PDA

View Full Version : کیا پاکستان کو 1971 کے واقعات پر بنگلہ دیش سے معافی مانگنی چاہیے؟



سید انور محمود
11-11-2012, 09:16 AM
از طرف: سید انور محمود

وا ئس آف امریکہ VOA کے مطابق جمعہ 9 نومبر کو پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کے دورہ بنگلہ دیش کے موقعہ پر بنگلہ دیش نے ایک بار پھر اس مطالبے کو دہرایا ہے کہ پاکستان 1971ء میں ملک کی تقسیم کے وقت پیش آنے والے واقعات پر ڈھاکہ سے باضابطہ طور پر معافی مانگے۔ بنگلہ دیش کی وزیرِ خارجہ دیپو مونی نے یہ مطالبہ جمعے کو اپنی پاکستانی ہم منصب حنا ربانی کھر کے ساتھ ڈھاکہ میں ہونے والی ملاقات کے دوران کیا۔

پہلے مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان ملک کے دو صوبے تھے۔ سابقہ مشرقی پاکستان اور حالیہ بنگلہ دیش میں آج بھی پچیس فیصد سے زیادہ آبادی ہندوں کی ہے ان ہندوں میں سے اکثریت آج بھی ہندوستان کی وفادار ہے، پاکستان بننے کے بعد مشرقی پاکستان میں یہ پروپگنڈا عام تھاکہ مغربی پاکستان ان کو لوٹ رہا ہے، اتفاق سے تھوڑے عرصے بعد ہی پاکستان کے سیاسی حالات بھی اچھے نہ رہے اور ہندوستان کو اپنا کھیل کھیلنے کا پورا موقعہ ملتا رہا- ایوب خان نے 1960 میں اعظم خان کو مشرقی پاکستان کا گورنر بنایا، جنرل اعظم خان ایک فوجی ہونے کے ساتھ ساتھ سادہ اور کھرا انسان تھا۔اُس کا تعلق مشرقی پاکستان کے عوام کے ساتھ اپریل 1960 سے لے کر مئی 1962 تک محض دو سال رہا۔ اعظم خان نے گورنر کا عہدہ سنبھالنے کے تھوڑے ہی عرصہ بعد اپنی موجودگی ظاہر کرنا شروع کر دی۔اُس وقت جب حکمرانوں کی گاڑیوں کے لیے سڑکیں خالی کروا لی جاتی تھیں ۔تب اُ س نے نہ صرف عوامی جگہوں پر عوام کی طرح پھرنا شروع کر دیا بلکہ اپنی تمام تر سیکیورٹی ختم کر دی۔ اعظم خان نے وہاں حالات کو اسقدر اچھا کردیا کہ عام لوگ اعظم خان کو پسند کرنے لگے- خوشامدیوں نے اعظم خان کے خلاف ایوب خان کے کان بھرے، ایوب خان اعظم خان کی شہرت کو اپنے لیے خطرہ سمجھنے لگا اسلیے مئی 1962 میں اعظم خان کو واپس مغربی پاکستان بُلا لیا۔ 1962 تک کی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ مشرقی پاکستان میں پاکستان سے علیدگی کا کوئی تصور نہیں تھا- ایوب خان نے غلام فاروق کو تھوڑے عرصے گورنر بنانے کے بعد عبدالمنعم خان کو اکتوبر 1962 میں مشرقی پاکستان کا گورنر بنایا- عبدالمنعم خان 23 مارچ 1969 تک مشرقی پاکستان کا گورنر رہا-گورنرعبدالمنعم خان جو خود بنگالی تھا مگر اسکے ظلم کی داستان آج بھی بنگالیوں کو یاد ہے-

شیخ مجیب الرحمٰن 1947میں پاکستان بننے کے فوراً بعد مسلم لیگ سے مستعفی ہو کر پاکستان مسلم اسٹوڈنٹس لیگ قائم کر کے اردو کی مخالفت کرنا شروع کردی جس سے صاف ظاہر تھا کہ شیخ مجیب شروع ہی سے مسلم قومیت کے بجائے بنگالی قومیت کا علمبردار تھا اور اس نے مسلم لیگ کے بہت سے دوسرے رہنماؤں کی طرح مسلم لیگ کا ساتھ محض اس لیے دیا کہ وہ اس زمانے میں مقبول تحریک تھی۔ اور اس میں شامل ہو کر اقتدار حاصل کیا جا سکتا تھا۔ 1952ء میں جب حسین شہید سہروردی نے عوامی لیگ قائم کی تو شیخ مجیب نے اس کی تشکیل میں حصہ لیا۔ 1956میں آئین کی تیاری میں بھی اُس نے حصہ لیا لیکن اس آئین میں صوبائی خود مختاری کی جو حدود مقرر کی گئی تھیں شیخ مجیب اس سے متفق نہیں تھے- 1965 کی پاک بھارت جنگ کے بعد بھارت نے مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب کے زریعے مشرقی پاکستان کو علیدہ کرنے کی سازشیں تیز کردیں۔ 1966 میں پہلی مرتبہ نیشنل کانفرنس لاہور کے اجلاس میں چھ نکات پیش کیے۔ شیخ مجیب کے چھ نکات یہ تھے ۔
۱- قرار داد لاہور کی روح کے مطابق آئین سازی کی جائے۔
۲- وفاق کے پاس صرف دفاع اور خارجہ امورکے محکمے ہوں باقی معاملات وفاقی اکائیوں کے سپرد کئے جائیں۔
۳- جداگانہ مالی پالیسی اختیار کی جائے اور مشرقی پاکستان کی کرنسی الگ ہو
۴۔ وفاق کو ٹیکس لگانے اور آمدن جمع کرنیکااختیار نہیں ہوناچاہیے۔
۵- مشرقی اور مغربی پاکستان کے تجارتی حسابات علیحدہ علیحدہ ہوں۔
۶- مشرقی پاکستان کو اپنے نیم فوجی دستے رکھنے کا مکمل اختیار ہوناچاہیے۔

مجیب الرحمن کو اپنی انتہا پسندانہ سرگرمیوں اور اگرتلہ سازش کے الزام میں مئی 1966ء میں گرفتار کیا گیا لیکن فروری 1969ء میں گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے بعض سیاسی رہنماؤں کے دباؤ ڈالنے پر اُس کو رہا کر دیا گیا اور مقدمہ واپس لے لیا گیا۔ دسمبر 1970 میں جب پاکستان کے عام انتخابات ہوئے تو شیخ مجیب کی عوامی لیگ نے 162 امیدوار کھڑے کیے، جن میں سے 160 کامیاب ہوئے، یہ ایک ناقابل یقین نتیجہ تھا- شیخ مجیب نے مغربی پاکستان سے ایک بھی سیٹ نہیں جیتی تھی جبکہ بھٹو کی پیپلز پارٹی نے مغربی پاکستان میں 81 سیٹیں جیت کر مغربی پاکستان میں اکثریت حاصل کی تھی مگر مشرقی پاکستان سے اُنکی بھی کوئی نمائیدگی نہیں تھی- شیخ مجیب نے پاکستان کا نیا آئین چھ نکات کی بنیاد پر بنانے کا اعلان کیا جب صدر یحییٰ خان نے دستور ساز اسمبلی کا اجلاس طلب نہیں کیا تو مارچ 1971ء میں مجیب الرحمن نے عدم تعاون کی تحریک شروع کر دی جس کی وجہ سے 25 مارچ 1971ء کو فوج نے ان کو گرفتار کر لیا اور مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی شروع کر دی۔ 16 دسمبر 1971 کو جب یہ کارروائی ناکام ہو گئی اور ڈھاکہ میں پاکستانی فوجیوں نے مجیب الرحمن کی حمایت میں لڑنے والے بھارتی فوجوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تو عملی طور پر بنگلہ دیش کا وجود عمل میں آیا-

پاکستانی وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر کا سادہ سا جواب تھا "یہ وقت ماضی بھلا کر دونوں قوموں کی ترقی کے لیے آگے بڑھنے کا ہے"۔ مگر ایک پاکستانی ہونے کے ناطے بنگلہ دیش کو ہمارا جواب بہت سادہ سے ہے کہ:
“اسے کہتے ہیں الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے- 1970 کے عام انتخابات کے بعد عوامی لیگ نے اس وقت کے مشرقی پاکستان کے جو برے حالات کردیے تھے اس بات کا علم ساری دنیا کو ہے، عوامی لیگ اپنے چھ نکات کو پونے چھ نکات کرنے پر تیار نہیں تھی ، چھ نکات کا مطلب پاکستان کے چھ ٹکڑے کیونکہ مغربی پاکستان اب ون یونٹ کے خاتمے کے بعد چار صوبوں میں بدل چکا تھا، اسکے علاوہ کشمیر تو چھ نکات تسلیم کرنے کا مطلب پاکستان کو ختم کرنا تھا۔ افواج پاکستان تو ہمیشہ سے وہاں موجود ہوتی تھی اور مشرقی پاکستان اس وقت پاکستان کا حصہ تھا لہذا جب سول نافرمانی کا اعلان ہوا تو افواج پاکستان کو حرکت میں لانا پڑا۔ جو قانون شکن تھے ان کے خلاف کارروائی لازمی ہے۔ اس لیے یہ کہنا کہ پاکستان کی افواج نے بنگلہ دیشیوں کی نسل کشی کی سرے سے غلط ہے۔ پاکستانی افواج اس وقت اپنے ملک کا دفعاع کررہی تھی اور غداروں کی سرکوبی کررہی تھی۔ ابھی تھوڑے عرصے پہلے پاکستانی افواج سوات میں طالبان دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کر رہی تھی یا اب بھی وزیرستان میں ملک کا دفعاع کررہی ہے تو کیا وہ کسی کی نسل کشی کررہی ہے۔ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کیسے بنا اور کس کی مدد سے بنا یہ ساری دنیا جانتی ہے۔ البتہ بنگلہ دیش بننے کے بعد عوامی لیگ کی حکومت نے وہاں آباد غیر بنگالیوں کے اوپر نہ صرف ظلم کیے بلکہ ان کی نسل کشی اب تک جاری ہے اس پر بنگلہ دیش کو ان سے معافی مانگنی چاہیے- ایک آخری بات کہ پاکستانی افواج بنگلہ دیش بننے کے بعد کبھی بنگلہ دیش میں داخل ہی نہیں ہوئی تو معافی کس بات کی“۔

محمداشرف يوسف
11-20-2012, 02:30 AM
بنگلہ دیشی وزیر خارجہ محترمہ دیپو مونی —
محترمہ دیپو مونی صاحبہ! معاف کیجیے ہم آپ سے معافی نہیں مانگ سکتے۔

وجہ یہ نہیں کہ ہم اب بھی آپ کو مچھلی چاول کھانے والا پانچ فٹا بنگالی سمجھتے ہیں اور نہ ہی یہ کہ ہم اب بھی آپ کی نسل بدلنے کا ارادہ کہیں دل میں چھپائے بیٹھے ہیں۔ آپ تو خود وزیر خارجہ ہیں جانتی ہیں کہ دنیا بدل رہی ہے۔

ساتویں بحری بیڑے والوں سے ہمارے رومانس کے زمانے لد چکے۔ خلیج بنگال ہم بھول بھال گئے۔ وہ بھی اب بحیرہ عرب میں آتے ہیں اور ہمارے سر پر سے ان کے وفد اور میزائل شوں شوں کرتے افغانستان پر نازل ہوتے ہیں۔ آج کل تو ہم ڈر رہے ہیں کے انہی بیڑے والوں کی زمینی فوج ہمارے گھر نہ گھس آئے۔

دال سبزی کھانے والوں سے آپ نے ہمارے ہزار دفعہ کہنے پر بھی دوستی نہیں چھوڑی اس کا شکوہ تو ہے لیکن معافی نہ مانگنے کی وجہ یہ بھی نہیں کہ اب تو ہم نے خود انہیں آلو پیاز بھجوانے شروع کر دیے ہیں۔

آپ سے معافی مانگنے میں ہمیں اور تو کوئی اعتراض نہیں مگر ہمارا آپ کا خطہ روایت پرست لوگوں کا گھر ہے۔ ایک معافی سے یہ ریت چل نکلی تو ہم کیا کریں گے کس کس سے معافی مانگتے پھریں گے۔

لوگوں کی زبان کون پکڑ سکتا ہے۔ کل کلاں ہمارے سابقہ امیر المومنین ملاّ عمر نے کسی غار سے کوئی ای میل لکھ ماری کے صاحب پہلے تم نے تخت پر بٹھایا پھر تختہ کروا دیا اس پر معافی مانگو تو؟

ادھر امریکہ کو بھی بہت غصہ ہے۔ آپ تو جانتی ہیں کہ ان سے ہمارے معافی کے کھاتے چلتے ہیں۔ کبھی ہم سرد جنگ کے بعد افغانستان چھوڑنے پر معافی مانگنے کو کہتے ہیں کبھی گرم جنگ کے بعد افغانستان نہ چھوڑنے کے ارادے پر معاف نہ کرنے کی دھمکی دلواتے ہیں۔ ابھی سلالہ پر بھی ہم نے ان سے معافی منگوائی تھی۔ سو اگر انہوں نے بدلہ لینے کو ایبٹ آباد کا قصّہ چھیڑ دیا تو کیا ہو گا۔ پہلے بڑی مشکل سے ڈاکٹر صاحب کی گردن دے کر جان چھڑائی تھی اب کیا کریں گے۔ اسامہ وہ خود لے گئے ورنہ ہم نے کئی معافیوں کی ایک معافی سنبھال رکھی تھی کسی مشکل وقت کے لئے۔

ہندوستان تو ہے ہی دشمن کمبخت ہمارے حکومت کو جانے کیا ہوا کہ اس نے بھی مان لیا کہ ممبئی پر حملے ہم پاکستانیوں نے کئے تھے اب ہندوستان سے بھی معافی مانگیں گےکیا!؟ وہ تو خالی خولی معافی پر رضامند بھی نہیں ہو گا۔ اس کی نظر بہت عرصے سے ہماری مدر ٹریسا، حافظ سعید پر ہے۔ ارے وہی جو فلاحی کاموں کے لئے لشکر ترتیب دیتے رہتے ہیں۔ حالانکہ انہوں نے تو کب کی توبہ کرلی کشمیر میں ہندوستانی فوجییوں کے سری پائے بنانے سے، اب تو صرف پہلے سے ذبح شدہ جانوروں کی وردیاں اکھٹی کرتے ہیں۔

ادھر چین نے کوئی چالیس مجاہد ہم سے مانگے ہوئے ہیں جو سنکیانگ میں اسلام کی خدمت کرتے کرتے تھک گئے تھے تو ہجرت کرکے شمالی وزیرستان میں آرام کر رہے ہیں۔ اگر اس نے بھی ان چالیس کے ساتھ ایک معافی کا مطالبہ کر دیا تو۔ خیر اپنا دوست ہے سب کے سامنے ہاتھ نہیں جڑوائے گا اکیلے میں سوری شوری پے مان جائے گا لیکن ہے تو سبکی ہی۔

وہ کرزئی بھی بہت بپھرا ہوا رہتا ہے اسے بھی موقع مل جائے گا۔ اپنا ملک سنبھال نہیں سکتا ہر الزام ہمسایوں پر دھر دیتا ہے۔ ہم نے کبھی ایسا کیا۔ وہ بھی کسی سفارت خانے، کسی فوجی اڈے پر حملے کا ٹانکا جوڑ دے گا ہم سے۔ اور پھر وہی معافی۔ نا بابا نا یہ نہیں ہو گا ہم سے۔

شکر ہے ایک طرف بحیرہ عرب ہے وہ کم سے کم معافی مانگنے کا تو نہیں کہے گا۔ ملکوں کی تو چلو اور بات ہے آپ لوگوں کے مرنے پر ہی معافی منگوانا چاہتی ہیں نا۔ ارے آپ سے مانگ لی تو یہ بلوچ پختون سندھی سرائیکی سب کھڑے ہو جائیں گے۔ یہ آپریشن وہ آپریشن، اس پر معافی، اس کی تلافی، کیا کیا کریے گے ہم جانے دیں، دو تین ملین لوگ ہی تھے نا رہنے دیں دفع کریں۔

سید انور محمود
11-20-2012, 05:17 PM
از طرف: سید انور مھمود

ہندوستانی ایجنٹ دیپو مونی! غدار بنت غدار حسینہ واجد کی کابینہ کی بنگلہ دیشی وزیر خارجہ معافی مانگ سکتے ہیں مگر کب؟

معافی کےلیے تمیں انتظار کرنا ہوگا جب تک پاکستان میں دہشت گرد وں کے سابقہ امیر المومنین ملاّ عمر، سید منور حسن اور فضل الرحمان جیسے لوگوں کی حکومت نہ بن جائے۔ خالی تماری غدار کی بیٹی شیخ حسینہ واجد سے ہی نہیں بلکہ خالدہ ضیا سے بھی کیونکہ غدار مجیب کے بعد اس کے شوہر جنرل ضیا کا ہی نمبر ہے، تمیں شاید یاد نہ ہو مگر ہمیں یاد ہے چاٹگانگ ریڈو اسٹیشن پر قبضہ کرکے غدار جنرل ضیا نے ہی سب سے پہلے بنگلہ دیش کی آزادی کا اعلان کیا تھا- تم فکر مت کرو ہمارے ہاں بھی ایک جنرل ضیا تھا، جماعت اسلامی اسکی بی ٹیم تھی، 1979 سے دونوں نے اپنے آقا امریکہ کے حکم پر اتنے دہشت گرد پیدا کیے اور باہر سے منگوالیے کہ اب پاکستان میں سب سے زیادہ اگر کوئی مقبول ہیں تو یہ دہشت گرد ہی ہیں، پھر تماری خوش قسمتی اور پاکستان کی بدنصیبی سے یہاں مجیب کے بھائی بہت ہیں، صادق اور جعفر ان کے مقبول ہیرو ہیں کیونکہ ٹیپو سلطان اور نواب سراج ادولہ غلطی پر تھے اور تو اور ان کی نظرمیں قائد اعظم غلط تھے اور مولانہ آزاد درست تھے، آخر مولانہ آزاد اور آپ تو بہن بھائی ہوئے، دونوں ہندوں کے عزیز ہیں، پھر آپ کو پتہ ہوگا کہ آزاد کے دوسرے ملا بھائی برٹش انڈیا میں اپنے مائی باپ ملکہ اور بادشاہ کو غلامانہ سپاس نامے پیش کرتے رہے ہیں۔ تو بس انتظار کرو کہ یہ کب حکومت میں آتے ہیں، ویسے آپس کی بات ہے تمارے لیے اور اپنے ان دوستوں کےلیے بھی جو تمارے ہمدرد ہیں کہ یہ خواب دیکھنا چھوڑ دو۔ مجیب کل بھی غدار تھا اور آج بھی اور ہمیشہ ایک سچے پاکستانی کی نظر میں غدار ہی رہے گا-

------------------------------------------
نوٹ : مجیب کے ہمدردوں کےلیے ان کے ہی حامی اخبار امت کا ایک مضمون یہاں اٹییچڈ ہے، دوسرئے ایک اور تصویر ملا ہندوُ گٹھ جوڑ کی بھی حاضر ہے-

سید انور محمود
11-20-2012, 05:49 PM
از طرف : سید انور محمود

یہ تصویر اوپر کے جواب کا حصہ ہے۔