PDA

View Full Version : غزہ فلسطین میں اسرائیلی جارحیت اور امریکی صدر اوبامہ کی بارکنگ [BARKING]



سید انور محمود
11-21-2012, 02:32 AM
21 نومبر 2012
از طرف: سید انور محمود

غزہ فلسطین میں اسرائیلی جارحیت اور امریکی صدر اوبامہ کی بارکنگ [BARKING]
اسرائیل اپنی جارحانہ جنگ سے سات دن میں 100 سے زیادہ فلسطینی جن میں عورتیں اور بچے شامل ہیں شہید کر چکا ہے جبکہ 900 سے زیادہ فلسطینی زخمی ہوے ہیں۔ غزہ میں پیر کو ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے 11 افراد کے جنازے میں ہزاروں فلسطینی شہری شریک ہوئے اور انہوں نے اسرائیل کے فضائی حملو ں کے خلاف احتجاج کیا۔ چار سال پہلے بھی اسرائیل نے غزّہ کی پٹی کے خلاف جو جارحانہ جنگ شروع کی تھی اس میں بارہ سو فلسطینی ہلاک ہوئے تھے۔ فضائی حملوں کے علاوہ اسرائیل نے سینکڑوں ٹینکوں اوردیگر بھاری اسلحے سے لیس اپنے ہزاروں فوجیوں کو غزہ کی سرحد کے نزدیک تعینات کردیا ہے، اسرائیل کے اس اقدام کا مقصد غزہ پر زمینی حملے کیے جاسکتے ہیں۔ یہودیوں کی تاریخ سے ہم سب واقف ہیں، اسرائیل میں عام انتخابات 22 جنوری کو ہونگے اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو کو ئی الیکشن اسٹینڈ چاہیے تھا اسلیے غزہ میں خون ریزی کی جارہی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تمام مسلم ممالک اتحاد کا مظاہرا کرتے مگرعرب مسلم ممالک نے ایک بار پھر تاخیری حربے آزمانے شروع کئے ہیں اور وہ ماضی کی طرح متزلزل اور متذبذب ہیں جبکہ فلسطینی مجاہدین کو عرب ممالک کی عملی حمایت کی ضرورت ہے تا کہ وہ مزاحمت تحریک کو ختم کرنے کے لئے صہیونی ریاست کے اقدامات کا راستہ روک سکیں۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ صہیونی جارحیت کی مذمت نہيں کیجارہی ہے بلکہ صہیونی جارحیت کی مذمت کئے بغیر کہا جارہا ہے کہ "فریقین معقول رویہ اپنائیں"، او آی سی کا دور دور پتہ نہیں۔ کچھ ممالک میں مظاہرئے ضرور ہوئے ہیں۔ ایک اور بدقسمتی یہ ہے کہ فلسطینی مجاہدین میں شدید اختلافات موجود ہیں ۔ برطانوی اخبارگارڈین کے مطابق "حماس ان گروپوں کی جانب سے خطرہ محسوس کررہی ہے جن کا کہنا ہے کہ حماس نے حکومت تشکیل دینے کی رعایت حاصل کرکے مسلح جدوجہد ترک کردی ہے۔ واضح رہے کہ حماس کے بعض رہنماؤں نے حال ہی میں قطر اور سعودی عرب کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کئے ہیں۔ حماس کو صہیونیوں کے خلاف جدوجہد ترک کرنے کے عوض بڑی بڑی رقوم کی پیشکش کی گی ہے۔ حال ہی میں امیر قطر نے غزہ کے دورے کے دوران حماس کو جو تجاویز پیش کی ہیں ان میں صہیونی ریاست کو تسلیم کرنا، مسلح جدوجہد ترک کرنا، تارکین وطن فلسطینیوں کی فلسطین واپسی کا مطالبہ ترک کرنا اور بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت ماننا، جیسی تجاویز شامل ہیں"۔ دنیا کے ناکام ادارے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے فائر بندی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ سکریٹری جنرل کا مطالبہ ہونا چاہیے تھا کہ اسرائیل اپنی دہشت گردی کو بند کرئے۔ ویسے تو ٹونی بلیر بھی اس دہشت گردی کو رکوانے کے لیے اسرائیل پہنچ گے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ بھی اسرائیل پہنچ رہی ہیں ۔

امریکہ میں ہر شخص کو آزادی ہے کہ وہ امریکہ میں جیسے چاہے، جب چاہے بارکنگ کرسکتا ہے اور امریکہ کے صدر کو آزادی ہے کہ وہ دنیا میں جس پر چاہے، جب چاہے بارکنگ [BARKING] کرسکتا ہے، لہذا امریکی صدر براک اوبامہ نے بارکنگ کرتے ہوئے ایک بیان یوں دیا ہے: "اسرائیل اور فلسطینی تشدد پسند گروپ حماس کے درمیان حالیہ لڑائی کے معاملے کے حل کے سلسلے میں آغاز کےطور پر ضروری ہے کہ عسکریت پسند اسرائیلی علاقے میں مزید میزائل داغنا بند کردیں۔ امریکہ کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے، اُن کے بقول، اسرائیل کو غزہ سے اُس کے عوام کے گھروں پر داغے جانے والے میزائلوں کے خلاف دفاع کا حق حاصل ہے"۔ اب کیا ٹونی بلیر ،کیا امریکی وزیر خارجہ، امریکی صدر کی بارکنگ کے سامنے ان کی کیا حقیقت ۔ باقی رہے مسلم ممالک ان کے حکمران اپنا اقتدار بچایں جو امریکی آقا کے دم سے چل رہا ہےیا فلسطینی عوام کو دیکھیں، تیل پیدا کرنے والے مالی امداد کردینگے اور باقی ممالک مظاہرئے سے کام چلادینگے، ہاں تھوڑا بہت شور اقوام متحدہ میں بھی کرینگے، باقی رہے فلسطینی عوام اللہ اُن پر اپنا رحم فرمائے۔


---------------------------------------------------
نوٹ: کتے کے بھوکنے کو انگریزی زبان میں بارکنگ [BARKING] کہتے ہیں۔