PDA

View Full Version : عافیہ صدیقی اپیل کے حق سے دستبردار ،امریکی عدالت کیلئے خط ریکارڈ کا حصہ بن گیا



گلاب خان
12-09-2010, 10:17 PM
نیویارک (عظیم ایم میاں) ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے امریکی عدالت سے ملنے والی 86سال کی سزا کے خلاف اپنی اپیل کے حق سے دست بردار ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اپنی اس دست برداری سے عدالت کو مطلع بھی کرچکی ہیں۔ اس بارے میں قابل اعتماد ذرائع نے جنگ کو بتایا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے اپنے ایک خط کے ذریعے عدالت کے جج کو لکھا ہے کہ وہ اس سزا کے خلاف نہ تو اب کوئی اپیل کریں گی اور نہ ہی کوئی وکیل ان کی وکالت کا مجاز ہوگا۔ ذرائع کے مطابق اپنے اس خط میں انہوں نے نام لیکر ان تمام وکلاء کو بھی بھی برطرف کردیا ہے جنہوں نے مقدمے میں عافیہ صدیقی کیس کی پیروی کی تھی، ان میں چارلس سنٹ سمیت وہ چاروں امریکی وکلاء بھی شامل ہیں جن کو حکومت پاکستان نے صدیقی خاندان کے کہنے پر تقریباً 18لاکھ ڈالر کے خرچ اور فیس ادا کرکے اس مقدمے میں عافیہ صدیقی کے دفاع کیلئے مقرر کیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ خط نہ صرف عدالت کے جج کو مل چکا ہے بلکہ عدالتی ریکارڈ میں بھی شامل کردیا گیا ہے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے اپنے اس خط میں اپنے انہی جذبات و خیالات کو بیان کیا ہے جن کا انہوں نے امریکی عدالت سے سزا سنائے جانے کے موقع پر خود عدالت میں اظہار کیا تھا۔ اس خط سے اب سزا کے خلاف اپیل کے تمام امکانات ختم ہوگئے ہیں جبکہ اس بارے میں قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عافیہ صدیقی اپنے خاندان کے افراد کی رائے کو تسلیم کرتے ہوئے عدالت میں بیان کا حق استعمال نہ کرتیں تو فورنسک ثبوت اور مقدمے کے مندرجات اور الزامات کے اعتبار سے استغاثہ کا موقف کمزور تھا اور عافیہ صدیقی کو اتنی طویل سزا کی بجائے الزامات کے ثبوت نہ ملنے پر مبنی فیصلے کا امکان تھا۔ بعض وکلاء کا کہنا ہے کہ اگر اپیل کی جاتی تو رہائی تک کے امکانات ہیں۔ عافیہ کی فیملی کی وکیل ٹینا فوسٹر نے نمائندہ جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ عافیہ صدیقی اپنے تمام وکیلوں کو ”فائر“ کرچکی ہیں اور وہ خود صدیقی خاندان کی وکیل ہیں لہٰذا وہ اس بارے میں کچھ نہیں بتا سکتیں کہ عافیہ کی اپیل کا کیا بنے گا۔ انہوں نے عافیہ کی جانب سے اپیل سے دست برداری کے خط سے بھی لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا کہ عافیہ کے بھائی نے عافیہ سے ملاقات کی کوشش کی مگر انہیں جیل حکام نے اجازت نہیں دی۔