PDA

View Full Version : امریکہ اور ناٹو افغانستان کی دلدل میں



گلاب خان
12-09-2010, 10:09 PM
ہفتہ, 27 نومبر 2010 14:41

امریکہ اور ناٹو افغانستان کی دلدل میں احمد ولی مجیب پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں نیٹو ممالک کا دو روزہ اہم اجلاس اس اعلامیے کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ نیٹو بتدریج افغانستان سے اپنے انخلاءکا پروگرام شروع کرے گا اور 2014ءتک ان کا عسکری مشن افغانستان میں ختم ہوجائے گا۔
اس اجلاس کو نیٹو کی 60 سالہ تاریخ کا سب سے اہم اجلاس قرار دیا گیا۔ اس اجلاس کے جہاں اور بہت سے اہم پہلو ہیں وہیں یہ بات بھی انتہائی اہم ہے کہ اس میں روس نے بھی شرکت کی۔ روس کی اس اجلاس میں شرکت ایک ایسے وقت میں ہوئی جب ایک ماہ قبل روس اور نیٹو فورسز نے پہلی بار مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے مشرقی افغانستان کے ایک گاﺅں پر حملہ کیا، جس کے بارے میں کہا جاتا رہا ہے کہ یہاں منشیات بنانے کی فیکٹری تھی، جسے تباہ کردیا گیا۔ یہاں یہ بات بھی انتہائی اہم ہے کہ اس مشترکہ عسکری کارروائی کا علم حامد کرزئی کو میڈیا میں خبر نشر ہونے کے بعد ہوا۔ لیکن حامد کرزئی کو پھر بھی افغانستان کا صدر ہونے کا دعویٰ ہی، اور اب تو انہوں نے نیٹو کے ساتھ ایک طویل المیعاد معاہدہ بھی کرلیا ہے۔
ایک انتہائی بے اختیار شخص نیٹو کے وجود کو افغانستان میں جواز فراہم کررہا ہے۔ لزبن میں ہونے والے اس دو روزہ اجلاس میں 2014ءمیں جس انخلاءکی بات ہوئی اسے کس چیز سے تعبیر کریں؟ فتح سے یا شکست سی؟ نیٹو کے سیکریٹری جنرل اینڈرے راسموسین نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس انخلاءکو کامیابی سے تعبیر کیا اور کہا کہ اس نوسالہ قبضے میں ان کو بہت ساری کامیابیاں ملی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ طالبان کی قوت کمزور ہوچکی ہے اس لئے اب مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بتدریج انخلاءکا عمل شروع کیا جائے۔
نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے کامیابی کی بات تو کی مگر اپنی اس کامیابی کی وضاحت نہیں کی۔
افغانستان کے امور پر نظر رکھنے والے اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ طالبان کی قوت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ طالبان نے اپنی عسکری کارروائیوں کا دائرہ شمالی افغانستان تک پھیلا دیا ہے اور اب صورت حال یہ ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر پورے ملک میں طالبان حملے کرتے ہیں اور واپس اپنے محفوظ مقامات پر پہنچ جاتے ہیں۔ امریکی کمانڈر انچیف جنرل ڈیوڈ پیٹریاس اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں میں گزشتہ 6 ماہ سے بہت زیادہ اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔
ایسے حالات میں نیٹو کس کامیابی کی بات کرتا ہی؟ طالبان نے ان کی صفوں میں نقب لگائی ہے اور ان کے ہر منصوبے اور عسکری حکمت عملی کو ناکام بنایا ہوا ہے۔
امریکہ اور اتحادی گزشتہ کئی ماہ سے مذاکرات کی باتیںکرتے رہے اور اس ضمن میں یہ بھی دعویٰ کرتے رہے کہ انہوں نے کئی اعلیٰ طالبان رہنماﺅں سے مذاکرات کیے ہیں، مگر طالبان نے ہمیشہ اس سے انکار کیا اور دوٹوک موقف اختیار کیا کہ وہ امریکی فوج کی موجودگی میں کسی بھی نوعیت کے مذاکرات میں حصہ نہیں لیں گے۔ مگر امریکی حکام پھر بھی اس بات پر مصر رہتے ہیں کہ ہم نے مذاکرات کیے ہیں اور مغربی میڈیا نے سی آئی اے کی اس لائن کو خوب کوریج دی تاکہ طالبان کی صفوں میں دراڑیں ڈال سکی، مگر اب خود یہ بات سامنے آئی ہے کہ جس سے مذاکرات ہوئے وہ کوئی جعلی ملا تھا۔
کرزئی کی کٹھ پتلی انتظامیہ نے اپنی کونسل قائم کرکے اس معاملے کو مزید مشتبہ کردیا ہے۔ یہ بھی عجیب بات ہے کہ ایک شخص ملا اختر محمد منصور بن کر مذاکرات کرتا ہے اور امریکیوں سمیت کسی کو اس کی اصلیت کا علم بھی نہیں ہوتا!اگر یہ واقعہ سچ ہے تو اس سے امریکیوں اور ان کے اتحادیوں کے ”باخبر“ ہونے کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
افغانستان میں امریکی استعماری قبضے دسواں سال چل رہا ہے اور اب امریکہ 2014ءمیں انخلاءکا پروگرام تیار کررہا ہی، مگر ان 9 برسوں میں وہ اپنی کامیابی کی کوئی واضح تصویر پیش نہیں کرسکا تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ وہ مزید چار سال میں اپنے اہداف حاصل کرپائے گا؟ اس سوال کا بالکل سیدھا سادہ جواب یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان میں شکست کھا چکے ہیں.... نہ صرف شکست بلکہ اس دلدل میں دھنس چکے ہیں۔
2011ءتک امریکی و نیٹو فورسز افغانستان میں رہیں گی، اور ان کی قسمت میں سوائے مزید تباہی اور بربادی کے کچھ نہیں آئے گا۔ نیٹو فورسز نے جس بتدریج انخلاءکا جو نظام الاوقات دیا ہے وہ انتہائی مجہول قسم کا ہے۔
نیٹو کا کہنا ہے کہ 2011ءکی ابتدا سے فوجیوںکو گاﺅں اور دیہات سے پسپائی کا حکم دیا جائے گا۔ اس ضمن میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ وہ کن علاقوں سے پہل کریں گے۔ نیٹو فورسز پہلے مرحلے میں ضلعی مراکز تک محدود ہوں گی اور دوسرے مرحلے میں صوبائی مراکز تک محدود رہیں گی اور ان کی جگہ افغان آرمی سنبھالے گی۔ سوال یہ ہے کہ اول تو افغانستان میں ایسے بے شمار گاﺅں دیہات بلکہ پورے کے پورے اضلاع ہیں جہاں پر امریکی فوجی ان دس برسوں میں نہیں جا سکے ہیں، وہاں صرف طالبان کا راج چلتا ہے۔ جن دیہات میں امریکی اور نیٹو فورسز ہیں وہاں بھی وہ بہت وسیع علاقے کو گھیرے میں لیے ہوئے ہیں، ان کے پاس تمام جنگی وسائل اور اعلیٰ ٹیکنالوجی ہے مگر پھر بھی طالبان ان پر حملے کرتے ہیں اور وہ وہاں ایک طرح سے محصور ہیں۔ جب ان کے فوجی وہاں سے نکلتے ہیں تو فضا سے ان کی نگرانی کی جاتی ہے اور سخت حفاظتی پہرے میں وہ گشت کرتے ہیں لیکن پھر بھی طالبان سپاہی اپنی جان پر کھیل کر اسلام اور ملک کی آزادی کی خاطر فدا ہوجاتے ہیں۔ اب اگر امریکی ان دیہات کو چھوڑ جاتے ہیں اور ان کی جگہ ان کے شاگرد افغان فوجی لیتے ہیں جن کی اکثریت چرس اور افیون کی عادی ہے، تو کیا وہ طالبان کے حملوں کو روک سکتے ہیں؟
طالبان کے سربراہ ملا محمد عمر نے عیدالاضحی کے موقع پر قوم کے نام جو پیغام بھیجا تھا اس میں ایمانی قوت، عزم اور پامردی واضح پیغام تھا۔ طالبان سربراہ نے اس پیغام میں اپنے عسکری منصوبے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب ہم دشمن کو گھیر چکے ہیں اور موقع آچکا ہے کہ ان کے اعصاب پر ایسی ضرب لگائیں کہ پھر وہ دوبارہ سنبھل کر نہ اٹھ سکیں۔
طالبان کے بیانات اور خبروں کو بعض مبصرین جذبات سے تعبیر کرتے ہیں، مگر سچ تو یہ ہے کہ ان سادہ، جذباتی اور ایمان سے سرشار مٹھی بھر مجاہدین نے دنیا کے سب سے بڑے فوجی اتحاد کو ناکوںچنے چبوا دیئے ہیں۔
افغانستان کی موجودہ تباہی و بربادی کے اصل ذمہ دار امریکہ اور نیٹو ہیں۔ آج وہ اس بات کو بخوبی جان چکے ہیں کہ ان کو کوئی عسکری اور سیاسی کامیابی نہیں مل رہی ہے، ان کا ہر منصوبہ ناکام ہورہا ہی، مگر پھر بھی ہٹ دھرمی کی روش اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اس معاملے کو 2014ءتک لے جانے سے اُن کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ جب کہ امریکہ اور یورپ مزید تباہی کے مناظر دیکھیں گے۔ اور اب امریکی اور یورپی فوجیوں کی لاشوں کو نہیں چھپایا جاسکتا۔
افغانستان کی کرپٹ حکومت جو امریکی بیساکھیوں پر قائم ہے امریکی طرزِ حکومت کی علامت ہے۔ امریکہ نے صرف اور صرف کرپشن کا تحفہ دیا ہی، ہزاروں بے گناہ لوگوںکو موت کے گھاٹ اتارا ہی، جب کہ ان کا کمانڈر انچیف جنرل ڈیوڈ پیٹریاس اب اپنی اسپیشل فورسز کے ساتھ رات کی تاریکی میں بے گناہوں پر شب خون مار رہا ہی، حالانکہ مغربی میڈیا اس بات کا گواہ ہے کہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کا ہر حربہ ناکام ہوچکا ہے۔
قندھار آپریشن گزشتہ کئی ماہ سے جاری ہے اور یہ آپریشن اتنی سفاکی کے ساتھ ہورہا ہے کہ خطے کے تمام لوگ امریکی بربریت کی گواہی دے رہے ہیں۔ لوگوںکے باغات، گھروں اور املاک کو بلڈوزروں کے ذریعے تباہ کیا جارہا ہیمگر پھر بھی ان کو کامیابی نہیں مل رہی ہے۔
لزبن کانفرنس سے قبل امریکیوں کی یہ کوشش تھی کہ قندھار کے حوالے سے کامیابی کی کوئی خبر حاصل کرسکیں، مگر وہ اس میں ناکام ہوئے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی ہلمند کے چھوٹے سے علاقے مرجاہ میں کامیابی حاصل نہ کرسکے تو قندھار میں کس طرح کامیاب ہوسکتے ہیں! وہ صرف اور صرف لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، بے گناہوں کو قتل کرسکتے ہیں۔ لیکن کیا کسی بے گناہ کو قتل کرنا فتح مندی ہے؟ امریکی لاکھوں ڈالر اُن جنگی سرداروں کو دے رہے ہیں جن کا کوئی بھروسا نہیں، جو ہمیشہ اپنی مرضی کا کھیل کھیلتے ہیں۔ خود امریکی صدر بارک اوباما اتنے بے بس ہوچکے ہیں کہ وہ انتہائی حسرت سے یہ واضح کرچکے ہیں کہ امریکی خارجہ پالیسی ان کے اختیار میں نہیں۔
امریکہ میں ایسا طبقہ موجود ہے جو جنگ کا حامی ہے اور وہ اپنی امپیریلزم کو قائم رکھنا چاہتا ہے۔ لیکن ایسا اُس کے لیے اب ممکن نہیں، کیونکہ افغانستان کی جنگ میں 7.5 بلین ڈالر ماہانہ خرچ ہورہا ہے جب کہ فوجیوں کی ہلاکت میں بھی بے انتہا اضافہ ہوچکا ہے۔