PDA

View Full Version : شہادت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ



بےباک
11-23-2012, 01:14 PM
شہادت حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ
http://rooosana.ps/store/8/10_12_07-05_20_06-Nn5x@0.jpg
http://yahussen.comoj.com/up/yahussen12329669270.jpg
خلافت و ملوکیت اور شہادتِ حسینؓ
سانحہ کربلا اور شہادت حسین تاریخ اسلامی کے اہم ترین واقعات میں سے ہے۔ صدر اول میں رونما ہونے والے اس سانحہ کو اس کے صحیح تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ سیدنا امام حسین ابن علی رضی اللہ عنہما کا موقف اس لحاظ سے مبنی برحق تھا کہ انھوں نے ملوکیت کا راستہ روکنے اور احیائے خلافت کے لیے آواز بلند کی تھی۔ اسلام کو اس کی صحیح روح کے ساتھ سمجھا جائے تو اس امر میں ذرّہ برابر شک نہیں رہ جاتا کہ اسلام نے انسانیت کو ملوکیت کے بجائے خلافت کا نظام عطا کیا۔ اسلام کی روح آمرانہ فیصلوں کے مقابلے میں مشاورت کا نہ صرف تقاضا کرتی ہے بلکہ اسے اہلِ اسلام اور اسلامی ریاست کا بنیادی تشخص قرار دیتی ہے۔ نبی مہربان نے صحابہ کرامؓ کی تربیت اس انداز سے کی تھی کہ آمریت و ملوکیت کا کوئی تصور بھی ان کے ذہن میں نہیں آسکتا تھا۔ کئی لوگوں کے ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ امام حسینؓ نے حکومت کے خلاف کیوں اتنا بڑا اقدام کیا جس کے نتیجے میں ان کو اپنی اور اپنے خاندان و اعیان کی جانوں کا نذرانہ پیش کرنا پڑا۔ اس کا جواب معلوم کرنے کے لیے اسلام کے نظامِ خلافت کی روح اور طریق کار کو سمجھنا ضروری ہے۔
خلافت علیٰ منہاج النبوت
محمد مصطفےٰ تو اللہ کے نبی تھے۔ نبی انسانوں کا مقرر کردہ نہیں ہوتا، اسے اللہ تعالیٰ خود اس مقام پر فائز فرماتا ہے۔ آپ نے واضح طور پر فرما دیا تھا کہ آپ پر سلسلہ انبیا مکمل ہوچکا ہے، اب کوئی نبی نہیں آئے گا۔ آپ کے ارشاد کے مطابق دورِ نبوت کے بعد خلافت علیٰ منہاج النبوت کا دور تھا۔ خلیفہ کا تقرر اس کی اہلیت، صلاحیت، صالحیت، علم اور تقویٰ کی بنیاد پر امت کو کرنا ہوتا ہے۔ آپ نے صحابہ کرامؓ کے جو مناقب بیان کیے، ان سے واضح طور پر یہ اشارہ تو ملتا تھا کہ جماعتِ صحابہ میں سب سے بلند تر مقام سیدنا ابو بکر صدیقؓ کا ہے مگر آپ نے ایک خاص حکمت کے تحت واضح الفاظ میں اپنے بعد انھیں اپنا جانشین مقرر نہیں کیا تھا۔ وہ حکمت یہی تھی کہ آپ کی امت کے ذمے انتخاب خلیفہ کا جو عظیم کام ہے وہ باہمی مشاورت سے انجام پائے۔ چونکہ آپ کے کئی اشارات سے صحابہؓ سمجھتے تھے کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ کے بارے میں آپ کی کیا سوچ تھی۔ اسی وجہ سے جماعتِ صحابہ میں تقریباً بالاتفاق یہ رائے تھی کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ تمام اصحابِ رسول میں سے افضل ہیں۔ انھیں افضل البشر بعد الانبیاءکا شرف جو حاصل ہے۔
آنحضور کے وصال کے بعد آپ کے جانشین کا تقرر ایک اہم اور فوری نوعیت کا مسئلہ تھا۔ اسی وجہ سے صحابہؓ نے کسی تاخیر کے بغیر فوری طور پر اس کو حل کرنے کی طرف توجہ دی۔ قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں صحابہؓ نے مشاورت سے آپ کے جانشین کا فیصلہ کیا اور پوری جماعتِ صحابہ کا اس پر اجماع ہوگیا کہ حضرت ابو بکرؓ کے ہاتھ پر بیعت کی جائے۔ آپؓ کا تعلق نسبتاً ایک چھوٹے قبیلے بنو تیم سے تھا مگر بڑے قبائل سے تعلق رکھنے والے تمام صحابہؓ نے بالاتفاق آپؓ کی خلافت کو قبول کرتے ہوئے آپؓ کی بیعت کی۔ پھر عامة الناس نے بھی ان کبار صحابہؓ کی تقلید کی۔ تمام مستند تواریخ میں یہ واقعہ محفوظ ہے۔ امام ابن کثیر نے البدایة والنھایةمیں اس واقعے کی پوری تفصیل محفوظ کر دی ہے۔ ملاحظہ فرمائیے مذکورہ کتاب کی جلد ۵ ،صفحہ ۸۴۲۔
خلیفہ اول کی مشاورت
حضرت ابو بکر صدیقؓ تقریباً اڑھائی سال خلافت کی ذمہ داری کو بطریقِ احسن نبھانے کے بعد جب دنیا سے رخصت ہونے لگے تو مرض الموت میں انھوں نے اہلِ شوریٰ کو طلب کیا۔ خلیفہ راشد نے ان لوگوں کے سامنے اپنے جانشین کے لیے نام تجویز کرنے کی بات رکھی۔ شوریٰ کے یہ سب ارکان بلند مرتبت صحابہؓ تھے۔ ان میں حضرت عبد الرحمان بن عوف، حضرت عمر بن خطاب، حضرت عثمان بن عفان، حضرت علی بن ابی طالب، حضرت سعید بن زید، حضرت اسید بن حضیر اور حضرت ابو الاعور رضی اللہ عنہم کے نام آتے ہیں۔ اول الذکر پانچ صحابہ تو عشرہ مبشرہ میں سے ہیں اور ان کا تعلق مہاجرین سے ہے جبکہ آخری دو صحابہ انصار میں سے ہیں اور ان کی بھی بڑی فضیلت آنحضور کی زبان سے بیان کی گئی ہے۔ عشرہ مبشرہ میں سے بعض دیگر صحابہ اس وقت مختلف مہمات پر ہونے کی وجہ سے مدینہ منورہ میں موجود نہیں تھے۔
بعض روایات میں آتا ہے کہ اہل مشاورت نے حضرت ابو بکرؓ سے پوچھا کہ ان کے ذہن میں کس کا نام ہے تو آپؓ نے حضرت عمرؓ کا نام بتایا۔ ایک روایت کے مطابق آپؓ نے ایک تحریر بھی لکھوائی تھی، جس کے کاتب حضرت عثمان بن عفانؓ تھے اور اس میں بھی حضرت عمرؓ ہی کا نام تجویز کیا تھا۔ امام طبری نے اپنی مشہور کتاب تاریخ الامم والملوک میں لکھا ہے کہ تمام صحابہ نے نہ صرف اس تجویز سے اتفاق کیا بلکہ سیدنا علی بن ابی طالبؓ نے تو واضح الفاظ میں کہا کہ امت عمر بن خطابؓ کے سوا کسی اور شخص پر متفق نہیں ہوگی۔ یہ واقعہ امام ابن اثیر نے بھی لکھا ہے۔ (دیکھیے الکامل فی التاریخ ج۴، ص ۲۵-۱۵ ،اسد الغابة ج ۴، ص ۰۷۔) یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ حضرت ابو بکرؓ سے کہا گیا کہ عمر بن خطابؓ کی طبیعت اور مزاج میں قدرے سختی ہے تو آپؓ نے فرمایا کہ اس پر ذمہ داری کا بوجھ پڑے گا تو سختی نرمی میں بدل جائے گی اور یہ بات بالکل درست ثابت ہوئی۔
خلیفہ دوم کی مقررکردہ کمیٹی
حضرت عمرؓ قبیلہ بنو عدی کے فرد تھے۔ انھیں ان کی اہلیت و صلاحیت کی بنیاد پر خلیفہ اول، ان کی مجلس شوریٰ اور پھر پوری امت نے بطور خلیفہ ثانی منتخب کیا۔ سیدنا عمرؓ اپنے دس سالہ دورِ خلافت میں نہایت قابلِ قدر کارنامے سرانجام دینے کے بعد جب ایک بدبخت پارسی ابو لولو فیروز کے قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہوئے اور انھیں اپنی شہادت بالکل سامنے نظر آئی تو انھوں نے مستقبل کے خلیفہ کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک چھے رکنی کمیٹی مقرر کی۔ یہ سب ارکان عشرہ مبشرہ میں سے تھے۔ ان میں حضرت عبد الرحمان بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت عثمان بن عفان، حضرت علی بن ابی طالب، حضرت طلحہ بن عبید اللہ اور حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہم کے اسمائے گرامی ملتے ہیں۔ جب خلیفہ دوم کے سامنے یہ تجویز پیش کی گئی کہ اپنے بیٹے عبد اللہؓ کو بھی اس کمیٹی کا رکن بنا دیں تو انھوں نے صراحت کے ساتھ فرمایا کہ وہ اس کا اہل نہیں ہے۔
شوریٰ نے اس اہم موضوع پر اپنے اجلاس میں بحث و تمحیص کے بعد طے کیا کہ عبد الرحمان بن عوفؓ عوام الناس سے استصواب کریں اور پھر مجلس میں اپنی رپورٹ پیش کریں۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ مجلس میں حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ دونوں کے بارے میں آرا برابر تھیں۔ اسی لیے عوام کے سامنے کوئی نام تجویز کرنے سے پہلے ان کی طرف رجوع ضروری سمجھا گیا۔ حضرت عبد الرحمان بن عوفؓ نے تین دن رات انتہائی محنت و مشقت سے اس اہم اور نازک ترین ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کا حق ادا کیا۔ جن جن لوگوں تک وہ پہنچ سکتے تھے، ان کی رائے انھوں نے معلوم کی۔ گھروں میں بیٹھی پردہ نشین خواتین سے بھی رائے لی گئی۔ چراگاہوں میں جانوروں کی دیکھ بھال کرنے والے چرواہوں اور مدینہ کے آس پاس خیمہ زن مسافروں سے بھی ان کی رائے پوچھی گئی۔ تیسرے دن کے اختتام پر حضرت عبد الرحمن ابن عوفؓ مجلس کے پاس آئے اور ان سب کی موجودگی میں مسجد نبوی کے اندر اعلان فرمایا کہ امت کی اکثریت نے عثمان بن عفانؓ کو یہ ذمہ داری اٹھانے کا مکلف بنایا ہے۔ یہ اعلان ہوتے ہی تمام لوگوں نے حضرت عثمانؓ کے ہاتھ پر بیعت کی، حتیٰ کہ ہجوم کی وجہ سے ان تک پہنچنا بھی خاصا دشوار ہوگیا تھا۔ (تفصیلات کے لیے دیکھیے اسد الغابة ج۴، ص ۵۷، البدایة والنھایة، ج۷، ص ۶۴۱-۵۴۱ )
شہادتِ عثمان اور مابعد
حضرت عثمانؓ نے تقریباً بارہ سال خلافت کی۔ ان کی خلافت کے آخری دور میں کچھ فتنے سراٹھانے لگے۔ انھی فتنوں کے نتیجے میں وہ فساد رونما ہوا جس میں آپ کو مدینہ کے اندر شہید کر دیا گیا۔ خلیفہ سوم کی مظلومانہ شہادت کے بعد امت مسلمہ پر ایک بہت ہی مشکل اور کڑا وقت آگیا۔ صحابہ کرامؓ اس صورتِ حال سے سخت پریشان تھے۔ اس موقع پر مدینہ کے سب لوگوں نے حضرت علی بن ابی طالبؓ سے درخواست کی کہ وہی اس نازک گھڑی میں امت کی قیادت کا فریضہ ادا کرسکتے ہیں۔ امام طبری کے بقول حضرت علیؓ نے فرمایا کہ کسی دوسرے پر یہ ذمہ داری ڈالو، میں وزیر و مشیر کے طور پر خدمات سرانجام دیتا رہوں گا مگر لوگ کسی اور کے بارے میں سوچنے پر بھی تیار نہ تھے۔ شدید اصرار پر انھوں نے فرمایا کہ خلافت پوری امت کی امانت ہے۔ یہ خفیہ طریقے سے اور چند لوگوں کے درمیان طے نہیں پاسکتی۔ اس پر لوگوں نے انھیں کہا کہ وہ مسجد میں تشریف لائیں اور خود اپنی آنکھوں سے پورا منظر دیکھ لیں۔ جب وہ مسجد میں تشریف لائے تو جم غفیر والہانہ ان کی طرف لپکا اور سب نے بلا اختلاف و استثنا ان کے ہاتھ پر بیعت کی۔
چوتھے خلیفہ راشد اور مشکلات
المیہ یہ ہوا کہ شام کے گورنر حضرت معاویہ بن ابی سفیانؓ نے حضرت علیؓ کی خلافت کو متنازعہ بنانا چاہا جبکہ صحابہؓ کی اکثریت اور عمومی راے عامہ ان پر اعتماد کا اظہار کر چکی تھی۔ حضرت معاویہؓ انعقادِ خلافت سے قبل حضرت عثمانؓ کے قصاص کا مطالبہ کر رہے تھے۔ دراصل یہ مطالبہ بھی اسی صورت میں پورا ہوسکتا تھا جبکہ نظام قائم ہوجاتا اور اسے تسلیم کر لیا جاتا۔ حضرت معاویہؓ کے ایک تندوتیز خط کے جواب میں چوتھے خلیفہ راشد نے نہایت حکمت و ملائمت کے ساتھ لکھا کہ میری بیعت انھی لوگوں نے کی ہے، جنھوں نے مجھ سے قبل ابو بکرؓ، عمرؓ اور عثمانؓ کی بیعت کی تھی اور جو شرائط ان کے انتخاب کے لیے تھیں انھی شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے مہاجرین و انصار نے میری بیعت کی ہے۔ جناب معاویہؓ کا حضرت علیؓ کو خلیفہ تسلیم نہ کرنا ایک المیے سے کم نہیں لیکن بہر حال حقیقت یہی ہے کہ انھوں نے شام میں اپنی الگ حکومت تشکیل دی، جس کے بارے میں انھیں کئی صحابہ نے ان کے استفسار پر بتایا کہ وہ خلیفہ راشد نہیں بلکہ بادشاہ ہیں۔ سیدنا معاویہؓ خود بھی یہ تسلیم کرتے تھے کہ وہ خلیفہ کے بجائے بادشاہ ہیں۔ وہ کھرے انسان تھے، اس لیے اس معاملے میں انھوں نے غلط تعبیرات کا سہارا نہیں لیا۔ چوتھے خلیفہ راشد سیدنا حضرت علیؓ نے تقریباً پونے پانچ سال تک حکومت کی۔ پھر انھیں ایک خارجی عبد الرحمان ابن ملجم نے دھوکے سے شہید کر دیا۔ ان کی شہادت کے بعد ان کے بیٹے حضرت حسنؓ کی بیعت کی گئی مگر انھوں نے چھے ماہ بعد امت کو افتراق سے بچانے کی خاطر حضرت معاویہ بن ابی سفیانؓ کے ساتھ مصالحت کرکے ان کی بیعت کر لی۔
خلافت کا تیس سالہ دور
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں فرمایا :میری امت میں خلافت تیس (۰۳) سال تک رہے گی، پھر ملوکیت کا دور شروع ہوجائے گا۔ یہ حدیث بیان کرنے کے بعد راوی حضرت سفینہ سے سعید بن جمھان نے تفصیل پوچھی تو انھوں نے چاروں خلفائے راشدین کے دورِ خلافت کو الگ الگ بیان کیا اور فرمایا یہ تیس سال پورے بنتے ہیں۔ سعید نے کہا مگر بنو امیہ تو سمجھتے ہیں کہ وہ بھی خلفا ہیں۔ حضرت سفینہ نے فرمایا :یہ غلط کہتے ہیں۔ یہ تو بدترین حکمران اور ملوکیت کے مظہر ہیں (سنن الترمذی جلد ۸ ص ۷۶۱ روایت سعید بن جُمھان و سفینة)۔ علامہ علقمیؒ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے شیخ نے فرمایا کہ ان تیس سالوں میں چاروں خلفائے راشدین کے دورِ خلافت کے ساتھ سیدنا حسن بن علی کے دور کو بھی شامل کیا جائے تو پورے تیس سال بن جاتے ہیں۔ (عون المعبود جلد دہم صفحہ ۴۶۱) علقمی نے محدث امام نووی کی کتاب تہذیب الاسماءکے حوالے سے ان کی رائے بھی اس قول کی تصدیق میں نقل کی ہے کہ حضرت حسن کی مصالحت پر تیس سال کا عرصہ مکمل ہوتا ہے۔
یزید کی نامزدگی اور صحابہ کا ردّعمل
آنحضور کے ارشاد کی روشنی میں اس مصالحت کے وقت خلافت کو تیس سال مکمل ہوگئے تھے۔ اس کے بعد آنحضور کی اس پیشین گوئی کے مطابق خلافت کی جگہ ملوکیت کا دور آنا تھا، سو وہ آگیا۔ بادشاہ ہونے کے باوجود حضرت معاویہؓ صحابیِ رسول تھے اور عادل تھے۔ ان کی بادشاہت کو صحابہؓ نے عمومی طور پر قبول کیا تاہم جب انھوں نے اپنی ملوکیت کو موروثی بنانا چاہا تو صحابہؓ نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ تمام معروف صحابہ تو مزاحمت پر ڈٹے رہے جبکہ دیگر صحابہ نے اتمامِ حجت کے بعد خاموشی اختیار فرمالی مگر اس فیصلے پر صاد نہیں کیا۔ یزید کو حکمران تسلیم کرنے سے انکار کرنے والوں کی فہرست میں صحابہ کی بڑی تعداد کے نام آتے ہیں۔ انصار و مہاجرین کی اکثریت نے یزید کی حکمرانی پر نکیر کی۔ ان میں حضرت عبد اللہ بن زبیر، حضرت عبد اللہ بن عمر، حضرت عبد اللہ بن عباس، حضرت حسین بن علی حضرت عبد الرحمان بن ابی بکر، حضرت احنف بن قیس اور حضرت حجر بن عدی رضی اللہ عنہم کے اسماے گرامی خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ یزید اپنی ذاتی حیثیت اور کردار کے لحاظ سے بھی خلافت کا کسی صورت اہل نہ تھا اور پھر اس کے تقرر اور نامزدگی کا طریقہ بھی موروثی بادشاہت کا اثبات اور مشاورت و اہلیت کا انکار تھا۔ اس وجہ سے سیدنا امام حسینؓ نے فیصلہ کیا کہ نظامِ اسلام کے ایک اہم ترین رکن کے خاتمے پر خاموش تماشائی رہنے کی بجائے جدوجہد کا راستہ اپنایا جائے۔ آپ نے بہت بڑی قربانی دی مگر یہ اصول کہ اسلام میں نظامِ حکومت شورائی اور مبنی پر اہلیت ہے، زندہ کر دیا۔
واقعہ کربلا اوریزید کا کردار
واقعہ کربلا ہماری تاریخ کا المناک ترین باب ہے ۔نبی مہربانﷺ کی رحلت کے نصف صدی بعد آپ کے محبوب نواسے کو ان کے پورے اہل و عیال کو اس بے دردی کے ساتھ تہ تیغ کر دینا اموی حکومت کے دامن پر سیاہ ترین دھبہ ہے اس کا سبب محض یہ تھا کہ اموی حکمران یزید کی حکومت باقی نہ رہ سکتی تھی اگر امام حسین زندہ رہتے ۔یزید اور اس کے لاﺅ لشکر نے جس سنگدلی اور شقاوت کا مظاہرہ کیا وہ ہر لحاظ سے قابلِ مذمت ہے ۔ان واقعات کا علمی تجزیہ تو ہونا چاہیے مگر افراط و تفریط کا شکار ہو کر تاریخ کو اپنی من مانی تعبیر کے سانچے میں نہیں ڈھالنا چاہیے۔مستند واقعات کی کسوٹی پر تمام کرداروں کو پرکھاجائے تو ہر ایک کا درست تعارف سامنے آجاتا ہے۔
یزید تاریخ کا ایک ایسا کردار ہے کہ جس پر سبّ و شتم کی بوچھاڑ ہوتی ہے مگر سب و شتم نہ تو درست طرزِ عمل ہے، نہ اس سے کوئی مسئلہ حل ہوتا ہے۔ دوسری جانب ردعمل کے طور پر کچھ لوگ یزید کی پارسائی اور مناقب بیان کرنے کا محاذ سنبھال لیتے ہیں۔ یوں دونوں جانب کی کھینچا تانی نے حقائق کو کافی حد تک مسخ کیا ہے۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ نے نہایت معتدل اور مبنی برحق موقف بیان فرماتے ہوئے کہا کہ یزید کے بارے میں تین گروہ پائے جاتے ہیں۔ ایک گروہ اس کی تحسین و تعظیم کرتا اور اس سے محبت کا اظہار کرتا ہے۔ دوسرا گروہ اس پر سبّ و شتم اور لعنت بھیجتا اور اس کی تفکیر ضروری سمجھتا ہے۔ تیسرا موقف ہمارا ہے کہ ہم نہ اس سے محبت کرتے ہیں، نہ اس کی تعظیم و تحسین اور نہ ہی اس کو گالیاں دیتے ہیں۔ (مفہوم از فتاویٰ شیخ الاسلام ابن تیمیہ) یزید میں بلاشبہ کئی کبائر اور بڑی بڑی برائیاں تھیں اور خلافت کے اعلیٰ منصب کا تو وہ کسی لحاظ سے بھی اہل نہیں تھا۔ اس کے خلاف صحابہ کرامؓ کا موقف مبنی برحق تھا۔ یہ بالکل الگ موضوع ہے کہ اس کا تختہ کیوں نہ الٹا جاسکا۔ اس کے تخت پر براجمان ہونے کو قطعاً دلیل قرار نہیں دیا جاسکتا کہ وہ حق پر تھا۔اگر اس دلیل کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر فرعون اور نمرود جیسے تمام حکمرانوں کو بھی برحق ماننا پڑے گا جو کہ سرا سر خلافِ حقیقت ہے ۔
اسلام کے نظامِ خلافت کو جاننے والے صحابہ کرام بخوبی سمجھتے تھے کہ یزید اپنے کردار کے لحاظ سے خلافت کی عظیم ذمہ داری کے لیے بالکل نااہل ہے۔ ان حالات میں اہلِ حجاز کے مشورے سے حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ نے حجاز میں اپنی خلافت قائم کی اور یہاں کے تمام لوگوں نے ان کے ہاتھ پر برضا و رغبت بیعت کی۔ دوسری طرف اہلِ کوفہ نے ہزاروں کی تعداد میں خطوط لکھ کر حضرت حسین بن علیؓ کو کوفہ آنے کی دعوت دی، یہ سب واقعات تاریخ میں محفوظ ہیں۔ ابن اثیر ج۲، ص ۰۵۲، تاریخ طبری ج۴، ص ۵۲۲، الکامل لابن الاثیر، ج۲، ص ۰۵-۹۴ پر وہ تمام تفصیلات موجود ہیں جو اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ یزید حضرت معاویہؓ کا بیٹا ہونے کے علاوہ کسی لحاظ سے بھی اس قابل نہیں تھا کہ کوئی فرد یہ سوچتا کہ زمامِ اقتدار اس کے ہاتھ میں ہونی چاہیے۔
صائب رائے
حضرت احنف بن قیسؓ کے بارے میں ابن الاثیر نے صراحت سے لکھا ہے کہ اگرچہ وہ حضرت معاویہؓ کے قریبی ساتھی تھے لیکن ان کی اس سوچ سے کہ وہ اپنے بیٹے یزید کو اپنا جانشین مقرر کریں، انھیں سخت اختلاف تھا۔ جب حضرت معاویہؓ نے ان سے اس موضوع پر رائے لینا چاہی تو انھوں نے صاف لفظوں میںفرمایا کہ آپؓ کے سامنے سچی بات کہتے ہوئے لوگ ڈرتے ہیں لیکن خداخوفی کا تقاضا ہے کہ بات سچی کی جائے۔ امیر المومنین! آپ بخوبی جانتے ہیں کہ یزید کی راتیں کہاں بسر ہوتی ہیں اور دن کیسے گزرتے ہیں۔ آپؓ کے سامنے اس کا ظاہر و باطن سب عیاں ہے۔ پھر آپ اسے کس طرح اپنا جانشین بنا رہے ہیں؟ حضرت معاویہؓ حلیم الطبع انسان تھے۔ اپنے دوست کی اس بات سے بد مزہ تو ہوئے لیکن خاموشی اختیار کی۔ البتہ انھوں نے مصمم ارادہ کر رکھا تھا کہ اپنے بیٹے کو اپنا جانشین بنائیں گے۔ کبار صحابہ کی مخالفت کے باوجود حضرت معاویہؓ نے اپنے نااہل بیٹے کو اپنا جانشین مقرر کر دیا۔ البتہ تاریخ میں مذکور ہے کہ انھوں نے یزید کو کئی مرتبہ نصیحت کی کہ اگر کبھی حسین بن علیؓ سے معاملہ پیش آجائے تو نرمی اور درگزر کا رویہ اپنانا۔ انھوں نے سیدنا حسینؓ کے مناقب بھی بیان کیے مگر مناقب بیان کرنے سے کیا ہوتا ہے جبکہ فیصلہ نااہل کے حق میں صادر ہوجائے۔
سیدنا حسینؓ اور اہل کوفہ
یزید کی خلافت پورے عالمِ اسلام میں قبول نہیں کی گئی تھی۔ اہل عراق، حجاز، مصر اور دیگر بہت سے علاقوں میں یزید کی مخالفت کی جارہی تھی۔ اہلِ کوفہ نے حضرت امام حسینؓ کو نہ صرف خطوط لکھے بلکہ کئی وفود بھی ان کی خدمت میں بھیجے۔ ان لوگوں کے مسلسل اصرار اور پُر زور مطالبے پر آپؓ نے عراق کی طرف رختِ سفر باندھا۔ اس دوران مکہ، مدینہ اور پورے حجاز میں موجود صحابہ کرامؓ یزید کی ناجائز حکومت اور سیدنا حسینؓ کے سفرِ کوفہ پر اپنے اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے۔ اکثر صحابہؓ کی رائے یہ تھی کہ امام حسینؓ کو حجاز ہی میں مقیم رہنا چاہیے۔ اہلِ کوفہ کے بارے میں حضرت عبد اللہ بن عباسؓ اور حضرت حسینؓ کے تایازاد بھائی اور بہنوئی حضرت عبد اللہ بن جعفرؓ کی جچی تلی رائے یہ تھی کہ وہ قابلِ اعتماد لوگ نہیں ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت حسینؓ نے اس کے باوجود کوفہ جانے کا فیصلہ کیوں کیا؟ جہاں تک انسانی تدبیر، حکمت اور دور اندیشی کا تعلق ہوسکتا ہے، حضرت حسینؓ نے بلاشبہ اس کا اہتمام کیا تھا۔ انھوں نے خود کوفہ جانے سے قبل اپنے معتمد ساتھی اور تایا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیلؓ کو کوفہ بھیجا۔ انھوں نے کوفہ جاکر حالات کا جائزہ لیا اور مفصل خط میں موافق اور سازگار حالات کی رپورٹ دی۔ بعد میں اچانک جو حالات نے پلٹا کھایا تھا، اس کی اطلاع سیدنا حسینؓ تک بروقت نہیں پہنچ پائی تھی۔ راستے میں ایک مقام پر آپؓ کو اس دور کا مشہور شاعر فرزدق ملا جو کوفہ سے آرہا تھا۔ وہ آپ کا بڑا مدّاح تھا۔ اس سے آپ نے وہاں کے احوال پوچھے تو اس نے واضح الفاظ میں کہا ”قلوب الناس معک وسیوفھم مع بنی امیہ“ (الکاملج۳، ص ۷۷۲) یعنی ان کے دل تو آپ کے ساتھ ہیں مگر ان کی تلواریں بنو امیہ کے ساتھ ہوں گی۔ یہ ایسا مرحلہ تھا کہ اس رپورٹ پر یہاں سے راہِ فرار اختیار کرنا کمزوری کی دلیل بن جاتا۔
نعمان بن بشیر اور ابن زیاد
کوفہ میں بنو امیہ کی طرف سے حضرت نعمان بن بشیرؓ گورنر تھے۔ ہر چند کہ گورنر دربارِ بادشاہت کا مقرر کردہ تھا مگر وہ خود بھی موروثی بادشاہت پر انشراحِ صدر نہیں رکھتا تھا۔ دوسری جانب بصرہ کا گورنر عبید اللہ بن زیاد، حضرت معاویہؓ کا معتمد ترین شخص تھا مگر ان کی وفات کے بعد یزید بوجوہ اس سے نالاں تھا اور معزول کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ حضرت مسلم بن عقیلؓ کی بیعت کی اطلاعات گورنر ہاﺅس کے علاوہ دمشق کے شاہی دربار میں بھی پہنچ رہی تھیں۔ بنو امیہ نے جاسوسی کا ایک بہت موثر نظام قائم کر رکھا تھا اور کمال یہ ہے کہ دورِ جدید کی طرح عام طور پر کسی جاسوس کے بارے میں کسی کو علم نہیں ہوتا تھا کہ یہ سرکاری کارندہ ہے۔ جاسوسوں کو بڑی بڑی رقوم سے نوازا جاتا تھا۔ جاسوسوں کے ذریعے حضرت نعمان بن بشیرؓ کی شکایات مسلسل یزید کو مل رہی تھیں۔ کسی جاسوس نے ان سے ملاقات کرکے کہا کہ حکومت کے خلاف یہاں بغاوت ہو رہی ہے اور آپ گورنر ہوتے ہوئے خاموش ہیں۔ یا تو آپ کمزور ہیں یا آپ کے عزائم کچھ اور ہیں۔ نعمان بن بشیرؓ جاسوس کے ارادوں کا ادراک نہ کرسکے اور انھوں نے کہا: میں گورنری کی قوت کو استعمال کرکے احکامِ الہٰی کے خلاف سرکشی اور خلقِ خدا پر ظلم نہیں ڈھاسکتا۔ جاسوس نے فوراً یہ اطلاع دمشق بھیج دی۔ اس پر یزید نے اپنے کچھ معتمد درباریوں سے مشورہ کیا تو انھوں نے اسے کہا کہ اگر آپ کے والد معاویہؓ آج زندہ ہوتے تو وہ ابن زیاد کی خدمات سے ضرور فائدہ اٹھاتے۔
مورخین نے لکھا ہے کہ یزید نے اس مشاورت کے بعد ابن زیاد کے متعلق اپنی سابقہ رائے تبدیل کرلی اور اسے نہ صرف بصرہ کی گورنری پر بحال رکھا بلکہ نعمان بن بشیرؓ کو معزول کرکے کوفہ کو بھی اس کی ولایت میں دے دیا۔ عبید اللہ ابن زیاد انتہائی سفاک اور شقی القلب انسان تھا۔ اس نے یہ منصب مل جانے کے بعدلبادہ اوڑھ کر کوفہ کا سفر کیا اور وہاں پہنچ کر اپنے حواریوں کے ذریعے لوگوں کو یہ چکمہ دیا کہ وہ حسین بن علی ہے۔ کئی لوگ اس غلط فہمی کا شکار بھی ہوئے۔ چنانچہ ابن زیاد نے گورنر ہاﺅس میں ڈیرہ جما کر مختلف لوگوں کو بڑی بڑی رقوم دیں اور جاسوسوں کے ذریعے حضرت مسلم بن عقیلؓ کے خلاف سازش کا ایسا تانا بانا بنا کہ بالآخر انھیں گرفتار کر لیا گیا۔ حضرت مسلم بن عقیلؓ ہانی بن عروہ کے مکان میں مقیم تھے۔ ہانی بن عروہ کو گورنر ہاﺅس بلایا گیا اور ابن زیاد نے انھیں سخت سزا دی اور مسلم بن عقیل کے بارے میں پوچھا۔ انھوں نے بتانے سے انکار کر دیا۔ پھر اس کے دربار میں ہانی بن عروہؓ کے سامنے ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا کہ مسلم تمھارے گھر میں ہے اور یہ وہی شخص تھا جو ہانی بن عروہ کے گھر میں جاکر حضرت مسلم بن عقیلؓ کے ہاتھ پر نہ صرف بیعت کر چکا تھا بلکہ ایک خطیر رقم بھی پیش کی تھی۔
بے وفا اور بزدل اہلِ کوفہ
ہانی بن عروہ حضرت حسینؓ کے زبردست حامی تھے مگر اس جاسوس کی مخبری اور پھرگواہی کے بعد سخت خلجان کا شکار ہوگئے۔ اب وہ زخمی حالت میں یہ سب منظر دیکھ رہے تھے۔ انھیں قید کرنے اور حضرت مسلم بن عقیلؓ کو پکڑنے ، قتل کرنے اور ان کا سر ابن زیاد کے سامنے پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا۔ جس شخص نے یہ جاسوسی کی تھی، اس کا نام مورخین نے سرجون بیان کیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اسے یزید نے دمشق سے ابن زیاد کے پاس بھیجا تھا۔ حضرت مسلمؓ کو ہانی بن عروہ کی گرفتاری کی اطلاع ملی تو انھوں نے اپنے حمایتیوں کو ساتھ لے کر مقابلہ کرنے کی ٹھانی۔ ان کے ساتھ ساڑھے تین چار ہزار کے لگ بھگ کوفی میدان میں نکل کھڑے ہوئے مگر جوں ہی ان بد بختوں نے بڑے بڑے سرداروں کو عبید اللہ بن زیاد کے محل میں دیکھا اور انھوں نے بالکونی سے اپنے اپنے قبیلے کے تمام لوگوں کو سرزنش کی تو آہستہ آہستہ یہ بدعہد حضرت مسلم بن عقیلؓ کا ساتھ چھوڑ کر منتشر ہوگئے۔ آخر میں ان کے ساتھ صرف چند سو افراد رہ گئے۔
مسلم بن عقیل اور ان کے بچوں کی شہادت
حضرت مسلمؓ نے یہ صورتِ حال دیکھی تو انھوں نے بھی شام کے وقت کسی محفوظ جگہ کی طرف نکلنا چاہا۔ اس دوران پورے شہر میں جاسوسی کا جال پھیلایا جاچکا تھا۔ اسی رات کو حضرت مسلم بن عقیلؓ کو سرکاری جتھوں نے گرفتار کیا اور گورنر ہاﺅس لے آئے۔ حضرت مسلمؓ کے دو کمسن بچے بھی شہید کر دیے گئے تھے۔ ابن زیاد نے حضرت مسلمؓ کو دیکھتے ہی حکم دیا کہ اسے فی الفور قتل کردیا جائے۔ اس کا بے سر لاشہ محل کے سامنے پھینک دیا جائے۔ حضرت ہانی کو سولی پر چڑھانے کا حکم صادر ہوا۔ یوں ایک جانب یہ نقشہ یکسر بدل گیا مگر دوسری جانب حضرت حسین بن علیؓ تک درست اطلاعات نہ پہنچ سکیں۔ وہ اس وقت تک حجاز سے حدودِ عراق میں داخل ہوچکے تھے۔ ان کے ساتھ کوئی بہت بڑا لشکر نہیں تھا۔ ان کے قافلے میں کچھ خواتین تھیں اور ڈیڑھ سو کے قریب ان کے اعیان و انصار تھے۔ یہ بات بھی تاریخ میں منقول ہے کہ قادسیہ کے قریب حر بن یزید آپؓ سے ملا اور اس نے کوفے کے حالات آپؓ کو بتائے۔ مسلم بن عقیلؓ اور ان کے بچوں کی شہادت کی خبر بھی ملی۔ حر کی رائے یہ تھی کہ قافلے کو وہیں سے واپس پلٹ جانا چاہیے۔ حضرت حسینؓ کا بھی اسی جانب میلان تھا مگر حضرت مسلم بن عقیلؓ کے بھائیوں نے کہا کہ جب ہمارا بھائی قتل ہوگیا ہے تو ہم یہاں سے کیسے واپس جاسکتے ہیں۔ اصل بات تو یہی ہے کہ تقدیر ہر چیز پر غالب ہوتی ہے۔ حضرت حسینؓ نے اپنا رخ کوفہ سے کربلا کی طرف موڑ لیا۔
راستے کی رکاوٹیں
راستے میں جگہ جگہ یزیدی دستوں نے قافلہ¿ اہلِ بیت کو روکنا چاہا مگر وہ کسی نہ کسی طرح کربلا تک آپہنچے۔ یہ ۰۶ھ کے آخری دن تھے۔ اسی اثنا میں نئے سال کا ہلال طلوع ہوا۔ عمرو بن سعد بن ابی وقاصؓ بنو امیہ کی حکومت میں ایک علاقے کا حاکم تھا۔ جب اسے ابن زیاد نے اس قافلے کو قتل کرنے کا حکم دیا تو شروع میں اس نے کافی پس و پیش کیا۔ آخر کار ابن زیاد کے دباﺅ کے تحت عمرو بن سعد نے اس جرم کا ارتکاب کر ہی ڈالا۔ جب عمرو بن سعد نے حضرت حسینؓ کا راستہ روکنا چاہا تو آپؓ نے اسے بتایا کہ مجھے اہلِ عراق نے آنے کی دعوت دی، جس کے نتیجے میں میں حجاز سے چل کر یہاں آیا۔ آپؓ نے خطوط کا انبار بھی اس کے سامنے پیش کیا۔ عمرو بن سعد نے حضرت حسینؓ کے دعوے کی تکذیب نہیں کی بلکہ کہا کہ اہلِ کوفہ نے آپ کو خطوط لکھے مگر اب وہ آپ کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں۔ آپ کے لیے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ یزید کی بیعت کرلیں۔ حضرت حسینؓ نے فرمایا کہ میں ایسا شخص نہیں ہوں جو دب کر بیعت کرلے۔ میں تمھارے سامنے تین شرائط پیش کرتا ہوں۔ طبری اور دیگر مورخین نے ان شرائط کا ذکر کیا ہے جو درج ذیل ہیں:
۱- مجھے چھوڑ دو کہ میں براہِ راست یزید کے پاس چلا جاﺅں اور خود اس سے معاملہ کروں۔
۲- مجھے چھوڑ دو کہ میں جہاں سے آیا ہوں، وہیں واپس چلا جاﺅں۔
۳- مجھے چھوڑ دو کہ میں کسی سرحد پر چلا جاﺅں۔
نواسہ رسول کی جراءت ایمانی
عمرو بن سعد نے امام کا موقف سننے کے بعد کسی حد تک نرمی کا اظہار کیا مگر کہا کہ وہ خود کوئی فیصلہ کرنے کا مجاز نہیں ہے۔ اسے ابن زیاد سے منظوری لینا پڑے گی۔ جب ابن زیاد تک یہ پیغام پہنچا تو وہ آگ بگولہ ہوگیا اور اس نے سخت الفاظ میں عمرو بن سعد کو سرزنش کرتے ہوئے حکم دیا کہ یا تو حسین سے بیعت لویا اس کا سر قلم کر کے میرے دربار میں بھیجو۔ سیدنا حسینؓ کو جب اس صورتِ حال کا علم ہوا تو انھوں نے پوری جراءتِ ایمانی کے ساتھ فرمایا کہ اللہ کی قسم! میں سر تو کٹوا سکتا ہوں مگر زبردستی مجھ سے بیعت نہیں لی جاسکتی۔ اب وہ مرحلہ آگیا کہ جو تاریخ میں معروف ہے اور بے شک اس پر افراط و تفریط کے شکار لوگوں نے جتنے بھی ردے چڑھائے ہیں، بہر حال اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت حسین ابن علیؓ اور ان کے ساتھیوں نے ایک بڑی قربانی پیش کی، جس کا مقصد آمریت و ملوکیت کا انکار اور اسلامی دستور کی اہم ترین شق خلافت و شورائیت کا تحفظ تھا۔ حضرت حسینؓ کے ساتھی ایک ایک کرکے شہید ہوتے چلے گئے۔ آخر میں آپؓ تنہا رہ گئے۔ پانی تک رسائی بھی ممکن نہ تھی۔ گرمی کی حدت اور جنگ کی شدت، اس لمحے کی سختی اور دل دہلا دینے والا منظر، اس سب کچھ کے باوجود سیدنا حسین بن علیؓ کے پائے استقلال میں کوئی لغزش نہیں آئی۔ وہ بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے مگر یزید کی ناجائز حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔کیا خوب کہا گیا ہے
سرداد نہ داد دست دردستِ یزید
حقّا کہ بنائے لا الہ است حسینؓ
کربلا کا دل فگار واقعہ
ماہِ محرم آتا ہے تو واقعاتِ کربلا کا تذکرہ شروع ہو جاتا ہے ۔ان واقعات کی تاریخی شہادتیں اور مستند اسناد موجود ہیں مگر مجالس کے بیشتر واقعات مبالغہ آمیزی، داستان گوئی اور محفل آرائی کے زمرے میں آتے ہیں ۔سیّدنا امام حسین ؓ نے دیگر صحابہ کی طرح یزید کی حکومت کو اس بنیاد پر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا کہ وہ ایک نااہل اور کردار کے لحاظ سے انتہائی پست انسان تھا۔آپؓ کو اہلِ عراق نے سفارتوں اور خطوط کے ذریعے دعوت دی کہ وہ کوفہ آجائیں تاکہ لوگ ان کی بیعت کر لیں ۔یہ طویل داستان تاریخ میں محفوظ ہے کئی پیش بندیاں کرنے اور اپنے نمائندے حضرت مسلم بن عقیل کو کوفہ بھیجنے کے بعد آپ نے اس پر خطر سفر کا فیصلہ کیا تھا۔بعد میں حالات بدل گئے اور عراق کے نئے گورنر عبید اللہ ابنِ زیاد کے ظلم و ستم کے نتیجے میں بزدل اور بے وفا کوفیوں نے آپ کا ساتھ چھوڑ دیا مسلم بن عقیل اور ان کے بچوں کو شہید کر دیا گیا۔اور حالات یکسر بدل گئے ۔اس وقت تک امام حسین ؓ حدودِ عراق میں داخل ہو چکے تھے ۔بدلے ہوئے حالات میں انہوں نے مزہم قوتوں سے کہا کہ وہ ان کا راستہ چھوڑ دیں تاکہ براہِ راست یزید سے جاکر وہ بات کر لیں یا ان کو واپس جانے دیا جائے مگر انہیں بتایا گیا کہ یا تو یزید کی بیعت کریں یا پھر مرنے کے لیے تیار ہو جائیں ۔ان حالات میں امام حسینؓ نے بزدلی کی بجائے بہادری کا راستہ اپنایا۔اور رخصت کی بجائے عزیمت کی راہ لی پھر وہ المناک معرکہ پیش آیا جس میں ایک جانب چند اہلِ حق تھے اور دوسری جانب ہوا و ہوس کے غلام ہزاروں لشکر ۔ اس معرکے میں حضرت حسینؓ کے تما ساتھی ایک ایک کر کے شہید ہوتے چلے گئے ۔حتیٰ کہ ایک معصوم بچہ بھی شہید ہو گیا ۔
واقعاتِ کربلا تفصیلی ہیں مگر اختصار کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ جب حضرت حسینؓ کو تمام راستے مسدود کرکے جنگ پر مجبور کر دیا گیا تو پھر آپؓ نے پیٹھ نہیں پھیری۔ البتہ یہ بھی آپؓ کی عظمت ہے کہ رات کو آپؓ نے اپنے تمام ساتھیوں کو جمع کرکے فرمایا کہ یہ لوگ میرے خون کے پیاسے ہیں۔ انھیں یا تو میری بیعت چاہیے یا پھر سر۔ آپ لوگوں سے ان کو کوئی غرض نہیں ہے۔ آپ رات کی تاریکی میں خاموشی سے یہاں سے کوچ کر جائیں۔ میں ان سے خود نمٹ لوں گا مگر ان کے سب ساتھیوں نے یک زبان یہ کہا کہ ہم کسی صورت آپؓ کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔ ہمارا جینا مرنا آپؓ کے ساتھ ہے۔ آپؓ کے ان ساتھیوں میں حر بن یزید اور اس کے چند رفقا حقیقت میں بنو امیہ کی طرف سے آپؓ کا راستہ روکنے والوں میں شامل تھے مگر آپؓ کی پر اثر تقریر کو سن کر انھوں نے سرکاری ذمہ داریوں اور مناصب کو پائے استحقار سے ٹھکرا دیا اور آپؓ کے ساتھ آخر وقت تک وفاداری کا حق نبھایا۔
معصوم بچے کا خو ن
۹ محرم کو عملاً جنگ شروع ہوگئی۔ قافلہ حسین کے جاں نثار ایک ایک کرکے شہید ہوتے چلے گئے۔ اس دوران ایک بڑا دلدوز واقعہ پیش آیا۔ جسے مورخین نے نقل کیا ہے۔ سیدنا حسین ابن علیؓ نے اپنے ایک شیر خوار بچے کو گود میں اٹھا رکھا تھا، جس طرح آنحضور آپؓ کو گود میں اٹھایا کرتے تھے۔ دشمن کی طرف سے ایک تیر آیا اور اس بچے کے حلق میں پیوست ہوگیا۔ آپؓ کی گود ہی میں یہ معصوم شہید ہوگیا۔ آپؓ اس کا خون پونچھتے اور فرماتے جاتے تھے کہ اے اللہ! یہ خون بھی تیرے راستے میں قربان ہے۔ ہمارے اور ان کے درمیان تو ہی فیصلہ کرنے والا ہے۔ ان لوگوں نے ہمیں خود ہی یہاں آنے کی دعوت دی اور اب یہی ہمارے قتل کے درپے ہیں۔ (واقعہ کربلا از پروفیسر سید ابو بکر غزنوی، ص ۸۴-۷۴)
شہادت کا اعلیٰ رتبہ
جب آپؓکے سب ساتھی ایک ایک کرکے شہید ہوگئے تو آپؓ نے ایک یمنی چادر اپنے بدن پر لپیٹ لی۔ پھر تلوار لے کر میدان میں اترے۔ وہ جس جانب جھپٹتے تھے جنگ جو منتشر ہوجاتے تھے۔ آپؓ کو کئی زخم لگ چکے تھے اور پیاس سے بھی آپؓ نڈھال تھے۔ موت آنکھوں کے سامنے تھی مگر آپؓبلا خوف و خطر دشمن سے نبرد آزما رہے۔ کربلا کا ذرہ ذرہ اس شہید وفا کو دیکھ کر پکار رہا تھا
دل میں سما گئی ہیں قیامت کی شوخیاں
دو چار دن رہا تھا کسی کی نگاہ میں
۰۱ محرم کے ظہر اور عصر کے درمیان آپؓ کی شہادت ہوئی۔ ان کے قاتل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ شمر بن ذی الجوشن تھا جبکہ یہ رائے بھی بیان کی جاتی ہے کہ آپؓ کو قبیلہ مُذحج کے ایک بدبخت شخص نے شہید کر دیا۔ یہ رائے امام ابن کثیر نے البدایة والنھایة میں دی ہے۔ (دیکھیے ج۸، ص ۸۸۱) اس کے مقابلے میں تاریخ طبری میں جس شخص کو آپؓ کا قاتل قرار دیا گیا ہے۔ وہ نسان بن انس نخعی تھا اور آپؓ کا سر کاٹنے والے کا نام طبری نے خولی الاصبعی بیان کیا ہے۔ یہی رائے امام ذہبی کی بھی ہے۔ آپؓ کا سر کاٹنے والا شقی القلب جب سنگ دل ابن زیاد کے پاس پہنچا تو بڑے فخر سے یہ اشعار پڑھے:
اوقر رکابی فضة و ذھبا
فقد قتلت الملک المحجبا
قتلت خیر الناس اما و ابا
و خیرھم اذ ینسبون نسبا
یعنی میرے اونٹ کو سونے اور چاندی سے لاد دو۔ میں نے ایسے بادشاہ کو قتل کیا ہے جس تک رسائی بڑی مشکل تھی۔ میں نے اس انسان کو موت کے گھاٹ اتارا جس کے ماں باپ سب انسانوں سے افضل تھے۔ یہ وہ شخص ہے جو تمام بنی نوعِ آدم میں اعلیٰ ترین نسب کا حامل تھا۔
صبر کی تلقین
ایامِ کرب و بلا میں بعض مواقع پر خیموں میں موجود خواتین کی طرف سے اگر کسی نوعیت کی پریشانی کا اظہار ہوا تو اس عظیم انسان نے انھیں بہترین انداز میں تلقین فرمائی کہ مومن کی ڈھال صبر ہے۔ دنیا کی بے ثباتی اور آخرت کی حیاتِ ابدی کو اتنے موثر اور دلنشین پیرائے میں بیان فرماتے رہے کہ ان کے ملفوظات پڑھ کر دل کو عجیب تسکین ملتی ہے۔ اگر امام حسینؓ کمزوری دکھا جاتے تو ایک بہت بڑا فکری انحراف رونما ہوجاتا۔ اس میں شک نہیں کہ عملی طور پر خلافت ملوکیت میں بدل گئی جو امت کے لیے بہت بڑا سانحہ ہے مگر یہ بات قابلِ لحاظ ہے کہ اگر فکری لحاظ سے بھی یہ امت راستہ کھو بیٹھتی تو اس کا حال بھی ان دیگر مذاہب کی طرح ہوتا جو الہامی کتب اور وحیِ ربانی کی روشنی سے فیض یاب ہونے کے باوجود مکمل طور پر اپنی منزل سے نابلد ہوگئے اور اپنا تشخص کھو بیٹھے۔ شہادتِ حسین ایک بہت بڑا سانحہ ہے لیکن اس کے بعد کے مراحل اس سے بھی زیادہ دلدوز ہیں۔
کوفہ و دمشق کے درباروں میں
مستند روایات کے مطابق حضرت حسینؓ کا سر کاٹ کر پہلے کوفہ میں عبید اللہ بن زیاد کے سامنے پیش کیا گیا، پھر دمشق میں یزید کے دربار میں پیش کیا گیا۔ دونوں جگہ ان دونوں بد بخت افراد نے نواسہ رسول کے بارے میں گستاخانہ رویہ اختیار کیا۔ یزید کے دربارمیں جب امام کا سر پیش کیا گیا تو اس نے آپؓ کے چہرہ مبارک پر ایک چھڑی سے ٹھوکا دیا۔ مورخین کے مطابق اس نے بار بار یہ حرکت کی۔ اس موقع پر دربار میں آنحضور کے صحابی حضرت ابو برزہ اسلمیؓ بھی موجود تھے۔ ان سے برداشت نہ ہوسکا اور انھوں نے کہا: اے یزید! اس چہرہ مبارک سے چھڑی الگ کر لو۔ خدا کی قسم میں نے اپنی آنکھوں سے بارہا یہ منظر دیکھا کہ نبی اکرم اپنے مبارک لبوں سے اس چہرے کو نہایت محبت سے چوما کرتے تھے۔ دونوں درباروں میں خاندانِ اہل بیت کی عفت مآب بیٹیوں کو بھی حاضر کیا گیااوردونوں جگہ ابن زیاد اور یزید نے بڑی تعلی کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ حسین باغی تھا جو اپنے انجام کو پہنچ چکا ہے۔ ہر دو مقامات پر حضرت حسینؓ کی شیردل ہمشیرہ سیدہ زینب بنت علیؓ نے ان کو منہ توڑ جواب دیا۔
حضرت معاویہؓ کی نصیحت اور یزید کا عمل
یزید کو حضرت معاویہؓ نے بارہا یہ نصیحت کی تھی کہ وہ حضرت حسینؓ کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرے اور انھیں حکمت سے شیشے میں اتارنے کی کوشش کرے۔ البدایة والنہایة کے الفاظ ہیں انظر حسین بن فاطمة بنت رسول فانہ احب الناس لی الناس فصل رحمہ وارفق بہ( دیکھیے ج۸، ص ۲۶۱ )۔حسین بن فاطمہ بنت محمد کا خصوصی خیال رکھنا کیونکہ وہ معمولی آدمی نہیں۔ لوگوں کے دلوں میں ان کی بڑی محبت ہے۔ ان کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے صلہ رحمی اور نرمی کا اہتمام کرنا۔ابن الاثیر نے بھی لکھا ہے کہ حضرت معاویہؓ نے یزید کو خصوصی نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اگر تمھارے مقابلے پر حسین بن علیؓ خروج کریں اور تم انھیں زیر کر لو تو عفو و درگزر کا معاملہ کرنا کیونکہ وہ ہمارے قریبی رشتہ دار ہیں۔ نیز وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے ہیں۔ اس لحاظ سے ان کا بڑا حق ہے۔ (دیکھیے الکامل ج۳، ص ۹۵۲)
یزید نے اپنے والد کی نصیحت پر عمل کرنے کے بجائے وہ راستہ اختیار کیا جو ظلم، شقاوت، سنگ دلی اور قطع رحمی کی بدترین مثال ہے۔ یزید کے بعض وکلا اس کی بریت ثابت کرنے کے لیے یہ دور کی کوڑی بھی لاتے ہیں کہ اس نے حضرت حسینؓ اور ان کے ساتھیوں کے قتل کا حکم نہیں دیا تھا، یہ محض عبید اللہ بن زیاد کا عمل ہے۔ ان وکلا کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں کہ اگر اس نے ایسا حکم نہیں دیا تھا تو:
۱- کیا اس نے ابن زیاد سے کوئی ہلکی سی بھی باز پرس کی کہ اس کے حکم کے بغیر اس نے اتنے بڑے جرم کا ارتکاب کیوں کیا؟
۲- تاریخ کے اس ریکارڈ کا کیا کیا جائے کہ ابن زیاد جس سے یزید نالاں تھا اس واقعہ کے بعد اس کا پسندیدہ اور چہیتا گورنر بن گیا؟
۳- جب شہید کربلا کا سر یزید کے دربار میں پہنچا تو ابن زیاد ہی کی طرح ان کے چہرہ اطہر پر چھڑی سے ٹھونکے کیوں دیے گئے؟
۴- اتنے بڑے سانحہ کے بعد بنات اہل بیت کو جس لب و لہجے میں اپنے دربارمیں اس نے مخاطب کیا اس کا اخلاقی یا انسانی لحاظ سے کیا جواز تھا؟
ہماری رائے
یزید کے اس عمل کی کوئی توجیہہ ممکن نہیں۔ البتہ امام ابن تیمیہؒ کی طرح ہمارا موقف یہ ہے کہ اس کے باوجود سب و شتم اسلامی نقطہ نظر سے ہر گز پسندیدہ عمل نہیں۔ یزید کا جو بھی جرم ہے، اس کا بدلہ وہ اللہ کے ہاں پارہا ہوگا اور روز محشر بھی پائے گا۔ اخلاقِ نبوی سے جو کچھ ہم نے سیکھا ہے، اس کا جوہر تو یہ ہے کہ کسی بد ترین دشمن کو، کسی کٹے کافر کو اور کسی ناپاک جانور کو بھی کبھی گالی نہ دو۔ تاریخ کا کوئی باب ہو یا اپنے ذاتی معاملات، ایک مومن کے لیے اسوہ حسنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس ہے۔ جہاں ہم اپنا یہ موقف واضح کرنا چاہتے ہیں وہیں ہم بلا خوف لومة لائم یہ حقیقت بھی واضح کرنا چاہتے ہیں کہ یزید جیسا ایک فرد جس کے بارے میں اس دور میں زندہ صحابہ کرام کی ایک بہت بڑی اکثریت کے خیالات و ملفوظات غیر مبہم انداز میں بتاتے ہیں کہ وہ ایک انتہائی ناپسندیدہ کردار ہے، نرم گوشہ رکھنا بڑی جسارت اور ناانصافی ہے۔ پھر یہ تو ایک جرم سے کم نہیں کہ جس شخصیت کو نبی اکرم نے جنت کے نوجوانوں کا سردار ہونے کی بشارت دی، جسے آپ نے اپنے بازووں اور کندھوں پر اٹھایا اور جسے آپ نے اپنا محبوب قرار دیا، اس کے مقابلے میں یزید جیسے ایک مستبد، بد عمل اور قاتل حکمران کو ترجیح دی جائے۔ آنحضور کی یہ حدیث کافی واضح ہے کہ قیامت کے دن ہر شخص اسی کے ساتھ کھڑا ہوگا، جس کے ساتھ اس نے محبت کی۔ المرا مع من احبہ ( صحیح بخاری کتاب الادب باب علامة حب اللّٰہ عزوجل حدیث نمبر ۲۰۷۵)
واقعہ کی اصل اہمیت
واقعاتِ کربلا کی تفصیلات مورخین نے بڑی شرح و بسط کے ساتھ قلم بند کی ہیں مگر ہمارے نزدیک اس کی اصل اہمیت یہ ہے کہ اسلام کا نظامِ خلافت اتنا قیمتی اثاثہ ہے کہ اس کے لیے بڑی سے بڑی قربانی بھی دی جاسکتی ہے۔ آمریت و ملوکیت اور استبداد و ظلم کا نظام اتنا ناپسندیدہ ہے کہ اسے مسترد کرنا اور اسے بدلنے کے لیے جدوجہد کرنا تقاضائے ایمانی ہے۔ انسان کی زندگی میں ابتلا و امتحان کے مرحلے آتے ہیں۔ ان مراحل میں ایک بندہ مومن کی کیا شان ہونی چاہیے، یہ بھی واقعات کربلا اور اس کے مابعد پیش آمدہ مراحل میں بخوبی دیکھا جاسکتا ہے۔ حضرت حسینؓ اور ان کے ساتھی چند لمحات کے لیے سخت صورتِ حال سے دوچار ہوئے مگر شہادت نے یہ سختیاں جلد ہی ختم کردیں۔ البتہ بچ جانے والا قافلہ جس میں ایک مرد کے سوا باقی سب خواتین تھیں، عزیمت کا پہاڑ بن کر تاریخ میں جگمگا رہا ہے۔ ہمیں ہر مرحلے میں اس سے سبق اور حوصلہ حاصل کرنا چاہیے۔
شہیدِ کربلا اور خاتونِ کربلا
تاریخ میں جب بھی شہید کربلا کا تذکرہ آتاہے تو ان کی بہن زینب بنت علی رضی اللہ عنہا کے حالات و واقعات بھی سامنے آ جاتے ہیں۔ زینب بنتِ علی رضی اللہ عنہا آنحضورکی نواسی، شیرِ خدا علی المرتضیٰؓ اور خاتون جنت فاطمة الزہراؓکی نورِ نظر اور شہیدِ کربلا حسین بن علی رضی اللہ عنہا کی بہادر اور جرات مند بہن تھیں۔ یہی نہیں بلکہ وہ عون اور محمد کی والدہ بھی ہیں جو اپنے عظیم ماموں حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے ساتھ میدان کربلا میں خلعتِ شہادت سے سرفراز ہوئے۔ حضرت زینب کی ولادت ۴ ھ میں ہوئی۔ آنحضورکی رحلت کے وقت ان کی عمر ۶ سال سے کچھ زائد تھی۔
حضرت زینبؓ کی ولادت کے وقت آنحضورجہاد کے لیے مدینہ سے باہر تشریف لے گئے تھے۔ جب مدینہ منورہ پہنچے تو آپنے اپنی نومولود نواسی کو گود میں اٹھالیا۔ لعاب مبارک اس کے منہ میں ڈالا اور کھجور چبا کر کھلائی۔ پھر فرمایا یہ مجھے بہت پیاری لگ رہی ہے۔ یہ اپنی نانی خدیجہؓ سے بہت مشابہت رکھتی ہے۔ آپنے اپنی بڑی بیٹی کے نام پر اپنی اس نواسی کا نام بھی زینب رکھا۔ ۶سال کی عمر میں حضرت زینبؓ نے اپنے والدین کے علاوہ اپنے نانا جان سے اس قدر تربیت حاصل کرلی تھی کہ اپنی بے مثال ذہانت و فطانت کی وجہ سے وہ اسلام کے بنیادی عقائد و ایمانیات پر بہت اچھی گفتگو کر لیتی تھیں اور اپنی گفتگو میں برموقع اشعار بھی پڑھتی تھیں۔ انھیں آنحضورکے ساتھ پانچ سال کی عمر میں حج کرنے کی سعادت بھی ملی۔ ان کی والدہ حضرت فاطمہؓ بھی آنحضورکی رحلت کے چھ ماہ بعد انتقال فرما گئیں۔یوں حضرت زینبؓ بہت چھوٹی تھیں جب ماں کی مامتا سے محروم ہو گئیں۔ حضرت علیؓ نے اپنی بیٹی کی بہت اچھی تربیت کی۔ ان کی شادی آپ نے اپنے بھتیجے حضرت عبد اللہ بن جعفر بن ابی طالب سے کردی۔ انھی سے ان کے بیٹے عون اور محمد پیدا ہوئے۔
بہن کی بھائی کے ساتھ محبت
حضرت علیؓ کی شہادت کے موقع پر حضرت زینبؓ بہت غم زدہ ہوئیں اور انھوں نے اپنے محبوب والد کا مرثیہ بھی کہا۔ حضرت زینبؓ کی زندگی اول و آخر عظمتوں کی داستان ہے مگر میدانِ کربلا اور اس کے بعد کی منزلوں میں ان کا جو کردار سامنے آتاہے اس کی بہت کم مثالیں انسانی تاریخ میں ملتی ہیں۔ ایک بار جب وہ میدانِ کربلا میں ۹محرم کو صورتحال دیکھ کر قدرے پریشان ہوئیں اور ان کی زبان پر دردناک اشعار آئے۔ حضرت زینبؓ کے اشعار کا مفہوم یوں تھا ”اے کاش میں یہ منظر دیکھنے کے لیے زندہ نہ رہتی، جب میرا بھائی اور پورا خاندان ظالموں کے نرغے میںآ گئے ہیں۔ ناناابو، والدہ محترمہؓ، بابا جانؓ اور برادرِ بزرگ حسنؓ سب کی جدائی پر دل پھٹ گیاتھا مگر ان سب کے بعد جس سے آنکھیں ٹھنڈی ہوتی تھیں اور جو میرے دل کا قرار تھا، اب وہ بھی مجھ سے چھن جائے گا۔ اے کاش میں اس کے بدلے میں اپنی جان قربان کر دیتی اور اسے گزند نہ پہنچتا“۔ان جذبات میں کوئی تصنع ہے نہ کسی قسم کی غیر فطری بات۔ یہ فطرتِ انسانی کے عین مطابق ہیں اور ان میں کوئی مبالغہ بھی نہیں۔
استقامت کے کوہِ گراں
اس موقع پر حضرت امام حسینؓ نے عزیمت کا پہاڑ بن کر اپنی بہن کو نہایت بلیغ انداز اور پر عزم الفاظ میں صبر کی تلقین فرمائی۔ انھوں نے فرمایا: ” اے میری بہن ! صبر کو اپنی ڈھال بناﺅ۔ اللہ سے لو لگاﺅ۔ اللہ کے ذکرسے تسکین حاصل ہوتی ہے۔ اللہ کو بقا ہے باقی ساری کائنات کا مقدر فنا ہے۔ ساری کائنات سے اعلیٰ و ارفع اور مقدس ہستی ہمارے نانا جان کی تھی ( وہ بھی دنیا میں ہمیشہ نہیں رہے ) ہمیں انھی کے اسوہ حسنہ کی پیروی کرناہے۔ اے میری پیاری بہن !میری بات سنو۔ میں تمھیں خدا کا واسطہ دیتاہوں کہ میں راہِ حق میں شہادت پا جاﺅ ں تو گریبان نہ پھاڑنا، نہ بین کرنا ، نہ چہرے اور بالوں کو نوچنا۔“ میدانِ کربلا کا معرکہ گرم ہوا تو سب سے پہلے حضرت زینبؓ کے نو عمر بیٹے عون و محمد بن عبداللہؓ یزیدی فوجوں کے مقابلے پر نکلے۔ وہ بڑی بہادری سے لڑے اور جامِ شہادت نوش کیا۔ ان کے دادا جعفرؓاور والد عبداللہؓ بھی شیر دل تھے اور وہ خود تو شیر خدا کے نواسے تھے۔
واقعات کربلا معلوم و معروف ہیں ان کی تفصیل میں جانے کا موقع نہیں۔ مختصر یہ ہے کہ ان کے خاندان اور قافلے کی خواتین کو قیدی بنایا گیا۔ پورے قافلے میں سے صرف آپؓ کا ایک نوعمر بیٹا علی بن حسین المعروف زین العابدینؓ،جو شدید بیمار تھا بچ پایا۔ کچھ بدبختوں نے زین العابدین پر ہتھیار اٹھانا چاہے مگر حضرت زینبؓ ان کے سامنے کھڑی ہو گئیں اور فرمایا: خدا کی قسم جب تک میں زندہ ہوں میرے بیمار بھتیجے کو کوئی قتل نہیں کر سکتا۔ حضرت زینبؓ نے غم و الم کے اس موقع پر اپنے نانا محبوب ِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی روح کو خطاب کیا اور میدانِ جنگ کا درد ناک نقشہ کھینچا، جہاں اہلِ بیت کے لاشے بکھرے پڑے تھے اور جہاں آپ کے محبوب نواسےؓکابے سرجسم پڑا تھا ۔بس پھر کیا تھادشمن اپنی دشمنی کے باوجود بے ساختہ رونے لگے۔
بقیہ اس کے بعد دیکھیے ،

بےباک
11-23-2012, 01:29 PM
شیر خدا کی شیر دل بیٹی
یہ سارے مناظر دل فگار تھے مگر اگلی منزلیں مشکل تر تھیں۔ قافلہ اہلِ بیت کو یزید کے دربار میں لے جانے کے لیے کربلا سے دمشق کی جانب سفر شروع ہوا تو یزیدی فوجوں کے حصار میں اسیرانِ اہلِ بیت کو پہلے کوفے کے ظالم گورنر عبیداللہ بن زیاد کے دربار میں پیش کیا گیا۔ قافلے کا گزر کوفے کے بازاروں میں سے ہوا تو بے وفاکوفی ہزاروں کی تعداد میں اس منظر کو دیکھنے کے لیے گھروں سے نکل آئے ۔ اس موقع پر حضرت زینبؓ سے کوفیوں کی عہد شکنی اور غداری پر خاموش نہ رہا گیا ۔ انھوں نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: ا ے دھوکے بازو! بدعہدی کرنے والو! خدا تمھیں کبھی سکون عطا نہ کرے ۔ تم نے میرے بھائی کے ساتھ جو غداری کی اس نے ثابت کر دیا کہ تمھارے خمیرمیں خیر نہیں۔ تم خوشامدی اور بزدل ہو۔ نواسہ رسول کے قتل میں تم بالواسطہ شریک ہو۔ تم نے بیعت کر کے توڑ دی اور حمایت کا اعلان کر کے پیٹھ پھیر گئے۔ یاد رکھو تم خدا کے قہر سے نہ بچ سکو گے۔دمشق پہنچنے سے پہلے کوفہ کے گورنر عبیداللہ بن زیاد نے کوفہ میں دربار منعقد کیا اور اسیرانِ کربلا اس کے سامنے پیش کیے گئے۔
بدبخت عبیداللہ بن زیاد نے اس مصیبت زدہ اور غم سے چور خانوادہ رسول کے قافلے کو اذیت پہنچانے کے لیے بہت بے ہودگی اور یاوہ گوئی کا مظاہرہ کیا۔ اس کے یہ الفاظ تاریخ کے صفحات میں خود تاریخ کے لیے اذیت کا باعث ہیں۔ اس نے کہا: خدا کا شکر ہے کہ اس نے تم لوگوں کو رسوا کر دیا اور تمھاری منحرف سوچ کو نیچا دکھا دیا۔ شیر خدا کی بیٹی اس دہشت گردی کے عالم میں بھی بے خوف کلمہ حق بلند کرتے ہوئے بولیں: تعریف اور حمدو شکر ہے اس ہستی کے لیے جس نے اپنے محبوب رسول کے ذریعے ہمیں عزت بخشی۔ ان شاءاللہ فساق رسوا اور ذلیل ہوں گے اور ان کے نظریات لعنت زدہ قرار پائیں گے۔ یہ گفتگو بڑی طویل تھی۔ عبیداللہ بن زیاد جب زچ ہوگیا تو اس نے علی بن حسین (امام زین العابدین ) کی طرف اشارہ کر کے کہا: اس لڑکے کو کیوں قتل نہیں کیا گیا ؟ اسے میرے سامنے قتل کر دیا جائے۔ حضرت زینبؓ اپنے بھتیجے سے لپٹ گئیں اور فرمایا : پہلے مجھے قتل کرو ، پھر اسے قتل کرنا۔
کوفہ سے شام روانگی
آخر ابنِ زیاد نے اپنا فیصلہ بد ل لیا اور یہ قافلہ کوفہ سے شام کی طرف سرکاری دستوں کے محاصرے میں روانہ کر دیا گیا۔ کئی دنوں کی مسافت کے بعد یہ مظلوم یزید کے دربار میں پیش کیے گئے۔ نواسہ رسول کا مبارک سر جسے آنحضورپیار سے بوسہ دیا کرتے تھے نیزے کی انی پر پرویا ہوا تھا۔ یزید کے دربار میں ان مظلوموں کو پیش کیا گیا تو اس نے امام کا سر دیکھ کر کہاکہ میں نے اسے نیزے پر پرونے کا حکم نہیں دیا تھا۔ یہاں بھی یزید کے ساتھ جو مکالمہ ہوا،اس میں حضرت زینبؓ نے کمال حکمت و دانش اور جراءت و بہادری کے ساتھ اس کے تمام اعتراضات و خرافات کا بھر پور جواب دیا۔ یزید کے دربار میں حضرت زینبؓ نے ایک موثر اور دردناک خطاب فرمایا۔ اس میں انھوں نے یزید کو باور کرایا کہ اپنے زعم میں وہ سمجھ رہاہے کہ اسے کامیابی مل گئی اور اہلِ بیت سرنِگوں ہو گئے، مگر حقیقت میں اہلِ بیت کا کوئی نقصان نہیںہوا بلکہ یزید اور اس کے پورے ٹولے نے اپنے آپ کو تباہ و برباد کر لیاہے ۔
قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتاہے ہر کربلا کے بعد
سفر جانبِ مدینہ!
کچھ دن یزید نے ان لوگوں کو دمشق میں ٹھہرائے رکھا، پھر اس نے حکم دیا کہ ان خواتین کو سواریوں پر سوار کیا جائے اور مدینہ تک بحفاظت پہنچایا جائے۔ یزید نے صحابی رسولحضرت نعمان بن بشیرؓانصاری کو جو دمشق میں مقیم تھے، ذمہ داری سونپی کہ وہ اپنی نگرانی میں قافلے کو مدینہ تک پہنچائیں۔ اونٹوں پر محمل رکھے گئے تھے۔ حضرت زینبؓ نے فرمایا کہ محملوں پر سیاہ چادریں ڈال دی جائیں۔ اس لیے کہ محملوں میں حضور کی بیٹیاں سوار تھیں اور سفر لمبا تھا۔ ان کو یہ سفر پردے میں کرنا تھا کہ ان پر کسی کی نظر نہ پڑے۔ یہ خاتونِ جنت کی بیٹیاں تھیں جنھوں نے فرمایا تھا کہ ان کے جنازے کے وقت چشمِ فلک بھی ان کے کفن کو نہ دیکھ سکے۔ واقعاتِ کربلا کی خبر مدینہ منورہ پہنچ چکی تھی۔ جب یہ قافلہ مدینہ کے قریب پہنچا تو مدینہ میں موجود صحابہؓو تابعینؒ اور اہلِ مدینہ بڑی تعداد میں ان کے استقبال کے لیے شہر سے باہر نکلے۔ مشہور صحابی حضرت جابر بن عبداللہ انصاریؓسب سے آگے آگے تھے اور ان کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ وہ فرما رہے تھے کہ یہ قوم اپنے نبی کو روز قیامت کیا منہ دکھائے گی؟ اپنے غم خوار رشتے داروں اور ناناحضورکے جانثار صحابہ کو دیکھ کر حضرت زینبؓ بھی رونے لگیں۔ حضرت جابرؓکو خطاب کر کے کہا: اے میرے ناناکے صحابی! آپ نے جس بچے کو اپنے ہاتھوں سے اپنے آقا کے مبارک کندھوں پر کئی بار بٹھایا تھا، اس کا جسد اطہر گھوڑوں کے سموں سے کچلا گیا اور اس کا سر نیزے کی نوک کی زینت بن گیا۔ اس کے ساتھ ہی حضرت زینب ؓ پر بے ہوشی طاری ہو گئی اور وہ گر گئیں۔ یہ پہلا موقع تھا کہ جب حضرت زینبؓ فرطِ غم سے غش کھا گئیں۔ انھیں اٹھا کر ان کے گھر لایا گیا۔ پورے مدینہ پر غم کی چادر تن گئی اور ہر گھر میں بڑے چھوٹے، مرد و خواتین سبھی زارو قطار روئے۔ اگلے دن حضرت زینبؓ مسجد نبوی میں تشریف لے گئیں۔ آنحضورکے روضہ مبارک پر حاضر ہوئیں اور صلوٰة و سلام عرض کرنے کے بعد اس پورے منظر کو بیان کیا جس سے آل رسول دوچار ہوئی تھی۔ اس موقع پر بھی سب لوگ رونے لگے مگر حضرت زینبؓ نے آج اسی انداز میں لوگوں کو صبر کی تلقین کی جس انداز میں شبِ کربلا میں ان کے محبوب بھائی نے انھیں تلقین فرمائی تھی۔
عظمت ہی عظمت
بناتِ اہلِ بیت کا ایک واقعہ بعض مورخین نے حضرت زینبؓ کی سیرت میں بیان کیاہے جو اہلِ بیت کی عظمتوں کو مزید واضح کرتاہے۔ حضرت زینبؓ اوران کی دوسری بہنوں نے صحابی رسول حضرت نعمان بن بشیرؓکو بلایا۔ ان کے حسن سلوک اور غم خواری کا شکریہ ادا کیا اور دوران سفر ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر اپنی چوڑیاں اتار کر پیش کر دیں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہاکہ اس وقت ہمارے پاس کچھ اور ہوتا تو وہ بھی آپ ؓکی خدمت میں پیش کر دیا جاتا۔ حضرت نعمان بن بشیرؓیہ بات سن کر زارو قطار روئے اور کہا: اے بنات ِرسول!خدا کی قسم میں تو آپؓ کی خدمت کو اپنے لیے توشہ آخرت سمجھتا ہوں۔ اگر میں نے دنیا کے لالچ میں یہ کام کیا ہو تو مجھے قیامت کو کیا اجر ملے گا۔ اللہ آپ کے غموں کا مداوا فرمائے۔ آپؓاپنی چوڑیاں اپنے پاس رکھیں۔
قافلہ کربلا اور حضرت زینبؓ کی یہ داستانِ خونچکاں طویل ہے۔ حقیقی واقعات ہی اتنے اندوہناک ہیں کہ انسان کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں لیکن بدقسمتی سے کچھ لوگوں نے حقیقت میں افسانہ بھی بہت زیادہ شامل کر دیاہے۔ ہم نے واقعات کو مختصر انداز میں مستند ذرائع سے نقل کر دیاہے۔ امتِ مسلمہ کا المیہ دیکھےے کہ خانوادہ رسولکے ساتھ یہ ظلم ڈھانے والے اسی رسولکا کلمہ پڑھتے تھے۔ ان واقعات کے بارے میں بعد کے ادوار میں دو گروہ پیدا ہو گئے۔ ایک افراط کا شکار ہوا، دوسرا تفریط کا۔ کچھ لوگوں نے مبالغے کی تمام حدیں پھلانگتے ہوئے من گھڑت واقعات بھی حقیقی واقعات میں گڈ مڈ کر دیے ۔ داستان گوئی اور اس میں سب و شتم کا ایسا ماحول پیدا کیا کہ اس سے شانِ اہلِ بیت بڑھانے کی بجائے عملاً ان کی پاکیزہ سیرتوں کو مسخ کر دیا گیا۔ دوسرے گروہ کی شقاوت بھی دیدنی ہے۔ وہ ان اہلِ حق مظلوموں کے حقیقی سانحات کو بنظرِ تشکیک دیکھنے لگے۔ ان کو اس قافلہ حق کی نسبت ظلم کا کوڑا برسانے والوں کا موقف اچھا لگا اور انھوں نے نہایت دیدہ دلیری سے اسے برحق قرار دے دیا۔یا للعجب !
شکریہ
یہ مضمون ادارہ معارف اسلامی سے لیا ہے ، حوالہ دیکھیے
http://www.imislami.org/urdusite/article_detail/67
دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں سیدنا حضرت امام حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کے راستے پر چلنا نصیب فرمائے ، اور بروز قیامت ہمیں ان شہداء کی معیت نصیب ہو ، آمین

pervaz khan
11-23-2012, 03:51 PM
جزاک اللہ جناب
-----------------
شاہ ہست حسُیؑن بادشاہ ہست حُسیؑن
دِین ہست حُسیؑن دِین پناہ ہست حسینؑ
سَر داد نداد دَست دَر دَستِ یزید
حقا کہ بِنائے لَا اِلَہٰ ہست حُسیؑن

محمداشرف يوسف
11-24-2012, 03:07 PM
جزك الله