PDA

View Full Version : مذہبی و نسلی اثرات کا اوبامہ کی جیت پر اثر !



گلاب
11-08-2012, 08:39 AM
مذہبی و نسلی اثرات کا اوبامہ کی جیت پر اثر !
بارک حسین اوبامہ بھاری اکثریت سے دوبارہ امریکہ کے صدر بن کر نئی تاریخ رقم کرگئے ۔سوشل میڈیا میں جاری تمام سروے غلط ثابت ہوئے اور کانٹے دار مقابلے کی توقع رکھنے والوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ۔پاکستانی عام عوام اس حوالے سے پہلے بیزار تھے اور ان میں ماضی کی طرح کسی قسم کا جوش و خروش نہیں تھا کہ امریکی صدر کون بنے گا ؟ لیکن امریکہ میں صدارتی انتخابات میں دو وجوہات بڑی قابل ذ کر رہیں جس کا تذکرہ کئے بغیر نہیں رہا جاسکتا ۔امریکی صدر بننے کیلئے بارک اوبامہ نے ایک طرف نسل پرستی کا سہارا لیا تو دوسری جانب مذہبی ایشوز نے بھی امریکی صدر کی سیٹ کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔امریکہ سمیت مغربی ممالک میں رنگ و نسل کے امتیازی سلوک کیسی سے پوشیدہ نہیں ہے ۔ امریکہ میں بھی اس بار کالے رنگت والوں نے اوبامہ کی جیت میں اہم کردار ادا کیا ۔اس کے علاوہ جیت کیلئے ایک اہم ایشو اوبامہ کی جانب سے مسلم ممالک میں امریکہ کی جانب سے فوجی مہم متاثر ہونے کے خدشے کا اظہار بھی تھا ، امریکہ مذ ہبی انتہا پسندی کے بڑھتے ہوا رجحان اور امریکہ مخالف اسلامی تنظیموں کیجانب سے امریکہ عوام کو خوف نے مجبور بنا دیا کہ اگر اوبامہ کے بجائے روٹ منی امریکی صدر منتخب ہوا تو ممکن ہے کہ امریکہ عراق ، افغان جنگ سمیت ایران ، شام اور مشرق وسطی میں بر سرپیکار قوتوں کے خلاف حکمت عملی میں رخنہ پیدا ہوسکتا ہے یہی وجہ ہے کہ امریکی عوام کو اس بات کا احساس دلایا گیا کہ اگر امریکہ کو تحفظ دینا ہے تو باارک اوبامہ کی شکست سے امریکہ مخالف مذہبی رجحانات رکھنے والی تنظیموں کے خلاف حکمت عملی متاثر ہونے سے شدت پسندوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے ۔اب تک جتنے بھی امریکی انٹرویوز اور سروے امریکی عوام کے رجحانات جاننے کے لئے کئے گئے اس میں بنیادی اہم نکتہ یہی تھا کہ دہشت گردی کے خلاف اوبامہ کی کوشش کو مزید موثر بنانے کے لئے مزید چار سال کا وقت دینا ناگزیر ہے۔اوبامہ اپنے سابقہ دور میں امریکہ کی معیشت کی بحالی، روزگار کی فراہمی سمیت کسی بھی اہم ایشو پر قابل ذکر کامیابی حاصل نہیں کرسکی تھی اس لئے مذہبی انتہا پسندی کے حوالے سے امریکی عوام کے گرد پھیلائے جانے والے خوف کا فائدہ اٹھایا گیا ۔ جس میں خاص طور پر عراق میں امریکی فوجیوں کا شیعیت کی جانب رجحان نے امریکی انتظامیہ کو پریشان کر رکھا تھا۔حالاں کہ امریکہ میں سب سے بڑا مسئلہ بے روزگاری کا ہے جس میں آٹھ فیصد اضافے کے ساتھ سولہ کھرب ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچ چکا ہے۔آنے والے حتمی نتائج میں یہ نمایاں نظر آئے گا کہ اوبامہ کی جیت میں لاطینی امریکی عوام اور ہسپانوی برادری نے اہم کردار کیا جو نسلی بنیادوں پر ووٹ حاصل کرنے کا اہم ذریعہ بنا۔نسلی بنیادوں کے ساتھ ساتھ ایران ، اسرائیل اور افغانستان جہاں امریکی میڈیا میں امیدواران کے درمیان اہم مباحثوں کا حصہ رہے تو سب اہم بات پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو امریکی کی سلامتی کے حوالے سے شدت پسندوں کی روز بہ روز بڑھتی قوت سے عوام کو خوفزدہ کیا گیا ۔ دنیا کی سپر پاور کے انتخابی نظام میں خامیاں اور فرسودہ نوعیت خاص طور پر نمایاں ہے اس بات کے خدشے کا اظہار کیا جارہا ہے کہ 2000ء کی اس بار بھی امریکہ میں صدارتی انتخابات کے نتائج کو صحیح انداز میں سامنے نہیں لایاجائے گا ۔امریکی انتخابات میں عوام براہ راست صدر کو منتخب نہیں کرتے بلکہ اس انتخابات کا انحصار بھی ان 9ریاستوں اور دو یا تین ریاستوں پر ہی منحصر تھا جو صدارتی انتخابات کے حوالے سے فیصلہ کن نتائج دیتے امریکہ آبادی کے بجائے اپنے 538ممبران کو الیکٹرورال کولیج نظام کے تحت منتخب کرتی ہے الیکڑورال کولیج کی تعداد ہر ریاست کی نمایندگی کرنے والے سینتروں اور کانگریس کے ممبران کے تعداد پر منحصر ہوتی ہے ۔ ان دونوں امیدواران کی ریٹنگ میں جو فرق تھا اس کی وجہ ان 9ریاستوں کے باشندوں کے حوالے سے تھا جس کی سرگرم کوشش کی گئیں۔ ان ریاستوں میں کل ملا کر امریکہ کے باشندوں کا 22فیصد آباد ہے مطلب78فیصد باشندوں کو نظر انداز کیا جاچکا تھا۔ماضی میں تذبذب میں مبتلا ریاستیں ہمیشہ سے موجود تھیں لیکن ان کی تعداد کبھی بھی 15سے20سے کم نہیں رہی لیکن اب امریکی نظام کے تحت محض دو یا تین ریاستیں ہی امریکہ کے صدر کی تقدیر کا فیصلہ کردیتی ہیں۔امریکی مسلمانوں کے تمام تر جذبات امریکہ کی خارجہ پالیسی کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں اور ان کا رجحان بھی امریکی پالیسی سازوں کے مطابق تعین کردہ ہوتا ہے۔ کچھ حلقے امریکہ میں مسلمان ووٹوں کو کافی اہمیت دیتے ہیں اور کچھ حلقوں کے نزدیک چونکہ مسلمان سیاسی طور پر تر بتر ہیں اور ان کا اپنا بلاک نہیں ہے اس لئے جو بھی اقلیت ووٹ ہے وہ اہمیت رکھتا ہے اور اس کا دینے والا ڈیمو کرٹیک پارٹی کا ووٹر بنتا ہے۔جبکہ سفید فام اور مقامی اکثریت کا رجحان ری پبلکن کی جانب ہوتا ہے ہسپانوی ، یا لاطینی مریکی ، خواتین ، ہن جنس پرست یا سینئر عمر رسیدہ افراد ، نئے امریکی یہ سب زیادہ تر ڈیموکرٹیک کو ہی ووٹ دیتے ہیں ، یہی بنیادی اسباب میں ایک اہم سبب اوبامہ کی فتح کے لئے نکلا ان تمام اعداد و شمار سے قطع نظر یورپ سمیت تمام مغربی ، مشرق وسطی اور مشرقی ممالک نے اوبامہ کے دوبارہ صدر بن جانے پر اپنے اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔یورپ کی زیادہ تر مملکتیں اوبامہ کے دوبارہ صدر بننے پر اطمینان کی سانس لے رہی ہے ۔حسب سابق چین نے بھی اس بار اپنی توجہ اپنی مملکت کے استحکام اور پرائے پھڈوں میں ٹانگیں اڑانے سے بچائی رکھیں۔چین تجارتی طور پر دونوں امیدواران کے لئے اہمیت حامل تھا ۔ لیکن امریکہ کی جانب سے چین کی ترقی کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا گیا بلکہ بیجنگ کو لگام دینے کیلئے اور اس پر نظر رکھنے کے لئے ہی گریٹ گیم کی پالیسیوں میں چین پر نظر رکھنا پہلی ترجیح رہا ہے۔افغانستان کے حوالے سے تمام افغانی عوام کی ایک مشترکہ سوچ ہے کہ امریکہ اپنی نیٹو افواج کے ساتھ جلد از جلد ان کی سر زمین سے اپنی افواج کا انخلا شروع کردے اس ضمن میں حالیہ خبر یہی آئی ہے کہ نیٹو ممالک سے پاکستان امریکہ کی طرز کا معائدہ کر رہا ہے جس میں نیٹو ممالک اپنے افواج کو سامان کی ترسیل کے علاوہ انخلا میں بھی پاکستان کی سرزمیں استعمال کرسکیں گے۔لیکن اس میں ہتھیار لے جانے پر پابندی ہوگی۔ایران ہمیشہ امریکہ کا شدید ترین مخالف رہا ہے اس کے نزدیک بھی بارک اوبامہ کے دوبارہ صدر بن جانے کے باعث جنگ کا خدشہ فی الحال موجود نہیں ہے چونکہ صدر اوبامہ ایران کے جوہری ارادوں کے حوالے سے مذاکرات کا نیا دور شروع کرنا چاہتا تھا جو ایران کے لئے زیادہ قابلِ قبول ہوگا۔پاکستان کی عوام سے ہٹ کر پاکستانی اسٹیپلشمنٹ ہمیشہ ری پبلکن حکومت کے ساتھ اچھے تعلقات رہے ہیں ڈیموکرٹیک پارٹی کی جانب سے ہمیشہ پاکستان کے جوہری ہتھیار ، جمہوریت سمیت دیگر اہم معاملات پر معاملات سرد مہری کا شکار رہے ہیں ۔اس لئے اوبامہ کی جانب سے پاکستان پر دباؤ کی پالیسی میں مزید اضافہ ممکن ہوسکتا ہے کیونکہ اب تک پاکستان کے ساتھ اوبامہ حکومت کے تعلقات اچھے نہیں رہے ہیں اور امریکہ بھی اس بات کو سمجھتا ہے کہ ایسے پاکستان کے حوالے سے اپنی پالیسی کو کس قدر مبہم رکھ کر پاکستان کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنا ہے۔پاکستان میں امریکی انتخابات کا یہ اثر نمایاں ہوگا کہ پاکستان کے آئندہ الیکشن بھی مذہبی ، لسانی بنیادوں پر ہونگے۔جب امریکی صدر کا جیت کیلئے مذہبی و نسلی جذبات کا اثر پاکستان پر براہ راست ہوگا۔

بےباک
11-16-2012, 12:31 PM
شکریہ ، بہت اچھی خبر شئیر کی ۔۔

pervaz khan
11-16-2012, 02:13 PM
اچھی شئیر نگ ہے شکریہ ۔۔