PDA

View Full Version : قربانی کے جانوروں کی عمریں



ابوسفیان
10-27-2012, 06:21 PM
[http://urdulook.info/imagehost/?dm=6UPE (http://urdulook.info/imagehost/?pm=6UPE)]
قربانی کا جانور شرعی محدود عمرکا ہونا ضروری ہے ۔اس حوالے سے ہمیں احادیث سے کچھ یوں روایات ملتی ہیں:

عن جابر قال قال رسول الله ﷺ لاتذبحوا الامسنة الاان يعسرعليکم فتذبحوا جذعة من الضان
سیدنا جابرؓسے روایت ہے انہوں نے فرمایا حضرت رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا تم صرف اور صرف مسنۃ ہی ذبح کرو لیکن اگر تمھیں دشواری پیش آئے تو ضأن (بھیڑ، چھترا، دنبہ) ایک سالہ ذبح کرلو (صحیح مسلم شر یف ج 2،ص155،حدیث نمبر:1963)
بعض لوگوں نے اس صحیح حدیث پر اعتراض کیا ہے کہ یہ روایت صحیح نہیں ہے کیونکہ ابو زبیر مدلس راوی ہے اور وہ اس حدیث کو عن سے روایت کررہا ہے۔ جبکہ لیث بن سعد کے علاوہ جو کوئی بھی ابو زبیر کی معنعن روایت نقل کرے وہ قابل احتجاج نہیں ہوتی۔ لہذا مدلس کا عنعنہ مردود ہونے کی وجہ سے یہ حدیث بھی ساقط الاعتبار ہے۔ یہی بات علامہ البانی ﷫نے سلسلہ ضعیفہ 157/1 میں اور ارواء الغلیل 258/4 میں کہی ہے۔
اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ امام مسلم ﷫نے مدلسین کی جو معنعن روایات اپنی صحیح میں نقل کی ہیں وہ سماع پر محمول ہیں اور یہ حدیث جابر بن عبداللہ ﷜سے ابو زبیر نے سنی ہے۔امام ابو عوانہ یعقوب بن اسحاق الأسفرائینی نے اس سماع کو بایں الفاظ اپنی مسند میں نقل کیا ہے۔
حدثنا ابن المنادی ، قال : ثنا یونس بن محمد ، قال : ثنا أبو خیثمة ، وحدثنا الصغانی ، قال : ثنا حسن بن موسى الأشیب ، قال : ثنا زهیر ، بإسناده مثله ، رواه محمد بن بكر عن ابن جریج ، حدثنی أبو الزبیر ، أنه سمع جابرا ، یقول وذكر الحدیث
(مستخرج أبی عوانة – مبتدأ كتاب الأضاحی، باب بیان وجوب الأضحیة – حدیث6316‏ )
لہٰذا اس صحیح حدیث سے ثابت ہوا کہ قربانی مسنۃ جانور ہی کی کرنی چاہیے اور اگر دشواری ہو تو پھر بھیڑ کی جنس سے جذعہ کرنے کی اجازت ہے۔
مسنہ ( یعنی دودانت والا ) کے علاوہ کوئی اورذبح نہ کرو لیکن اگر تمہیں مسنہ نہ ملے توبھيڑ کا جذعہ ذبح کرلو ۔(صحیح مسلم )
رسول اللہ ﷺاور صحابہ ؓ اجمعین ایسا جانور اِختیار کرتے جو مُسِنُّنٌ(مُذکر)، مُسِنَّۃٌ (مؤنث) ہوتا ۔ یعنی ،ہر وہ جانور جِس کے دانت تبدیل ہو چکے ہوں ، اور کہا گیا جِس کے سامنے والے دو مضبوط دانت نکل آئے ہوں (نیل الاوطار)
لہٰذا اونٹ پورے پانچ برس کا ہو تووہ ثنیہ کہلائے گا ۔
گائے، بھینس ،بیل یا بچھیا کی عمر دوبرس ہوتووہ ثنیہ کہلائے گی ۔
دنبہ ،مینڈھا بھیڑاور بکرایا بکری جب ایک برس کی ہوتووہ ثنیہ کہلائے گی ۔
مسنہ ،ثنیہ اوراس سے اوپروالی عمر کا ہوتا ہے اورجذعہ اس سے کم عمر کا ، یعنی جذعہ ایک سال کے جانور کوکہتے ہیں ۔
لہٰذا اونٹ گائے اوربکری میں ثنیہ سے کم عمرکے جانوری کی قربانی نہیں ہوگی ، اوراسی طرح بھيڑ میں سے جذعہ سے کم عمرکے جانور کی قربانی صحیح نہيں ہوگی ۔
ہاں دنبہ اوربھیڑ (نہ کہ بکرا )اگر اتنا موٹا تازہ ہو کہ سال بھر کا معلوم ہو تو اس کی قربانی بھی جائز ہے۔(درِمختار ،ج9،ص533)
موجودہ دور میں جانوروں کو تول کر (وزن کرکے) خریدوفروخت کرنا بھی جائز ہے ایسی قربانی بلاشبہ درست اور جائز ہے۔

نگار
10-27-2012, 10:20 PM
جزاک اللہ

بہت اہم معلومات ہیں آپ کا بہت بہت شکریہ

ابوسفیان
10-27-2012, 11:33 PM
جزاک

بہت اہم معلومات ہیں آپ کا بہت بہت شکریہ



نگارصاحب حوصلہ افزائی اور پسند کے لیئے شکریہ والسلام :smiley-chores016: