PDA

View Full Version : گل مکئی ملالا یوسف زئی کی سوچ ایک تحریک بن گی – 10 نومبر یوم ملالہ



سید انور محمود
11-10-2012, 08:45 AM
از طرف: سید انور محمود
گل مکئ کو تعلیم سے کسقدر محبت ہے اسکا ثبوت یہ ہے کہ جب اُسکو ہوش آیا تو سب سے پہلے اُس نے سوال کیاکہ" اُس کی کتابیں کہاں ہیں"؟ اُسکے والد یہ بات ایک پریس کانفرنس میں روتے ہوئے بتارہے تھے۔ 9 اکتوبر کو جب شقی القلب طالبان دہشت گردوں نے ملالا پر حملہ کیا تو انہوں نے اوران کے حواریوں نے سوچا بھی نہ ہوگا کہ ایک معصوم بچی پر ہمارا شرمناک حملہ اُس کی سوچ کو ایک تحریک میں بدل دیگا ، 10 نومبرکو اقوام متحدہ کے تحت پوری دنیا میں یوم ملالا منایا جاے گا جس میں کہا جاے گا "میں ملالاہوں" جس کا مطلب ہوگا تعلیم سب کا حق ہے- شقی القلب طالبان دہشت گردکیا جانے کہ تعلیم کی اہمیت کیا ہوتی ہے، ملا عمر جو ان دہشت گردوں کا امیرالمومینین ہے اسکی دینی مدرسہ کی تعلیم نا مکمل ہے ہاں دہشتگردی اور بزدلی کی پوری پوری ٹرینگ ہے- جب امریکہ نے حملہ کیا تو یہ بزدل سایئکل پر بیٹھ کر ایسا بھاگا کہ آج بھی منہ چھپائے پھرتا ہے، مگر اس بزدل کی سایکل پربھاگنے کی اطلاع بھی امریکی سیٹ لایٹ سے ملی، اب امریکہ کہتا ہے ملا عمر کا پتہ نہیں امریکہ کو جب اس سے کام نہیں لینا ہوگا پھر امریکہ کو پتہ چل جایگا کہ وہ کہاں ہے- ان کا بڑا استاد دہشت گرد اوسامہ بن لادن بھی منہ چھپائے چھپائے پھرتا تھا- کب مرا کسی کو نہیں معلوم مگر امریکہ نے اپنے اس ایجنٹ کو اپنے حساب سے مارا یعنی جب تک فاہدہ تھا مارنے کے باوجود نہیں مارا اور جب امریکی مفاد ختم ہوا ایبٹ آباد کا ڈرامہ رچادیا۔ امریکی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ اس طرح کے ڈرامے پہلے بھی دوسرئے ملکوں میں کرچکا ہے- پاکستان میں کوئی کمبخت ہوگا جوڈرون حملوں کا حامی ہو، کیونکہ اس میں دہشت گرد طالبان نہیں مرتے بلکہ ان حملوں میں صرف بےگناہ عام لوگ مارے جاتے ہیں، جن میں معصوم بچے اور عورتیں بھی شامل ہیں۔ اب اس سوال کا جواب تو قاضی حسین احمد ہی دے سکتے ہیں کہ ڈرون حملے تو طالبان پر کیے جاتے ہیں پھر عام لوگ کیوںمرتے ہیں۔ کیونکہ جب سے طالبان دہشت گردوں نے ملالا پر حملہ کیا ہے وہ طالبان کی وکالت میں تین مضمون روزنامہ جنگ میں لکھ چکے ہیں- قاضی صاب نے ملالا پر حملے والے دن ہی فرمادیا تھا اس بچی کو استمال کیا گیا ہے- جنرل مشرف جنہوں نے ہمیشہ الیکشن جیتنے پر صرف قاضی صاب کو مبارکباد دی اور ہمارے صدر زرداری کو یہ بات ضرور بری لگی ہوگی کہ جو کام ہم نے کیا یا ہم کررہے ہیں وہ قاضی صاب ملالا کے کھاتے میں کیوں ڈال رہے ہیں- ویسے قاضی صاب یہ انٹرنیٹ کا دور ہے، اورپاکستان کے لوگوں کی یاداشت بھی اتنی کمزور نہیں کہ وہ بھول گے ہوں کہ 1979 میں روس کے آنے کے بعد ضیا الحق کی بی ٹیم آپکی جماعت ہی تھی جو امریکوں کے حکم سننے اور انہیں پورا کرنا اپنا عین فرض سمجھتی تھی، بس فرق اتنا ہے کہ اُس وقت ضیاالحق کے ماموں جان میاں طفیل محمد امیر جماعت اسلامی تھے، دونوں ہاتھوں سے ڈالر آپ کی جماعت نے لوٹے۔ آپکو یاد ہوگا کہ مرحوم ولی خان نے کئی بار اس بات کا شکوہ بھی کیا تھا کہ ان کے صوبے میں جو کچھ کیا جارہا اسکے قریب انکو نہیں جانے دیا جاتا ہے۔ آج افغانستان اور پاکستان میں خیبر سے کراچی تک طالبان دہشت گردوں کے ہاتھ خون میں ڈوبے ہوئے ہیں اور اس سارے خون کی ذمدار جماعت اسلامی اور دوسری مذہبی جماتیں ہیں جو مذہب کو اپنے ناپاک ارادوں کیلیے استمال کرتی ہیں- طالبان دہشت گردوں نے ملالا پر حملہ کیا وہ اور انکے حواری اس کو اپنی روزانہ کی دہشت گردی کا حصہ سمجھ رہے تھے جس کے زریعے وہ وزیرستان اور خیبر پختون خواہ کو خصوصی اور پورے پاکستان کو عمومی طور پر ہراساں کرنے کےلیے کرتے ہیں-مگر بقول ملالا کے والد کے گولی لگنے سے ملالا تو گری مگر پوری پاکستانی قوم کھڑی ہوگی اور دوسرے دن خیبر سے کراچی تک لاکھوں بچیوں نے ملالا کی تصویریں ہاتھوں میں اٹھاکر طالبان دہشت گردوں کو یہ پیغام دیا کہ ہم سب ملالا ہیں جس کا مطلب صاف ہے کہ اس ملک میں تعلیم سے محبت کرنے والی ہر بچی گل مکئی ملالا یوسف زئی ہے-

اقوام متحدہ کے عالمی تعلیم کے لئے خصوصی ایلچی گورڈن براؤن کے مطابق 10 نومبر کو ملالا کا دن ہوگا اور صرف یہ الفاظ کہے جایں گے "میں ملالا ہوں" یہ صرف الفاظ نہیں ہیں بلکہ یہ تعلیم کے فروغ کے لئے ایک نعرہ اور علامت بن گئے ہیں. ملالا کا دن کا مقصد ہے کہ دنیا میں 32 ملین لڑکیوں کی تعلیم کے حق کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہے۔ اب گل مکئی ملالا یوسف زئی کی سوچ ایک تحریک بن گی ہے، اور جب کوئی سوچ تحریک بن جائے تو پھر اسکو کوئی نہیں روک سکتا-

خاک ہوا دہشت کا مسکن اور ملالہ جیت گئی
ہار گئے ہیں امن کے دشمن اور ملالہ جیت گئی

دعا ہے کہ گل مکئی ملالا یوسف زئی جلد صحتیاب ہوکر پاکستان واپس لوٹے- آمین