PDA

View Full Version : سوچنے دیجئے۔۔۔بولنے دیجئے



نذر حافی
10-27-2012, 11:39 PM
بسم اللہ الرحمن الرحیم
سوچنے دیجئے۔۔۔بولنے دیجئے
نذر حافی
nazarhaffi@yahoo.com
ہمارے ہاں اپنے آپ کو دینی اور نظریاتی ثابت کرنے کے لئے سستا اور آسان طریقہ یہ ہے کہ بینر چھپوائیں،جلوسوں میں نعرے لگائیں،سیمیناروں میں پہلی صف میں بیٹھیں،کسی بھی قسم کی بت پرستی مثلا شخصیت پرستی،تنظیم پرستی اور یا پھر خود پرستی شروع کردیں،ساتھ ساتھ حسب مقدور دوسروں کو اپنے علم و فعالیت سے مرعوب کرنا، اس کے علاوہ مسجدیں بنوانا،دینی مدارس کا قیام،فلاحی مراکز کا بندوبست،چندہ اکٹھاکرنا،دیگیں پکانا اور لمبے لمبے اسلامی و نظریاتی نعرے لگانایہ سب نظریاتی اور عملی کہلوانے کے آسان اور سستے طریقے ہیں۔
ہم اگر کچھ دنو ں کے لیےاپنے ہاں گھومیں پھریں تو ہم پر اس بات کا بھی انکشاف ہو گا کہ ہمارے ہاں مساجد کی تعداد بہت زیادہ ہے اور اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمیں ڈیڑھ اینٹ کی مسجدیں بنانے کا بہت شوق ہے۔مسجدوں کی بھرمار کے باعث ہماری قوم کے بعض دردمندتوصرف مال بٹورتےہیں اوریہ مال بغیر کسی حساب کتاب کے اپنی ڈیڑھ انچ کی مسجد پر خرچ کر دیتے ہیں۔
بعض حلقوں میں تو آمدنی اور خرچ کے حساب کتاب کا نام لینا بھی جرم ہے،اس سے تو ظلِّ الہی کی عظمت کو بٹّہ لگتاہے،یہی وجہ ہے کہ ہمارے بہت سارے اداروں میں پیسالینے اور مانگنے کے لئے تو نت نئے سسٹم موجود ہیں لیکن اخراجات کی نگرانی کا سوچنا بھی انتہائی نامعقول بات ہے۔
خیر عوام اوررہنماجوکرتے ہیں کرتے رہیں ،ہمیں ان سے کیا لینا دینا، ہم نے الیکشن تھوڑے ہی لڑنے ہیں کہ ان سیاسی معاملات میں دخل دیں۔ہمیں تو ہماری اپنی ڈیڑھ انچ کی مسجد سے کام ہے۔بس وہ سلامت رہنی چاہیے۔ویسے بھی ہم میں سے کون ہے جو جیلوں میں بے گناہ تڑپنے والوں کے حال پر کڑھتا ہے۔۔۔کون ہے جو دہشت گردوں کے ہاتھوں بے گناہ مارے جانے والوں کے غم میں کئی کئی دن کھانا نہیں کھاتا۔۔۔کون ہے جسےملک میں بڑھتی ہوئی کرپشن ،رشوت ،لوٹ کھسوٹ اور مار دھاڑکے دکھ میں راتوں کو نیند نہیں آتی۔۔۔کون ہے جو فیس نہ ہونے کے باعث تعلیم حاصل نہ کر سکنے والے بچوں کے درد میں گریہ کرتا ہے۔۔۔کون ہے جو یتیموں کے گھروں میں رات ڈھلے سب سے چھپ کر کھانا پہنچاتا ہے۔۔۔کون ہے جو مسکینوں کی آہوں کے ڈر سے اپنے بستر پر تڑپتا رہتاہے۔۔۔کون ہے جو اپنی نوجوان نسل کی گمراہی کے باعث لمحہ بھر سکون سے نہیں بیٹھتا۔۔۔ہم میں سے کون ہے جو علامہ اقبال {رح}کی طرح سوچ رہاہے،جمال الدین افغانی کی طرح زندگی گزار رہا ہےاور صدر اسلام کے مسلمانوں کی طرح مسلسل محنت کررہاہے۔۔۔
جب معاشرے میں اقبال جیسی فکر صحابہ کرام  جیسی زندگی،اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جیسے اہداف اور صدر اسلام کے مسلمانوں جیسےفداکارنہ رہیں تو پھراسلام تختہ مشق بن جاتا ہے،دانشوروں کے افکار بکنے لگتے ہیں،صحافیوں کے قلم نیلام ہونے لگتے ہیں ،ادیب ہوا کا رخ دیکھ کر قلم اٹھانے لگتے ہیں،بتکدوں میں اذان کی صدا دب جایا کرتی ہے۔۔۔شہیدوں کے خون کی تجارت ہونے لگتی ہے۔۔۔یتیموں کے اشکوں سے اپنی آتش شکم کو ٹھنڈا کیاجاتاہے۔۔۔لوگوں میں غیرت ،جرات اور قوت گویائی دم توڑ دیتی ہے۔۔۔ اور جہاں پر عوام سے قوت گویائی چھین لی جائے وہاں پر رسید بکیں تو چھاپی جاسکتی ہیں،پیسے تو بٹورے جاسکتے ہیں لیکن قوم کی تقدیر نہیں بدلی جاسکتی ۔۔۔
اگر اس قوم کی حالت بدلنی ہے تو ہماری لیڈران کرام سے گزارش ہے کہ آپ کے بچوں کی طرح اس قوم کے بچوں کے لئے بھی بہترین نظام تعلیم کا بندوبست ہونا چاہیے اورآپ کی طرح اس قوم کے ہر فرد کو اپنی سلامتی اور سیکورٹی کی ضرورت ہے۔اب اس قوم کو اپنا حق مانگنے دیجئے نیز آمدن اور خرچ کے حساب میں اس قوم کو بھی شریک کیجئےتاکہ کچھ اس قوم کو بھی پتہ چلے کہ آخرہرسال اس کی فلاح و بہبود پر کتنا پیسا خرچ ہورہاہے۔
اس قوم کو اس کے اثاثہ جات سے آگاہ کیجئے،اس قوم کی خدمت کے نام پر اکٹھی ہونے والی پائی پائی کہاں خرچ ہورہی ہے ،کچھ اس کا بھی اعلان کیجئے۔ڈمی بجٹ کے بجائے حقیقی اعداد و شمار کو منظر عام پر لائیے۔
اے لیڈران گرامی!اس قوم نے خوشحالی اور ترقی کی بہت لوریاں سن لیں، بینر وں کی چھپوائی،وال چاکنگ،جلوسوں اور ہڑتالوں کا اہتمام سب کچھ بجاہے لیکن اب یا تو اس قوم کی فکر کیجئے یا پھر خود اسےسوچنے دیجئے۔۔۔بولنے دیجئے

نگار
10-27-2012, 11:59 PM
واہ بہت ہی لاجواب اور بہترین

آپ کا بہت بہت شکریہ

نذر حافی
10-28-2012, 08:13 PM
اب یا تو اس قوم کی فکر کیجئے یا پھر خود اسےسوچنے دیجئے۔۔۔بولنے دیجئے

سقراط
11-13-2012, 11:10 PM
ارے بھائی بڑی دل جلانے والی تحریر لکھی ہے آپ نے