PDA

View Full Version : ملالہ کے والد کو برطانیہ پہنچتے ہی سیاسی پناہ کا اعلان کرنا تھا۔سازش ناکام بنا دی گئی



گلاب
10-31-2012, 10:03 PM
اسلام آباد (طاہر خلیل) یہ 25 اکتوبر کا واقعہ ہے جب ڈھلتی شب کے پچھلے پہر طالبان کے حملے میں زخمی ہونے والی ملالہ یوسفزئی کے والدین اور دونوں بھائیوں کو پشاور کنٹونمنٹ سے کشمیر ہاؤس اسلام آباد کی انیکسی میں منتقل کیا گیا۔ کشمیر ہاؤس کے ملازمین کو صرف یہ بتایا گیا کہ آزادکشمیر صدر کے کچھ مہمان آئے ہیں۔ علی الصبح صدر آزادکشمیر کے مہمان مارگلہ کے دامن میں پھیلی وزراء کالونی منسٹرز انکلیو پہنچے جہاں انہوں نے وزیر داخلہ رحمن ملک کے ہمراہ ناشتہ کیا۔ اس خاندان کی اگلی منزل برمنگھم تھی جہاں ملالہ زیرعلاج ہیں۔ لندن سے پاکستانی حکام نے اسلام آباد کو خطرے سے آگاہ کر دیا تھا کہ ملالہ یوسفزئی کے والدین لندن پہنچتے ہی سیاسی پناہ لینے کا اعلان کرنے والے ہیں جس کے لئے پاکستان دشمن لابی نے مکمل انتظامات کر لئے تھے اور اسلام آباد سے برمنگھم آنے والی فلائٹ پر پہنچنے والے مہمانوں کی میڈیا ٹاک کا اہتمام کر لیا گیا تھا۔ اسلام آباد کے اقتدار کے ایوانوں میں دو روز سے یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ ملالہ یوسفزئی اور ان کے والدین کی طرف سے برطانیہ میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کی مبینہ کوششیں کیسے بار آور نہ ہو سکیں۔ جنگ/ نیوز“ نے اس حوالے سے اپنے ذرائع سے جو معلومات حاصل کیں ان کی تصدیق دیگر حلقوں ن یبھی کی۔ دستیاب معلومات کے مطابق یہ پاکستان کو بدنام کرنے کی ایک سازش تھی۔ اس سازش کو کیسے ناکام بنایا گیا یہ بھی ایک دلچسپ داستان ہے۔ پاکستان مخالف لابی نے پروگرام بنایا تھا کہ ملالہ کے والد ضیاء الدین یوسفزئی برمنگھم ایئرپورٹ پر لینڈ کرتے ہی برطانیہ میں سیاسی پناہ کا اعلان کرینگے۔ اسی لئے برطانوی میڈیا کو الرٹ کر دیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق ضیاء الدین یوسفزئی نے ناشتے کی میز پر وزیر داخلہ رحمن ملک کو تصدیق کی تھی کہ وہ برطانیہ میں سیاسی پناہ کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ضیاء الدین یوسفزئی نے یہ بھی بتایا تھا کہ سیاسی پناہ حاصل کرنے کے باوجود وہ پاکستنا آتے جاتے رہیں گے مگر حکام نے انہیں بتایا کہ سیاسی پناہ حاصل کرنے کے بعد وہ پاکستانی پاسپورٹ سے دستبردار ہو جائینگے اور انہیں پاکستان آنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ ملالہ کے والد نے لندن میں طویل قیام کا ارادہ بھی ظاہر کیا تھا اور اسی لئے وہ سیاسی پناہ بھی حاصل کرنا چاہتے تھے۔ مگر وزیر داخلہ رحمن ملک نے انہیں باور کرایا کہ سیاسی پناہ حاصل کی تو یہ ملک کے قومی مفاد کے منافی ہو گا اور اس سے پاکستان کے دشمنوں کو فائدہ ہو گا۔ اس لئے سیاسی پناہ حاصل کرنے کی طرف قدم نہ بڑھائیں۔ ملالہ کے والد کے ساتھ وزیر داخلہ کی رہائشگاہ پر مکالمہ کا عمل ساڑھے تین گھنٹے جاری رہا جس میں وزیر داخلہ نے بالآخر ضیاء الدین یوسفزئی کو قائل کر لیا کہ وہ اس قسم کا کوئی فیصلہ نہ کریں جس سے ملک اور قوم کو سبکی کا سامنا کرنا پڑے۔ ذرائع نے بتایا کہ ملالہ کے والد پر واضح کر دیا گیا تھا کہ اگر انہوں نے برطانیہ میں سیاسی پناہ کا فیصلہ کیا تو حکومت پاکستان ان کی برطانیہ روانگی کی سہولتوں سے دستبردار ہو جائے گی۔ ضیاء الدین کو معلوم تھا کہ ان کا پاسپورٹ زائد المیعاد ہو چکا۔ والدہ کے پاس شناختی کارڈ نہیں۔ دونوں بچوں کے پاسپورٹ نہیں۔ 23 اکتوبر کو پاسپورٹس اور شناختی کارڈز کی تیاری راتوں رات مکمل کی گئی اور 24 اکتوبر کو برطانوی ہائی کمیشن سے ان کے وٰزے 4 گھنٹے کے اندر لگوائے گئے۔ رحمن ملک نے یہ بات بھی واضح کر دی تھی کہ وہ یہ کام صدر زرداری کی ہدایت پر کر رہے ہیں۔ جنہوں نے فیملی کو جلد لندن بھجوانے کی ہدایت کی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملالہ کے والدین نے بالآخر دو ٹوک بتا دیا تھا کہ وہ برطانیہ میں سیاسی پناہ نہیں لینگے۔ اس فیصلے کے بعد ہی حکومت نے انہیں تمام سفری سہولتیں اور لندن قیام کے انتظامات مکمل کئے اور وزیر داخلہ کی سرکاری گاڑی میں پورے پروٹوکول کے ساتھ ضیاء الدین اور ان کے اہلخانہ کو اسلام آباد سے برمنگھم روانہ کیا گیا۔ سیکورٹی خدشات کی وجہ سے ملالہ کے والدین کی گاڑی وی آئی پی لاؤنج میں روکی گئی بلکہ ان کی گاڑی کو غیرملکی سربراہوں اور وی وی آئی پی کے لئے مخصوص سٹیٹ لاؤنج کے راستے سے ایئرپورٹ کے ایپرن تک لے جایا گیا تھا۔