PDA

View Full Version : اسرائیل کی فلسطین پر وحشیانہ بمباری



بےباک
11-19-2012, 08:08 AM
http://wscdn.bbc.co.uk/worldservice/assets/images/2012/11/18/121118223507_al-dalo.jpg
غزہ پر اسرائیلی حملوں کے چھٹے دن کے آغاز میں غزہ میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں دو فلسطینیوں کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے جس سے مجموعی طور پر اب تک اکہتر افراد ہلا ک ہو چکے ہیں کن میں کئی کم سن بچے بھی شامل ہیں۔
فلسطین کی انتظامیہ کے صدر محمود عباس نے تمام فلسطینی تنظیموں سے اکھٹے ہو کر ایک ہنگامی اجلاس میں جمع ہونے کی درخواست کی ہے۔ وہ فلسطین کی انتظامیہ کے ایک ہنگامی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔
خبر رساں ایجنسی اے پی نے مصری حکومت کے بعض ذرائع کی جانب سے خبر دی کہ اسرائیل کی جانب سے ایک اہلکار قاہرہ ایرپورٹ پر آئے جنہیں فوری طور پر بات چیت کے لیے لیجایا گیا۔
اتوار کے روز چھبیس افراد ہلاک ہوئے جن میں سے الدالو خاندان کے چار بچوں سمیت گیارہ افراد شامل ہیں۔
بی بی سی کے وائر ڈیویس نے بتایا کہ غزہ میں ڈاکٹروں کے مطابق پچھلے چار دنوں میں ہلاک ہونے والوں میں سے پچاس فیصد تک عام شہری ہیں۔
مقامی ذرائع نے بی بی سی عربی سروس کو بتایا کہ غزہ شہر کے النصر علاقے میں ایک تین منزلہ عمارت پر حملے کے نتیجے میں دس فلسطینی ہلاک ہوئے جن میں تین خواتین اور چھ بچے شامل تھے۔
تین فلسطینی شجاعیہ کے علاقے میں جبکہ جبلیہ کے علاقے میں ایک فلسطینی اپنی کار میں ہلاک ہوا۔
صحافیوں کی عالمی تنظیم ’رپورٹرز ساں فرانٹئرز‘ یعنی سرحدوں کے بغیر رپورٹرز نے فوری طور پر مطالبہ کیا ہے کہ ان حملوں کو فوری بند کیا جائے۔
اس تنظیم نے کہا کہ نو صحافی ایک حملے کی نتیجے میں زخمی ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ان کا کام متاثر ہوا۔
اسرائیلی افواج کے مطابق انہوں نے غزہ میں عمارتوں پر لگے اینٹیناز کو نشانہ بنایا جن کی مدد سے ان کے مطابق حماس مبینہ طور پر اپنے جنگجوؤں سے رابطہ میں رہتا ہے۔
اسرائیلی فوج نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان عمارتوں میں سے ایک میں غیر ملکی صحافیوں کی موجودگی سے آگاہ تھے اور وہ ان کا ہدف نہیں تھے۔
گزشتہ روز فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ بحری جہازوں سے بھی میزائل داغے گئے جن کے نتیجے میں غزہ میں پچیس افراد کے ہلاک ہوئے۔
فلسطینی علاقے سے اسرائیل پر راکٹ حملوں کا سلسلہ بھی جاری رہا مگر اس میں کافی کمی نظر آئی۔
’پلر آف ڈیفینس‘ نامی اسرائیلی کارروائی میں اب تک مجموعی طور پر اکہتر افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ حماس کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ حملوں کے نتیجے میں تین اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔
متحارب فریقین کے ذرائع نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں۔
امریکی صدر براک اوباما نے اتوار کو کہا ہے کہ امریکہ اسرائیل کے اپنے تحفظ کے حق کی مکمل طور پر حمایت کرتا ہے۔
تھائی لینڈ میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ہم اسرائیل کی اس معاملے میں مکمل حمایت کرتے ہیں کہ وہ اپنے شہریوں کے گھروں، کام کاج کی جگہوں اور لوگوں کی ہلاکت کا سبب بننے والے میزائلوں کے خلاف اپنا دفاع کرے اور ہم اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت جاری رکھیں گے‘۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’یہ بات بھی سچ ہے کہ ہم خطے کے تمام فریقوں کے ساتھ بڑے سرگرم ہوکر کام کررہے ہیں یہ دیکھنے کے لیے کیا ہم یہ میزائل حملے بند کراسکتے ہیں، اس طرح سے کہ خطے میں مزید تشدد نہ پھیلے‘۔
سرائیلی وزیراعظم نے اتوار کو کابینہ کے اجلاس سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کسی بھی کارروائی کے لیے تیار ہے۔’اسرائیلی ڈیفینس افواج اس آپریشن کے دائرۂ کار میں قابلِ ذکر اضافے کے لیے تیار ہیں‘۔
اسرائیل نے حماس اور اسلامی جہاد کے ریڈیو سٹیشنز کی بندش بھی کر دی ہے۔
ٹوئٹر پر شائع ہونے والے پیغام میں اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ انہوں نے صرف ایک انٹینا سمیت مخصوص سازوسامان کو نشانہ بنایا تاہم روسی ٹی وی نیٹ روک رشیا ٹوڈے کے مطابق حملے میں ان کے دفتر تباہ ہو گیا ہے۔
حملے میں نشانہ بننے والی عمارتوں میں سے ایک حماس کے ٹی وی سٹیشن القدس کے علاوہ سکائی نیوز اور آئی ٹی این کے بھی زیرِاستعمال تھی۔ اسی عمارت میں ایک سال قبل تک بی بی سی کا دفتر بھی تھا۔
غزہ میں طبی حکام کا کہنا ہے کہ پانچ روزہ اسرائیلی کارروائی میں اب تک گیارہ بچوں سمیت باون فلسطینیوں کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ غزہ میں ہسپتال زخمیوں سے بھرے پڑے ہیں اور ان ہسپتالوں میں طبی سپلائی کم پڑ رہی ہے۔
اتوار کو اسرائیل کے تجارتی صدر مقام سمجھے جانے والے شہر تل ابیب میں مسلسل چوتھے دن بھی راکٹ حملوں سے متنبہ کرنے والے سائرن بجائے جاتے رہے۔ اسرائیلی پولیس کے مطابق شہر پر داغے گئے دو راکٹ حفاظتی نظام کی مدد سے تباہ کیے گئے ہیں۔
تاہم غزہ سے داغا گیا ایک راکٹ اشکیلون میں ایک رہائشی عمارت پر گرا جس سے متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ عمارت کو بھی نقصان پہنچا۔
ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب کو بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا تھا کہ غزہ میں ایک درجن سے زیادہ دھماکے سنائی دیے۔ ان کے مطابق یہ میزائل جنگی بحری جہازوں سے فائر کیے گئے تھے۔
اسرائیل کے وزیر داخلہ ایلی یشئی نے اسرائیلی اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا ہے ’آپریشن پلر آف ڈیفنس کا مقصد غزہ کو پتھر کے زمانے میں واپس بھیجنا ہے۔ اور پھر ہی اسرائیل میں اگلے چالیس سال تک سکون رہے گا۔‘
http://wscdn.bbc.co.uk/worldservice/assets/images/2012/11/18/121118223943_yousuf.jpg
غزہ کے رہائشی یوسف اپنے اٹھارہ ماہ کے بچے ریاد کو دفن کرنے جا رہے ہیں۔

بشکریہ بی بی سی ،

بےباک
11-19-2012, 08:15 AM
http://cdn.theatlantic.com/static/infocus/syria110812/s21_RTR3A0UK.jpg
http://cdn.theatlantic.com/static/infocus/israel111612/r32_65746946.jpg
http://cdn.theatlantic.com/static/infocus/israel111612/r39_97479159.jpg
http://www.independent.co.uk/incoming/article8327062.ece/BINARY/original/AN12168620Palestinians+gath.jpg

ان شاءاللہ وہ وقت دور نہیں ، اس ظلم پر کب تک دنیا خاموش رہے گی ، ایک نہ ایک دن کوئی لیڈر اٹھے گا ،

سرحدی
11-19-2012, 08:53 AM
ملالہ کے لیے آسمان و زمین کو سر پر اٹھانے والے ’’تاشفین‘‘ صاحب نظر نہیں آرہے۔۔۔!!!!

سرحدی
11-19-2012, 08:54 AM
http://ummatpublication.com/2012/11/19/images/pic-08.jpg
فلسطینی نہ جھکیں ہیں، نہ جھکیں گے'
غزہ قتل عام کا اسرائیلی سے حساب لیا جائے گا: ایردوگان

http://ummatpublication.com/2012/11/19/images/pic-18.jpg

اللہ ان کافروں کو نیست و بابود کردے ان پر زمین کو اُلٹ دے یا اللہ ان بد بختوں کو نشان عبرت بنادے جو ان معصوم لوگوں پر ظلم کررہے ہیں۔ بہت دکھ ہورہا ہے ۔۔۔

pervaz khan
11-19-2012, 04:06 PM
اب تک کی اطلاع کے مطابق کل شہادتیں چھیاسی ہو گئیں ہیں اور زخمیوں کی تعداد اس سے کہیں گناہ زیادہ ہے۔اسرائیل کو کوئی روکنے والا نہیں کہ ان محصور بےگناہ اور نہتے (اسرائیل کے مقابلے میں وہ نہتے ہیں ) فلسطینیوں کے اوپر چھ دن سے ہوا سمندر اور زمین سے آگ برسا رہا ہے ،انسانیت کے علمبرداروں کو صرف تین اسرائیلیوں کی ہلاکت ہی نظر آتی ہے۔ان بے گناہوں کا خون ان شاء اللہ ضرور رنگ لائے گا۔حیرانگی کی بات ہے کہ اسلامی ممالک کے سر برہاہ خاموش ہیں شاید ان کے آقا امریکہ نے خاموش رہنے کے لئے کہا ہے۔

tashfin28
11-19-2012, 08:44 PM
غزہ میں جاری تشدد - امریکی موقف

محترم قارئين
السلام عليکم

امريکہ غزہ ميں جاری تشدد ميں معصوم اسرائیلی اور فلسطینی زندگيوں کے نقصان اور ضياع کی بھر پور مذمت کرتا ہے۔ امريکی حکومت اور تمام اعلی سطح حکام موجودہ تنازعہ پر جلد از جلد قابو پانے اور مسئلہ کا پر امن حل تلاش کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات لينے کی جاری کوششوں کی حمایت کر رہے ہیں-

يہ قابل ذکرہے کہ صدر اوباما نے مصر کے صدر مورسی اور ترکی کے وزیر اعظم اردگان کے ساتھ کئی بار غزہ کے صورت حال پر گفتگو کرنے کيلۓ فون پر بات کی ہے۔ صدر اوباما نے مصر کے صدر کی طرف سے تنازعہ پر قابو پانے کيلۓ کی گئی کوششوں کو سراہا ہے اور انہيں اپنی کوششوں میں کامیاب ہو نے کيلۓ امید کا اظہار کیا ہے۔ صدر نے اسرائیلی اور فلسطینی شہریوں کی زندگیوں کے نقصان پر گہرے افسوس کا اظہار کیاہے،اور اس بات پر زور ديا ہے کہ تنازعہ کو جلد از جلد حل کريں اوراستحکام کو بحال کريں تاکہ زندگيوں کو لاحق مزيد نقصان کو روکا جاسکے۔ ان رہنماؤں نے آنے والے دنوں کے دوران اس تنازعہ کے مد ميں قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کا اظہار کيا۔

یہ ذکرکرنا بہت ضروری ہے کہ امریکی انتظامیہ اور حکومت پچھلے دہائیوں سے تمام فريقين کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلۓ کوشش کرتی رہی ہيں۔ تاہم، یہ فلسطینی اور اسرائیلی حکام کی ہی ذمہ داری ہے کہ باہمی مسائل کا پرامن حل تلاش کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات لينے کی کوشش کريں۔

آخر میں، ميں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ امریکی انتظامیہ کو غزہ میں حالیہ تشدد کے بارے میں کافی تشويش ہے ليکن يہ تبصرہ دينا نہايت غير ذمہ دارانہ ہے کہ امریکی حکومت دوسرے ممالک کے کارروائيوں کے لئے ذمہ دار ہے۔
تاشفين – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

digitaloutreach@state.gov
www.state.gov
https://twitter.com/#!/USDOSDOT_Urdu
http://www.facebook.com/USDOTUrdu

بےباک
11-20-2012, 09:17 AM
http://express.com.pk/images/NP_LHE/20121120/Sub_Images/1101674714-1.jpg
http://express.com.pk/images/NP_LHE/20121120/Sub_Images/1101674714-2.gif

سرحدی
11-20-2012, 09:46 AM
غزہ میں جاری تشدد - امریکی موقف

محترم قارئين
السلام عليکم

امريکہ غزہ ميں جاری تشدد ميں معصوم اسرائیلی اور فلسطینی زندگيوں کے نقصان اور ضياع کی بھر پور مذمت کرتا ہے۔ امريکی حکومت اور تمام اعلی سطح حکام موجودہ تنازعہ پر جلد از جلد قابو پانے اور مسئلہ کا پر امن حل تلاش کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات لينے کی جاری کوششوں کی حمایت کر رہے ہیں-

يہ قابل ذکرہے کہ صدر اوباما نے مصر کے صدر مورسی اور ترکی کے وزیر اعظم اردگان کے ساتھ کئی بار غزہ کے صورت حال پر گفتگو کرنے کيلۓ فون پر بات کی ہے۔ صدر اوباما نے مصر کے صدر کی طرف سے تنازعہ پر قابو پانے کيلۓ کی گئی کوششوں کو سراہا ہے اور انہيں اپنی کوششوں میں کامیاب ہو نے کيلۓ امید کا اظہار کیا ہے۔ صدر نے اسرائیلی اور فلسطینی شہریوں کی زندگیوں کے نقصان پر گہرے افسوس کا اظہار کیاہے،اور اس بات پر زور ديا ہے کہ تنازعہ کو جلد از جلد حل کريں اوراستحکام کو بحال کريں تاکہ زندگيوں کو لاحق مزيد نقصان کو روکا جاسکے۔ ان رہنماؤں نے آنے والے دنوں کے دوران اس تنازعہ کے مد ميں قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کا اظہار کيا۔

یہ ذکرکرنا بہت ضروری ہے کہ امریکی انتظامیہ اور حکومت پچھلے دہائیوں سے تمام فريقين کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلۓ کوشش کرتی رہی ہيں۔ تاہم، یہ فلسطینی اور اسرائیلی حکام کی ہی ذمہ داری ہے کہ باہمی مسائل کا پرامن حل تلاش کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات لينے کی کوشش کريں۔

آخر میں، ميں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ امریکی انتظامیہ کو غزہ میں حالیہ تشدد کے بارے میں کافی تشويش ہے ليکن يہ تبصرہ دينا نہايت غير ذمہ دارانہ ہے کہ امریکی حکومت دوسرے ممالک کے کارروائيوں کے لئے ذمہ دار ہے۔
تاشفين – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

digitaloutreach@state.gov
www.state.gov
https://twitter.com/#!/USDOSDOT_Urdu
http://www.facebook.com/USDOTUrdu



جناب تاشفین صاحب!! اسرائیلی موجودہ اقدامات (بمباری، فوجی کارروائی، نہتے اور معصوم لوگوں پر آگ کی بارش) کیا ان سب کی امریکی حمایت اسرائیل کو حاصل نہیں ہے؟ کیا آپ کے صدر نے اسرائیلی اقدامات کی حمایت نہیں کی؟ تب ہی تو وہ کھل کر آگیا کہ اگر کوئی میری مخالفت کرے گا تو وہ امریکی مخالفت کرے گا، کیا ہوگیا ہے یار، کیوں حقیقت سے آنکھیں چرا رہے ہیں؟ محترم کبھی تو کہہ دیں کہ آپ کی پالیسیاں ہی ہیں جس نے دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کرکے رکھ دیا ہے۔ یہ اختلاف آپ ہی لوگوں کو بویا ہوا ہے، جس میں طاقت کے نشے میں چور اور اپنی فوجی حیثیت کے گھمنڈ میں غرق اقوام کی حمایت میں آپ کی پالیسیاں کچھ اور جب کہ مظلوم اور نہتے عوام (مسلمانوں) کے لیے آپ کی پالیسیاں کچھ اور ہیں۔ یار میں تو سمجھ رہا تھا کہ آپ کی آنکھیں ان پھول جیسے بچوں کو دیکھ کر کچھ تو اشکبار ہوں گی، آپ کا دل ایک انسانیت کے جذبے کو محسوس کرتے ہوئے کچھ تو روئے گا۔۔ لیکن! افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اس قدر دنیا پرستی میں لگ گئے ہیں کہ بس کیا کہیں۔۔۔۔۔۔!!!!

tashfin28
11-20-2012, 08:24 PM
غزہ ميں جاری تشدد اور امريکی موقف

محترم قارئين
السلام عليکم

میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ امریکی حکومت خطے میں کسی بھی اسٹیک ہولڈر کیطرف سے انکی کسی بھی کارروائی کو کنٹرول نہیں کرتی ۔ مزید برآں، یہ بات قابل ذکر ہے کہ صدر اوباما نے کشیدگی کو کم کرنے کی ضرورت پر تمام فريقين پر زور ديا ہے اور امریکی وزیر خارجہ اس بحران کو حل کرنے ميں مدد کے لئے عنقريب خطے ميں جانی والی ہے۔

ميں معزز قارئين کو ياد دلانا چاہتا ہوں کہ امريکی حکومت اور سینئر عہدیداروں نے کئی دہائیوں سے ان مسائل کے جامع حل کی طرف تعاون پر مبنی ایک سیاسی عمل کے لئے ہميشہ کوششيں کرتے رہے ہيں۔ اس مقصد کے حصول کيلۓ امريکی ظاہری عزم اورکی گئی کوششيں دنیا سے چھپے ہوۓ نہیں ہیں۔ تاہم امريکی حکومت اس بات پر پختہ يقين رکھتی ہے کہ يہ ذمہ داری فلسطینی اور اسرائیلی حکام کی ہی ہے کہ وہ باہمی مسائل کا پرامن حل تلاش کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات لينے کيلۓ کوشش کريں۔

مزید برآں، مغربی کنارے اور غزہ میں فلسطینیوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کيلۓ امریکی حکومت نے اقتصادی اور انسانی امداد میں اربوں ڈالر فراہم کيۓ ہيں۔ خطے میں ہمارے کۓ گۓ اقدامات فلسطین کے لوگوں کے ساتھ ہمارے طویل مدتی عزم کی حقیقی عکاسی کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ، امریکہ نے ہميشہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ان قراردادوں کی حمایت کرتے رہے ہيں جو لڑائی کے ادوار کے دوران فوری طور پر،پائیدار اور مکمل طور پر قابل احترام جنگ بندی کے لئے ایک جامع امن معاہدے کی حمایت کو يقينی بناتے ہيں۔

تاشفين – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

digitaloutreach@state.gov
www.state.gov
https://twitter.com/#!/USDOSDOT_Urdu
http://www.facebook.com/USDOTUrdu

سقراط
11-20-2012, 09:15 PM
محترم تاشفین صاحب :
یہ تبصرہ آپ دیکھ لیں ، یہ انڈیپینڈنٹ اخبار یو کے میں چھپا ہے ،

http://www.independent.co.uk/news/world/middle-east/israelhamas-fighting-puts-us-at-odds-with-turkey-and-egypt-8334794.html

اس کے چند الفاظ یہاں لکھتا ہوں آپ دیکھیے
An Egyptian official on Monday expressed frustration with the role played so far by the United States, which has made no attempt to publicly urge Israel to rein in its airstrikes.

The United States has the most sway with Israel of any "country on earth," said the official, speaking on the condition of anonymity to discuss the ongoing negotiations. "The Israelis would not listen easily to any other voice."

The Obama administration has pleaded for all sides to "de-escalate" but has criticized only Hamas. All high-level U.S. diplomacy has been conducted from afar, including phone calls Monday from Obama to Morsi and to Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu.

International diplomatic efforts for a cease-fire intensified in Cairo, but the United States did not expressly back any plan.

اب مزید دیکھیے ،

جناب تاشفین صاحب ، اقوام متحدہ میں امریکا نےکل 79 دفعہ ویٹو کو استعمال کیا تھا،جس میں سے 40 دفعہ صرف اسرائیل کے دفاع کے لیے ویٹو استعمال کیا گیا تھا ،
اور آخری دو ویٹو اس قرار داد ریزولوشن کے خلاف تھے کہ اسرائیل جو فلسطین میں سرزمین پر غیر قانونی کالونیاں بنا رہا تھا ،اور اس کو روکنے کے لیے یہ ریزولوشن پیش کیے گئے تھے ،
یہ وکی پیڈیا کی رپورٹ ہے محترم ، آپ اسے دیکھیں ،

United States and the United Nations

Ambassador Charles W. Yost cast the first U.S. veto in 1970, regarding a crisis in Rhodesia, and the U.S. cast a lone veto in 1972, to prevent a resolution relating to Israel. Since that time, it has become by far the most frequent user of the veto, mainly on resolutions criticising Israel; since 2002 the Negroponte doctrine has been applied for the use of a veto on resolutions relating to the ongoing Israel-Palestinian conflict. This has been a constant cause of friction between the General Assembly and the Security Council. On 18 February 2011, the Obama administration vetoed resolutions condemning Israeli settlements.

بےباک
11-20-2012, 09:49 PM
شیخ ستمبر 2003ء میں ایک قاتلانہ حملے میں زخمی ہوئے۔ تاہم 22 مارچ 2004ء کو اسرائیل کے ایک گن شپ ہیلی کاپٹر کے میزائل حملے میں جاں بحق ہوگئے۔ اس وقت آپ نماز فجر کی ادائیگی کے لیے جارہے تھے۔ حملے میں ان کے دونوں محافظین سمیت 10 دیگر افراد بھی جاں بحق اور شیخ یاسین کے دو صاحبزادوں سمیت 12 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

عالمی ردعمل ،،کے خلاف امریکا کیوں جاتا ہے ، اقوام متحدہ کو یرغمال کیوں بنایا ہوا ہے ،

اقوام متحدہ کے اُس وقت کے معتمد عام کوفی عنان نے اسرائیل کے اس اقدام کی شدید مخالفت کی۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے انسانی حقوق نے ان کے قتل کے خلاف قرارداد منظور کی جو چین، بھارت، انڈونیشیا، روس اور جنوبی افریقہ سمیت 31 ممالک کی حمایت سے منظور ہوئی۔ مخالفت میں دو رائے آئیں جبکہ 18 ارکان غیر حاضر رہے۔ عرب لیگ اور افریقی یونین نے بھی ان کے قتل کی مذمت کی۔ برطانیہ اور امریکہ کا ردعمل یہ رہا "اسرائیل کو اپنے تحفظ کا حق حاصل ہے لیکن وہ اس واقعے کی مذمت کرتے ہیں" جبکہ عراق میں اس وقت کے امریکی سفیر جان نیگروپونٹے نے یاسین کو ایک "دہشت گرد" تنظیم کا سربراہ قرار دیا۔
امریکا کا امیج کیوں تباہ ہو رہا ہے اس لیے کہ وہ ایک طرف جمہوریت کا نعرہ لگاتا ھے دوسری طرف خود ہی جمہوریت کی نفی کرتا ،اگر حماس ووٹوں سے جیت کر آتی ہے تو ناقابل برداشت ہے ، اگر الجزائر میں اسلامک موومنٹ جیت کر آتی ہے تو ناقابل برداشت ھے ، اگر اخوان المسلمین مصر میں جیت کر آتے ہیں تو امریکا کو برداشت نہیں ، اگر پاکستان میں اسلامی جماعتیں جیت کر آتی ہیں تو یہ بھی امریکا کو برداشت نہیں ،
محترم یہ ڈبل سٹینڈرڈ ہے ، اسلامی ملکوں میں اسلامی حکومتیں ہی بنیں گی ، جلد یا بدیر ۔۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو فوجی انقلاب اور آمروں کی سرپرستی کی جاتی ہے ،
سقراط صاحب نے بالکل ٹھیک لکھا ، کہ امریکا نے ہمیشہ غاصبوں کی حمائت جاری رکھی ، اور ہمیشہ مسلم ممالک میں فساد کی راہ ہموار کی ،

بےباک
11-21-2012, 09:43 AM
http://ummatpublication.com/2012/11/21/images/news-04.gif

tashfin28
11-26-2012, 11:05 PM
غزہ میں حالیہ بحران اور امریکی کردار

محترم قارئين
السلام عليکم

اس میں کوئ شک نہیں، غزہ میں حالیہ بحران اور معصوم قیمتی جانوں کے نقصان پر امریکہ سمیت پوری دنیا کیلۓ بہت تشویش کی بات ہے۔ تاہم، کچھ مبصرین ناحق خطے میں موجودہ بحران کے لئے امریکہ کو ایک ماسٹر مائنڈ کے طور پر پيش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ تمام الزامات درست نہیں کيونکہ گزشتہ چند دنوں میں امریکہ کيطرف سے امن کيلۓ کی گئی کوششيں، انکی حقیقی عزم اور زمينی حقائق سے بالکل برعکس ہے۔

امریکی حکومت کيطرف سے کی گئی پر زور سفارتی کوششوں نے يہ ثابت کرديا کہ امريکہ خطے ميں امن قائم کرنے کيلۓ ايک اہم ملک ہے ناکہ اس تشدد اور ايشو کو شروع کرنے والا ملک جس کيطرف کچھ مبصريں غلط اشارہ دے رہے ہيں۔

امریکی حکومت اس بات پر پختہ یقین رکھتی ہے کہ فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان فاصلوں کو کم کرنے سے ہی خطے میں دیرپا امن کو یقینی بنايا جاسکتا ہے۔ اس مسئلہ پر ہماری موقف اور تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے ہمارے جاری اقدامات کا خطے ميں کئی ممالک اعتراف اور فعال حمایت کرتے ہے۔

ميں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اسرائيل سميت امریکی حکومت خطے میں کسی بھی پارٹی کیطرف سے انکی کسی بھی کارروائی کو کنٹرول نہیں کرتی۔ کوئی بھی کس طرح امریکہ کو اسرائیل کیطرف علاقے میں انکی کسی بھی فوجی کارروائی کے لئے ذمہ دار ٹھرا سکتا ہے؟ میں خطے میں اسرائیل کے ساتھ ہمارے قائم اسٹریٹجک پارٹنرشپ سے انکار نہیں کرتا۔ تاہم، ہماری پارٹنرشپ کسی صورت میں بھی ہمیں اسرائیل کا خطے میں کی جانی والی کارروائی کے لئے ذمہ دار نہیں ٹھرا سکتی۔

اسکے علاوہ، امریکی حکومت فلسطین کے لوگوں کيلۓ ایک علیحدہ وطن پر پختہ يقين رکھتی ہے جہاں وہ آزادانہ طور پر اور محفوظ طریقے سے رہ سکتےہو۔ صورتحال کا منصفانہ اور غیر جانبدار تجزیہ يہ تقاضا کرتی ہے کہ مبصرین کو فلسطینیوں کے ساتھ ہمارے کۓ گۓ اقتصادی امداد اور خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنانے کے لئے ہماری مسلسل سفارتی اقدامات اور کوششوں کو بھی اجاگر کرنا چاہيۓ۔


تاشفين – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
www.state.gov
https://twitter.com/#!/USDOSDOT_Urdu
http://www.facebook.com/USDOTUrdu

بےباک
11-27-2012, 09:21 AM
ایسا لگتا ہے کہ محترم تاشفین صاحب نے اوپر کی دونوں تحریریں نہیں پڑھیں ، اور ایک رٹے رٹائے جواب کو لکھ دیا ہے ۔
محترم کون سا فلسطین ، اور کہاں کا فلسطین ، امریکا کا ہی نعرہ تھا کہ 2010 میں فلسطین کو الگ ملک تسلیم کر لیا جائے گا ، پھر جنوری 2012 میں فلسطین کو باقاعدہ ریاست تسلیم کر لیا جائے گا ، مگر۔۔۔۔۔۔ فلسطین اپنے دفاع کے لیے نہ کوئی جنگی جہاز رکھ سکتا ھے ، نہ کسی ملک کے ساتھ دفاعی معائدہ کر سکتا ہے ،نہ ہی اس کی سرحدیں مستقل ہیں ، ہر سال اس کی حدو اربعہ چھوٹا ہو رہا ہے ، حقائق سے پہلو تہی کرتے ہوئے دوسری باتوں کی طرف توجہ دلانا کوئی عادلانہ طرز عمل نہیں ،


1953/ میں امریکی سفیر برائے اسرائیل کا یہ بیان اس حقیقت سے اچھی طرح پردہ اٹھاتا ہے، جس میں اس نے یہودیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ:

”آپ کی حکومت کی اساس گذاری میں ہماری حکومت نے جو تعاون اور خدمات پیش کی ہیں، ہمیں اس پر فخر ہے اور ہم سب (یہود ونصاریٰ) پر جو اپنی تہذیب وثقافت اور انبیائے بنی اسرائیل کے الہامات پر یقین رکھتے ہیں، ارضِ قدیم (فلسطین) پر ایک نئی قوم اور ایک جدید حکومت کی تشکیل واجب ہے۔“
۔۔
1967 میں امریکی وزارتِ خارجہ کے پالیسی ساز ادارے کے سربراہ کا وہ بیان یہود ونصاریٰ کی ازلی اسلام دشمنی کا سچا آئینہ دار ہے جس میں اس نے پوری صراحت کے ساتھ کہا تھا کہ:

”یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ امریکہ مذہبی روایات، عقائد اور نظامِ حکومت کے حوالے سے مغربی دنیا کے تکمیلی جزء کی حیثیت رکھتا ہے اور یہی وہ چیز ہے، جس کی وجہ سے اسے مشرقی اسلامی دنیا؛ بلکہ دین اسلام، اس کے افکار ونظریات اوراس کے عقائد کی مخالفت کرنے اور صہیونی حکومت کی موافقت میں کھڑے ہونے کے علاوہ کوئی چارہ نظر نہیں آتا؛ کیوں کہ اگر امریکہ اس کے خلاف کوئی موقف اختیار کرتا ہے، تو یہ اس کے سیاسی ہی نہیں؛ بلکہ لسانی، روایتی، تہذیبی اور مذہبی تشخصات کی بھی خلاف ورزی ہوگی۔“

سابق برطانوی وزیراعظم کا یہ بیان بھی چونکادینے والا ہے کہ:

”ہم کبھی بھی بوسینیا اور ہرزے گووینا کے مسلمانوں کو مسلح نہیں دیکھ سکتے، ہم اقوامِ متحدہ پر مسلسل دباؤ بنائیں گے کہ وہ بوسینیا کے مسلمانوں کو اسلحہ رکھنے سے روکے اور مسلم حکمرانوں کو فرضی امن مذاکرات میں الجھائے رکھے؛ تاکہ کوئی بھی مسلم ملک ان کی امداد کے حوالے سے کسی نوع کی سرگرمی نہ دکھاسکے۔“

ایک اور ننگِ انسانیت اور کٹّر اسلام دشمن فرانسیسی مستشرق کا یہ بیان کس قدر تکلیف دہ ہے کہ:

”محمد (فداہ ابی وامی) کا دین جذام کی طرح ہے، جو لوگوں میں پھیل رہا ہے اور انھیں بری طرح ہلاک کررہا ہے؛ بلکہ یہ انتہائی خطرناک، ذہنوں کو مفلوج اور عقلوں کو ناکارہ بنادینے والا مرض ہے یا تو یہ مذہب تعطل، کاہلی اور بے کاری پر ابھارتا ہے یا پھر خوں ریزی وشراب خوری پر، میری رائے میں کم از کم مسلمانوں کے پانچویں حصے کو تو سرے سے ختم ہی کردینا چاہیے اور جو بچ رہیں، ان سے سخت بیگار لیا جائے، کعبہ کو منہدم کردیا جائے اور محمد کی قبر کو کھود کر ان کی نعش کسی ادنیٰ درجے کے میوزیم میں ڈال دی جائے۔“ نَعُوذُ باللّٰہ!

قدآور اسرائیلی رہنما ”ڈیوڈبن گارین“ کے اس بیان سے بھی یہود ونصاریٰ کی مشترکہ اسلام دشمنی اور اسلامی بیداری سے ان کے خوف کا بہ خوبی اندازہ ہوتا ہے:

”ہمیں سب سے زیادہ اس بات کا اندیشہ ہے کہ کہیں عالم عربی میں پھر کوئی محمد (فداہ ابی وامی) نہ پیدا ہوجائے۔“ (یعنی کوئی ایسا مرد جگر دار، جو آپ کے پیغامات وتعلیمات کو لے کر اٹھے اور عالم پر چھاجائے)
تاشفین صاحب اس کو پڑھیے ،
اگر آپ پڑھنا چاھتے ہیں ، یا سمجھنا چاھتے ہیں ،یہ گارڈین اخبار۔یوکے کی رپورٹ ہے
The United States has warned European governments against supporting a Palestinian bid for enhanced status at the United Nations, saying such a move "would be extremely counterproductive" and threatening "significant negative consequences" for the Palestinian Authority, including financial sanctions.

A US memorandum, seen by the Guardian, said Palestinian statehood "can only be achieved via direct negotiations with the Israelis" and urged European governments "to support [American] efforts" to block the bid. The message was communicated by officials to representatives of European governments at the UN general assembly (UNGA) in New York last week.
حوالہ یہاں دیکھیے ،http://www.guardian.co.uk/world/2012/oct/01/us-warns-europe-palestinians-un

Obama threatens ‘significant negative consequences’ to Palestinians if they seek higher UN status
http://mondoweiss.net/2012/10/obama-threatens-significant-negative-consequences-to-palestinians-if-they-seek-statehood.html

آزاد ذرائع وکی پیڈیا کے مطابق دیکھیے ، امریکا اور اسرائیل کے تعلقات ،
http://en.wikipedia.org/wiki/Israel%E2%80%93United_States_relations

اقوام متحدہ میں فلسطین کو باقاعدہ اور مستقل ممبر کی حیثیت سے تسلیم کرنے میں امریکا ہی رکاوٹ ہے ،
http://www.heritage.org/research/reports/2011/07/how-the-us-should-respond-to-the-un-vote-for-palestinian-statehood
اس کا حوالہ دیکھیے ،

بےباک
11-30-2012, 09:39 AM
http://jang.com.pk/jang/nov2012-daily/30-11-2012/updates/11-30-2012_128335_1.gif
30 نومبر 2012

بےباک
12-01-2012, 08:49 AM
http://ummatpublication.com/2012/12/01/images/news-88.gif

tashfin28
12-07-2012, 10:34 PM
]فلسطینیوں کے لئے آزاد ریاست - اور امریکی موقف
[/b]

محترم قارئين
السلام عليکم

یہ نہايت دکھ کی بات ہے کہ بعض مبصرین ناحق يہ تجویز دينے کی کوشش کر رہے ہیں کہ امریکی حکومت فلسطینیوں کی مدد نہیں کر رہی ہے اور وہ فلسطین کی ایک آزاد ریاست کے خلاف ہے۔ يہ تمام الزامات بالکل غلط ہیں اور اس ايشو پر سرکاری امریکی پوزیشن کو بےنقاب نہیں کرتی۔اس کے علاوہ،يہ الزامات بیکار ميں فلسطینیوں کے لئے ہمارے کی گئ ظاہری اقتصادی اور ترقیاتی اقدامات کو نظرانداز کرتی ہيں۔ یہ مبصرین سامعین کو الجھانے کيلۓ حقائق کو کچھ اس طریقوں سے گھما رہے ہیں تاکہ اس موضوع پر اپنے بے بنياد سازشی نظريات کو مطمئن کرسکيں۔

فلسطینیوں کے لئے ایک خود مختار ریاست کے حوالے سے، ميں معزز ممبران کی توجہ صدر اوباما کے اس بيان کيطرف مبذول کرانا چاہتا ہوں جو اس ايشو پر امريکی واضح موقف پر روشنی ڈالتی ہے۔

" مشرق وسطی میں ہم ایک پائیدار امن کيلۓ اسرائیل اور اس کے ہمسایہ ممالک کے درمیان مشترکہ مقصد رکھتے ہيں۔ امريکی حکومت امن اور سلامتی سے رہنے والے دو عليحدہ اسرائیل اور فلسطین کے رياستوں کے مقصد کی بھر پور سے حمایت کرتی ہے۔ فلسطينیوں، اسرائيل اور تمام دنيا بھر کے امن پسند لوگوں کا يہی مقصد ہيں۔ اسی مقصد پر دونوں جماعتوں نے روڈ میپ میں اتفاق کیا ہے ۔ اور امريکی صدر کی حيثيت سے ميں اس مقصد کو آگے بڑھانے کی کوشش کرونگا۔

ایک خود مختار ریاست کو بنانے ميں اور ضروری اداروں کی تشکيل ميں مدد کيلۓ امريکی حکومت نے فلسطینیوں کو کافی فنڈنگ اور تکنیکی امداد فراہم کی ہے۔ ہم جانتے ہيں کہ آگے راستہ کٹھن ہوگا۔ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں دونوں کو اعتماد اور یقین کی فضا قائم کرنے کے لئے ضروری اقدامات لينے ہونگے۔ اسرائيل اور فلسطينيوں دونوں کو کۓ گۓ وعدوں کی پاسداری کرنی چاہيۓ ۔ اور ایک محفوظ اور پائیدار امن کی طرف پیش رفت کے لئےدونوں کو دیرینہ جذبات اور وقتی سیاست پر قابو پانا چاہيۓ۔" "


تاشفين - ڈیجیٹل آؤٹ ریچ ٹیم، شعبہ امریکی وزارت خارجہ

digitaloutreach@state.gov

www.state.gov

https://twitter.com/#!/USDOSDOT_Urdu

http://www.facebook.com/USDOTUrdu

بےباک
12-08-2012, 01:15 AM
ہاہاہا ، خوب جناب تاشفین جی ،
آپ نے کیسے کہہ دیا کہ ،

یہ نہايت دکھ کی بات ہے کہ بعض مبصرین ناحق يہ تجویز دينے کی کوشش کر رہے ہیں کہ امریکی حکومت فلسطینیوں کی مدد نہیں کر رہی ہے اور وہ فلسطین کی ایک آزاد ریاست کے خلاف ہے۔ يہ تمام الزامات بالکل غلط ہیں

اوپر کے سب ذرائع یورپین ہیں جناب ، اس میں ہم لوگوں نے کیا تبصرہ کرنا ہے ، یہ سب خبرین اگر جھوٹی ہین تو آپ ان اخبارات کے خلاف ایکشن لیں ، مگر یہ سب سچ ھے ، کیونکہ ان خبروں کے ساتھ وہی سچائی ہمیں سامنے بھی دکھائی دے رہی ھے ،آپ کیوں آنکھیں چراتے ہیں جناب ،،،، سب حوالہ جات ساتھ لکھے ہیں ، آپ کی مرضی سچائی تسلیم کریں یا نہ کریں ،

گلاب
12-08-2012, 08:03 PM
یے سچای کبھی تسلیم نھی کریں گے لاکھ کو شش کر لیں ان کو صرف ڈالر چا ہیے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کا دین ایمان صرف پیسا ہے وہ صرف آج کا سوچتے ہیں یے سب سمجھتے ہیں بس یے ہی دنیا ہے اس کے بعد کچھ نھی اس لیے صرف امریکا کا ساتھ دو اور ڈالر لو کام یاب زندگی گزاروبس باقی سب جھوٹ ہے جو امریکہ کھ دے وہ ہی سچ ہے چا ہے دوار سفید ہو امریکہ نے کھ دیا کالی ہے تو سمجھو کالی ہے یس سر یس سریس سر یس سر یس سر یس سر یس سریس سر یس سر یس سر یس سر یس سر یس سر یس سر یس سریس سر یس سر یس سر یس سر یس سر

گلاب خان
12-10-2012, 07:47 PM
:smiley-computer005::smiley-computer005::smiley-computer005:

tashfin28
12-12-2012, 12:06 AM
فلسطینی مسئلہ – اور امریکی موقف

محترم بيباک
السلام عليکم

میں اس پوزیشن میں نہیں ہوں کہ اپنے بے بنیاد دعووں کی تصدیق کيلۓ جن اخبارات کا آپ نے حوالہ ديا ہے انکے ساکھ اور مستند ہونے پر تبصرہ کرسکوں۔ تاہم،ميں قارئین کی توجہ کچھ سرکاری بیانات کيطرف کرانا چاہونگاجو واضح طور پر فلسطینی معاملے پر امریکی سرکاری پوزیشن کو واضح کرتی ہے۔ ايک پر مقصد تجزیہ اسکا متقاضی ہے کہ بعض اخبارات کا حوالہ دينے سے پہلےآپ کو تحقيق کرنی چاہيۓ اور زیر بحث مسائل پر امریکی سرکاری پوزیشن بھی واضح کرنی چاہيۓ تاکہ معزز اراکین کو صحيح معلومات کی روشنی ميں اپنی راۓ اختيار کرنے ميں مدد مہيا کی جاۓ۔

صدر اوباما
جب میں نے صدارت کا عہدہ سنبھالا تو يہی ایک مسئلہ تھا جس کا مجھے دل کی گہرائیوں سے پرواہ تھی اور اس پر ميں وقت، پوری توانائی ،اور سيساسی بصارت استعمال کرنے کيلے تيار تھا۔اور يہ عزم کمزور نہیں ہوا ہے۔ اور ميں سمجھتا ہوں کہ امريکی عوام مساوی بنيادوں پر اس ايشو کا حل ديکھنا چاہتے ہيں۔ ہم آپ کی پارٹی اور اسرائيل کے ساتھ ساتھ کام کرتے رہينگے تاکہ اس ايشو کو ان بنيادوں پر حل کيا جاۓ جو اسرائيل اور فلسطینيوں کے بچوں اور اور مستقبل کی نسلوں کے لئے اچھا ہو۔

نئی اسرائیلی بستیوں پر سیکرٹری کلنٹن کا بيان

مشرق وسطی پالیسی کے لئے سائبان سینٹر میں اپنی تقریر کے دوران امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن ان خیالات کا اظہار کیا ،" آج کے بيان کی روشنی ميں يہ دوہرانا چاہتی ہوں کہ گزشتہ حکومتوں کی طرح اوباما انتظامیہ بھی اس بارے میں اسرائيل کے ساتھ ايک واضح موقف رکھتی ہے کہ ایسے اقدامات مذاکرات کے ذریعے حاصل ہونے والے امن کے لیے نقصان دہ ہيں"

صدر کے پریس سیکرٹری کی طرف سے بیان

ہم اسرائیل کيطرف سے اضافی بستيوں کی تعمیر کی منصوبوں کی منظوری کے رپورٹ پرافسوس کا اظہار کرتے ہيں۔ مسلسل یہودی آبادکاری کی سرگرمیاں روڈ میپ کے تحت اسرائیلی عزم کے برخلاف ہے۔ جيسا کہ صدر نے پہلے کہا ہے، کہ امريکہ اسرائيل کيطرف سے یہودی آبادکاری کی مسلسل تصفیہ توسیع کی جواز قبمل نہيں کرتے اور ہميں اسکو بند کرنے کی حمايت کرتے ہيں۔ ہم بات چيت کيلۓ ايک سازگار ماحول کی فضا بنانے کيلۓ کام کرہے ہيں اور ايسے اقدامات اسطرح ماحول بنانے کو مشکل بناديتے ہيں۔

تاشفيں – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

digitaloutreach@state.gov
www.state.gov
https://twitter.com/#!/USDOSDOT_Urdu
http://www.facebook.com/USDOTUrdu