PDA

View Full Version : ڈنمارک کی خاتون ہاکی اسٹار بریٹنی جسے دیکھ کر بھارتی ہاکی اسٹار مسلمان ہوگئی



گلاب
10-23-2012, 09:43 PM
اصل میں، میں ہریانہ کے سونی پت ضلع کے ایک گاؤں کی رہنے والی ہوں ہمارے گھرمیں سبھی مرد پڑھے لکھے ہیں اور اکثر کبڈی کھیلتے رہتے ہیں، میں نے اسکول میں داخلہ لیاشروع سے کلاس میں ٹاپ کرتی رہی، سی بی ایس ای بورڈ میں میری ہائی اسکول میں گیارہویں پوزیشن رہی، مجھے شروع سے مردوں سے آگے نکلنے کاشوق تھا، اس کے لئے میں نے اسکول میں ہاکی کھیلنا شروع کی، پہلے ضلع میں نویں کلاس میں سلیکشن ہوا،پھر ہائی اسکول میں ہریانہ اسٹیٹ کے لئے لڑکیوں کی ٹیم میں میرا سلیکشن ہوگیا، بارہویں کلاس میں بھی میں نے اسکول ٹاپ کیا اور سی بی ایس ای بورڈ میں میرا نمبر اٹھارہواں رہا، اسی سال میں انڈیا ٹیم میں سلیکٹ ہوگئی، عورتوں کے ایشیا کپ میں بھی کھیلی اور بہت سے ٹورنامنٹ میری کارکردگی کی وجہ سے جیتے گئے، اصل میں ہاکی میں بھی سب سے زیادہ ایکٹیو رول سنڈر فارورڈ کھلاڑی کاہوتاہے، یعنی سب سے آگے درمیان میں کھیلنے والے کھلاڑی کا، میں ہمیشہ سنٹر فاروڈ میں کھیلتی رہی، اصل میں بس مردوں سے آگے بڑھنے کا جنون تھا، مگر روزانہ رات کو میرا جسم مجھ سے شکایت کرتاتھا، کہ یہ کھیل عورتوں کا نہیں ہے، مالک نے اپنی دنیا میں ہرایک کے لئے الگ کام دیاہے، ہاتھ پاؤں بالکل شل ہوجاتے تھے، مگر میرا جنون مجھے دوڑاتا تھااور اسپر کامیابی اور واہ واہ اپنے نیچر کے خلاف دوڑنے پر مجبور کرتی تھی۔اسلام قبول کرنے سے پہلے تو میرا نام پریتی تھا ، میرا نام ابھی عفیفہ کچھ ماہ پہلے رکھاہے۔ میرے والد ایک اسکول چلاتے ہیں اس کے پرنسپل ہیں،وہ سی بی ایس ای بورڈ کا ایک اسکول چلاتے ہیں، میرے ایک بڑے بھائی اس میں پڑھاتے ہیں، میری بھابھی بھی پڑھاتی ہیں، وہ سب کھیل سے دل چسپی رکھتی ہیں، میری بھابھی بیڈمنٹن کی کھلاڑی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اب ایسے آزاد ماحول میں زندگی گذارنے کے بعد ایسے پردہ میں رہنا مجھے کو کیسا لگتاہے؟ انسان اپنے نیچر سے کتنا دور ہوجائے، اور کتنے زمانہ تک دور رہے، جب اس کے نیچر کی طرف آنا ملتاہے، وہ کبھی اجنبیت محسوس نہیں کرے گا، وہ ہمیشہ فیل کرے گاکہ اپنے گھر لوٹ آیا، اللہ نے انسان کو بنایا، اور عورتوں کی نیچر بالکل الگ بنائی، بنانے والے نے عورت کا نیچر چھپنے اورپردہ میں رہنے کا بنایا،اسے سکون و چین لوگوں کی ہوس بھری نگاہ سے بچے رہنے میں ہی مل سکتاہے، اسلام دین فطرت ہے، جس کے سارے حکم انسانی نیچر سے میل کھاتے ہیں، مردوں کے لیے مردوں کے نیچر کی بات ،اور عورتوں کے لیے عورتوں کے نیچر کی بات۔ میری تاریخ پیدائش ٦ جنوری ۱۹۸۸ء ہے، گویامیں بائیس سال کی ہونے والی ہوں۔ مجھے مسلمان ہوئے ساڑھے چھے مہینے کے قریب ہوئے ہیں۔ گھر میں میرے اتنے بڑے فیصلے پر مخالفت ہوئی اور خواب ہوئی، مگر سب جانتے ہیں کہ عجیب دیوانی لڑکی ہے، جوفیصلہ کرلیتی ہے پھرتی نہیں، اس لیے شروع میں ذرا سختی کی، مگر جب اندازہ ہوگیاکہ میں دور تک جاسکتی ہوں تو سب موم ہوگئے۔ اب ہاکی میں نے چھوڑ دی ہے۔
اس پرتو گھر والوں کو بہت ہی احساس ہواہوگامگر میرا فیصلہ مجھے لینے کاحق تھامیں نے لیا،اور میں نے اپنے اللہ کا حکم سمجھ کرلیا، اب اللہ کے حکم کے آگے بندوں کی چاہت کیسے ٹھہر سکتی ہے۔ آدمی کو ڈھل مل نہیں ہونا چاہئے، اصل میں آدمی پہلے یہ فیلصہ کرے کہ میرا فیصلہ حق ہے کہ نہیں، اور اگر اس کا حق پر ہونا ثابت ہوجائے تو پہاڑ بھی سامنے سے ہٹ جاتے ہیں۔ میں ہریانہ کے اس علاقہ کی رہنے والی ہوں جہاں کسی ہندو کا مسلمان ہونا تو دور کی بات ہے، ہمارے چاروں طرف کتنے مسلمان ہیں جو ہندو بنے ہوئے ہیں، خود ہمارے گاؤں میں بادی اور تیلیوں کے بیسوں گھر ہیں جو ہندو ہوگئے ہیں، مندر جاتے ہیں، ہولی دیوالی مناتے ہیں، لیکن مجھے اسلام کی طرف وہاں جاکر رغبت ہوئی جہاں جاکر خود مسلمان اسلام سے آزاد ہوجاتے ہیں۔
میں ہاکی کھیلتی تھی تو بالکل آزاد ماحول میں رہتی تھی،آدھے سے کم کپڑوں میں ہندستانی روایات کا خیال بھی ختم ہوگیا تھا، ہمارے اکثر کوچ مرد رہے، ٹیم کے ساتھ مچھ مرد ساتھ رہتے ہیں، ایک دوسرے سے ملتے ہیں، ٹیم میں ایسی بھی لڑکیاں تھیں جو رات گذارنے بلکہ خواہشات پوری کرنے میں ذرہ برابر کوئی جھجک محسوس نہیں کرتی تھیں، میرے اللہ کا کرم تھاکہ مجھے اس نے اس حد تک نہ جانے دیا، گول کے بعد اور میچ جیت کر مردوں عورتوں کا گلے لگ جانا چمٹ جانا تو کوئی بات ہی نہیں تھی، میری ٹیم کے کوچ نے کئی دفعہ بے تکلفی میں میرے کسی شاٹ پر ٹانگوں میں کمرمیں چٹکیاں بھریں، میں نے اس پر نوٹس لیا،اور ان کو وارننگ دی، مگر ٹیم کی ساتھی لڑکیوں نے مجھے برا بھلا کہا، اتنی بات کو دوسری طرح لے رہی ہو، مگر میرے ضمیر پر بہت چوٹ لگی، ہماری ٹیم ایک ٹورنامنٹ کھیلنے ڈنمارک گئی، وہاں مجھے معلوم ہواکہ وہا ں کی ٹیم کی سنٹر فارورڈ کھلاڑی نے ایک پاکستانی لڑکے سے شادی کرکے اسلام قبول کرلیاہے،اور ہاکی کھیلنا چھوڑ دیاہے، لوگوں میں یہ بات مشہور تھی کہ اس نے شادی کے لیے اس لڑکے کی محبت میں اسلام قبول کیا ہے، مجھے یہ بات عجیب سی لگی، ہم جس ہوٹل میں رہتے تھے، اس کے قریب ایک پارک تھا، اس پارک سے ملا ہواان کا مکان تھا، میں صبح کو اس پارک میں تفریح کررہی تھی کہ ڈنمارک کی ایک کھلاڑی نے مجھے بتایاکہ وہ سامنے برٹنی کاگھرہے، جو ڈنمارک کی ہاکی کی مشہور کھلاڑی رہی ہے، اس نے اپنا نام اب سعدیہ رکھ لیا ہے اور گھر میں رہنے لگی ہے، مجھے اس سے ملنے کا شوق ہوا، میں ایک ساتھی کھلاڑی کے ساتھ اس کے گھر گئی، وہ اپنے شوہر کے ساتھ کہیں جانے والی تھی، بالکل موڑے، دستانے اور پورے برقع میں ملبوس، میں دیکھ کر حیرت میں رہ گئی، او رہم دونوں ہنسنے لگے، میں نے اپنا تعارف کرایا تو وہ مجھے پہچانتی تھی، وہ بولی میں نے تمہیں کھیلتے دیکھا ہے، سعیدہ نے کہاہمارے ایک سسرالی عزیز کا انتقال ہوگیا ہے، مجھے اس میں جانا ہے ورنہ میں آپ کے ساتھ کچھ باتیں کرتی، میں تمہارے کھیلنے کے انداز سے بہت متأثر رہی ہوں، ہاکی کھیل عورتوں کے نیچر سے میل نہیں کھاتا، میرا دل چاہتا ہے کہ تمہاری صلاحیتیں نیچر سے میل کھانے والے کامو ں میں لگیں، میں تم سے ہاکی چھڑوانا چاہتی ہوں، میں نے کہا آپ میرے کھیل کے انداز سے متأثر ہیں اور مجھ سے کھیل چھڑوانا چاہتی ہیں، اور میں آپ کا ہاکی چھوڑنا سن کر آپ سے ملنے آئی ہوں، کہ ایسی مشہور کھلاڑی ہوکر آپ نے کیوں ہاکی چھوڑ دی؟ میں آپ کو فیلڈ میں لانا چاہتی ہوں، سعدیہ نے کہا کہ اچھا آج رات کو ڈنر میرے ساتھ کرلو، میں نے کہا آج تو نہیں، کل ہوسکتا ہے، طے ہوگیا، میں ڈنر پر پہنچی، تو سعدیہ نے اپنے قبول اسلام کی روداد مجھے سنائی اور بتایاکہ میں نے شادی کے لیے اسلام قبول نہیں کیا بلکہ اپنی شرم اپنی عصمت کی عزت و حفاظت کے لیے اسلام قبول کیا ہے اور اسلام کے لیے شادی کی ہے۔ سعدیہ نہ صرف ایک مسلم خاتون تھی بلکہ اسلام کی بڑی داعیہ تھی، اس نے فون کرکے دو انگریز لڑکیوں کو اور ایک معمر خاتون کو بلایا، جو ان کے محلہ میں رہتی تھیں، اور سعدیہ کی دعوت پر مسلمان ہوگئی تھیں، وہ مجھے سب سے زیادہ اسلام کے پردہ کے حکم کی خیر بتاتی رہیں اور بہت اصرار کرکے مجھے برقع پہن کر باہر جاکر آنے کو کہا، میں نے برقع پہنا، ڈنمارک کے بالکل مخالف ماحول میں میں نے برقع پہن کر گلی کا چکر لگایا، مگر وہ برقع میرے دل میں اتر گیا، بیان نہیں کرسکتی کہ میں نے مذاق اڑانے یا زیادہ سے زیادہ اس کی خواہش کے لیے برقع پہنا تھا، مگر مجھے اپنا انسانی قد بہت بڑھا ہوا محسوس ہوا، اب مجھے اپنے کوچ کی بے شرمانہ شہوانی چٹکیوں سے گھن بھی آرہی تھی، میں نے برقع اتارا اور سعدیہ کو بتایاکہ مجھے واقعی برقع پہن کر بہت اچھا لگا،مگر آج کے ماحول میں جب برقع پر ویسٹرن حکومتوں میں پابندی لگائی جارہی ہے، برقع پہننا کیسے ممکن ہے؟ اور غیر مسلم کا برقع پہننا تو کسی طرح ممکن نہیں، وہ مجھے اسلام قبول کرنے کو کہتی رہیں اور بہت اصرار کرتی رہیں، میں نے معذرت کی کہ میں اس حال میں نہیں ہوں، ابھی مجھے دنیا کی نمبر ون ہاکی کی کھلاڑی بننا ہے، میرے سارے ارمانوں پر پانی پھرجائے گا،سعدیہ نے کہامجھے آپ کو ہاکی کی فیلڈ سے برقع میں لانا ہے، میں نے اپنے اللہ سے دعا بھی کی ہے اور بہت ضد کرکے دعا کی ہے، اس کے بعد ہم دس روز تک ڈنمارک میں رہے، وہ مجھے فون کرتی رہی، دو بار ہوٹل میں ملنے آئی، اور مجھے اسلام پر کتابیں دے کر گئی۔
میں انڈیا واپس آئی، ہمارے یہاں نریلاکے پاس ایک گاؤں کی ایک لڑکی (جس کے والد سن ۴۷ء میں ہندو ہوگئے تھے، اور بعد میں آپ کے والد مولانا کلیم صاحب کے ہاتھوں مسلمان ہوگئے تھے،ان کے مریدبھی تھے اور حج بھی کر آئے تھے) ہاکی کھیلتی تھی، دلی اسٹیٹ کی ہاکی ٹیم میں تھی اور انڈیاکی طرف سے سلیکشن کے بعد روس میں کھیلنے جانے والی تھی، مجھ سے مشورہ اور کھیل کے اندازمیں رہنمائی کے لیے میرے پاس آئی ، میں نے اس سے ڈنمارک کی مشہور کھلاڑی برٹنی کاذکرکیا،اس نے اپنے والد صاحب سے ساری بات بتائی، وہ اپنی لڑکے کے ساتھ مجھ سے ملنے آئے، اور مجھے حضرت کی کتاب ’’آپ کی امانت‘‘ اور ’’اسلام ایک پریچے‘‘ دی، آپ کی امانت چھوٹی سی کتاب تھی، برقع نے میرے دل میں جگہ بنالی تھی، اس کتاب نے برقع کے قانون کو میرے دل میں بٹھادیا، میں نے حضرت صاحب سے ملنی کی خواہش ظاہر کی، دوسرے روز حضرت کا پنجاب کاسفرتھا،اللہ کا کرناکہ بہال گڑھ ایک صاحب کے یہاں ہائی وے پر ملاقات طے ہوگئے اور حضرت نے دس پندرہ منٹ مجھ سے بات کرکے کلمہ پڑھنے کو کہا، اور انہو ں نے بتایاکہ میرا دل یہ کہتاہے کہ برٹنی نے اپنے اللہ سے آپ کو برقع میں لانے کی بات منوالی ہے، بہرحال میں نے کلمہ پڑھااور حضرت نے میرانام عفیفہ رکھا،اور کہا عفیفہ پاک دامن کو کہتے ہیں، چونکہ بائی نیچر آپ اندر سی پاکدامنی کوپسندکرتی ہیں، میری بھانجی کا نام بھی عفیفہ ہے، میں آپ کانام عفیفہ ہی رکھتا ہوں۔
اس کے بعد میں نے برٹنی کو فون کیا، او راس کو بتایا، وہ خوشی میں جھوم گئی، جب میں نے حضرت کا نام لیا تو انہو ں نے اپنے شوہر سے بات کرائی، ڈاکٹر اشرف ان کا نام ہے، انہوں نے بتایا کہ حضرت کی بہن کے یہاں رہنے والی ایک حرا کی شہادت اور اس کے چچا کے قبول اسلام کی کہانی سن کر ہمیں اللہ نے اسلام کی قدر سکھائی ہے، اور اسی کی وجہ سے میں نے برٹنی سے شادی کی ہے، یہ کہہ کر کہ اگر تم اسلام لے آتی ہو تو میں آپ سے شادی کے لئے تیار ہوں، میں نے اخبار میں ایڈ دیا، گزٹ میں نام بدلوایا، اپنی ہائی اسکول اور انٹر کی ڈگریو ں میں نام بدلوایا اور ہاکی سے ریٹائرمنٹ لے کر گھرپر اسٹڈی شروع کی۔
میں نے آئی سی ایس کی تیاری شروع کی ہے، میں نے ارادہ کرلیاہے کہ میں ایک آئی سی ایس افسر بنوں گی،اور برقع پوش آئی ایس افسر بن کر اسلامی پردہ کی عظمت لوگوں کو بتاؤں گی۔
میں نیٹ پر اسٹڈی کر رہی ہوں، میرے اللہ نے ہمیشہ میرے ساتھ یہ معاملہ کیاہے، کہ میں جو ارادہ کرلیتی ہوں، اسے پورا کردیتے ہیں، جب کافر تھی تو پورا کرتے تھے، اب تو اسلام کی عظمت کے لیے میں نے ارادہ کیاہے، اللہ ضرور پورا کریں گے، مجھے ایک ہزار فیصد امید ہے کہ میں پہلی بار میں ہی آئی سی ایس امتحانات پاس کر لوں گی۔
لوگ کہتے ہیں کہ میرے انٹرویو کا کیا ہوگا کیونکہ آئی سی ایس کے لئے تو انٹرویو بھی دینا پڑتا ہے؟
میں کہتی ہوں کہ سارے برقع اور اسلام کے مخالف بھی اگر انٹرویو لیں گے تو وہ میرے سلیکشن کے لئے انشاء اللہ مجبور ہوجائیں گے۔ رہا یہ سوال کہ گھر والوں کو اسلام کی دعوت نہیں دی؟
ابھی دعا کر رہی ہوں، اور قریب کر رہی ہوں، ’’ہمیں ہدایت کیسی ملی؟‘‘ہندی میں میں نے گھر والوں کو پڑھوائی، سب لوگ حیرت میں رہ گئے، اور اللہ کا شکر ہے ذہن بدل رہا ہے۔
جو بھی اس تحریر کو پڑھ رہے ہیں ان کے لئے میرا پیغام یہ ہے کہ عورت کا بے پردہ ہونا اس کی حد درجہ توہین ہے، اس لئے مرد خدا کے لئے اپنے جھوٹے مطلب اور اپنا بوجھ ان پر ڈالنے کے لئے ان کو بازاروں میں پھراکر بازاری بنانے سے باز رہیں، اور عورتیں اپنے مقام اور اپنی عصمت و عفت کی حفاظت کے لئے اسلام کے پردہ کے حکم کی قدر کریں۔

pervaz khan
10-24-2012, 04:46 PM
جزاک اللہ

گلاب
10-25-2012, 12:00 PM
شکریہ