PDA

View Full Version : حکومت کی بدنیتی اور امن



بےباک
11-04-2012, 10:16 AM
کراچی میں طالبان سمیت مسلح گروپوں کے خلاف کاررائی کا حکم، 35 خطرناک ملزمان کی پیرول پر رہائی، سندھ حکومت کی بدنیتی ہے، گرفتار کیا جائے، سپریم کورٹ
روزنامہ جنگ 4 نومبر 2012
کراچی (علی حمزہ خان/ اعظم علی ) کراچی امن وامان کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کیلئے عبوری تحریری حکم جاری کردیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے آخری سماعت پر دیئے گئے احکامات برقرار رکھتے ہوئے حکم دیا ہے کہ کراچی میں طالبان سمیت تمام مسلح گروپوں کیخلاف کارروائی کی جائے۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ 35 خطرناک ملزموں کی پیرول پر رہائی حکومت سندھ کی بدنیتی ہے، ان ملزمان کو گرفتار کیا جائے۔حکومت سندھ نے متوازی نظام کے ذریعہ عدالت کو نیچا دکھانے کی کوشش کی ہے۔ حکومت سندھ اختیارات سے تجاوز کرنے پر جواب داخل کرے۔ حکومتی روش سے کراچی میں امن قائم نہیں ہوسکتا، ٹارگٹ کلنگ کی رپورٹ الارمنگ ہے، پولیس رینجرز اور دیگر ایجنسیز باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنائیں۔عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ غیر رجسٹرڈ گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی جائے، گاڑیوں کی رجسٹریشن کے ساتھ ہی کاغذات اور نمبر پلیٹ فوری جاری کی جائیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کی ماہانہ فٹنس رپورٹ تفصیل کیساتھ عدالت میں جمع کرائیں۔عدالت نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ پولیس ودیگرمتعلقہ حکام کراچی میں غیرقانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائی کریں۔ مسٹر جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے لارجر بنچ نے کراچی بدامنی ازخود نوٹس کے فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق معاملے پر 8 صفحات پر مشتمل عبوری حکم نامے میں کہا ہے کہ 1926 ایکٹ اور اس کے تحت بننے والے قواعد حکومت کو زیر سماعت مقدمات کے قیدیوں کی پیرول پررہائی کا اختیار نہیں دیتے۔ حکومت یا اس کا کوئی ادارہ ایسا کوئی اختیار استعمال نہیں کرسکتا جس سے متوازی عدالتی نظام کا تاثر ملتا ہو۔ ضمانت مسترد ہونے پرملزمان کی پیرول پر رہائی کا حکومتی اقدام عدالتی نظام کو نیچا دکھانے کی کوشش ہے۔ حکومت ایک جانب بدامنی کا شور مچاتی ہے دوسری جانب سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کو پیرول پر رہا کردیا جاتا ہے۔ حکومت سندھ کا یہ عمل بدنیتی پر مبنی ہے، حکومتی روش برقرار رہی تو کراچی میں امن قائم نہیں ہوسکتا،ان حالات میں عدالت حکم دیتی ہے کہ اس مقدمہ کو جتنی جلد ممکن ہو، خصوصی بنچ کے روبرو سماعت کے لئے پیش کیا جائے، اس دوران سیکریٹری داخلہ، جیل حکام پیرول ڈیپارٹمنٹ اپنے غیر قانونی اقدام سے متعلق تفصیلی جواب داخل کریں۔ زیر سماعت مقدمات میں پیرول پر رہا کئے گئے ملزمان کے متعلقہ عدالتوں سے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے جائیں۔ آئی جی سندھ ان کی فوری گرفتاری اور عدالت میں پیشی یقینی بنائیں۔ پولیس رپورٹ کے مطابق شہر میں طالبان سمیت جدید اسلحہ سے لیس دہشت گرد موجود ہیں، ان دہشت گردوں کے خلاف سنجیدہ کارروائی اور آئینی ہاتھوں سے نمٹنا ناگزیر ہے۔ ٹارگٹ کلنگ سے متعلق دی گئی رپورٹ الارمنگ نظر آتی ہے، امن و امان کے قیام کیلئے پولیس رینجرز اور دیگر سیکورٹی ایجنسیز کے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ صرف ملزمان گرفتار ہوں اور انہیں سزا بھی دلوائی جاسکے۔ رینجرز کے پاس تلاشی، چھاپوں اور گرفتاریوں کے اختیارات ہیں لیکن تفتیش کے نہیں، رینجرز ملزمان کی گرفتاری کے بعد انہیں فوراً برآمد شدہ اسلحہ سمیت متعلقہ پولیس اسٹیشن کی تحویل میں دے تفتیش اور چالان کی تیاری میں ضرورت پڑنے پر رینجرز کو شامل کیا جاسکتا ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ پولیس کی بھرتیاں شفاف نہیں ہوتیں محکمہ پولیس میں سیاسی مداخلت موجود ہے۔ پولیس میں بھرتیوں کا نظام شفاف نہیں، پولیس میں ماتحتوں کی کارکردگی جانچنے کا کوئی طریقہ کار نہیں ہے، آوٴٹ آف ٹرن ترقیوں اور ڈیپوٹیشن پر افسران کی تعیناتی سے سیاسی مداخلت بڑھ گئی ہے۔ بہت سارے افسران اہلیت پر ترقیوں کے منتظر ہیں لیکن اہلیت کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔ پولیس کو سیاست سے پاک کرنے کی بجائے من پسند افراد کو بھرتی کرکے گزشتہ تاریخوں میں ترقیاں دی جارہی ہیں۔ حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ موٹر سائیکل، کار، دیگر گاڑیوں کی رجسٹریشن کے ساتھ ہی کاغذات نمبر پلیٹ فوری طور پر جاری کی جائیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کی ماہانہ فٹنس رپورٹ تفصیلات کے ساتھ عدالت میں جمع کرائی جائے۔ سپریم کورٹ کے لارجر بنچ نے عبوری حکم میں سندھ حکومت سے اختیارات سے تجاوز کرنے پر جواب طلب کرلیا اور مزید سماعت ملتوی کردی۔ سپریم کورٹ کے لارجر بنچ میں جسٹس انور ظہیر جمالی، جسٹس خلجی عارف حسین، جسٹس سرمد جلال عثمانی، جسٹس امیر ہانی مسلم اور جسٹس گلزار احمد شامل ہیں۔ عبوری حکم کے چھٹے پیراگراف میں سپریم کورٹ نے واضح طور پر کہا ہے کہ سندھ پولیس محکمہ داخلہ کا کوئی بھی اعلیٰ افسر کراچی میں ہونے والی خونریزی سے فکرمند دکھائی نہیں دیتا بلکہ جواز پیش کرنے میں سبقت لے جانے کی کوشش میں مصروف دکھائی دیتے ہیں، یہ کہ محکمہ جیل خانہ جات، محکمہ داخلہ، کراچی پولیس، محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، ٹریفک پولیس کی طرف سے کی گئی تمام غیرقانونی کارروائیاں ختم کرکے سپریم کورٹ کو رپورٹ پیش کریں۔ عبوری حکم میں سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ پیرول پر رہا کئے جانے والے ملزمان کا کیس اگلی سماعت میں پھر جاری رہے گا لہٰذا محکمہ اس سلسلے میں تمام تر جواز اور دستاویزات عدالت کے روبرو پیش کرے اور یہ کہ صوبائی حکومت کے محکموں نے تمام قوانین کو بالائے طاق رکھ کر ایسے اقدامات کئے ہیں جس نے عدالت کو انتہائی تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ، آئی جی سندھ کی طرف سے پولیس اور رینجرز صرف گرفتاری اور چھاپے مارکر اپنی اہلیت ثابت کررہی ہیں مگر جرائم روکنے کیلئے کوئی حکمت عملی نہیں اپنائی جارہی جو کہ خوفناک صورتحال اختیار کرسکتی ہے۔ جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں جسٹس خلجی عارف، جسٹس سرمد جلال عثمانی، جسٹس امیرہانی مسلم اور جسٹس گلزار احمد پر مشتمل لارجر بنچ کے سامنے حکومت سندھ کے محکمہ داخلہ، جیل خانہ جات نے پیرول پر رہا ہونے والے ملزمان کے بارے میں جو متضاد اور قوانین سے متصادم جواز پیش کئے ہیں اس میں قتل اور ڈاکے کے ملزمان کی تعداد بھی مختلف ہے، ان ملزمان کو انتہائی پراسرار انداز میں اس وقت پیرول پر رہا کردیا گیا جبکہ ان کی ضمانتیں بھی مسترد کی جاچکی تھیں۔ ان محکموں کی طرف سے پیش کی گئیں دستاویزات ثابت کرتی ہیں کہ یہ غیرقانونی اقدامات نئے نہیں بلکہ 2005 سے جاری ہیں، عبوری حکم میں کہا گیا ہے کہ سندھ کی جیلوں کے قیدیوں کا نہ تو کوئی ریکارڈ تیار کیا جارہا ہے بلکہ جو ریکارڈ محکموں کے پاس موجود ہے وہ بھی دانستہ طور پر سپریم کورٹ کے روبرو پیش نہیں کیا جارہا۔ پیرول پر رہاکئے جانے والے صرف ایک ہسٹری کنڈکٹ کو عدالت محض کاغذی کارروائی سمجھتی ہے جبکہ رہا کئے جانے والے دیگر ملزمان جن کے وارنٹ جاری کئے جارہے ہیں انکے ہسٹری ٹکٹس یا تو تیار ہی نہیں ہوئے اگر ہوئے ہیں تو انہیں عدالت میں پیش نہیں کیا گیا اور یہ کہ محکمہ پولیس محکمہ داخلہ اور محکمہ جیل خانہ جات یہ بھی نہیں جانتا کہ جن ملزمان کو رہا کیا گیا، انہوں نے رہا ہونے کے بعد کوئی اور جرم کیا ہے یا نہیں اور یہ کہ رہائی سے قبل ملک کے کسی بھی شخص سے اس بات کی ضمانت نہیں لی گئی کہ ضرورت پڑنے پر انہیں پیش کردیا جائے گا، یہ عمل انتہائی حیرت انگیز اور تشویشناک ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ بغیر نمبر پلیٹ، فینسی نمبر پلیٹ اور غیرملکی نمبر پلیٹوں والی گاڑیوں کو فوری طور پر ضبط کیا جائے اور کوئی گاڑی رجسٹریشن اور نمبر پلیٹ کے بغیر پورٹ سے نہیں نکلنی چاہئے، منی بسوں کوچز اور بسوں کی چھتوں پر لگے ہوئے جنگلے فوری طور پر ہٹائے جائیں۔ قبل ازیں دوران سماعت جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں جسٹس خلجی عارف، جسٹس سرمد جلال عثمانی، جسٹس امیرہانی مسلم اور جسٹس گلزار احمد پر مشتمل لارجر بنچ نے محکمہ ایکسانز اینڈ ٹیکسیشن حکام کو حکم دیا کہ کراچی پورٹ میں اپنا دفتر کھولا جائے تاکہ بغیر رجسٹرڈ کوئی گاڑی شہر میں نہ آسکے، بغیر رجسٹرڈ گاڑیوں سے سنگین وارداتیں ہورہی ہیں اور افسران سکون سے بیٹھے ہیں۔ عدالت نے ڈی آئی جی ٹریفک خرم گلزار سے استفسار کیا کہ ٹریفک پولیس کو کیوں نہیں پتہ کہ شہر میں کتنی گاڑیاں چل رہی ہیں۔ اس موقع پر سیکریٹری داخلہ وسیم احمد نے سپریم کورٹ کے روبرو ٹریفک کے مسائل پر بنائی گئی مسعود الرحمن کمیشن کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں کتنے ہی فلائی اوور انڈر پاس بنالئے جائیں، مگر ٹریفک کے حالت خراب ہی ہوتے جائیں گے، کراچی کے سنگین ٹریفک کا صرف ایک ہی حل ہے کہ یہاں ماس ٹرانزٹ سسٹم کے تحت لائٹ الیکٹرک ٹرین کے 6 مجوزہ کوریڈورز پر فوری کام شروع کیا جائے

pervaz khan
11-04-2012, 03:22 PM
بہت اچھی شئیرنگ شکریہ

بےباک
11-05-2012, 10:45 AM
http://ummatpublication.com/2012/11/05/images/news-01.gif