PDA

View Full Version : ایک آیت جس کو پڑھ کر پانچ سو افراد مسلمان ہو گئے



گلاب
10-23-2012, 09:19 PM
ممتاز سعودی عالم ابو عبد الرحمن محمد العریفی کہتے ہیں كه میں یمن گیا اور شیخ عبد المجید زندانی سے ملا جو جید عالم دین ہیں اور قرآن کریم کے علمی اعجاز او ر سائنسی تجربات جو قرآن کریم کی تصدیق کرتے ہیں پر معمور ہیں اور شیخ نے اس پر کافی کام کیا ہے۔ میں نے شیخ سے پوچھا کوئی ایسا واقعہ کہ کسی نے قرآن کریم کی کوئی آیت سنی ہو اور اُس نے اسلام قبول کیا ہو شیخ نے کہا بہت سے واقعات ہیں میں نے کہا مجھے بھی کوئی ایک آدھ واقعہ بتائیں۔
شیخ کہنے لگے۔کافی عرصہ پہلے کی بات ہے میں جدہ میں ایک سیمینار میں شریک تھا یہ بیالوجی اور اس علم میں جو نئے انکشافات ہوئے اُن کے متعلق تھا ایک پروفیسر امریکی یا جرمن (شیخ عریفی بھول گئے اُن کا وہم ہے ) نے یہ تحقیق پیش کی کہ انسانی اعصاب جس کی ذریعے ہمیں درد کا احساس ہوتا ہے ان کا تعلق ہماری جلد کے ساتھ ہے پھر اس نے مثالیں دیں مثال کے طور پر جب انجیکشن لگتا ہے تو درد کا احساس صرف جلد کو ہوتا ہے اس کے بعد درد کا احساس نہیں ہوتا، اُس پروفیسر کی باتوں کا لب لباب یہی تھا کا انسانی جسم میں درد کا مرکز اور درد کا احساس صرف جلد تک محدود ہے جلد اور چمڑی کے بعد گوشت اور ہڈیوں کو درد کا احساس نہیں ہوتا۔
شیخ زندانی کہتے ہیں میں کھڑا ہوا اور کہا پروفیسر یہ جو آپ نئی تحقیق لیکر آئے ہیں ہم تو چودہ سو سال پہلے سے آگاہ ہیں، پروفیسر نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے یہ نئی تحقیق ہے جو تجربات پر مبنی ہے اور یہ تو بیس تیس سال پہلے تک کسی کو پتہ نہیں تھا۔
شیخ زندانی نے کہا کہ ہم تو بہت پہلے سے یہ بات جانتے ہیں اُس نے کہا وہ کیسے؟
شیخ نے کہا میں نے قرآن کی آیت پڑھی
سورہ النّسا
'' إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِنَا سَوْفَ نُصْلِيهِمْ نَارًا كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُم بَدَّلْنَاهُمْ جُلُودًا غَيْرَهَا لِيَذُوقُوا الْعَذَابَ ۗ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَزِيزًا حَكِيمًا(٥٦)۔
جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا، انہیں ہم یقیناً آگ میں ڈال دیں گے جب ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم ان کے سوا اور کھالیں بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب چکھتے رہیں، یقیناً اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے (56)۔
یعنی کہ جب اہل جہنم کی جلد اور کھال جل جائے گی تواللہ نئی جلد اورکھال دےگا تاکہ نافرمان لوگ عذاب کا مزہ چکھتے رہیں۔ معلوم ہوا کہ درد کا مرکز جلد ہے۔شیخ کہتے ہیں جب مین نے یہ آیت پڑھی اور ترجمہ کیا وہ پروفیسر سیمینار میں موجود ڈاکٹرز اور پروفیسرز سے پوچھنے لگا کیا یہ ترجمہ صحیح ہے ؟
سب نے کہا ترجمہ صحیح ہے، وہ حیران و پریشان ہو کر خاموش ہو گیا۔شیخ زندانی کہتے ہیں جب وہ باہر نکلا تو میں نے دیکھا وہ نرسوں سے پوچھ رہا تھا جو کہ فلپائن اور برطانیہ سے تعلق رکھتی تھیں کہ مجھے اس آیت کا ترجمہ بتاؤ، انہوں نے اپنے علم کے مطابق ترجمہ کیا، وہ پروفیسر تعجب سے کہنے لگا سب یہی ترجمہ کر رہے ہیں۔ اُس نے کہا مجھے قرآن کا ترجمہ دو، شیخ کہنے لگے میں نے اُسے ایک ترجمے والا قرآن دے دیا۔شیخ زندانی کہتے ہیں کہ ٹھیک ایک سال بعد اگلے سیمینار میں مجھے وہی پروفیسر ملا اور کہا: میں نے اسلام قبول کر لیا ہے اور یہی نہیں بلکہ میرے ہاتھ پر پانچ سو افراد نے اسلام قبول کیا ہے۔

بےباک
12-10-2012, 10:46 AM
بہت ہی اچھی شئیرنگ ہے ، اچھی خبر ہے ،

سقراط
12-10-2012, 02:20 PM
سبحان اللہ کتنی سعادت کی بات ہے
صدقہ جاریہ

تانیہ
12-10-2012, 03:02 PM
جزاک اللہ
نائس شیئرنگ

pervaz khan
12-10-2012, 04:57 PM
جزاک اللہ

سرحدی
12-12-2012, 09:49 AM
سبحان اللہ و بحمدہ
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو ہدایت کا ذریعہ بنایا ہے، بس سمجھنے کی بات ہے، جس شخص نے بھی حق کی تلاش میں اللہ کا کلام اُٹھایا ہے اور اس کو پڑھا ہے، اللہ نے اسے ہدایت دے دی ہے۔ بس فکر اس بات کی کرنی چاہیے کہ بندے کے اندر تڑپ ہو ہدایت پانے کی تو اللہ تعالیٰ تو ماں سے زیادہ اپنے پر مہربان ہیں۔
یہاں پر ایک واقعہ یاد آیا:
(ایک بار) جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں کچھ قیدیلائے گئے، اُن میں ایک خاتون ایسی بھی تھی جو قیدیوں میں اپنے بچے کو تلاش کررہی تھی، جیسے ہی اسے اپنا بچہ ملا اس قیدی خاتون نے اسے اپنے سینے سے چمٹا لیا، اور دودھ پلانے لگی۔ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم (صحابہ) سے دریافت فرمایا: کیا آپ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ خاتون اپنے اس (ننھے) بچے کو آگ میں ڈال سکتی ہے؟ ہم نے عرض کیا : اگر یہ اس پر قادر ہو کہ اپنے بچے کو آگ میں نہ ڈالے تو یہ اپنے بچے کو آگ میں نہ ڈالے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر اس عورت کا اپنے بچے پر رحم کرنے سے زیادہ رحم فرمانے والے ہیں۔‘‘ (بخاری و مسلم)
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی رضا و محبت نصیب فرمائے۔ آمین

سبطین جی
11-10-2013, 01:20 AM
:th_rose::th_rose:ایک آیت جس کو پڑھ کر پانچ سو افراد مسلمان ہو گئے:th_rose::th_rose:
ممتاز سعودی عالم ابو عبد الرحمن محمد العریفی کہتے ہیں كه میں یمن گیا اور شیخ عبد المجید زندانی سے ملا جو جید عالم دین ہیں اور قرآن کریم کے علمی اعجاز او ر سائنسی تجربات جو قرآن کریم کی تصدیق کرتے ہیں پر معمور ہیں اور شیخ نے اس پر کافی کام کیا ہے۔ میں نے شیخ سے پوچھا کوئی ایسا واقعہ کہ کسی نے قرآن کریم کی کوئی آیت سنی ہو اور اُس نے اسلام قبول کیا ہو شیخ نے کہا بہت سے واقعات ہیں میں نے کہا مجھے بھی کوئی ایک آدھ واقعہ بتائیں۔
شیخ کہنے لگے۔کافی عرصہ پہلے کی بات ہے میں جدہ میں ایک سیمینار میں شریک تھا یہ بیالوجی اور اس علم میں جو نئے انکشافات ہوئے اُن کے متعلق تھا ایک پروفیسر امریکی یا جرمن (شیخ عریفی بھول گئے اُن کا وہم ہے ) نے یہ تحقیق پیش کی کہ انسانی اعصاب جس کی ذریعے ہمیں درد کا احساس ہوتا ہے ان کا تعلق ہماری جلد کے ساتھ ہے پھر اس نے مثالیں دیں مثال کے طور پر جب انجیکشن لگتا ہے تو درد کا احساس صرف جلد کو ہوتا ہے اس کے بعد درد کا احساس نہیں ہوتا، اُس پروفیسر کی باتوں کا لب لباب یہی تھا کا انسانی جسم میں درد کا مرکز اور درد کا احساس صرف جلد تک محدود ہے جلد اور چمڑی کے بعد گوشت اور ہڈیوں کو درد کا احساس نہیں ہوتا۔
شیخ زندانی کہتے ہیں میں کھڑا ہوا اور کہا پروفیسر یہ جو آپ نئی تحقیق لیکر آئے ہیں ہم تو چودہ سو سال پہلے سے آگاہ ہیں، پروفیسر نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے یہ نئی تحقیق ہے جو تجربات پر مبنی ہے اور یہ تو بیس تیس سال پہلے تک کسی کو پتہ نہیں تھا۔
شیخ زندانی نے کہا کہ ہم تو بہت پہلے سے یہ بات جانتے ہیں اُس نے کہا وہ کیسے؟
شیخ نے کہا میں نے قرآن کی آیت پڑھی
سورہ النّسا
'' إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِنَا سَوْفَ نُصْلِيهِمْ نَارًا كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُم بَدَّلْنَاهُمْ جُلُودًا غَيْرَهَا لِيَذُوقُوا الْعَذَابَ ۗ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَزِيزًا حَكِيمًا(٥٦)۔
جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا، انہیں ہم یقیناً آگ میں ڈال دیں گے جب ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم ان کے سوا اور کھالیں بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب چکھتے رہیں، یقیناً اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے (56)۔
یعنی کہ جب اہل جہنم کی جلد اور کھال جل جائے گی تواللہ نئی جلد اورکھال دےگا تاکہ نافرمان لوگ عذاب کا مزہ چکھتے رہیں۔ معلوم ہوا کہ درد کا مرکز جلد ہے۔شیخ کہتے ہیں جب مین نے یہ آیت پڑھی اور ترجمہ کیا وہ پروفیسر سیمینار میں موجود ڈاکٹرز اور پروفیسرز سے پوچھنے لگا کیا یہ ترجمہ صحیح ہے ؟
سب نے کہا ترجمہ صحیح ہے، وہ حیران و پریشان ہو کر خاموش ہو گیا۔شیخ زندانی کہتے ہیں جب وہ باہر نکلا تو میں نے دیکھا وہ نرسوں سے پوچھ رہا تھا جو کہ فلپائن اور برطانیہ سے تعلق رکھتی تھیں کہ مجھے اس آیت کا ترجمہ بتاؤ، انہوں نے اپنے علم کے مطابق ترجمہ کیا، وہ پروفیسر تعجب سے کہنے لگا سب یہی ترجمہ کر رہے ہیں۔ اُس نے کہا مجھے قرآن کا ترجمہ دو، شیخ کہنے لگے میں نے اُسے ایک ترجمے والا قرآن دے دیا۔شیخ زندانی کہتے ہیں کہ ٹھیک ایک سال بعد اگلے سیمینار میں مجھے وہی پروفیسر ملا اور کہا: میں نے اسلام قبول کر لیا ہے اور یہی نہیں بلکہ میرے ہاتھ پر پانچ سو افراد نے اسلام قبول کیا ہے۔

نگار
11-24-2013, 12:39 PM
جزاک اللہ

سبطین جی
11-24-2013, 09:57 PM
السلام و علیکم!پسندیدگی کا شکریہ ، حدیث شریف ارسال کرنے پر آپ کا شکر گزار ہوں۔1238

نگار
11-25-2013, 12:55 PM
جزاک اللہ

سبطین جی
11-25-2013, 09:57 PM
السلام و علیکم!
نیکی کی دعوت عام کر دو۔
1239