PDA

View Full Version : کراچی میں بدامنی کے اسباب۔ صدرکی بےحسی، گورنر کی خاموشی اور وزیراعلی کی نااہلی



سید انور محمود
11-14-2012, 11:10 PM
از طرف: سید انور محمود

یوں تو کراچی میں خونریزی کو دو دہایوں کا عرصہ ہوگیا ہے مگر موجودہ حکومت کے آنے کے بعد اس میں جس خوفناک طریقے سے اضافہ ہوا ہےکہ الاامان۔ اس کی وجہ ملک کے صدر کی بے حسی ہے، جو ظلم اس کراچی میں ہورہاہے، جس بیدردی سے یہاں انسان بےموت مررہے ہیں اسکا ذمدار ملک کا سربراہ ہی ہوگا- آج بھی کراچی کے مسلئے پر زرداری نے کہا " کراچی کے خراب حالات ریاست کی ناکامی نہیں ہے،کراچی میں حالات خراب کرنادہشت گردوں کی حکمت عملی کاحصہ ہے،تاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کوکمزور کیا جاسکے"۔ صوبہ کےگورنر ڈاکٹر عشرت البعاد صرف مذمت کرتے ہیں اورلیکن کراچی کے حالات پر ان کی خاموشی سب پر عیاں ہے۔ باقی رہے وزیراعلی تو وہ اسقدر نااہل ہیں کہ کل ایک بیان میں ان نااہل وزیراعلی نے کہا " کراچی میں امن وامان کی صورتحال اتنی خراب نہیں جس قدر میڈیا اور اخبارات میں پیش کی جارہی ہے"- صوبہ کا وزیراعلی چونکہ نااہل اسلیے وہ اپنی ذمداری پرپوری کرنے سے قاصر ہیں-

روشنیوں کا شہر کہلانے والا یہ شہر جو کبھی قائد اعظم کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا اب یہ شہر دنیا بھر میں قاتلوں ، دہشت گردوں اور بھتہ خوروں کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ پہلے لوگ مزار قائد کو کراچی کی پہچان کہتے تھے، مگر اب کٹی پہاڑی، قصبہ و بنارس، اورنگی، کورنگی، چکرا گوٹھ، لیاری وغیرہ سے ہوتی ہے۔ آج کراچی میں امن کا مطلب ایک لاش کی خبر کے بعد دوسری لاش کی خبر آنے تک کاوقفہ ہے۔ 2008 میں پیپلز پارٹی نے مرکز اور سندھ میں اپنی حکومت بنائی جہاں 2008 سے ابتک ایم کیو ایم اور اے این پی دونوں اسکی اتحادی ہیں۔ 2008 سے موت کا بازار بجاے کم ہونے کے اور بڑھا ہے۔ 2008 میں کراچی میں 1142 انسانوں کی جان گئی، جبکہ 2009 میں 1083 انسانی زندگیوں کا قتل ہوا، 2010 میں 1485 انسانوں کا قتل ہوا، 2011 میں 1789 انسان قتل ہوئے جبکہ اس سال 2000 کے قریب انسان قتل ہوچکے ہیں۔ مرنے والوں میں سے اکثریت کے گھروالوں کو یہ پتہ ہی نہیں کہ ان کے عزیز کو کیوں مارا گیا ہے-

کراچی میں سیاسی جھگڑوں کے واقعات میں زیادہ تر متحدہ قومی موومنٹ، جماعت اسلامی، عوامی نیشنل پارٹی، پاکستان پیپلز پارٹی اور سنی تحریک ذمدار ہیں، یہ جماعتیں سیاسی اور نسلی جھگڑوں کا حصہ بھی بنیں بلکہ کئی جرائم پیشہ گروہ ایسے ہیں جنہیں ان سیاسی پارٹیوں کی حمایت حاصل ہے۔ کراچی میں درجنوں کی تعداد میں مذہبی گروہ اور عسکری تنظیمیں موجود ہیں ان میں چند عسکری حوالے سے فعال ہیں۔ ان میں لشکرِ جھنگوی، جیشِ محمد، جماعت الفرقان، حرکت المجاہدین، جنڈولہ، لشکرِ طیبہ اور حرکت الجہاد اسلامی قابلِ ذکر ہیں۔ کئی فرقہ پرست تنظیمیں مثلاً سپاہِ صحابہ پاکستان، تحریکِ جعفریہ پاکستان اور سنی تحریک بھی سیاسی محاذوں پر سرگرم عمل ہیں۔ اسکے علاوہ کراچی میں طالبان دہشت گردوں کی ایک کثیر تعداد موجود ہے- اسلام آباد سے ماہانہ تجزیات کی ایک رپورٹ " کراچی میں بدامنی کا شماریاتی جائزہ" کے مطابق "کراچی میں تقریباً 200 گینگ متحرک ہیں جو جرائم کی منظم کارروائیاں کرتے ہیں ان گروہوں میں داود ابراہیم گروپ اور لیاری گینگ نے کراچی کے کمزور انتظامی ڈھانچے کا خوب فائدہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے اپنے آپ کو مضبوط کرنے کے لیے تجارتی حوالے سے بھی اقدامات کیے ہیں۔ تجارتی بنیادوں پر ہونے والی جرائم کی سرگرمیاں عموماً سیاسی پس منظر رکھتی ہیں اور براہِ راست یا بالواسطہ طور پر دہشت گردی سے جڑی ہوتی ہیں۔ ان منظم جرائم نے کراچی کے امن اور سماجی ڈھانچے کے لیے خاصے خطرات پیدا کر دیے ہیں“۔ اسی رپورٹ میں کہا گیا ہے"گارڈن ٹاون کراچی میں واقع اینٹی وایئولینس کرائم سیل کے پولیس سپرنٹنڈنٹ جناب خرم وارث کے بقول یہ گروہ مختلف اقسام کے جرائم میں ملوث ہیں ان کی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ''بھتہ'' ہے۔ قتل و غارت، اغوا برائے تاوان، ڈکیتی، چوری، بھتہ وصولی، جوا، منشیات فروشی، دہشت گردی اور دوسرے جرائم کے مرتکب ان گروہوں کے پیچھے زیر زمین کام کرنے والے بڑے بڑے گروپوں کا ہاتھ ہوتا ہے"۔ کراچی میں جس تیزی سے حالات خراب ہورے ہیں ان کے پیش نظر لوگوں کو ڈر ہے کہ کہیں خانہ جنگی شروع نہ ہوجائے۔کراچی بے حد المناک دور سے گذر رہا ہے اور مسئلے کا کوئی حل بھی سامنے نہیں آتا- قومی حالات کے پش نظر کراچی کی روز بروز بگڑتی صورتحال پورے ملک کے لئے سنگین خطرات کی نشاندہی کرتی ہے۔ مگرحال ہی میں جو شدت اور تواتر آرہا ہے وہ بڑا معنی خیز ہے کیونکہ یہ اہم سوال پیدا ہونے لگاہے کے نازک ترین حالات میں وہ کونسی قوتیں ہیں جو کراچی کو تباہی سے دوچار کررہی ہیں۔ کراچی میں تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے شہری پر اُمن ہیں اور ان کا آپس میں کوئی اختلاف بھی نہیں اور وہ کراچی کو پرسکون دیکھنا چاہتے ہیں لیکن یہ بےحد مشکل اور وقت طلب کام ہے جبکہ تخریب کاری بہت آسان، چند دہشتگرد منٹویں میں خوف وتباہی پھیلا کر غائب ہوجاتے ہیں۔ حکومت کے نیم دلانہ یا جزوی اقدامات سے مسئلہ حل نہیں ہوگا حالات بہتر بنانے کے لئے بڑے کام کرنے ہونگے مثال کے طور پر کراچی میں ہتھیار جہاں سے بھی آتے ہیں ان کو روکنا ہوگا کیونکہ کراچی شہر میں اسلحے کے انبار ہیں شہر کو اسلحے سے پاک کیےبغیر کراچی کی صورتحال تبدیل نہیں کی جاسکتی۔

یہ بات نہیں کہ حکمراں کچھ کرنہیں رہے آخر ڈبل سواری پر پابندی لگاکر مسائل تو حل کررہے ہیں یہ ایسے ہی ہے جیسے کبوتر اگر آنکھیں بند کرلے تو سمجھتا ہے کہ بلی کا خطرہ ٹل گیا ۔ وزیر داخلہ روز جھوٹ بولتے ہیں ، بلکہ بجاے مجرموں کو پکٹرنے کہ روز یہ کہکر ڈراتےہیں کہ دہشت گردی کا خطرہ ہے-سوال یہ نہیں کہ کراچی کے حالات کون خراب کررہا ہے یا کون ذمدار ہے، سوال یہ ہے کہ کیا صدر، گورنر اور وزیراعلی اپنی ذمداری پوری کررہے ہیں۔ بے حس صدر، خاموش گورنر اور نااہل وزیراعلی سے تو اب کوئی امید نہیں کہ وہ کراچی کے حالات کو ٹھیک کرنے میں کوئی کردار ادا کرینگے-تو پھر کراچی میں رہنے والے ہر شخص کو سوچنا ہے کہ کراچی ایک پرامن شہر کیسے بنے۔


___________________________________
اس مضمون کو پڑھنےکا شکریہ آپ سے درخواست ہے لکھیں کہ کراچی کے حالات کیسے ٹھیک ہوسکتے ہیں۔

admin
11-15-2012, 04:46 PM
اگر حکومت کچھ نہیں کرتی تو عوام کے پاس اس کا ایک ہی حل ہے کہ خود ہی اسلحے سے لیس ہو جائیں وہ جانتے تو ہیں کہ اصل لوگ کون ہیں اور کہاں ہیں۔۔۔ وہ لوگ کوئی جن بھوت تو نہیں کہ جو دکھائی نہیں دیتے یا پتھر تو نہیں جن پر کچھ اثر نہیں کرتا۔۔۔۔۔ اگر حکومتی مشینری کام نہیں کرتی تو ایک پرائیویٹ سیلف سکیورٹی نظام اس کا متبادل لایا جا سکتا ہے اسے منظم کیا جا سکتا ہے۔۔۔ بس تھوڑی سی کوشش کی ضرورت ہیں ایسا سکیورٹی نظام پہلے وقتوں میں ہوا کرتا ہے جسے ٹھیکری پہرہ کا نام دیا جاتا تھا۔۔۔۔ میرے خیال میں اب اس نظام کو تھوڑے سے منظم انداز سے پھر واپس لایا جانا چاہیے بس اتنا اضافہ کر دیا جائے کہ ٹارگٹ کلنگ کو کیسے کنٹرول کرنا ہے یہ انہیں سکھا دیا جائے۔۔۔۔۔

شاہنواز
11-16-2012, 01:06 AM
اگر حکومت کچھ نہیں کرتی تو اس کا یہ حل نہیں کہ عوام ہی اسلحہ لے کر نکل جائے یہ تو پھر سول وار کا مسئلہ بن جائے گا جس حد تک بھی ہوسکے اسکی مذمت کی جانی چاہئے اور کراچی کو مکمل طور پر پاک آرمی کے سپرد کردیا جائے غیرمعینہ مدت تک تو بات بن سکتی ہے ورنہ یہ سلسلہ چلتا ہی رہے گا پارٹیاں بیان بازی کرتی رہیں گی میٹنگز کرتی رہیں گی امن و امان کے حوالے سے اجلاس ہوتے رہیں گے لیکن قتل و غارتگری کا بازار گرم ہی رہے گا یہ کبھی ختم نہیں ہوگا کیونکہ کراچی کے ذمہ دار حضرات اس کو ختم کرانا ہی نہیں چاہتے تو ایک ہی حل ہے پاک فوج کراچی کا کنٹرول سنبھال لے بس ورنہ وہی ہوتا رہے گا

نذر حافی
12-16-2012, 10:24 PM
بہت عالی جناب۔۔۔۔۔