف کی دہائی دے رہی ہیں مگر اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے دیگر چیمپین اس پر خاموش ہیں۔

گلاب
10-20-2012, 09:36 PM
http://urdulook.info/imagehost/?di=Y50M
یہ امریکی فوج کے 101 کمانڈو دستے کا سابق افسر کیپٹن لوئس ہے جو عراق اور افغانستان میں جنگی خدمات انجام دے رہا ہے۔جنگ سے واپسی پر اسے کسی قسم کی مراعات نہ مل سکیں اور نا ہی کوئی نوکری۔اب وہ امریکہ میں بے روزگاری کی زندگی گزار رہا ہے۔ گذشتہ روز کیپٹن لوئس اور اس کے دیگر پچاس سابق فوجی ساتھیوں نے امریکی شہر شکاگو میں وردی پہن کر ایک پریس کانفرنس کی اور اس کانفرنس میں اپنی وردی سے امریکی فوجی میڈلز نوچ کر زمین پر پھینک دئے۔ ان سابق امریکی فوجیوں کا کہنا تھا کہ وہ امریکی فوج سے بغاوت کا اعلان کرتے ہیں کیونکہ امریکیوں کو جنگ کے نام پر تباہ کیا جا رہا ہے۔ ٹیکس دہندگان کی ساری رقم جنگوں پر خرچ ہو رہی ہے اور امریکی شہری بے روزگار پھر رہے ہیں۔

گلاب
10-20-2012, 09:42 PM
http://urdulook.info/imagehost/?di=NRV1
گذشتہ روز امریکی وزیر خارجہ مصر پہنچی تھیں تاکہ تمام اختیارات اسلام پسندوں کے ہاتھوںمیں جانے سے روکنے کے لئے فوج سے مل کر کوئی طریقہ کار وضع کرسکیں، اس دوران جب وہ فوجی جرنیلوں سے ملاقاتیں کررہی تھیں ان کےخلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین نے اپنے احتجاج میں پاکستان کی مثال دی اور پاکستان کو امریکی غلام قرار دیا۔ اس تصویر میں ایک شخص ایک بینر اٹھائے احتجاج کررہاجس پر لکھا ہے’’ ہلیری کلنٹن کے لئے پیغام۔ مصر کبھی بھی پاکستان نہیں بنے گا‘‘۔ پاکستان کے کرتا دھرتائوں کو اس پرکچھ سوچناچاہئے

گلاب
10-21-2012, 08:52 PM
http://urdulook.info/imagehost/?di=OOSH http://urdulook.info/imagehost/?di=HQ2H فروری میں وہ سولہ برس کی ہو جاتی لیکن 14 جنوری بلاوا آنے پر وہ حاضر ہو گئی اپنے رب کے حضور۔۔۔ اسنے بہت کچھ کیا اتنی سی عمر میں اور اس کے جانے کے بعد ہم نے ثبوت دیا کہ ہم بھی ایک زندہ قوم ہیں ہم تو کھلاڑیوں کو ایسی عزت اور توقیر دیتے ہیں کہ “جو قوم کے لئے ورلڈ کپ لے کر آئے قوم کی تقدیر اسکے حوالے کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں! ہمارا میڈیا تو کھلاڑیوں کو وہ درجہ اور مقام دیتا ہے جو دنیا کی تاریخ میں ایک مثال ہے۔

Your Ad Here
ثانیہ اور شعیب کی شادی میں* ہر چینل نے قوم کے کئی دن برباد کئے۔ لمحہ لمحہ کو یوں* کوریج دی کہ جس ہوٹل میں چند گھنٹے قیام کرنا تھا انہیں، وہاں کے باورچیوں تک کے انٹرویو دکھائے! پھر اعصام الحق کی شادی کی یوں کوریج دی کہ ساری دنیا جان گئی سترہ کڑور جیتی جاگتی قوم کے مسائل اور دلچسپیاں*کیا ہیں؟ اور کتنا وقت اور وسائل ہمارے پاس برباد کرنے کو؟ ہم کھلاڑیوں، اداکاروں، گلوکاروں، سازندوں، ٹی وی کے میزبانوں سب کو وہ عزت دی ہے کہ انہیں قوم کے بچے بچے کے لئے ہیرو بنا دیا ہے۔ اب یہی رول ماڈل ہیں اس قحط الرجال کے دور میں*۔۔۔
لیکن ارفع سچ مچ اعزاز تھی افتخار تھی ملک اور قوم کے لئے۔ اسکی زندگی میں اسے”پرائڈ آف پرفارمنس” دیا گیا سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبہ میں “فاطمہ جناح گولڈ میڈل” دیا گیا وہ آئی ٹی بین الاقوامی سیمیناروں میں پاکستان کی نمائندگی کر کے قوم کا سر فخر سے بلند کرتی تھی۔ دنیا کی بڑی بڑی کمپنیوں نے اسے ایوارڈ اور میڈل دئے تھے۔۔۔۔
قدردانی میں ہم بھلا کب اور کسی سے پیچھے ہیں بعد از مرگ سے اسے “نشان امتیاز” دینے پر غور کیا جا رہا ہے “یادگاری ٹکٹ” جاری ہو رہا ہے، وزیر اطلاعات نے اطلاع دی ہے کہ اسکی زندگی پر حکومت “ڈاکومینٹری فلم” بنائے گی، کتاب شائع کریگی، وزیراعلٰی پنجاب نے اعلان کیا ہے بعد ازمرگ اسکی خواہشوں کو پورا کریں گے اور آئی ٹی پارک کو اسکے نام سے منسوب کر دیا ہے۔ وزیراعلٰی سندھ نے بھی کچھ ایسا ہی اعلان کیا ہے۔ ارفع کی جو بھی قدردانی کی جائے جو بھی انداز دیا جائے وہ اسکی مستحق ہے زندہ قومیں ذہانتوں کی یونہی قدردانی کیا کرتی ہیں*لیکن۔۔۔۔
اے خانہ بر انداز چمن کچھ تو ادھر بھی۔۔۔
برنیڈیز یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ لینے والی 7 سال ظلم کی چکی میں پسنے والی، 86 سال قید کی سزا پانے والی وہ عظیم سائنسدان عافیہ صدیقی بھی تو اسی قدرداں قوم کی بیٹی ہے۔ اپنے اسلحہ خانے میں* 15 ہزار ایٹمی ہتھیار رکھتے سپر پاور جسکی ذہانت اور صلاحیتوں سے خوفزدہ تھی— ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے “تحفظ ” کے لئے ناگزیر تھا کہ اس نحیف ونزار لڑکی کو مزید 86 برس قید میں رکھا جائے اور اب انکے “کینسر” جیسے موذی مرض میں مبتلا ہونے کی اطلاعات میڈیا کی زینت بنی ہوئی ہیں۔ وہ تو سترہ کڑور کی اس قوم سے جو کھلاڑیوں کو “تخت وتاج” دینے کو تیار ہے! کوئی تخت وتاج طلب نہیں کررہی۔ اسنے کب کسی “پرائڈ آف پرفارمنس” کا تقاضہ کیا؟ حکومت کے ایوانوں سے۔ وہ تو خود کو کسی “نشان امتیاز” کا مستحق نہیں سمجھتی۔۔۔۔۔ وہ تو ریمنڈ ڈیوس جیسی فائیو اسٹار اسیری بھی نہیں مانگ رہی۔۔۔ اسکی زندگی پر تو کئی ڈاکومینٹری فلمز بن چکی ہیں، کئی کتابیں لکھی گئی ہیں اور کئی کتابیں لکھی جارہی ہیں۔ لیکن وہ کال کوٹھری میں اس عقوبت زدے میں اپنی توریف و توصیف سے بے نیاز ہے۔ اسکا دھان پان جسم جو امریکی تشدد کی پہ در پہ ضربیں سہہ کر اب کینسر میں مبتلا ہوگیا ہے وہ اس قوم سے کوئی ایوارڈ و اعزاز طلب نہیں کررہی لیکن ارفع کی قدرو منزلت (جسکی بجا طور پر وہ مستحق ہے) عافیہ اور اسکے خاندان کے لئے سوالیہ نشان ضرور ہے! کہ یہ قوم تو اپنی بیٹیوں کی یوں قدر کرتی ہے انہیں ماتھے کا جھومر بناتی ہے، یوں زندگی میں اور بعد از مرگ یادگاری ٹکٹ جاری کرتی تو قوم اس سائنسدان اعلٰی تعلیم یافتہ حافظہ بیٹی کو کیوں فروخت کردیا گیا؟ بچوں سے جدا کردیا گیا؟ وہ اذیتیں دی گئیں کہ یوان ریڈلے نہ بتاتیں تو ہم جان بھی نہ پاتے کہ قیدی نمبر 650 تو اس قوم کی بیٹی ہے جسکے حکمرانوں نے ڈالروں کے عوض فروخت کر کے فخریہ اپنی سرگزشت میں اسکا تذکرہ بھی کیا ہے۔

Your Ad Here
بل گیٹس آعلٰی دماغوں کی قدر دانی جانتے ہیں سات سمندر پار اس بیٹی کے لئے بیماری کی خبر پا کر متحرک ہو گئے۔ امریکا اور دبئی میں میڈیکل بورڈ تشکیل دیدئے اور امریکا اور لاہور کے ڈاکٹروں کو ویڈیو کانفرنسز تک کر ڈالیں اس لئے کہ وہ ذہانتوں کی قدر جانتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ نرگس صدیوں بے نوری پر رو کر چمن میں ایسے دیدہ ور پیدا کرتی ہے اور عافیہ کی یہی دیدہ وری اسے مہنگی پڑی۔ دنیا بھر کے مظلوم مسلمانؤن کی کھلم کھلا حمایت اور پاکستانی ہونے کی اسے بھاری قیمت ادا کرنی پڑی سترہ کروڑ کی زندہ قوم میں کوئی ایک بھی بل گیٹس جیسا دل نہیں رکھتا جو عافیہ کے کینسر کا سن کر یوں بے چیں ہو جاتا اٹھ کھڑا ہو تا۔ اپنے تمام تر وسائل کے ساتھ متحرک ہو جاتا ایک تحریک بپا کر دیتا کہ قیدیوں کے بین الاقوامی قوانین کے مطابق بھی اسے علاج معالجے کی تمام تر سہولتیں حاصل ہو نی چاہئے۔ ہمارے حکمران کم ازکم علاج معالجے کے لئے ہی ریاستی دباؤ ڈالتے وہ ریاستی دباؤ جو بارک اوباما تمام تر استعمال کیا اپنے ایک قاتل ریمنڈ ڈیوس کو چھڑانے کے لئے۔ وہ تین افراد کا قاتل تزک و احتشام کے ساتھ امریکہ کے حوالے کیا جاتا ہے اور ہم قوم کے ایک اعلٰی ترین دماغ ایک حافظہ قرآن سائنسدان بے گناہ بیٹی کے لئے نہ حکومتی ایوانوں میں نہ کوئی ہلچل دیکھتے ہیں نہ بل گیٹس جیسی دل سوزی، نہ کسی میڈیکل بورڈ کی تشکیل ہوتی ہے نہ حکومتی عہدیداروں کا کوئی بیان سامنے آتا ہے کہ انکو اسکی بیماری پر کوئی تشویش ہے۔ اپنی تجوری میں ایٹم بم رکھنے والی کڑوروں کی قوم اپنے حکمرانوں کی بے حمیتی کے باعث مکھیوں کی اجتماعیت میں تبدیل ہو گئی ہے جسکی فوجی چوکیاں اور فوجی جوان تک محفوظ نہیں جو امریکی کالونی ہے جہاں کبھی کسی وقت 02 مئی کی ایبٹ آباد کی رات طلوع ہو سکتی ہے۔
اغیار ہماری سرزمین پر کسی بھی وقت کوئی بھی آپریشن کرنے، کسی کو اغوا کرنے ، کہیں بھی ڈرون حملے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ اسوقت کے تیمور اپنی بیٹیوں کی حمیت کی حفاظت نہیں کرسکتے جو بجلی، گیس، امن و امان سے غیرمحفوظ قوم کو میمو گیٹ اسکینڈل میں الجھائے اپنے اقتدار کی طوالت کے لئے ہر ہتھکنڈہ استعمال کرسکتے ہیں۔ جہاں حکمران خود اپنے سیکیورٹی گارڈز کے حصار میں غیر محفوظ اور مقتول ہوں، یزیدوں کے یہ گروہ کیسے حسینی قبیلے کی عافیہ کو “عافیت” کی نوید دے سکتے ہیں؟ عافیہ اس قوم کا فرض کفایہ ادا کر کے یقیناً “عافیت” کے سفر پر روانہ ہونگی۔۔۔۔۔۔ زندگی اور موت خدا کے ہاتھ میں ہے ہمارا ایمان ہے کہ وقت کی سپر پاور بھی کسی کی زندگی کا ایک لمحہ بھی کم نہیں کر سکتی، نہ بل گیٹس کی کوششیں معصوم ارفع کو چند سانس کی بھی زندگی دلا سکیں۔ عافیہ اس جان لیوا بیماری سے کتنا لڑپاتی ہیں، وہ جنکے اعصاب مفلوج کر نے کی ساری کوششیں کی جا چکی ہیں نجانے کب تک زندگی کی جنگ لڑپائیں گی؟ ہاں جب وہ سفر آخرت پر روانہ ہونگی تو ارفع سمیت ہم سترہ کروڑ لوگوں سے ایک سوال ضرور کرینگی” میں کس جرم میں زندہ گاڑی گئی؟