PDA

View Full Version : نروان



ابوسفیان
12-03-2012, 11:30 PM
ایک روز جب بابا اکیلے بیٹھے تھے تو میں ان کے سامنے آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا اور بولا ’’بابا آپ سب لوگوں سے بار بار نروان کا ذکر کرتے ہیں۔ یہ نروان کیا ہوتا ہے؟‘‘
بابا نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور کہا ’’بیٹا‘‘ نروان میں ’’نر‘‘ کا مطلب ہے ’’بغیر‘‘ اور ’’وان‘‘ کا مطلب ہے ’’ہوا‘‘ !
پھر کہنے لگے۔ کبھی تم نے تالاب کو دیکھا ہے۔ جب ہوا چل رہی ہو اور اس کی سطح پر لہریں پیدا ہو گئی ہوں اس وقت نہ تو ارد گرد کے ماحول کا عکس ہی تالاب میں نظر آتا ہے اور نہ تالاب کی تہہ میں پڑی ہوئی کوئی چیز دیکھائی دیتی ہے۔ لیکن جب ہوا تھم جائے تو باہر کی ساری دنیا اس میں نظر آنے لگتی ہے اور خود اس کی تہہ بھی ابھر کر سطح پر آ جاتی ہے۔ بس یہی حال انسان کا ہے۔ جب تک وہ خواہشات کی زد میں رہے گا، اسے نہ تو باہر کا کوئی علم حاصل ہو گا اور نہ اندر کی کائنات ہی اس پر منکشف ہو سکے گی۔
خواہشات کی آندھی رک جائے تو سمجھ بینائی مل گئی۔ نروان حاصل ہو گیا۔

≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠ ≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠ ≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠:smiley-chores016:

نگار
12-03-2012, 11:34 PM
واہ کیا خوبصورت بات آپ نے کہہی
ماشاءاللہ
آپ کا بہت بہت شکریہ