PDA

View Full Version : پاکستان کوفہ نہیں



نذر حافی
11-30-2012, 08:58 PM
بسم اللہ الرحمن الرحیم
پاکستان کوفہ نہیں
نذر حافی
nazarhaffi@yahoo.com
پاکستان کوفہ نہیں اور ناں ہی اہلیانِ پاکستان کوفی ہیں۔ کوفے میں حسین ابن علی ؑ کا نمائندہ "حق و صداقت " کا پرچم اٹھائے ہوئے پکاررہاتھا اور لوگ اپنی جانیں،وزارتیں تعلقات اور شخصیتیں بچانے کے لئے بھیڑوں کی مانندادھر ادھربھاگ رہے تھے۔ جبکہ پاکستان میں صورتحال کوفے کے بالکل برعکس ہے۔یہاں پرعوام نے ""حق و صداقت "کا پرچم اٹھا رکھاہے اور اکثر قائدین اپنی وزارتیں، تعلقات اور شخصیتیں بچانے یا بنانے کے لئے مصروفِ عمل ہیں۔
آپ کسی بھی حزب ، پارٹی اور گروہ کے ساتھ چپکے ہوئے لوگوں کا سروئے کرلیں،لوگوں کی غالب اکثریت پارٹیوں اور قائدین کے ساتھ اس لئے چپکی ہوئی ہے کہ لوگ ان پارٹیوں کے پرچموں کے سائے میں بیٹھ کراقبال کے خواب کی تعبیر ڈھونڈرہے ہیں۔لوگ ان لیڈروں کے پیچھے چل کراسلامی انقلاب ،تعلیم، عدل و انصاف اور کشمیر و فلسطین کی آزادی تلاش کررہے ہیں۔
عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے جلوسوں سے لے کر کشمیر اور فلسطین کی آزادی کی ریلیوں تک یہ ملت ہمیشہ اپنے سر پہ کفن باندھ کر میدان میں اتری رہتی ہے۔اسی طرح عاشور کے جلوسوں سے لے کرنماز تراویح اور اولیاء کرام کے عرسوں تک کے تمام تر اجتماعات میں لوگوں کا جوش و خروش قابلِ رشک ہوتاہے۔
عوام کے اسی دینی لگاو کے باعث پاکستان کی کوئی بھی لبرل ،سوشلسٹ یا کیمونسٹ پارٹی بھی اپنے آپ کو غیر اسلامی کہنے کی جرات نہیں رکھتی۔حتی کہ کٹر سوشلسٹ یا کیمونسٹ حلقہ بھی "اسلام" کا سہارا لئے بغیر عوام کے سامنے جانے سےخوفزدہ ہے۔
ملت پاکستان کے نفسیاتی اور سماجی عناصر کا تجزیہ کر کے دیکھ لیں،یہ ملت روزِ اوّل سے دینِ اسلام کی سربلندی کے لئے میدان میں تھی،میدان میں ہے اور ہمیشہ میدان میں رہے گی۔
مورخ ابھی تک یہ لکھنے اور محقق یہ ڈھونڈنے سےقاصر ہے کہ وہ ماضی کی دیوار میں کوئی ایک ایساسوراخ ڈھونڈ لائے کہ جس سے جھانک کر وہ یہ دیکھ سکے کہ کبھی "اسلام " پر مشکل وقت آیا ہو اور یہ ملت میدان میں نا اتری ہو۔
افغانستان کے کہساروں سے لے کر کشمیر کے چناروں تک حرف حرف داستانِ عشق پاکستانیوں کے خون سے رقم ہے۔قربانیوں اور ایثار کے اس سارے سفر میں آپ کو ملتِ پاکستان توکٹتی اور مرتی ہوئی جبکہ قائدین سازباز،جوڑ توڑ اور کرسی کے طواف میں نظر آئیں گے۔
جائیے تحقیق کیجئے ،تحقیق کا میدان تو کھلاہے۔ اگر عوام میں پایا جانے والا یہی خلوص ،جذبہ اور ولولہ پارٹیوں کے رہبروں میں بھی پایا جاتا تو پھریہ ابتری اور انارکی دیکھنے میں نہ آتی۔
آج ہمارے ہاں قائدین کے انحرافات کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ جولیڈر صاحبان پاکستانی ملت کو مغربی استعمار سے نجات دلانےکے وعدے کرتے ہیں وہ خود مغرب کی یونیورسٹیوں کے پڑھے ہوئے اور مغربی اداروں کے سدھائے ہوئے ہیں،جواس قوم کو سلامتی اور تحفظ دلانے کے خواب دکھارہے ہیں وہ خود ایجنسیوں کے ہاتھوں ٹریپ ہیں،جو جدید تعلیم کے نعرے لگارہے ہیں انہیں خود جدید تعلیم کی تعریف بھی نہیں آتی،جو لوگوں کے بچوں کو جہاد کے نام پر دہشت گری کی آگ میں جھونک رہے ہیں اور ہر وقت الجہاد الجہاد کی صدائیں دے رہے ہیں ان کے اپنے بچے آکسفورڈ اور کیمرج میں اعلی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
جولوگوں کو تقویٰ،سادگی اور انکساری کے درس دیتے ہیں ان کےاپنے شیش محلات کی چمک آنکھوں کو خیرہ کردیتی ہے ۔جب آپ ان قائدین کی عملی سیرت پر نگاہ ڈالیں گے تو آپ دیکھیں گے کہ کتنا ظلم ہورہاہے میری سادگی کے ساتھ،آپ کو صاف نظر آئے گا کہ لیڈروں کےتاج محل میں اس ملتِ مظلوم کی لاشوں کے فانوس جل رہے ہیں ،ان کے عشرت کدوں میں اس ملتِ مظلوم کے خون سے رعنائیاں ہیں اور ان کی دکانوں پر اسی ملت کے اشکوں سے رونق ہے۔
جس لیڈر نے جونعرہ لگارکھاہے،اس کی اپنی ہی شخصیت اپنے ہی نعرے اور دعوے کے مطابق نہیں۔یہ سب ممنون ہیں ملت پاکستان کے کہ اس ملت نے ان سب کو ترقی،شناخت اور عزّت عطاکی،انہیں ان کے دعوں پر پورا اترنے کے مواقع عطا کئے لیکن اب احسان فراموشی کی انتہا تو دیکھئے کہ ہمارے ہی قومی میڈیا میں لیڈروں کو آئینہ دکھانے کے بجائے ملت کو برا بھلا کہاجاتاہے۔
کوئی کہتاہے کہ ہمارے لوگ بے شعور اور ناامید ہیں،کسی کی نظر میں عوام بے حس اور بے حرکت ہےاور کسی کے بقول پاکستان کوفہ ہے ۔حالانکہ ناں ہی تو لوگ بے شعور اور ناامید ہیں چونکہ اگر بے شعور اور ناامید ہوتے تو پھرمیدانِ سیاست کو چھوڑ کر ناامید ہوکر بیٹھ چکے ہوتے،اگربے حس اور بے حرکت ہوتے تو یوں جانوں کے نذرانے پیش نہ کرتے اور اگر پاکستان کوفہ ہوتا تو لوگ لیڈروں کو چھوڑ کر بھاگ جاتے۔
بس پھر یہ سوال ہمارے لئے سوچنا کا مقام ہے کہ حقیقت میں بے شعور اور ناامید کون ہے؟بے حس کون ہے؟اور کوفی کون ہے؟ بے شعور اور ناامید دراصل وہ کالی بھیڑیں ہیں جو اس مقدس ملت کو بے شعوربنانے اور ناامید کرنے میں مصروف ہیں،بے حس وہ وہ لوگ ہیں جو حق بات کا پرچار کرنے کے بجائے اپنی ذاتیات کی تبلیغ کرتےہیں اور کوفی و شامی یعنی غدّار و مکّار وہ ٹولے ہیں جو اس ملت کی توہین کرنے کا کوئی بھی موقع اپنے ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔
سچ بات تو یہ ہے کہ پاکستان کوفہ نہیں اور ناں ہی اہلیانِ پاکستان کوفی ہیں،پاکستان کوفے کے بالکل برعکس ہے، آج پاکستان میں عوام نے "حق و صداقت " کا پرچم اٹھا رکھاہے لیکن اکثر قائدین اپنی جانیں،وزارتیں،تعلقات اور شخصیتیں بچانے یا بنانے کے لئے مصروفِ عمل ہیں۔ہمارے مسائل کا حقیقی حل یہی ہے کہ ہم اپنے لیڈروں کی صفوں میں گھسی بھیڑوں کو پہچانیں اور کھرےو کھوٹے لیڈروں میں تمیز کریں۔البتہ اس شناخت پریڈکے دوران ہمیں اچھی طرح معلوم ہونا چاہیے کہ جس طرح بھیڑیں کالی بھی ہو سکتی ہیں اور سفید بھی اسی طرح کھوٹے لیڈر بھی سرخ،سیاہ ،سبز یا سفید کسی بھی روپ میں ہوسکتے ہیں۔
حوالہ۔۔۔
http://pakistan2.blogfa.com/post/44/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%DA%A9%D9%88%D9%81%DB%81-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA

بےباک
11-30-2012, 09:14 PM
http://urdulook.info/imagehost/?di=GXQK
بہت خوب جناب نذر حافی صاحب ،
جزاک اللہ
http://urdulook.info/imagehost/?di=1K3B

تانیہ
11-30-2012, 10:06 PM
کوئی کہتاہے کہ ہمارے لوگ بے شعور اور ناامید ہیں،کسی کی نظر میں عوام بے حس اور بے حرکت ہےاور کسی کے بقول پاکستان کوفہ ہے ۔حالانکہ ناں ہی تو لوگ بے شعور اور ناامید ہیں چونکہ اگر بے شعور اور ناامید ہوتے تو پھرمیدانِ سیاست کو چھوڑ کر ناامید ہوکر بیٹھ چکے ہوتے،اگربے حس اور بے حرکت ہوتے تو یوں جانوں کے نذرانے پیش نہ کرتے اور اگر پاکستان کوفہ ہوتا تو لوگ لیڈروں کو چھوڑ کر بھاگ جاتے۔
بس پھر یہ سوال ہمارے لئے سوچنا کا مقام ہے کہ حقیقت میں بے شعور اور ناامید کون ہے؟بے حس کون ہے؟اور کوفی کون ہے؟ بے شعور اور ناامید دراصل وہ کالی بھیڑیں ہیں جو اس مقدس ملت کو بے شعوربنانے اور ناامید کرنے میں مصروف ہیں،بے حس وہ وہ لوگ ہیں جو حق بات کا پرچار کرنے کے بجائے اپنی ذاتیات کی تبلیغ کرتےہیں اور کوفی و شامی یعنی غدّار و مکّار وہ ٹولے ہیں جو اس ملت کی توہین کرنے کا کوئی بھی موقع اپنے ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔
سچ بات تو یہ ہے کہ پاکستان کوفہ نہیں اور ناں ہی اہلیانِ پاکستان کوفی ہیں،پاکستان کوفے کے بالکل برعکس ہے، آج پاکستان میں عوام نے "حق و صداقت " کا پرچم اٹھا رکھاہے لیکن اکثر قائدین اپنی جانیں،وزارتیں،تعلقات اور شخصیتیں بچانے یا بنانے کے لئے مصروفِ عمل ہیں۔ہمارے مسائل کا حقیقی حل یہی ہے کہ ہم اپنے لیڈروں کی صفوں میں گھسی بھیڑوں کو پہچانیں اور کھرےو کھوٹے لیڈروں میں تمیز کریں۔البتہ اس شناخت پریڈکے دوران ہمیں اچھی طرح معلوم ہونا چاہیے کہ جس طرح بھیڑیں کالی بھی ہو سکتی ہیں اور سفید بھی اسی طرح کھوٹے لیڈر بھی سرخ،سیاہ ،سبز یا سفید کسی بھی روپ میں ہوسکتے ہیں۔



نذر حافی جی میں آپکی بات سے اتفاق کرتی ہوں ہمارے لوگ بےشعور و بےحس نہیں ہیں اور نہ ہی نا امید ہیں سچ میں ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم اپنے بیچ گھسی کالی بھیڑوں کو پہچانیں

pervaz khan
12-01-2012, 01:51 PM
جزاک اللہ

نذر حافی
12-01-2012, 05:11 PM
آپ سب کا بھی بہت شکریہ ۔۔۔۔خصوصا مجھے خوشی ہوئی کہ میں سمجھدار لوگوں کے درمیان بات کررہاہوں۔