PDA

View Full Version : توہین رسالت جائز مگر ایک تقریر پرمعذور بوڑھے برطانوی عالم دین کو سخت ترین سزاملکہ نے



گلاب
10-31-2012, 10:21 PM
ایک طرف دنیا بھر میں ،مسلمان بنی کریم صلی اللہ وعلیہ وسلم کی توہین پر سراپا احتجاج ہین اور امریکہ، اقوام متحدہ اور یورپ یہ کہہ رہا ہے کہ تو ہین رسالت آزادی اظہار ہے اس پر پابندی نہیں لگا سکتے عین دوسری طرف ایک بوڑھے، ایک آنکھ سے محروم اور دونوں ہاتھوں سےمعذور برطانوی عالم دین ابو حمزہ المصری کو عرصے سے انتہائی سخت سزا کا برطانیہ مین اس لئے نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ وہ اپنے تقریر میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں جو امریکہ اور برطانوی حکومت کو پسند نہیں۔ انہیں سخت ترین سزا دینے کا حکم برطانیہ اور یورپ کی ہر عدالت دے چکی ہے اور انہیں ان کی تقریر کی وجہ سے دہشت گرد قرار دیا گیا ہے حتی کہ بوڑھی ملکہ برطانیہ نے بھی خود فرمائش کر کے اس بوڑھے مسلمان عالم کو سزا دلوائی۔ اس بوڑھے مسلمان کو صرف اس کی تقریر کی وجہ سے عرصے سے جیل میں رکھا گیا ہے اور اب امریکی جیل بھیجا جا رہا ہے۔ جس پر اس بوڑھے نے عدالت سے درخواست کی کہ اس کو امریکہ نہ بھیجا جائے بلکہ برطانوی جیل میں ہی رکھا جائے کیونکہ وہاں اس سے زیادہ برا سلوک ہو گا مگر تمام برطانوی اور یورپی عدالتوں نے فیصلہ دیا ہے کہ اس بوڑھے کوامریکی جیل بھیج کر زیادہ سخت سزا دی جائے۔
ملکہ نے ذاتی طور پر مداخلت کرتے ہوئے پوچھا تھا کہ برطانوی اتھارٹیز نے برطانیہ میں نتہا پسند مسلم مبلغ ابوحمزہ کو گرفتار کیوں نہیں کیا، یہ دعویٰ گذشتہ روز کیا گیا، وہ (ملکہ) اس پر بہت اَپ سیٹ تھیں کہ اسلامی عالم دین کو برطانیہ میں اپنے عقیدے کا پرچار کرنے کی اجازت دی گئی۔ انہوں نے سابق ہوم سیکرٹری سے اس کی وضاحت کے لئے کہا کہ وہ (ابو حمزہ) ابھی تک آزاد کیوں ہے۔ یہ بات بی بی سی کے سیکورٹی نامہ نگار فرینک گارڈنر نے کہی۔ ابو حمزہ اور 4 مسلمانوں کو متنازعہ تقاریر پر امریکہ حوالگی کا سامنا ہے ۔ گارڈنر نے انکشاف کیا کہ اکتوبر 2004ء میں ٹیررازم ایکٹ کے تحت ابوحمزہ پر چارج لگنے سے قبل ملکہ برطانیہ میں ابوحمزہ کی آزادی پر بدستور فرسٹریشن کا شکار تھیں جس کا اظہار انہوں نے مجھ سے کیا تھا۔ وہ اَپ سیٹ تھیں کہ اس کی گرفتاری کا کوئی راستہ نہیں۔ ریڈیو فور کے پروگرام ٹوڈے میں گفتگو کرتے ہوئے فرینک گارڈنر نے کہا کہ بالآخر اسے سات سال قید کی سزا ہوئی تو انہوں نے ہوم سیکرٹری سے کہا کہ یقیناً اس آدمی نے کچھ قوانین کی خلاف ورزی کی ہوگی یہ ابھی تک آزاد کیوں ہے جب انہین بتایا گیا کہ کسی بھی قانون کےتحت اس معذور بوڑھے مسلمان مولوی کو گرفتارنہیں کیا جا سکتا تو انہوں نے کہا کہ تو پھر بغیر قانون کے پکڑ لویا پھر قانون بنالو۔ وہ انتہا پسندانہ سرگرمیوں میں ملوث تھا اور اس نے برطانیہ کو ٹوائلٹ قرار دیا تھا۔ وہ اینٹی برٹش تھا مگر برطانیہ میں رہ رہا تھا۔ وہ مسلمانوں کے لئے بھی بڑی پریشانی کا باعث تھا جو اس کی خدمت کرتے تھے۔ گارڈنر سے سوال کیا گیا کہ وہ حمزہ کے بارے میں ملکہ کے خیالات سے کیسے آگاہ ہوئے تو گارڈنر نے کہا کہ ملکہ نے مجھ سے یہ باتیں کی تھیں تاہم بکنگھم پیلس نے اس پر تبصرے سے گریز کیا۔ گذشتہ روز یورپین کورٹ آف ہیومن رائٹس کے پانچ ججز کی رولنگ کا مطلب یہ ہے کہ اب ابوحمزہ اور دیگر مسلمان افراد کو سخت ترین امریکی جیل بھیجنے کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے اور آئندہ چند روز میں انہیں طیارے میں سوار کرایا جاسکتا ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی اس بوڑھے اور معذورن مسلمان عالم ، جوکہ اپنے دونوں ہاتھوں سے محروم ہے،کی طویل قانونی جنگ کا بھی خاتمہ ہوگیا۔بی بی سی نے اس انکشاف پر معذرت کی ہے کہ ملکہ نے وزرا کے سامنے ایک بوڑھے اور معذور مسلمان عالم دین ابو حمزہ المصری کی سرگرمیوں پر تشویش ظاہر کی تھی اور کسی بھی طرح جیل میں ٹھونسے پر زور دیاتھا۔پیر کو یورپین کورٹ آف ہیومن رائٹس نے کہا تھا کہ ابو حمزہ کو دیگر چار مسلمانوں کے ساتھ امریکہ کے حوالے کیا جاسکتا ہے۔ہوم آفس کا کہنا تھا کہ یہ عمل تین ہفتے کے اندر کیا جاسکتا ہے۔بی بی سی کے سیکورٹی نامہ نگار فرینک گارڈنر نے بی بی سی ریڈیو فار ٹوڈے پروگرام میں کہا تھا کہ ملکہ نے گزشتہ لیبر حکومت کے دور میں ابو حمزہ کے امور پر تشویش ظاہر کی تھی۔ بکھنگم پیلس کے نام ایک خط میں بی بی سی نے کہا کہ ملکہ کی اس گفتگو کو نشر نہیں کرنا چاہئے تھا کیونکہ یہ قطعی نجی بات چیت تھی۔ اس لئے بی بی سی اور گارڈنر نے اس پر معذرت کی تاہم کہا کہ یہ اہم بات ہے کہ ملکہ بھی شدت پسند مسلمانوں کے خلاف کسی بھی طور پر جنگ مین شریک ہین۔ بکھنگم پیلس اور ہوم آفس نے اس معذرت پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
یورپی یونین کی انسانی حقوق کی اعلیٰ ترین عدالت کی جانب سے ابوحمزہ اور بابر احمد سمیت 5 مسلمانوں کی ایکسٹرا ڈیشن کے خلاف اپیل مسترد ہونے کے بعد ان افراد کو جلد امریکہ بھیجنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں تاہم برطانیہ میں پیدا ہونے والے دو باشندوں بابر احمد اور طلحہ احسن کے خلاف ایک بزنس مین کی جانب سے پرائیوٹ استغاثہ دائر ہونے کے بعد اس بات کا امکان پیدا ہوسکتا ہے کہ ان دونوں کی امریکہ روانگی میں تاخیر ہوجائے جب کہ ابوحمزہ بھی میڈیکل وجوہات کی بناء پر امریکہ روانگی میں تاخیر کراسکتے ہیں۔ بابر احمد اور طلحہ احسن کے علاقے ٹوٹنگ کے رکن پارلیمنٹ صادق خان نے یورپی انسانی حقوق کی عدالت کے فیصلے پر اپنی اور اپنے حلقے کے عوام کی مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ برطانوی اور امریکی حکومتوں نے یورپی عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ ان پانچوں کو جلد امریکہ کے حوالے کردیا جائے گا تاکہ ان کو اسلامی تقاریر کرنے پر سخت ترین زسزا دی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کو آزادی اظہار کاکوئی حق نہیں ہے۔ ساؤتھ ویسٹ لندن کے علاقے ٹوٹنگ بابر علی اور سید طلحہ احسن کی امریکہ ایکسٹرا ڈیشن کے حوالے سے مقامی سطح پر شدید مخالفت کی جارہی ہے اور ان کے حق میں مہم چلانے والوں کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ دونوں برطانیہ میں پیدا ہوئے ہیں اس لئے ان کے خلاف برطانیہ کی سرزمین پر بھی مقدمات چلائے جائیں۔ بابر احمد کے حق میں گذشتہ برس ایک لاکھ 49 ہزار افراد نے ایک ای پٹیشن پر بھی دستخط کئے تھے جس میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ انہیں امریکہ ایکسٹرا ڈائز نہ کرے اگر بابر کے خلاف کوئی شواہد موجود ہیں تو ان کے خلاف ان کے خلاف اسی ملک میں مقدمہ چلایا جائے کیونکہ ان کو امریکہ میں انصاف ملنے کی توقع نہیں ہے۔ تاہم برطانوی حکومت نے اس سلسلے میں سارے مطالبات مسترد کردےئے ہیں اور کہا ہے کہ بابر احمد پر برطانیہ کے اندر مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا۔ بابر احمد کے حامیوں اور وکلاء نے اس بات پر بھی اعتراض کیا ہے کہ کراؤن پراسیکیوشن سروس نے برطانوی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے بابر احمد کے خلاف دےئے گئے شواہد کو پولیس کے ساتھ شےئر کئے بغیر کیوں امریکہ کے سپرد کردیا۔ وکلاء کا کہنا ہے کہ ان شواہد کی بناء پر بابر احمد کے خلاف برطانیہ کے اندر ہی مقدمہ چلایا جاسکتا تھا۔ ادھر بابر احمد اور سید طلحہ احسن کی ایکسٹراڈیشن صرف اسی صورت میں رک سکتی ہے کہ ان دونوں کے خلاف پرائیوٹ استغاثہ دائر کیا جائے جس میں یہ موقف اختیار کیا جائے کہ چونکہ ان دونوں پر جن جرائم کے الزامات لگائے گئے ہیں وہ برطانیہ میں ہی کئے گئے ہیں۔ اس لئے ان کے خلاف برطانیہ کے اندر ہی مقدمہ چلایا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک بزنس مین کارل واٹکنز نے چھ ستمبر کو ان دونوں کے خلاف

برطانیہ میں پرائیوٹ استغاثہ دائر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے وکلاء کو اس سلسلے میں کارروائی کرنے کی ہدایت کی تھی۔ واٹکنز کا کہنا ہے کہ وہ یہ کارروائی برطانوی عوام کے مفاد میں کررہے ہیں کیونکہ ان کا موقف ہے کہ برطانیہ میں ہونے والے جرائم کے خلاف مقدمہ برطانیہ کے اندر ہی چلنا چاہئے۔ برطانوی قانون کے مطابق کوئی بھی برطانوی شخص ایسا کوئی استغاثہ دائر کرکے پرائیوٹ پراسیکیوشن کا اختیار رکھتا ہے جس کا تعلق مفاد عامہ سے ہو اور وہ اس بات کو ثابت کردے کہ یہ مقدمہ برطانیہ میں چلانا ہی برطانیہ کے مفاد میں ہے۔ شیڈو جسٹس سیکرٹری صادق خان ایم پی نے کہا ہے کہ بابر احمد اور سید طلحہ احسن کی آخری اپیل بھی مسترد ہونے پر انہیں، بابر کے خاندان والوں اور ٹوٹنگ کے لوگوں کو مایوسی ہوئی ہے۔ صادق خان نے کہا کہ ان دونوں پر جو الزامات لگائے گئے ہیں وہ سنگین نوعیت کے ہیں تاہم یہ ایک مسئلہ رہا ہے کہ ان کے خلاف مقدمہ کہاں پر چلنا چاہئے مگر حکومت جانتی ہے کہ الزامات جھوٹے ہین اس لئے وہ ان کو مقدمہ چلائے بغیر امریکہ بھیج رہی ہے تاکہ وہاں بھی انہیں بغیر مقدمہ چلائے رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان دونوں کے رکن پارلیمنٹ ہیں اور انہوں نے حکومت سے ہمیشہ یہی کہا ہے کہ چونکہ یہ برطانوی شہری ہیں اور ان کے خلاف جو الزامات ہیں ان کا تعلق بھی اسی ملک کے ساتھ ہے اس لئے ان کے خلاف برطانیہ میں ہی مقدمہ چلایا جائے اور انہیں امریکہ نہ بھیجا جائے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ابھی ان دونوں کے خلاف پرائیوٹ پراسیکیوشن کا معاملہ بھی ہے اور انہوں نے ڈائریکٹر پبلک پراسیکیوشن کو بھی گذشتہ ہفتے ایک خط میں لکھا ہے کہ وہ اگر امریکی حکام سے ان دونوں کے بارے میں شواہد حال کرسکتے ہیں تو کرلیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے آج پھر پبلک پراسیکیوشن کے ڈائریکٹر پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے پر تیزی سے کارروائی کریں کیونکہ اگر ان دونوں کو ایکسٹرا ڈیٹ کردیا گیا تو بھی پرائیوٹ پراسیکیوشن کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ صادق خان نے کہا کہ انہیں ہمیشہ ایکسٹراڈیشن ایکٹ 2003ء میں تحفظات رہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ پرائیوٹ پراسیکیوشن کے سلسلے میں آخری مرحلے میں کی جانے والی کوششوں کے نتیجے میں ان دونوں کی ایکسٹراڈیشن میں تاخیر ہوسکتی ہے مگر ان کے ذریعے ان کی ایکسٹرا ڈیشن رک نہیں سکتی کیونکہ برطانوی اور امریکی حکومتوں کے لئے یہ ایکسٹراڈیشن انتہائی اہم بن گئی ہے۔ دریں اثنا امریکہ اور برطانوی حکام نے ان مسلمانوں کو امریکہ منتقل کرنے کے لئے انتظامات کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے جہاں ان کو ہمیشہ کے لئے کسی سخت ترین جیل میں رکھا جائے گا۔ بوڑھے اور معذور عالم دین ابوحمزہ ج پر الزام ہے وہ امریکہ کے خلاف تقریر کرتے ہین۔ ابوحمزہ کا موقف ہے کہ ان کو امریکہ میں غیرانسانی سلوک کا سامنا ہوگا اور اگر انہیں کبھی رہائی نہیں ملے گی۔ ابوحمزہ کو امریکہ ایکسٹراڈائٹ کرنے کی جنگ 8 سال سے جاری ہے۔ اور اس پر بطرانوی حکومت کے لاکھوں پونڈ خرچ ہوئے ہیں۔ ٹوٹنگ سے تعلق رکھنے والے بابر احمد اور ان کے شریک ملزم سید طلحہ احسن پر لندن میں ایسی ویب سائٹ چلانے کے الزامات لگائے گئے ہیں جو طالبان کے بیان شائع کرتی ہے۔ امریکہ کو مطلوب دو دوسرے ملزمان عادل عبدالباری اور خالد الفواز بغیر مقدمہ چلائے برطانوی جیلوں میں سب سے زیادہ دیر تک رہنے والے قیدی ہیں۔ ابو حمزہ کو 2006ء میں جہادی تقریر کرنے پر برطانیہ میں سات سال قید کی سزا دی گئی تھی۔ ان کی سزا مکمل ہوچکی ہے مگر چونکہ وہ امریکہ کو مطلوب ہیں اس لئے ان کی ایکسٹراڈیشن کی کارروائی کے لئے اسے جیل میں بند رکھا گیا ہے جبکہ بابر احمد 2004ء سے اور طلحہ احسن 2006ء سے برطانوی جیلوں میں بند ہیں۔ دریں اثناء ٹوٹنگ کے ایم پی صادق خان نے بابر احمد اور طلحہ احسن کی ایکسٹرا ڈیشن کے معاملے پر ہوم افےئرز سلیکٹ کمیٹی کے چےئرمین کیتھ واز ایم پی سے گفتگو کی ہے۔ صادق خان نے کیتھ واز سے ملاقات کے دوران ان پر زور دیا کہ وہ ان دونوں کے معاملے پر پبلک پراسیکیوشن ڈائریکٹر کےئر سٹارمر کو مزید کارروائی کے لئے کہیں جس پر کیتھ واز نے ایسا کرنے کی یقین دہائی کرائی۔ صادق خان نے کہا کہ یہ مسئلہ انتہائی اہم ہے۔ اس لئے انہوں نے اس پر خاص طور پر کیتھ واز کے ساتھ بات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ کیتھ واز کو بھی بابر اور طلحہ کے ساتھ ہمدردی ہے۔
عجیب بات یہ ہے کوئی بھی یہ نہیں کہہ رہا کہ ان تمام افراد نے صرف باتین ہی کی ہین اور اپنے خیالات اور عقائد کا اظہارہی کیا ہے تو انہیں کیوں جیلوںمیں بند کر کے ہولناک سزائیں دی جا رہی ہین اور ان کو کیوں آزادی اظہار کا حق نہیں۔