PDA

View Full Version : کیا کریں۔۔۔؟



شاذیہ سعید
11-30-2012, 04:13 PM
جب انسان کوئی بھی کام کر رہا ہو(کسی بھی موضوع) پر لیکن وہ مکمل ہی نہ ہو پا رہا ہو تو کیا کرنا چاہئے۔۔؟

admin
11-30-2012, 05:55 PM
اسے کچھ دیر اس کام کو بھول جانا چاہیے اور خود کو تروتازہ کرنا چاہیے تاکہ کام کے لئے یکسوئی حاصل کی جا سکے۔۔۔:smiley-computer005:۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نگار
11-30-2012, 06:03 PM
دنیا میں کوئی کام نیا نہیں ہوتا جو کچھ ہم کرتے ہیں اور سنتے ہیں سب وقت کی گردش ہی ہے ۔ ہم اپنی سوچ سے اس کو نیا اور پرانا کرتے رہتے ہیں ۔
ہم کوئی کام کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ہم کو اس کی تہہ تک پہنچ کر نتیجہ دیکھنا ہوتا ہے ، بعض اوقات جب کبھی
کوئی کام شروع کرتے ہیں اس سوچ کیساتھ کہ یہ نیا ہے تو اکثر ایسا ہو جاتا ہے کہ اس کام کے ختم ہونے سے پہلے اس کا نتیجہ نکل جاتا ہے ، مثلا اگر ہم کسی انسان کے بارے میں لکھنا چاہتے ہیں کہ فلاں شخص ٹھیک نہیں اور ہم تحقیق کر کے لکھنا شروع کر دیں ، اس کی زندگی کا ایک ہی پہلو سامنے رکھ کر ہم لکھتے چلے جائیں اور درمیان میں یہ پتہ چلے کہ وہ تو ایسا نہیں اب جیسے پہلے تھا تو کیا ہم کو اب بھی اس کے بُرے پہلو کے بارے میں لکھنا جاری رکھنا چاہیئے ؟؟؟ یا جو نتیجہ ہم چاہتے تھے کہ یہ انسان اچھا بنے پورا ہو جانے کے بعد یہ موضوع بند کرنا چاہیئے ؟؟؟ ظاہری سی بات ہے کہ ہم کو اس لیے لکھنا یا یہ کام کرنا تھا کہ اس کے اثرات مثبت نکلے تو وہ ہمارے چاہنے سے پہلے ہی مثبت ہونے شروع ہو گئے ۔
دوسری بات کبھی کبھی ہم وہ کام کرنا چاہتے ہیں جس کا ہم کو تجربہ ہی نہیں ہوتا ۔ ہر کام انسان کر سکتا ہے لیکن ہر کام ہر انسان کے لیے نہیں ہوتا ۔ دنیا میں نظر دوڑائیئے قسم قسم کے لوگ ملتے ہیں اور قسم قسم کے کام کرتے ہیں ، کوئی ڈرائیور ، تو کوئی مستری ، کوئی ڈاکٹر ، تو کوئی انجینئر ۔ یہ سب کام انسان کے کرنے کے ہیں لیکن ضروری تو نہیں کہ ہر انسان ہر کام میں ماہر ہو ۔ اس لیے جب کبھی ہم وہ بوجھ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں جو ہمارے بس کی بات نہیں ہوتی تو نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ ہم وہ کام کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں ۔
اب اس پہ افسوس نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ کوئی بھی کہانی ادھوری نہیں ہوتی ۔ جو کہانی آپ نے شروع کی اس سوچ کیساتھ کہ یہ نئی ہے تو ٹھیک اس وقت لاکھوں یہی سوچ رکھ یہی کہانی لکھنے بیٹھ جاتے ہیں ۔
اللہ نے نظام بنایا ہم اور آپ مل کر اس میں کوئی بھی تبدیلی لا نہیں سکتے ۔ ہم کہتے ہیں نا کہ وہ وقت اچھا تھا ۔ جبکہ اصل میں وقت ایک ہی ہے اور انسانی کردار بدلتے رہتے ہیں ۔ وقت تو وہی پرانا ہے ، وہی سورج اور وہی چاند تارے ۔ دن اور رات ٹھیک اسی طرح تبدیل ہوتے رہتے ہیں جیسے اس کی شروعات ہوئی تھی ۔
یہ سوچ بھی غلط ہے کہ اگر ہم سے یہ کام رہ گیا تو یہ ادھورا ہو چکا نہیں ۔ جو کام آپ کے لیے ناممکن ہو تو ضروری نہیں کہ سب کے لیے وہ ناممکن ہو جائے ۔ اگر ہم کوئی موضوع شروع کر کے اس میں پھنس جائے تو ہم کو دیکھنا چاہیئے کہ ہم کس لیے یہ موضوع لکھ رہے تھے ؟؟؟ اور ہمارا اصل مقصد کیا تھا ؟؟؟
اگر آپکا مقصد پہلے سے پورا ہوا تو پھر جتنا آپ نے کیا یقینا وہ مکمل ہے اور آگے اسکی ضرورت باقی نہیں رہتی تو اس وجہ سے یہ ٹاپک بند کرنا چاہیئے ۔
لیکن اگر اس کا مثبت پہلو سامنے نا آیا ہو اور آپ الجھ گئے ہو اس کام کو پورا کرنے میں تو سمجھ لی جیئے یہ کام جو آپ نے شروع کیا تھا آپ کے بس کا نا تھا ۔
باقی آپ سمجھدار ہیں
بہت بہت شکریہ

شاذیہ سعید
12-03-2012, 10:44 AM
جی شکریہ۔۔۔ آپکی تسلی کیلئے۔۔۔۔ اب ذرا مدد بھی فرما دیں۔۔۔ مجھے ایسی خواتین کی تلاش ہے جو غربت بیماری یا کسی وجہ سے کام کرنے پر مجبور ہیں۔ یا آپ ایسی خواتین کو جن کو آپہ جانتے ہوں کہ انکی کہانی سب کو پتا چلنی چاہیے تو مجھے ضرور بتائیے گا۔۔۔ آ پ کا تعلق کہاں سے ہے؟ مجھے لاہور سے ہی چاہیے۔۔۔ لیکن صرف خواتین۔۔۔۔۔۔ اگر ممکن ہے تو ضرور بتایئے گا۔۔ منتظر رہوں گی۔۔۔۔

نگار
12-03-2012, 11:46 PM
میرا تعلق لاہور سے نہیں اور نا ایسی خواتین کو جانتا ہوں

نگار
12-08-2012, 04:29 PM
جی شکریہ۔۔۔ آپکی تسلی کیلئے۔۔۔۔ اب ذرا مدد بھی فرما دیں۔۔۔ مجھے ایسی خواتین کی تلاش ہے جو غربت بیماری یا کسی وجہ سے کام کرنے پر مجبور ہیں۔ یا آپ ایسی خواتین کو جن کو آپہ جانتے ہوں کہ انکی کہانی سب کو پتا چلنی چاہیے تو مجھے ضرور بتائیے گا۔۔۔ آ پ کا تعلق کہاں سے ہے؟ مجھے لاہور سے ہی چاہیے۔۔۔ لیکن صرف خواتین۔۔۔۔۔۔ اگر ممکن ہے تو ضرور بتایئے گا۔۔ منتظر رہوں گی۔۔۔۔


تو ان مردوں کی مظلوم داستانے کون دُنیا کو دکھائے گا ؟؟؟ دونوں کا ساتھ دیجیئے گا
ظلم سب پہ ہو رہا ہے ، ضروری نہیں کہ صرف عورت کو ہی ترجیح دی جائے
اس لیے ذرا انکی بھی مدد کیا کریں اور جو مشکلات ان کو ہیں تو وہ بھی نمایاں کیا کریں
بہت بہت شکریہ

سقراط
12-08-2012, 10:04 PM
معاشرے کو کہانی کے کردار کی نظر سے دیکھنا شروع کردیں دو ایک دن میں خود بخود شعور کی کھڑکیاں کھل جائیں گی جب آپ کچھ لکھ تہے ہوتے ہیں تو اسکو کبھی سوچ کر مت لکھیں بلکہ جب لکھیں تو اس بنیاد پر کہ وہ خیال اور احساس آپ کے اندر سے جاگا ہو
عورتوں کے جس مسائل کی بات آپ کر رہی ہیں تو بحثیت عورت آپ معاشرے کو اسی نظرئے سے دیکھیں جس نظر سے وہ عورت دیکھتی ہوگی
سوری
میں آپ کو سمجھا رہا ہون حالانکہ آپ خود ایک بہت اچھی رایٹر ہیں
بحر حال اپنی سمجھ اور شعور کے مطابق جو اچھا لگا شئیر کردیا

شاذیہ سعید
01-11-2013, 08:38 PM
شکریہ سر۔۔۔۔ مجھے ایسی عورتوں کی کہانی لکھنی تھی،، اس لئے کیونکہ میں ایک خواتین میگزین میں تھی۔۔۔ خیر وہ بھی قصہ پارینہ ہوا۔۔۔

بےباک
01-12-2013, 01:18 PM
خواتین کے سیکشن میں آپ لکھیے ،
میرے پاس بھی چند معاشرتی حقیقی کہانیاں ہیں ، آپ شروع کریں تو میں بھی لکھوں گا ، ان شاءاللہ ،

نگار
01-20-2013, 10:59 PM
بے باک صاحب اس وقت تو صرف اتنا کریں کہ ان کو واپس لے آئیں

اور کچھ نا کریں