PDA

View Full Version : دلچسپ کتبے



سقراط
12-05-2012, 01:11 AM
بندوق کے دستے پر کھدا ہوا نقش
یہ بندوق امریکہ میں بنائی گئی ہے مگراس کا استعمال امریکہ میں ممنوع ہے“۔”

ایک چاول کے دانے پر لکھی ہوئی تحریر
مجھے ہزاروں صدیوں سے اربوں لوگوں نے کھایا مگرکوئی ختم نہیں کرسکا“۔”

ایک بلب کے شیشے پر بنا ہوا نقش
افسوس کہ مجھے جلنے کیلئے بجلی کی ضرورت ہے“۔”

بیساکھی پر کندہ نقش
میں ہر شخص کی ضرورت ہوں میری کروڑوں شکلیں ہیں“۔”

ایک گلدان پر لکھی ہوئی تحریر
یہاں بھی پھول موسم آنے پرکھلتے ہیں“۔”

باغیچے میں صبح کرنیں پکڑتی بچی کا اپنی کاپی پر پہلا جملہ
سورج کی کرنیں مٹھی میں قید نہیں ہوتیں“۔”

ایک قالین پر لکھا ہوا فخریہ جملہ
میری قیمت اس لئے زیادہ ہے کہ مجھے صرف بارہ سال سے کم عمر کے بچوں نے بُنا ہے“۔”

ایک لیمپ پر کھدا ہوا نقش
مجھے بجھاؤ گے تو سورج نکلے گا“۔”

ٹوٹے ہوئے دروازے پر لکھی ہوئی تحریر
تالے کی چابی اینٹ کے نیچے پڑی ہے“۔”

ایک مسجد کے دروازہ پرلگے ہوئے تالے کے ساتھ لٹکی ہوئی تحریر
یہ خانہ ء خدا نماز کے وقت صرف آدھے گھنٹے کیلئے کھولا جاتا ہے“۔”

برطانیہ کے ایک مدرسہ پر لگا ہوا بورڈ
یہاں اسلامی تعلیم صرف انگریزی زبان میں دی جاتی ہے “۔”

گلوبل ولیج کے نقشے کے نیچے ہدایات کی آخری لائن
اس ولیج میں داخلے کیلئے ویزا ضروری ہے“۔”

اکیلے پڑے ہوئے بریف کیس سے چپکے ہوئے کاغذ پرلکھے ہوئے الفاظ
یہ بم نہیں ہے“۔”

کھجوروں کی تھیلی پہ لکھا ہوا جملہ
حج کے لئے صرف کرائے کی نہیں ویزے کی بھی ضرورت ہے“۔”

ڈیلٹا کے کنارے لگا ہوا بورڈ
یہاں سے دریا پلٹ بھی سکتا ہے “۔”

ایک پرانی شطرنج کے بکس پر کندا تحریر
شطرنج کا ہر بادشاہ چاہے جیتے چاہے ہارے آخر میں اکیلا رہ جاتا ہے“۔”

صدر ہاؤس کی دیوار پر کوئلے سے لکھاہوا جملہ
”لوڈ شیڈنگ ہونے والی ہے“۔

سیاچن کی برف پر لکھی ہوئی تحریر
”یہاں پر گدھے گھاس نہیں موت چرتے ہیں“۔

کوہالہ پل پر لگا ہوا بورڈ
”یہاں سے دنیا کا وہ واحد ملک شروع ہورہا ہے جہاں پاکستانیوں کو ویزے کی ضرورت نہیں“۔

میریٹ (اسلام آباد) کے گیٹ پر لکھی ہوئی تحریر
”یہ ہوٹل امریکیوں کیلئے مکمل طور پر محفوظ ہے“۔

پنجاب اسمبلی کی دیوار پر لکھی ہوئی تحریر
”چڑیا گھر سڑک کے دوسری طرف ہے“۔

پانچویں کلاس کے نصاب کی کتاب میں لکھا ہوا جملہ
”روشنیوں کا شہر کراچی“۔

دارالحکومت میں ایک ون وے روڈ پر لگا ہوا بورڈ
”اس سڑک پرصرف وزیروں کی کاریں الٹے رخ جا سکتی ہیں“۔

مرتے ہوئے سورج کا آخری میسج
”جنگ جاری رکھو روشنی کے لہو سے اندھیرے کے لہو تک“۔

بےباک
12-05-2012, 08:25 AM
بہت اچھے
سب کتبے پڑھے اور سمجھ لیے کہ کہاں کہاں لگے ہوئے تھے ،
اس ایک کتبہ کو نہیں سمجھ سکا ، کہ کہاں لگا ہوا تھا ۔

مرتے ہوئے سورج کا آخری میسج
”جنگ جاری رکھو روشنی کے لہو سے اندھیرے کے لہو تک“۔

سقراط
12-05-2012, 07:38 PM
یہ جہاں سے کاپی کیا وہاں لگا ہوا لگا ہوا تھا:Ghelyon::Ghelyon: