PDA

View Full Version : علامہ محمد اقبال کی دعایہ نظم اور گل مکئی ملالہ یوسف زئی



سید انور محمود
10-29-2012, 01:36 PM
از طرف: سید انور محموُد
علامہ محمد اقبال نے بچوں کے لیے ایک دعایہ نظم " لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری" لکھی تھی – آج مجھے اِیسا لگ رہا ہے کہ اقبال نے شایدیہ نظم گل مکئی جیسے بچوں کیلے لکھی تھی-
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
دور دنیا کا مرے دم سے اندھیرا ہو جائے
ہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے
ہو مرے دم سے یونہی میرے وطن کی زینت
جس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت
زندگی ہو مری پروانے کی صورت یا رب
علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب
ہو مرا کام غریبوں کی حمایت کرنا
دردمندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا
مرے اللہ! برائی سے بچانا مجھ کو
نیک جو راہ ہو اس رہ پہ چلانا مجھ کو
دعا خدا كے نزدیك سب سے پسندیدہ عمل٬ میں پوری پاکستانی قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ ملالہ یوسف زئی کے لیے اُس کی مکمل صحتیابی کے لیے دعا کریں-
پیاری بیٹی ملالہ اللہ تعالی تم کو جلد مکمل صحتیابی عطا کرے ، آمین اور تم پوری قوم کو علامہ اقبال کی نظم " لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری" زور زور سےسنانا اور اتنی زور سےسنانا کہ دہشتگرخوف سے نیست ونابود ہوجایں- کیونکہ اب ہم پاکستانیوں کو تم جیسے بچوں میں ہی روشنی کی کرن نظر آتی ہے- گل مکئی پوری قوم تماری مکمل صحتیابی کے لیے دعاگو ہے-
طالبان دہشت گردوں اور اُن کے حواریوں تم بہت بزدل ہوایک نہتی اور معصوم بچی پر حملہ کرتے ہو پھر بزدلوں کی طرح چھپ جاتے ہو- آج پوری قوم تمارے خلاف سراپا احتجاج ہے- تم مسلمان تو کیا انسان بھی کہلانے کے لایق نہیں ہو- ایک پیغام تمارے لیے ہے کہ تم کچھ بھی کرلو اس قوم کو نہیں ہراسکتے جہاں ملامہ جیسی بچییاں موجود ہوں- پاکستان زندہ باد