PDA

View Full Version : نومبر کی انگڑائیاں اور احتیاطیں



محمدمعروف
11-30-2012, 10:28 AM
نومبر کی انگڑائیاں اور احتیاطیں
نومبر شروع ہوتے ہی موسم سرما اپنے جوبن پر آنے کیلئے بھرپور انگڑائیاں لینے لگتا ہے۔ وہ خنکی جو ماہ اکتوبر کے نصف آخر میں صرف صبح اور رات کے اوقات میں صحت انسانی کو گدگدانے کی عادی ہے۔ اپنی منزل شباب کی جانب تیزی سے بڑھنے لگتی ہے۔ صبحوں اور شاموں کو گھر سے باہر کے ماحول میں ہر طرف جسموں کے ٹھٹھراؤ اور نوجوان طبقوں کے لہراؤ کی جھلکیاں عام مشاہدہ میں آتی ہیں۔ سردی کی متوقع شدید یلغار کے پیش نظر حیات انسانی کے تمام محاذوں پر سویٹروں‘ گلوبندوں اور گرم جرابوں کا ملبوساتی اسلحہ نظر آنے لگتا ہے۔
آندھیاں اور ہلکی پھلکی بارشیں‘ اشرف المخلوقات کو دسمبر کے سرمائی حملوں سے خبردار کرنے کیلئے تین مرتبہ خطرہ کا الارم ضرور بجاتی ہیں۔ اگرچہ نومبر کے آغاز اور تقریباً وسط ماہ تک سردی کی شدت اپنی ابتدائی منزلوں میںہوتی ہے اور اچھی صحت اور بے عیب اعصابی توانائی کے لیے افراد کچھ دن تک اواخر گرمی کے ہی ملبوسات میں اپنے کاروبار زندگی میں مصروف رہتے ہیں اور شدید خنک ہواؤں سے گرانبار آندھیوں اور بارش کے ترشح ہوجانے کے بعد محض سوئیٹروں اور مفلروں کے استعمال تک ہی اپنے موسمی احتیاط کو محدود رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود نصف اول میں بھی سرد ہواؤں کے بعض منہ زور و بے باک جھونکے اچھے خاصے تندرست آدمیوں کیلئے بھی نزلہ‘ زکام اور سردرد قسم کے چھوٹے چھوٹے خطرات کا موجب بن جایا کرتے ہیں۔ محتاط قسم کے افراد جن میں تن سازی‘ صبح وشام کی کثرت کا معمول اور منہ اندھیرے اٹھ کر بلاناغہ ہوا خوری کرنے والے اہل ذوق بھی شامل ہیں بدلتے ہوئے موسم کے پیش نظر اپنے ملبوس میں مناسب تبدیلی ضرور کرڈالتے ہیں تاکہ سیروکسرت اور تن سازی کی ورزش کی پیدا کردہ اعصابی حرارت اچانک سرد ہواؤں کی خنکی و برودت سے متصادم ہوکر کسی عارضے کا باعث نہ ہو۔
اس موسم میں گرم پانی سے غسل کرنا مفید ہے اور صبح کے وقت غسل سے پہلے کچھ دیر اگر ورزش کرلیں تو زیادہ بہتر ہے کسرت کیلئے سرسوں کے تیل کو جلد پر ملنا بھی بہت مفید ہے۔
اس ماہ میں تازہ اور گرم ناشتہ کرنا مناسب ہے۔ ناشتہ میں گرم دودھ‘ چائے‘ کافی‘ ڈبل روٹی کے سلائس‘ مکھن‘ جام اور انڈہ یا کریم ڈال کر دلیہ وغیرہ کھاسکتے ہیں۔ انگریزی کھانے کے شوقین مٹن سوپ استعمال کرسکتے ہیں کچھ لوگ بسکٹ اور چائے بھی استعمال کرتے ہیں مگر صبح کے وقت اس قسم کا ناشتہ ناکافی اور نامناسب ہے۔
دوپہر اور رات کے کھانوں میں گوشت‘ مچھلی‘ کباب و بریانی وغیرہ کھائی جاسکتی ہے مگر خیال رہے چند نوالے بھوک رکھ کر کم کھانا کھائیں اور کھانے کے دس پندرہ منٹ بعد نمک سلیمانی‘ ہاضم پھکی‘ جوارش جالینوس وغیرہ کی ایک خوراک ضرور کھالیں تاکہ ہاضم میں معاون بن سکے۔سہ پہر کو ایک کپ چائے اور کچھ کھانے کو مثلاً چند بسکٹ ایک آدھ ٹوسٹ وغیرہ کھاسکتے ہیں مگر اس مقدار میں بھی نہیں کہ اس سے پیٹ ہی بھر جائے اور رات کو کھانے کی خواہش ہی نہ رہے کبھی کبھار سموسہ یا کچوری کھائی جائے تو مضائقہ نہیں البتہ عادت بنا کر روزانہ استعمال کرنا سخت مضرصحت ہے کیونکہ میدہ اور تیل یا گھی وغیرہ اس قسم کی اشیاء ہیں کہ ان کو ہضم کرنے کیلئے معدہ کو بیحد زیادہ کام کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے قوت ہاضمہ کمزور ہوتی چلی جاتی ہے اور مسلسل لاپرواہی کا نتیجہ اولاً بدہضمی‘ پیٹ میں ہوا کی وجہ سے قراقر اور پھر دست پیچش اور بالآخر سنگرہنی جیسی جان لیوا بیماری کی صورت میں ظاہر ہوسکتا ہے۔کبھی کبھار دن میں ایک دو مرتبہ پھلوں کا رس بھی پی لیا جائے تو فائدہ مند ہے مگر روزانہ کی عادت بھی نہ بنائی جائے کہ نہ مل سکے تو پریشانی ہونے لگے۔
راتیں چونکہ سرد ہوتی ہیں اور اوس بھی پڑتی ہے اس لیے ان سے بچاؤ کیلئے بہتر ہے کمرے میں سوئیں مگر کمرے کی کھڑکیاں اور روشن دان کھلے رکھیں‘ بستر نرم اور گرم ہونا چاہیے چونکہ رات کمرے میں سونا ہوتا ہے اس لیے ان کمروں میں روزانہ صفائی کرکے فینائل چھڑکیں‘ شام کو فلٹ کریں نیز رات کو اگربتی جلائیں تو کمرے کی فضا صاف اور معطر ہوجائے گی۔ ہر چند کہ ہر شخص اپنے ذوق اور استطاعت کے مطابق سردی کا آغاز ہوتے ہی اپنے غذائی معمولات میں ایسی تبدیلیاں لے آتا ہے جو اس کے اعضائے جسمانی کو موسم سرما کی شدت کا دفاع کرنے کے قابل بنادیتی ہے۔ اس کے باوجود قانون قدرت کی رو سے دیگر تمام موسموں کی طرح موسم سرما بھی اس مہینے اپنا کچھ نہ کچھ اثر ضرور ڈالتا ہے۔
ضروری نہیں کہ اچھی صحت والے افراد سرد ہواؤں کے اثرات سے بہرحال محفوظ رہیں کیونکہ ہمارے مشاہدات کے مطابق اچھے خاصے تندرست اور صحت مند حضرات بھی اس مہینے اچانک نزلہ زکام کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔ اس کی وجہ نہ صرف اچانک ہوا کا لگ جانا یا گرم ماحول سے ایک دم سرد ماحول میں جا نکلنا ہی ہے بلکہ گرم تاثیر والی غذاؤں میں بھی معمولی سی بے اعتدالی بھی اندرونی طور پر نزلہ و زکام کی محرک و موجب ہوجایا کرتی ہے۔
سردہواؤں سے بچنے کا بہترین نسخہ:ایسی حالت میں جہاں سر اور ناک وغیرہ کو سرد ہواؤں سے حتیٰ الامکان بچائے رکھنا حفظ ماتقدم کے طور پر ضروری ہے بلکہ ان کے جلدازجلد ازالہ کیلئے ذیل کا نسخہ بھی ان کیلئے بے حد سودمند ہے۔نسخہ: سبز چائے چوتھائی چھوٹا چمچہ‘ سبز الائچی ایک عدد‘ بادیاں خطائی چوتھائی چمچہ‘ دارچینی چار رتی‘ پانی ایک پاؤ‘ تین چار اندرجوشیریں‘ ہلکی سی چینی ملا کر دن میں دو تین مرتبہ حفظ ماتقدم کے طور پر استعمال کریں۔ اگر ہوسکے تو خمیرہ گاؤزبان تین یا چار ماشہ دن میں تین مرتبہ استعمال کریں۔ اگر سر درد تیز ہو تو اس قہوہ میں تین ماشے کے قریب اسطخودوس کا اضافہ کردیں اور صحت یاب ہوجائیں۔
اگر ہلکا سا بخار بھی ساتھ ہو تو گل بنفشہ‘ عناب‘ ملٹھی کا جوشاندہ پئیں غذا نرم اور بغیر چکنائی کے کھائیں۔
احتیاطی تدابیر: بچوںکو سرد ہوا اور سرد پانی سے بچائیں۔ بچے کے سینہ کو ہوا سے محفوظ رکھیں‘ سینے پر انڈے کی زردی کا تیل نکال کر ہلکا سا ہاتھ رکھ کر تیل بیضہ ملیں۔ اگر بیضہ کا تیل میسر نہ ہو تو روغن زیتون کا استعمال بھی بے حد مفید ہے۔ اگر خون ساتھ آرہا ہو تو اس کی بہتر صورت یہ ہے کہ فوری طور پر کسی قریبی قابل ترین معالج کی مدد لیں۔ اگر معالج دور ہو تو فکر نہ کریں بلکہ اس احتیاطی تدابیر کو بروئے کار لائیے۔
معالجہ: ورق نقرہ ایک تولہ‘ دم الاخوین دو تولہ‘ کہرباء شمعی سائیدہ دو تولہ‘ روح گلاب ایک ایک ورق اور تولہ تولہ عرق ڈال کر کھرل کرتے رہیں جب تمام روح گلاب ختم ہوجائے تب گولیاں برابر مسوردانہ تیار کریں۔ بوقت ضرورت نفس الدم اور ایسی کھانسی جس میں خون آرہا ہو دن میں چند خوراکیں خمیرہ گاؤزباں میں رکھ کر دیں اور قدرت کا کرشمہ دیکھیں۔
بشکریہ :
http://www.ubqari.org/controller.php?action=Article_Detail&nArtId=3314

تانیہ
11-30-2012, 09:55 PM
مفید و معلوماتی شیئرنگ کے لیے شکریہ

pervaz khan
12-01-2012, 01:56 PM
بہت شکریہ