PDA

View Full Version : کوئٹہ : وزیر اعلیٰ بلوچستان کے قافلے پر خودکش حملہ‘ سکیورٹی اہلکاروں سمیت 12 افراد زخ



گلاب خان
12-08-2010, 08:33 PM
کوئٹہ (بیورو رپورٹ + مانیٹرنگ نیوز + ایجنسیاں) کوئٹہ میں وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کے قافلے پر خودکش حملے میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت 12 افراد زخمی ہو گئے اور حملہ آور کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے تاہم وزیر اعلیٰ بلٹ پروف گاڑی میں سوار ہونے کے باعث معجزانہ طور پر محفوظ رہے‘ کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی العالمی نے خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے صوبائی حکومت پر واضح کیا ہے کہ وہ مشن کو جاری رکھیں گے‘ صدر زرداری اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے الگ الگ وزیر اعلیٰ بلوچستان کو ٹیلی فون کر کے ان کی خیریت دریافت کی اور خودکش حملے کی مذمت کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو اپنے ہرممکن تعاون کا یقین دلایا۔ خودکش حملے کے خلاف پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے کوئٹہ سریاب روڈ اور کوئٹہ کراچی روڈ کو ٹریفک کے لئے احتجاجاً بند کر دیا جس کی وجہ سے سڑک کے دونوں جانب گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگ گئیں۔ اسمبلی اجلاس میں شرکت کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو اور سی ایم ایچ ہسپتال میں خودکش حملے میں زخمی ہونے والوں کی عیادت کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان اسلم رئیسانی نے کہا خودکش حملے کا ہدف وہ خود تھے اور انہیں معلوم ہے یہ کون لوگ تھے‘ حملے میں بیرونی ہاتھ ملوث ہونے کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہہ سکتا تاہم ایک بات واضح ہے بلوچوں کو خانہ جنگی کی طرف لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے جسے ہم کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے خودکش حملے میں 28 کلوگرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا جبکہ سی سی پی او کوئٹہ عابد نوتکائی نے کہا ہے کہ دھماکہ خودکش تھا اور اس میں 2 سے 3 کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا۔ بیورو رپورٹ کے مطابق پولیس کا کہنا ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب محمد اسلم رئیسانی سوا گیارہ بجے کے قریب بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے جا رہے تھے جیسے ہی وزیر اعلیٰ کی گاڑی سریاب پھاٹک کے قریب سے گزری تو نامعلوم حملہ آور نے اپنے آپ کو خودکش دھماکے سے اڑا دیا۔ دھماکے سے وزیر اعلیٰ کی سکیورٹی پر مامور 6 اہلکار بھی زخمی ہوئے جن میں سے ایک کی حالت نازک ہے جنہیں سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کر دیا گیا۔ دھماکے سے متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ اطلاع ملتے ہی فرنٹیئر کور، پولیس، اینٹی ٹیررسٹ فورس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا۔ پولیس نے حملہ آور کی نعش کو قبضے میں لے لیا۔ پولیس کے مطابق حملہ آور کا سر محفوظ ہے جلد اصل ملزمان تک جائیں گے۔ پولیس نے دہشت گردی کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے مزید کارروائی شروع کر دی۔ بلوچستان میں دو ہفتے قبل مگسی قبیلے کے سربراہ و گورنر بلوچستان نواب ذوالفقار علی مگسی کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا۔ دھماکے کے فوراً بعد کوئٹہ شہر میں سکیورٹی انتظامات کو انتہائی سخت کر دیا گیا۔ فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے جگہ جگہ ناکے لگا کر مشکوک گاڑیوں اور موٹر سائیکل سواروں کی تلاشی کا کام شروع کر دیا اور شہر میں فرنٹیئر کور، بلوچستان کانسٹیبلری کی گاڑیاں اور مسلح دستے گشت کر رہے ہیں۔ پریس کلب کوئٹہ میں ٹیلی فون پر واقعہ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کالعدم لشکر جھنگوی العالمی کے ترجمان عبداللہ جھنگوی نے خبردار کیا ہے کہ حالات کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر ہو گی۔ این این آئی کے مطابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے کہا ہے میں نے بلوچ قومیت پرستوں کو مذاکرات کی دعوت دی ہے کبھی بھی لشکر جھنگوی کو مذاکرات کی دعوت نہیں دی‘ اس طرح کے واقعات سے صوبے میں خانہ جنگی شروع ہو سکتی ہے‘ میں نے حملے کے بارے میں کسی پر کوئی الزام عائد نہیں کیا۔ انہوں نے کہا خدانخواستہ گورنر بلوچستان ذوالفقار مگسی پر جس طرح حملہ کیا گیا انہیں کچھ ہو جاتا تو میں ان کی جگہ کھڑا ہوتا‘ وہ میرے بڑے بھائی ہیں اگر آج مجھے اس حملے میں کچھ ہو جاتا تو یقیناً میرے سر پر تمام قبائل موجود ہوتے۔