PDA

View Full Version : لاشیں یا سیاسی پتّے



نذر حافی
11-18-2012, 02:43 AM
بسم اللہ الرحمن الرحیم
لاشیں یا سیاسی پتّے
نذر حافی
nazarhaffi@yahoo.com
کراچی کے معروف علمی مرکز دارالثقلین کے بانی اور کئی کتابوں کے مصنف سعید حیدر زیدی کی شہادت کی خبر فقط ایک فرد کی موت کا اعلان نہیں بلکہ یوں سمجھئے کہ ملت اسلامیہ کے مقدر کا ایک اور ستارہ ٹوٹ گیا۔وطنِ عزیز میں بے گناہ انسانوں کے بہنے والے خون کا شور تو سنیئے ،آپ کو محسوس ہوگا کہ سورج سوا نیزے پر چمک رہاہے اور آپ درندوں کے درمیان جی رہے ہیں ، درندوں کو۔۔۔ انسانی جانوں کی قدرو قیمت کیا معلوم۔۔۔؟
جہاں پرانسانی جانیں درندوں کے رحم و کرم پر ہوں۔۔۔
وہاں پر افسوس ،ندامت ،عدل اورانصاف جیسے الفاظ اپنے معانی کھودیتے ہیں۔
جہاں پر منہ زوری کو بہادری،منہ پھٹ ہونے کو شجاعت اور قانون شکنی کو سیاست کہا جائے ۔۔۔
وہاں ہر روز شرافت کی شہ رگ کٹتی ہے،انسانیت کا قتل ہوتاہے،شرافت سولی پہ چڑھتی ہے،دین نیلام ہوتاہے،اعتماد کی گردن پر چھری چلتی ہے، مقدر کے ستارے ٹوٹتے ہیں اور سورج سوا نیزے پر چمکتاہے۔
جہاں پر کرسی و اقتدار ہی ہم و غم بن جائے۔۔۔
وہاں اچھائی اور برائی کی تفریق،نیکی اور بدی کی تمیز اور ظالم و مظلوم کی تقسیم مٹ جاتی ہےاور لوگ اپنے آپ کو بد اخلاق،منہ پھٹ،منہ زور،قانون شکن اور دو نمبر کہنے میں فخر محسوس کرنے لگتے ہیں،وہاں سعید حیدر زیدی جیسے محب وطن کے زندہ رہنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
جہاں پر برس ہا برس تک مار کھانے کے باوجود لوگ اپنے لیڈروں کی حقیقت کو نہ پہچان سکیں۔۔۔
وہاں پر قرآن مجید اور احادیث کو زبانی رٹ کر حفظ تو کیاجاسکتاہے لیکن انسان کو انسان کے ظلم سے نجات نہیں دلائی جاسکتی اور وہاں سعید حیدر زیدی جیسے دانشمند اور باعمل انسان کا قتل کوئی انوکھا واقعہ نہیں رہتا ۔
ہم اسی ملک میں جی رہے ہیں اور انہی گلی کوچوں میں سانس لے رہے ہیں جہاں ۔۔۔!جب کسی چوک میں دھماکہ ہوتاہے یا اندھا دھند گولی چلتی ہے تواناً فاناً کتنے ہی گھروں کے چولہے بجھ جاتے ہیں ،کتنے ہی بچے لاوارث ہوجاتے ہیں اورکتنے ہی کنبوں کا کوئی سرپرست نہیں رہتالیکن ہم اسے ایک معمولی واقعہ سمجھ کر نظر انداز کردیتے ہیں۔
ہمارے درمیان آج بھی اتنے سادہ دل لوگ موجود ہیں جو ایک دوسرے کو یہ کہہ کر تسلی دیتے ہیں کہ کوئی بات نہیں دونوں طرف کے لوگ مارے جارہے ہیں۔اب ان سادہ دل لوگوں کو کون سمجھائے کہ سارے مرنے والے ایک ہی طرف کے لوگ ہیں،خواہ کسی بھی رنگ،نسل،فرقے یا علاقےسے تعلق رکھتے ہوں۔ہم سب ایک ہی ملت ہیں اورایک ہی امّت ہیں۔ ہمیں ہمارےقاتلوں نے اپنی آسانی کی خاطر مختلف گروہوں اور فرقوں میں تقسیم کررکھاہے۔
کسی کو شیعہ کہہ کر مارا جاتاہے،کسی کو سنّی کہہ کر،کسی کو مہاجر کہہ کر اور کسی کو مقامی کہہ کر۔
جب کوئی مر جاتا ہے تو پھر حکمرانوں اور سیاستدانوں میں سے ہرکوئی اس کی لاش سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتاہے۔یعنی مرا ہوا ہاتھی زندہ ہاتھی سے بہر حال مہنگا ہی ہوتاہے۔کوئی اسے فخرِ ملت، کوئی اسے شہید قوم اور کوئی اسے پیکرِ شجاعت کہتاہے ،کوئی اس کے قاتلوں کی مذمت کرتاہے ،کوئی اس کے قاتلوں کے خلاف ایف آر درج کرانے کا بیڑا اٹھاتاہے اورکوئی اس کے لواحقین کو لاکھوں کا چیک دینے کا اعلان کرتاہے۔۔۔
جب ہم بڑے بڑے بیانات،لمبی چوڑی مذمتیں اور لاکھوں کی امداد کا اعلان سنتے اور پڑھتے ہیں تو یہ سوچنا بھول جاتے ہیں کہ کیا یہ بیانات کسی یتیم کے باپ کا بدل ہوسکتے ہیں،کیا یہ مذمتیں کسی خاندان کا بجھا ہوا چولہا روشن کرسکتی ہیں،کیا ہماری کوئی ایف آئی آر کسی ماں کی ممتا کی آگ کو ٹھنڈا کرسکتی ہے اور کیا یہ امدادی چیک کسی بیوہ کا سہاگ واپس لوٹاسکتے ہیں۔
اب تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ کیا آج تک ہمارے حکمرانوں اور سیاستدانوں کے بیانات اور چیک قاری سعید چشتی کے خلا کو پر کرسکے،کیاعلامہ طالب حسین کرپالوی جیسے محقق کا نعم البدل دے سکے،کیامحسن نقوی، پروفیسر آفتاب نقوی اور نزاکت عمرانی جیسے دانشمندوں کا ازالہ کرسکے، کیاایس ایس پی اشرف مارتھ اور کمشنر تجمل عباس جیسے افیسروں کی تلافی کرسکے۔۔۔؟؟؟
اتنی لاشوں اور اتنے بیانات کے انبار کے بعد اب تو ہمیں اس حقیقت کو سمجھنا چاہیے کہ جب تک مظلوموں کے خون سے بیانات کو تر کرنے کا کاروبار چلتارہے گا اس قتلِ عام کو نہیں روکا جاسکتا۔عرصہ دراز سے ہمارے ہاں یہ بیانات داغنے والے،مغر ب کے پروردہ،میکاویلی کے پیروکار،لارڈ میکالے کے سدھائے ہوئے اور امریکی تہذیب و ثقافت میں رنگے ہوئے حکمران بے گناہ انسانوں کی لاشوں کو "سیاسی پتے"کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔انہیں انسانی جانوں کی قدرو قیمت کا کوئی احساس نہیں۔
انہوں نے درندوں سے سیاست سیکھی ہے اور درندگی کے ساتھ ہی آگے بڑھ رہے ہیں،اس وقت پوری ملت ان کے رحم و کرم پر ہے اورجہاں پرانسانی جانیں درندوں کے رحم و کرم پر ہوں۔۔۔ وہاں پر انسانی لاشیں "سیاسی پتّے" کے طور پر ہی استعمال ہوا کرتی ہیں اور وہاں پر افسوس ،ندامت ،عدل اورانصاف جیسے الفاظ اپنے معانی کھودیتے ہیں۔

ارباب فکر و دانش سے ایک گزارش ہے کہ اس لنک پر ہماری مزید تحاریر کا مطالعہ کیجیے اور ہمیں اپنی آرا سے نوازیے:
http://pakistan2.blogfa.com

بےباک
12-05-2012, 04:15 PM
اتنی لاشوں اور اتنے بیانات کے انبار کے بعد اب تو ہمیں اس حقیقت کو سمجھنا چاہیے کہ جب تک مظلوموں کے خون سے بیانات کو تر کرنے کا کاروبار چلتارہے گا اس قتلِ عام کو نہیں روکا جاسکتا۔عرصہ دراز سے ہمارے ہاں یہ بیانات داغنے والے،مغر ب کے پروردہ،میکاویلی کے پیروکار،لارڈ میکالے کے سدھائے ہوئے اور امریکی تہذیب و ثقافت میں رنگے ہوئے حکمران بے گناہ انسانوں کی لاشوں کو "سیاسی پتے"کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔انہیں انسانی جانوں کی قدرو قیمت کا کوئی احساس نہیں۔
انہوں نے درندوں سے سیاست سیکھی ہے اور درندگی کے ساتھ ہی آگے بڑھ رہے ہیں،اس وقت پوری ملت ان کے رحم و کرم پر ہے اورجہاں پرانسانی جانیں درندوں کے رحم و کرم پر ہوں۔۔۔ وہاں پر انسانی لاشیں "سیاسی پتّے" کے طور پر ہی استعمال ہوا کرتی ہیں اور وہاں پر افسوس ،ندامت ،عدل اورانصاف جیسے الفاظ اپنے معانی کھودیتے ہیں۔\\

سچ کہا ، ایسا ہی ہو رہا ہے ،، اس پر یہی کہہ سکتے ہیں کہ سیاسی مداری صرف اپنی دکان چمکاتے ہیں ، صرف مطلبی اور لالچی اور جھوٹے لیڈران ہیں یہ