PDA

View Full Version : ستارے



نذر حافی
11-06-2012, 08:29 PM
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ستارے
نذر حافی
دیکھیں بیگم صاحبہ،مجھ سے آپ کی شان میں کوئی گستاخی سرزد ہوجائے گی۔یہ کہہ کر تھانیدار صاحب نے کمبل میں منہ لپیٹا اور دوبارہ سو گئے۔
تھوڑی دیر بعد بیگم نے پھر آواز دی:اجی سنئے تو سہی ،آپ سو گئے ہیں یا جاگ رہے ہیں۔
ہوں جاگ رہاہوں،تھانیدار صاحب نے نیند میں بے رخی سے جواب دیا۔
میں کہہ رہی ہوں کہ وہی آوازیں پھر آرہی ہیں۔
کونسی آوازیں ،یہ کہہ کر تھانیدار صاحب بے قراری میں بستر پر اٹھ بیٹھے۔
آپ کھڑکی سے سر باہر نکال کر دیکھیں تو سہی۔
تھانیدار صاحب نےبددلی سے اٹھ کر کھڑکی کے پٹ کھولے اور آسمان کی طرف سرنکال کر دیکھنا شروع کردیا۔
ارے وہاں کیا منہ لٹکا کر کھڑے ہوگئے، میں پوچھتی ہوں ،کیا آسمان پر ستارے ہیں۔
ہاں ہاں ہیں۔۔۔اچھا۔۔۔کچھ دیر تک کمرے میں خاموشی چھاگئی اور ستاروں کی پھیکی پھیکی روشنی میں کمرہ نہانے لگا۔
ہوں ہوں ،ستاروں کو دیکھئے ۔۔۔ دیکھ تو رہاہوں۔
اگر آپ دیکھ رہے ہیں تو آپ کو ستاروں کے بھونکنے کی آوازیں کیوں نہیں آرہیں۔ بیگم کی یہ بات سنتے ہی تھانیدار صاحب سیخ پا ہو گئے۔
نادان عورت!!! ستارے آسمان پر چمک رہے ہیں جبکہ کُتے گلیوں میں بھونک رہے ہیں۔
اجی نادان میں نہیں آپ ہیں!آپ تو بہرے ہوگئے ہیں ۔آپ کو ستاروں کے بھونکنے کی آوازیں بھی نہیں سنائی دیتیں۔
بے وقوف بڑھیا!ستارے بھی کبھی بھونکے ہیں۔ستارے تو چمکتے ہیں،شفاف،روشن،منوّر۔۔۔
اچھاآپ رہنے دیں اور سوجائیں۔
میں سورہاہوں اور خبردار جو اب مجھے نیند سے جگایا۔
اس طرح کی لے دے کتنے ہی برسوں سے تھانیدار صاحب اوران کی بیگم کے درمیان ہورہی ہے لیکن آج کی شب تھانیدار صاحب نے بیگم کو ایسا ڈانٹا کہ وہ ہمیشہ کے لئے مان گئی کہ ستارے آسمان پر چمکتے ہیں اور کتے زمین پر بھونکتے ہیں۔
اس ڈانٹ ڈپٹ کے بعدرات بھر تھانیدار صاحب بہت اطمینان کے ساتھ سوئے۔
صبح اٹھتے ہی انہوں نے اپنے چار سالہ بچے کواپنے ساتھ سکول چلنے کے لئے کہا۔
ماں دوڑ کر راستے میں کھڑی ہوگئی،آپ اسے کیوں سکول لے جانا چاہتے ہیں؟
تھانیدار صاحب نے سٹپٹاکر جواب دیا کہ یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے،میں اسے سکول لے جارہاہوں تاکہ کچھ پڑھ لکھ جائے۔
اجی اسے پڑھانے کی فکر مت کیجئے۔ کل میں نے سکول میں پڑھنے والے ہمسائے کے ایک بچے کو کتے کی دم کھینچتے دیکھاہے۔بیگم نے گھبرائے ہوئے یہ بات تھانیدار صاحب کو بتادی ۔بیگم صاحبہ کا خیال تھا کہ یہ سن کر تھانیدار صاحب بچے کو سکول داخل کرانے سے باز آجائیں گے لیکن ان پر کوئی اثر ہی نہیں ہوا۔
تھانیدار صاحب آگے بڑھتے ہوئے بولے بیگم صاحبہ اس میں پریشانی کی کیابات ہے۔جی جی لیکن پریشانی کی بات تو یہ ہے کہ اس کتے کا سر انسان کا سا تھا جبکہ دھڑ گدھے کی طرح اور دم کتے کی طرح۔
یہ سن کر تھانیدار صاحب واقعی ٹھٹھک گئے۔ فورا بولے اچھا جب اس کا سر انسان کا ساتھا دھڑ گدھے کا سا تو پھر تمہیں کیسے پتہ چلا کہ اس کی دم کتے کی تھی۔۔۔؟
بیگم نے بھی دھڑلے سے جواب دیا کہ چونکہ وہ دم ٹیڑھی تھی ،اس لئے میں پہچان گئی کہ یہ کتے کی دم ہے۔
اور ہاں سنئے تو ہمسائے کا بچہ یہ کہہ رہاتھا کہ جو انسان گدھے کی طرح خواہشوں کو اپنے اوپر سواری کرنے دیتاہے،وہ انسان نہیں رہتا،گدھا ہی بن جاتاہےاور جو انسان ہڈی کی لالچ میں حرکت کرتاہے تووہ کتا۔۔۔
پھر کیا ہوا۔۔۔؟ پھرجب بچے نے دُم کو زیادہ کھینچاتو وہ تین دھڑ والا انسان اس پر بھونک پڑا۔اس کے بھونکتے ہی در و دیوار ،زمین و آسمان،چاند ستارے سب بھونکنے لگے۔میں خوف کے مارے تھر تھر کانپتی ہوئی گھر بھاگ آئی۔
میری مانئے تو بچے کو سکول مت بھیجئے۔۔۔
تھانیدار صاحب یہ باتیں سنی ان سنی کر کے بچے کو اپنے ہمراہ سکول لے گئے۔
برسوں تک بچہ اسی راستے پر چل کر سکول آتاجاتارہا۔
آخر ایک دن وہ سکول سے جلدی واپس آگیا،دن بھر اس نے کھانا بھی نہیں کھایا۔دستر خوان کو دیکھتے ہی اسے قے آنے لگی۔ شاید اس کی طبیعت خراب تھی۔باپ کو اپنی طبیعت کی خرابی سے آگاہ کرنے کے لئے وہ لان میں لے گیا۔
اب لان تھا اوررات کی تاریکی میں برقی قمقموں کی گھلتی ہوئی لو۔اس نے باپ سے آنکھیں چراتے ہوئے کہا:
ابّو۔۔۔میری طبیعت خراب ہے،میرے دل پر بوجھ ہے،میں چاہتاہوں کہ آپ کے ساتھ کچھ دیر باتیں کروں۔
ہاں بیٹا ضرور باتیں کرو۔۔۔
ابو یہ بتائیں۔۔۔اگر سوسال زندگی ہو تو انجام کیا ہے؟
بیٹاانجام موت ہے۔۔۔
اچھا اگر ہزار سال زندگی ہوتو۔۔۔؟
تو بھی انجام موت ہے۔۔۔
اچھا تو پھر یہ بتائیں۔۔۔کہ آپ نے یہ جو گھر،بنگلہ،بینک بیلنس۔۔۔بنایاہے۔۔۔ کہیں یہ سب غریبوں،بے نواوں اور بے کسوں کی خواہشوں کا گلا گھونٹ کرتو نہیں بنایا۔
یہ سنتے ہی تھانیدار صاحب کے ماتھے پر شبنم پھوٹنے لگی،وہ پسینے سے شرابور جلدی جلدی سونے والے کمرے میں گھس آئے اوربستر میں دبک گئے۔انہیں ایسے محسوس ہورہاتھا کہ جیسے ان کی دم نکل آئی ہو اور ان کا بیٹا ان کی دم کھینچ رہاہو،انہیں اپنے جسم میں تین دھڑ واضح طور پر محسوس ہورہے تھے۔
انجانے خوف اورشرم اور ندامت کے مارے انہوں نے اپنی سوئی ہوئی بیگم کو آواز دی ۔۔۔
بیگم اٹھو اور کھڑکی کھولو!
بیگم نے کھڑکی کھول کر باہر دیکھا اور کہا کہ باہر تو مطلع بالکل صاف ہے۔
تھا نیدار صاحب بولے کیا ستارے نظر آرہے ہیں۔
جی ہاں ستارے نظر آرہے ہیں۔
غور سے سنو ۔۔۔ستارے بھونک رہے ہیں۔
بیگم نے غور سے سنا اور بولی۔۔اجی! ستارے تو چمکتے ہیں جبکہ گلیوں میں کتے بھونکتے ہیں۔
تھانیدار صاحب نے خود اٹھ کر کھڑکی سے سر باہر نکالا اور بیگم سے بولےسنو ۔۔۔غور سے سنو
ستارے بھونک رہے ہیں۔
جب بیگم نے کوئی توجہ نہیں دی تو تھانیدار صاحب نے بیگم سے کہا دیکھو بیگم صاحبہ،اولاد کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟
بیگم نے ڈبڈباتی ہوئی آنکھوں سےجواب دیا:
اولاد تو ستاروں کی مانند ہے،شفاف،بے داغ،روشن،منوّر
اتنے میں تھانیدار صاحب پھر سے گرجے اور کھڑکی سے سر باہر نکال کر بولے سنو سنو۔۔ ستارے بھونک رہے ہیں
اس کے بعدپوری رات بند کمرے میں دو آوازیں آپس میں ٹکراتی رہیں،
ایک یہ تھی کہ اولاد تو ستاروں کی مانند ہے اور دوسری یہ تھی کہ ستارے بھونک رہے ہیں۔
nazarhaffi@yahoo.com

شان
11-08-2012, 07:31 PM
ابو یہ بتائیں۔۔۔اگر سوسال زندگی ہو تو انجام کیا ہے؟
بیٹاانجام موت ہے۔۔۔
اچھا اگر ہزار سال زندگی ہوتو۔۔۔؟
تو بھی انجام موت ہے۔۔۔

نگار
11-09-2012, 11:14 PM
انسان بوڑھا ہو جاتا ہے لیکن اس کی دو خواہشیں کبھی نہیں مرتی

ایک ،،، اور جینے کی لگن
دو،،،، مسلسل دولت کی لالچ

بہت ہی خوبصورت مضمون آپ نے شیئر کیا ہے
اس کے لیے بہت بہت شکریہ