PDA

View Full Version : کیا یہ ظلم نہیں۔۔۔؟



نذر حافی
11-07-2012, 09:51 PM
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نذر حافی
دستِ بے ہنر میں جو چیز بھی آجائے وہ بے وقعت ہوجاتی ہے۔بے ہنر شخص سونے کو خاک میں تبدیل کردیتاہے جبکہ باہنر انسان خاک کو اکسیر بنا دیتاہے۔خداوند عالم نے ہمارے ملک کو جہاں پر دیگر معدنی وسائل اور آبی ذخائر سے مالامال کیا ہے وہیں پر ایک احسان یہ بھی کیا ہے کہ اس نے ہماری ملت کو بہترین دماغوں،اعلیٰ درجے کے علمائے کرام اور بے مثال ہنرمندوں اور دانشمندوں سے بھی نوازا ہے۔
ہمارے حکومتی اداروں کی نااہلی تو دیکھئے کہ وہ ان بہترین دماغوں اور برجستہ شخصیات سے کوئی ملی اور اجتماعی فائدہ اٹھانے کے بجائے ان سے جان چھڑوانے کے لئے ان کی ٹارگٹ کلنگ کروا رہے ہیں۔سڑکوں اور چوراہوں پر دانشمندوں کا بہایا جانے والا یہ خون جہاں ایک طرف ہمارے حکمرانوں کی ناہلی کی تاریخ رقم کر رہاہے وہیں پردوسری طرف ہم سے اس ظلم کے خلاف بولنے کا تقاضا بھی کررہاہے۔
ہمیں یہ ماننا چاہیے کہ صرف کسی کو ناحق قتل کرنا ہی ظلم نہیں،اگر منصف سے انصاف نہ ملے تو ظلم ہے،پولیس تحفظ نہ دے تو ظلم ہے، فوج اقتدار پر قبضہ جمالے تو ظلم ہے، ظالم کا راستہ نہ روکا جائے تو ظلم ہے،مسلمانوں کے درمیان نفرت انگیز مواد کی تشہیرظلم ہے،فرقہ واریت کی سرپرستی ظلم ہے۔۔۔یہ سب ظلم ہے اور ساحر لکھنوی نے تو یہاں تک کہہ دیاہے:
یہ عدل ہے کہ رہے تیغ دستِ منصف میں
یہ ظلم ہے کہ قلم دستِ بے ہنر میں رہے
ہم سب کو یہ سوچنا چاہیے کہ قلم کا دستِ بے ہنر میں رہنا تو ظلم ہے لیکن اگر قلمدان دستِ بے ہنر میں رہے تو کیا یہ ظلم نہیں۔۔۔؟
اس سے بڑھ کر صاحبانِ قلمدان کی بے ہنری کیا ہوگی کہ اب ہر روز لاشیں گر رہی ہیں اوراربابِ حل و عقدلاشوں پہ کھڑے ہوکر فلمی انداز میں مذمتوں بھرے بیانات کے ڈونگرے برساتےہیں۔
فلاں عالم دین شہید ہوگئے ۔۔۔ہم مذمت کرتے ہیں
فلاں انجینئر قتل ہوگیا ۔۔۔ ہم مذمت کرتے ہیں
فلاں صحافی ہلاک کردیا گیا۔۔۔ ہم مذمت کرتے ہیں
فلاں وکیل ناحق مارا گیا۔۔۔ ہم مذمت کرتے ہیں
فلاں جگہ پر خود کش دھماکہ ہوگیا۔۔۔ ہم مذمت کرتے ہیں
مذمت کرنے کا یہ فیشن اتنی تیزی سے ترقی کررہاہے کہ شاید عنقریب ہمیں اس طرح کے بیانات بھی پڑھنے کو ملیں گے:
ہم یزید کے ظلم کی۔۔۔ مذمت کرتے ہیں ۔
ہم فرعون کے کفر کی۔۔۔ مذمت کرتے ہیں۔
ہم شیخ چلّی کی حماقتوں کی۔۔۔ مذمت کرتے ہیں
ہم شیطان کی شیطانیوں کی۔۔۔ مذمت کرتے ہیں
اس کے علاوہ مستقبل قریب میں یہ امید بھی کی جاسکتی ہے کہ مذمت کے ساتھ ساتھ کچھ فلمی ڈائیلاگ بھی ہمیں پڑھنے اور سننے کو ملاکریں گے۔مثلاہم دشمنوں کو ملیا میٹ کردیں گے،ہم کسی کودہشت گردی کی اجازت نہیں دیں گے،ہم دہشت گردوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے،ہمارا راستہ اقبال اور قائداعظم کا راستہ ہے،ہماری ملت سوئی نہیں بیدار ہے،ہم وہ قوم ہیں جو۔۔۔ وغیرہ وغیرہ
ظالم ہر روز دانشمندوں،علماء کرام ،انجینروں اور ڈاکٹروں کی ٹارگٹ کلنگ کررہے ہیں،عوام کو خود کش حملوں میں اڑا رہے ہیں جبکہ میڈیا میں مذمت۔۔۔مذمت۔۔۔مذمت کا سیلاب آیاہواہے۔ہرکوئی اسی فکر میں ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح مذمت کرنے والوں پر سبقت لے جائے۔
آج ہم سب کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم مذمتوں کے بوجھ تلے ڈوبے ہوئے میڈیا کوجھنجھوڑ کر حاملان اقتدار سے یہ سوال کریں کہ کیا اس بہے جانے والے خون اور ماری جانی والی علمی شخصیات کے خلاء کو مذمتوں کے بیانات سے پر کیا جاسکتاہے۔۔۔؟
یہ ملت کب تک کاغذی بیانات اور فلمی ڈائیلاگزکے بوجھ تلے دبی رہے گی۔صاحبانِ اقتدار کو مذمتوں کے بجائے عملی اقدامات کے لئےاس طرح کے اعلانات کرنے چاہیے کہ فلاں علام دین کی شہادت سے پیدا ہونے والے خلاکو پر کرنے کے لئے ہم اتنے دینی طالب علموں کے لئے سکالر شپ کا اعلان کرتے ہیں،فلاں دانشمند کے مارے جانے سے پیدا ہونے والے خلاکو پر کرنے کے لئے ہم اتنے نئے سکولوں اور کالجز کے قیام کا اعلان کرتے ہیں۔فلاں وکیل کی ٹارگٹ کلنگ سے پیدا ہونے والے خلاکو پر کرنے کے لئے ہم اتنے لاکالجز اور لائبریریوں کے آغاز کا اعلان کرتے ہیں۔
صرف کسی کو ناحق قتل کرنا ہی ظلم نہیں، قلم دستِ بے ہنر میں رہے تو ظلم ہے اور اگر قلمدان دستِ بے ہنر میں رہے تو کیا یہ ظلم نہیں۔۔۔؟
nazarhaffi@yahoo.com

بےباک
11-08-2012, 07:55 AM
بہت ہی دردناک تجزیہ کیا ہے آپ نے ،
جناب نذر حافی صاحب ، آپ کی ان تحریروں میں معاشرے کے تعمیری پہلو کافی ہیں ،
جزاک اللہ

شان
11-08-2012, 08:17 PM
حافی صاحب بہت بہت ہی دردناک تجزیہ کیا ہے

نذر حافی
11-12-2012, 08:05 PM
اگر یہ ظلم ہے تو پھر ہم بولتے کیوں نہیں۔۔۔۔