PDA

View Full Version : اُسوہ صحابیات ( رضی اللہ تعالی عنہن)



تانیہ
12-06-2012, 03:36 PM
السلام علیکم پیارے ساتھیو!
کچھ دن پہلے ایک بہت پیاری کتاب صحابیات رضی اللہ تعالی عنہن کے بارے میں پڑھنے کو ملی جسکی تحریر و ترتیب
جناب مولانا سعید انصاری صاحب اور جناب مولانا عبدالسلام ندوی صاحب نے کی ہے
یہ کتاب مستند حوالوں سے ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن، بنات طاہرات رضی اللہ تعالی عنہن اور اکابر صحابیات رضی اللہ تعالی عنہن کے مفصل سوانح حیات، انکے مذہبی، علمی اور اخلاقی کارناموں کی پوری تفصیل اور صحابیات رضی اللہ تعالی عنہن کی پاکیزہ و مجاہداہ زندگی کا مکمل اسوہ حسنہ ہے
مسلمان عورتیں زمانہ کے نئے حالات سے بدل رہی ہیں انکے سامنے سعادتمند خواتین کا کوئی اسوہ موجود نہیں اسلیئے انکا راہ سے ہٹنا دو راز عقل نہیں، لیکن اگر ہماری خواتین اس کتاب کو اپنی زندگی کا نمونہ بنائیں تو انہیں معلوم ہو گا کہ دینداری، خدا ترسی، پاکیزگی، عفت اور اصلاح و تقویٰ کے ساتھ وہ دنیا کو کیونکر نباہ سکتی ہیں اور دنیا و آخرت دونوں کی نیکیوں کو اپنے آنچل میں کیسے سمیٹ سکتی ہیں،
میں نے اس کتاب کو ہمارے بہت محترم ساتھی حافظ زوہیب احمد صاحب جو اپنی اردو کی خدمات کے لیے کسی تعارف کے محتاج نہیں کے اردو انسائیکلو پیڈیا (http://urduencyclopedia.org/general/)ا کے لیے ٹائپ کیا اور میں چاہونگی کہ میں اپنے یہاں تمام موجود ساتھیوں سے بھی شیئر کروں ، امید ہے آپ سبکو بھی اس میں صحابیات رضی اللہ تعالی عنہن کی زندگی کے بارے میں تمام تحاریر پڑھنے کے بعد اتنا ہی مزا آئے گا ، ہمت بندھے گی ، ایمان تازہ ہو گا اور خوشی ہو گی جیسا کہ میں اسکو پڑھنے کے بعد محسوس کرتی ہوں ۔۔۔۔http://i39.tinypic.com/23j0krt.gif
(میں اس کتاب میں موجود تمام صحابیات رضی اللہ تعالی عنہن کو ایک ایک موضوع سے اسی لڑی میں شیئر کرونگی تا کہ تمام ساتھی دلجمعی سے پڑھ سکیں اور مستفید ہوں)

تانیہ
12-06-2012, 03:40 PM
حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ
نام و نسب:۔
خدیجہ نام، ام ہند کنیت، طاہرہ لقب، سلسلہ نسب یہ ہے۔ خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزی بن قصی، قصی پر پہنچ کر انکا خاندان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان سے مل جاتاہے۔ والدہ کا نام فاطمہ بنت زائدہ تھا، اور لوری بن غالب کے دوسرے بیٹے عامر کی اولاد تھیں۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے والد اپنے قبیلے میں نہایت معزز شخص تھے۔ مکہ آ کر اقامت کی، عبد الدارین ابن قصی کے جوان کے ابن عم تھے، حلیف بنے اور یہیں فاطمہ بنت زائدہ سے شادی کی، جن کے بطن سے عام الفیل سے 15 سال قبل حضرت خدیجہ اللہ تعالی عنہ پیدا ہوئیں،(طبقات ابن سعدج8و)
سنِ شعور کو پہنچیں تو اپنے پاکیزہ اخلاق کی بنا پر طاہرہ(اصابہ ج8ص60) کے لقب سے مشہور ہوئیں،
نکاح:۔

باپ نے ان صفات کا لحاظ رکھ کر شادی کے لیے ورقہ بن نوفل کو جو برادر زادہ اور تورات و انجیل کے بہت بڑے عالم تھے، منتخب کیا، لیکن پھر کسی وجہ سے یہ نسبت نہ ہو سکی اور ابوہالہ بن بناش تمیمی سے نکاح ہو گیا۔(استیعاب ج2ص378)
ابوہالہ کے بعد عتیق بن عابد مخزومی کے عقد نکاح میں آئیں،
اسی زمانہ میں حرب الفجار چھڑی، جس میں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے باپ لڑائی کے لیے نکلے اور مارے گئے(طبقات ج8صفحہ9) یہ عام الفیل سے 20 سال بعد کا واقعہ ہے۔(ایضاًص81ج1ق1)
تجارت:۔

باپ اور شوہر کے مرنے سے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کو سخت دقت واقع ہوئی، ذریعہ معاش تجارت تھی جسکا کوئی نگران نہ تھا تاہم اپنے اعزہ کو مال تجارت دیکر بھیجتی تھیں، ایک وقت مال کی روانگی کا وقت آیا تو ابو طالب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ تمکو خدیجہ( رضی اللہ تعالی عنہ) سے جا کر ملنا چاہیے، انکا مال شام جائے گا۔ بہتر ہےکہ تم بھی ساتھ لے جاتے، میرے پاس روپیہ نہیں ورنہ میں خود تمھارے لیے سرمایہ مہیا کر دیتا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شہرت"امین" کے لقب سے تمام مکہ میں تھی اور آپکے حسن معاملت، راست بازی، صدق و دیانت اور پاکیزہ اخلاقی کا چرچا عام تھا، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کو اس گفتگو کی خبر ملی تو فورا پیغام بھیجا کہ"آپ میرا مال تجارت لیکر شام جائیں، جو معاوضہ اوروں کو دیتی ہوں آپکو اسکا مضاعف دونگی۔"آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرمالیا اور مالِ تجارت لیکر میسرہ(غلام خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ) کے ہمراہ بصری تشریف لے گئے، اس سال کا نفع سال ہائے گزشتہ کے نفع سے مضاعف تھا،(طبقات ج اق اص81)
حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد نکاح میں آتی ہیں:۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کی دولت و ثروت اور شریفانہ اخلاق نے تمام قریش کو اپنا گرویدہ بنا لیاتھا، اور ہر شخص ان سے نکاح کا خواہاں تھا، لیکن کارکنان قضاوقدر کی نگاہ انتخاب کسی اور پر پڑچکی تھی، آنحضرت مال تجارت لیکر شام سے واپس آئے تو حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ نے شادی کا پیغام بھیجا، نفیسہ بنت مینہ(یعلی بن امیہ کی ہمشیر) اس خدمت پر مقرر ہوئی،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منظور فرمایا،(ایضاً ص84) اور شادی کی تاریخ مقرر ہو گئی، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے والد اگرچہ وفات پا چکے تھے تاہم انکے چچا عمروبن اسد زندہ تھے، عرب میں عورتوں کو یہ آزادی حاصل تھی کہ شادی بیاہ کے متعلق خود گفتگو کر سکتی تھیں، اسی بناء پر حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ نے چچا کے ہوتے ہوئے خود براہ راست تمام مراتب طے کئے،
تاریخ معین پر ابوطالب اور تمام رؤسائے خاندان جن میں حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ بھی تھے، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے مکان پر آئے، حضرت خدیجہ نے بھی اپنے خاندان کے چند بزرگوں کو جمع کیا تھا، ابوطالب نے خطبہ نکاح پڑھا۔ عمروبن اسد کے مشورہ سے 500 طلائی درہم مہر قرار پایا اور خدیجہ طاہرہ رضی اللہ تعالی عنہ حرم نبوت ہو کر ام المومنین نے شرف سے ممتاز ہوئیں، اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پچیس سال کے تھے اور حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کی عمر چالیس برس کی تھی۔ یہ بعثت سے پندرہ سال قبل کا واقعہ ہے،(اصابہ ج8ص60)
اسلام:۔

پندرہ برس کے بعد جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پیغمبر ہوئے اور فرائض نبوت کو ادا کرنا چاہا تو سب سے پہلے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ پیغام سنایا وہ سننے سے پہلے مومن تھیں، کیونکہ ان سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدق دعویٰ کا کوئی شخص فیصلہ نہیں کر سکتا تھا، صحیح بخاری باب بدۤالوحی میں یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ مذکور ہے اور وہ یہ ہے،
"حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتدا رویائے صادقہ سے ہوئی آپ جو کچھ خواب میں دیکھتے تھے سپیدۂ۔۔۔۔۔ صبح کی طرح نمودار ہو جاتا تھا، اسکے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم خلوت گزیں ہو گئے، چنانچہ کھانے پینے کا سامان لیکر غار حرا تشریف لے جاتے اور وہاں تخث یعنی عبادت کرتے تھے۔ جب سامان ہو چکتا تو پھر خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس تشریف لاتے اور پھر واپس جا کے مراقبہ میں مصروف ہوتے یہاں تک کہ ایکدن فرشتہ غیب نظر آیا کہ آپ سے کہہ رہا ہے پڑھ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں پڑھا لکھا نہیں، اس نے زور سے دبایا، پھر مجھکو چھوڑ دیا، اور کہا پڑھ تو میں نے پھر کہا کہ میں پڑھا لکھا نہیں پھر اس نے دوبارہ زور سے دبایا اور چھوڑ دیا اور کہا پڑھ پھر میں نے کہا میں پڑھا لکھا نہیں اسی طرح تیسری دفعہ دبا کر کہا کہ پڑھ اس خدا کا نام جس نے کائنات کو پیدا کیا۔ جس نے آدمی کو گوشت کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ پڑھ تیرا خدا کریم ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے تو جلال الہی سے لبریز تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا مجھکو کپڑا اڑھاؤ، مجھکو کپڑا اڑھاؤ، لوگوں نے کپڑا اڑھایا تو ہیبت کم ہوئی پھر حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ سے تمام واقعہ بیان کیا اور کہا"مجھکو ڈر ہے" حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم متردد نہ ہوں، خدا آپکا ساتھ نہ چھوڑے گا، کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، بےکسوں اور فقیروں کے معاون رہتے ہیں، مہمان نوازی اور مصائب میں حق کی حمایت کرتے ہیں پھر وہ آپکو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو مذہباً نصرانی تھے عبرانی زبان جانتے تھے اور عبرانی زبان میں انجیل لکھا کرتے تھے، اب وہ بوڑھے اور نابینا ہو گئے تھے۔ خدیجہ نے کہا اپنے بھتیجے(آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم) کی باتیں سنو، بولے ابن الاخ تو نے کیا دیکھا؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے واقعہ کی کیفیت بیان کی تو کہا یہ وہی ناموس ہے جو موسی پر اترا تھا۔ کاش مجھ میں اس وقت قوت ہوتی اور زندہ رہتا جب آپکی قوم آپکو شہر بدر کرے گی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا یہ لوگ مجھے نکال دینگے؟ ورقہ نے جواب دیا ہاں جو کچھ آپ پر نازل ہوا جب کسی پر نازل ہوتا ہے تو دنیا اسکی دشمن ہو جاتی ہے اور اگر اس وقت تک میں زندہ رہا تو تمھاری وزنی مدد کرونگا۔ اسکے بعد ورقہ کا بہت جلد انتقال ہو گیا اور وحی کچھ دنوں کے لیے رک گئی،(صحیح بخاری ج اص2، 3 )
اس وقت تک نماز پنجگانہ فرض نہ تھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نوافل پڑھا کرتے تھے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ بھی آپکے ساتھ نوافل میں شرکت کرتی تھیں، ابن سعد کہتے ہیں(طبقات ج8ص10)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ ایک عرصہ تک خفیہ طور پر نماز پڑھا کیئے۔
عفیف کندی سامان خریدنے کے لیے مکہ آئے، اور حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر میں فروکش ہوئے، صبح کے وقت ایکدن کعبہ کی طرف نظر تھی۔ دیکھا کہ ایک نوجوان آیا اور آسمان کی طرف قبلہ رُخ کھڑا ہو گیا۔ پھر ایک لڑکا اسکے داہنی طرف کھڑا ہوا، پھر ایک عورت دونوں کے پیچھے کھڑی ہوئی، نماز پڑھ کر یہ لوگ چلے گئے، تو عفیف نے حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا کہ کوئی عظیم الشان واقعہ پیش آنے والا ہے، حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے جوابدیا، ہاں، پھر کہا جانتے ہو یہ نوجوان کون ہے؟ یہ میرا بھتیجا محمد ہے، یہ دوسرا بھتیجا علی ہے اور یہ محمد کی بیوی(خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ) ہے، میرے بھتیجے کا خیال ہے کہ اسکا مذہب پروردگار عالم کا مذہب ہے اور جو کچھ کرتا ہے اسکے حکم سے کرتا ہے، دنیا میں جہاں تک مجھکو علم ہے اس خیال کے صرف یہی تین شخص ہیں،(ایضاً ص 10، 11)
عقیلی اس روایت کو ضعیف سمجھتے ہیں، لیکن ہمارے نزدیک اسکے ضعیف ہونے کی کوئی وجہ نہیں، درایت کے لحاظ سے اس میں کوئی خرابی نہیں، روایت کی حیثیت سے اسکے ثبوت کے متعدد طریق ہیں محدث ابن سعد نے اسکو نقل کیا ہے، بغوی، ابویعلی اور نسائی نے اسکو اپنی کتابوں میں جگہ دی ہے، حاکم، ابن حثیمہ، ابن مندہ اور صاحبِ غیلانیات نے اسے مقبول مانا ہے۔ اور سب سے بڑھکر یہ کہ اسکو امام بخاری نے اپنی تاریخ میں درج کیا ہے اور اسکو صحیح کہا ہے۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ نے صرف نبوت کی تصدیق ہی نہیں کی بلکہ آغاز اسلام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی معین و مددگار ثابت ہوئیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو چند سال تک کفار مکہ اذیت دیتے ہوئے ہچکچاتے تھے۔ اس میں بڑی حد تک حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کا اثر کام کر رہا تھا، اوپرگزرچکا ہے۔ کہ آغاز نبوت میں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ الفاظ نکلے کہ"مجھکو ڈر ہے" تو انہوں نے کہا"آپ متردد نہ ہوں، خدا آپکا ساتھ نہ چھوڑے گا" دعوت اسلام کے سلسلے میں جب مشرکین نے آپکو طرح طرح کی اذیتیں پہنچائیں تو ضحرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ نے آپکو تسلی اور تشفی دی، استیعاب میں ہے،(طبقات ج 2ص740)
"آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکین کی تردید یا تکذیب سے جو کچھ صدمہ پہنچتا، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آکر ختم ہو جاتا تھا کیونکہ وہ آپکی باتوں کی تصدیق کرتی تھیں اور مشرکین کے معاملہ کو آپکے سامنے ہلکا کر کے پیش کرتی تھیں،"
سن 7 نبوی میں جب قریش نے اسلام کو تباہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ تو یہ تدبیر سوچی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپکے خاندان کو ایک گھاٹی میں محصور کیا جائے، چنانچہ ابوطالب مجبور ہو کر تمام خاندان ہاشم کے ساتھ شعب ابوطالب میں پناہ گزین ہوئے، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ بھی ساتھ آئیں، سیرت ابن ہشام میں ہے۔(سیرت ابن ہشام ج اص192)
"اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شعب ابوطالب میں تھیں،"
تین سال تک بنو ہاشم نے اس حصار میں بسر کی یہ زمانہ ایسا سخت گزرا کہ طلح کے پتے کھا کھا کر رہتے تھے تاہم اس زمانہ میں بھی حجرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے اثر سے کبھی کبھی کھانا پہنچ جاتا تھا۔ چنانچہ ایک دن حکیم بن حزام نے جو حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کا بھتیجا تھا۔ تھوڑے سے گیہوں اپنے غلام کے ہاتھ حضرے خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس بھیجے، راہ میں ابوجہل نے دیکھ لیا، اتفاق سے ابوالبختری کہیں سے آ گیا، وہ اگرچہ کافر تھا، لیکن اسکو رحم آیا، ابوجہل سے کہا ایک شخص اپنی پھوپھی کو کھانے کے لیے کچھ بھیجتا ہے تو کیوں روکتا ہے،(ایضاً)
وفات:۔

حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ نکاح کے بعد 25 برس تک زندہ رہیں اور 11 رمضان سن 10 نبوی(ہجرت سے تین سال قبل(بخاری ج اص ا55)) انتقال کیا، اس وقت انکی عمر 64 سال 6 ماہ کی تھی، چنانچہ نماز جنازہ اس وقت تک مشروع نہیں ہوئی تھی۔ اسلیئے انکی لاش اسی طرح دفن کر دی گئی،
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود انکی قبر میں اترے، اور اپنی سب سے بڑی غمگسار کو داعی اجل کے سپرد کیا، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کی قبر حجون میں ہے،(طبقات ابن سعد ج8ص11) اور زیارت گاہ خلائق ہے،
حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات سے تاریخ اسلام میں ایک جدید دور شروع ہوا۔ یہی زمانہ ہے جو اسلام کا سخت ترین زمانہ ہے۔ اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس سال کو عام الحزن(سال غم) فرمایا کرتے تھے کیونکہ انکے اٹھ جانے کے بعد قریش کو کسی شخص کا پاس نہیں رہ گیا تھا، اور وہ نہایت بےرحمی و بیباکی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ستاتے تھے، اسی زمانہ میں آپ اہل مکہ سے ناامید ہو کر طائف تشریف لے گئے۔
اولاد:۔

حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے بہت سی اولاد ہوئی، ابوہالہ سے جو انکے پہلے شوہر تھے، دو لڑکے پیدا ہوئے، جنکے نام ہالہ و ہند تھے، دوسرے شوہر یعنی عتیق سے ایک لڑکی پیدا ہوئی، اسکا نام بھی ہند تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے چھ اولادیں پیدا ہوئیں، دو صاحبزادے جو بچپن میں انتقال کر گئے اور چار صاحبزادیاں! نام حسب ذیل ہیں،(زرقانی جلد 3ص221)
(1)حضرت قاسم رضی اللہ تعالی عنہ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے بڑے بیٹے تھے، انہی کے نام پر آپ ابو القاسم کنیت کرتے تھے، صغر سنی میں مکہ میں انتقال کیا، اس وقت پیروں چلنے لگے تھے،(2) حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی صاحبزادی تھیں، (3) حضرت عبد اللہ نے بہت کم عمر پائی، چونکہ زمانہ نبوت میں پیدا ہوئے تھے، اس لیے طیب اور طاہر کے لقب سے مشہور ہوئے(4) حضرت رقیہ (5)حضرت ام کلثوم (6)حضرت فاطمہ زہرا، اس سب میں ایک ایک سال کا چھٹاپا بڑاپا تھا، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ اپنی اولاد کو بہت چاہتی تھیں، اور
چونکہ دنیا نے بھی ساتھ دیا یعنی صاحب ثروت تھیں، اس لیے عقبہ کی لونڈی سلمہ کو بچوں کی پرورش پر مقرر کیا تھا، وہ انکو کھلاتی و دودھ پلاتی تھیں،
ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہما میں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کو بعض خاص خصوصیتیں حاصل ہیں، وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی بیوی ہیں، وہ جب عقد نکاح میں آئیں تو انکی عمر چالیس برس کے قریب تھی، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انکی زندگی میں دوسری شادی نہیں کی، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام اولاد انہی سے پیدا ہوئی۔
فضائل و مناقب:۔

ام المومنین حضرت خدیجہ طاہرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی عظمت و فضیلت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب فرض نبوت ادا کرنا چاہا تو فضائے عالم سے ایک آواز بھی آپکی تائید میں نہ اٹھی، کوہ حرا، وادی عرفات، جبل فاران غرض تمام جزیرة العرب آپکی آواز پر پیکر تصویر بنا ہوا تھا، لیکن اس عالمگیر خاموشی میں صرف ایک آواز تھی جو فضائے مکہ میں تموج پیدا کر رہی تھی، یہ آواز حضرت خدیجہ طاہرہ رضی اللہ تعالی عنہ کے قلب مبارک سے بلند ہوئی تھی، جو اس ظلمت کدہ کفر و ضلالت میں نور الہی کا دوسرا تجلی گاہ تھا،
حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ وہ مقدس خاتون ہیں، جنہوں نے نبوت سے پہلے بت پرستی ترک کر دی تھی، چنانچہ مسند ابن حنبل میں روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا،"بخدا میں کبھی لات و عزی کی پرستش نہ کرونگا"انہوں نے جواب دیا کہ لات کو جانے دیجیئے، عزی کو جانے دیجیئے، یعنی انکا ذکر نہ کیجیئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کو انکی ذات سے جو تقویت تھی وہ سیرت بنوی کے ایک ایک صفحہ سے نمایاں ہے، ابن ہشام میں ہے،"وہ اسلام کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی مشیر کار تھیں۔"
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے انکو جو محبت تھی، وہ اس سے ظاہر ہے کہ باوجود اس تمول اور دولت و ثروت کے جو انکو حاصل تھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت خود کرتی تھیں، چنانچہ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ برتن میں کچھ لا رہی ہیں۔ آپ انکو خدا کا اور میرا سلام پہنچا دیجیئے،(صحیح بخاری ج اص539)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ سے سخت محبت تھی، لیکن وہ مکہ میں غلام کی حیثیت سے رہتے تھے، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ نے انکو آزاد کرایا، اور اب وہ کسی دنیاوی رئیس کے خادم ہونے کی بجائے شہنشاہ رسالت(صلی اللہ علیہ وسلم) کے غلام تھے،
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ سے بےپناہ محبت تھی آپ نے انکی زندگی تک دوسری شادی نہیں کی، انکی وفات کے بعد آپکا معمول تھا کہ جب گھر میں کوئی جانور ذبح ہوتا تو آپ ڈھونڈ ڈھونڈ کر انکی سہیلیوں کے پاس گوشت بھجواتے تھے، حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ گو میں نے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کو نہیں دیکھا، لیکن مجھکو جس قدر ان پہ رشک آتا تھا کسی اور پر نہیں آتا تھا، جسکی وجہ یہ تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ انکا ذکر کیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ میں نے اس پر آپکو رنجیدہ کیا، لیکن آپ نے فرمایا کہ خدا نے مجھکو انکی محبت دی ہے،(صحیح مسلم ج2ص333،)
ایک دفعہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے انتقال کے بعد انکی بہن ہالہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے آئیں اور استیذان کے قاعدے سے اندر آنے کی اجازت مانگی، انکی آواز حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ سے ملتی تھی آپکے کانوں میں آواز پڑی تو حضرت خدیجہ یاد آ گئیں اور آپ جھجھک اٹھے، اور فرمایا"کہ ہالہ ہونگی۔" حضرت عائشہ بھی موجود تھیں انکو نہایت رشک ہوا، بولیں کہ "آپ کیا ایک بڑھیا کی یاد کیا کرتے ہیں، جو مر چکیں، اور خدا نے ان سے اچھی بیویاں آپکو دیں،" صحیح بخاری میں یہ روایت یہیں تک ہے، لیکن استیعاب میں ہے کہ اسکے جواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ"ہرگز نہیں جب لوگوں نے میری تکذیب کی تو انہوں نے تصدیق کی، جب لوگ کافر تھے تو وہ اسلام لائیں،
جب میرا کوئی نہ تھا تو انہوں نے میری مدد کی، اور میری اولاد ان ہی سے ہوئی۔"
حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے مناقب میں بہت سی حدیثیں مروی ہیں، صحیح بخاری و مسلم میں ہے،
"عورتوں میں بہترین مریم بنت عمران ہے اور پھر عورتوں میں بہترین خدیجہ بنت خویلد ہیں"
ایک مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، خدیجہ آئیں تو فرمایا۔
"انکو جنت میں ایک ایسا گھر ملنے کی بشارت سنا دیجیئے جو موتی کا ہو گا اور جس میں شوروغل اور محنت و مشقت نہ ہو گی،"

pervaz khan
12-06-2012, 04:21 PM
جزاک اللہ

سقراط
12-07-2012, 02:46 AM
سبحان اللہ تانیہ سس کمال کردیا آپ تو سبقت لے گئیں مین خود اسی قسم کی کوئی لڑی تلاش کرنے میں لگا تھا اور آپ نے یہاں لگا بھی دی اب آپ کے ہر ہر لڑی کے موتی کا انتظار رہے گا بہت خوبصورت اور الگ الگ درجے میں بانٹ کر مضمون لگایا
آپ کا کیسے شکریہ کہوں سمجھ نہیں آتا
اللہ آپ کو خوش رکھے آمین

سقراط
12-07-2012, 02:50 AM
تانیہ سس میرا خیال ہے کہ اسے آپ صحابہ کرام اور صحابیات والے سیکشن میں موو کردیں

تانیہ
12-07-2012, 02:27 PM
حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ
نام و نسب:۔
سودہ نام تھا، قبیلہ عامر بن لوی سے تھیں، جو قریش کا ایک نامور قبیلہ تھا، سلسلہ نسب یہ ہے، سودہ بنت زمعہ بن قیس بن عبد شمس بن عبدودبن نصربن مالک بن حسل بن عامر ابن لوی، ما کا نام شموس تھا، یہ مدینہ کے خاندان بنو نجار سے تھیں، انکا پورا نام و نسب یہ ہے، سشموس بنت قیس بن زیدبن عمرو بن لبید بن فراش بن عامر بن غنم بن عدی بن النجا۔
نکاح:۔
سکران رضی اللہ تعالی عنہ بن عمرو سے جو انکے والس کے ابن عم تھے، شادی ہوئی،
قبول اسلام:۔
ابتدائے نبوت میں مشرف بہ اسلام ہوئیں، انکے ساتھ انکے شوہر بھی اسلام لائے۔ اس بنا پر انکو قدیم السلام ہونے کا شرف حاصل ہے، حبشہ کی پہلی ہجرت کے وقت تک حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ اور انکے شوہر مکہ ہی میں مقیم رہے، لیکن جب مشرکین کے ظلم و ستم کی کوئی انتہا نہ رہی اور مہاجرین کی ایک بڑی جماعت ہجرت کے لیے آمادہ ہوئی تو ان میں حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ اور انکےشوہر بھی شامل ہو گئے۔
کئی برس حبشہ میں رہ کر مکہ کو واپس آئیں، اور سکران رضی اللہ تعالی عنہ نے کچھ دن کے بعد وفات پائی۔
حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ حرم نبوت بنتی ہیں:۔
حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ کو تمام ازواج مطہرات میں یہ فضیلت حاصل ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے بعد سب سے پہلے وہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد نکاح میں آئیں، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے انتقال سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نہایت پریشان و غمگین تھے، یہ حالت دیکھ کر خولہ رضی اللہ تعالی عنہ بنت حکیم (عثمان بن مظعون کی بیوی) نے عرض کی کہ آپ کو ایک مونس و رفیق کی ضرورت ہے، آپ نے فرمایا ہاں، گھر بار بال بچوں کا انتظام سب خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ

کے متعلق تھا، آپکے ایماء سے وہ حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ کے والد کے پاس گئیں، اور جاہلیت کے طریقہ پر اسلام کیا، انعم صباحا، پھر نکاح کا پیغام سنایا، انہوں نے کہا ہاں محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) شریف کفو ہیں، لیکن سودہ رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی تو دریافت کرو، غرض سب مراتب طے ہو گئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود تشریف لے گئے اور سودہ رضی اللہ تعالی عنہ کے والد نے نکاح پڑھایا، چار سو درہم مہر قرار پایا، نکاح کے بعد عبداللہ بن زمع(حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ کے بھائی) جو اس وقت کافر تھے، آئے اور انکو یہ حال معلوم ہوا تو سر پر خاک ڈال لی کہ کیا غضب ہو گیا، چنانچہ اسلام لانے کے بعد اپنی اس حماقت و نادانی پر ہمیشہ انکو افسوس آتا تھا،(زرقانی ج3ص261)
حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ کا نکاح رمضان سن دس نبوی میں ہوا، اور چونکہ انکے اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کے نکاح کا زمانہ قریب قریب ہے، اسلیئے مؤرخین میں اختلاف ہے کہ کس کو تقدم حاصل ہے، ابن اسحاق کی روایت ہے کہ سودہ رضی اللہ تعالی عنہ کو تقدم ہے اور عبداللہ بن محمد بن عقیل حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کو مقدم سمجھتے ہیں۔(طبقات ابن سعد ج8ص36۔37۔38۔39وزرقانی ج3ص360)
بعض روائتوں میں ہے کہ حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے پہلے شوہر کی زندگی میں ایک خواب دیکھا تھا، ان سے بیان کیا تو بولے کہ شائد میری موت کا زمانہ قریب ہے، اور تمھارا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو گا، چنانچہ یہ خواب حرف بہ حرف پورا ہوا،(زرقانی ج3ص260وطبقات ابن سعدج8ص38،39۔)
عام حالات:۔
نبوت کے تیرہویں سال جب آپ نے مدینہ منورہ میں ہجرت کی تو حضرت زیدرضی اللہ تعالی عنہ بن حارثہ کو مکہ بھیجا کہ حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ وغیرہ کو لیکر آئیں، چنانچہ وہ اور حضرت فاطمہ زہرارضی اللہ تعالی عنہ حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ کے ہمراہ مدینہ آئیں،
سن دس ہجری میں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا تو حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ بھی ساتھ تھیں، چونکہ وہ بلند و بالا و فربہ اندام تھیں اور اس وجہ سے تیزی کے ساتھ چل پھر نہیں

سکتی تھیں۔ اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی کہ اور لوگوں کے مزدلفہ سے روانہ ہونے کے قبل انکو چلا جانا چاہیے، کیونکہ انکو بھیڑ بھاڑ میں چلنے سے تکلیف ہو گی،(صحیح بخارج1ص228)
وفات:۔
ایک دفعہ ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہما آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھیں، انہوں نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! ہم میں سے سب سے پہلے کون مرے گا، فرمایا کہ جسکا ہاتھ سب سے بڑا ہے، لوگوں نے ظاہرہ معنی سمجھے، ہاتھ ناپے گئے تو سب سے بڑا ہاتھ حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ کا تھا،(طبقات ج8ص37)لیکن جب سب سے پہلے حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہ کا انتقال ہوا۔ تو معلوم ہوا کہ ہاتھ کی بڑائی سے آپ کا مقصد سخاوت و فیاضی تھی، بہرحال واقدی نے حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ کا سال وفات 54 ہجری بتایا ہے،(طبقات ابن سعدج8ص37،39) لیکن ثقات کی روایت یہ ہے کہ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے اخیر زمانہ خلافت میں انتقال کیا۔(اسدالغابہ واستیعاب و خلاصہ تہذیب حالات سودہ رضی اللہ تعالی عنہ)
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے سن 23 ہجری میں وفات پائی ہے اس لیے حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات کا سال 22 ہجری ہو گا خمیس میں یہی روایت ہےاور سب س ےزیادہ صحیح ہے،(زرقانی ج3ص262) اور اسکو امام بخاری، ذہبی، جزری ابن عبدالبر اور خزرجی نے اختیار کیا ہے۔
اولاد:۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی اولاد نہیں ہوئی، پہلے شوہر(حضرت سکران رضی اللہ تعالی عنہ) نے ایک لڑکا یادگار چھوڑا تھا، جسکا نام عبدالرحمن تھا، انہوں نے جنگ جلولاء (فارس) میں شہادت حاصل کی۔(زرقانی ج2ص260)
حلیہ:۔
ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہما میں حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ سے زیادہ کوئی بلند بالا نہ تھا، حضرت عائشہ کا قول ہے کہ جس نے انکو دیکھ لیا، اس سے وہ چھپ نہیں سکتی تھیں۔(صحیح بخاری ج3ص707) زرقانی میں ہے کہ انکا ڈیل لانبا تھا،(زرقانی ض3ص459۔)
فضل و کمال:۔
حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ سے صرف پانچ حدیثیں مروی ہیں، جن میں سے بخاری میں صرف ایک ہے، صحابہ رضی اللہ تعالی عنہما میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ ، ابن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ اور یحی بن عبدالرحمن(بن اسعد بن زرارہ) نے ان سے روایت کی ہے،
اخلاق:۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں۔(طبقات ج8ص37)
"سودہ کے علاوہ کسی عورت کو دیکھ کر مجھے یہ خیال نہیں ہوا کہ اسکے قالب میں میری روح ہوتی۔"
اطاعت و فرمانبرداری میں وہ تمام ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہما سے ممتاز تھیں، آپ نے حجة الوداع کے موقع پر ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہما کو مخاطب کر کے فرمایا تھا۔ کہ میرے بعد گھر میں بیٹھنا،(زرقانی ج3ص291) چنانچہ حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اس حکم پر اس شدت سے عمل کیا کہ پھر کبھی حج کے لیے نہ نکلیں، فرماتی تھیں کہ میں حج و عمرہ دونوں کر چکی ہوں، اور اب خدا کے حکم کے مطابق گھر میں بیٹھونگی،(طبقات ج 8ص38)
سخاوت و فیاضی بھی انکا ایک اور نمایاں وصف تھا، اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کے سوا وہ اس وصف میں بھی سب سے ممتاز تھیں، ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے انکی خدمت میں ایک تھیلی بھیجی، لانے والے سے پوچھا، اس میں کیا ہے؟ بولا درہم، بولیں کھجور کی طرح تھیلی میں درہم بھیجے جاتے ہیں۔ یہ کہکر اسی وقت سبکو تقسیم کر دیا،(اصابہ ج 8 ص 118) وہ طائف کی کھالیں بناتی تھیں اور اس سے جو آمدنی ہوتی تھی، اسکو نہایت آزادی کے ساتھ نیک کاموں میں صرف کرتی تھیں،(ایضاً ص 65 حالات خیسہ)
ایثار میں بھی وہ ممتاز حیثیت رکھتی تھیں، وہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ آگے پیچھے نکاح میں آئیں تھیں لیکن چونکہ انکا سن بہت زیادہ تھا۔ اس لیے جب بوڑھی ہو گئیں تو انکو سوءظن ہوا کہ شاید آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم طلاق دے دیں، اور شرف صحبت سے محروم ہو جائیں، اس بنا پر انہوں نے اپنی باری حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کو دے دی اور انہوں نے خوشی سے قبول کر لی،( صحیح بخاری و مسلم(کتاب النکاح جواز ہبتہ نوبہتا لصرنتہا)
مزاج تیز تھا، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ انکی بےحد معترف تھیں، لیکن کہتی ہیں کہ وہ بہت جلد غصہ سے بھڑک اٹھتی تھیں، ایک مرتبہ قضائے حاجت کے لیے صحرا کو جا رہی تھیں، راستے میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ مل گئے، چونکہ حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ کا قد نمایاں تھا، انہوں نے پہچان لیا، حضرت عمر کو ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہما کا باہر نکلنا ناگوار تھا اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پردہ کی تحریک کر چکے تھے، اس لیے بولے سودہ رضی اللہ تعالی عنہ تمکو ہم نے پہچان لیا۔ حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ کو سخت ناگوار ہوا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچیں اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی شکایت کی، اسی واقعہ کے بعد آیتِ حجاب نازل ہوئی۔(صحیح بخاری ج1ص26)
باایں ہمہ ظرافت اس قدر تھی کہ کبھی کبھی اس انداز سے چلتی تھیں، کہ آپ ہنس پڑتے تھے ایک مرتبہ کہنے لگیں کہ کل رات کو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تھی، آپ نے (اس قدر دیر تک) رکوع کیا کہ مجھکو نکسیر پھوٹنے کا شبہہ ہو گیا، اس لیے میں دیر تک ناک پکڑے رہی، آپ اس جملہ کو سن کر مسکرا اٹھے،(سعدج8ص37)
دجال سے بہت ڈرتی تھیں، ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آ رہی تھیں دونوں نے مذاق کے لہجہ میں کہا تم نے کچھ سنا؟ بولیں کیا؟ کہا دجال نے خروج کیا، حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ یہ سنکر گھبرا گئیں، ایک خیمہ جس میں کچھ آدمی آگ سلگا رہے تھے، قریب تھا، فورا اسکے اندر داخل ہو گئیں، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہ ہنستی ہوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچیں، اور آپکو اس مذاق کی خبر کی، آپ تشریف لائے اور خیمہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر فرمایا کہ ابھی دجال نہیں نکلا ہے، یہ سن کر حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ باہر آئیں۔ تو مکڑی کا جالا بدن میں لگا ہوا تھا، اسکو باہر آ کر صاف کیا،(اصابہ ج8ص65)
میرے نزدیک یہ روایت مشکوک اور سنداً ضعیف ہے۔

سقراط
12-08-2012, 07:04 PM
سبحان اللہ
لڑی کا دوسرا موتی پیش کیا
بہت اچھے معلوماتی مضمون ہیں سب سے اہم چیز یہ کہ اتنی تفصیل سے کبھی پڑھا نہیں اور آپ نے اچھا سلسلہ شروع کردیا اسی بہانے علم میں اضافہ ہورہا ہے اور شوق میں بھی
جزاک اللہ

بےباک
12-09-2012, 10:39 AM
ماشاء اللہ ،
بہت اچھا سلسلہ شروع کیا ،
ہمیں ام المومنین رضی اللہ عنہن اور صحابیات رضی اللہ عنہن کے بارے پڑھنے کے لیے بہت ہی زبردست مجموعہ ایک ہی جگہ مل جائے گا ،
تانیہ صاحبہ آپ کا جذبہ دیکھ دیکھ کر دل خوش ہو گیا ،

محمداشرف يوسف
12-09-2012, 02:33 PM
ماشاء اللہ ،جزاک اللہ
بہت اچھا سلسلہ شروع کیا ،
ہمیں ام المومنین رضی اللہ عنہن اور صحابیات رضی اللہ عنہن کے بارے پڑھنے کے لیے بہت ہی زبردست مجموعہ ایک ہی جگہ مل جائے گا ،
تانیہ صاحبہ آپ کا جذبہ دیکھ دیکھ کر دل خوش ہو گیا ،

pervaz khan
12-09-2012, 05:01 PM
جزاک اللہ

تانیہ
12-09-2012, 05:17 PM
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا
نام و نسب:۔
عائشہ نام، صدیقہ اور حمیرا لقب، ام عبداللہ کنیت، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی صاحبزادی ہیں۔ ماں کا نام زینب تھا، ام رومان کنیت تھی اور قبیلہ غنم بن مالک سے تھیں،
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بعثت کے بار سال بعد شوال کے مہینہ میں پیدا ہوئیں، صدیق اکبر کا کاشانہ وہ برج سعادت تھا، جہاں خورشید اسلام کی شعاعیں سب سے پہلے پرتوفگن ہوئیں، اس بنا پر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا اسلام کی ان برگزیدہ شخصیتوں میں ہیں، جن کے کانوں نے کبھی کفروشرک کی آواز نہیں سنی، خود حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب سے میں نے اپنے والدین کو پہچانا انکو مسلمان پایا،[بخاری ج1ص252]
حضرت عائشہ کو وائل کی بیوی نے دودھ پلایا، وائل کی کنیت ابو الفقیعس تھی، وائل کے بھائی افلح، حضرت عائشہ کےرضاعی چچا کبھی کبھی ان سے ملنے آیا کرتے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے وہ انکے سامنے آتی تھیں،[ایضاً ص320] رضاعی بھائی بھی کبھی کبھی ملنے آیا کرتا تھا،[ایضاًص361]
نکاح:۔
تمام ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن میں یہ شرف صرف حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو حاصل ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کنواری بیوی تھیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے وہ جبیر بن مطعم کے صاحبزادے سے منسوب ہوئی تھیں، لیکن جب حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کے انتقال کے بعد خولہ رضی اللہ تعالی عنہا بنت حکیم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لیکر ام رومان سے کہا، اور انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ سے ذکر کیا، تو چونکہ یہ ایک قسم کی وعدہ خلافی تھی، بولے کہ جبیر بن مطعم سے وعدہ کر چکا ہوں، لیکن مطعم نے خود اس بنا پر انکار کر دیا کہ اگر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا انکے گھر گئیں تو تو گھر میں اسلام کا قدم آ جائے گا،
بحرحال حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے خولہ کے ذریعہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عقد کر دیا، پانچ سو درہم مہر قرار پایا، یہ سن دس نبوی کا واقعہ ہے، اس وقت حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا چھ برس کی تھیں،
یہ نکاح اسلام کی سادگی کی حقیقی تصویر تھا، عطیہ رضی اللہ تعالی عنہا اسکا واقعہ اس طرح بیان کرتی ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا لڑکیوں کے ساتھ کھیل رہی تھیں، انکی انّا آئی اور انکو لے گئی، حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے آکت نکاح پڑھا دیا، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا خود کہتی ہیں کہ "جب میرا نکاح ہوا تو مجھکو کچھ خبر تک نہ ہوئی جب میری والدہ نے باہر نکلنے میں روک ٹوک شروع کی، تب میں سمجھی کہ میرا نکاح ہو گیا، اسکے بعد میری بعد میری والدہ نے مجھے سمجھا بھی دیا"[طبقات ابن سعدج8ص40]
نکاح کے بعد مکہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام تین سال تک رہا، سن تیرہ نبوی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ ساتھ تھے۔ اور اہل وعیال کو دشمنوں کے نرغہ میں چھوڑ آئے تھے جب مدینہ میں اطمینان ہوا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے عبداللہ بن اریقط کو بھیجا کہ ام رومان رضی اللہ تعالی عنہا، اسماء رضی اللہ تعالی عنہا اور عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو لے آئیں، مدینہ میں آکر حضرت عائشہ سخت بخار میں مبتلاہوئیں، اشتداد مرض سے سر کے بال جھڑ گئے،[صحیح بخاری، باب الہجرة]صحت ہوئی تو ام رومان کو رسم عروسی ادا کرنے کا خیال آیا، اس وقت حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی عمر نو سال کی تھی، سہیلیوں کے ساتھ جھولا جھول رہی تھیں کہ ام رومان نے آواز دی، انکو اس واقعہ کی خبر تک نہ تھی، ماں کے پاس آئیں، انہوں نے منہ دھویا بال درست کیئے گھر میں لے گئیں انصار کی عورتیں انتظار میں تھیں، یہ گھر میں داخل ہوئیں تو سب نے مبارکباد دی، تھوڑی دیر کے بعد خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے،[صحیح بخاری تزویج عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا و سیرة النبی مجلد2]شوال میں نکاح ہوا تھا اور شوال ہی میں یہ رسم ادا کی گئی،
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے نکاح سے عرب کے بعض بیہودہ خیالات میں اصلاح ہوئی(1)عرب منہ بولے بھائی کی لڑکی سے شادی نہیں کرتے تھے، اسی بنا پر جب خولہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ سے آنحضرت صلی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ ظاہر کیا، تو انہوں نے حیرت سے کہا"کیا یہ جائز ہے؟ عائشہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بھتیجی ہے" لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ انت اخ فی السلام تم تو صرف مذہبی بھائی ہو(2)اہل عرب شوال میں شادی نہیں کرتے تھے، زمانہ قدیم میں اس مہینہ میں طاعون آیا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی شادی اور رخصتی دونوں شوال میں ہوئیں،
عام حالات:۔
غزوات میں سے صرف غزوہ احد میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی شرکت کا پتہ چلتا ہے صحیح بخاری میں حجرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے منقول ہے کہ"میں نے عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا اور ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا کو دیکھا کہ مشک بھر بھر کر لاتی تھیں اور زخمیوں کو پانی پلاتی تھیں[بخاری ج2ص581]
غزوہ بنی مصطلق میں کہ سن پانچ ہجری کا واقعہ ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا آپکے ساتھ تھیں، واپسی میں انکا ہار کہیں گر گیا، پورے قافلے کو اترنا پڑا، نماز کا وقت آیا تو پانی نہ ملا، تمام صحابہ پریشان تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی اور تیمم کی آیت نازل ہوئی، اس اجازت سے تمام لوگ خوش ہوئے، اسید بن حفیر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا،"اے آلِ ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ! تم لوگوں کے لیے سرمایہ برکت ہو،"
اسی لڑائی میں واقعہ افک پیش آیا۔ یعنی منافقین نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا پر تہمت لگائی احادیث اور سیر کی کتابوں میں اس واقعہ کو نہایت تفصیل کے ساتھ نقل کیاہے، لیکن جس واقعہ کی نسبت قرآن مجید میں مذکور ہے، کہ سننے کے ساتھ لوگوں نے یہ کیوں نہیں کہدیا کہ"بالکل افترا ہے"اسکو تفصیل کے ساتھ لکھنے کی چنداں ضرورت نہیں۔
سن نو ہجری میں تحریم اور ایلاء و تخییر کا واقعہ پیش آیا اور واقعہ تحریم کی تفصیل حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا کے حالات میں آئے گی۔ البتہ واقعہ ایلاء کی تفصیل اس مقام پر کی جاتی ہے،
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زاہدانہ زندگی بسر فرماتے تھے۔ دو دو مہینے گھر میں آگ نہیں جلتی تھی، آئے دن فاقے ہوتے رہتے تھے، ازواج مطہرات گو شرف صحبت کی برکت سے تمام انبائے جسم سے ممتاز ہو گئیں تھیں۔ تاہم بشریت بالکل معدوم نہیں ہو سکتی تھی، خصوصاً وہ دیکھتی تھیں کہ فتوحات اسلام کا دائرہ بڑھتا جاتا ہے۔ اور غنیمت کا سرمایہ اس قدر پہنچ گیا ہے کہ اسکا ادنی حصہ بھی انکی راحت و آرام کے لیے کافی ہو سکتا ہے، ان واقعات کا اقتضا تھا کہ انکے صبر قناعت کا جام لبریز ہو جاتا۔
ایک مرتبہ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ تعالی عنہما خدمت نبوی میں حاضر ہوئے، دیکھا کہ بیچ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ادھر ادھر بیویاں بیٹھی ہیں، اور توسیع نفقہ کا تقاضا ہے، دونوں اپنی صاحبزادیوں کی تنبیہہ پر آمادہ ہو گئے، لیکن انہوں نے عرض کی کہ ہم آئندہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو زائد مصارف کی تکلیف نہ دینگے۔
دیگر ازواج اپنے مطالبہ پر قائم رہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سکون خاطر میں یہ چیز اس قدر خلل انداز ہوئی، کہ آپ نے عہد فرمایا کہ ایک مہینہ تک ازواج مطہرات سے نہ ملیں گے اتفاق یہ کہ اسی زمانہ میں آپ گھوڑے سے گر پڑے اور ساق مبارک پر زخم آیا آپ نے بالا خانے پر تنہا نشینی اختیار کی، واقعات کے قرینہ سے لوگوں نے یہ خیال کیا کہ آپ نے تمام ازواج کو طلاق دے دی؟ تو آپ نے فرمایا"نہیں" یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ اللہ اکبر پکار اٹھے،
جب ایلاء کی مدت یعنی ایک مہینہ گزر چکا تو آپ بالا خانہ سے اتر آئے، سب سے پہلے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس تشریف لائے، وہ ایک ایک دن گنتی تھیں، بولیں" یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) آپ نے ایک مہینہ کے لیے عہد فرمایا تھا، ابھی تو انتیس ہی دن ہوئے ہیں،" ارشاد ہوا"مہینہ کبھی انتیس کا بھی ہوتا ہے۔"
اسکے بعد آیت تخییر نازل ہوئی، اس آیت کی رو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ ازواج مطہرات کو مطلع فرما دیں کہ دو چیزیں تمہارے سامنے ہیں، دنیا اور آخرت، اگر تم دنیا چاہتی ہو تو آؤ میں تمکو رخصتی جوڑے دیکر عزت و احترام کے ساتھ رخصت کر دوں، اور اگر تم خدا اور رسول اور ابدی راحٹ کی طلبگار ہو تو خدا نے نیکوکاروں کے لیے بڑا اجر مہیا کر رکھا ہے، چونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا ان تمام معاملات میں پیش پیش تھیں، آپ نے انکو ارشاد الہی سے مطلع فرمایا، انہوں نے کہا"میں سب کچھ چھوڑ کر خدا اور سول کو لیتی ہوں،" تمام ازواج مطہرات نے بھی یہی جوابدیا،[صحیح بخاری(جلد2ص793)و صحیح مسلم الایلاء]
ربیع الاول سن گیارہ ہجری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی، تیرہ دن علیل رہے، جن میں آٹھ دن حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے حجرہ میں اقامت فرمائی، خلق عمیم کی بنا پر ازواج مطہرات سے صاف طور پر اجازت نہیں طلب کی بلکہ پوچھا کہ کل میں کس کے گھر رہونگا؟دوسرا دن(دوشنبہ) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے ہاں قیام فرمانے کا تھا، ازواج مطہرات نے مرضی اقدس سمجھ کر عرض کی کہ آپ جہاں چاہیں قیام فرمائیں، ضعف اس قدر زیادہ ہو گیا تھا کہ چلا نہیں جاتا تھا، حضرت علی وحضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہما دونوں بازو تھام کر بمشکل حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے حجرہ میں لائے،
وفات سے پانچ روز پہلے(جمعرات کو) آپکو یاد آیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس کچھ اشرفیاں رکھوائی تھیں، دریافت فرمایا،"عائشہ !وہ اشرفیاں کہاں ہیں؟ کیا محمد خدا سے بدگمان ہو کر ملے گا، جاؤ انکو خدا کی راہ میں خیرات کر دو،"[مسندابن حنبل ج6ص49]
جس دن وفات ہوئی(یعنی دو شنبہ کے روز) بظاہر طبیعت کو سکون تھا لیکن دن جیسے جیسے چڑھتا جاتا تھا، آپ پر غشی طاری ہوتی تھی، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ آپ جب تندرست تھے تو فرمایا کرتے تھے کہ پیغمبروں کو اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ خواہ موت کو قبول کریں یا حیات دنیا کو ترجیح دیں۔ اس حالت میں اکثر آپکی زبان سے یہ الفاظ ادا ہوتے رہے مع الذین انعم اللہ علیھم اور کبھی یہ فرماتے اللہم فی الرفیق الاعلی وہ سمجھ گئیں کہ اب صرف رفاقت الہی مطلوب ہے۔
وفات سے ذرا پہلے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے صاحبزادے عبدالرحمن رضی اللہ تعالی عنہ خدمت اقدس میں آئے، آپ حضرت عائشہرضی اللہ تعالی عنہا کے سینہ پر سر ٹیک کر لیٹے تھے، عبدالرحمن رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاتھ میں مسواک تھی، مسواک کی طرف نظر جما کر دیکھا، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سمجھیں کہ آپ مسواک کرنا چاہتے ہیں، عبدالرحمن رضی اللہ تعالی عنہ سے مسواک لیکر دانتوں سے نرم کی، اور خدمت اقدس میں پیش کی، آپ نے بالکل تندرستوں کی طرح مسواک کی، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فخریہ یہ کہا کرتی تھیں کہ"تمام بیویوں میں مجھی کو یہ شرف حاصل ہوا کہ آخر وقت میں بھی میرا جھوٹا آپ نے منہ میں لگایا۔"
اب وفات کا وقت قریب آ رہا تھا، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا آپکو سنبھالے بیٹھی تھیں کہ دفعتہً بدن کا بوجھ معلوم ہوا، دیکھا تو آنکھیں پھٹ کر چھت سے لگ گئیں تھیں اور روح پاک صلی اللہ علیہ وسلم عالم اقدس میں پرواز کر گئی تھی، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے سراقدس تکیہ پر رکھ دیا اور رونے لگیں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے ابواب مناقب کا سب سے زریں باب یہ ہے کہ انکے حجرہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مدفن بننا نصیب ہوا، اور نعش مبارک اسی حجرہ کے ایک گوشہ میں سپردخاک کی گئی۔ چونکہ ازواج مطہرات کے لیے خدا نے دوسری شادی ممنوع قرار د ی تھی اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے 48 سال بیوگی کی حالت میں بسر کیئے، اس زمانہ میں انکی زندگی کا مقصد واحد قرآن و حدیث کی تعلیم تھا، جسکا ذکر آئندہ آئے گا، آنحضرت صلی اللہ ولیہ وسلم کی وفات کے دو برس بعد سن تیرہ ہجری میں ابوبکررضی اللہ تعالی عنہ نے انتقال فرمایا اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے یہ سایہ شفقت بھی باقی نہ رہا۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ خلیفہ ہوئے، انہوں نے جس قدر حضرت عائشہ کی دلجوئی کی وہ خود اسطرح بیان فرماتی ہیں۔"ابن خطاب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مجھ پر بڑے بڑے احسانات کیئے،[مستدرک حاکم ج4ص78]حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے تمام ازواج مطہرات کے لیے دس دس ہزار سالانہ وظیفہ مقرر فرمایا تھا، لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے لیے وظیفہ بارہ ہزار تھا، جسکی وجہ یہ تھی کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب تھیں،[مستدرک]
حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے واقعہ شہادت میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا مکہ میں مقیم تھیں، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہما نے مدینہ جا کر انکو واقعات سے آگاہ کیا تو دعوت اصلاح کے لیے بصرہ گئیں اور وہاں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے جنگ پیش آئی، جو جنگ جمل کے نام سے مشہور ہے، جمل اونٹ کو کہتے ہیں، چونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا ایک اونٹ پر سوار تھیں، اور اس نے اس معرکہ میں بڑی اہمیت حاصل کی تھی، اسلیئے یہ جنگ بھی اسی کی نسبت سے مشہور ہو گئی، یہ جنگ اگرچہ بالکل اتفاقی طور پر پیش آ گئی تھی تاہم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو ہمیشہ اسکا افسوس رہا۔
بخاری میں ہے کہ وفات کے وقت انہوں نے وصیت کی کہ"مجھے روضہ نبوی میں آپکے ساتھ دفن نہ کرنا، بلکہ بقیع میں ازواج کے ساتھ دفن کرنا، کیونکہ میں نے آپکے بعد ایک جرم[کتاب الجنائز و مستدرک حاکم جلد4ص8] کیا ہے" ابن سعد میں ہے کہ وہ جب یہ آیت پڑھتی تھیں وَقَرنَ فِی بُیُوتِکُنَ"اے پیغمبر کی بیویو! اپنے گھروں میں وقار کے ساتھ بیٹھو۔" تو اس قدر روتی تھیں کہ آنچل تر ہو جاتا تھا،[طبقات ابن سعد ص59جزثانی]
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ اٹھارہ برس اور زندہ رہیں اور یہ تمام زمانہ سکون اور خاموشی میں گزرا،
وفات:۔
امیر معاویہ کا اخیر زمانہ خلافت تھا کہ رمضان سن اٹھاون ہجری میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے رحلت فرمائی، اس وقت سرسٹھ برس کا سن تھا، اور وصیت کےمطابق جنت البقیع میں رات کے وقت مدفون ہوئیں، قاسم بن محمد، عبداللہ بن عبدالرحمن، عبداللہ بن ابی عتیق، عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہم نے قبر میں اتارا، اس وقت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہا ، مروان بن حکم کی طرف سے مدینہ کے حاکم تھے، اس لیے انہوں نے نماز جنازہ پڑھائی،
اولاد:۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے کوئی اولاد نہیں ہوئی، ابن الاعرابی نے لکھا ہے کہ ایک ناتمام بچہ ساقط ہوا تھا، اسکا نام عبداللہ تھا، اور اسی کے نام پر انہوں نے کنیت رکھی تھی، لیکن یہ قطعاً غلط ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی کنیت ام عبداللہ انکے بھانجے عبداللہ بن زبیر کے تعلق سے تھی، جنکو انہوں نے متبنی بنایا تھا،
حلیہ:۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا خوش رو اور صاحب جمال تھیں، رنگ سرخ و سفید تھا،
فضل و کمال:۔
علمی حیثیت سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو نہ صرف عورتوں پر نہ صرف دوسری امہات المومنین پر، نہ صرف خاص خاص سحابیوں پر بلکہ باستثنائے چند تمام صحابہ پر فوقیت حاصل تھی، جامع ترمذی میں حضرت ابوموسی اشعری سے روایت ہے،
"ہمکو کبھی کوئی ایسی مشکل بات پیش نہیں آئی جسکو ہم نے عائشہ سے پوچھا ہو اور انکے پاس اس سے متعلق کچھ معلومات نہ ملے ہوں،"
امام زہری جو سرخیل تابعین تھے، فرماتے ہیں،
"عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا تمام لوگوں میں سب سے زیادہ عالمہ تھیں، بڑے بڑے اکابر صحابہ ان سے پوچھا کرتے تھے،[طبقات ابن سعدجزو2قسم2ص26]
عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کا قول ہے،
"قرآن، فرائض، حلال و حرام، فقہ و شاعری، طب، عرب کی تاریخ اور نسب کا عالم عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے بڑھکر کسی کو نہیں دیکھا،"
امام زہری کی ایک شہادت ہے،
"اگر تمام مردوں کا اور امہات المومنین کا علم ایک جگہ جمع کیا جائے تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کا علم وسیع تر ہو گا۔"
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کا شمار مجتہدین صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم میں ہے، اور اس حیثیت سے وہ قس قدر بلند ہیں کہ بےتکلف انکا نام حضرت عمر، حضرت علی، عبداللہ بن مسعود اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہم کے ساتھ لیا جا سکتا ہے، وہ حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہم کے زمانہ میں فتوے دیتی تھیں، اور اکابر صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم پر انہوں نے جو دقیق اعتراضات کیئے ہیں انکو علامہ سیوطی نے ایک رسالہ میں جمع کر دیا ہے، اس رسالہ کا نام عین الاصابہ فی ما استدرکتہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا علی الصحابہ ہے،
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کثرین صحابہ میں داخل ہیں، ان سے 2210 حدیثیں مروی ہیں، جن میں 174 حدیثوں پہ شیخین نے اتفاق کیا ہے، امام بخاری نے منفرداً ان سے 54 حدیثیں روایت کی ہیں، 6 حدیثوں میں امام مسلم منفرد ہیں، بعض لوگوں کا قول ہے کہ امام شرعیہ میں سے ایک چوتھائی ان سے منقعول ہے،
علم کلام کے متعدد مسائل انکی زبان سے ادا ہوئے ہیں، چنانچہ رویت باری، علم غیب، عصمت انبیاء، معراج، ترتیب خلافت اور سماع موتیٰ وغیرہ کے متعلق انہوں نے جو خیالات ظاہر کیئے ہیں، انصاف یہ ہے کہ ان میں انکی وقت نظر کا پلہ بھاری نظر آتا ہے،
علم اسرارالدین کے متعلق بھی ان سے بہت سے مسائل مروی ہیں، چنانچہ قرآن مجید کی ترتیب نزول، مدینہ میں کامیابی اسلام کے اسباب، غسل جمعہ، نماز قصر کی علت، صوم عاشورہ کا سبب ، ہجرت کے معنی کی انہوں نے خاص تشریحیں کی ہیں،
طب کے متعلق وہی عام معلومات تھیں، جو گھر کی عورتوں کو عام طور پر ہوتی ہیں۔
البتہ تاریخ عرب میں وہ اپنا جواب نہیں رکھتی تھیں، عرب جاہلیت کے حالات انکے رسم و رواج، انکے انساب اور انکی طرز معاشرت کے متعلق انہوں نے بعض ایسی باتیں بیان کیں ہیں، جو دوسری جگہ نہیں مل سکتیں، اسلامی تاریخ کے متعلق بھی بعض اہم واقعات ان سے منقول ہیں مثلاً آغازِ وحی کی کیفیت، ہجرت کے واقعات، واقعہ افک، نزول قرآن اور اسکی ترتیب، نماز کی صورتیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الموت کے حالات، غزوہ بدر، احد، خندق، قریظہ کے واقعات، غزوہ ذات الرقاع میں نماز خوف کی کیفیت، فتح مکہ میں عورتوں کی بیعت، حجة الوداع کے ضروری حالات، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و عادات، خلافت صدیقی، حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا اور ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن کا دعوی میراث، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا ملال خاطر اور پھر بیعت کے تمام مفصل حالات ان ہی کے ذریعہ سے معلوم ہوئے ہیں۔
ادبی حیثیت سے وہ نہایت شیریں کلام اور فصیح اللسان تھیں، ترمذی میں موسی ابن طلحہ کا قول نقل کیا ہے،
"میں نے عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے زیادہ کسی کو فصیح اللسان نہیں دیکھا۔"[مستدرک حاکم ج4ص11]
اگرچہ احادیث میں روایت بالمعنی کا عام طور پر رواج ہے، اور روایت باللفظ کم اور نہایت کم ہوتی ہے تاہم جہاں حضرت عائشہ کے اصل الفاظ محفوظ رہ گئے ہیں، پوری حدیث میں جان پڑ گئی ہے، مثلاً آغاز وحی کے سلسلہ میں فرماتی ہیں،
"آپ جو خواب دیکھتے تھے سپیدۂ سحر کی طرح نمودار ہو جاتا تھا،"
آپ پر جب وحی کی کیفیت طاری ہوتی، تو جبیں مبارک پر عرق آ جاتا تھا اسکو اسطرح ادا کرتی ہیں،
"پیشانی پر موتی ڈھلکتے تھے، "
واقعہ افک میں انہیں راتوں کو نیند نہیں آتی تھی، اسکو اسطرح بیان فرماتی ہیں،
"میں نے سرمۂ خواب نہیں لگایا،"
صحیح بخاری میں انکے ذریعہ سے ام زرع کا جو قصہ مذکور ہے، وہ جان ادب ہے اور اہل ادب نے اسکی مفصل شرحیں اور حاشیے لکھے ہیں،
خطاببت کے لحاظ سے بھی حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہما کے سوا تمام صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم میں ممتاز تھیں جنگ جمل میں انہوں نے جو تقریریں کی ہیں، وہ جوش اور زور کے لحاظ سے اپنا جواب نہیں رکھتیں، ایک تقریر میں فرماتی ہیں،
"لوگو! خاموش، تم پر میرا مادری حق ہے، مجھے نصحیت کی عزت حاصل ہے، سوا اس شخص کے جو خدا کا فرمانبردار نہیں ہے، مجھکو کوئی الزام نہیں دے سکتا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینہ پہ سر رکھے ہوئے وفات پائی ہے، میں آپکی محبوب ترین بیوی ہوں خدا نے مجھکو دوسروں سے ہر طرح محفوظ رکھا اور میری ذات سے مومن و منافق میں تمیز ہوئی اور میرے ہی سبب تم پر خدا نے تیمم کا حکم نازل فرمایا،
پھر میرا باپ دنیا میں تیسرا مسلمان ہے اور غار حرا میں دو کا دوسرا تھا اور پہلا شخص تھا جو صدیق کے لقب سے مخاطب ہوا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے خوش ہو کر اور اسکو طوق خلافت پہنا کر وفات پائی اسکے بعد جب مذہب اسلام کی رسی ہلنے ڈلنے لگی تو میرا ہی باپ تھا جس نے اسکے دونوں سرے تھام لیے، جس نے نفاق کی باگ روک دی، جس نے ارتداد کا سرچشمہ خشک کر دیا، جس نے یہودیوں کی آتش افروزی سرد کی، تم لوگ اس وقت آنکھیں بند کیے غدر و فتنہ کے منتظر تھے اور شوروغوغا پر گوش برآواز تھے۔ اس نے شگاف کو برابر کیا، بیکارکو درست کیا، گرتوں کو سنبھالا، دلوں کی مدفون بیماریوں کو دور کیا، جو پانی سے سیراب ہو چکے تھے، انکو تھان تک پہنچادیا، جو پیاسے تھے انکو گھاٹ پر لے آیا، اور جو ایک بار پانی پی چکے تھے انکو دوبارہ پانی پلایا جب وہ نفاق کا سر کچل چکا، اور اہل شرک کے لیے آتشِ جنگ مشتعل کر چکا اور تمہارے سامان کی گٹھڑی کو ڈوری سے باندھ چکا تو خدا نے اسے اٹھا لیا۔،
ہاں میں سوال کا نشانہ بن گئی ہوں کہ کیوں فوج لیکر نکلی؟ میرا مقصد اس سے گناہ کی تلاش اور فتنہ کی جستجو نہیں ہے، جسکو میں پامال کرنا چاہتی ہوں، جو کچھ کہہ رہی ہوں سچائی اور انصاف کے ساتھ تنبہہ اور اتمامِ حجت کے لیے۔"[عقد الفرید باب، الخطیب وذکرواقعۂ جمل ص14]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا گو شعر نہیں کہتی تھیں، تاہم شاعرانہ مذاق اس قدر عمدہ پایا تھا کہ حضرت حسان ابن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ جو عرب کے مسلم الثبوت شاعر تھے، انکی خدمت میں اشعار سنانے کے لیے حاضر ہوئے تھے، امام بخاری نے ادب میں المفرد میں لکھا ہےکہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو کعب بن مالک کا پورا قصیدہ یاد تھا، اس قصیدہ میں کم وبیش چالیس اشعار تھے، کعب کے علاوہ انکو دیگر جاہلیت اور اسلامی شعراء کے اشعار بھی بکثرت یاد تھے، جنکو وہ مناسب موقعوں پر پڑھا کرتی تھیں چنانچہ وہ احادیث کی کتابوں میں منقول ہیں،
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نہ صرف ان علوم کی ماہر تھیں، بلکہ دوسروں کو بھی ماہر بنا دیتی تھیں، چنانچہ انکے دامن تربیت میں جو لوگ پرورش پاکر نکلے، اگرچہ انکی تعداد دو سو کے قریب ہے لیکن ان میں جنکو زیادہ قرب و اختصاص حاصل تھا، وہ حسب ذیل ہیں،
عروہ بن زبیر، قاسم بن محمد، ابو سلمہ بن عبدالرحمان، مسروق، عمرة، صفیہ بنت شیبہ، عائشہ بنت طلحہ، معاوة عدویہ،
اخلاق عادات:۔
اخلاقی حیثیت سے بھی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بلند مرتبہ رکھتی تھیں، وہ نہایت قانع تھیں، غیبت سے احتراز کرتی تھیں، احسان کم قبول کرتیں، اگرچہ خود ستائی ناپسند تھی تاہم خود دار تھیں، شجاعت و دلیری بھی انکا خاص جوہر تھا،
انکا سب سے نمایاں وصف جودوسخا تھا، حضرت عبداللہ بن زبیر فرمایا کرتے تھے کہ میں نے ان سے زیادہ سخی کسی کو نہیں دیکھا، ایک مرتبہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے انکی خدمت میں لاکھ درہم بھیجے تو شام ہوتے ہوتے سب خیرات کر دیئے اور اپنے لیے کچھ نہ رکھا، اتفاق سے اس دن روزہ رکھا تھا، لونڈی نے عرض کی کہ افطار کے لیے کچھ نہیں ہے، فرمایا پہلے سے کیوں نہ یاد دلایا،[مستدرک حاکم ج4ص13]
ایک دفعہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ جو انکے متبنی فرزند تھے انکی فیاضی دیکھ کر گھبرا گئے اور کہا کہ اب انکا ہاتھ روکنا چاہیے، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو معلوم ہوا تو سخت برہم ہوئیں اور قسم کھائی کہ ان سے بات نہ کرینگی، چنانچہ ابن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ مدت تک معتوب رہے اور بڑی دقت سے انکا غصہ فرو ہوا،[صحیح بخاری باب مناقب قریش]
نہایت خاشع، متضرع اور عبادت گزار تھیں، چاشت کی نماز برابر پڑھتیں، فرماتی تھیں کہ اگر میرا باپ بھی قبر سے اٹھ آئے، اور مجھکو منع کرے تب بھی باز نہ آؤں گی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ راتوں کو اٹھ کر تہجد کی نماز ادا کرتی تھیں اور اسکی اس قدر پابند تھیں، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جب کبھی یہ نماز قضا ہو جاتی تو نماز فجر سے پہلے اٹھ کر اسکو پڑھ لیتی تھیں، رمضان میں تراویح کا خاص اہتمام کرتی تھیں، ذکوان انکا غلام امامت کرتا اور وہ مقتدی ہوتیں۔
اکثر روزے رکھا کرتی تھیں، حج کی بھی شدت سے پابند تھیں اور ہر سال اس فرض کو ادا کرتی تھیں، غلاموں پر شفقت کرتیں، اور انکو خرید کر آزاد کرتی تھیں، انکے آزادک ردہ غلاموں کی تعداد 67 ہے،[شرح بلوغ المرام کتاب العتق]

تانیہ
12-10-2012, 11:10 AM
حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا
نام و نسب:۔
حفصہ نام، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی صاحبزادی تھیں، سلسلہ نسب یہ ہے،(حفصہ بنت عمررضی اللہ تعالی عنہ بن خطاب بن نفیل بن عبدالعزی بن رباع بن عبداللہ بن قرط بن رزاح بن عدی بن لوی بن فہر بن مالک)والدہ کا نام زینب بنت مظعون تھا، جو مشہور صحابی حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ بن مظعون کی ہمشیرہ تھیں، اور خود بھی صحابیہ تھیں، حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ حقیقی بھائی بہن ہیں۔ حضرت حفصہ بعثت نبوی سے پانچ سالقبل پیدا ہوئیں، اس وقت قریش خانہ کعبہ کی تعمیر میں مصروف تھے،
نکاح:۔
پہلا نکاح حنیس بن حذافہ سے ہوا۔ جو خاندان بنو سہم سے تھے،
اسلام:۔
ماں باپ اور شوہر کے ساتھ مسلمان ہوئیں،
ہجرت اور نکاح ثانی:۔
شوہر کے ساتھ مدینہ کو ہجرت کی، غزوہ بدر میں خنیس رضی اللہ تعالی عنہ نے زخم کھائے اور واپس آ کر انہی زخموں کی وجہ سے شہادت پائی، عدت کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا کے نکاح کی فکر ہوئی، اسی زمانہ میں حضرت رقیہ رضی اللہ تعالی عنہا کا انتقال ہو چکا تھا، اسی بنا پر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سب سے پہلے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ سے ملےاور ان سے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا کے نکاح کی خواہش ظاہر کی، انہوں نے کہا میں اس پر غور کرونگا، چند دنوں کے بعد ملاقات ہوئی، تو انہوں نے صاف انکار کیا، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے مایوس ہو کر حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ سے ذکر کیا انہوں نے خاموشی اختیار کی، حضرت عمررضی اللہ تعالی عنہ کو انکی بےالتفاتی سے رنج ہوا، اسکے بعد خود رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا سے نکاح کی خواہش کی، نکاح ہو گیا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے ملے اور کہا کہ جب تم نے مجھ سے حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا کے نکاح کی خواہش ظاہر کی اور میں خاموش رہا، تو تمکو ناگوار گزرا، لیکن میں نے اسی بنا پر کچھ جواب نہیں دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکا ذکر کیا تھا اور میں انکا راز فاش نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان سے نکاح کا قصد نہ ہوتا تو میں اسکے لیے آمادہ تھا،[صحیح بخاری ج2ص571واصابہ ج8ص51]
وفات:۔
حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا نے شعبان سن پنتالیس ہجری میں مدینہ میں انتقال کیا، یہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت کا زمانہ تھا۔ مروان نے جو اس وقت مدینہ کا گورنر تھا، نماز جنازہ پڑھائی اور کچھ دور تک جنازہ کو کندھا دیا، اسکے بعد ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ جنازہ کو قبر تک لے گئے، انکے بھائی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ اور انکے لڑکوں عاصم، سالم ، عبداللہ ، حمزہ نے قبر میں اتارا،
حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا کے سن وفات میں اختلاف ہے، ایک روایت ہے کہ جمادی الاول سن 41 ہجری میں وفات پائی، اس وقت انکا سن 59 سال کا تھا۔ لیکن اگر سن وفات 45 ہجری قرار دیا جائے۔ تو انکی عمر 63 سال کی ہو گی، ایک روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت میں انتقال کیا، یہ روایت اس بنا پر پیدا ہو گئی کہ وہب نے ابن مالک سے روایت کی ہے کہ جس سال افریقہ فتح ہوا، حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا نے اسی سال وفات پائی اور افریقہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت میں سن 27 ہجری میں فتح ہوا۔ لیکن یہ سخت غلطی ہے۔ افریقہ دو مرتبہ فتح ہوا۔ اس دوسری فتح کا فخر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو حاصل ہے، جنہوں نے امیر معاویہ کے عہد میں حملہ کیا تھا۔ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا نے وفات کے وقت حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو بلا کر وصیت کی اور غابہ میں جو جائیداد تھی جسے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ انکی نگرانی میں دے گئے تھے، اسکو صدقہ کر کے وقف کر دیا،[زرقانی ج3ص271]
اولاد:۔
کوئی اولاد نہیں چھوڑی،
فضل و کمال:۔
البتہ معنوی یادگاریں بہت سی ہیں، اور وہ ہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ(ابن عبداللہ) صفیہ بنت ابو عبیدرضی اللہ تعالی عنہ(زوجہ عبداللہ) حارثہ بن وہب، مطلب ابی وادعہ، ام مبشر انصاریہ، عبداللہ بن صفوان بن امیہ، عبدالرحمن بن حارث بن ہشام،[ایضاً]
حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا سے ساٹھ حدیثیں منقول ہیں، [ایضاً] جو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے سنی تھیں،
تفقہ فی الدین کے لیے واقعہ ذیل کافی ہے، ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ اصحاب بدرو حدیبیہ جہنم میں داخل نہ ہونگے، حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا نے اعتراض کیا کہ خدا تو فرماتا ہے "تم میں سے ہر شخص وارد جہنم ہو گا"آپ نے فرمایا ہاں لیکن یہ بھی تو ہے۔"پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دینگے اور ظالموں کو اس پر زانووں پر گرا ہوا چھوڑ دینگے"[مسند ابن حنبل ج6ص285]
اسی شوق کا اثر تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو انکی تعلیم کی فکر رہتی تھی، حضرت شفا رضی اللہ تعالی عنہا کو چیونٹی کے کاٹے کا منتر آتا تھا، ایکدن وہ گھر میں آئیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا کو منتر سکھلا دو،[ایضاً ص281]
اخلاق:۔
"وہ(یعنی حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا) صائم النہار اور قائم الیل ہیں۔"[اصابہ ج8ص52]
دوسری روایت میں ہے۔
"انتقال کے وقت تک صائم رہیں۔"
اختلاف سے سخت نفرت کرتی تھیں، جنگ صفین کے بعد جب تحکیم کا واقعہ پیش آیا تو انکے بھائی عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ اسکو فتنہ سمجھکر خانہ نشین رہنا چاہتے تھے، لیکن حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا کہ گو اس شرکت میں تمھارا کوئی فائدہ نہیں، تاہم تمہیں شریک رہنا چاہیے، کیونکہ لوگوں کو تمھاری رائے کا انتظار ہو گا، اور ممکن ہے کہ تمھاری عزلت گزینی ان میں اختلاف پیدا کر دے۔[صحیح بخاری ج2ص589]
دجال سے بہت ڈرتی تھیں، مدینہ میں ابن صیاد نامی ایک شخص تھا، دجال کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو علامتیں بتائی تھیں، اس میں بہت سی موجود تھیں، اس سے اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے ایکدن راہ میں ملاقات ہو گئی، انہوں نے اسکو بہت سخت سست کہا، اس پر وہ اس قدر پھولا کہ راستہ بند ہو گیا، ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اسکو مارنا شروع کیا حضرت حفصہ کو خبر ہوئی تو بولیں، تمکو اس سے کیا غرض، تمہیں معلوم نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دجال کے خروج کا محرک اسکا غصہ ہوگا،[مسند ج6ص283ومسلم کتاب الفتن ذکر ابن صیاد]
حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا مے مزاج میں ذرا تیزی تھی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی کبھی دوبدو گفتگو کرتیں، اور برابر کا جواب دیتی تھیں، چنانچہ صحیح بخاری میں خود حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے منقول ہے کہ "ہم لوگ جاہلیت میں عورت کو ذرہ برابر بھی وقعت نہ دیتے تھے، اسلام نے انکو درجہ دیا، اور قرآن میں انکے متعلق آیتیں اتریں، تو انکی قدرومنزلت معلوم ہوئی، ایکدن میری بیوی نے کسی معاملہ میں مجھکو رائے دی، میں نے کہا،"تمکو رائے و مشورہ سے کیا واسطہ" بولیں،" ابن خطاب تمکو ذرا سی بات کی بھی برداشت نہیں حالانکہ تمھاری بیٹی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو برابر کا جواب دیتی ہے، یہاں تک کہ آپ دن بھر رنجیدہ رہتے ہیں،"میں اٹھا اور حفصہ کے پاس آیا، میں نے کہا"بیٹی میں نے سنا ہے تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو برابر کا جواب دیتی ہو"بولیں"ہاں ہم ایسا کرتے ہیں "میں نے کہا خبردار میں تمہیں عذاب الہی سے ڈراتا ہوں،تم اس عورت(حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ) کی ریس نہ کرو جسکو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی وجہ سے اپنے حسن پر ناز ہے،[بخاری ج2ص کتاب التفسیروفتح الباری ج8ص504]
ترمذی میں ہے کہ ایک دفعہ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا رو رہی تھیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور رونے کی وجہ پوچھی، انہوں نے کہا کہ مجھکو حفصہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا ہے کہ"تم یہودی کی بیٹی ہو"آپ نے فرمایا حفصہ (رضی اللہ تعالی عنہا)خدا سے ڈرو، پھر حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا سے ارشاد ہوا"تم نبی کی بیٹی ہو۔ تمھارا چاچاپیغمبر ہے اور پیغمبر کے نکاح میں ہو، حفصہ (رضی اللہ تعالی عنہا) تم پر کس بات میں فخر کر سکتی ہے۔"[ترمذی بال فضل ازواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم]
ایک بار حضرت عائشہ اور حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہما نے حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا سے کہا کہ"ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک تم سے زیادہ معزز ہیں، ہم آپکی بیوی بھی ہیں اور چچا زاد بہن بھی، حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا کو ناگوار گزرا، انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی، آپ نے فرمایا تم نے یہ کیوں نہیں کہا، کہ تم مجھ سے زیادہ کیونکر معزز ہو سکتی ہو، میرے شوہر محمد صلی اللہ علیہ وسلم، میرے باپ ہارون علیہ السلام اور میرے چچا موسی علیہ السلام ہیں۔"
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کی اور حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی بیٹی تھیں جو تقریب نبوی میں دوش بدوش تھے، اس بنا پر حضرت عائشہ و حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہما بھی دیگر ازواج کے مقابلہ میں باہم ایک تھیں۔ چنانچہ واقعہ تحریم جو سن نو ہجری میں پیش آیا تھا، اسی قسم کے اتفاق کا نتیجہ تھا، ایک دفعہ کئی دن تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس معمول سے زیادہ بیٹھے، جسکی وجہ یہ تھی کہ حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس کہیں سے شہد آ گیا تھا، انہوں نے آپکو پیش کیا آپکو شہد بہت مرغوب تھا۔ آپ نے نوش فرمایا، اس میں وقت مقررہ سے دیر ہو گئی، حجرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو رشک ہواحضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہمارے اور تمھارے گھر میں آئیں تو کہنا کہ آپکے منہ سے مغافیر کی بو آتی ہے،[مغافیر کی بو کا اظہار کرنا کوئی جھوٹ بات نہ تھی مغافیر کے پھولوں میں اگر کسی قسم کی کرختگی ہو تو تعجب کی بات نہیں](مغافیر کے پھولوں سے شہد کی مکھیاں رس چوتی ہیں) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا لی کہ میں سہد نہ کھاؤں گا۔ اس پر قرآن مجید کی یہ آیت اتری،[صحیح بخاری ج2ص29]
"اے پیغمبر اپنی بیویوں کی خوشی کے لیے تم خدا کی حلال کی ہوئی چیز کو حرام کیوں کرتے ہو؟"
کبھی کبھی (حضرت حفصہ و حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہما) میں باہم رشک و رقابت کا اظہار ہو جایا کرتا تھا،
ایک مرتبہ حضرت عائشہ و حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہما دونوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھیں، رسول صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راتوں کو عائشہ کے اونٹ پر چلتے تھے اور ان سے باتیں کرتے تھے، ایکدن حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے کہا کہ آج رات کو تم میرے اونٹ پر اور میں تمھارے اونٹ پر سوار ہوں تا کہ مختلف مناظر دیکھنے میں آئیں، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا راضی ہو گئیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے اونٹ کے پاس آئے جس پر حفصہ سوار تھیں جب منزل پر پہنچے اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے آپکو نہیں پایا تو اپنے پاؤں کو اذخر(ایک گھاس ہے) کے درمیان لٹکا کر کہنے لگیں،"خداوندا! کسی بچھو یا سانپ کو متعین کر جو مجھے ڈس جائے۔"[صحیح بخاری(وسیرة النبی جلد دوم)یہ حضرت حفصہ سے رقابت کا اظہار نہیں بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت سفر جسکو حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کے ساتھ پسند کرتے تھے اس سے محرومی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پسندیدگی کی بجائے حضرت حفصہ کو حضور کی مرضی کے خلاف اونٹ پر بٹھانا تھا۔ از صحیح امداد اللہ انور]

سقراط
12-10-2012, 02:22 PM
یہ لڑی بہت کار آمد اور معلومات شروع کی ہے جزاک اللہ
مزید انتظار ہے گا

pervaz khan
12-10-2012, 04:59 PM
جزاک اللہ

تانیہ
12-11-2012, 02:12 PM
حضرت زینب ام المساکین رضی اللہ تعالی عنہا
زینب نام تھا، سلسلہ نسب یہ ہے، زینب بنت خزیمہ بن عبداللہ بن عمر بن عبد مناف بن ہلال بن عامر بن صعصعہ، چونکہ فقراء و مساکین کو بہایت فیاضی کے ساتھ کھانا کھلایا کرتی تھیں، اسلیے ام المساکین کی کنیت کے ساتھ مشہور ہو گئیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے عبداللہ بھی حجش رضی اللہ تعالی عنہ کے نکاح میں تھیں، عبداللہ بن حجش رضی اللہ تعالی عنہ نے جنگ احد میں شہادت پائی اور آنحضرت صلی اللہ ولیہ وسلم نے اسی سال ان سے نکاح کر لیا،نکاح کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صرف دو تین مہینے رہ نہیں پائی تھیں کہ انکا انتقال ہو گیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کے بعد صرف یہی ایک بی بی تھیں جنہوں نے وفات پائی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود نماز جنازہ پڑھائی، اور جنتہ البقیع میں دفن ہوئیں، وفات کے وقت انکی عمر 30 سال کی تھی۔[اصابہ ج8ص94،95(و سیرة النبی جلد دوم)]

بےباک
12-11-2012, 02:14 PM
ماشاءاللہ زبردست معلومات پیش کر رہی ہیں آپ ، اللہ تعالی آپ پر اپنا کرم فرمائے ،آمین

تانیہ
12-11-2012, 02:20 PM
حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا
نام و نسب:۔
ہند نام، ام سلمہ کنیت، قریش کے خاندان مخزوم سے ہیں، سلسلہ نسب یہ ہے ہند بنت ابی امیہ سہیل بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم، والدہ بنو فراص سے تھیں اور انکا سلسلہ نسب یہ ہے، عاتکہ بنت عامر بن ربیعہ بن مالک بن جذیمہ بن علقمہ بن جذل الطعان ابن فراس بن غنم بن مالک بن کنانہ،
ابو امیہ(حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے والد) مکہ کے مشہور مخیر اور فیاض تھے، سفر میں جاتے تو تمام قافلہ والوں کی کفالت خود کرتے تھے اسی لیے زاد الراکب کے لقب سے مشہور تھے۔[اصابہ ج8ص240] حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے انہی کی آغوش تربیت میں نہایت نازونعمت سے پرورش پائی۔
نکاح:۔
عبداللہ بن عبدالاسد سے جو زیادہ تر ابوسملہ رضی اللہ تعالی عنہ کے نام سے مشہور ہیں، اور جو ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کے چچا زاد بھائی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعی بھائی تھے، نکاح ہوا،
اسلام:۔
آغاز نبوت میں اپنے شوہر کے ساتھ ایمان لائیں،
ہجرت حبشہ:۔
اور ان ہی کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کی، حبشہ میں کچھ زمانہ تک قیام کر کے مکہ واپس آئیں اور یہاں سے مدینہ ہجرت کی، ہجرت میں انکو یہ فضیلت حاصل ہے کہ اہل سیر کے نزدیک وہ پہلی عورت ہیں جو ہجرت کر کے مدینہ آئیں۔
ہجرت مدینہ:۔
ہجرت کا واقعہ نہایت عبرت انگیز ہے، حضرت ام سملہ رضی اللہ تعالی عنہا اپنے شوہر کے ہمراہ ہجرت کرنا چاہتی تھیں(انکا بچہ سلمہ بھی ساتھ تھا)لیکن (حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے) قبیلہ نے مزاحمت کی تھی، اس لیے حضرت ابو سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ انکو چھوڑ کر مدینہ چلے گئے تھے، اور یہ اپنے گھر واپس آ گئیں تھیں(ادھر سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کو ابو سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کے خاندان والے حضرت ام سملہ رضی اللہ تعالی عنہا سے چھین لے گئے) اس لیے ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کو اور بھی تکلیف تھی، چنانچہ روزانہ گھبرا کر گھر سے نکل جاتیں اور ابطح میں بیٹھ کر رویا کرتیں۔ سات آٹھ دن تک یہی حالت رہی اور خاندان کے لوگوں کو احساس تک نہ ہوا۔ ایکدن ابطح سے انکے خاندان کا ایک شخص نکلا اور ام شلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کو روتے دیکھا تو اسکا دل بھر آیا گھر آکر لوگوں سے کہا کہ" اس غریب پر ظلم کیوں کرتے ہو، اسکو جانے دو اور اسکا بچہ اسکے حوالے کردو،" روانگی کی اجازت ملی تو بچے کو گود میں لیکر اونٹ پر سوار ہو گئیں اور مدینہ کا راستہ لیا، چونکہ وہ بالکل تنہا تھیں، یعنی کوئی مرد ساتھ نہ تھا، تنعیم میں عثمان بن طلحہ(کلید بردار کعبہ) کی نظر پڑی، بولا"کدھر کا قصد ہے؟"کہا"مدینے کا"پوچھا کوئی ساتھ بھی ہے، کہا"خدا اور یہ بچہ،" عثمان نے کہا"یہ نہیں ہو سکتا تم تنہا کبھی نہیں جا سکتیں"یہ کہکر اونٹ کی مہار پکڑی اور مدینہ کی طرف روانہ ہوا، راستہ میں جب کہیں ٹھہرتا تو اونٹ کو بٹھا کر کسی درخت کے نیچے چلا جاتا، اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا اتر پڑتیں، روانگی کا وقت آتا تو اونٹ پر کجادہ رکھ کر پرے ہٹ جاتا اور ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے کہتا کہ"سوار ہو جاؤ"حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے ایسا شریف آدمی کبھی نہیں دیکھا، غرض مختلف منزلوں پر قیام کرتا ہوا۔ مدینہ لایا، قبا کی آبادی پر نظر پڑی تو بولا"اب تم اپنے شوہر کے پاس چلی جاؤ، وہ یہیں مقیم ہیں" یہ ادھر روانہ ہوئیں، اور عثمان نے مکہ کا راستہ لیا،[زرقانی ج3ص272،273]
قبا پہنچیں تو لوگ انکا حال پوچھتے تھے اور جب یہ اپنے باپ کا نام بتاتیں تو انکو یقین نہیں آتا تھا(یہ حیرت انکے تنہا سفر کرنے پر تھی، شرفا کی عورتیں اسطرح باہر نکلنے کی جرأت نہیں کرتی تھیں) اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا مجبوراً خاموش ہوتی تھیں، لیکن جب کچھ لوگ حج کے ارادہ سے مکہ روانہ ہوئے اور انہوں نے اپنے گھر رقعہ بھجوایا تو اس وقت لوگوں کو یقین ہوا کہ وہ واقعی ابوامیہ کی بیٹی ہیں، ابو امیہ قریش کے چونکہ نہایت مشہور اور معزز شخص تھے، اسلیےحضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا بڑی وقعت کی نگاہ سے دیکھی گئیں۔[مسند ابن حنبل ج6ص307]
وفات ابوسلمہ رضی اللہ تعالی عنہ، نکاح ثانی اور خانگی حالات:۔
کچھ زمانہ تک شوہر کا ساتھ رہا، حضرت ابوسلمہ رضی اللہ تعالی عنہ بڑے شہہ سوار تھے، بدر اور احد میں شریک ہوئے، غزوہ احد میں چند زخم کھائے، جنکے صدمہ سے جانبر نہ ہو سکے، جمادی الثانی سن چار ہجری میں انکا زخم پھٹا اور اسی صدمہ سے وفات پائی۔[زرقانی ج3ص273] حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچیں اور وفات کی خبر سنائی، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود انکےمکان پر تشریف لائے، گھر میں کہرام مچا تھا، حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کہتی تھیں،" ہائے غربت میں یہ کیسی موت ہوئی" آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"صبر کرو، انکی مغفرت کی دعا مانگو، اور یہ کہو کہ خداوندا! ان سے بہتر انکا جانشین عطا کر" اسکے بعد ابو سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کی لاش پر تشریف لائےاور جنازہ کی نماز نہایت اہتمام کے ساتھ پڑھائی گئی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نو تکبیریں کہیں، لوگوں نے نماز کے بعد پوچھا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپکو سہو تو نہیں ہوا؟ فرمایا یہ ہزار تکبیروں کے مستحق تھے، وفات کے وقت ابوسلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کی آنکھیں کھلی رہ گئی تھیں، آنحضرت
صلی اللہ علیہ وسلم نے خود دست مبارک سے آنکھیں بند کیں، اور انکی مغفرت کی دعا مانگی،
ابوسلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات کے بعد ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا حاملہ تھیں، وضع حمل کے بعد عدت گزر گئی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے نکاح کا پیغام دیا، لیکن حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے انکار کر دیا، انکے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام لیکر پہنچے، حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا مجھے چند عذر ہیں(1)میں سخت غیور ہوں۔(2)صاحب عیال ہوں(3) میرا سن زیادہ ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان زخمتوں کو گوارہ فرمایا، حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کو اب عذر کیا ہو سکتا تھا؟
اپنے لڑکے سے (جنکا نام عمر تھا) کہا اٹھو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا نکاح کراؤ۔[سنن نسائی ص511] شوال سن چار ہجری کی اخیر تاریخوں میں یہ تقریب انجام پائی، حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کو حضرت ابو سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کی موت سے جو شدید صدمہ ہوا تھا، خداوند تعالی نے اسکو ابدی مسرت میں تبدیل کر دیا، سنن ابن ماجہ میں ہے،
"جب ابوسلمہ رضی اللہ تعالی عنہ نے وفات پائی تو میں نے وہ حدیث یاد کی جسکو وہ مجھ سے بیان کیا کرتے تھے تو میں نے دعا شروع کی اور جب میں یہ کہنا چاہتی کہ خداوندا! مجھے ابوسلمہ رضی اللہ تعالی عنہ سے بہتر کون مل سکتا ہے لیکن میں نے دعا کو پڑھنا شروع کیا تو ابوسلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کے جانشین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوئے"
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انکو دو چکیاں، گھڑا، اور چمڑے کا تکیہ جس میں خرمے کی چھال بھری تھی، عنایت فرمایا، یہی سامان اور بیبیوں کو بھی عنایت ہوا تھا،[مسندج6ص295]
بہت حیادار تھیں، ابتدا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکان پر تشریف لاتے تو حضرت ام سلمہ فرط غیرت سے لڑکی (زینب) کو گود میں بٹھا لیتیں، آپ یہ دیکھ کر واپس جاتے، حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ کو جو حضرت ام سلمہ کے رضاعی بھائی تھے، معلوم ہوا تو بہت ناراض ہوئے، اور لڑکی کو چھین لے گئے،[ایضاً]
لیکن بعد میں یہ بات ختم ہو گئی، اور جسطرح دوسری بیبیاں رہتی تھیں وہ بھی رہنے لگیں، نکاح سے قبل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے انکا ذکر کیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو بڑا رشک ہوا، ابن سعد میں ان سے جو روایت منقول ہے اس میں یہ فقرہ بھی ہے"یعنی مجھکو سخت غم ہوا،"[ج8ص24]
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے بےحد محبت تھی، یہی وجہ ہے کہ ایک موقع پر جب تمام ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن کو (سوا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہاکے) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ عرض کرنا تھا، تو انہوں نے حضرت ام سلمہ کو ہی اپنا سفیر بنا کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، صحیح بخاری میں ہے کہ ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن کے دو گروہ تھے، ایک میں حضرت عائشہ، حفصہ، صفیہ، سودہ رضی اللہ تعالی عنہن شامل تھیں، دوسرے میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا اور باقی ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن تھیں۔ چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو زیادہ محبوب رکھتے تھے۔ اس لیے لوگ ان ہی کی باری میں ہدیہ بھیجتے تھے، حضرت ام سلمہ کی جماعت نے ان سے کہا، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی طرح ہم بھی سب کی بھلائی کی خواہاں ہیں، اس بنا پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم جسکے بھی مکان میں ہوں۔ لوگوں کو ہدیہ بھیجنا چاہیے، حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے آپ سے یہ شکایت کی تو آپ نے دو مرتبہ اعراض فرمایا، تیسری مرتبہ کہا"ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا ! عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے معاملے میں مجھے اذیت نہ پہنچاؤ، کیونکہ انکے سوا تم میں کوئی بیوی ایسی نہیں ہے، جسکے لحاف میں میرے پاس وحی آئی ہو،[صحیح بخاری ج1ص532]"حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا"میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اذیت پہنچانے سے پناہ مانگتی ہوں۔"
حضرت سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے گھر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم شب باش ہوتے تو انکا بچھونا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جانماز کے سامنے بچھتا تھا(آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا کرتے تھے اور یہ سامنے ہوتی تھیں۔)[مسندج6ص322]
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خیال کا بہت خیال رکھتی تھیں، حجرت سفینہ رضی اللہ تعالی عنہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مشہور غلام ہیں، دراصل حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے غلام تھے، انکو آزاد کیا تو اس شرط پر کہ جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں تم پر انکی خدمت لازمی ہوگی[ایضاًص316]
عام حالات:۔
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے مشہور واقعات زندگی یہ ہیں، غزوہ خندق میں اگرچہ وہ شریک نہ تھیں، تاہم اس قدر قریب تھیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو اسطرح سنتی تھیں فرماتی ہیں کہ مجھے وہ وقت خود یاد ہے کہ جب سینۂ مبارک غبار سے اٹا ہوا تھا اور آپ لوگوں کو اینٹیں اٹھا اٹھا کر دیتے اور اشعار پڑھ رہے تھے کہ دفعتہً عمار بن یاسر پر نظر پڑی فرمایا"(افسوس) ابن سمیہ! تجھکو ایک باغی گروہ قتل کرے گا،"[ایضاًص289]
محاصرہ بنو قریظہ سن پانچ ہجری میں یہود سے گفتگو کرنے کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابولبابہ رضی اللہ تعالی عنہ کو بھیجا تھا، اثنائے مشورہ میں ابولبابہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ہاتھ کے اشارے سے بتلایا کہ تم لوگ قتل ہو جاؤ گے، لیکن بعد میں اسکو افشائے راز سمجھ کر اس قدر نادم ہوئےکہ مسجد کے ستون سے اپنے آپکو باندھ لیا، چند دنوں تک یہی حالت رہی پھر توبہ قبول ہوئی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے مکان میں تشریف فرما تھے کہ صبح کو مسکراتے ہوئے اٹھے تو بولیں"خدا آپکو ہمیشہ ہنسائے، اس وقت ہنسنے کا کیا سبب ہے؟"فرمایا"ابولبابہ رضی اللہ تعالی عنہ کی توبہ قبول ہو گئی" عرض کی "تو کیا میں انکو یہ مژدہ سنا دوں"فرمایا"ہاں اگر چاہو"حضرت ام سلمہ اپنے حجرہ کے دروازہ پر کھڑی ہوئیں اور پکار کر کہا"ابولبابہ مبارک ہو تمھاری توبہ قبول ہو گئی،" اس آواز کا کانوں میں پڑنا تھا کہ تمام مدینہ امنڈ آیا۔[زرقانی ج2ص153وابن سعدج2ق1
ص54]
اسی سن میں آیت حجاب نازل ہوئی اس سے پیشتر ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن بعض دور کے اعزہ و اقارب کے سامنے آیا کرتی تھیں، اب خاص خاص اعزہ کے سوا سب سے پردہ کرنے کا حکم ہوا۔ حضرت ابن ام کمتوم قبیلہ قریش کے ایک معزز صحابی اور بارگاہ نبوی کے مؤذن تھے اور چونکہ نابینا تھے، اس لیے ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن کے حجروں میں آیا کرتے تھے، ایکدن آئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمہ اور حضرت میمونہ رضی اللہ تعالی عنہما سے فرمایا،"ان سے فرمایا،"ان سے پردہ کرو"بولیں"وہ تو نابینا ہیں" فرمایا"تم تو نابینا نہیں ہو، تم تو انہیں دیکھتی ہو"[مسندج6ص296]
صلح حدیبیہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھیں، صلح کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ لوگ حدیبیہ میں قربانی کریں، لیکن لوگ اس قدر دل شکستہ تھے کہ ایک شخص بھی نہ اٹھا یہاں تک کہ جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے، تین دفعہ بار بار کہنے پر بھی ایک شخص بھی آمادہ نہ ہوا، (چونکہ معاہدہ کی تمام شرطیں بظاہر مسلمانوں کے سخت خلاف تھیں اس لیے تمام لوگ رنجیدہ اور غصہ سے بیتاب تھے)آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لے گئے اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے شکایت کی، انہوں نے عرض کی"آپ کسی سے کچھ نہ فرمائیں بلکہ باہر نکل کر خود قربانی کریں اور احرام اتارنے کے لیے بال منڈوائیں"آپ نے باہر آکر قربانی کی اور بال منڈوائے اب جب لوگوں کو یقین ہو گیا کہ اس فیصلہ میں تبدیلی نہیں ہو سکتی تو سب نے قربانیاں کیں اور احرام اتارا، ہجوم کا یہ حال تھا کہ ایکدوسرے پر ٹوٹا پڑتا تھا اور عجلت اس قدر تھی کہ ہر شخص حجامت بنانے کی خدمت انجام دے رہا تھا،[صحیح بخاری ج6ص380]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کا یہ خیال علم النفس کے ایک بڑے مسئلہ کو حل کرتا ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جمہور کی فطرت شناسی میں انکو کس درجہ کمال حاصل تھا، امام الحرمین فرمایا کرتے تھے کہ صنف نازک کی پوری تاریخ اصابت رائے کی ایسی عظیم الشان مثال نہیں پیش کر سکتی۔[زرقانی ج3ص272]
غزوہ خیبر میں شریک تھیں، مرحب کے دانتوں پر جب تلوار پڑی تو کرکراہٹ کی آواز انکے کانوں میں آئی تھی،[استیعاب ج2ص803]
سن نو ہجری میں ایلاء کا واقعہ پیش آیا، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا کو تنبیہہ کی تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس بھی آئے وہ انکی عزیز ہوتی تھیں، ان سے بھی گفتگو کی، حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے جواب دیا،[صحیح بخاری ج2ص730]
"عمررضی اللہ تعالی عنہ تم ہر معاملہ میں دخل دینے لگے یہاں تک کہ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور انکی ازواج کے معاملات میں بھی دخل دیتے ہو۔"
چونکہ جواب نہایت خشک تھا، اس لیے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ چپ ہو گئے اور اٹھ کر چلے آئے، رات کو یہ خبر مشہور ہوئی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج کو طلاق دے دی صبح کو جب حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور تمام واقعہ بیان کیا جب حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کا قول نقل کیا تو آپ مسکرائے،
حجة الوداع میں جو سن دس ہجری میں ہوا۔ اگرچہ ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا علیل تھیں، تاہم ساتھ آئیں، نبہا(غلام) اونٹ کی مہار تھامے تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب غلام کے پاس اس قدر مال موجود ہو کہ وہ اسکو ادا کر کے آزاد ہو سکتا ہو تو اس سے پردہ ضروری ہو جاتا ہے،[مسندج6ص308وص289]
طواف کے متعلق فرمایا کہ جب نماز فجر ہو، تم اونٹ پر سوا ہو کر طواف کرو چنانچہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے ایسا ہی کیا،[صحیح بخاری ج1ص219،220]
سن 11ہجری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم علیل ہوئے، مرض نے طول کھینچا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے مکان میں منتقل ہو گئے، حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا اکثر آپکو دیکھنے کے لیے جایا کرتی تھیں، ایکدن طبیعت زیادہ علیل ہوئی تو ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا چیخ اٹھیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا کہ مسلمانوں کا شیوہ نہیں،[طبقات ج2ق2ص13] ایکدن مرض میں اشتداد ہوا تو ازواج نے دوا پلانی چاہی، چونکہ گوارہ نہ تھی، آپ نے انکار فرمایا، لیکن جب غشی طاری ہو گئی تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا اور حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا بنت عمیس نے دوا پلا دی[صیح بخاری ج2ص641وطبقات ج2ق2ص32](بعض روائتوں میں ہے کہ ان دونوں نے اسکا مشورہ دیا تھا) اسی زمانہ میں ایک روز حضرت ام سلمہ اور ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہما نے جو حبشہ ہو آئی تھیں، وہاں کے عیسائی معبدوں کا(جو غالبا رومن کیتھولک گرجے ہونگے) اور انکے مجسموں اور تصویروں کا تذکرہ کیا، آپ نے فرمایا۔ ان لوگوں میں جب کوئی نیک مرتا ہے تو اسکے مقبرہ کو عبادت گاہ بنا لیتے ہیں، اور اسکا بت بنا کر اس میں کھڑا کرتے ہیں ، قیامت کے روز خدائے عزوجل کی نگاہ میں یہ لوگ بدترین مخلوق ہونگے،[صحیح بخاری وصحیح مسلم]
وفات سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے باتیں کی تھیں، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا اسی وقت بےتابانہ پوچھنے لگیں، لیکن حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے توقف کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد پوچھا،[طبقات ج2ق2ص40]
سن اکسٹھ ہجری میں حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے شہادت پائی، حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے خواب میں دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں، سر اور ریش مبارک غبار آلود ہے پوچھا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کیا حال ہے، ارشاد ہوا،"حسین (رضی اللہ تعالی عنہ) کے مقتل سے واپس آ رہا ہوں"حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا بیدار ہوئیں تو آنکھوں سے آنسو جاری تھے[صحیح ترمذی ص224] اسی حالت میں زبان سے نکلا اہل عراق نے حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو قتل کیا، خدا انکو قتل کرے اور حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو ذلیل کیا خدا ان لوگوں پر لعنت کرے،[مسند ج6ص98]
سن تریسٹھ ہجری میں واقعہ حرہ کے بعد شامی لشکر مکہ گیا، جہاں ابن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ پناہ گزیں تھے، چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں ایسے لشکر کا تذکرہ فرمایا تھا، بعض کو شبہہ ہوا، اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے دریافت کیا بولیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ ایک شخص مکہ میں پناہ لے گا، اسکے مقابلہ میں جو لشکر آئے گا بیاباں میں وہیں دھنس جائے گا۔ ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے پوچھا جو لوگ جبراً شریک کیئے گئے ہوں گے وہ بھی ؟فرمایا ہاں وہ بھی لیکن قیامت میں انکی نیتوں کے مطابق اٹھیں گے(حضرت ابوجعفر رضی اللہ تعالی عنہ) فرماتے تھے کہ یہ واقعہ مدینہ کے میدان میں پیش آئے گا،[صحیح بخاری ج2ص493،494]
وفات:۔
جس سال حرہ کا واقعہ ہوا(یعنی سن 63 ہجری) اسی سال حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے انتقال فرمایا اس وقت 84 برس کا سن تھا، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے نماز جنازہ پڑھی اور بقیع میں دفن کیا[زرقانی ج3ص276] اس زمانہ میں ولید بن عتبہ(ابوسفیان رضی اللہ تعالی عنہ کا پوتا) مدینہ کا گورنر تھا، چونکہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے وصیت کی تھی کہ وہ میرے جنازہ کی نماز نہ پڑھائے، اس لیے وہ جنگل کی طرف نکل گیا اور اپنے بجائے ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کو بھیج دیا۔[طبری کبیرج3ص2443]
اولاد:۔
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پہلے شوہر سے جو اولاد ہوئی اسکے نام یہ ہیں۔
سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ، حبشہ میں پیدا ہوئے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انکا نکاح حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کی لڑکی امامہ سے کیا تھا۔
عمر رضی اللہ تعالی عنہ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کا نکاح انہوں نے ہی کیا تھا، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانہ خلافت میں فارس و بحرین کے حاکم تھے،
دُرّہ، انکا ذکر صحیح بخاری میں آیا ہے، حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا نے جو کہ ازواج مطہرات میں داخل تھیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہم نے سنا ہے کہ آپ درہ سے نکاح کرنا چاہتے ہیں؟ فرمایا یہ کیسے ہو سکتا ہے، اگر میں نے اسکو پرورش نہ بھی کیا ہوتا تو بھی وہ کسی طرح میرے لیے حلال نہ تھی، کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی لڑکی ہے۔[صحیح بخاری ج2ص764]
زینب رضی اللہ تعالی عنہا پہلے برہ نام تھا، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب رکھا۔[زرقانی ج3ص272]
حلیہ:۔
اصابہ میں ہے،"یعنی حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نہایت حسین تھیں۔"
ابن سعد[ابن سعدج8ص66] نے روایت کی ہے کہ جب حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کو انکے حسن کا حال معلوم ہوا تو سخت پریشان ہوئیں، مگر یہ واقدی کی روایت ہے جو چنداں قابل اعتبار نہیں،
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے بال نہایت گھنے تھے۔[مسندج6ص389]
فضل و کمال:۔
علمی حیثیت اگرچہ تمام ازواج بلند مرتبہ تھیں، تاہم حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہما کا ان میں کوئی جواب نہیں تھا، چنانچہ محمود بن لبید کہتے ہیں،[طبقات ابن سعدج6ص317]
"آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج احادیث کا مخزن تھیں، تاہم عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہما کا ان میں کوئی حریف مقابل نہ تھا۔"
مروان بن حکم ان سے مسائل دریافت کرتا اور اعلانیہ کہتا تھا۔
"آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے ہوتے ہوئے ہم دوسروں سے کیوں پوچھیں،"[مسندج6ص317]
حضرت ابو ہریرہ اور ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما دریائے علم ہونے کے باوجود انکے دریائے فیض سے مستغنی نہ تھے،[ایضاًص312] تابعین کرام کا ایک بڑا گروہ انکے آستانہ فضل پر سربر تھا۔
قرآن اچھا پڑھتیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز پر پڑھ سکتی تھیں، ایک مرتبہ کسی نے پوچھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کیونکر قرأت کرتے تھے؟ بولیں ایک ایک آیت الگ الگ کر کے پڑھتے تھے اسکے بعد خود پڑھ کر بتلا دیا۔[ایضاًص300،301]
حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے سوا انکا کوئی حریف نہ تھا، ان سے 378 روائتیں مروی ہیں۔ اس بنا پر وہ محدثین صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم کے تیسرے طبقہ میں شامل ہیں۔
حدیث سننے کا بڑا شوق تھا۔ ایک دن بال گوندوارہی تھیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے زبان مبارک سے ایھاالناس(لوگو!) کا لفظ نکلا تو فوراً بال باندھ کر اٹھ کھڑی ہوئیں، اور کھڑے ہو کر پورا خطبہ سنا،[ایضاًص301]
مجتہد تھیں، صاحب اصابہ نے انکے تذکرہ میں لکھا ہے،
"یعنی وہ کامل العقل اور صاحب الرائے تھیں۔"[اصابہ ج8ص241]
علامہ ابن قیم نےلکھا ہے کہ ان کے فتاویٰ اگر جمع کیئے جائیں تو ایک چھوٹا سا رسالہ تیار ہو سکتا ہے،[اعلام الموقین ج1ص13] انکے فتاوی کی ایک خاص خصوصیت یہ ہے کہ وہ عموما متفق علیہ ہیں اور یہ انکی دقیقہ رسی اور نقطہ سنجی کا کرشمہ ہے،
انکی نکتہ سنجی پر ذیل کے واقعات شاہد ہیں۔
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ عصر کے بعد دو رکعت نماز پڑھا کرتے تھے، مروان نے پوچھا آپ یہ نماز کیوں پڑھتے ہیں؟ بولے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی پڑھتے تھے، چونکہ انہوں نے یہ حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے سلسلہ سے سنی تھی، مروان نے انکے پاس تصدیق کےلیے آدمی بھیجا، انہوں نے کہا مجھکو ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے یہ حدیث پہنچی ہے۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس آدمی گیا اور انکو یہ قول نقل کیا تو بولیں،"یعنی خدا عائشہ(رضی اللہ تعالی عنہا) کی مغفرت کرے انہوں نے بات نہیں سمجھی،"[مسند احمد ج6ص299، یہ واقعہ صحیح بخاری میں بھی ہے ج2ص239]
"کیا میں نے ان سے یہ نہیں کہا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انکے پڑھنے کی ممانعت فرمائی ہے۔"[مسنداحمدج6ص303]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کا خیال تھا کہ رمضان میں جنابت کا غسل فورا صبح اٹھ کر کرنا چاہیے، ورنہ روزہ ٹوٹ جاتا ہے، ایک شخص نے جا کر حضرت ام سلمہ و حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہما سے جا کر پوچھا دونوں نے کہا کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی حالت میں صائم ہوتے تھے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے سنا تو رنگ فق ہو گیا، اسی خیال سے رجوع کیا اور کہا کہ میں کیا کروں فضل بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے مجھ سے اسی طرح بیان کیا تھا، لیکن ظاہر ہے کہ حضرت ام سلمہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہما کو زیادہ علم ہے۔[مسنداحمدج6ص306،307](اسکے بعد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنا فتوی واپس لے لیا)[ایضاًص306]
ایک مرتبہ چند صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم نے دریافت کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اندرونی زندگی کے متعلق کچھ ارشاد کیجیئے، فرمایا"آپ کا ظاہروباطن یکساں تھا۔" آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائےتو آپ سے واقعہ بیان کیا، فرمایا تم نے بہت اچھا کیا،[ایضاًص309]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا جواب صاف دیتی تھیں اور کوشش کرتی تھیں کہ سائل کی تشفی ہو جائے، ایک دفعہ کسی شخص کو مسئلہ بتایا، وہ انکے پاس سے اٹھ کر دوسری ازواج کے پاس گیا۔ سب نے ایک ہی جواب دیا، واپس آ کے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کو یہ خبر سنائی تو بولیں، نعم واشفیک! ذرا ٹھہرو میں تمھاری تشفی کرنا چاہتی ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسکے متعلق یہ حدیث سنی ہے،[ایضاًص297]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کو حدیث و فقہ کے علاوہ اسرار کا بھی علم تھا، اور یہ وہ فن تھا جسکے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ عالم خصوصی تھے۔ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ انکے پاس آئے تو بولیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ بعض صحابی ایسے ہیں جنکو نہ میں اپنے انتقال کے بعد دیکھونگا نہ وہ مجھکو دیکھیں گے، حضرت عبدالرحمن رضی اللہ تعالی عنہ گھبرا کر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس پہنچے اور ان سے یہ حدیث بیان کی، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس تشریف لائے اور کہا، "خدا کی قسم! سچ سچ کہنا کیا میں انہی میں ہوں۔"حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا نہیں، لیکن تمھارے علاوہ میں کسی کو مستثنےٰ نہیں کرونگی،[مسنداحمدص307ج6]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے جن لوگوں نے علم حدیث حاصل کیا انکی ایک بڑی جماعت ہے ہم صرف چند ناموں پر اکتفا کرتے ہیں۔
عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ تعالی عنہ، اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ، ہندرضی اللہ تعالی عنہا بنت الحارث الفراسیہ، صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا بنت شیبہ، عمررضی اللہ تعالی عنہ، زینب رضی اللہ تعالی عنہا(اولاد حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا) مصعب رضی اللہ تعالی عنہ بن عبداللہ(برادرزادہ) نبہان (غلام مکاتب) عبداللہ بن رافع، نافع رضی اللہ تعالی عنہ، شعبہ، پسر شعبہ رضی اللہ تعالی عنہ، ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ، خیرة والدۂ حسن بصری، سلیمان رضی اللہ تعالی عنہ بن یسار، ابو عثمان رضی اللہ تعالی عنہ الہندی، حمید رضی اللہ تعالی عنہ، ابوسلمہ رضی اللہ تعالی عنہ، سعید بن مسیب، ابووائل، صفیہ بنت محصی، شعبی، عبدالرحمان، ابن حارث بن ہشام، عکرمہ، ابوبکر بن عبدالرحمان، عثمان بن عبداللہ ابن موہب، عروہ بن زبیر، کریب مولیٰ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ، قبیصہ بن زویب رضی اللہ تعالی عنہ، نافع مولا ابن عمر یعلےٰ بن مالک،
اخلاق و عادات:۔
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نہایت زاہدانہ زندگی بسر کرتی تھیں۔ ایک مرتبہ ایک ہار پہنا جس میں سونے کا کچھ حصہ شامل تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اعراض کیا تو اسکو توڑ ڈالا۔[ایضاًج6ص319،323] ہر مہینے میں تین دن(دو شنبہ، جمعرات اور جمعہ) روزہ رکھتی تھیں،[ایضاًص389] ثواب کی متلاشی رہتیں، انکے پہلے شوہر کی اولاد انکے ساھ تھی، اور وہ نہایت عمدگی سے انکی پرورش کرتی تھیں، اس بنا پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پوچھا کہ مجھکو اسکا کچھ ثواب بھی ملے گا۔ اپ نے فرمایا"ہاں"[صحیح بخاری ج1ص1198]
اچھے کاموں میں شریک ہوتی تھیں، آیت تطہیر انہی کے گھر میں نازل ہوئی تھی،
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا اور حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو بلا کر کمبل اڑھایا اور کہا"خدایا! یہ میرے اہل بیت ہیں، ان سے ناپاکی کو دور کر اور انہیں پاک کر" حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے یہ دعا سنی تو بولیں یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) میں بھی انکے ساتھ شریک ہوں ارشاد ہوا۔ تم اپنی جگہ پر ہو اور اچھی ہوں۔[صحیح ترمذی ص530]
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی پابند تھیں، نماز کے اوقات میں بعض امراء نے تغیر و تبدل کیا یعنی مستحب اوقات چھوڑ دیئے تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے انکو تنبیہہ کی اور فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ظہر جلد پڑھا کرتے تھے اور تم عصر جلد پڑھتے ہو۔[مسندج6ص289]
ایک دن انکے بھتیجے نے دو رکعت نماز پڑھی، چونکہ سجدہ گاہ غبار آلود تھی، وہ سجدہ کرتے عقت مٹی جھاڑتے تھے، حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے روکا کہ یہ فعل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روش کے خلاف ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک غلام نے ایک دفعہ ایسا کیا تھا تو آپ نے فرمایا تھا، ترب وجھک اللہ! یعنی تیرا چہرہ خدا کی راہ میں غبار آلود ہو۔[ایضاًج6ص301]
فیاض تھیں، اور دوسروں کو بھی فیاضی کی طرف مائل کرتی تھیں۔ ایک دفعہ حضرت عبدالرحمان بن عوف نے آکر کہا اماں! میرے پاس اس قدر مال جمع ہو گیا ہے کہ اب بربادی کا خوف ہے، فرمایا بیٹا! اسکو خرچ کرو، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بہت سے صحابہ ایسے ہیں کہ جو مجھکو میری موت کے بعد پھر نہ دیکھیں گے![ایضاًص290]
ایک مرتبہ چند فقراء جن میں عورتیں بھی تھیں، انکے گھر آئے اور نہایت الحاح سے سوال کیا، ام الحسن بیٹھی تھیں، انہوں نے ڈانٹا لیکن حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا ہمکو اسکا حکم نہیں ہے۔ اسکے بعد لونڈی کو کہا کہ انکو کچھ دیکر رخصت کرو۔ کچھ نہ ہو تو ایک ایک چھوہارا انکے ہاتھ پر رکھ دو،[استیعابج2ص803]
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے انکو جو محبت تھی اسکا یہ اثر تھا کہ آپکے موئے مبارک تبرکاً رکھ چھوڑے تھے۔ جنکی وہ لوگوں کو زیارت کراتی تھیں،[مسند احمدج6ص296] آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے اس قدر محبت تھی کہ ایک مرتبہ انہوں نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اسکا کیا سبب ہے کہ ہمارا قرآن میں ذکر نہیں۔ تو آپ منبر پر تشریف لے گئے اور یہ آیت پڑھی
"ان المسلمین والمسلمات والمومنین والمومنات"[ایضاًص301]
مناقب:۔
ایک مرتبہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھی تھیں، حضرت جبرئیل آئے اور باتیں کرتے رہے، انکے جانے کے بعد آپ نے پوچھا۔"انکو جانتی ہو؟" بولیں وحیہ رضی اللہ تعالی عنہ تھے، لیکن جب اپ نے اس واقعہ کو اور لوگوں سے بیان کیا تو اس وقت معلوم ہوا کہ وہ جبرئیل تھے،[صحیح مسلم ج2ص241مطبوعہ مصر](غالبا یہ نزول حجاب سے قبل کا واقعہ ہے۔)

pervaz khan
12-11-2012, 04:47 PM
جزاک اللہ

تانیہ
12-12-2012, 10:29 AM
حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا بنت جحش
نام و نسب:۔
زینب نام، ام الحکیم کنیت، قبیلہ قریشکے خاندان اسد بن خزیمہ سے ہیں، سلسلہ نسب یہ ہے، زینب بنت جحش بن رباب بن یعمر بن صبرة بن مرة بن کثیر بن غنم بن دودان بن سعد بن خزیمہ، والدہ کا نام امیمہ تھا جو عبدالمطلب جد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دختر تھیں، اسی بنا پر حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی پھوپھی زاد بہن تھیں۔
اسلام:۔
نبوت کے ابتدائی دور میں اسلام لائیں، اسد الغالبہ میں ہے۔
"شروع دور اسلام میں اسلام قبول کیا تھا"[اسدالغابہ ج5ص463]
نکاح:۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زید رضی اللہ تعالی عنہ بن حارثہ کے ساتھ و آپکے آزاد کردہ غلام اور متبنی تھے انکا نکاح کر دیا، اسلام نے مساوات کی جو تعلیم رائج کی ہے اور پست و بلند کو جسطرح ایک جگہ لاکھڑا کر دیا ہے، اگرچہ تاریخ میں اسکی ہزاروں مثالیں موجود ہیں، لیکن یہ واقعہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے ان سب پر فوقیت رکھتا ہے کیونکہ اسی سے عملی تعلیم کی بنیاد قائم ہوتی ہے، قریش اور خصوصا خاندان ہاشم کو تولیت کعبہ کی وجہ سے عرب میں جو درجہ حاصل تھا، اسکے لحاظ سے شاہان یمن بھی انکی ہمسری کا دعوی نہیں کر سکتے تھے لیکن اسلام نے محض"تقوی" کو بزرگی کا معیار قرار دیا اور فخروادعاء کو جاہلیت کا شعار ٹھہرایا ہے، اس بنا پر اگرچہ حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ بظاہر غلام تھے تاہم وہ چونکہ (مسلمان اور مرد صالح تھے اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو انکے ساتھ حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کا عقد کر دینے میں کوئی تکلف نہیں ہوا) تعلیم مساوات کے علاوہ اس نکاح کا ایک اور مقصد بھی تھا جو اسدالغابہ میں مذکور ہے اور وہ یہ ہے۔
"یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انکا نکاح زید رضی اللہ تعالی عنہ سے اسلیے کیا تھا کہ انکو قرآن و حدیث کی تعلیم دیں۔"[اسد الغابہ ج5ص463]
تقریباً ایک سال تک دونوں کا ساتھ رہا، لیکن پھر تعلقات قائم نہ رہ سکے اور شکر رنج پڑھ گئی، حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ نے بارگاہ نبوت میں شکایت کی[صحیح ترمذی ص531] اور طلاق دے دینا چاہا۔
"زید(رضی اللہ تعالی عنہ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کی کہ زینب(رضی اللہ تعالی عنہا) مجھ سے زبان درازی کرتی ہیں اور میں انکو طلاق دینا چاہتا ہوں۔"[فتح الباری ج8ص403 تفسیر سورة احزاب]
لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بار بار انکو سمجھاتے تھے کہ طلاق نہ دیں، قرآن مجید میں ہے"اور جبکہ تم اس شخص سے جس پر خدا نے اور تم نے احسان کیا تھا، یہ کہتے تھے کہاپنی بیوی کو نکاح میں لیے رہو اور خدا سے خوف کرو۔"
لیکن یہ کسی طرح صحبت برآ نہ ہو سکے، اور حضرت زیدرضی اللہ تعالی عنہ نے انکو طلاق دے دی حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بہن تھیں۔ اور آپ ہی کی تربیت میں پلی تھیں، آپکے فرمانے سے انہوں نے یہ رشتہ منظور کر لیا تھا۔ جو انکے نزدیک انکے خلافِ شان تھا(چونکہ زید رضی اللہ تعالی عنہ غلام رہ چکے تھے، اس لیے حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کو یہ نسبت گوارہ نہ تھی) بہرحال وہ مطلقہ ہو گئیں تو آپ نے انکی دلجوئی کے لیے خود ان سے نکاح کر لینا چاہا، لیکن عرب میں اس وقت تک متبنی اصلی بیٹے کے برابر سمجھا جاتا تھا، اس لیئے عام لوگوں کے خیال سے اپ تامل فرماتے تھے، لیکن چونکہ محض یہ جاہلیت کی رسم تھی اور اسکو مٹانا مقصود تھا، اس لیے یہ آیت نازل ہوئی۔
"اور تم اپنے دل میں وہ بات چھپاتے ہو جسکو خدا ظاہر کر دینے والا ہے، اور تم لوگوں سے ڈرتے ہو حالانکہ ڈرنا خدا سے چاہیے،"
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا کہ تم زینب رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس میرا پیغام لیکر جاؤ، زید رضی اللہ تعالی عنہ انکے گھر آئے تو وہ آٹا گوندھنے میں مصروف تھیں، چاہا انکی طرف دیکھیں لیکن پھر کچھ سوچ کر منہ پھیر لیا اور کہا"زینب(رضی اللہ تعالی عنہا) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام لایا ہوں"جواب ملا"میں بغیر استخارہ کیے کوئی رائے قائم نہیں کرتی"یہ کہا اور مصلیٰ پر کھڑی ہو گئیں، ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آئی۔ فلمازید منھا وطرازوجناکھا، اور نکاح ہو گیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کے مکان پر تشریف لائے اور بلا استیذان اندر چلے گئے۔
دن چڑھے ولیمہ ہوا جو اسلام کی سادگی کی اصل تصویر تھا اس میں روٹی اور سالن کا انتظام تھا۔ انصار میں حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خالہ اور حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کی والدہ تھیں، مالیدہ بھیجا تھا۔ غرض سب چیزیں جمع ہو گئیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کو لوگوں کے بلانے کے لیے بھیجا۔ 300 آدمی شریک ہوئے۔ کھانے کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دس دس آدمیوں کی ٹالیاں کر دیں تھیں، باری باری آتے اور کھانا کھا کر واپس جاتے تھے۔
اسی دعوت میں آیت حجاب اتری، جسکی وجہ یہ تھی کہ چند آدمی مدعو تھے، کھا کر باتیں کرنے لگے اور اس قدر دیر لگائی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرط مروت سے خاموش تھے، باربار اندر جاتے اور باہر آتے تھے، اسی مکان میں حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا بھی بیٹھی ہوئی تھیں، اور انکا منہ دیوار کی طرف تھا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آمدورفت کو دیکھ کر بعضوں کو خیال ہوا اور اٹھ کر چلےگئے۔
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو دوسری ازواج کے مکان میں تھے، اطلاع دی، آپ باہر تشریف لائے تو وحی کی زبان اسطرح گویا ہوئی۔
"اے ایمان والو! نبی کے گھروں پر مت جایا کرو، مگر جس وقت تمکو کھانے کے لے اجازت دی جائے، ایسے طور پر کہ تم اسکی تیاری کے منتظر نہ رہو لیکن جب تمکو بلایا جائے تب جایا کرو، پھر جب کھانا کھا چکو تو اٹھ کر چلے جایا کرو۔ اور باتوں میں جی لگا کر مت بیٹھے رہا کرو اس بات سے نبی کو ناگواری پیدا ہوتی ہے، سو وہ تمھارا لحاظ کرتے ہیں اور اللہ تعالےٰ صاف بات کہنے سے لحاظ نہیں کرتا ہے اور جب تم ان سے کوئی چیز مانگو تو پردہ سے باہر مانگو۔"
آپ نے دروازہ پر پردہ لٹکا دیا، اور لوگوں کو گھر کے اندر جانے کی ممانعت ہو گئی یہ ذوالعقدہ سن پانچ ہجری کا واقعہ ہے۔
حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کے نکاح کی چند خصوصیتیں ہیں جو کہیں اور نہیں پائی جاتیں، انکے نکاح سے جاہلیت کی ایک اور رسم کہ متبنی اصلی بیٹے کا حکم رکھتا ہے، مٹ گئی، مساوات اسلامی کا وہ عظیم الشان منظر سامنے آیا کہ آزاد کردہ غلام کی تمیز اٹھ گئی، پردہ کا حکم ہوا۔ نکاح کے لیے وحی الہی آئی۔ ولیمہ میں تکلف ہوا، اسی بنا پر حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہ اور ازواج کے مقابلہ میں فخر کیا کرتی تھیں۔[ترمذی ص561، اسد الغابہ ج5ص464]
ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن میں جو بیبیاں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی ہمسری کا دعوی رکھتی تھیں، ان میں حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا خصوصیت کے ساتھ ممتاز تھیں، خود حجرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کہتی ہیں۔
"ازواج میں سے وہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ میں عزت و مرتبہ میں میرا مقابلہ کرتی تھیں،"[صحیح مسلم باب فضل عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا]
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی انکی خاطرداری منظور رہتی تھی، یہی وجہ تھی کہ جب چند ازواج نے حجرت فاطمہ زہرارضی اللہ تعالی عنہا کو سفیر بنا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، اور وہ ناکام واپس آئیں، تو سب نے اس خدمت(سفارت) کے لیے حجرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کا انتخاب کیا کیونکہ وہ اس خدمت کے لیے زیادہ موزوں تھیں، انہوں نے بڑی دیدہ دلیری سے پیغام ادا کیا، اور بڑے زور کے ساتھ یہ ثابت کرنا چاہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا اس رتبہ کی مستحق نہیں ہیں، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا چپ ہو کر سن رہی تھیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ کی طرف دیکھتی جاتی تھیں، حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا جب تقریر کر چکیں تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا مرضی پا کر کھڑی ہوئیں اور اس زور شور کے ساتھ تقریر کی کہ حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا لاجواب ہو کر رہ گئیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "کیوں نہ ہو ابوبکر(رضی اللہ تعالی عنہ) کی بیٹی ہے"[صحیح مسلم فضل عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا]
وفات:۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن سے فرمایا تھا۔
"تم میں مجھ سے جلد وہ ملیں گی جسکا ہاتھ لمبا ہوگا۔"
یہ استعارةً فیاضی کی طرف اشارہ تھا، لیکن ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن اسکو حقیقت سمجھیں چنانچہ باہم اپنے ہاتھوں کو ناپا کرتی تھیں۔ حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا اپنی فیاضی کی بنا پر اس پیشن گوئی کا مصداق ثابت ہوئیں، ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن میں سب سے پہلے انتقال کیا،کفن کا سامان خود تیار کر لیا تھا۔ اور وصیت کی تھی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ بھی کفن دیں تو ان میں سے ایک کو صدقہ کر دینا، چنانچہ یہ وصیت پوری کی گئی حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی، اسکے بعد ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن سے سے دریافت کیا کہ کون قبر میں داخل ہو گا، انہوں نے کہا وہ شخص جو انکے گھر میں داخل ہوا کرتا تھا، چنانچہ اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ، محمد بن عبداللہ بن جحش، عبداللہ بن ابی احمد بن جحش نے انکو قبر میں اتارا اور بقیع میں سپردخاک کیا،[صحیح بخاری ج1ص191، مسلم ص341ج2، اسد الغابہ ص465ج5]
حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا نے سن بیس ہجری میں انتقال کیا اور 53 برس کی عمر پائی، واقدی نے لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جس وقت نکاح ہوا اس وقت 35 سال کی تھیں لیکن یہ عام روایت کے خلاف ہے، عام روایت کے مطابق انکا سن 38 سال کا تھا۔
حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا نے مال متروکہ میں صرف ایک مکان یادگار چھوڑا تھا، جسکو ولید بن عبدالمالک نے اپنے زمانۂ حکومت میں پچاس ہزار درہم پر خرید کیا اور مسجد نبوی میں شامل کر دیا گیا،[طبری ص2449ج13]
حلیہ:۔
حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کوتاہ قامت لیکن خوبصورت اور موزوں اندام تھیں۔[زرقانی ص283]
فضل و کمال:۔
روائتیں کم کرتی تھیں، کتب حدیث میں ان سے صرف گیارہ روائتیں منقول ہیں، راویوں میں حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا، زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ، محمد بن عبداللہ بن حجش(برادرزادہ) کلثوم بنت طلق اور مذکور(غلام) داخل ہیں۔
اخلاق:۔
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں۔
"یعنی حضرت زینب( رضی اللہ تعالی عنہا) نیک خو، روزہ دار و نماز گزار تھیں۔"[زرقانی بحوالہ ابن سعد]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں۔
"میں نے کوئی عورت زینب( رضی اللہ تعالی عنہا) سے زیادہ دیندار، زیادہ پرہیزگار، زیادہ راست گفتار، زیادہ فیاض، مخیر اور خدا کی رضا جوئی میں زیادہ سرگرم نہیں دیکھی فقط مزاج میں ذرا تیزی تھی جس پر انکو بہت جلد ندامت بھی ہوتی تھی۔"[مسلم ج2ص335(فضل عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا)]
حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کا زہدوتورع میں یہ حال تھا۔ کہ جب حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا پر اتہام لگایا گیا اور اس اتہام میں خود حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کی بہن حمنہ شریک تھیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی اخلاقی حالت دریافت کی تو انہوں نے صاف لفظوں میں کہدیا۔
"مجھکو عائشہ( رضی اللہ تعالی عنہا) کی بھلائی کے سوا کسی چیز کا علم نہیں۔"
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو انکے اس صدق و قرار حق کا اعتراف کرنا پڑا۔
عبادت میں نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ مصروف رہتی تھیں، ایک مرتبہ آپ مہاجرین پر کچھ مال تقسیم کر رہے تھے، حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا اس معاملہ میں کچھ بول پڑیں، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ڈانٹا، آپ نے فرمایا ان سے درگزر کرو یہ اَواہ ہیں[اصابہ ج8ص93](یعنی خاشع و متضرع ہیں۔)
نہایت قانع و فیاض طبع تھیں، خود اپنے دست و بازو سے معاش پیدا کرتی تھیں اور اسکو خدا کی راہ میں لٹا دیتی تھیں، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے کہ جب حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کا انتقال ہوا، تو مدینہ کے فقراء کو مساکین میں سخت کھلبلی پیدا ہو گئی اور وہ گھبرا گئے[اصابہ113ج8بحوالہ ابن سعد] ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے انکا سالانہ نفقہ بھیجا، انہوں نے اس پر ایک کپڑا ڈال دیا اور بزرہ بنت رافع کو حکم دیا کہ میرے خاندانی رشتہ داروں اور یتیموں کو تقسیم کدو۔ بزرہ نے کہا آخر ہمارا بھی کچھ حق ہے؟ انہوں نے کہا کپڑے کے نیچے جو کچھ ہو وہ تمھارا ہے، دیکھا تو پچاسی درہم نکلے جب تمام مال تقسیم ہو چکا تو دعا کی کہ خدایا اسی سال کے بعد عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے عطیہ کے فائدہ نہ اٹھاؤ، دعا قبول ہوئی اور اسی سال انتقال ہو گیا۔[ابن سعد ج8ص78]

pervaz khan
12-12-2012, 03:04 PM
جزاک اللہ

تانیہ
12-13-2012, 10:01 AM
حضرت جویریہ رضی اللہ تعالی عنہا
نام و نسب:۔
جویریہ نام، قبیلہ خزاعہ کے خاندان مصطلق سے ہیں، سلسلہ نسب یہ ہے، جویریہ رضی اللہ تعالی عنہا بنت حارث ابی ضرار بن حبیب بن عائد بن مالک بن جذیمہ(مصطلق) بن سعد بن عمرو بن ربیعہ بن حارثہ بن عمرومزیقیاء۔
حارث بن ابی ضرار حضرت جویریہ رضی اللہ تعالی عنہا کے والد بنو مصطلق کے سردار تھے۔[طبقات ج2 ق1ص45]
نکاح:۔
حضرت جویریہ رضی اللہ تعالی عنہا کا پہلا نکاح اپنے ہی قبیلہ میں مسافع بن صفوان(ذی شفر) سے ہوا تھا۔
غزوہ مریسیع اور نکاح ثانی:۔
حضرت جویریہ رضی اللہ تعالی عنہا کا باپ اور شوہر مسافع دونوں دشمن اسلام تھے چنانچہ حارث نے قریش کو اشارے سے یا خود سے مدینے پر حملہ کی تیاریاں شروع کی تھیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی تو مزید تحقیقات کے لیے بریدہ رضی اللہ تعالی عنہ بن حصیب اسلمی کو روانہ کیا، انہوں نے واپس آ کر خبر کی تصدیق کی اپ نے صحابہ کو تیاری کا حکم دیا، 2 شعبان سن پانچ ہجری کو فوجیں مدینہ سے روانہ ہوئین اور مریسیع میں جو مدینہ منورہ سے نو منزل ہے پہنچ کر قیام کیا، لیکن حارث کو یہ خبریں پہلے سے پہنچ چکی تھیں، اس لیے اسکی جمیعت منتشر ہو گئی اور وہ خود بھی کسی طرف نکل گیا، لیکن مریسیع میں جو لوگ آباد تھے، انہوں نے صف آرائی کی اور دیر تک جم کر تیر برساتے رہے مسلمانوں نے دفعتہً ایک ساتھ حملہ کیا تو انکے پاؤں اکھڑ گئے، 11 آدمی مارے گئے اور باقی گرفتار ہو گئے، جنکی تعداد تقریباً 600 تھی، مال غنیمت میں دو ہزار اونٹ اور پانچ ہزار بکریاں ہاتھ آئیں۔
لڑائی میں جو لوگ گرفتار ہوئے۔ ان میں حضرت جویریہ رضی اللہ تعالی عنہا بھی تھیں، ابن اسحاق کی روایت ہے جو بعض حدیث کی کتابوں میں بھی ہے کہ تمام اسیران جنگ لونڈی و غلام بنا کر تقسیم کر دیئے گئے۔ حضرت جویریہ رضی اللہ تعالی عنہ ثابت بن قیس کے حصہ میں آئیں۔ انہوں نے ثابت سے درخواست کی کہ مکاتبت کر لو یعنی مجھ سے کچھ روپیہ لیکر چھوڑ دو، ثابت نے 9اوقیہ سونے پر منظور کیا حضرت جویریہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس روپیہ نہ تھا، چاہاکہ لوگوں سے روپیہ مانگ کر یہ رقم ادا کریں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی آئیں، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بھی وہاں موجود تھیں۔
ابن اسحٰق نےحضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی زبانی روایت کی ہے جو یقینا انکی ذاتی رائے ہے کہ چونکہ جویریہ رضی اللہ تعالی عنہا نہایت شیریں ادا تھیں، میں نے انکو آنحضرت صلی اللہ علہ وسلم کے پاس جاتے دیکھا تو سمجھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی انکے حسن و جمال کا وہی اثر ہو گا جو مجھ پر ہوا۔ غرض وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمکو اس سے بہتر چیز کی خواہش نہیں؟ انہوں نے کہا وہ کیا چیز ہے؟آپ نے فرمایا کہ" تمھار ی طرف سے میں روپیہ ادا کر دیتا ہوں اور تم سے نکاح کر لیتا ہوں" حضرت جویریہ راضی ہو گئیں آپ نے تنہا وہ رقم ادا کر دی، اور ان سے شادی کر لی۔
لیکن دوسری روایت میں اس سے زیادہ واضح بیان مذکور ہے۔
اصل واقعہ یہ ہے کہ حضرت جویریہ رضی اللہ تعالی عنہا کا باپ(حارث) رئیس عرب تھا۔ حضرت جویریہ رضی اللہ تعالی عنہا جب گرفتار ہوئیں، تو حارث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا کہ میری بیٹی کنیز نہیں بن سکتی، میری شان اس سے بالا تر ہے میں انے قبیلے کا سردار اور رئیس عرب ہوں آپ اسکو آزاد کر دیں، آپ نے فرمایا کہ کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ جویریہ رضی اللہ تعالی عنہا کی مرضی پر چھوڑ دیا جائے، حارث نے جا کر جویریہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) نے تیری مرضی پر رکھا ہے دیکھنا مجھکو رسوا نہ کرنا، انہوں نے کہا"میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہنا پسند کرتی ہوں۔" چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شادی کر لی۔
ابن سعد نے طبقات میں یہ روایت کی ہے کہ حضرت جویریہ رضی اللہ تعالی عنہا کے والد نے انکا زرفدیہ کیا اور جب وہ آزاد ہو گئیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کر لیا۔
حضرت جویریہ رضی اللہ تعالی عنہ سے جب نکاح کیا تو تمام اسیران جنگ جو اہل فوج کے حصہ میں آ گئے تھے، دفعتہً رہا کر دیئے گئے، فوج نے کہا کہ جس خاندان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کر لی وہ غلام نہیں ہو سکتا،[ابوداؤد کتاب العتاق ج2ص105طبقاتج2ق1ص46صحیح مسلم ص61]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کسی عورت کو جویریہ رضی اللہ تعالی عنہا سے بڑھکر اپنی قوم کے حق میں مبارک نہیں دیکھا، انکے سبب سے بنو مصطلق کے سینکڑوں گھرانے آزاد کر گیئے گئے،[اسد الغابہ ج5ص420]حضرت جویریہ رضی اللہ تعالی عنہا کا نام برہ تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بدل کر جویریہ رضی اللہ تعالی عنہا رکھا کیونکہ اس میں بدفالی تھی۔[صحیح مسلم ج2ص231]
وفات:۔
حضرت جویریہ رضی اللہ تعالی عنہا نے ربیع الاول سن 50 ہجری میں وفات پائی، اس وقت انکا سن 65 برس کا تھا، مروان نے نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں دفن ہوئیں،
حلیہ:۔
حضرت جویریہ رضی اللہ تعالی عنہا خوبصورت اور موزوں اندام تھیں، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کہتی ہیں۔
کانت امرٔة حلوة ملاحة لا یراھااحدالااخذت نبفسہ۔[اسد الغابہ ج5ص420]
فضل و کمال:۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے چند حدیثیں روایت کیں، ان سے حسب ذیل بزرگوں نے حدیث سنی ہے، ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ، جابر رضی اللہ تعالی عنہ، ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ، عبید بن السباق، طفیل، ابو ایوب مراغی، کلثوم، ابن مصطلق، عبداللہ بن شدادبن الہاد، کریب۔
اخلاق:۔
حضرت جویریہ رضی اللہ تعالی عنہا زاہدانہ زندگی بسر کرتی تھیں، ایکدن صبح کو مسجد میں دعا کر رہیں تھیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گزرے اور دیکھتے ہوئے چلے گئے، دوپہر کے قریب آئے تب بھی انکو اسی حالت میں پایا۔[صحیح ترمذی ص590]
جمعہ کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انکے گھر تشریف لائے تو روزہ سے تھیں، حضرت جویریہ رضی اللہ تعالی عنہا سے دریافت کیا کہ کل روزہ سے تھیں؟بولیں، "نہیں"فرمایا"تو کل رکھو گی؟" جواب ملا"نہیں" ارشاد ہوا"تو پھر تمکو افطار کر لینا چاہیے۔"[صحیح بخاری ج1ص267]
دوسری روائتوں میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینہ میں تین دن روزہ رکھتے تھے ان تین دنوں میں ایک دن جمعہ کا ضرور ہوتا تھا۔ اس لیے تنہا جمعہ کے دن ایک روزہ رکھنے میں علماء کا اختلاف ہے، آئمہ حنفیہ کے نزدیک جائز ہے، امام مالک سے بھی جواز کی روایت ہے۔ بعض شافعیہ نے اس سے روکا ہے، تفصیل کے لیے ملاحضہ ہو فتح الباری جلد 4صفحہ 204۔
امام ابو یوسف کے نزدیک احتیاط اس میں ہے کہ جمعہ کے روزہ کے ساتھ ایک روزہ اور ملا لیا جایا کرے(بذل المجہور جلد صفحہ 169) یہ بحث صرف جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے متعلق ہے اور دنوں سے اسکا تعلق نہیں ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے محبت تھی۔ اور انکے گھر آتے جاتے تھے ایک مرتبہ آکر پوچھا کہ "کچھ کھانے کو ہے؟"جواب ملا۔"میری کنیز نے صدقہ کا گوشت دیا تھا وہی رکھا ہے اور اسکے سوا اور کچھ نہیں" فرمایا"اسے اٹھا لاؤ، کیونکہ صدقہ جسکو دیا گیا تھا اسکو پہنچ چکا"[صحیح مسلم ج1ص400]

pervaz khan
12-13-2012, 01:33 PM
جزاک اللہ

تانیہ
12-14-2012, 12:49 AM
حضرت اُمِ حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا
نام و نسب:۔
رملہ نام، ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا کنیت، سلسلہ نسب یہ ہے، رملہ بنت ابی سفیان صخر بن حرب بن امیہ بن عبد شمس، والدہ کا نام صفیہ بنت ابو العاص تھا، جو حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی حقیقی پھوپھی تھیں،
حضرت ام حبیبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے 17 سال پہلے پیدا ہوئیں۔[اصابہ ج8ص84]
نکاح:۔
عبید اللہ بن جحش سے کہ حرب امیہ کے حلیف تھے، نکاح ہوا۔[(ایضاً) زرقانی ج3ص276بحوالہ ابن سعد]
اسلام:۔
اور ان ہی کے ساتھ مسلمان ہوئیں، اور حبش کو ہجرت کی، حبش میں جا کر عبید اللہ نے عیسائی مذہب اختیار کیا، ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا سے بھی کہا لیکن وہ اسلام پر قائم رہیں، اب وہ وقت آ گیا کہ انکو اسلام اور ہجرت کی فضیلت کے ساتھ ام المومنین بننے کا شرف حاصل ہو۔ عبید اللہ نے عیسائی ہو کر بالکل آزادانہ زندگی بسر کرنا شروع کر دی، مے نوشی کی عادت ہو گئی، آخر انکا انتقال ہو گیا،
نکاح ثانی:۔
عدت کے دن ختم ہوئے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عمروبن امیہ ضمیری کو نجاشی کی خدمت میں بغرض نکاح بھیجا، جب وہ نجاشی کے پاس پہنچے تو اس نے ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا کو اپنی لونڈی ابرہہ کے ذریعہ پیغام دیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھکو تمھارے نکاح کے لیے لکھا ہے، انہوں نے خالد بن سعید اموی کو وکیل مقرر کیا اور اس مژدہ کے صلہ میں ابرہہ کو چاندی کے دو کنگن اور انگوٹھیاں دیں، جب شام ہوئی تو نجاشی نے جعفر رضی اللہ تعالی عنہ بن ابی طالب اور وہاں کے مسلمانوں کو جمع کرکے خود نکاح پڑھایا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے چار سو دینار مہر ادا کیا، نکاح کے بعد حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا جہاز میں بیٹھکر روانہ ہوئیں اور مدینہ کی بندرگاہ میں اتریں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خیبر میں تشریف رکھتے تھے۔ یہ سن 6 ہجری کا واقعہ ہے[مسندج6ص427وتاریخ طبری واقعات سن 6 ہجری] اس وقت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا کی عمر 36 یا 37 سال کی تھی،
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا کے نکاح کے متعلق کئی رووائتیں ہیں، ہم نے جو روایت لی ہے وہ مسند کی ہے اور مشہور روائتوں کے مطابق کی ہے، البتہ مہر کی تعداد میں کچھ غلطی معلوم ہوتی ہے، عام روایت یہ ہے اور مسند میں بھی ہے کہ ازواج مطہرات اور صاحبزادیوں کا مہر چار چار سو درہم تھا، اسی بنا پر چار سو دینا راوی کا سہو ہے، اس موقع پر ہمکو صحیح مسلم کی ایک روایت کی تنقید کرنا ہے،
صحیح مسلم میں ہے کہ لوگ ابو سفیان کو نظر اٹھا کر دیکھنا اور انکے پاس بیٹھنا ناپسند کرتے تھے اس بنا پر انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تین چیزوں کی درخواست کی جن میں ایک یہ بھی تھی کہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا سے شادی کر لیجیئے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انکی درخواست منظور فرمائی۔[صحیح مسلم ج2ص361] اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ابو سفیان کے مسلمان ہونے کے وقت حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا ازواج مطہرات میں داخل نہیں ہوئی تھیں لیکن یہ راوی کا وہم ہے چنانچہ ابن سعد، ابن حزم، ابن جوزی۔ ابن اثیر، بیہقی اور عبدالعظیم منذری نے اسکے خلاف روائتیں کی ہیں، اور ابن سعد کے سوا سب نے اس روایت کی تردید کی ہے۔
وفات:۔
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا نے اپنے بھائی امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانہ خلافت میں سن 44 ہجری میں انتقال کیا اور مدینہ میں دفن ہوئیں، اس وقت 73 برس کا سن تھا۔ قبر کے متعلق اس قدر معلوم ہے کہ امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے مکان میں تھی، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ بن حسین سے منقول ہے کہ ایک مرتبہ میں نے مکان کا ایک گوشہ کھدوایا تو ایک کتبہ برآمد ہوا کہ"یہ رملہ بنت صخر کی قبر ہے"چنانچہ اسکو میں نے اسی جگہ رکھ دیا،[استیعاب جلد2ص750]
وفات کے قریب حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا نے حجرت عائشہ و حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہما کو اپنے پاس بلایا اور کہاکہ سوکنوں میں باہم جو کچھ ہوتا ہے وہ ہم لوگوں میں بھی کبھی ہو جایا کرتا تھا، اس لیے مجھکو معاف کر دو، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے معاف کر دیا اور انکے لیے دعائے مغفرت کی تو بولیں تم نے مجھکو خوش کیا خدا تمکو خوش کرے،[اصابہ ج8ص85بحوالہ ابن سعد(ابن سعد جزءنساءص71)]
اولاد:۔
پہلے شوہر سے دو لڑکے پیدا ہوئے، عبداللہ اور حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہ، حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہ نے آغوش نبوت میں تربیت پائی ، اور داؤد بن عروہ بن مسعود کو منسوب ہوئیں، جو قبیلہ ثقیف کے رئیس اعظم تھے۔
حلیہ:۔
خوبصورت تھیں، صحیح مسلم میں خود ابوسفیان کی زبانی منقول ہے۔[صحیح مسلم جلد2ص361]
"میرے ہاں عرب کی حسین تر اور جمیل تر عورت موجود ہے۔"
فضل وکمال:۔
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا سے حدیث کی کتابوں میں 65 روائتیں منقول ہیں، راویوں کی تعداد بھی کم نہیں ہے، بعض کے نام یہ ہیں، حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا(دختر) معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ اور عتبہ رضی اللہ تعالی عنہ پسران ابو سفیان عبداللہ بن عتبہ، ابو سفیان بن سعید ثقفی(خواہرزادہ) سالم بن سوار(مولی) ابو الجراح، صفیہ بنت شیبہ، زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ تعالی عنہ، عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ، ابو صالح السمان، شہر بن حوشب۔
اخلاق:۔
حجرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا کے جوش ایمان کا یہ منظر قابل دید ہے کہ فتح مکہ سے قبل جب انکے باپ ابو سفیان کفر کی حالت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ آئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بچھونے پر بیٹھنا چاہتے تھے، حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا نے یہ دیکھ کر بچھونا الٹ دیا، ابوسفیان سخت برہم ہوئے کہ بچھونا اس قدر عزیز ہے۔ بولیں یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرش ہے۔ اور آپ مشرک ہیں اور اس بناء پر ناپاک ہیں،
ابوسفیان نے کہا کہ تو میرے پیچھے بہت بگڑ گئی،[اصابہ ج8ص85بحوالہ ابن سعد]
حدیث پر بہت شدت سے عمل کرتی تھیں۔ اور دوسروں کو بھی تاکید کرتی تھیں۔ انکے بھانجے ابوسفیان بن سعید بن المغیرہ آئے اور انہوں نے ستو کھا کر کلی کی تو بولیں تمکو وضوکرنا چاہیے کیونکہ جس چیز کو آگ پکائے اس کے استعمال سے وضو لازم آتا ہے۔[مسندج2ص326] یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے۔
(یہ حکم منسوخ ہے، یعنی پہلے تھا پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکو باقی نہیں رکھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام آگ پر پکی ہوئی چیزیں کھاتے تھے اور اگر پہلے سے وضو ہوتا تو دوبارہ وضو نہیں کرتے تھے۔ بلکہ پہلے ہی وضو سے نماز پڑھ لیا کرتے تھے اس قسم کی ایک حدیث حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے حالات میں آئندہ ملے گی۔)
ابوسفیان رضی اللہ تعالی عنہ کا انتقال ہوا۔ تو خوشبو لگا کر رخساروں پر ملی اور کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ تین دن سے زیادہ غم نہ کیا جائے، البتہ شوہر کے لیے 4 مہینہ 10 دن سوگ کرنا چاہیے۔[صحیح بخاری ج2ص803]
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ سنا تھا کہ جو شخص بارہ رکعت روزانہ نفل پڑھے گا، اسکے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا، فرماتی ہیں فما برحت اصلیھن بعد! میں انکو ہمیشہ پڑھتی ہوں، اسکا یہ اثر ہوا کہ انکے شاگرد اور بھائی عتبہ اور عتبہ کے شاگرد عمروبن اویس اور عمر کے شاگرد نعمان بن سالم سب اپنے اپنے زمانہ میں برابر یہ نمازیں پڑھتے رہے۔[مسندج6ص327]
فطرةً نیک مزاج تھیں، ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا میری بہن سے آپ نکاح کر لیجیئے فرمایا"کیا تمہیں یہ پسند ہے۔" بولیں"ہاں میں ہی آپ کی تنہا بیوی نہیں ہوں، اس لیے میں یہ پسند کرتی ہوں کہ آپ کے نکاح کی سعادت میں میرے ساتھ میری بہن بھی شریک ہو۔"[صحیح بخاری ج2ص764](وامھاتکم اللاتی ارضعنکم و یحرم من الرضاعة مایحرم من النسب)

pervaz khan
12-14-2012, 03:03 PM
جزاک اللہ

تانیہ
12-15-2012, 01:19 PM
حضرت میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا
نام و نسب:۔
میمونہ نام، قبیلہ قریش سے ہیں، سلسلہ نسب یہ ہے، میمونہ بنت حارث بن حزن ابن بحرین ہزم بن روبتہ بن عبداللہ بن ہلال بن عامر بن صعصہ بن معاویہ بن بکر بن ہوازن بن عکرمتہ بن خصیفتہ بن قیس بن عیلان بن مضر، والدہ قبیلہ حمیر سے تھیں اور انکا نام و نسب حسبِ ذیل ہے،
ہند بنت عوف بن زہیر بن حارث بن حماطتہ بن جرش۔
نکاح:۔
پہلے مسعود بن عمرو ب، عمیر ثقفی سے نکاح ہوا،[زرقانی ص288ج3] لیکن کسی وجہ سے علہدگی اختیار کرنا پڑی، پھر ابورہم بن ربدالعزی کے نکاح میں آئیں، ابورہم نے سن 7 ہجری میں وفات پائی تو لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے انتساب کی کوشش کی،
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ذوالعقدہ سن 7 ہجری میں عمرہ کی نیت سے مکہ روانہ ہوئے تھے اسی احرام کی حالت میں حضرت میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا سے نکاح ہوا،[بخاری ص611ج2] حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہا نکاح کے متولی ہوئے تھے،[نسائی ص513] آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ سے فارغ ہو کر جب مدینہ واپس ہوئے تو سرف میں جو مدینہ کے راستہ پر مکہ سے دس میل ہے۔[تہذیب 453ج12] قیام فرمایا، ابورافع(آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام) حضرت میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا کو لیکر سرف پہنچے اور یہیں رسم عروسی ادا ہوئی،[ابن سعد ص89ج2ق1] یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری نکاح تھا،[ذیل المذیل طبری ج13ص2453] اور حضرت میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا سب سے آخری بیوی تھیں۔
وفات:۔
یہ عجیب اتفاق ہے کہ مقام سرف میں انکا نکاح ہوا تھا اور سرف ہی میں انہوں نے انتقال بھی کیا۔[صحیح بخاری ج2ص611، مسند ابن حنبل ج6ص333] حضرت ابن عباس نے جنازہ کی نماز پڑھائی اور قبر میں اتارا، صحاح میں ہے کہ جب انکا جنازہ اٹھایا گیا تو حضرت ابن عباس نے کہا"یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں جنازہ کو زیادہ حرکت نہ دو۔ باادب آہستہ لے چلو۔"[صحیح بخاری ج2ص758] سال وفات کے متعلق اگرچہ اختلاف ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ انہوں نے سن اکاون ہجری میں وفات پائی۔
فضل و کمال:۔
حضرت میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا سے 46 حدیثیں مروی ہیں، جن میں بعض سے انکی فقہ دانی کا پتہ چلتا ہے۔
ایک ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ پراگندہ ہوئے تو کہا بیٹا! اسکا کیا سبب ہے،؟ جوابدیا ام عمار میرے کنگھا کرتی تھیں (اور آجکل انکے ایام کا زمانہ ہے) بولیں کیا خوب! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہماری گود میں سر رکھ کر لیٹتے تھے۔ اور قرآن پڑھتے تھے، اور ہم اسی حالت میں ہوتے تھے، اسی طرح ہم چٹائی اٹھا کر مسجد میں رکھ آتے تھے، بیٹا! کہیں یہ ہاتھ میں بھی ہوتا ہے۔
حضرت میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا سے جن بزرگوں نے روایت کی ہے انکے نام یہ ہیں۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ، عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ بن شداد بن الہاد، عبدالرحمن بن السائب، یزید بن اصم(یہ سب انکے بھانجے تھے) ابراہیم بن عبداللہ بن معبد بن عباس، کریب(ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کے غلام) عبیدہ بن ساق، عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ، عالیہ بنت سبیع،
اخلاق:۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں۔[اصابہ ج8ص192بحوالہ ابن سعد]
"میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا خدا سے بہت ڈرتی اور صلہ رحمی کرتی تھیں۔"
احکام نبوی کی تعمیل میں ہر وقت پیش نظر رہتی تھیں، ایک دفعہ انکی کنیز بدیہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر گئی تو دیکھا کہ میاں بیوی کے بچھونے دور دور بچھے ہیں، خیال ہوا کہ شائد کچھ رنجش ہو گئی ہے لیکن دریافت سے معلوم ہوا کہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ (بیوی کے ایام کے زمانہ میں) اپنا بستر ان سے الگ کر لیتے ہیں۔ آکر حضرت میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا سے بیان کیا تو بولیں، ان سے کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ ولیہ وسلم کے طریقہ سے اس قدر کیوں اعراض ہے؟ اپ برابر ہم لوگوں کے بچھونوں پر آرام فرماتے تھے،[مسندج6ص332] ایک عورت بیمار پڑی تو اس نے منت مانی کہ شفا ہونے پر بیت المقدس جا کر نماز پڑھے گی، خدا کی شان وہ اچھی ہو گئی اور سفر کی تیاریاں شروع کیں، جب رخصت ہونے کے لیے حضرت میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس آئی، تو بولیں تم یہیں رہو، اور مسجد نبوی میں نماز پڑھ لو کیونکہ یہاں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری مسجدوں کے ثواب سے ہزار گنا زیادہ ہے۔[ایضاً ص333]
حضرت میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا کو غلام آزاد کرنے کا شوق تھا، ایک لونڈی کو آزاد کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تمکو اسکا اجر دے۔[ایضاً332]
حضرت میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا کبھی کبھی قرض لیتی تھیں، ایک بار زیادہ رقم قرض لی تو کسی نے کہا کہ آپ اسکو کسطرح ادا کرینگی؟ فرمایا"آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جو شخص ادا کرنے کی نیت رکھتا ہے خدا خود اسکا قرض ادا کر دیتا ہے۔"[ایضاً]

pervaz khan
12-15-2012, 02:25 PM
جزاک اللہ

تانیہ
12-16-2012, 12:25 AM
حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا
نام و نسب:۔
اصلی نام زینب تھا لیکن وہ چونکہ جنگ خیبر میں خاص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حصہ میں آئی تھیں اور عرب میں غنیمت کے ایسے حصے کو جو امام یا بادشاہ کے لیے مخصوص ہوتا ہے صفیہ کہتے تھے اس لیے وہ بھی صفیہ کے نام سے مشہور ہو گئیں، یہ زرقانی کی روایت ہے۔
حضرت صفیہ کو باپ اور ماں دونوں کی طرف سے سیادت حاصل ہے۔ باپ کا نام حیی بن اخطب تھا۔ جو قبیلہ بنو نضیر کا سردار تھا۔ اور حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل میں شمار ہوتا تھا۔ ماں جسکا نام ضرو تھا، سموال رئیس قریظہ کی بیٹی تھی۔ اور یہ دونوں خاندان(قریظہ اور نضیر) بنو اسرائیل کے ان تمام قبائل سے ممتاز سمجھے جاتے تھے، جنہوں نے زمانہ دراز سے عرب کے شمالی حصوں میں سکونت اختیار کر لی تھی۔
نکاح:۔
حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا کی شادی پہلے سلام بن مشکم القریظی سے ہویی تھی۔ سلام نے طلاق دی تو کنانہ بن ابی لحقیق کے نکاح میں آئیں۔ جو ابورافع تاجر حجاز اور رئیس اور خیبر کا بھتیجا تھا۔ کنانہ جنگ خیبر میں مقتول ہوا۔ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا کے باپ اور بھائی بھی کام آئے اور خود بھی گرفتار ہوئیں جب خیبر کے تمام قیدی جمع کیے گئے تو وحیہ کلبی رضی اللہ تعالی عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک لونڈی کی درخواست کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انتخاب کرنے کی اجازت دی، انہوں نے حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا کو منتخب کیا، لیکن ایک صحابی نے آپکی خدمت میں آکر عرض کی کہ اپ نے رئیسہ بنو نضیر و قریظہ کو وحیہ کو دے دیا، وہ تو صرف آپکے لیے سزاوار ہے، مقصودیہ تھا کہ رئیسہ عرب کے ساتھ عام عورتوں کا سا برتاؤ مناسب نہیں۔ چنانچہ حضرت وحیہ رضی اللہ تعالی عنہ کو آپ نے دوسری لونڈی عنایت فرمائی اور صفیہ کو آزاد کر کے نکاح کر لیا،[صحیح بخاری کتاب الصلوٰة باب مایذکرنی الفحذ، صحیح مسلمج1ص546] خیبر سے روانہ ہوئے تو مقام صہبا میں رسم عروسی ادا کی،[اصابہ ج8ص126] اور جو کچھ سامان لوگوں کے پاس تھا۔ اسکو جمع کر کے دعوت ولیمہ فرمائی، وہاں سے روانہ ہوئے تو آپ نے انکو خود اپنے اونٹ پر سوار کر لیا اور اپنی عبا سے ان پر پردہ کیا، یہ گویا اس بات کااعلان تھا کہ وہ ازواج مطہرات میں داخل ہو گئیں۔[طبقات ج8جزءالنساص86]
عام حالات:۔
حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا کے مشہور واقعات میں حج کا سفر ہے، جو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا تھا۔
حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے ایام محاصرہ میں جو سن 35 ہجری میں ہوا تھا۔ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا نے انکی بےحد مدد کی تھی، جب حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ پر ضروریات زندگی مسدود کر دی گئیں، اور انکے مکان پر پہرہ بٹھا دیا گیا۔ تو وہ خود خچر پر سوار ہو کر انکے مکان کی طرف چلیں، غلام ساتھ تھا، اشتر کی نظر پڑی تو انہوں نے آکر خچر کو مارنا شروع کیا، حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا مجھکو ذلیل ہونے کی ضرورت نہیں میں واپس جاتی ہوں تم خچر کو چھوڑ دو۔ گھر واپس آئیں تو حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ کو اس خدمت پر مامور کیا،وہ انکے مکان سے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس کھانا اور پانی لے جاتے تھے۔[اصابہ ج1ص127بحوالہ ابن سعد]
وفات:۔
حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا نے رمضان 50 ہجری میں وفات پائی اور جنت البقیع میں دفن ہوئیں، اس وقت انکی عمر ساٹھ سال کی تھی۔ ایک لاکھ ترکہ چھوڑا، اور ایک ثلث کے لیے اپنے یہودی بھانجے کے لیے وصیت کر گئیں،[زرقانی ج3ص296]
حلیہ:۔
کوتاہ قامت اور حسین تھیں۔[صحیح مسلم ج1ص548]
فضل و کمال:۔
حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا سے چند حدیثیں مروی ہیں، جنکو حضرت زین العابدین رضی اللہ تعالی عنہ، اسحاق بن عبداللہ بن حارث، مسلم بن صفوان، کنانہ اور یزید بن معتب وغیرہ نے روایت کیا ہے، دیگر ازواج کی طرح حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا بھی اپنے زمانہ میں علم کا مرکز تھیں، چنانچہ حضرت صہیرہ رضی اللہ تعالی عنہا بنت جیفر حج کر کے حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس مدینہ آئیں تو کوفہ کی بہت سی عورتیں مسائل دریافت کرنے کی غرض سے بیٹھی ہوئی تھیں، صہیرہ رضی اللہ تعالی عنہا کا بھی یہی مقصد تھا۔ اس لیے انہوں نے کوفہ کی عورتوں سے سوال کرائے اور ایک فتوی نبیذ کے متعلق تھا۔ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا نے سنا تو بولیں اہل عراق اس مسئلہ کو اکثر پوچھتے ہیں،[مسندج6ص377]
اخلاق:۔
حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا میں بہت سے محاسن اخلاق جمع تھے، اسد الغابہ میں ہے،[اسد الغابہ ج5ص490]
"وہ عقلمند عورتوں میں نہایت عقلمند تھیں۔"
زرقانی میں ہے۔[زرقانی ج3ص296]
یعنی صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا عقل والی، فاضلہ اور حلم والی تھیں۔
حلم و تحمل انکے باب فضائل کا نہایت جلی عنوان ہے، غزوہ خیبر میں جب وہ اپنی بہن کے ساتھ گرفتار ہو کر آ رہی تھیں تو انکی بہن یہودیوں کی لاشوں کو دیکھ کر چیخ اٹھتی تھیں، حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا اپنے محبوب شوہر کی لاش سے قریب ہو کر گزریں لیکن اب بھی اسی طرح پیکر متانت تھیں اور انکی جبین تحمل پر کسی قسم کی شکن نہیں آئی،
ایک مرتبہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا نے انکو یہودیہ کہا، انکو معلوم ہوا۔ تو رونے لگیں، حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس ایک کنیز تھی، جو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے جا کر انکی شکایت کیا کرتی تھی، چنانچہ ایکدن کہا ان میں یہودیت کا اثر آج تک باقی ہے، وہ یوم السبت کو اچھا سمجھتی ہیں۔ اور یہودیوں کے ساتھ صلہ رحمی کرتی ہیں، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے تصدیق کے لیے ایک شخص کو بھیجا،
حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا نے جوابدیا کہ یوم السبت کو اچھا سمجھنے کی کوئی ضرورت نہیں، اسکے بدلے خدا نے ہمکو جمعہ کا دن عنایت فرمایا ہے۔ البتہ میں یہود کے ساتھ صلہ رحمی کرتی ہوں، وہ میرے خویش و اقارب ہیں اسکے بعد لونڈی کو بلا کر پوچھا کہ تم نے میری شکایت کی تھی؟بولی"ہاں مجھے شیطان نے بہکا دیا تھا۔" حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا خاموش ہو گئیں اور اس لونڈی کو آزاد کر دیا،[اصابہ ج8ص127وزرقانی ج3ص296]
حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت محبت تھی، چنانچہ جب آپ علیل ہوئے تو نہایت حسرت سے بولیں"کاش آپکی بیماری مجھکو ہو جاتی۔" ازواج نے انکی طرف دیکھنا شروع کیا، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ سچ کہہ رہی ہیں۔[زرقانی ج3ص296 بحوالہ ابن سعد](یعنی اس میں تصنع کا شائبہ نہیں ہے۔)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی انکے ساتھ نہایت محبت تھی۔ اور ہر موقع پر انکی دلجوئی فرماتے تھے۔ ایک بار آپ سفر میں تھے، ازواج مطہرات بھی تھیں، حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا کا اونٹ سوئے اتفاق سے بیمار ہو گیا۔ حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس اونٹ ضرورت سے زیادہ تھے،آپ نے ان سے فرمایا کہ ایک اونٹ صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا کو دیدو۔ انہوں نے کہا، کیا میں اس یہودیہ کو اپنا اونٹ دے دوں؟ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان سے اس قدر ناراض ہوئے کہ دو مہینے تک انکے پاس نہ گئے،[اصابہ ج8ص126بحوالہ ابن سعدوزرقانی ج3ص296] ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے انکی قدوقامت کی نسبت چند جملے کہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے ایسی بات کہی ہے کہ اگر سمندر میں چھوڑ دی جائے تو اس میں مل جائے[ابوداؤد ج2ص193](یعنی سمندر کو بھی گدلا کر سکتی ہے۔)
ایک بار آپ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس تشریف لے گئے، دیکھا کہ رو رہی ہیں آپ نے رونے کی وجہ پوچھی، تو انہوں نے کہا کہ "عائشہ و حفصہ(رضی اللہ تعالی عنہما) کہتی ہیں کہ ہم تمام ازواج میں افضل ہیں، ہم آپ کی زوجہ ہونے کے ساتھ آپکی چچا زاد بہنیں بھی ہیں۔" آپ نے فرمایا کہ تم نے یہ کیوں نہ کہدیا کہ"ہارون میرے باپ، موسی میرے چچا اور محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) میرے شوہر ہیں اسلیے تم لوگ کیونکر مجھ سے افضل ہو سکتی ہو،"[صحیح ترمذی ص638باب فضل ازواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم،]
سفر حج میں حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا کا اونٹ بیٹھ گیا تھا۔ اور و ہسب سے پیچھے رہ گئی تھیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ادھر سے گزرے تو دیکھا کہ زاروقطار رو رہی ہیں، آپ نے رداء اور دست مبارک سے انکے آنسو پونچھے، آپ آنسو پونچھتے جاتے تھے اور وہ بےاختیار روتی جاتی تھیں۔[زرقانی ج3ص296]
حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا سیر چشم اور فیاض واقع ہوئی تھیں، چنانچہ جب وہ ام المومنین بن کر مدینہ میں آئیں تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا اور ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن کو اپنی سونے کی بجلیاں تقسیم کیں۔[زرقانی ج3ص296]
کھانا بہایت عمدہ پکاتی تھیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تحفتہً بھیجا کرتی تھیں، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے گھر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انہوں نے پیالہ میں جو کھانا بھیجا تھا اسکا ذکر بخاری اور نسائی وغیرہ میں آیا ہے۔

سقراط
12-16-2012, 01:33 AM
لکھتی رہی تانیہ زبردست
بہت اچھا لگ رہا ہے مین پڑھتا ہوں روز ایک ایک کر کے

pervaz khan
12-16-2012, 02:31 PM
جزاک اللہ

تانیہ
12-16-2012, 11:20 PM
بنات طاہرات رضی اللہ تعالی عنہن

حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا

نام و نسب:۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی صاحبزادی ہیں بعثت سے دس برس پہلے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر تیس سال کی تھی پیدا ہوئیں۔
نکاح
ابوالعاص بن ربیع لقیط سے جو حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کے خالہ زاد بھائی تھے نکاح ہوا۔
عام حالات:۔
نبوت کے تیرہویں سال جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ معظمہ سے ہجرت فرمائی تو اہل و عیال مکہ میں رہ گئے تھے، حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا بھی اپنی سسرال میں تھیں، غزوہ بدر میں ابو العاص کفار کی طرف سے شریک ہوئے تھے، عبداللہ بن حیر رضی اللہ تعالی عنہ انصاری نے انکو گرفتار کیا۔ اور اس شرط پر رہا کیے گئے کہ مکہ جا کر حضرت زینب کو بھیج دینگے۔(طبقات ج8ص20)
ابوالعاص نے مکہ جا کر حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کو اپنے چھوٹے بھائی کنانہ کے ساتھ مدینہ کی طرف روانہ کیا، کیونکہ کفار کے تعرض کا خوف تھا۔ کنانہ نے ہتھیار ساتھ لے لیئے تھے۔ مقام ذی طوی میں پہنچے تو قریش کے چند آدمیوں نے تعاقب کیا، ہبار بن اسود نے حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کو نیزہ سے زمین پر گرا دیا، وہ حاملہ تھیں، حمل ساقط ہو گیا، کنانہ نے ترکش سے تیر نکالے اور کہا کہ"اب اگر کوئی قریب آیا تو ان تیروں کا نشانہ ہو گا۔"لوگ ہٹ گئے تو ابوسفیان سرداران قریش کے ساتھ آیا اور کہا"تیر روک لو ہمکو کچھ گفتگو کرنی ہے۔" انہوں نے تیر ترکش میں ڈال دیئے، ابوسفیان نے کہا محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کے ہاتھ سے جو مصیبتیں پہنچی ہیں تمکو معلوم ہیں۔ اب اگر تم اعلانیہ انکی لڑکی کو ہمارے قبضہ سے نکال لے گئے لوگ کہیں گے کہ ہماری ہے۔ ہمکو زینب(رضی اللہ تعالی عنہا) کو روکنے کی ضرورت نہیں جب شوروہنگامہ کم ہو جائے اسے چوری چھپے لے جانا۔ کنانہ نے یہ رائے تسلیم کی اور حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کو لیکر مکہ واپس آ گیا۔چند روز کے بعد انکو رات کے وقت لیکر روانہ ہوئے، زید بن حارثہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے سے بھیج دیا تھا۔ وہ بطن یا جج میں تھے۔ کنانہ نے زینب رضی اللہ تعالی عنہا کو انکے حوالے کیا، وہ انکو لیکر روانہ ہو گئے۔(زرقانی ج3ص223)
حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا مدینہ میں آئیں اور اپنے شوہر ابوالعاص کو حالت شرک میں چھوڑا۔ جمادی الاول سن چھ ہجری میں ابوالعاص قریش کے ایک قافلہ کے ساتھ شام کیطرف روانہ ہوئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ کو 170 سواروں کے ساتھ بھیجا، مقام عیص قافلہ ملا، کچھ لوگ گرفتار کیے گئے اور مال و اسباب لوٹ میں آیا، انہی میں ابو العاص بھی آئے تو حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا نے انکو پناہ دی اور انکی سفارش سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نےانکا مال بھی واپس کرا دیا۔ ابوالعاص نے مکہ جا کر لوگوں کی امانتیں حوالہ کیں اور اسلام لانے کے بعد ہجرت کر کے مدینہ آئے، حجرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا نے انکو حالت شرک میں چھوڑا تھا، اس لیے دونوں میں باہم تفریق ہو گئی تھی، وہ مدینہ آئے تو حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا دوبارہ انکے نکاح میں آئیں، ترمذی وغیرہ میں روایت ہے کہ کوئی تجدید نکاح نہیں ہوا، لیکن دوسری روایت میں تجدید نکاح کی تصریح ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے اس روایت کو اگرچہ اسناد کے لحاظ سے دوسری روایت پر ترجیح ہے۔ لیکن فقہا نے دوسری پر عمل کیا ہے اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت کی یہ تاویل کی ہے کہ نکاح جدید کے شرائط وغیرہ میں کسی قسم کا تغیر نہ ہوا ہو گا اسی لیے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے اسکو نکاح اول سے ہی تعبیر کیا ورنہ بعد تفریق نکاح ثانی ضروری ہے۔
ابوالعاص نے حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کے ساتھ نہایت شریفانہ برتاؤ کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انکے شیریفانی تعلقات کی تعریف کی،(طبقات ابن سعدج8ص21)
وفات:۔
نکاح جدید کے بعد حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا بہت کم زندہ رہیں۔ اور سن آٹھ ہجری میں انہوں نے انتقال کیا۔ حضرت ام ایمن ، حضرت سودہ، حضرت ام سلمہ اور حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالی عنہن نے غسل دیا جسکا طریقہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھائی، خود قبر میں اترے اور اپنے نوردیدہ کو خاک کے سپر دیا۔ اس وقت چہرہ مبارک پہ حزن و ملال کے آثار نمایاں تھے۔(طبقات ج8ص24وصحیح بخاری ج1ص167وصحیح مسلم ج1ص346واسد الغابہ ج5ص468)
اولاد:۔
حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا نے دو اولاد چھوڑی، علی اور امامہ رضی اللہ تعالی عنہا علی کی نسبت ایک روایت ہے کہ بچپن میں وفات پائی، لیکن عام روایت یہ ہے کہ سن رشد کو پہنچے، ابن عساکر نے لکھا ہے کہ یرموک کے معرکہ میں شہادت پائی، فتح مکہ میں یہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف تھے، امامہ رضی اللہ تعالی عنہا عرصہ تک زندہ رہیں، انکے حال آگے تک آئے گا۔
اخلاق و عادات:۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنے شوہر سے بہت محبت کرتی تھیں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ نے انکو ریشمی چادر اوڑھے دیکھا تھا، جس پر زرد دھاریاں پڑی ہوئی تھیں۔(طبقات ج8ص22)

سقراط
12-17-2012, 12:53 AM
زبردست موتی پروتی رہیں
اللہ آپ کو تمام پریشانیون سے بچائے
آمین

pervaz khan
12-17-2012, 01:53 PM
جزاک اللہ

تانیہ
12-18-2012, 12:41 AM
حضرت رقیہ رضی اللہ تعالی عنہا

نام و نسب:۔
مشہور روایت کے مطابق یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری صاحبزادی ہیں جو سن 33 قبل نبوت میں پیدا ہوئیں۔
نکاح:۔
پہلے ابولہب کے بیٹے عتبہ سے شادی ہوئی، یہ قبل نبوت کا واقعہ ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تیسری صاحبزادی ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہا کی شادی ابولہب کے دوسرے لڑکے عتبہ سے ہوئی تھی۔
اسلام:۔
جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی اور آپ نے دعوت اسلام کا اظہار فرمایا تو ابولہب نے بیٹوں کو جمع کر کے کہا"اگر تم محمد کی بیٹیوں سے علہدگی اختیار نہیں کرتے تو تمھارے ساتھ میرا اٹھنا بیٹھنا حرام ہے۔" دونوں بیٹوں نے باپ کے حکم کی تعمیل کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت رقیہ رضی اللہ تعالی عنہا کی شادی حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ سے کر دی۔
عام حالات:۔
نبوت کے پانچویں سال حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے حبش کی طرف ہجرت کی، حضرت رقیہ رضی اللہ تعالی عنہا بھی ساتھ گئیں، جب واپس آئیں تو مکہ کی سرزیمن پہلے سے زیادہ خونخوار تھی۔ چنانچہ دوبارہ ہجرت کی مدت تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو انکا کچھ حال معلوم نہ ہوا۔ ایک عورت نے آکر خبردی کہ "میں نے ان دونوں کو دیکھا ہے۔" آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا دی اور فرمایا کہ"ابراہیم علیہ السلام اور لوط علیہ السلام کے بعد عثمان(رضی اللہ تعالی عنہ) پہلے شخص ہیں جنہوں نے بی بی کو لیکر ہجرت کی ہے۔"(اسدالغابہ ج5ص457)
اس مرتبہ حبش میں زیادہ عرصہ تک مقیم رہیں، جب یہ خبر پہنچی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے والے ہیں تو چند بزرگ جن میں حضرت عثمان اور حضرت رقیہ رضی اللہ تعالی عنہما بھی تھیں مکہ آئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے مدینہ منورہ کو ہجرت کی، جہاں انہوں نے حضرت حسان کے بھائی اوس بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر قیام کیا۔
وفات:۔
سن دو ہجری میں غزوہ بدر کا سال تھا۔ حضرت رقیہ رضی اللہ تعالی عنہا کے دانے نکلے اور نہایت سخت تکلیف ہوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس زمانہ میں بدر کی تیاریاں کررہے تھے، غزوہ کے لیے روانہ ہوئے تو عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کو تیماداری کے لیے چھوڑ دیا۔(بخاری ج1ص442) عین اسی دن جس دن زید رضی اللہ تعالی عنہ بن حارثہ نے مدینہ میں آکر فتح کا مژدہ سنایا حضرت رقیہ رضی اللہ تعالی عنہا نے وفات پائی، آنحضرت غزوہ کی وجہ سے انکے جنازہ میں شریک نہ ہو سکے لیکن جب واپس آئے اور اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو نہایت رنجیدہ ہو کر قبر پر تشریف لائے اور فرمایا"عثمان ابن مظعون پہلے جا چکے اب تم بھی انکے پاس چلی جاؤ"اس فقرہ نے عورتوں میں کہرام برپا کر دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کوڑا لیکر مارنے کے لیے اٹھے اپ نے ہاتھ پکڑ لیااور فرمایا"رونے میں کچھ حرج نہیں لیکن نوحہ و بین شیطانی حرکت ہے اس سے قطعا بچنا چاہیے۔" سیدہ عالم حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا بھی بارگاہ نبوی میں حاضر ہوئیں، وہ قبر کے پاس بیٹھکر روتی جاتی تھیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کپڑے سے انکے آنسو پونچھتے جاتے تھے،
اولاد:۔
حبش کے زمانہ قیام میں ایک لڑکا پیدا ہوا تھا جسکا نام عبداللہ تھا، حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی کنیت ابو عبداللہ اسی کے نام پر تھی، چھ سال تک زندہ رہا، ایک مرتبہ ایک مرغ نے اسکے چہرہ پر چونچ ماری اور جاں بحق تسلیم ہو گیا، یہ جمادی الاول سن 4 ہجری کا واقعہ ہے، عبداللہ کے بعد حضرت رقیہ رضی اللہ تعالی عنہا کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی،
حلیہ:۔
حضرت رقیہ رضی اللہ تعالی عنہا خوبرو اور موزوں اندام تھیں، زرقانی میں ہے۔(دیکھو استیعاب ج2ص47، طبقات ج8ص24واسد الغابہ ج5ص456، 457 و زرقانی ج3ص226)

عبادت
12-18-2012, 02:33 AM
جزاک اللہ

pervaz khan
12-18-2012, 02:47 PM
جزاک اللہ

سقراط
12-19-2012, 12:23 AM
جزاک اللہ
جاری رکھیں مستفید فرمائیں

تانیہ
12-19-2012, 10:42 AM
ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہا

نام و نسب:۔
یہ تیسری صاحبزادی ہیں اور کنیت ہی کے ساتھ مشہور ہیں۔
نکاح:۔
سن تین ہجری میں جب حضرت رقیہ رضی اللہ تعالی عنہا کا انتقال ہوا تو ربیع الاول میں حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہا کے ساتھ نکاح کر لیا، بخاری میں ہے کہ جب حضرت حفصہ بیوہ ہوئیں تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ نکاح کا پیغام دیا، حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے تامل کیا لیکن دوسری روایت میں ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر معلوم ہوئی تو آپ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا"میں تمکو عثمان سے بہتر شخص کا پتہ دیتا ہوں۔ اور عثمان کے لیے تم سے بہتر شخص ڈھونڈتا ہوں اپنی لڑکی کی شادی مجھ سے کر دو اور میں اپنی لڑکی کی شادی عثمان سے کر دیتا ہوں"بہرحال نکاح ہوا، نکاح کے بعد حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہا 6 برس تک حضرت عثمان کے ساتھ رہیں۔
وفات:۔
شعبان سن نو ہجری میں وفات پائی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت صدمہ ہوا، آنکھوں سے آنسو جار ی تھے، آپ نے نماز جنازہ پڑھائی اور حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ علی رضی اللہ تعالی عنہ، فضل بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ اور اسامہ رضی اللہ تعالی عنہ بن زید نے قبر میں اتارا۔[1]
اولاد:۔
کوئی اولاد نہیں ہے۔

pervaz khan
12-19-2012, 12:38 PM
جزاک اللہ

admin
12-19-2012, 02:23 PM
جزاک اللہ
اللہ آپ کو مزید لکھنے کی توفیق عطا فرمائے اور دین کا کام کرنے کی بھی

تانیہ
12-19-2012, 10:52 PM
حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا

نام و نسب:۔
فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا نام، زہرأ لقب تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیوں میں سب سے کم سن تھیں، سنہ ولادت میں اختلاف ہے، ایک روایت ہے کہ سن 1 بعثت میں پیدا ہوئیں ابن اسحق نے لکھا ہے کہ ابراہیم کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ ولیہ وسلم کی تمام اولاد قبل نبوت پیدا ہوئی، آپکی بعثت چالیس سال کی عمر میں ہوئی تھی۔ اس بنا پر بعضوں نے دونوں روائتوں میں تطبیق دی ہے کہ سن ایک بعثت کے آغاز میں حضرت فاطمہ پیدا ہوئی ہونگی اور چونکہ دونوں کی مدت میں بہت کم فاصلہ ہے اسلیے یہ اختلاف روایت ہو گیا ہو گا۔ ابن جوزی نے لکھا ہے کہ بعثت سے پانچ برس قبل خانہ کعبہ کی تعمیر جب ہو رہی تھی، پیدا ہوئیں، بعض روائتوں میں ہے کہ نبوت سے تقریباً ایک سال پیشتر پیدا ہوئیں۔
نکاح:۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا جب مشہور روایت کے مطابق 18 سال اور اگر ایک سن بعثت کو انکا سال ولادت تسلیم کیا جائے تو پندرہ سال اور ساڑھے پانچ مہینہ کی ہوئیں تو ذی الحجہ 2 ہجری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ انکا نکاح کردیا۔ ابن سعد نے روایت کی ہے کہ سب سے پہلے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی، آپ نے فرمایا کہ جو خدا کا حکم ہو گا۔ پھر حضرت عمر نے جرأت کی، انکو بھی اپ نے کچھ جواب نہیں دیا، بلکہ وہی الفاظ فرمائے، لیکن بظاہر یہ روایت صحیح معلوم نہیں ہوتی حافظ ابن حجر نے اصابہ میں ابن سعد کی اکثر روائتیں حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے حال میں روایت کی ہیں، لیکن اس کو نظر انداز کر دیا ہے۔
بہرحال حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے جب درخواست کی تو آپ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کی مرضی دریافت کی، وہ چپ رہیں، یہ ایک طرح کا اظہار رضا تھا، آپ نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا کہ تمھارے پاس مہر میں دینے کے لیے کیا ہے؟ بولے کچھ نہیں ہے، آپ نے فرمایا"وہ حطمیہ زرہ کیا ہوئی؟"(جنگ بدر میں ہاتھ آئی تھی) عرض کی وہ تو موجد ہے۔ آپ نے فرمایا بس وہ کافی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاتھ اسکو چالیس درہم پر فروخت کیا۔ اور قیمت لا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ڈال دی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ کو حکم دیا کہ بازار سے خوشبوئیں لائیں۔
زرہ کے سوا اور جو کچھ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا سرمایہ تھا، وہ ایک بھیڑ کی کھال اور ایک بوسیدہ یمنی چادر تھی۔ حضرت علی نے یہ سب سرمایہ حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالی عنہا کے نذر کیا، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے پاس رہتے تھے، شادی کے بعد ضرورت ہوئی کہ الگ گھر لیں۔ حارثہ بن نعمان انصاری کے متعدد مکانات تھے جن میں سے وہ کئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نذر کر چکےتھے۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ان ہی سے کوئی مکان دلوا دیجیئے۔ آپ نے فرمایا کہ کہاں تک، اب ان سے کہتے شرم آتی ہے، حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ نے سنا تو دوڑے آئے کہ حضور میں اور میرے پاس جو کچھ ہے سب آپکا ہے، خدا کی قسم میرا جو مکان آپ لے لیتے ہیں مجھکو اس سے زیادہ خوشی ہوتی ہے کہ وہ میرے پاس رہ جائے، غرض انہوں نے اپنا ایک مکان خالی کر دیا، حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا اس میں اٹھ گئیں۔
شہنشاہ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عالم کو جو جہیز دیا وہ بان کی چارپائی، چمڑے کا گدا جسکے اندر روئی کی بجائے کھجور کے پتے تھے، ایک چھاگل، دو مٹی کے گھڑے، ایک مشک اور دو چکیاں ، اور یہ عجیب اتفاق ہے کہ یہی دو چیزیں عمر بھر انکی رفیق رہیں۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا جب نئے گھر میں جا لیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انکے پاس تشریف لے گئے، دروازے پر کھڑے ہو کر اذن مانگا، پھر اندر آئے، ایک برتن میں پانی منگوایا دونوں ہاتھ اس میں ڈالے، اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے سینہ و بازوؤں پر پانی چھڑکا، پھر حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کو بلایا، وہ شرم سے لڑکھڑاتی آئیں، ان پر بھی پانی چھڑکا، اور فرمایا میں نے اپنے خاندان میں بہتر شخص سے تمھارا نکاح کیا ہے،(یہ تمام تفصیل صحیح بخاری ج2ص571، طبقات ابن سعد ج8، زرقانی ج2 اصابہ ج8 سے ماخوذ ہے)
داغِ پدری:۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کی عمر مشہور روایت کے مطابق 29 سال کی تھی کہ جناب رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رحلت فرمائی، حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب ترین اولاد تھیں، اور اب صرف وہی باقی رہ گئی تھیں، اس لیے انکو اب صدمہ بھی اوروں سے زیادہ ہوا۔ وفات سے پہلے ایکدن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انکو بلا بھیجا، تشریف لائیں تو ان سے کچھ کان میں باتیں کیں، وہ رونے لگیں، پھر بلا کر کچھ کان میں کہا، تو وہ ہنس دیں، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے دریافت کیا تو کہا۔"پہلی دفعہ آپ نے فرمایا کہ میں اسی مرض میں انتقال کرونگا۔ جب میں رونے لگی تو فرمایا کہ میرے خاندان میں سب سے پہلے تم ہی آکر مجھ سے ملو گی، تو ہنسنے لگی۔"(صحیح بخاری ج2ص638)
وفات سے پہلے جب بار بار آپ پر غشی طاری ہوئی تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا یہ دیکھ کر بولیں واکرب اباہ، ہائے میرے باپ کی بے چینی! آپ نے فرمایا"تمھارا باپ آج کے بعد بےچین نہ ہوگا۔(صحیح بخاری ج2ص641) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا پر ایک مصیبت ٹوٹ پڑی، اسد الغابہ میں لکھا ہے کہ"جب تک زندہ رہیں کبھی تبسم نہیں فرمایا۔"(اسد الغابہ ج5 ص 524) بخاری میں لکھا ہے کہ جب صحابہ نعش مبارک کو دفن کر کے واپس آئے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا"کیا تمکو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر خاک ڈالتے اچھا معلوم ہوا؟"(صحیح بخاری ج2ص641)
(یہ عنوان مناسب نہیں اسکی بجائے داغ رحلت پدری ہونا چاہیے، تصحیح۔ امداد اللہ انور)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد میراث کا مسئلہ پیش ہوا۔ حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ، ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن، یہ تمام بزرگ میراث کے مدعی تھے۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کا بھی ایک قائم مقام موجود تھا،لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جائیداد خالصہ جائیداد تھی اور اس میں قانون وراثت جاری نہیں ہو سکتا تھا اس لیے زیادہ محبوب رکھتا ہوں، لیکن وقت یہ ہے کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ انبیاء جو متروکہ چھوڑتے ہیں وہ کل کا کل صدقہ ہوتا ہے۔ اور اس میں وراث جاری نہیں ہوتی اس بنا پر میں اس جائیداد کو کیونکر تقسیم کر سکتا ہوں البتہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اہل بیت جس حد تک اس سے فائدہ اٹھاتے تھے اب بھی اٹھا سکتے ہیں، صحیح بخاری میں لکھا ہے کہ اس گفتگو کا حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کو سخت قلق ہوا اور وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ سے اس قدر ناراض ہوئیں کہ آخر وقت تک ان سے گفتگو نہیں کی،(بخاری شریف ج1ص526وج2ص609)
(طبقات ابن سعد میں ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا بعد کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے راضی ہو گئی تھیں۔)(طبقات ابن سعدج8ص17)
وفات:۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کو چھ ماہ گزرے تھے کہ رمضان سن گیارہ ہجری میں حضرت فاطمہ نے وفات پائی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشین گوئی کہ"میرے خاندان میں سب سے پہلے تم ہی مجھ سے آکر ملو گی"پوری ہوئی، یہ منگل کا دن تھا اور رمضان کی تیسری تاریخ تھی، اس وقت انکا سن 29 سال کا تھا۔ لیکن اگر دوسری روائتوں کا لحاظ کیا جائے تو اس سے مختلف ثابت ہو گا، چنانچہ ایک روایت میں (29 سال) زیادہ صحیح ہے، اگر اکیالیس(محمدی) کو سال ولادت قرار دیا جائے تو اس وقت انکا یہ سن نہیں ہو سکتا تھا، البتہ البتہ اگر چوبیس سال کی عمر تسلیم کی جائے تو اس سن کو سال ولادت قرار دیا جا سکتا ہے لیکن اگر یہ روایت صحیح مان لی جائے کہ پانچ برس قبل نبوت میں پیدا ہوئیں۔ تو اس وقت انکا سن 29 سال کا ہو سکتا ہے۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کی تجہیزوتکفین میں خاص جدت کی گئی، عورتوں کے جنازہ پر جو آجکل پردہ لگانے کا دستور ہے، اسکی ابتدا انہی سے ہوئی، اس سے پیشتر عورت و مرد سب کا جنازہ کھلا ہوا جاتا تھا۔ چونکہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے مزاج میں انتہا کی حیا وشرم تھی، اس لیے انہوں نے حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا بنت عمیس سےکہا کہ کھلے جنازہ میں عورتوں کی بےپردگی ہوتی ہے جسکو میں ناپسند کرتی ہوں، اسماء رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا جگر گوشہ رسول! میں نے حبش میں ایک طریقہ دیکھا ہے۔ آپ کہیں تو اسکو پیش کروں، یہ کہکر خرمے کی چند شاخیں منگوائیں اور ان پر کپڑا تانا جس سے پردہ کی صورت پیدا ہو گئی، حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا بےحد مسرور ہوئیں کہ یہ بہترین طریقہ ہے، حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے بعد حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کا جنازہ بھی اسی طریقہ سے اٹھایا گیا۔(اسد الغابہ ج5ص524)
حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کی قبر کے متعلق بھی سخت اختلاف ہے۔ بعضوں کا خیال ہے کہ وہ بقیع میں حضرت امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ کے مزار کے پاس مدفون ہوئیں، ابن زبالہ نے یہی لکھا ہے اور مؤرخ مسعودی نے بھی اسی قسم کی تصریح کی ہے، مؤرخ موصوف نے سن 332 ہجری میں بقیع کی ایک قبر پر ایک کتبہ دیکھا تھا، جس میں لکھا تھا کہ"یہ فاطمہ زہرارضی اللہ تعالی عنہا کی قبر ہے۔"[(خلاصتہ الوفاص217) لیکن طبقات کی متعدد روائتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ دار عقیل کے ایک گوشہ میں مدفون ہوئیں۔(طبقات ج8ص20)
ایک روایت یہ ہے کہ وہ خاص اپنے مکان میں دفن کی گئیں، اس پر ابن ابی شیبہ نے یہ اعتراض کیا ہے کہ پھر پردہ دار جنازہ کی کیا ضرورت تھی؟ لیکن طبقات کی ایک روایت سے اسکا یہ جواب دیا جا سکتا ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا سلمی کے گھر بیمار ہوئی تھیں۔ وہیں انتقال کیا، اور وہیں انکو غسل دیا گیا۔ پھر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ جنازہ اٹھا کر باہر لائے اور دفن کیا۔(ایضاًص18) آج حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کی قبر متفقہ طور پر دار عقیل میں ہی سمجھی جاتی ہے، چنانچہ محمد لیب بک تبنونی نے جو 1327 ہجری میں خدیو مصر کے سفر حجاز میں ہمرکاب تھے، اپنے سفر نامہ میں اسکی تصریح کی ہے،(الرحلتہ الحجابیہ)
اولاد:۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پانچ اولادیں ہوئیں، حسن رضی اللہ تعالی عنہ، حسین رضی اللہ تعالی عنہ، محسن رضی اللہ تعالی عنہ، ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہا، زینب رضی اللہ تعالی عنہا، محسن رضی اللہ تعالی عنہ نے بچپن ہی میں انتقال کیا، حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا، حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ اور ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہا اہم واقعات کے لحاظ سے تاریخ میں مشہور ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سب سے نہایت محبت تھی، اور حضرت علی و حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہما بھی انکو بہت محبوب رکھتے تھے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیوں میں صرف حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کو ہی یہ شرف حاصل ہے کہ ان سے آپ کی نسل باقی رہی۔
حلیہ:۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کا حلیہ مبارک جناب رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتا جلتا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کا قول ہے کہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کی گفتگو، لب و لہجہ اور نشست و برخاست کا طریقہ بالکل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا۔(صحیح ترمذی ص636)اور رفتار بھی بالکل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رفتار تھی،(صحیح بخاری2ص930)
فضل و کمال:۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے کتب حدیث میں 18 روائتیں منقول ہیں۔ جنکو بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ نے ان سے روایت کیا ہے، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ ابن طالب، حضرت حسن و حسین رضی اللہ تعالی عنہما، حضرت عائشہ، حضرت ام کلثوم، حضرت سلمی ، ام رافع رضی اللہ تعالی عنہن اور حجرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ ان سے احادیث روایت کرتے ہیں۔
تفقہ پر واقعات ذیل شاہد ہیں۔
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کسی سفر میں گئے تھے، واپس آئے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے قربانی کا گوشت پیش کیا، انکو عذر ہوا۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا اسکو کھانے میں کچھ حرج نہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکی اجازت دے دی ہے،(مسندج6ص282)
(یہ روایت شیعہ کے مستندات میں ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کا کوئی بیٹا محسن نام کا بچپن میں فوت نہیں ہوا۔ امداد اللہ)
ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انکے ہاں گوشت تناول فرما رہے تھے کہ نماز کا وقت آ گیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح اٹھ کھڑے ہوئے، چونکہ ایک مرتبہ آپ نے فرمایا تھا۔ کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، اس لیے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے دامن پکڑا کہ وضو کر لیجیئے، ارشاد ہوا۔ بیٹی! وضو کی ضرورت نہیں ہے، تمام اچھے کھانے آگ ہی پر تو پکتے ہیں۔(ایضاًص383)
فضل و کمال:۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب ترین اولاد تھیں،(اصابہ ج8ص157)
آپ نے ارشاد فرمایا ہے،
"فاطمہ میرے جسم کا ایک حصہ ہے جو اس کو ناراض کرے گا مجھکو ناراض کرے گا۔"(صحیح بخاری ج1 ص532)
ابوجہل کی لڑکی کو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے نکاح کا پیغام بھیجا تھا، بارگاہ نبوت میں اطلاع ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے اور حسب ذیل خطبہ ارشاد فرمایا۔
"آل ہشام، علی بن ابی طالب سے اپنی بیٹی کا عقد کرنا چاہتی ہے اور مجھ سے اجازت مانگتی ہے لیکن میں اجازت نہ دونگا۔ اور کبھی نہ دونگا۔ البتہ ابن ابی طالب میری بیٹی کو طلاق دیکر انکی لڑکی سے نکاح کر سکتے ہیں۔ فاطمہ میرے جسم کا حصہ ہے، جس نے اسکو اذیت دی مجھکو اذیت دی۔"(صحیح بخاری ج2ص787)
"اسکے بعد ابوالعاص بن ربیع کا جو آپکے داماد تھے ذکر فرمایا کہ اس نے مجھ سے جو بات کہی اسکو سچ کر کے دکھلا دیا اور جو وعدہ کیا وفا کیا، اور میں حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرنے نہیں کھڑا ہوا۔ لیکن خدا کی قسم! ایک پیغمبر اور ایک دشمن خدا کی بیٹیاں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتیں،"(صحیح بخاری ج1ص428)
اسکا اثر یہ ہوا کہ جناب سیدہ رضی اللہ تعالی عنہا کی حیات تک حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے دوسری شادی نہیں کی۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کا شمار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چند مقدس خواتین میں فرمایا ہے جو دنیا میں اللہ تعالی کی نیک برگزیدہ قرار پائی ہیں جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔
"تمھاری تقلید کے لیے تمام دنیا کی عورتوں میں مریم علیہ السلام، خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا، فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا اور آسیہ رضی اللہ تعالی عنہا کافی ہیں۔"(ترمذی کتاب المناقب)
زہدورع کی یہ کیفیت تھی کہ گو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب ترین اولاد تھیں اور اسلام میں رہبانیت کا قلع قمع بھی کر دیا گیا تھا۔ اور فتوحات کی کثرت مدینہ میں مال وزر کے خزانے لٹا رہی تھی، لیکن جانتے ہو کہ اس میں جگر گوشہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کتنا حصہ تھا؟ اسکا جواب سننے سے پہلے آنکھوں کو اشکبارہو جانا چاہیے۔
سیدہ عالم رضی اللہ تعالی عنہا کی خانگی زندگی یہ تھی کہ چکی پیستے پیستے ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے تھے مشک میں پانی بھر بھر کر لانے سے سینے پر گھڑے پڑ گیے تھے گھر میں جھاڑو دیتے دیتے کپڑے چیکٹ ہو جاتے تھے، چولہے کے پاس بیٹھتے بیٹھتے کپڑے دھوئیں سے سیاہ ہو جاتے تھے، لیکن بااینہمہ جب انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بار گھر کے کاروبار کے لیے ایک لونڈی مانگی، اور ہاتھ کے چھالے دکھائے تو ارشاد ہوا کہ جان پدر! بدر کے یتیم تم سے پہلے اسکے مستحق ہیں۔(ابوداؤد)
ایک دفعہ آپ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس تشریف لائے، دیکھا کہ انہوں نے ناداری سے اس قدر چھوٹا دوپٹہ اوڑھا ہے کہ سر ڈھانکتی ہیں تو پاؤں کھل جاتے ہیں اور پاؤں چھپاتی ہیں تو سربرہنہ رہ جاتا ہے۔ شعر
"یوں کی ہے اہل بیت مطہر نے زندگی
یہ ماجراے دختر خیرالانام عنہا تھا(شبلی)
صرف یہی نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود انکو آرائش یا زیب و زینت کی کوئی چیز نہیں دیتے تھے بلکہ اس قسم کی جو چیزیں انکو دوسرے ذرائع سے ملتی تھیں۔ انکو بھی ناپسند فرماتے تھے، چنانچہ ایک دفعہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے انکو سونے کا ایک ہار دیا آپکومعلوم ہوا تو فرمایا"کیوں فاطمہ(رضی اللہ تعالی عنہا)! کیا لوگوں سے کہلوانا چاہتی ہو کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی لڑکی آگ کا ہار پہنتی ہے۔"حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فورا اسکو بیچ کر اسکی قیمت سے ایک غلام خرید لیا۔
ایک دفعہ آپ کسی غزوہ سے تشریف لائے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے بطور خیر مقدم کے گھر کے دروازے پر پردے لگائے، اور حضرت حسن و حسین رضی اللہ تعالی عنہما کو چاندی کے کنگن پہنائے، آپ حسب معمول حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے یہاں آئے تو اس دنیوی سازوسامان کو دیکھ کر واپس گئے، حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کو آپکی ناپسندیدگی کا حال معلوم ہوا تو پردہ چاک کر دیا اور بچوں کے ہاتھ سے کنگن نکال ڈالے، بچے آپکی خدمت میں روتے ہوئے آئے، آپ نے فرمایا "یہ میرے اہل بیت ہیں، میں یہ نہیں چاہتا کہ وہ ان زخارف سے آلودہ ہوں" اسکے بدلے فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے لیے ایک عصیب کا ہار اور ہاتھی دانت کے کنگن خرید لاؤ۔(یہ تمام واقعات ابوداؤد اور نسائی میں مذکور ہیں۔)
صدق و راستی میں بھی انکا کوئی حریف نہ تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں۔(استیعاب ج2ص772)
"میں نے فاطمہ(رضی اللہ تعالی عنہا) سے زیادہ کسی کو صاف گو نہیں دیکھا۔ انکے والد صلی اللہ علیہ وسلم اس سے مستثنی ہیں۔"
حددرجہ حیادار تھیں، ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انکو طلب فرمایا تو وہ شرم سے لڑکھڑاتی ہوئی آئیں۔ اپنے جنازہ پر جو پردہ کرنے کی وصیت کی تھی وہ بھی اسی بنا پر تھی۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نہایت محبت کرتی تھیں۔ جب وہ خوردسال تھیں اور آپ مکہ معظمہ میں مقیم تھے تو عقبہ بن ابی معیط نے نماز پڑھنے کی حالت میں ایک مرتبہ آپکی گردن پر اونٹ کی اوجھ لاکر رکھ دی، قریش مارے خوشی کے ایکدوسرے پر گرے پڑتے تھے۔ کسی نے جا کر حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کو خبر کی، وہ اگرچہ اس وقت صرف پانچ چھ برس کی تھیں لیکن جوش محبت سے دوڑی آئیں اور اوجھ ہٹا کر عقبہ کو برا بھلا کہا اور بددعائیں دیں۔(صحیح بخاری ج 1ص38،74)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان سے نہایت محبت کرتے تھے، معمول تھا کہ جب کبھی سفر فرماتےتو سب سے آخر میں حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس جاتے اور سفر سے واپس تشریف لاتے تو جو شخص سب سے پہلے بازیاب خدمت ہوتا وہ بھی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا ہی ہوتیں، حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا جب آپکی خدمت میں تشریف لاتیں توں آپ کھڑے ہو جاتے انکی پیشانی چومتے اور اپنی نشست سے ہٹ کر اپنی جگہ پر بٹھاتے۔
آپ ہمیشہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے تعلقات میں خوشگواری پیدا کرنے کی کوشش فرماتے تھے۔ چنانچہ جب حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا میں کبھی کبھی خانگی معاملات کے متعلق رنجش ہو جاتی تھی۔ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دونوں میں صلح کرادیتے تھے۔ ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا، آپ گھر میں تشریف لے گئے اور صلح صفائی کرادی، گھر سے مسرور نکلے، لوگوں نے پوچھا آپ گھر میں گئے تھے تو حالت اور تھی۔ اب آپ اس قدر خوش کیوں ہیں؟ فرمایا میں نے ان دو شخصوں میں مصالحت کردی ہے جو مجھکو محبوب تر ہیں۔
ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے ان پر کچھ سختی کی، وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شکایت لیکر چلیں۔ پیچھے پیچھے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ بھی آئے، حضرت فاطمہ نے شکایت کی، آپ نے فرمایا "بیٹی! تمکو خود سمجھنا چاہیے کہ کون شوہر اپنی بی بی کے پاس خاموش چلا آتا ہے۔"حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ پر اسکا یہ اثر ہوا کہ انہوں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے کہا،"اب میں تمھارے خلاف مزاج کوئی بات نہ کرونگا۔"

pervaz khan
12-20-2012, 02:10 PM
جزاک اللہ

محمداشرف يوسف
12-20-2012, 03:45 PM
جزاک اللہ

تانیہ
12-20-2012, 11:27 PM
حضرت امامہ رضی اللہ تعالی عنہا

نام و نسب:۔
ابوالعاص رضی اللہ تعالی عنہ بن ربیع کی صاحبزادی ہیں۔ جو زینب رضی اللہ تعالی عنہا بنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بطن سے پیدا ہوئیں، آبائی شجرہ نسب یہ ہے۔ امامہ رضی اللہ تعالی عنہا بنت ابوالعاص رضی اللہ تعالی عنہ بن ربیع عبدالعزی ابن عبد شمس بن عبد مناف۔
عام حالات:۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو امامہ رضی اللہ تعالی عنہا سے نہایت محبت تھی۔ آپ انکو اوقات نماز میں بھی جدا نہیں کرتے تھے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ ایک مرتبہ آپ مسجد میں امامہ رضی اللہ تعالی عنہا کو کندھے پر چڑھائے ہوئے تشریف لائے اور اسی حالت میں نماز پڑھائی، جب رکوع میں جاتے تو انکو اتار دیتے، پھر جب کھڑے ہوتے تو چڑھا لیتے اسی طرح پوری نماز ادا فرمائی،(صحیح بخاری ج1ص74وزرقانی ج3ص255) اللہ اکبر!
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ کسی نے کچھ چیزیں ہدیہ میں بھیجیں جن میں ایک زریں ہار بھی تھا۔ امامہ رضی اللہ تعالی عنہا ایک گوشہ میں کھیل رہی تھیں آپ نے فرمایا میں اپنی محبوب ترین اہل کو دونگا۔ ازواج نے سمجھا یہ شرف حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو حاصل ہو گا لیکن آپ نے امامہ رضی اللہ تعالی عنہا کو بلا کر وہ ہار خود انکے گلے میں ڈال دیا، بعض روائتوں میں ہار کی بجائے انگوٹھی کا ذکر ہے۔ (زرقانی ج3ص225بروایت مسند ابن حنبل)اور اس میں ہدیہ بھیجنے والے کا نام بھی آ گیا ہے یعنی نجاشی،(طبقات ابن سعد ج8ص27)
نکاح:۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت سن شعور کو پہنچ چکی تھیں، اس لیے جب حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے انتقال فرمایا تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے امامہ رضی اللہ تعالی عنہا سے نکاح کر لیا، ابوالعاص رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ ابن عوام کو جو عشرہ مبشرہ میں داخل اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھیرے بھائی تھے امامہ رضی اللہ تعالی عنہا کے نکاح کی وصیت کی تھی۔ چنانچہ یہ تقریب ان ہی کی مرضی سے انجام پائی۔ اور نکاح بھی خود انہی نے پڑھایا یہ سن گیارہ ہجری کا واقعہ ہے۔
سن چالیس ہجری میں جب حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے شہادت پائی تو مغیرہ بن نوفل(عبدالمطلب کے پڑپوتے) کو وصیت کر گئے کہ امامہ رضی اللہ تعالی عنہا سے نکاح کر لیں، چنانچہ مغیرہ نے تعمیل کی، اسکے قبل امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کا پیغام پہنچا تھا اور انہوں نے مروان کو لکھا تھا کہ ایک ہزار دینا اس تقریب میں خرچ کیے جائیں، لیکن امامہ رضی اللہ تعالی عنہا نے مغیرہ کو اطلاع دی تو انہوں نے فورا حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ کی اجازت سے نکاح پڑھالیا۔(طبقات ج8ص27واسدالغابہ ج5ص400 استیعاب ج2ص728)
وفات:۔
حضرت امامہ رضی اللہ تعالی عنہا نے مغیرہ کے ہاں وفات پائی،(اصابہ ج8ص14)
اولاد:۔
مغیرہ سے ایک لڑکا پیدا ہوا، جسکا نام یحیی تھا، لیکن بعض روائتوں میں ہے کہ امامہ رضی اللہ تعالی عنہا کے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔

pervaz khan
12-21-2012, 02:51 PM
جزاک اللہ

تانیہ
12-22-2012, 11:33 AM
حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا

نام و نسب:۔
صفیہ نام، عبدالمطلب جد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دختر تھیں ماں کا نام ہالہ بنت وہب تھا، جو حضرت آمنہ(آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ) کی ہمشیرہ ہیں، اس بنا پر حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی ہونے کے ساتھ آپکی خالہ زاد بہن بھی تھیں، حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ عم رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہالہ سے پیدا ہوئے تھے۔ اس لیے وہ اور حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہ حقیقی بھائی بہن تھے۔
نکاح:۔
ابوسفیان بن حرب کے بھائی حارث سے شادی ہوئی، جس سے ایک لڑکا پیدا ہوا۔ اسکے انتقال کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کے بھائی خویلد سے نکاح ہوا۔ جس سے حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ پیدا ہوئے۔
اسلام:۔
40 برس کی عمر ہوئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام پھوپھیوں میں یہ شرف صرف حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا کو حاصل ہے کہ انہوں نے اسلام قبول کیا۔ اسد الغابہ میں ہے۔ یعنی "صحیح یہ ہے کہ انکے سوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی پھوپھی ایمان نہیں لائیں۔"(اسد الغابہ ج5ص492)
عام حالات:۔
حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ ہجرت کی، غزوہ احد میں جب مسلمانوں نے شکست کھائی تو وہ مدینہ سے نکلیں، صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم سے عتاب آمیز لہجہ میں کہتی تھیں کہ"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر چل دیئے؟" آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انکو آتے ہوئے دیکھا تو حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کو بلا کر ارشاد کیا کہ حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کی لاش نہ دیکھنے پائیں، حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام سنایا، بولیں کہ میں اپنے بھائی کا ماجرا سن چکی ہوں لیکن خدا کی راہ میں یہ کوئی بڑی قربانی نہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی لاش پر گئیں، خون کا جوش تھ اور عزیز بھائی کے ٹکڑے بکھرے پڑے تھے لیکن انا للہ وانا الیہ راجعون کہکر چپ ہو گئیں،(اسدالغابہ ج5ص492واصابہ ج8ص129)اور مغفرت کی دعا مانگی۔ واقعہ چونکہ نہایت درد انگیز تھا۔ اس لیے ایک مرثیہ کہا، جسکے ایک شعر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح مخاطب کرتی ہیں۔(اصابہ ج8ص129)
"آج آپ پر وہ دن آیا ہے جس میں آفتاب سیاہ ہو گیا ہے حالانکہ پہلے وہ روشن تھا،"
غزوہ احد کی طرح غزوہ خندق میں بھی انہوں نے نہایت ہمت اور استقلال کا ثبوت دیا، انصار کے قلعوں میں فارع سب سے مستحکم قلعہ تھا، اور حضرت حسان رضی اللہ تعالی عنہ کا تھا، یہ قلعہ یہود بنو قریظہ کے آبادی سے متصل تھا، مستورات اسی میں تھیں اور انکی حفاظت کے لیے حضرت حسان رضی اللہ تعالی عنہ(شاعر) متعین کر دیئے گئے تھے، یہود نے یہ دیکھ کر کہ تمام جمعیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے قلعہ پر حملہ کر دیا، ایک یہودی قلعہ کے پھاٹک تک پہنچ گیا اور قلعہ پر حملہ کرنے موقع ڈھونڈ رہا تھا۔ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا نے دیکھ لیا، حسان رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا کہ اتر کر قتل کر دو۔ ورنہ یہ جا کر دشمنوں کو پتہ دیگا، حضرت حسان رضی اللہ تعالی عنہ کو ایک عارضہ لاحق ہو گیا تھا۔ جس نے ان میں اس قدر جبن پیدا کر دیا تھا کہ وہ لڑائی کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتے تھے اسی بنا پر اپنی معذوری ظاہر کی اور کہا کہ میں اس کام کا ہوتا تو یہاں کیوں ہوتا؟ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا نے خیمہ کی چوب اکھاڑ لی اور اتر کر یہودی کے سر پر اس زور سے ماری کہ سر پھٹ گیا۔ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا چلی آئیں اور حسان رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا کہ ہتھیار اور کپڑے چھین لاؤ، حسان رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا جانے دیجیئے، مجھکو اسکی کوئی ضرورت نہیں حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا اچھا جاؤ اسکا سر کاٹ کر قلعہ کے نیچے پھینک دو تا کہ یہودی مرعوب ہو جائیں، لیکن یہ خدمت بھی حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا ہی کو انجام دینی پڑی، یہودیوں کو یقین ہوا کہ قلعہ میں بھی کچھ فوج متعین ہے۔ اسی خیال سے پھر انہوں نے حملہ کی جرأت نہیں کی۔(طبقات ابن سعدج8ص27،28واسد الغابہ ج5ص493)
سن گیارہ ہجری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال فرمایا۔ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا کو جو صدمہ ہوا ہو گا ظاہر ہے، نہایت پردود مرثیہ لکھا، جسکا مطلع یہ ہے۔
"آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر اے آنکھ خوب آنسو بہا۔"
یہ مرثیہ ابن اسحاق نے اپنی سیرت میں نقل کیا ہے۔(اصابہ ج8ص129)
وفات:۔
حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا نے سن بیس ہجری میں وفات پائی اور بقیع میں دفن ہوئیں، اس وقت تہتر برس کا سن تھا۔
فضل و کمال:۔
حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا نے بقول صاحبِ امامہ(اصابہ ج8ص128) کچھ حدیثیں بھی روایت کی ہیں، لیکن ہماری نظر سے نہیں گزریں اور نہ مسند میں ان حدیثوں کا پتہ چلتا ہے۔

pervaz khan
12-22-2012, 04:32 PM
جزاک اللہ

تانیہ
12-22-2012, 11:02 PM
حضرت ام ایمن رضی اللہ تعالی عنہا

نام و نسب:۔
برکتہ نام، ام ایمن کنیت، ام الظباء عرف، سلسلہ نسب یہ ہے، برکتہ بنت ثعلبہ بن عمرو بن حصن بن مالک بن سلمہ بن عمرو بن نعمان، حبشہ کی رہنے والی تھیں، اور حضرت عبداللہ(پدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم) کی کنیز تھیں۔ بچپن سے عبداللہ کے ساتھ رہیں اور جب انہوں نے انتقال کیا تو حضرت آمنہ کے پاس رہنے لگیں، انکے بعد خود سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے حلقہ غلامی میں داخل ہونے کا شرف حاصل کیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ان ہی نے پرورش کیا اور پرداخت کی تھی۔(اصابہ ج8ص212،213)
نکاح:۔
حارث بن حزرج(صحیح بخاری ج1ص529، میں ایمن رضی اللہ تعالی عنہا کے متعلق مذکور ہے۔وھو رجل من الانصار۔) کے خاندان میں عبید بن زید ایک شخص تھے، ام ایمن کا ان ہی کے ساتھ عقد ہوا تھا، لیکن جب انہوں نے وفات پائی تو حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ بن حارثہ جو کہ محبوب خاص تھے، نکاح پڑھایا یہ بعثت کے بعد کا واقعہ ہے۔
اسلام:۔
حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ چونکہ مسلمان ہو چکے تھے، ام ایمن رضی اللہ تعالی عنہا نے بھی اسلام قبول کیا۔
عام حالات:۔
جب مسلمانوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تو وہ بھی گئیں اور وہاں سے ہجرت کے بعد مدینہ واپس آئیں، غزوہ احد میں شرکت کی، اس موقع پر وہ لوگوں کو پانی پلاتیں اور زخمیوں کی تیماداری کرتی تھیں، غزوہ خیبر میں بھی شریک ہوئیں۔
سن گیارہ ہجری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال فرمایا، ام ایمن رضی اللہ تعالی عنہا سخت مغموم تھیں، اور رو رہی تھیں۔ حضرت ابوبکر و حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہما نے سمجھایا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خدا کے پاس بہتر چیز موجود ہے، جواب ملا"یہ خوب معلوم ہے" اور یہ رونے کا سبب بھی نہیں، رونے کا اصلی سبب یہ ہے کہ اب وحی کا سلسلہ منقطع ہو گیا، حضرت ابوبکر و حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہما پر اس جواب کا اس قدر اثر ہوا کہ وہ بھی انکے ساتھ مل کر زاروقطار رونے لگے،(صحیح مسلم ج2ص341)
سن تئیس ہجری میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے وفات شہادت پائی، ام ایمن رضی اللہ تعالی عنہا کو معلوم ہوا تو بہت روئیں، لوگوں نے کہا اب کیوں روتی ہو؟ بولیں اب اس لیے کہ اسلام کمزور پڑگیا۔(اصابہ ج8ص214بحوالہ ابن سعد)
وفات:۔
ام ایمن نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے عہد خلافت میں وفات پائی۔
اولاد:۔
دو اولادیں ہوئیں، ایمن اور اسامہ رضی اللہ تعالی عنہما، ایمن رضی اللہ تعالی عنہ پہلے شوہر سے تھے، صحابی ہیں خیبر میں شہادت پائی، اسامہ رضی اللہ تعالی عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب خاص تھے۔ اور انکے والد کو بھی یہی درجہ حاصل تھا، نہایت جلیل القدر صحابی تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے بےانتہا محبت تھی،
فضل و کمال:۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے چند حدیثیں روایت کی ہیں۔ راویوں میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بن مالک، حنش بن عبداللہ صنعائی اور ابویزید رضی اللہ تعالی عنہ مدنی شامل ہیں،
اخلاق:۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انکی نہایت عزت کرتے اور فرماتے تھے کہ"ام ایمن(رضی اللہ تعالی عنہا) میری ماں ہیں۔" اکثر انکے مکان پر تشریف لے جاتے، ایک مرتبہ تشریف لائے تو انہوں نے شربت پیش کیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کسی وجہ سے متردد ہوئے، اس پر ام ایمن ناراض ہوئیں۔(صحیح مسلم ج2ص341)(حضرت ام ایمن رضی اللہ تعالی عنہا کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش کرنے کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک قسم کا نازتھا۔ یہ خفگی اسی محبت کی خفگی تھی)(نووی شرح مسلم)
انصار نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت سے نخلستان دیئے تھے، جب بنو قریظہ اور بنو نضیر پر فتح حاصل ہوئی تو آپ نے انصار کو انکے نخلستان واپس کرنا چروع کیئے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کے کچھ باغ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے اور آپ نے ام ایمن رضی اللہ تعالی عنہا کو عطا فرمائے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ آئے تو حضرت ام ایمن رضی اللہ تعالی عنہا نے انکو واپس کرنے سے انکار کر دیا، اس پر مصر رہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر انکو باغ سے دس گنا زیادہ عطا فرمایا۔(صحیح بخاری، زرقانی ج3ص337)

pervaz khan
12-23-2012, 04:05 PM
جزاک اللہ

تانیہ
12-23-2012, 11:31 PM
حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا بنت اسد

نام و نسب :۔
فاطمہ نام، اسد بن ہاشم کی بیٹی اور عبدالمطلب جد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بھتیجی تھیں۔
نکاح:۔
ابوطالب بن عبدالمطلب سے نکاح ہوا، جن سے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ پیدا ہوئے۔
اسلام:۔
آغاز اسلام میں خاندان ہاشم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے زیادہ ساتھ دیا اور ان میں اکثر مسلمان بھی ہو گئے تھے، حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا بھی انہی لوگوں میں تھیں، اور گو انکے شوہر ایمان نہیں لائے، تاہم وہ اور انکی بعض اولاد مشرف بہ اسلام ہوئی، جب ابوطالب کا انتقال ہوا۔ تو انکی بجائے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دست بازو رہیں۔
ہجرت اور عام حالات:۔
جب مسلمان ہو کر ہجرت کی اجازت ملی تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے مدینہ کی طرف ہجرت کی، یہاں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالی عنہا عقد ہوا۔ تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی والدہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا بنت اسد سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی آتی ہیں میں پانی بھرونگا اور باہر کا کام کرونگا۔ اور وہ چکی پیسنے اور آٹا گوندھنے میں آپکی مدد کرینگی،(اسدالغابہ ج5ص517
وفات:۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں وفات پائی، بعض کا خیال ہے کہ ہجرت سےقبل فوت ہوئیں لیکن یہ صحیح نہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیض اتار کر کفن دیا اور قبر میں اتر کر لیٹ گئے، لوگوں نے وجہ دریافت کی تو فرمایا ابوطالب کے بعد ان سے زیادہ میرے ساتھ کسی نے سلوک نہیں کیا۔ اس بنا پر میں نے انکو قمیض پہنایا کہ جنت میں انکو حُلہ ملے اور قبر میں لیٹ گیا کہ شائد قبر میں کمی واقع ہو،(اسدالغابہ ج5ص517)
اولاد:۔
حسب ذیل اولاد چھوڑی، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت جعفر طیار رضی اللہ تعالی عنہ، طالب عقیل۔
اخلاق:۔
اصابہ میں ہے۔
"وہ نہایت صالح بی بی تھیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انکی زیارت کو تشریف لاتے اور انکے گھر میں (دوپہر کا قیلولہ)آرام کرتے تھے۔"(اصابہ ج8ص160)

pervaz khan
12-24-2012, 02:54 PM
جزاک اللہ

سقراط
12-24-2012, 08:40 PM
جزاک اللہ لکھتی رہیں
فرشتے آپ کی نیکیاں لکھتے رہیں دن رات آمین

تانیہ
12-24-2012, 10:22 PM
حضرت ام الفضل رضی اللہ تعالی عنہا

نام و نسب:۔
لبابہ نام، ام الفضل کنیت، کبری لقب، سلسلہ نسب یہ ہے۔ لبابتہ الکبری بنت الحارث بن حزن بن بحرین الہرام بن رویبہ بن عبداللہ بن ہلال بن عامر بن صعصہ، والدہ کا نام ہند بنت عوف تھا۔ اور قبیلہ کنانہ سے تھیں، لبابہ کی حقیقی اور اخیانی کئی بہنیں تھیں۔ جو خاندان ہاشم اور قریش کے دوسرے معزز گھرانوں میں منسوب تھیں، چنانچہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو، لبابہ حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ(عم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کو اور اسماء رضی اللہ تعالی عنہا حضرت جعفر طیار رضی اللہ تعالی عنہ(برادر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ) کو منسوب تھیں، اسی بنا پر انکی والدہ(ہند بنت عوف) کی نسبت مشہور ہے کہ سسرالی قرابت میں انکا کوئی نظیر نہیں،
نکاح:۔
حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عم محترم تھے، نکاح ہوا۔
اسلام:۔
ہجرت سے قبل مسلمان ہوئیں، ابن سعد کا خیال ہے کہ انہوں نے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کے بعد اسلام قبول کیا تھا، باقی عورتیں انکے بعد ایمان لائیں، اس لحاظ سے انکے ایمان لانے کا کا زمانہ بہت قدیم ہو جاتا ہے۔
حالات:۔
ام الفضل رضی اللہ تعالی عنہا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج بھی کیا ہے، چنانچہ حجة الوداع میں جب لوگوں کو عرفہ کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صائم ہونے کی نسبت شبہہ ہوا اور انکے پاس آکر ذکر کیا، تو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک پیالہ دودھ بھیجا، آپ چونکہ روزہ سے نہ تھے۔ دودھ پی لیا اور لوگوں کو تشفی ہوئی۔(صحیح بخاری ج1ص267)
وفات:۔
ام الفضل رضی اللہ تعالی عنہا نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانہ خلافت میں وفات پائی، اس وقت حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ زندہ تھے، حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے جنازہ کی نماز پڑھائی۔
اولاد:۔
حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ کی اکثر اولاد انہی سے پیدا ہوئی، اور چونکہ سب بیٹے نہایت قابل تھے، اس لیے بڑی خوش قسمت سمجھی جاتی تھیں۔ فضل، عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ، معبد، عبیداللہ، قثم، عبدالرحمن اور ام حبیبہ ان ہی کی یادگاریں ہیں، ان میں حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ اور عبید اللہ آسمانِ علم کے مہر وماہ تھے۔(حضرت فضل بن عباس بھی صحابہ میں اونچے درجہ کے عالم تھے۔ امداداللہ نور مصحیح)
فضل و کمال:۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تیس حدیثیں روایت کی ہیں، راوی حسب ذیل اصحاب ہیں، عبداللہ، (تمام پسران عباس رضی اللہ تعالی عنہ) انس رضی اللہ تعالی عنہ بن مالک، عبداللہ بن حارث بن نوفل، عمیر، کریب، قابوس،
اخلاق:۔
عابدہ و زاہدہ تھیں، ہر دوشنبہ و پنج شنبہ کو روزہ رکھتی تھیں،(خلاصہ تہذیب ص495)آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتی تھیں، آپ اکثر انکے ہاں جاتے اور دوپہر کے وقت آرام فرماتے تھے۔

pervaz khan
12-25-2012, 01:54 PM
جزاک اللہ

تانیہ
12-25-2012, 08:48 PM
حضرت ام رومان رضی اللہ تعالی عنہا

نام و نسب:۔
نام معلوم نہیں، ام رومان کنیت ہے، قبیلہ کنانہ کے خاندان فراس(صحیح بخاری ج1ص85)سے تھیں، سلسلہ نسب یہ ہے، ام رومان بنت عامر بن عویمر بن عبدشمس بن عتاب بن اذینہ بن سبیع بن وہمان بن حارث بن غنم بن مالک بن کنانہ،
نکاح:۔
عبداللہ بن ونجرہ سے نکاح ہوا۔ اور انہی کے ہمراہ مکہ آکر اقامت کی، عبداللہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے حلیف بن گئے تھے، اس بنا پر جب انہوں نے انتقال کیا تو ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے خود نکاح کر لیا۔
اسلام:۔
کچھ زمانہ کے بعد مکہ سے اسلام کی صدا بلند ہوئی، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ انہوں نے بھی اس صدا کو لبیک کہا۔
ہجرت:۔
ہجرت کے وقت حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ تنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں مدینہ کو روانہ ہو گئے تھے، لیکن انکا خاندان مکہ میں مقیم تھا۔ مدینہ پہنچے تو وہاں سے زید رضی اللہ تعالی عنہ بن حارثہ اور ابو رافع مستورات کو لانے کے لیے گئے، ام رومان رضی اللہ تعالی عنہا بھی انہی کے ہمراہ مدینہ میں آئیں۔
عام حالات:۔
شعبان سن چھ ہجری میں افک کا واقعہ پیش آیا، ام رومان رضی اللہ تعالی عنہا کے لیے یہ نہایت مصیبت کا وقت تھا، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو اس واقعہ کی خبر ہوئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لیکر میکہ آئیں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ بالاخانے پر تھے اور ام رومان رضی اللہ تعالی عنہا نیچے بیٹھی تھیں،
پوچھا کیسے آئیں؟ حضرت عائشہ نے سارا واقعہ بیان کیا۔ بولیں "بیٹی اس میں گھبرانے کی کوئی بات نہیں جو عورت اپنے خاوند کو زیادہ محبوب ہوتی ہے۔ اسکی سوتیں حسد کی وجہ سے ایسا کرتی ہیں" لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو اس سے کچھ تسکین نہ ہوئی۔ اور چیخ مار کر روئیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے آواز سنی تو بالا خانے سے اتر آئے اور خود بھی رونے لگے۔ پھر ان سے کہا کہ تم اپنے گھر واپس جاؤ اسکے ساتھ ہی ام رومان کو لیکر خود بھی روانہ ہوئے، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو چونہ اس صڈمہ سے بخار آ گیا تھا، دونوں نے انکو گود میں لٹایا، عصر پڑھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ اور فرمایا"عائشہ(رضی اللہ تعالی عنہا)! اگر واقعی تم سے ایسی غلطی ہوئی تو خدا سے توبہ کرو۔" حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے خود جواب نہ دیا، جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی جس میں انکی صاف طور پر برأت کی گئی تھی تو حضرت ام رومان رضی اللہ تعالی عنہا بولیں کہ"تم اٹھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ" حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا"میں نہ انکی مشکور ہوں اور نہ آپکی میں صرف اپنے خدا کا شکر ادا کرتی ہوں۔"(صحیح بخای ج2ص595،699،700)
اسی سن کے اخیر میں مہمانوں کا واقعہ پیش آیا، حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ اصحاب صفہ میں سے 3 صاحبوں کو اپنے گھر لائے تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے تو واپسی میں دیر ہو گئی، گھر آئے تو ام رومان رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا کہ مہمانوں کو چھوڑ کر کہاں بیٹح رہے ہو؟ بولے تم نے کھانا نہیں کھلایا؟ جواب ملا کھانا بھیجا تھا لیکن ان لوگوں نے انکار کیا، غرض کھانا کھلایا گیا اور اس قدر برکت ہوئی کہ نہایت افراط کے ساتھ بچ رہا تھا، حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت ام رومان رضی اللہ تعالی عنہا سے پوچھا کہ اب کتنا ہے؟ بولیں 3 گنے سے زیادہ، چنانچہ سب اٹھوا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیا گیا،(صحیح بخاری ج1ص84،85)
وفات:۔
حضرت ام رومان رضی اللہ تعالی عنہا نے سن نو ہجری یا اسکے بعد انتقال کیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود قبر میں اترے اور انکے لیے مغفرت کی دعا کی، بعض لوگوں کا خیال ہے کہ سن چھ ہجری میں وفات پائی تھی، لیکن یہ صحیح نہیں ہے، کیونکہ واقعات سے اسکی تردید ہوتی ہے۔
اولاد:۔
اوپر گزر چکا ہے کہ حضرت ام رومان رضی اللہ تعالی عنہا نے دو نکاح کیے تھے۔ پہلے شوہر سے ایک لڑکا پیدا ہوا جسکا نام طفیل تھا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ سے دو اولادیں ہوئیں۔ حضرت عبدالرحمن اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہما۔

pervaz khan
12-26-2012, 04:25 PM
جزاک اللہ

تانیہ
12-26-2012, 09:21 PM
حضرت سمیہ رضی اللہ تعالی عنہا

حسب و نسب:۔
خباط کی بیٹی اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ کی والدہ ہیں۔ ابوخذیفہ بن مغیرہ مخزومی کی کنیز تھیں۔
نکاح:۔
یاسر عبسی سے کہ ابو خذیفہ کے حلیف تھے، نکاح ہوا، حضرت عمار رضی اللہ تعالی عنہ پیدا ہوئے تو ابوخذیفہ نے انکو آزاد کر دیا۔[اصابہ ج8ص114واستیعاب ج2ص759]
اسلام:۔
ایام پیری میں مکہ میں اسلام کی صدا بلند ہوئی، تو حضرت سمیہ رضی اللہ تعالی عنہا، یاسر اور عمار رضی اللہ تعالی عنہما تینوں نے اس دعوت کو لبیک کہا، تاریخ میں ہے کہ حضرت سمیہ رضی اللہ تعالی عنہا کا اسلام قبول کرنے والوں میں ساتواں نمبر تھا۔ کچھ دن اطمینانسے گزرے تھے کہ قریش کا ظلم و ستم شروع ہو گیا اور بہ تدریج بڑھتا گیا۔ چنانچہ جو ژخس جس مسلمان پر قابو پاتا طرح طرح کی دردناک تکلیفیں دیتا تھا۔ ضحرت سمیہ رضی اللہ تعالی عنہا کو بھی خاندان مغیرہ نے شرک پر مجبور کردیا لیکن وہ اپنے عقیدہ پر نہایت شدت سے قائم رہیں۔ جسکا صلہ یہ ملا کہ مشرکین انکو مکہ کی جلتی تپتی ریت پر لوہے کی زرہ پہنا کر دھوپ میں کھڑا کرتے تھے، لیکن انکے عزم و استقلال کے چھینٹوں کے سامنے یہ آتش کدہ سرد پڑ جاتا تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ادھر سے گزرتے تو یہ حالت دیکھ کر فرماتے، آل یاسر! صبر کرو اسکے عوض تمھارے لیے جنت ہے،
شہادت:۔
دن بھر اس مصیبت میں رہ کر شام کو نجات ملتی تھی، ایک مرتبہ شب کو گھر آئیں تو ابوجہل نے انکو گالیاں دینی شروع کیں اور پھر انکا غصہ اس قدر تیز ہوا کہ اٹھ کر ایسی برچھی ماری کہ حضرت سمیہ رضی اللہ تعالی عنہا جاں بحق تسلیم ہو گئیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔
بنا کردند خوش رسمے بخون خاک غلیطدن
خدا رحمت کند ایں عاشقادن پاک طنیت را۔
حضرت عمار رضی اللہ تعالی عنہ کو اپنی والدہ کی اس بےکسی پر سخت افسوس ہوا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اب حد ہو گئی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صبر کی تاکید فرمائی، اور کہا"خداوندا! آل یاسر رضی اللہ تعالی عنہ کو جہنم سے بچا" یہ واقعہ ہجرت نبوی سےقبل کا ہے، اس بنا پر حضرت سمیہ رضی اللہ تعالی عنہا اسلام میں سب سے پہلے شہید ہوئیں، [استیعاب ج2ص760]
غزوہ بدر میں جب ابوجہل مارا گیا، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمار رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا"دیکھو تمھاری ماں کے قاتل کا خدا نے فیصلہ کر دیا۔"[اصابہ ج8ص114 بحوالہ ابن سعد]

pervaz khan
12-27-2012, 05:33 PM
جزاک اللہ

تانیہ
12-27-2012, 11:21 PM
حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا
نام و نسب:۔
سہلہ یا رملہ نام، ام سلیم کنیت، غمیصاء اور میصا لقب، سلسلہ نسب یہ ہے، ام سلیم بنت ملحان بن خالد بن زید بن حرام بن جندب بن عامر بن غنم بن عدی بن بخار، ماں کا نام ملیکتہ[اصابی ج8ص244] بنت مالک بن عدی بن زید متاة تھا۔ آبائی سلسلہ سے حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا، سلمی بنت زید کی پوتی تھیں۔ سلمٰی عبدالمطلب جد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ تھیں اسی بناء پر ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خالہ مشہور ہیں۔
نکاح:۔
مالک بن نضر سے نکاح ہوا۔
اسلام:۔
مدینہ میں اوائل اسلام میں مسلمان ہوئیں، مالک چونکہ اپنے آبائی مذہب پر قائم رہنا چاہتے تھے اور ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا تبدیل مذہب پر اصرار کرتی تھیں اس لیے دونوں میں کشیدگی پیدا ہوئی اور مالک ناراض ہو کر شام چلے گئے، اور وہیں انتقال کیا، ابوطلحہ نے جو اسی قبیلے سے تھے نکاح کا پیغام دیا لیکن ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا کو اب بھی رہی عذر تھا یعنی ابو طلحہ مشرک تھے اس لیے وہ ان سے نکاح نہیں کر سکتی تھیں۔
غرض ابوطلحہ نے کچھ دن غور کر کے اسلام کا اعلان کیا اور ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا کے سامنے آکر کلمہ پڑھا، حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا کہ اب تم انکے ساتھ میرا نکاح کردو[اصابہ بحوالہ ابن سعد] ساتھ ہی مہر معاف کر دیا اور کہا"میرا مہر اسلام ہے" حضرت انس کہا کرتے تھے کہ یہ نہایت عجیب و غریب مہر تھا۔
عام حالات:۔
نکاح کے بعد حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالی عنہ نے بیعت عقبہ میں شرکت کی اور چند ماہ کے بعد جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے، حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا اپنے صاحبزادے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کو لیکر حضور میں آئیں اور کہا"انس کو آپکی خدمت کے لیے پیش کرتی ہوں، یہ میرا بیٹا ہے آپ اسکے لیے دعا فرمائیں" آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعافرمائی،[صحیح مسلم ج2ص352وصحیح بخاری ج2ص944]
اسی زمانہ میں آپ نے مہاجرین و انصار میں مواخاة کی، اور یہ مجمع انہی کے مکان میں ہوا۔[بخاری]
غزوات میں حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا نے نہایت جوش سے حصہ لیا، صحیح مسلم میں ہے،[مسلم ج2ص103]
"آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا اور انصار کی چند عورتوں کو غزوات میں ساتھ رکھتے تھے، جو لوگوں کو پانی پلاتیں اور زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں۔"
غزوہ احد میں جب مسلمانوں کے جمے ہوئے قدم اکھڑ گئے تھے، وہ نہایت مستعدی سے کام کر رہی تھیں، صحیح بخاری میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے منقول ہے کہ"میں نے حضرت عائشہ و حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہما کو دیکھا کہ مشک بھر بھر کر لاتی تھیں، اور زخمیوں کو پانی پلاتی تھیں، مشک خالی ہو جاتی تھی تو پھر جا کر بھر لاتی تھیں۔ "[صحیح بخاری کتاب المغازی ج2ص581]
سن پانچ ہجری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا سے نکاح کیا، اس موقع پر حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا نے ایک لگن میں مالیدہ بنا کر حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاتھ بھیجا اور کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنا کہ اس حقیر ہدیہ کو قبول فرمائیں۔[صحیں مسلم ج1ص55]
سن سات ہجری میں خیبر کا واقعہ ہوا، حضرت ام سلیم اس میں شریک تھیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا سے نکاح کیا۔ تو حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا ہی نے حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کے لیے سنوارا تھا[ایضاًص546]
غزوہ حنین میں وہ ایک خنجر ہاتھ میں لیے تھیں۔ ابوطلحہ رضی اللہ تعالی عنہ نے دیکھا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا خنجر لیے ہیں آپ نو پوچھا کیا کروگی؟بولیں"اگر کوئی مشرک قریب آئے گا تو اس سے اسکا پیٹ چاک کر دونگی۔"آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ سنکر مسکرا دیئے حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے جو لوگ فرار ہو گئے ہیں انکے قتل کا حکم دیجیئے، ارشاد ہوا"خدا نے خود انکا انتظام کر دیا ہے۔"[ایضاًج2ص103]
وفات:۔
حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا کی وفات کا سال اور مہینہ معلوم نہیں لیکن قرینہ یہ ہے کہ انہوں نے خلافت راشدہ کے ابتدائی زمانہ میں وفات پائی ہے۔
اولاد:۔
جیسا کہ اوپر معلوم ہوا کہ انہوں نے دو نکاح کیے تھے، پہلے شوہر سے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ پیدا ہوئے، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالی عنہ سے دو لڑکے پیدا ہوئے ابو عمیر اور عبداللہ، ابوعمیر صغیر سنی میں فوت ہو گئے اور عبداللہ سے نسل چلی۔
فضل و کمال:۔
حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا سے چند حدیثیں مروی ہیں جنکو حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ، زید بن ثابت، ابوسلمہ اور عمروبن عاصم نے ان سے روایت کیا ہے لوگ ان سے مسائل دریافت کرتےتھے، حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ اور زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ میں ایک مسئلہ میں اختلاف ہوا تھا تو ان بزرگوں نے ان ہی کو حکم مانا۔[مسند ج6ص430،431]
انکو مسائل کے پوچھنے میں کچھ عار نہ تھا۔ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں۔ اور کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا حق بات سے نہیں شرماتا کیا عورت پر خواب میں غسل واجب ہے، ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا یہ سوال سن رہی تھیں، بیساختہ ہنس پڑیں کہ تم نے عورتوں کی بڑی فضیحت کی؟ بھلا کہیں عورتوں کو بھی ایسا ہوتا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیوں نہیں؟ ورنہ بچے ماں کے ہمشکل کیوں ہوتے ہیں۔[ایضاًص302،692و376ج6]
اخلاق:۔
حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا میں بڑے بڑے فضائل اخلاق جمع تھے، جوش ایمان کا یہ عالم تھا کہ اپنے پہلے شوہر سے صرف اس بنا پر علہدگی اختیار کی کہ وہ اسلام قبول کرنے پر رضامند نہ تھے، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالی عنہ نے نکاح کا پیغام دیا تو محض اس وجہ سے رد کر دیا کہ وہ مشرک تھے اس موقع پر انہوں نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالی عنہ کو جس خوبی سے اسلام کی دعوت دی وہ سننے کے قابل ہے مسند احمد میں ہے۔
"ام سلیم(رضی اللہ تعالی عنہا) نےکہا ابو طلحہ!(رضی اللہ تعالی عنہ) تم جانتے ہو کہ تمھارا معبود زمین سے گاہ ہے؟ انہوں نے جوابدیا ہاں، حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا بولیں تو پھر تمکو درخت کی پوجا کرتے شرم نہیں آتی؟ "[اصابہ ج8ص243بحوالہ مسند]
حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالی عنہ پر اس تقریر کا اتنا اثر ہوا کہ فورا مسلمان ہو گئے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حددرجہ محبت کرتی تھیں، آپ اکثر انکے مکان پر تشریف لے جاتے اور دوپہر کو آرام فرماتے تھے۔ جب بستر سے اٹھتے تو وہ آپکے پسینے اور ٹوٹے ہوئے بالوں کو ایک شیشی میں جمع کرتی تھیں۔[مسندج6ص376]
ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مشک سے منہ لگا کر پانی پیا تو وہ اٹھیں اور مشک کا منہ کاٹ کر اپنے پاس رکھ لیا کہ اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دہن مبارک مس ہوا ہے۔[صحیح مسلم ج2ص341]
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ان سے خاص محبت تھی، صحیح مسلم میں ہے۔
"آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ازواج مطہرات کے علاوہ اور کسی عورت کے یہاں نہیں جاتے تھے لیکن ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا مستثنی تھیں، لوگوں نے دریافت کیا، تو فرمایا مجھے ان پر رحم آتا ہے، انکے بھائی(حرام رضی اللہ تعالی عنہ) نے میرے ساتھ رہ کر شہادت پائی ہے۔"
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اپ اکثر اوقات حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا کے مکان پر تشریف لے جاتے تھے۔
حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا نہایت صابر اور مستقل مزاج تھیں، ابو عمیر انکا بہت لاڈلا و پیارا بیٹا تھا لیکن جب اس نے انتقال کیا تو نہایت صبر سے کام لیا اور گھر والوں کو منع کیا کہ ابوطلحہ رضی اللہ تعالی عنہ کو اسکی خبر نہ کریں، رات کو ابوطلحہ رضی اللہ تعالی عنہ آئے تو انکو کھانا کھلایا اور نہایت اطمینان سے بستر پر لیٹے۔[1] کچھ رات وقت گزرنے پر ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا نے اس واقعہ کا تذکرہ کیا، لیکن عجیب انداز سے کیا۔ بولیں اگر کوئی شخص تمکو عاریتہً ایک چیز دے اور پھر اسکو واپس لینا چاہے تو کیا تم اسکو دینے سے انکار کرو گے؟ ابوطلحہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کبھی نہیں، تو کہا کہ اب تمکو اپنے بیٹے کی طرف سے صبر کرنا چاہیے۔ ابوطلحہ رضی اللہ تعالی عنہ یہ سنکر غصہ ہوئے کہ پہلے سے کیوں نہ بتلایا۔ صبح اٹھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور سارا واقعہ بیان کیا، آپ نے فرمایا، خدا نے اس رات تم دونوں کو بڑی برکت دی۔[اس روایت میں یہاں پر یہ لفظ بھی ہیں کہ انہوں نے وظیفہ زوجیت یہ ادا کیا]
اسی طرح ایک مرتبہ ابوطلحہ رضی اللہ تعالی عنہ آئے اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھوکے ہیں کچھ بھیج دو، حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا نے چند روٹیاں ایک کپڑے میں لپیٹ کر حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کو دیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جا کر پیش کردیں، آپ مسجد میں تھے اور صحابہ کرام بھی بیٹھے ہوئے تھے، حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کو دیکھ کر فرمایا ابوطلحہ رضی اللہ تعالی عنہ نے تمکو بھیجا ہے؟بولے جی ہاں، فرمایا کھانے کے لیے؟ کہاں ہاں، آپ تمام صحابہ کولیکر ابوطلحہ رضی اللہ تعالی عنہ کے مکان پر تشریف لائے، ابوطلحہ گھبرا گئے، اور ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا سے کہا اب کیا کیا جائے؟ کھانا نہایت قلیل ہے۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجمع کے ساتھ تشریف لائے ہیں۔ حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا نے نہایت استقلال کے ساتھ جوابدیا، کہ ان باتوں کو خدا اور سول زیادہ بہتر جانتے ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اندر آئے، تو حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا نے وہی روٹیاں اور سالن سامنے رکھدیا، خدا کی شان اس میں بڑی برکت ہوئی اور سب لوگ کھا کر سیر ہو گئے۔[صحیح بخاری ج2ص810]
حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا کے فضائل و مناقب بہت ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میں جنت میں گیا تو مجھکو آہٹ معلوم ہوئی، میں نے کہا کون ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ انس رضی اللہ تعالی عنہ کی والدہ غمیصاء(یہ ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا کا اصل نام ہے) بنت ملحان ہیں۔[صحیح مسلم ج2ص342]

گلاب خان
12-27-2012, 11:27 PM
کیا کہوں کیا نا کہوں بس اتنا کہوں کمال کردیا:praying::clap::clap::clap::clap::clap:: clap::roseanimr::th_Pakistan_flag:

pervaz khan
12-28-2012, 02:16 PM
جزاک اللہ

تانیہ
12-28-2012, 11:05 PM
حضرت ام عمارہ رضی اللہ تعالی عنہا
نام و نسب:۔
نسیبہ نام، ام عمارہ کنیت، قبیلہ خزرج کے خاندان نجار سے ہیں، نسب نامہ یہ ہے ام عمارہ بنت کعب بن عمرو بن عوف بن مبذول بن عمرو بن غنم بن مازن بن نجار۔
نکاح:۔
پہلا نکاح زید بن عاصم سے ہوا۔ پھر عربہ بن عمرو کے عقد نکاح میں آئیں۔
اسلام:۔
اور انہی کے ساتھ بیعت عقبہ میں شرکت کی، سیرت کی کتابوں میں مذکور ہے کہ بیعت عقبہ میں 73 مرد اور 2 عورتیں شامل تھیں۔حضرت ام عمارہ رضی اللہ تعالی عنہا کا بھی انہی میں شمار ہے۔
غزوات:۔
غزوہ احد میں شریک ہوئیں اور نہایت پامردی سے لڑیں، جب تک مسلمان فتح یاب تھے۔ وہ مشک میں پانی بھر کر لوگوں کو پلاتی رہیں لیکن جب شکست ہوئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچیں اور سینہ سپر ہو گئیں، کفار جب آپ پر بڑھتے تو تیر اور تلوار سے روکتی تھیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خود بیان ہے کہ میں احد میں انکو اپنے داہنے و باہیں برابر لڑتے ہوئے دیکھتا تھا، ابن قمیہ جب ڈراتا ہوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گیا تو حضرت عمارہ رضی اللہ تعالی عنہا نے بڑھکر روکا چنانچہ کندھے پر زخم آیا۔ اور غار پڑ گیا انہوں نے بھی تلوار ماری لیکن وہ دوہری زرہ پہنے ہوئے تھا، اس لیے کارگر نہیں ہوئی۔[ابن ہشام ص84] بعض روایتوں میں ہے کہ انہوں نے ایک کافر کو قتل کیا تھا۔ احد کے بعد بیعت الرضوان، خیبر اور فتح مکہ میں بھی شرکت کی۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے عہد میں یمامہ کی جبگ پیش آئی مسیلمہ کذاب سے جو مدعی نبوت تھا، مقابلہ تھا، حضرت عمارہ رضی اللہ تعالی عنہا اپنے ایک لڑکے حبیب کو لیکر حضرت خالد رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ روانہ ہوئیں، اور جب مسیلمہ نے انکے لڑکے کو قتل کر دیا تو انہوں نے منت مانی کہ"یا مسیلمہ قتل ہو گا یا وہ خود جان دے دیں گے"یہ کہکر تلوار کھینچ لی اور میدان جنگ کیطرف روانہ ہوئیں اور پامردی سے مقابلہ کیا اور 12 زخم کھائے اور ایک ہاتھ کٹ گیا۔ اس جنگ میں مسیلمہ بھی مارا گیا۔
وفات:۔
اسکے بعد معلوم نہیں کب تک زندہ رہیں۔
اولاد:۔
وفات کے وقت چار اولادیں یادگار چھوڑیں، حبیب، عبداللہ پہلے شوہر سے اور تمیم، خولہ دوسرے شوہر سے۔
فضل و کمال:۔
چند حدیثیں روایت کی ہیں جو عباد بن تمیم(پوتے) لیلے(کنیز)عکرمہ، حارث ابن کعب اور ام سعد بنت سعد بن ربیع سے مروی ہیں۔
اخلاق:۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے انکو جو محبت تھی اسکا اصلی منظر تو غزوہ احد میں نظر آتا ہے لیکن اور بھی چھوٹے طھوٹے واقعات ہیں، ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انکے مکان پر تشریف لائے اور انہوں نے کھانا پیش کیا، ارشاد ہواتم بھی کھاؤ، بولیں میں روزہ سے ہوں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا نوش فرمایا اور فرمایا کہ روزہ دار کے پاس اگر کچھ کھایا پیا جائے تو اس پر فرشتے درود بھیجتے ہیں۔
جوش اسلام کا نظارہ بھی اوپر کے واقعات سے ہو سکتا ہے۔

pervaz khan
12-29-2012, 02:13 PM
جزاک اللہ

تانیہ
12-29-2012, 10:23 PM
حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالی عنہا
نام و نسب:۔
نسیبہ بنت حارث نام، انصار کے قبیلہ بی مالک بن النجار سے تھیں۔[طبقات ابن سعدج8ص321،322]
اسلام:۔
ہجرت سے قبل مسلمان ہوئیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو انصار کی عورتوں کو ایک مکان میں بیعت کے لیے جمع کیا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو دروازہ پر بھیجا اور ان شرائط پر بیعت لیں کہ شریک نہ کرینگی، چوری اور زنا سے بچیں گی، اولاد کو قتل نہ کرینگی، کسی پر بہتان نہ باندھیں گی، اچھی باتوں سے انکار نہ کرینگی، عورتوں نے یہ سب تسلیم کیا، تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اندر کی طرف ہاتھ بڑھایا، اور عورتوں نے اپنے اپنے ہاتھ باہر نکالے جو بیعت کی علامت تھی اسکے بعد حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالی عنہا نے پوچھا کہ اچھی باتوں سے انکار کرنے کے کیا معنی ہیں؟ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا نوحہ و بین نہ کرنا،[مسندج5ص409]
غزوات اور عام حالات:۔
حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالی عنہا عہد رسالت کے سات معاہدوں میں شریک ہوئیں جن میں وہ مردوں کےلیے کھانا پکاتیں انکے سامان کی حفاظت کرتیں مریضوں کی تیماداری اور زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں۔[صحیح مسلم ج2ص105]
سن آٹھ ہجری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کا انتقال ہوا تو حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالی عنہا اور چند عورتوں نے انکو غسل دیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انکو نہلانے کی ترکیب بتلائی۔[صحیح بخاری ج1ص168و مسلم ج1ص346،347]
خلافت راشدہ کے زمانے میں انکا ایک لڑکا کسی غزوہ میں شریک تھا، بیمار ہو کر بصرہ آیا، حضرت ام عطیہ مدینہ میں تھیں، خبر ملی تو نہایت عجلت سے بصرہ روانہ ہوئیں لیکن پہنچنے کے ایکدودن قبل وہ وفات پا چکا تھا، یہاں آکر انہوں نے بنو حلف کے قصر میں قیام کیا، تیسرے روز انہوں نے خوشبو منگا کر ملی اور کہا شوہر کے علاوہ اور کسی کے لیے 3 دن سے زیادہ سوگ نہیں کرنا چاہیے۔[صحیح بخاری ج1ص170، باب احد والمراَة علی غیر زوجہا]
اسکے بعد بصرہ میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔[اسد الغابہ ج5ص603]
وفات:۔
وفات کی تاریخ اور سن معلوم نہیں اور نہ اولاد کی تفصیل کا علم ہے۔
فضل و کمال:۔
چند حدیثیں روایت کی ہیں، راویوں میں حسب ذیل اصحاب ہیں۔ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ، ابن سیرین، حفصہ بنت سیرین، اسمعیل بن عبدالرحمن بن عطیہ عبدالملک ابن عمیر، علی بن الاقمر، ام شراحیل،
صحابہ و تابعین ان سے میت کے نہلانے کا طریقہ سیکھتے تھے۔[تہذیب ج12ص455 اصابہ ج8ص259]
اخلاق:۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت محبت کرتی تھیں، اور آپ بھی ان سے محبت کرتے تھے، ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انکے پاس صدقہ کی ایک بکری بھیجی تو انہوں نے اسکا گوشت حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس روانہ کیا، آپ گھر میں تشریف لائے تو کھانے کے لیے مانگا، بولیں اور تو کچھ نہیں ہے البتہ جو بکری آپ نے نسیبہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس سے بھیجی تھی اسکا گوشت رکھا ہے۔ آپ نے فرمایا لاؤ، کیونکہ وہ مستحق کے پاس پہنچ چکی۔[صحیح مسلم ج1ص401]
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپکے اعزہ و اقارب سے بھی خاص تعلقات تھے چنانچہ ابن سعد نے لکھا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ حضرت عطیہ رضی اللہ تعالی عنہا کے مکان میں قیلولہ فرماتے تھے۔[اصابہ ج8ص259]
احکام نبوی کی پوری پابندی کرتی تھیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت میں نوحہ کی ممانعت کی تھی، اس پر انہوں نے ہمیشہ عمل کیا۔ چنانچہ بیعت ہی کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ فلاں خاندان کے لوگ میرے ہاں رہ چکے ہیں اس لیے مجھکو بھی انکے ہاں جا کررہنا ضروری ہے، اپ نے اس خاندان کو مستثنی کر دیا۔[مسندج6ص407 و مجمع بحار الانوار ج2ص114] بعض روایات میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالی عنہا کو کوئی جواب نہیں دیا اور جن روایات سے ثابت ہے کہ حضور نے انکو مستثنی کر دیا۔ انکا مطلب یہ ہے کہ یہ استثناء حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالی عنہا کے لیے خاص تھا، ورنہ اصلی مسئلہ کہ نوحہ جائز نہیں ہے اپنی جگہ پر ثابت ہے لڑکے کی وفات اور اس پر سوگ کرنے کا حال ابھی گزر چکا ہے۔

pervaz khan
12-30-2012, 02:35 PM
جزاک اللہ

تانیہ
12-30-2012, 10:09 PM
حضرت ربیع بنت معوذبن عفراء
نام و نسب:۔
ربیع نام۔ قبیلہ خزرج کے خاندان نجار سے ہیں، سلسلہ نسب یہ ہے۔ربیع بنت ،معوذ بن حارث بن رفاعہ بن حارث بن سواد بن مالک بن غنم بن مالک بن نجار، والدہ کا نام ام تزید تھا۔ جو قیس بن زعورا کی بیٹی تھی، حضرت ربیع رضی اللہ تعالی عنہا اور انکے تمام بھائی عفراء کی اولاد مشہور ہیں، عفراء ان لوگوں کی دادی رھیں۔[تہذیب التہذیب ج12ص418]
اسلام:۔
ہجرت کے قبل مسلمان ہوئیں۔
نکاح:۔
ایاس بن بکر لیثی سے شادی ہوئی، صبح کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انکے گھر تشریف لائے اور بستر پر بیٹھ گئے، لڑکیاں دف بجا بجا کر شہدائے بدر کے مناقب میں اشعار پڑھ رہی تھیں، اس ضمن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بھی کچھ اشعار پڑھے۔ جن میں ایک مصرعہ یہ تھا،
"اور ہم میں وہ نبی ہے جو کل کی بات جانتا ہے،"(اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور کو وحی کے بغیر کل کس علم غیب نہیں تھا۔ امداداللہ)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ نہ کہو(اور اسکے علاوہ جو کہتی تھیں وہ کہو)[صحیح بخاری ج2ص570]
عام حالات:۔
غزوات میں شرکت کرتی تھیں زخمیوں کا علاج کرتیں لوگوں کو پانی پلاتیں اور مقتولوں کو مدینہ پہنچاتیں اور فوج کی خدمت کرتی تھیں،[مسندج6ص358]
غزوہ حدیبیہ میں بھی موجود تھیں، جب بیعت رضوان کا وقت آیا تو انہوں نے بھی آکر بیعت کی۔
سن پینتیں ہجری میں اپنے شوہر سے علہدہ ہوئیں، شرط یہ تھی کہ جو کچھ میرے پاس ہے اسکو لیکر مجھ سے دستبردار ہو جاؤ، چنانچہ اپنا تمام سامان انکو دےدیا، صرف ایک کرتی رہنے دی لیکن شوہر کو یہ بھی گوارہ نہ ہوا، جا کر حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی عدالت میں مقدمہ دائر کیا، چونکہ ربیع نے کل چیزوں کی شرط کی تھی، حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا تمکو اپنا وعدہ پورا کرنا چاہیے۔ اور شوہر سے فرمایا کہ تم انکے جوڑا باندھنے کی دھجی تک لے جا سکتےہو،[اصابہ ج8ص80بحوالہ ابن سعد]
وفات:۔
حضرت ربیع رضی اللہ تعالی عنہا کی وفات کا سال نا معلوم ہے۔
اولاد:۔
اولاد میں محمد مشہور ہیں۔
فضل و کمال:۔
حضرت ربیع سے اکیس حدیثیں مروی ہیں، علمی حیثیت سے انکا یہ پایہ تھا کہ حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت زین العابدین رضی اللہ تعالی عنہ ان سے مسائل دریافت کرتے تھے۔[مسندج6ص358] راویوں میں بہت سے لوگ ہیں مثلاً عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بنت انس بن مالک، سلیمان بن یسار، ابوسلمہ بن عبدالرحمن نافع، عبادہ بن الولید، خالد بن ذکوان، عبداللہ بن محمد بن عقیل، ابوعبیدہ بن محمد(حضرت عماررضی اللہ تعالی عنہ، ابن یاسر کے پوتے)محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان،
اخلاق:۔
جوش ایمان اس سے ظاہر ہے کہ ایک مرتبہ اسماء بنت مخربہ جو ابو ربیعہ مخزومی کی بیوی تھی، اور عطر بیچتی تھی چند عورتوں کے ساتھ ربیع رضی اللہ تعالی عنہا کے گھر آئی اور انکا نام ونسب دریافت کیا، چونکہ ربیع رضی اللہ تعالی عنہا کے بھائی نے ابوجہل کو بدر میں قتل کیا تھا، اور اسماء قریش کے قبیلے سے تھی بولی،"تو تم ہمارے سردار کے قاتل کی بیٹی ہو؟"حضرت ربیع رضی اللہ تعالی عنہا کو ابوجہل کی نسبت سردار کا لفظ نہایت ناگوار ہوا۔ اور بولیں"سردار نہیں بلکہ غلام کے قاتل کی بیٹی ہوں۔" اسماء کو ابوجہل کی شان میں یہ گستاخی پسند نہ آئی، جھنجھلا کر کہا مجھکو تمھارے ہاتھ سودا بیچنا حرام ہے۔حضرت ربیع رضی اللہ تعالی عنہا نے برجستہ کہا، مجھکو تم سے کچھ خریدنا حرام ہے، کیونکہ تمھارا عطر، عطر نہیں بلکہ گندگی ہے۔[اسدالغابہ ج5ص456]
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بےانتہا محبت تھی، آپ انکے گھر اکثر تشریف لےجاتے تھے۔[مسندج6ص352]
ایک مرتبہ آپ تشریف لائے اور ان سے وضو کے لیے پانی مانگا۔[ابوداؤدج1ص13] ایک مرتبہ دو طباقوں میں چھوہارے اور انگور لیکر گئیں، تو آپ نے زیور یا سونا مرحمت فرمایا۔[مسندج6ص359]
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کاایک مرتبہ کسی نے حلیہ پوچھا تو بولیں"بس یہ سمجھ لو کہ آفتاب طلوع ہو رہا ہے۔"[اسد الغابہ ج5ص452]

pervaz khan
12-31-2012, 02:14 PM
جزاک اللہ

تانیہ
12-31-2012, 08:59 PM
حضرت ام ہانی رضی اللہ تعالی عنہا
نام و نسب:۔
فاختہ نام، ام ہانی کنیت، ابوطالب عم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دختر تھیں ماں کا نام فاطمہ بنت اسد تھا، اس بنا پر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت جعفر طیار رضی اللہ تعالی عنہ اور ام ہانی رضی اللہ تعالی عنہا حقیقی بھائی بہن ہیں۔
نکاح:۔
ہبیرہ بن عمرو(بن عائد)مخزومی سے نکاح ہوا۔
اسلام:۔
سن آٹھ ہجری میں جب مکہ فتح ہوا۔ مسلمان ہوئیں، آپ نے اس روز انکے مکان میں غسل کیا تھا، اور چاشت کی نماز پڑھی تھی، انہوں نے اپنے دو عزیزوں کو جو مشرک تھے پناہ دیدی تھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی انکو پناہ دی،[مسندج6ص342] انکا شوہر ہبیرہ فتح مکہ میں نجران بھاگ گیا تھا،
وفات:۔
ترمذی کی روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات کے بعد مدت تک زندہ رہیں تہذیب میں ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانہ خلافت میں انتقال کیا۔
اولاد:۔
حسب ذیل اولاد چھوڑی، عمرو، ہانی ، یوسف، جعدہ۔
فضل و کمال:۔
حضرت ام ہانی رضی اللہ تعالی عنہا سے چھیالیس حدیثیں مروی ہیں، جنکے راوی حسب ذیل ہیں، جعدہ، یحیی، ہارون، ابومرہ، ابوصالح، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ، عبداللہ بن حارث بن نوفل، ابن ابی لیلی، مجاہد، عروہ، عبداللہ بن عیاشی، شعبی، عطاء، کریب، محمد بن عقبہ۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی کبھی مسائل دریافت کرتی تھیں، جن سے انکی فقہ دانی کا پتہ چلتا ہے، ایک مرتبہ اس آیت کی تفسیر پوچھی تھی، وتاتون فی نادیکم النکر،[مسندج6ص341]
اخلاق:۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے انکو جو عقیدت تھی وہ اس سے ظاہر ہے کہ آپ فتح مکہ کے زمانہ میں انکے مکان پر تشریف لائے اور شربت نوش فرمایا، اسکے بعد انکو دیاانہوں نے کہا میں روزہ سے ہوں لیکن آپکا جھوٹا واپس نہیں کرنا چاہتی ہوں ، بعض روایتوں میں میں ہے کہ انہوں نے پی لیا اور پھر خود ہی عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں روزہ سے ہوں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر روزہ رمضان کی قضا کا ہے تو کسی دوسرےدن یہ روزہ رکھ لینا اور اگر محض نفل ہے تو اسکی قضا کرنے نہ کرنے کا تمکو اختیار ہے۔[ایضاً ص341،342،343،344]
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ان سے بہت محبت تھی، ایک مرتبہ فرمایا، ام ہانی! بکری لےلو اور یہ بڑی خیر برکت کی چیز ہے۔[ایضاً]
ایک مرتبہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت فرمایا کہ میں اب بوڑھی ہو گئی ہوں اور چلنے پھرنے میں ضعف معلوم ہوتا ہے۔ اس لیے ایسا عمل بتایا جائے جسکو بیٹھے بیٹھے انجام دے سکوں، آپ نے ایک وظیفہ بتلایا فرمایا کہ سبحان اللہ ایک سو مرتبہ الحمد اللہ ایک سو مرتبہ، اللہ اکبر ایک سو مرتبہ اور لاالہ الااللہ ایک سو مرتبہ کہہ لیا کرو۔[ایضاًص344]

pervaz khan
01-01-2013, 02:11 PM
جزاک اللہ

تانیہ
01-01-2013, 11:58 PM
حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا بنت خطاب
نام و نسب:۔
فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا نام، ام جمیل کنیت، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی ہمشیرہ ہیں۔
نکاح:۔
حضرت سعید رضی اللہ تعالی عنہ بن زید سے نکاح ہوا۔
اسلام:۔
اور انہی کے ساتھ مسلمان ہوئیں۔ یہ اوأل اسلام کا واقعہ ہے۔ انکے کچھ دنوں کے بعد ہی بھائی، یعنی حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ مسلمان ہوئے، اور انہی کے سبب سے ہوئے، اسکا قصہ جیسا کہ خود حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے بیان کیا ہے یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کے مسلمان ہونے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا رہے تھے راہ میں ایک مخزومی صحابی سے ملاقات ہوئی، پوچھا کہ تم نے اپنا آبائی مذہب چھوڑ کر محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کا مذہب اختیار کر لیا؟ بولے ہاں، لیکن پہلے اپنے گھر کی خبر لو، تمھارے بہنوئی اور بہن نے بھی محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کا مذہب قبول کر لیا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سیدھے بہن کے گھر پہنچے، دروازہ بند تھا اور وہ قرآن پڑھ رہی تھیں، انکی آہٹ پا کر چپ ہو گئیں اور قرآن کے اجزاء چھپا دیئے لیکن آواز انکے کان میں پڑ چکی تھی، پوچھا کہ یہ آواز کیا تھی؟ انہوں نے کہا کچھ نہیں ، بولے میں سن چکا ہوں کہ تم دونوں مرتد ہو گئے ہو۔ یہ کہکر بہنوئی سے دست و گریباں ہو گئے، حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا بچانے کو آئیں تو انکی بھی خبر لی، بال گھسیٹے اور اس قدر مارا کہ انکا بدن لہو لہان ہو گیا۔ اسی حالت میں انکی زبان سے نکلا۔ عمر! جو ہو سکے کرو لیکن اب اسلام دل سے نہیں نکل سکتا ان لفاظ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے دل پہ خاص اثر کیا، بہن کی طرف محبت کی نگاہ سے دیکھا، انکے بدن سے خون جاری تھا، یہ دیکھ کر اور بھی رقت ہوئی، فرمایا کہ تم لوگ جو پڑھ رہے تھے مجھکو بھی سناؤ، فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے قرآن کے اجزاء لا کر سامنے رکھ دیئے، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ انکو پڑھتے جاتے تھے اور ان پر رعب چھاتا جا رہا تھا یہاں تک کہ ایک آیت پر پہنچ کر پکار اٹھے۔
اشھد ان لاالہ الا اللہ واشھد ان محمدًا رسول اللہ،[اصابہ ج8ص161واسدالغابہج4ص54]
ہجرت:۔
اپنے شوہر کے ساتھ ہجرت کی۔
وفات:۔
وفات کا سن اور مہینہ معلوم نہیں۔
اولاد:۔
ایک لڑکا چھوڑا، عبدالرحمن نام تھا،

محمداشرف يوسف
01-02-2013, 01:46 AM
آپ نے اسوہ صحابیات کے حوالے سے جو پوسٹ کیے ہیں وہ بے مثال ہے اور
اس کیلے میرے بٲس الفاظ نہیں
میری دعأ ہے کہ اللہ آپ کو مزید توفیق عطا فرماے اور ٲپ کیلیے ذریعہ آخرت بنایے
امین ثم امین

pervaz khan
01-02-2013, 03:11 PM
جزاک اللہ

تانیہ
01-03-2013, 12:01 AM
حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا بنت عمیس

نام و نسب:۔
اسماء نام، قبیلہ خثعم سے تھیں، سلسلہ نسب یہ ہے، اسماء بنت عمیس معد بن حارث بن تیم بن کعب بن مالک بن قحافہ بن عامر بن ربیعہ بن عامر بن معاویہ بن مالک ابن بشیر بن وہب اللہ بن شہران بن عفرس بن حلف بن اقبل(خثعم) ماں کا نام ہند(خولتہ) بنت عوف تھا۔ اور قبیلہ کنانی سے تھیں، اسی بناپر حضرت میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا(ام المومنین) اور اسماء رضی اللہ تعالی عنہا اخیا فی بہنیں تھیں۔
نکاح:۔
حضرت جعفر رضی اللہ تعالی عنہ سے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے بڑے بھائی تھے اور دس برس بڑے تھے نکاح ہوا۔
اسلام:۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خانہ ارقم میں مقیم ہونے سے قبل مسلمان ہوئیں، حضرت جعفر نے بھی اسی زمانہ میں اسلام قبول کیا تھا،[سیرت ابن ہشام ج1ص136، اصابہ ج8ص9بحوالہ ابن سعد]
عام حالات:۔
حبشہ کی ہجرت کی، اور کئی سال تک مقیم رہیں، سن سات ہجری میں جب خیبہ فتح ہوا، تو مدینہ آئیں ، حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا کے گھر گئیں تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ بھی آ گئے، پوچھا یہ کون ہیں، جواب ملا اسماء بولے "بولے ہاں وہ حبش والی وہ سمند والی" حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا ہاں وہی، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا ہمکو تم پر فضیلت ہے، اس لیے کہ ہم مہاجر ہیں، حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا کو یہ فقرہ سنکر غصہ آیا، بولیں،" کبھی نہیں! تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ بھوکوں کو کھلاتے اور جاہلوں کر پڑھاتے تھے لیکن ہماری حالت بالکل جدا نہ تھی، ہم نہایت دور دراز مقام میں صرف خدا اور رسول کی خوشنودی کے لیے پڑے رہے اور بڑی بڑی تکلیفات اٹھائیں" آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکان پر تشریف لائے تو انہوں نے سارا قصہ بیان کیا، ارشاد ہوا،
"انہوں نے ایک ہجرت کی اور تم نے دو ہجرتیں کیں۔ اس لیے تمکو زیادہ فضیلت ہے۔"حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا اور دوسرے مہاجرین کو اس سے اس درجہ مسرت ہوئی کہ دنیا کی تمام فضیلتیں ہیچ معلوم ہوتی تھیں، مہاجرین حبشہ جوق درجوق حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس آتے اور یہ واقعہ دریافت کرتے تھے۔[صحیح بخاری ج2ص607،608]
سن پانچ ہجری غزوہ موتہ میں حضرت جعفر رضی اللہ تعالی عنہ نے شہادت پائی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی(حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی دیکھا کہ حضور آبدیدہ تھے میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ غمگین کیوں ہیں۔ کیا جعفر رضی اللہ تعالی عنہ کے متعلق کوئی اطلاع آئی ہے، حضور نے ارشاد فرمایا کہ ہاں وہ شہید ہو گئے ہیں، بچوں کو نہلا دھلا کر ہمراہ لے گئی تھی، حضور نےبچوں کو اپنے پاس بلایا اور میں چیخ اٹھی)آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل بیت کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا، جعفر(رضی اللہ تعالی عنہ) کے بچوں کے لیے کھانا پکاؤ۔ کیونکہ وہ رنج و غم میں مصروف ہیں۔[مسندج6ص370]
اسکے بعد مسجد میں جا کر غم زدہ بیٹھے، اور اس خبر کا اعلان کیا، اسی حالت میں ایک شخص نے آکر کہا کہ جعفر رضی اللہ تعالی عنہ کی مستورات ماتم کر رہی ہیں اور رو رہی ہیں۔ آپ نے انکو منع کرا بھیجا، وہ گئے اور واپس آ کر کہا کہ میں نے منع کیا لیکن وہ باز نہیں آتیں۔ آپ نے دوبارہ بھیجا ، وہ دوبارہ گئے اور واپس آکر عرض کی کہ ہم لوگوں کی نہیں چلتی، آپ نے ارشاد فرمایا"تو انکے منہ میں خاک بھردو" یہ واقعہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے صحیح بخاری میں منقول ہے، صحیح بخاری میں یہ بھی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے اس شخص سے کہا کہ"خدا کی قسم تم یہ نہ کرو گے(منہ میں خاک ڈالنا) تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف سے نجات نہ ملے گی۔"[صحیح بخاری ج2ص611]
تیسرے[مسندج6ص369] دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا کے گھر تشریف لائے، اور سوگ کی ممانعت کی،[جس عورت کے شوہر کا انتقال ہو جائے اسکو چار ماہ دس دن سوگ کرنا چاہیے، مسئلہ یہی ہے حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا کی اس روایت سے شبہہ میں نہ پڑنا چاہیے، اس لیے کہ یہ روایت تمام صحیح احادیث کے خلاف ہے اور شاذ ہے۔ اور اجماع اسکے مخالف۔ امام طحاوی کے نزدیک یہ روایت منسوخ ہے اور امام بیہقی کے نزدیک منقطع ہے، ملاحظہ ہو فتح الباری ج9ص529 انکے سوا اور بہت سے جوابات ہیں جنکی تفصیل کا موقع یہاں نہیں ہے۔] تقریبا چھ مہینے کے بعد شوال سن آٹھ ہجری میں جو غزوہ حنین کا زمانہ تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ سے انکا نکاح پڑھا دیا۔[اصابہ ج8ص9] جسکے دو برد بعد ذوقعدہ سن دس ہجری میں محمد بن ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ پیدا ہوئے، اس وقت حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا حج کی غرض سے مکہ آئیں تھیں چونکہ محمد ذوالحلیفہ میں پیدا ہوئے تھے۔ اسماء رضی اللہ تعالی عنہا نے دریافت کرایا کہ میں کیا کروں؟ ارشاد ہوا نہا کر احرام باندھیں۔[صحیح مسلم ج1ص385،394]
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الموت میں حضرت ام سلمہ اور اسماء رضی اللہ تعالی عنہما نے ذات الجنب تشخیص کر کے دوا پلانی چاہی، چونکہ گوارہ نہ تھی، آپ نے انکار فرمایا، اسی ممانعت میں غشی طاری ہو گئی، انہوں نے منہ کھول کر پلادی، افاقہ کے بعد آپکو احساس ہوا تو فرمایا، یہ مشورہ اسماء(رضی اللہ تعالی عنہا) نے دیا ہو گا۔ وہ حبشہ سے اپنے ساتھ یہی حکمت لائی ہیں، عباس رضی اللہ تعالی عنہ کے علاوہ سبکو دوا پلائی جائے چنانچہ تمام ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن کو دوا پلائی گئی۔[صحیح بخاری ج2وطبقات ج2قسم2ص31،32 و مسند ج6ص438]
سن تیرہ ہجری میں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے وفات پائی تو وصیت کی کہ اسماء غسل دیں۔[اصابہ ج8ص9بحوالہ ابن سعد] ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے بعد حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے نکاح عقد میں آئیں، محمد بن ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ بھی ساتھ آئے اور حضرت علی کے آغوش تربیت میں پرورش پائئ، ایک دن عجیب لطیفہ ہوا، محمد بن جعفر رضی اللہ تعالی عنہ اور محمد بن ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے باہم فخراً کہا کہ ہم تم سے بہتر ہیں۔ اس لیے کہ ہمارے باپ تمھارے باپ سے بہتر تھے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا سے کہا کہ اس جھگڑے کا فیصلہ کرو۔ بولیں کہ تمام نوجوانوں پر جعفر رضی اللہ تعالی عنہ کو اور تمام بوڑھوں پر ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کو فضیلت حاصل ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ بولے "پھر ہمارے لیے کیا رہا؟"[اصابہ ج8ص9] سن 38 ہجری میں محمد بن ابوبکر مصر میں قتل ہوئے اور گدھے کی کھال میں انکی لاش جلائی گئی حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا کے لیے اس سے تکلیف دہ واقعہ کیا ہو سکتا تھا؟ انکو سخت غصہ ایا، لیکن نہایت صبر سے کام لیا، اور مصلے پر کھڑی ہو گئیں۔[ایضاً]
وفات:۔
سن چالیس ہجری میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے شہادت پائی اور انکے بعد حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا کا بھی انتقال ہو گیا۔[خلاصہ تہذیب ص488]
اولاد:۔
جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے، حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا نے تین نکاح کیئے چنانچہ حضرت جعفر سے محمد، عبداللہ، عون، حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ سے محمد، اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے یحیی پیدا ہوئے۔[استیعاب ج2ص725]
ریاض النضرہ میں لکھا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے دو لڑکے ہوئے تھے۔ یحیی اور عون۔[ریاض النضرہ ج2ص649، مسندج6ص36] لیکن علامہ ابن اثیر نے اسکو غلط کہا ہے اور کہا ہے کہ یہ ابن کلبی کا خیال ہے جو مشہور دروغ گو تھا۔
فضل و کمال:۔
حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا سے ساٹھ حدیثیں مروی ہیں، جنکے راویوں کے نام یہ ہیں، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ، ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ، عبداللہ بن جعفر رضی اللہ تعالی عنہ، ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ، قاسم بن محمد، عبداللہ ب نشداد بن الہاد، عروہ ابن مسیب، ام عون بنت محمد بن جعفر، حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا بنت علی، ابو یزید مدنی،
آنحضرت صلی اللہ سے براہ راست تعلیم حاصل کرتی تھیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مصیبت و تکلیف میں پڑھنے کے لیے انکو ایک دعا بتائی تھی،
ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جعفر رضی اللہ تعالی عنہ کے بچوں کو دبلا دیکھا تو پوچھا کہ یہ اس قدر دبلے کیوں ہیں، اسماء رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا انکو نظر بہت لگتی ہے، تو تم جھاڑ پھونک کرو، حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا کو ایک منتر یاد تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا، فرمایا"ہاں یہی سہی"[صحیح مسلم ج2ص223]
حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا کو خواب کی تعبیر میں بھی دخل تھا، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ اکثر ان سے خوابوں کی تعبیر پوچھتے تھے۔[اصابہ ج8ص9]

تانیہ
01-03-2013, 12:04 AM
حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا بنت عمیس

نام و نسب:۔
اسماء نام، قبیلہ خثعم سے تھیں، سلسلہ نسب یہ ہے، اسماء بنت عمیس معد بن حارث بن تیم بن کعب بن مالک بن قحافہ بن عامر بن ربیعہ بن عامر بن معاویہ بن مالک ابن بشیر بن وہب اللہ بن شہران بن عفرس بن حلف بن اقبل(خثعم) ماں کا نام ہند(خولتہ) بنت عوف تھا۔ اور قبیلہ کنانی سے تھیں، اسی بناپر حضرت میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا(ام المومنین) اور اسماء رضی اللہ تعالی عنہا اخیا فی بہنیں تھیں۔
نکاح:۔
حضرت جعفر رضی اللہ تعالی عنہ سے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے بڑے بھائی تھے اور دس برس بڑے تھے نکاح ہوا۔
اسلام:۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خانہ ارقم میں مقیم ہونے سے قبل مسلمان ہوئیں، حضرت جعفر نے بھی اسی زمانہ میں اسلام قبول کیا تھا،[سیرت ابن ہشام ج1ص136، اصابہ ج8ص9بحوالہ ابن سعد]
عام حالات:۔
حبشہ کی ہجرت کی، اور کئی سال تک مقیم رہیں، سن سات ہجری میں جب خیبہ فتح ہوا، تو مدینہ آئیں ، حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا کے گھر گئیں تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ بھی آ گئے، پوچھا یہ کون ہیں، جواب ملا اسماء بولے "بولے ہاں وہ حبش والی وہ سمند والی" حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا ہاں وہی، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا ہمکو تم پر فضیلت ہے، اس لیے کہ ہم مہاجر ہیں، حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا کو یہ فقرہ سنکر غصہ آیا، بولیں،" کبھی نہیں! تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ بھوکوں کو کھلاتے اور جاہلوں کر پڑھاتے تھے لیکن ہماری حالت بالکل جدا نہ تھی، ہم نہایت دور دراز مقام میں صرف خدا اور رسول کی خوشنودی کے لیے پڑے رہے اور بڑی بڑی تکلیفات اٹھائیں" آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکان پر تشریف لائے تو انہوں نے سارا قصہ بیان کیا، ارشاد ہوا،
"انہوں نے ایک ہجرت کی اور تم نے دو ہجرتیں کیں۔ اس لیے تمکو زیادہ فضیلت ہے۔"حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا اور دوسرے مہاجرین کو اس سے اس درجہ مسرت ہوئی کہ دنیا کی تمام فضیلتیں ہیچ معلوم ہوتی تھیں، مہاجرین حبشہ جوق درجوق حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس آتے اور یہ واقعہ دریافت کرتے تھے۔[صحیح بخاری ج2ص607،608]
سن پانچ ہجری غزوہ موتہ میں حضرت جعفر رضی اللہ تعالی عنہ نے شہادت پائی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی(حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی دیکھا کہ حضور آبدیدہ تھے میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ غمگین کیوں ہیں۔ کیا جعفر رضی اللہ تعالی عنہ کے متعلق کوئی اطلاع آئی ہے، حضور نے ارشاد فرمایا کہ ہاں وہ شہید ہو گئے ہیں، بچوں کو نہلا دھلا کر ہمراہ لے گئی تھی، حضور نےبچوں کو اپنے پاس بلایا اور میں چیخ اٹھی)آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل بیت کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا، جعفر(رضی اللہ تعالی عنہ) کے بچوں کے لیے کھانا پکاؤ۔ کیونکہ وہ رنج و غم میں مصروف ہیں۔[مسندج6ص370]
اسکے بعد مسجد میں جا کر غم زدہ بیٹھے، اور اس خبر کا اعلان کیا، اسی حالت میں ایک شخص نے آکر کہا کہ جعفر رضی اللہ تعالی عنہ کی مستورات ماتم کر رہی ہیں اور رو رہی ہیں۔ آپ نے انکو منع کرا بھیجا، وہ گئے اور واپس آ کر کہا کہ میں نے منع کیا لیکن وہ باز نہیں آتیں۔ آپ نے دوبارہ بھیجا ، وہ دوبارہ گئے اور واپس آکر عرض کی کہ ہم لوگوں کی نہیں چلتی، آپ نے ارشاد فرمایا"تو انکے منہ میں خاک بھردو" یہ واقعہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے صحیح بخاری میں منقول ہے، صحیح بخاری میں یہ بھی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے اس شخص سے کہا کہ"خدا کی قسم تم یہ نہ کرو گے(منہ میں خاک ڈالنا) تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف سے نجات نہ ملے گی۔"[صحیح بخاری ج2ص611]
تیسرے[مسندج6ص369] دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا کے گھر تشریف لائے، اور سوگ کی ممانعت کی،[جس عورت کے شوہر کا انتقال ہو جائے اسکو چار ماہ دس دن سوگ کرنا چاہیے، مسئلہ یہی ہے حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا کی اس روایت سے شبہہ میں نہ پڑنا چاہیے، اس لیے کہ یہ روایت تمام صحیح احادیث کے خلاف ہے اور شاذ ہے۔ اور اجماع اسکے مخالف۔ امام طحاوی کے نزدیک یہ روایت منسوخ ہے اور امام بیہقی کے نزدیک منقطع ہے، ملاحظہ ہو فتح الباری ج9ص529 انکے سوا اور بہت سے جوابات ہیں جنکی تفصیل کا موقع یہاں نہیں ہے۔] تقریبا چھ مہینے کے بعد شوال سن آٹھ ہجری میں جو غزوہ حنین کا زمانہ تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ سے انکا نکاح پڑھا دیا۔[اصابہ ج8ص9] جسکے دو برد بعد ذوقعدہ سن دس ہجری میں محمد بن ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ پیدا ہوئے، اس وقت حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا حج کی غرض سے مکہ آئیں تھیں چونکہ محمد ذوالحلیفہ میں پیدا ہوئے تھے۔ اسماء رضی اللہ تعالی عنہا نے دریافت کرایا کہ میں کیا کروں؟ ارشاد ہوا نہا کر احرام باندھیں۔[صحیح مسلم ج1ص385،394]
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الموت میں حضرت ام سلمہ اور اسماء رضی اللہ تعالی عنہما نے ذات الجنب تشخیص کر کے دوا پلانی چاہی، چونکہ گوارہ نہ تھی، آپ نے انکار فرمایا، اسی ممانعت میں غشی طاری ہو گئی، انہوں نے منہ کھول کر پلادی، افاقہ کے بعد آپکو احساس ہوا تو فرمایا، یہ مشورہ اسماء(رضی اللہ تعالی عنہا) نے دیا ہو گا۔ وہ حبشہ سے اپنے ساتھ یہی حکمت لائی ہیں، عباس رضی اللہ تعالی عنہ کے علاوہ سبکو دوا پلائی جائے چنانچہ تمام ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن کو دوا پلائی گئی۔[صحیح بخاری ج2وطبقات ج2قسم2ص31،32 و مسند ج6ص438]
سن تیرہ ہجری میں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے وفات پائی تو وصیت کی کہ اسماء غسل دیں۔[اصابہ ج8ص9بحوالہ ابن سعد] ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے بعد حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے نکاح عقد میں آئیں، محمد بن ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ بھی ساتھ آئے اور حضرت علی کے آغوش تربیت میں پرورش پائئ، ایک دن عجیب لطیفہ ہوا، محمد بن جعفر رضی اللہ تعالی عنہ اور محمد بن ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے باہم فخراً کہا کہ ہم تم سے بہتر ہیں۔ اس لیے کہ ہمارے باپ تمھارے باپ سے بہتر تھے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا سے کہا کہ اس جھگڑے کا فیصلہ کرو۔ بولیں کہ تمام نوجوانوں پر جعفر رضی اللہ تعالی عنہ کو اور تمام بوڑھوں پر ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کو فضیلت حاصل ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ بولے "پھر ہمارے لیے کیا رہا؟"[اصابہ ج8ص9] سن 38 ہجری میں محمد بن ابوبکر مصر میں قتل ہوئے اور گدھے کی کھال میں انکی لاش جلائی گئی حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا کے لیے اس سے تکلیف دہ واقعہ کیا ہو سکتا تھا؟ انکو سخت غصہ ایا، لیکن نہایت صبر سے کام لیا، اور مصلے پر کھڑی ہو گئیں۔[ایضاً]
وفات:۔
سن چالیس ہجری میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے شہادت پائی اور انکے بعد حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا کا بھی انتقال ہو گیا۔[خلاصہ تہذیب ص488]
اولاد:۔
جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے، حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا نے تین نکاح کیئے چنانچہ حضرت جعفر سے محمد، عبداللہ، عون، حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ سے محمد، اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے یحیی پیدا ہوئے۔[استیعاب ج2ص725]
ریاض النضرہ میں لکھا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے دو لڑکے ہوئے تھے۔ یحیی اور عون۔[ریاض النضرہ ج2ص649، مسندج6ص36] لیکن علامہ ابن اثیر نے اسکو غلط کہا ہے اور کہا ہے کہ یہ ابن کلبی کا خیال ہے جو مشہور دروغ گو تھا۔
فضل و کمال:۔
حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا سے ساٹھ حدیثیں مروی ہیں، جنکے راویوں کے نام یہ ہیں، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ، ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ، عبداللہ بن جعفر رضی اللہ تعالی عنہ، ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ، قاسم بن محمد، عبداللہ ب نشداد بن الہاد، عروہ ابن مسیب، ام عون بنت محمد بن جعفر، حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا بنت علی، ابو یزید مدنی،
آنحضرت صلی اللہ سے براہ راست تعلیم حاصل کرتی تھیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مصیبت و تکلیف میں پڑھنے کے لیے انکو ایک دعا بتائی تھی،
ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جعفر رضی اللہ تعالی عنہ کے بچوں کو دبلا دیکھا تو پوچھا کہ یہ اس قدر دبلے کیوں ہیں، اسماء رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا انکو نظر بہت لگتی ہے، تو تم جھاڑ پھونک کرو، حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا کو ایک منتر یاد تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا، فرمایا"ہاں یہی سہی"[صحیح مسلم ج2ص223]
حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا کو خواب کی تعبیر میں بھی دخل تھا، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ اکثر ان سے خوابوں کی تعبیر پوچھتے تھے۔[اصابہ ج8ص9]

عبادت
01-03-2013, 02:57 AM
جزاک اللہ خیر

pervaz khan
01-03-2013, 02:36 PM
جزاک اللہ

تانیہ
01-03-2013, 11:10 PM
حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا (بنت ابی بکر)

نام و نسب:۔
اسماء نام، ذات النطاقین لقب، حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کی صاحبزادی ہیں ، ماں کا نام قتلہ بنر عبدالعزی تھا، ہجرت سے 27 سال قبل مکہ میں پیدا ہوئیں۔
نکاح:۔
حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ بن عوام سے نکاح ہوا۔
اسلام:۔
اپنے شوہر کی طرح انہوں نے بھی قبول اسلام میں سبقت کی، ابن اسحاق کے قول کے مطابق انکا ایمان لانے والوں میں اٹھارہواں نمبر تھا۔
عام حالات:۔
جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ رفیق صحبت تھے، آپ دوپہر کو انکے گھر تشریف لائے اور ہجرت کا خیال ظاہر فرمایا۔ حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا نے سفر کا سامان کیا، دو تین دن کا کھانا ناشتہ دان میں رکھا، نطاق جسکو عورتیں کمر میں لپیٹتی ہیں پھاڑ کر اس سے ناشتہ دان کا منہ باندھا، یہ وہ شرف تھا جسکی بنا پر آج تک انکو ذات النطاقین کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے[صحیح بخاری ج1ص553،555]
حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ ہجرت کے وقت کل روپیہ ساتھ لے گئے تھے۔ ابوقحافہ کو انکے والد تھے، معلوم ہوا، بولے کہ انہوں نے جانی و مالی دونوں قسم کی تکلیف دی، حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا، وہ کثیر دولت چھوڑ گئے ہیں، یہ کہکر اٹھیں اور جس جگہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کا مال رہتا تھا بہت سے پتھر رکھ دیئے اور ان پر کپڑا ڈال دیا، اور ابو قحافہ کو لے گئیں اور کہا ٹٹول لیجیئے، دیکھیئے یہ رکھا ہے۔ ابو قحافہ نابینا تھے اس لیے مان گئے اور کہا کھانے کے لیے بہت ہے۔ حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا کا بیان ہے کہ میں نے صرف ابوقحافہ کی تسکین کے لیے ایسا کیا تھا۔ ورنہ وہاں ایک حبہ بھی نہ تھا۔[مسند ابن حنبل ج6ص350]
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ پہنچ کر مستورات کو بلوایا تو حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا بھی آئیں۔[اصابہ ج4ص229، طبقات ج1ق1ص161 و تہذیب ج5ص214]قبا میں قیام کیا، یہاں عبداللہ بن زبیر پیدا ہوئے، انکو لیکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ آپ نے عبداللہ کو گود میں لیا، گھٹی دی اور انکے لیے دعا فرمائی۔[صحیح بخاری ج1ص555] عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ جوان ہوئے تو حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا انکے پاس رہنے لگیں کیونکہ حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ نے انکو طلاق دے دی تھی۔[فتح الباری ج6ص163 و اسد الغابہ ج5ص392]
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ نے گھٹی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب دہن پیا تھا اس بنا پر جب سن شعور کو پہنچے تو فضائل اخلاق کے مجسم پیکر تھے، ادھر سلطنت بنو امیہ کا فرمانروا(یزید) سرتاپا فسق و فجور تھا۔ حضرت عبداللہ نے اسکی بیعت سے انکار کیا، مکہ میں پناہ گزیں ہوئے اور وہیں سے اپنی خلافت کی صدا بلند کی، چونکہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ کی عظمت و جلالت کا ہر شخص معترف تھا اس لیے تمام دنیائے اسلام نے اس صدا پر لبیک کہی۔ اور ملک کا بڑا حصہ انکے علم کے نیچے آ گیا، لیکن جب عبدالملک بن مروان تخت نشین ہوا، تو اس نے اپنی حکمت عملی سے بعض صوبوں پر قبضہ کر لیا۔ اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کے مقابلہ کی تیاریاں کیں، شامی لشکر نے خانہ کعبہ کا محاصرہ کیا تو ابن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس آئے، وہ بیمار تھیں پوچھا، کیا حال ہے؟ بولیں "بیمار ہوں" کہا"آدمی کو موت کے بعد آرام ملتا ہے۔" حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا "شائد تمکو میرے مرنے کی تمنا ہے، لیکن میں ابھی مرنا پسند نہیں کرتی، میری آرزو یہ ہے کہ تم لڑکر قتل ہو، اور میں صبر کروں، یا تم کامیاب ہو اور میری آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔" ابن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ ہنس کر چلے گئے، شہادت کا وقت آیا تو دوبارہ ماں کی خدمت میں آئے، وہ مسجد میں بیٹھی تھیں، صلح کے متعلق مشورہ کیا، بولیں"بیٹا! قتل کے خوف سے ذلت آمیز صلح بہتر نہیں۔ کیونکہ عزت کے ساتھ تلوار مارنا ذلت کے ساتھ کوڑا مارنے سے بہتر ہے،" حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ نے اس پر عمل کیا اور لڑکر مردانہ وار شہادت حاصل کی، حجاج نے انکی لاش کو سولی پر لٹکا دیا، تین دن گزرنے پر حضرت اسماء کنیز کو ساتھ لیکر اپنے بیٹے کی لاش پر آئیں، لاش الٹی لٹکی تھی دل تھام کر اس منظر کو دیکھا اور نہایت استقلال سے کہا،"کیا اس سوا کے گھوڑے سے اترنے کا ابھی وقت نہیں آیا،"[اسد الغابہ ج3ص163 و استیعاب ج1ص366]حجاج کو چھیڑ منظور تھی، آدمی بھیجا کہ انکو جا کر لائے، حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا نے انکار کیا، اس نے پھر آدمی بھیجا کہ "ابھی خیریت ہے ورنہ آئندہ جو آدمی بھیجا جائے گا وہ بال پکڑ کر گھسیٹ لائے گا۔"حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا صرف خدا کی شان جباری کی معترف تھیں، جوابدیا میں نہیں جا سکتی حجاج نے مجبورا خود جوتا پہنا اور حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا کی خدمت میں آیا اور حسب ذیل گفتگو ہوئی، حجاج نے کہا ،" کہیئے میں نے دشمن خدا(ابن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ) کے ساتھ کیا سلوک کیا" حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا بولیں"تو نے انکی دنیا بگاڑ دی اور انہوں نے تیری عاقبت خراب کی! میں نے سنا ہے کہ تو انکو طنزاً ذات النطاقین کا بیٹا کہتا ہے، خدا کی قسم ذات النطاقین میں ہوں۔ میں نے نطاق سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کا کھانا باندھا تا اور دوسرے کو کمر میں لپیٹتی تھی لیکن یہ یاد رہے کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ثقیف میں ایک کذاب اور ایک ظالم پیدا ہو گا، چنانچہ کذاب کو دیکھ چکی ہوں اور ظالم تو ہے۔" حجاج نے یہ حدیث سنی تو چپکا اٹھ کھڑا ہوا۔[صحیح مسلم ج2ص375]
چند دنوں کے بعد عبدالملک کا حکم پہنچا تو حجاج نے لاش اترا کر یہود کے قبرستان میں پھینکوا دی، حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا نے لاش اٹھوا کر گھر منگوایا اور غسل دلوا کر جنازہ کی نماز پڑھی حضرت زبن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کا جوڑ جوڑ الگ تھا، نہلانے کے لیے کوئی عضو اٹھایا جاتا تو ہاتھ کے ساتھ چلا آتا لیکن حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا نے یہ کیفیت دیکھ کر صبر کیا کہ خدا کی رحمت انہی پارہ پارہ ٹکڑوں پر نازل ہوتی ہے۔
وفات:۔
حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا دعا کرتی تھیں کہ جب تک میں عبداللہ کی لاش نہ دیکھ لوں مجھے موت نہ آئے۔[استیعاب ج1ص366]چنانچہ ایک ہفتہ بھی نہ گزرا تھا کہ حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا نے داعی اجل کو لبیک کہا، یہ جمادی الاولی سن 73 ہجری کا واقعہ ہے اس وقت انکی عمر سو سال کی تھی۔
اولاد:۔
حسب ذیل اولاد ہوئی، عبداللہ، منذر، عروہ، مہاجر، خدیجة الکبری، ام الحسن، عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ،[طبری ج3ص2461 اور الریاض النضرہ ص 279،280]
حلیہ:۔
حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا باایں ہمہ کہ سو برس کی تھیں لیکن ایک دانت بھی نہیں گرا تھا اور ہوش و حواس بالکل درست تھے۔[اصابہ ج8ص8] دراز قد اور لحیم شحیم تھیں، اخیر عمر میں بینائی جاتی رہی تھی،[مسندج6ص348واسدالغابہ ج5ص394]
فضل و کمال:۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا نے چھپن احادیث روایت کی ہیں جو صحیحین اور سنن میں موجود ہیں، راویوں میں حسب ذیل اصحاب ہیں،
عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ، عروہ، (پسران) عباد بن عبداللہ، عبداللہ بن عروہ(نبیرگان) فاطمہ بنت المنذر، ابن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ، عبادہ بن حمزہ بن عبداللہ بن زبیر، عبداللہ بن کیسان(غلام) ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ، صفیہ بنت شیبہ، ابن ابی ملیکہ، وہب بن کیسان، ابوبکر و عامر(پسران ابن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ) مطلب بن حنطب، محمد بن منکدر، مسلم معمری، ابونوفل ابن ابو عقرب،
اخلاق:۔
حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا بالطبع نیکی کی طرف مائل تھیں، ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کسوف کی نماز پڑھا رہے تھے، نماز کو بہت طول دیا تو حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا نے اِدھر اُدھر دیکھنا شروع کیا انکے پاس دو عورتیں کھڑی تھیں۔ جن میں ایک فربہ اور دوسری لاغر تھی یہ دیکھ کر انہوں نے اپنے دل کو تسلی دی کہ مجھے ان سے زیادہ دیر تک کھڑا رہنا چاہیے،[مسندج6ص349] لیکن چونکہ نماز کئی گھنٹے تک ہوئی تھی، حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا کو غش آ گیا، اور سر پر پانی چھڑکنے کی نوبت آئی۔[صحیح بخاری ج1ص146] ابن ابی ملیکہ کا بیان ہے کہ انکے سر میں درد ہوتا تو سر پکڑ کر کہتیں(یہ میرا گناہ ہے اور جو گناہ خدا معاف کرتا رہتا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ ہیں۔)
حق گوئی انکا خاص شعار تھا اسکی متعدد مثالیں اوپر گزر چکی ہیں، حجاج بن یوسف جیسے ظالم اور جبار کے سامنے وہ جس صاف گوئی سے کام لیتی تھیں، وہ بجائے خود اپنی آپ ہی نظیر ہے۔ ایکدن وہ منبر پر بیٹھا ہوا تھا، حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا اپنی کنیز کے ساتھ آئیں اور دریافت کیا کہ"امیر کہاں ہے" معلوم ہوا تو حجاج کے قریب گئیں، اس نے دیکھتے ہی کہا تمھارے بیٹے نے خدا کے گھر میں الحاد پھیلایا تھا، اس لیے خدا نے اسکو بڑا دردناک عذاب دیا۔ حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا نے برجستہ جواب دیا تو جھوٹا ہے، وہ ملحد نہ تھا بلکہ صائم، پارسا اور شب بیدار تھا،[مسدج6ص351]
نہایت صابر تھیں، حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت ایک قیامت تھی جو انکے لیے قیامت کبری بن گئی تھی لیکن اس میں انہوں نے جس عزم، جس استقلال ، جس صبر اور جس تحمل سے کام لیا تھا اسکی تاریخ میں بہت کم نظیریں مل سکتی ہیں۔
حددرجہ خوددار تھیں، حجاج بن یوسف جیسے امیر کی نخوت بھی انکی خودداری کی چٹان سے ٹکرا کر چور چور ہو جاتی تھی۔
باینہمہ نہایت متواضع اور خاکسار تھیں، محنت و مشقت میں انکو بالکل عار نہ تھا، چنانچہ جب انکا نکاح ہوا، تو حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس کچھ نہ تھا، صرف ایک اونٹ اور ایک گھوڑا تھا۔ وہ گھؤرے کو دانہ دیتیں، پانی بھرتیں اور ڈول سیتی تھیں، روٹی پکانی نہیں آتی تھی، اس لیے آٹا گوندھ کر رکھتی اور انصار کی بعض عورتیں پکا دیتی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کو جو زمین عنایت فرمائی تھی وہاں جا کر وہ چھوہاروں کی گٹھلیاں چنتی اور تین فرلانگ سے سرپر لاد کر لاتی تھیں ایکدن اسی حالت میں آ رہی تھیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہو گئی آپ نے اپنے اونٹ کو بٹھایا کہ سوار ہو جائیں، لیکن انکو شرم معلوم ہوئی اور اونٹ پر نہ بیٹھیں گھر آکر حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ سے سارا قصہ بیان کیا، سبحان اللہ سر پر بوجھ لادنے سے شرم نہیں آئی؟ کچھ زمانہ کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے انکو ایک غلام دیا جو گھوڑے کی تربیت اور پرداخت کرتا تھا، اسی وقت حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا کی مصیبت کم ہوئی، کہتی تھیں"فکأ نما اعتقنی"یعنی گویا ابوبکر (رضی اللہ تعالی عنہ)نے مجھکو آزاد کر دیا،[صحیح بخاری ج2 ص 756]
غربت کی وجہ سے جو کچھ خرچ کرتیں ناپ تول کر خرچ کرتی تھیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا کہ پھر خدا بھی ناپ کر دیگا۔ اس وقت سے یہ عادت چھوڑ دی، اسکا نتیجہ یہ ہوا کہ آمدنی وافر ہو گئی اور پھر کبھی تنگدست نہیں ہوئیں۔[مسند ج6ص356]
حد درجہ فیاض تھیں، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے تھے کہ میں نے ان سے بڑھکر کسی کو فیاض نہیں دیکھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے اپنی وفات کے وقت ترکہ میں ایک جنگل چھوڑا تھا جو انکے حصہ میں آیا تھا، لیکن انہوں نے اسکو لاکھ درہم پر فروخت کر کے کل رقم عزیزوں پر تقسیم کر دی[صحیح بخاری ہبہ الواحد للجماعت] بیمار پڑتیں تو اپنے تمام غلام آزاد کر دیتی تھیں،[خلاصۂ تہذیب ص488] حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کا مزاج تیز تھا اس لیے انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں بلا اجازت انکے مال سے فقراء کو خیرات دے سکتی ہوں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی۔[مسند ج6ص353]
ایک مرتبہ انکی ماں مدینہ میں آئیں اور ان سے روپیہ مانگا، حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ وہ مشرک ہیں کیا ایسی حالت میں انکی مدد کر سکتی ہوں! ارشاد ہوا"ہاں(اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی کرو)"[صحیح بخاری ج2ص884]
حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا نے کئی حج کیئے، پہلا حج آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا تھا۔[صحیح مسلم ج1 ص479] اس میں جو کچھ دیکھا تھا،[صحیح بخاری ج1 ص237] انکو بالکل یاد تھا۔ چنانچہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جب حج کے لیۓ آئیں اور مزدلفہ میں ٹھہریں تو رات کو نماز پڑھی، پھر اپنے غلام سے پوچھا"چاند چھپ گیا" اس نے کہا نہیں، جب چاند ڈوب گیا بولیں کہ اب رمی کے لیے چلو، رمی کے بعد واپس آئیں اور صبح کی نماز پڑھی، اس نے کہا آپ نے بڑی عجلت کی، فرمایا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پردی نشینوں کو اس کی اجازت دی ہے،[صحیح بخاری ج1ص237] جب کبھی حجون سے گزرتیں کہتیں کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہاں ٹھہرے تھے، اس وقت ہمارے پاس بہت کم سامان تھا، ہم نے اور عائشہ و زبیر رضی اللہ تعالی عنہما نے عمرہ کیا تھا اور طواف کر کے حلال ہوئے تھے،[ایضاً]
نہایت بہادر تھیں، اخلاقی جرأت کے چند واقعات اوپر گزر چکے ہیں، سعید بن عاص کے زمانہ حکومت میں جب اسلام میں فتنہ پیدا ہوا، اور بدامنی شروع ہو گئی تو انہوں نے ایک خنجر رکھا تھا، لوگوں نے پوچھا اسکا کیا فائدہ، تو بولیں اگر کوئی چور آئے گا تو اس سے اسکا پیٹ چاک کرونگی۔[ذیل طبری ج13ص2461]
حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا کے تقدس کا عام چرچا تھا۔ لوگ ان س ےدعا کراتے تھے، جب کوئی عورت بخار میں مبتلا ہوتی او ر دعا کے لیے آتی تو اسکے سینہ پر پانی چھڑکتیں اور کہتیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسکو پانی سے ٹھنڈا کرو۔[صحیح بخاری ج2ص852] (حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ بخار آتش جہنم کی گرمی ہے، اسکو پانی سے ٹھنڈا کرو۔)[ایضاً باب الحمی میں فتح جہنم] گھر کا کوئی آدمی بیمار ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جبہ (جسکو عائشہ نے وفات کے وقت انکے سپرد کیا تھا) دھوتی اور اسکا پانی پلاتی تھیں، اس سے بیمار کو شفا ہو جاتی تھی۔[مسندج6ص348]

pervaz khan
01-04-2013, 05:31 PM
جزاک اللہ

تانیہ
01-04-2013, 09:03 PM
حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا بنت قیس

نام و نسب:۔
فاطمہ نام، سلسلہ نسب یہ ہے، فاطمہ بنت قیس بن خالد اکبر بن وہب بن ثعلبہ بن وائلہ بن عمرو بن شیبان بن محارب بن فہر، والدہ کا نام امیمہ بنت ربیعہ تھا اور بنی کنانی سے تھیں۔
نکاح:۔
ابو عمرو بن حفص بن مغیرہ سے نکاح ہوا۔
اسلام:۔
اسلام کے ابتدائی دور میں ایمان لائیں۔
ہجرت:۔
اور ہجرت کی۔
عام حالات:۔
سن دس ہجری میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ ایک لشکر لیکر یمن گئے تھے ابو عمرو بھی انکے ساتھ تھے، چلتے وقت عیاش بن ابی ربیعہ کی معرفت اپنی بیوی کو آخری طلاق(دو طلاق پہلے دے چکے تھے۔) اور پانچ پانچ صاع جو اور خرمے بھیجے، حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کھانے اور مکان کا مطالبہ کیا تو عیاش نے کہا کہ جو کچھ دیا گیا ہے محض احسان ہے ورنہ ہمارے ذمہ یہ بھی ضروری نہیں اس جواب پر حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کو غصہ آیا اور اپنے کپڑے لیکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئیں، خالد بن ولید وغیرہ بھی پہنچے، آپ نے دریافت فرمایا کہ انہوں نے تمکو کتنی مرتبہ طلاق دی، بولیں 3 مرتبہ، فرمایا اب تمکو نفقہ نہیں مل سکتا،[عدت کے اندر عورت کا کھانا کپڑا اسی مرد کے ذمہ ہے جس نے طلاق دی ہے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا بنت قیس کی اس روایت کے متعلق بڑی بحث ہے جسکے ذکر کا یہاں موقع نہیں ہے]تم ام شریک کے ہاں عدت کے دن پورے کرو لیکن چونکہ ام شریک کے اعزہ و اقارب انکے مکان میں آتے جاتے تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ"ابن ام مکتوم نابینا اور تمھارے ابن عم ہیں اس لیے بہتر ہے کہ تم انکے ہاں رہو۔" عدت کا زمانہ پورا ہوا تو ہر طرف سے پیغام آئے، امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ، ابوجہم اور اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ نے بھی پیغام دیا، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دو شخصوں کا پیغام اس لیے مسترد کر دیا کہ اول الذکر مفلس اور دوسرے تند مزاج تھے پھر فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے فرمایا کہ تم اصامہ رضی اللہ تعالی عنہ سے نکاح کر لو، چونکہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کو خیال تھا کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انکو اپنی زوجیت کا شرف عطا فرمائیں گے، اس لیے انکار کر دیا، ارشاد ہوا"خدا اور سول کی اطاعت کرو اس میں تمھارے لیے بھلائی ہے۔" یہ سنکر فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا مجبور ہوئیں، اور حضرت اسامہ رضی اللہ تعالی عنہ سے نکاح کر لیا کہتی ہیں کہ پھر میں بھی قابل رشک بن گئی۔[صحیح مسلم ج1ص583،584،585 و مسندج6ص4411،4412،4413]
تئیس ہجری میں جب حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے انتقال کیا تو مجلس شوری کا اجلاس فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا ہی کے مکان میں ہوتا تھا۔[اسد الغابہ ج5ص526]
سن چون ہجری میں حضرت اسامہ رضی اللہ تعالی عنہ نے انتقال فرمایا، فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کو سخت صدمہ ہوا، دوسری شادی نہیں کی اور اپنے بھائی ضحاک کے ساتھ رہیں جب یزید نے اپنے عہد حکومت میں انکو عراق کا گورنر مقرر کیا، تو فاطمہ بھی انکے ساتھ کوفہ چلی آئین اور یہیں سکونت اختیار کی۔
وفات:۔
وفات کا سال معلوم نہیں، حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانہ خلافت تک زندہ تھیں۔[صحیح مسلم ج1ص586]
حلیہ:۔
خوبصورت تھین،[اصابہ ج8ص164]
فضل و کمال:۔
اسد الغابہ میں ہے۔
"یعنی وہ نہایت عقیل اور صاحب کمال تھیں۔"(ج5ص526)
حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالی عنہ کی صاحبزادی، عبداللہ بن عمرو(بن عثمان) کو منسوب تھیں انہوں نے انکو تین طلاقیں دیں، فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا انکی خالہ ہوتی تھیں کہلا بھیجا کہ میرے گھر چلی آؤ۔ مروان نے قبیضہ کو بھیجا کہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے سبب دریافت کرو، قبیضہ نے آکر کہا کہ آپ ایک عورت کو ایام عدت گزرنے سے قبل کیوں گھر سے نکالتی ہیں۔ بولیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھکو یہی حکم دیا تھا، اسکے بعد اپنا واقعہ بیان کیا اور اسکی قرآن مجید سے تائید کی، قرآن مجید میں ہے،
"جب ت معورتوں کو طلاق دو تو انکو عدت کے وقت تک طلاق دو اور عدت کو شمار کرو اور خدا سے ڈرو اور انکو انکے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ نکلیں مگر یہ کہ کھلی ہوئی بےحیائی کی مرتکب ہوں۔"(طلاق۔1)
یہ مراجعہ کی صورت تھی، اسکے بعد ہے،
"پس جب میعاد کو پہنچ جائیں تو انکو اچھی طرح روکے رکھو یا اچھی طرح جدا کر دو۔"(طلاق۔10)
اس بنا پر تین مرتبہ کے بعد کسی صورت کا احتمال نہیں ہے۔ اسکے بعد فرمایا کہ چونکہ تمھارے نزدیک عورت جب تک حاملہ نہ ہو اسکا نفقہ نہ دینا چاہیے، اس لیے کہ اسکو روک رکھنا بالکل بےکار ہے،(جب مروان کو فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کی اس گفتگو کی اطلاع ہوئی، تو کہا یہ ایک عورت کی بات ہے اور ان متعلقہ خاتون کا حکم دیا کہ اپنے گھر واپس آئیں، چنانچہ وہ واپس آئیں اور وہیں عدت گزاری۔)[صحیح مسلم ج1ص584ومسندج6ص415،416]
فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے چند حدیثیں روایت کی ہیں، جو متعدد اشخاص کے ذریعہ سے مروی ہیں، ان میں سے چند نام یہ ہیں۔
قاسم بن محمد، ابوبکر بن ابوالجہم، ابو سلمہ، سعید بن مسیب، عروہ، عبداللہ بن عبداللہ اسود، سلیمان بن یسار، عبداللہ البہی، محمد بن عبدالرحمان بن ثوبان، شعبی، عبدالرحمان ابن عاصم، تمیم،
اخلاق:۔
عادات و اخلاق نہایت شریفانہ تھے، شعبی جوان کے شاگرد تھے، ملنے کو آئے تو انہوں نے چھوہارے کھلائے اور ستو پلایا۔

admin
01-04-2013, 09:40 PM
جزاک اللہ خیرا۔۔۔۔۔۔۔۔۔:th_smile:

pervaz khan
01-05-2013, 02:54 PM
جزاک اللہ

تانیہ
01-06-2013, 01:24 PM
حضرت شفاء رضی اللہ تعالی عنہا بنت عبداللہ

نام و نسب:۔
شفاء نام، قبیلہ قریش کے خاندان عدی سے ہیں، سلسلہ نسب یہ ہے شفاء بنت عبداللہ بن عبد شمس بن خلف بن سداد بن عبداللہ بن قرط بن زراح بن عدی ابن کعب بن لوئی، والدہ کا نام فاطمہ بنت وہب بن عمرو بن عائذ بن عمر بن مخزوم تھا،
نکاح:۔
ابوحشمہ بن حذیفہ عدوی سے نکاح ہوا۔
اسلام:۔
ہجرت کے قبل مسلمان ہوئیں۔[اصابہ ج8ص20]
عام حالات:۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے انکو بہت محبت تھی، آپ کبھی انکے گھر تشریف لے جاتے تو آرام فرماتے تھے۔ انہوں نے آپکے لیے علہدہ ایک بچھونا اور ایک تہمد رکھ چھوڑی تھی، چونکہ ان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ جذب ہوتا تھا، یہ بڑی متبرک چیزیں تھیں۔ حضرت شفاء رضی اللہ تعالی عنہا کے بعد انکی اولاد نے ان تبرکات کو نہایت احتیاط سے محفوظ رکھا، لیکن مروان نے ان سے یہ سب چیزیں لے لیں۔[اسد الغابہ ج5ص486 واصابہ ج8ص121]
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انکو ایک مکان بھی عنایت فرمایا تھا اور وہ اپنے بیٹے کے ساتھ اسی میں سکونت پذیر تھیں۔[اصابہ ص121 بحوالہ ابن سعد]
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں انکے ساتھ خاص رعایتیں کیں چنانچہ ابن سعد میں ہے:۔
"حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ انکو رائے میں مقدم رکھتے اور انکی فضیلت کی رعایت کرتے اور انکو بازار کا اہتمام کرتے تھے۔"[اصابہ ص121]
وفات:۔
وفات کا سن معلوم نہیں۔
اولاد:۔
اولاد میں دو کا پتہ چلتا ہے، سلیمان اور ایک لڑکی جو شرجیل بن حسنہ کو منسوب تھی۔
فضل و کمال:۔
جاہلیت میں دو چیزیں مشہور تھیں، جھاڑ پھونک اور لکھنا، جھاڑ پھونک کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے استفتاء کیا تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی تھی اور فرمایا تھا کہ حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا کو بھی سکھا دو لکھنے کے متعلق بھی یہی ارشاد ہوا تھا۔[مسندج6ص373] چیونٹی کے کاٹے میں یہ منتر پڑھتی تھیں۔
بسم اللہ صلو صلب جبر تعوذان اقواھھا فلاتضراحدااللھم اکشف الباس سب الناس۔[اسد الغابہ ج5ص487]
حضرت شفاء رضی اللہ تعالی عنہا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے چند حدیثیں روایت کی ہیں جنکی تعداد صاحب خلاصہ کے نزدیک بارہ ہے، راویوں میں انکے بیٹے اور دو پوتے ابوبکر و عثمان اور ابوسلمہ، حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا اور ابو اسحاق شامل ہیں،
اخلاق:۔
اسد الغابہ میں ہے۔[اسد الغابہ ج5ص486]
"یعنی وہ بڑی عاقلہ اور فاضلہ تھیں،"
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک مرتبہ انکو بلاکر ایک چادر عنایت کی اور عاتکہ بنت اسید کو ان سے بہتر چادر دی، تو وہ بولیں تمھارے ہاتھ غبار آلود ہوں، انکو مجھ سے بہتر چادر دی، حالانکہ میں ان سے پہلے مسلمان ہوئی، تمھاری بنت عم بھی ہوں، اسکے علاوہ تم نے مجھکو طلب کیا تھا اور یہ خود چلی آئیں، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے جوابدیا کہ میں تمہیں عمدہ چادر دیتا لیکن جب یہ آگئیں تو مجھے انکی رعایت کرنی پڑی کیونکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نسباً قریب تر ہیں۔[اسد الغابہ ج5ص497حالات عاتکہ رضی اللہ تعالی عنہا]

تانیہ
01-06-2013, 11:07 PM
حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا بنت ابی معاویہ
نام و نسب:۔
زینب نام، رائطہ عرف، قبیلہ ثقیف سے تھیں، سلسلہ نسب یہ ہے زینب بنت عبداللہ ابی معاویہ بن معاویہ بن عتاب بن اسعد بن غاضرہ بن حطیط بن جشم ابن ثقیف۔
نکاح:۔
حضرت عبداللہ بن مسعود سے نکاح ہوا، چونکہ انکا کوئی ذریعہ معاش نہ تھا اور زینب رضی اللہ تعالی عنہا دستکار تھیں، اس لیے اپنے شوہر اور اولاد کی خود کفیل ہوئیں، ایک دن کہنے لگیں کہ تم نے اور تمھاری اولاد نے مجھکو صدقہ و خیرات سے روک رکھا ہے، جو کچھ کماتی ہوں تمکو کھلا دیتی ہوں، بھلا اس میں میرا کیا فائدہ؟ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے جواب دیا، تم اپنے فائدہ کی صورت نکال کو، مجھکو تمھارا نقصان منظور نہیں، حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچیں اور عرض کی کہ میں دستکار ہوں، اور جو کچھ اس سے پیدا کرتی ہوں شوہر اور بال بچوں پر صرف ہو جاتا ہے کیونکہ میرے شوہر کا کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے۔ اس بنا پر محتاجوں کو صدقہ نہیں دے سکتی، اس حالت میں کیا مجھکو ثواب ملتا ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں تمکو انکی خبر گیری کرنا چاہیے۔
عام حالات:۔
حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کے عام حالات بہت کم معلوم ہیں سال وفات کا بھی یہی حال ہے۔
اولاد:۔
ابو عبیدہ جو اپنے زمانہ کے مشہور محدث گزرے ہیں حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کے نور نظر تھے۔
فضل و کمال:۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ اور ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے چند حدیثیں روایتیں کیں راویوں میں حسب ذیل اصحاب ہیں، ابو عبیدہ، عمرو بن حارث بن ابی ضرار، بسربن سعید عبید بن سباق۔ کلثوم، محمد بن عمرو بن حارث،
اخلاق:۔
بارگاہ نبوت میں انکو مخصوص درجہ حاصل تھا، اکثر آپکے مکان میں آتی جاتی تھیں۔ ایکدن وہ آپکے سر کی جویں دیکھ رہی تھی، مہاجرین کی اور عورتیں بھی بیٹھی ہوئی تھیں، ایک مسئلہ پیش ہوا تو انہوں نے اپنا کام چھوڑ کر بولنا شروع کیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم آنکھ سے نہیں بولتی ہو، کام بھی کرو اور گفتگو بھی،[مسندج6ص363]

pervaz khan
01-07-2013, 02:17 PM
جزاک اللہ

محمداشرف يوسف
01-07-2013, 02:47 PM
اُسوہ صحابیات ( رضی اللہ تعالی عنہن)
جزاک اللہ

تانیہ
01-07-2013, 09:08 PM
حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہ بنت یزید

نام و نسب:۔
اسماء نام، ام سلمہ کنیت، سلسلہ نسب یہ ہے، اسماء بنت یزید بن السکن بن رافع بن امراء القیس بن زید بن عبدالاشہل بن حارث بن خزرج بن عمرو بن مالک بن اوس۔
اسلام:۔
ہجرت کے بعد مسلمان ہوئیں اور چند عورتوں کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیعت کے لیے آئیں، آپ صحابہ کے مجمع میں تشریف فرما تھے، انہوں نے عرض کی کہ مسلمان عورتوں کی طرف سے ایک پیغام لیکر آئی ہوں، خدا نے آپکو مردوعورت سب کی ہدایت کے لیے بھیجا ہے، ہم نے آپکی پیروی کی ہے اور آپ پر ایمان لائے ہیں۔ لیکن ہماری حالت مردوں سے بالکل جداگانہ ہے ہم پردہ نشین ہیں، اس لیے جمعہ اور جماعت میں شریک نہیں ہو سکتے۔
اور مرد جمعہ و جماعت میں شریک ہوتے ہیں، مریضوں کی عیادت کرتے ہیں ، نماز جنازہ پڑھتے ہیں ، حج کو جاتے ہیں اور سب سے بڑھکر یہ کہ جہاد کرتے ہیں لیکن ان تمام صورتوں میں ہم گھر میں بیٹھ کر انکی اولاد کو پالتے ہیں، گھروں کی حفاظت کرتے ہیں ، کپڑوں کے لیے چرخہ کاتتے ہیں، تو کیا اس صورت میں ہمکو بھی ثواب ملے گا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو صحابہ سے فرمایا کہ تم نے کسی عورت سے ایسی گفتگو بھی سنی ہے؟ لوگوں نے کہا نہیں، آپ نے اسماء رضی اللہ تعالی عنہا کو جوابدیا کہ عورت کے لیے شوہر کی رضا جوئی نہایت ضروری چیز ہے، اگر وہ فرائض زوجیت ادا کرتی اور شوہر کی مرضی پر چلتی ہے تو مرد کو جس قدر ثواب ملتا ہے، عورت کو بھی اسی قدر ثواب ملتا ہے،[اسد الغابہ ج5ص398 واستیعاب ج2ص726]
جامع ترمذی، ابن سعد اور مسند ابن حنبل میں اس بیعت کا کسی قدر تذکرہ آیا ہے مسند میں ہے کہ اس بیعت میں اسماء رضی اللہ تعالی عنہا کی خالہ بھی شریک تھیں، جو سونے کے کنگن اور نگوٹھیاں پہنے تھیں، آپ نے فرمایا انکی زکوة دیتی ہو؟ بولیں نہیں، فرمایا تو کیا تمکو یہ پسند ہے کہ خدا آگ کے کنگن اور انگوٹھیاں پہنائے، حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا خالہ انکو اتار دو، چنانچہ فورا تمام چیزیں اتار کر پھینک دیں، اسماء رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم زیور نہ پہنیں گے تو شوہر بےوقعت سمجھے گا۔ ارشاد ہوا"تو پھر چاندی کے زیور بنواؤ اور ان پر زعفران مل لو کہ سونے کی چمک پیدا ہو جائے۔" غرض ان باتوں کے بعد جب بیعت کا وقت آیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زبانی چند اقرار کرائے۔ حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ سے بیعت کرتے ہیں اپنا ہاتھ بڑھائیے، فرمایا میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا۔
بعض روایتوں میں یہ بھی ہے کہ کنگن کا واقعہ خود حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا کا تھا۔[ان واقعات کے لیے دیکھو مسند ج6ص453،454،460،461 ]
عام حالات:۔
سن ایک ہجری میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی رخصتی ہوئی اور وہ میکہ سے کاشانہ نبوت میں آئین، تو جن عورتوں نے انکو سنوارا تھا، ان میں حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا بھی داخل تھیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو جلوے میں بٹھا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی، آپ انکے پاس آ کر بیٹھ گئے، کسی نے دودھ پیش کیا تو تھوڑا سا پی کر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو دے دیا، انکو شرم معلوم ہوئی اور سرجھکا لیا، حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا نے ڈانٹا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو دیتے ہیں لے لو، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے دودھ لیکر کسی قدر پی لیا اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو واپس کر دیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا کو دیدیا، انہوں نے پیالہ کو گھٹنے پر رکھ کر گردش دینا شروع کیا کہ جس طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمایا تھا وہاں بھی منہ لگ جائے۔ اسکے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اور عورتوں کو بھی دو، لیکن سب نے جوابدیا کہ ہمکو اس وقت خواہش نہیں ہے ارشاد ہوا"بھوک کے ساتھ جھوٹ بھی؟"[مسندج6ص458]
سن پندرہ ہجری میں یرموک کا واقعہ پیش آیا، اس میں حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا نے اپنے خیمہ کی چوب سے نو رومیوں کو قتل کیا۔[اصآبہ ج3ص13]
وفات:۔
یرموک کے بعد مدت تک زندہ رہیں، اور پھر وفات پائی، وفات کا سال معلوم نہیں ہے۔
فضل و کمال:۔
حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے چند حدیثیں روایت کی ہیں جنکے راوی اصحاب ذیل ہیں، محمود بن عمرو انصاری، مہاجر بن ابی مسلم، شہر بن حوشب، مجاہد، اسحاق بن راشد، لیکن ان میں سب سے زیادہ شہر بن حوشب نے روائتیں کی ہیں۔
اخلاق:۔
استیعاب میں ہے۔
"یعنی وہ عقل اور دین دونوں سے متصف تھیں۔"
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتی تھیں۔[مسندج6ص459] ایک بار ناقہ غضباء کی مہار تھامے تھیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی، انکا بیان ہے کہ وحی کا اتنا بار تھا کہ مجھے خوف ہوا کہ کہیں اونٹنی کے ہاتھ پاؤں نہ ٹوٹ جائیں۔[ایضاً ص455،458]
حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا اکثر اوقات کاشانہ نبوت میں حاضر ہوتیں، ایک مرتبہ بیٹھی تھیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر فرمایا، گھر میں کہرام مچ گیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ واپس آئے تو وہی حالت تھی، فرمایا کیوں روتی ہو؟ حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا کہ ہماری حالت یہ ہے کہ لونڈی آٹا گوندھنے بیٹھی ہے، ہمکو سخت بھوک ہوتی ہے وہ پکا کر فارغ نہیں ہوتی کہ ہم بھوک سے بیتاب ہو جاتے ہیں پھر دجال کے زمانہ میں جو قحط پڑے گا۔ اس پر کیونکر صبر کر سکیں گے (یعنی فورا اسکے دام میں پھنس جائیں گے۔) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس دن تسبیح اور تکبیر بھوک سے بچائے گی۔ پھر کہا رونے کی ضرورت نہیں، اگر میں اس وقت تک زندہ رہا تو میں خود سینہ سپر ہونگا، ورنہ میرے بعد خدا ہر مسلمان کی حفاظت کریگا،[مسندج5ص453،454]
مہمان نواز تھیں ایک بار حضرت شہر بن حوشب آئے تو انہوں نے انکے سامنے کھانا رکھا حضرت شہر بن حوشب نے انکار کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک واقعہ بیان کیا جس سے یہ اشارہ مقصود تھا کہ انکار مناسب نہیں ہے، انہوں نے کہا اب دوبارہ ایسی غلطی نہیں کرونگا۔[ایضاًص458]

pervaz khan
01-08-2013, 01:39 PM
جزاک اللہ

تانیہ
01-09-2013, 04:55 PM
حضرت ام الدّردء رضی اللہ تعالی عنہا
نام و نسب:۔
ام الدرداء دو تھیں، اور دونوں دونوں حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالی عنہ کے عقد نکاح میں آئیں لیکن جو بڑی تھیں وہ صحابیہ ہیں۔ امام احمد بن حنبل اور یحیی بن معین کے قول کےمطابق انکا نام خیرہ تھا اور ابو حدرداسلمی کی صاحبزادی تھیں۔
وفات:۔
حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالی عنہ سے دو سال قبل شام میں وفات پائی اوریہ خلافت عثمانی کا زمانہ تھا۔
فضل و کمال:۔
حافظ ابن عبدالبر لکھتے ہیں،
"وہ بڑی عاقلہ اور فاضلہ اور صاحب الرائے تھیں۔"[اصابہ ج8ص73]
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالی عنہ سے چد حدیثیں روایت کی ہیں۔ انکے شاگرد میمون بن مہران ہیں، جنکی سماعت پر جمہور کا اتفاق ہے، حافظ ابن عبدالبر نے بعض اور راویوں کے نام بھی لکھے ہیں، لیکن یہ سخت غلطی ہے کیونکہ ان میں سے کسی نے ام الدرداء رضی اللہ تعالی عنہا کا زمانہ نہیں پایا۔
اخلاق:۔
نہایت عابدہ و زاہدہ تھیں،[ایضاً]

تانیہ
01-09-2013, 05:00 PM
حضرت اُم حکیم رضی اللہ تعالی عنہا

نام و نسب:۔
قریش کے خاندان مخزوم سے تھیں، باپ کا نام حارث بن ہشام بن المغیرہ اور ماں کا نام فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا بنت الولید تھا، فاطمہ حضرت خالد بن ولید کی ہمشیر تھیں۔
نکاح:۔
عکرمہ بن ابوجہل سے جو انکے ابن عم تھے سے شادی ہوئی۔
عام حالات:۔
غزوہ احد میں کفار کے ساتھ شریک تھیں۔ لیکن جب سن آٹھ ہجری میں مکہ فتح ہوا تو پھر اسلام سے چارہ نہ تھا، انکا خسر ابوجہل مکہ میں اسلام کا سب سے بڑا دشمن اور کفر کا سرغنہ رہ چکا تھا، شوہر عکرمہ کی رگوں میں بھی اسی کا خون دوڑتا تھا، ماموں خالد بھی مدت سے اسلام سے برسرپیکار رہ چکے تھے لیکن باایں ہمہ ام حکیم رضی اللہ تعالی عنہا نے اپنی فطری سلامت روی کی بنا پر فتح مکہ میں اسلام قبول کرنے میں بہت عجلت کی، انکے شوہر جان بچا کر یمن بھاگ گئے تھے۔ ام حکیم رضی اللہ تعالی عنہا نے انکے لیے امن کی درخواست کی تو رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن عفو نہایت کشادہ تھا، غرض یمن جا کر انکو واپس لائیں، اور عکرمہ نے صدق دل سے اسلام قبول کیا، حضرت عکرمہ رضی اللہ تعالی عنہ نے مسلمان ہو کر اپنے تمام گناہوں کا کفارہ ادا کیا۔ نہایت جوش سے غزوات میں شرکت کی اور بڑی پامردی و جانبازی سے لڑے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کےزمانہ خلافت میں رومیوں سے جنگ چھڑی، حضرت عکرمہ رضی اللہ تعالی عنہ ، ام حکیم رضی اللہ تعالی عنہا کو لیکر شام گئے اور احیا دین کے معرکہ میں داد شجاعت لیکر شہادت حاصل کی۔ حضرت ام حکیم رضی اللہ تعالی عنہا نے عدت کےبعد خالد رضی اللہ تعالی عنہ بن سعید بن العاص سے نکاح کیا، چار سو دینار مہر باندھا اور رسم عروسی ادا کرنے کی تیاریاں ہوئیں۔ چونکہ نکاح مرج الصفر میں ہوا تھا۔ جو دمشق کے قریب ہے اور ہر وقت رومیوں کے حملہ کا اندیشہ تھا، حضرت ام حکیم رضی اللہ تعالی عنہا نے خالد رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا کہ"ابھی توقف کرو" لیکن خالد رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کہ مجھے اسی معرکہ میں اپنی شہادت کا یقین ہے غرض ایک پل کا جواب قنظرہ ام حکیم رضی اللہ تعالی عنہا کہلاتا ہے رسم عروسی ادا ہوئی، دعوت ولیمہ سے لوگ فارغ نہیں ہوئے تھے کہ رومی آ پہنچے اور لڑائی شروع ہو گئی، خالد رضی اللہ تعالی عنہ میدان جنگ میں گئے شہادت حاصل کی، حضرت ام حکیم رضی اللہ تعالی عنہا اگرچہ عروس تھیں، تاہم اٹھیں کپڑوں کو باندھا اور خیمہ کی چوب اکھاڑ کر کفار پر حملہ کیا، لوگوں کا بیان ہے کہ انہوں نے اسی چوب سے کافروں کو قتل کیا تھا،[اصابہ ج8ص225]
وفات:۔
حضرت ام حکیم رضی اللہ تعالی عنہا کی وفات کا زمانہ معلوم نہیں اولاد کا بھی یہی حال ہے۔

تانیہ
01-09-2013, 05:05 PM
حضرت خنساء رضی اللہ تعالی عنہا

نام و نسب:۔
نماضر نام، خنساء لقب، قبیلہ قیس کے خاندان سلیم سے ہیں۔ سلسلہ نسب یہ ہے خنساء بنت عمرو بن الشرید بن رباح بن یقظہ بن عصیبتہ بن خفاف بن امراء القیس بن بہثہ بن سلیم بن منصور بن عکرمہ بن حفصہ بن قیس بن عیلان بن مضر، نجد کی رہنے والی تھیں،
نکاح:۔
پہلا نکاح قبیلہ سلیم کے ایک شخص رواحہ بن عبدالعزی سے ہوا، اسکے انتقال کے بعد مرواس بن ابوعامر کے عقد نکاح میں آئیں۔[طبقات الشعراءلابن قنیبہ ص197 اسد الغابہ ج5ص441]
اسلام:۔
پیری کا زمانہ تھا کہ مکہ کے افق سے ماہتاب رسالت طلوع ہوا۔ حضرت خنساء رضی اللہ تعالی عنہا کے خبر ہوئی تو اپنی قوم کے کچھ لوگوں کے ساتھ مدینہ آئیں اور مشرف بہ اسلام ہوئیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دیر تک انکے اشعار سنتے اور تعجب کرتے رہے، یہ ہجرت کے بعد کا واقعہ ہے۔
عام حالات:۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانہ خلافت میں جب قادسیہ(عراق) میں جنگ ہوئی تو حضرت خنساء رضی اللہ تعالی عنہا اپنے چار بیٹوں کو لیکر میدان میں آئیں اور انکو مخاطب کر کے یہ نصحیت کی، پیارے بیٹو! تم نے اسلام اور ہجرت اپنی مرضی سے اختیار کی ہے ورنہ تم اپنے ملک کو بھاری نہ تھے اور نہ تمھارے یہاں قحط پڑا تھا، باوجود اسکے تم اپنی بوڑھی ماں کو یہاں لے آئے اور فارس کے آگے ڈال دیا، خدا کی قسم! تم ایک ماں اور باپ کی اولاد ہو میں نے نہ تمھارے باپ سے خیانت کی اور نہ تمھارے ماموں کو رسوا کیا، تم جانتے ہو کہ دنیا فانی ہے اور کفار سے جہاد کرنے میں بڑا ثواب ہے خداوندتعالی فرماتا ہے یاایھاالذین امنوااصبرووصابروا وارابطوا، اس بنا پر صبح اٹھ کر لڑکے کی تیاری کرو اور آخر وقت تک لڑو۔[اسدالغابہ ج5ص442] چنانچہ بیٹوں نے ایک ساتھ باگیں اٹھائیں، نہایت جوش میں رجز پڑھتے ہوئے بڑھے، اور شہید ہوئے، حضرت خنساء رضی اللہ تعالی عنہا کو خبر ہوئی تو خدا کا شکر ادا کیا۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ انکے لڑکوں کا 200 درہم سالانہ وظیفہ عطا کرتے تھے۔ انکی شہادت کے بعد یہ رقم حضرت خنساء رضی اللہ تعالی عنہ کو ملتی رہی۔[ایضاً]
وفات:۔
اس واقعہ کے دس برس کے بعد حضرت خنساء رضی اللہ تعالی عنہا نے وفات پائی، سال وفات سن 24 ہجری ہے۔
اولاد:۔
چار لڑکے تھے جو قادسیہ میں شہید ہوئے، انکے نام یہ ہیں، عبداللہ، ابوشجرہ پہلے شوہر سے تھے۔ زید، معاویہ دوسرے شوہر سے تھے،
فضل و کمال:۔
اقام سخن میں مرثیہ میں حضرت خنساء رضی اللہ تعالی عنہا اپنا جواب نہیں رکھتی تھیں، صاحب اسد الغابہ لکھتے ہیں،[ایضاً ص441]
"یعنی ناقدان سخن کا فیصلہ ہے کہ خنساء رضی اللہ تعالی عنہا کے برابر کوئی عورت شاعر نہیں پیدا ہوئی۔"
لیلائے اخیلیہ کو شعراء نے تمام شاعر عورتوں کا سرتاج تسلیم کیا ہے، تاہم اس میں بھی حضرت خنساء رضی اللہ تعالی عنہا مستثنی رکھی گئی ہیں،[طبقات الشعراء ص271] بازار عکاظ میں جو شعرائے عرب کا سب سے بڑا مرکز تھا حضرت خنساء رضی اللہ تعالی عنہا کو یہ امتیاز حاصل تھا کہ انکے خیمے کے دروازے پر ایک علم نصب ہوتا تھا جس پر یہ الفاظ لکھے ہوتے تھے ارثی العرب یعنی عرب میں سب سے بڑی مرثیہ گو، نابغہ جو اپنے زمانے کا سب سے بڑا شاعر تھا، اسکو حضرت خنساء رضی اللہ تعالی عنہا نے اپنا کلام سنایا تو بولا کہ اگر میں ابو بصیر(اعشیٰ) کا کلام نہ سن لیتا تو تجھکو عالم میں سب سے بڑا شاعر مانتا۔[طبقات الشعراء 198]
حضرت خنساء رضی اللہ تعالی عنہ ابتداءً ایک دو شعر کہتی تھیں، لیکن صخر کے مرنے سے انکو جو صدمہ پہنچا اس نے انکی طبعیت میں ایک ہیجان پیدا کر دیا تھا، چنانچہ کثرت سے مرثیے لکھے ہیں، یہ شعر خاص طور پہ مشہور ہے۔
"صخر کی بڑے بڑے لوگ اقتدا کرتے ہیں۔۔۔ گویا وہ ایک پہاڑ ہے جسکی چوٹی پر آگ روشن ہے"
حضرت خنساء رضی اللہ تعالی عنہا کا دیوان بہت ضخیم ہے، 1888 عیسوی میں مع شرح کے بیروت میں چھاپا گیا ہے، اس میں حضرت خنساء رضی اللہ تعالی عنہا کے ساتھ ساٹھ عورتوں کے اور بھی مرثیے شامل ہیں۔ 1889 میں اس کا فرنچ زبان میں ترجمہ ہوا اور دوبارہ طبع کیا گیا۔

pervaz khan
01-10-2013, 01:39 PM
جزاک اللہ

تانیہ
01-10-2013, 08:44 PM
حضرت ام حرام رضی اللہ تعالی عنہا

نام و نسب:۔
نام معلوم نہیں، ام حرام کنیت تھی، قبیلہ خزرج کے خاندان بنو نجار سے تھیں سلسلہ نسب ہے، ام حرام، بنت ملحان بن خالد بن زید بن حرام بن جند بن عامر بن غنم بن عدی ابن نجار، والدہ کا نام ملیکہ تھا جو مالک بن عدی بن زید بن مناة بن عدی بن عمرو بن مالک بن نجار کی دختر تھیں، اس بنا پر ام حرام حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا کی بہن اور حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کی خالہ ہوتی ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی انکا یہی رشتہ تھا۔
نکاح:۔
عمرو بن قیس انصاری رضی اللہ تعالی عنہ سے نکاح ہوا۔[تہذیب ج12ص462] لیکن جب انہوں نے احد میں شہادت پائی تو حضرت عبادة رضی اللہ تعالی عنہ بن صامت کے عقد نکاح میں آئیں۔ جو بڑے رتبہ کے صحابی تھے،
عام حالات اور وفات:۔
آنحضرت جب کبھی قبا کی طرف تشریف لے جاتے تو حضرت ام حرام رضی اللہ تعالی عنہا کے گھر آتے اور کھانا نوش فرماتے تھے، حجة الوداع[زرقانی ج؟ ص66 و اصابہ ج8ص222،223] کے بعد ایک روز آپ تشریف لائے اور کھانا کھا کر آرام فرمایا تو حضرت ام حرام رضی اللہ تعالی عنہا نے جویں دیکھنا شروع کیا آپکو نیند آ گئی، لیکن تھوڑی دیر کے بعد مسکراتے ہوئے اٹھے اور فرمایا میں نے ایک خواب دیکھا ہے اور وہ یہ کہ"میری امت کے کچھ لوگ سمندر میں غزوہ کے ارادہ سے سوار ہیں۔" حضرت ام حرام رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا"یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیجیئے کہ میں بھی ان میں شامل ہوں۔" آپ نے دعا کی اور پھر آرام فرمایا، کچھ دیر کے بعد پھر مسکراتے ہوئے اٹھے اور اسی خواب کا اعادہ کیا، حضرت ام حرام رضی اللہ تعالی عنہا نے پھر اپنی شرکت کے لیے دعا کی درخواست کی" فرمایا تم پہلی جماعت کے ساتھ ہو، اس خواب کی تعبیر سن 28 ہجری میں پوری ہوئی۔
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف سے شام کے حاکم تھے، انہوں نے متعدد بار جزائر پر حملہ کرنے کی خواہش ظاہر کی، لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اجازت نہیں دی، حضرت عثمان کے زمانہ خلافت میں انہوں نے اپنا ارادہ ظاہر کیا تو اجازت ملی، انہوںں نے جزیرہ قبرس(سائپرس) پر حملہ کرنے کے لیے ایک بیڑا تیار کیا، اس حملہ میں بہت سے صحابہ شریک تھے، حضرت ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت عبادہ رضی اللہ تعالی عنہ بن صامت، حضرت ام حرام رضی اللہ تعالی عنہا بھی انہی میں داخل تھیں،[اسد الغابہ ج5ص575] بیڑا احمص[زرقانی ج؟ص61] کے ساحل سے روانہ ہوا۔ اور قبرس فتح ہو گیا۔ واپسی میں حضرت ام حرام رضی اللہ تعالی عنہا سواری پر چڑھ رہی تھیں کہ نیچے گریں اور جاں بحق تسلیم ہوئیں، لوگوں نے وہیں انکو دفن کردیا۔[صحیح بخاری ج2ص929]
اولاد:۔
حضرت ام حرام رضی اللہ تعالی عنہا کے تین لڑکے پیدا ہوئے، پہلے شوہر سے قیس اور عبداللہ اور حضرت عبادہ رضی اللہ تعالی عنہ سے محمد۔
فضل و کمال:۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے چند حدیثیں روایت کیں، راویوں میں حضرت عبادہ رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ، عمروبن اسود، عطاء بن یسار اور یعلی بن شداد بن اوس ہیں۔

تانیہ
01-10-2013, 08:53 PM
حضرت ام ورقہ رضی اللہ تعالی عنہا بنت عبداللہ

نام و نسب:۔
نام معلوم نہیں، ام ورقہ کنیت اور انصار کے کسی قبیلہ سے تھیں، سلسلہ نسب یہ ہے ام ورقہ بنت عبداللہ بن حارث بن عویمر بن نوفل۔
اسلام:۔
ہجرت کے بعد مسلمان ہوئیں۔
غزوات:۔
غزوہ بدر پیش آیا تو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے شرکت کی اجازت مانگی کہ مریضوں کی تیماداری کرونگی، ممکن ہے کہ اس سلسلہ میں شہادت نصیب ہو، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"تم گھر میں رہو خدا تمکو وہیں شہادت عطا فرمائے گا۔"
شہادت:۔
چونکہ قرآن پڑھی ہوئی تھیں۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انکو عورتوں کا امام بنایا ہوا تھا، اس لیے درخواست کی کہ ایک مؤذن بھی مقرر فرما دیجیئے، چنانچہ مؤذن اذان دیتا اور یہ عورتوں کی امامت کرتی تھیں،[عورتوں کی امامت کے متعلق دیباچہ کے صفحہ 8 پر ایک نوٹ ہے، وہ ملاحظہ فرمائیں۔] راتوں کو قرآن پڑھا کرتیں انہوں نے ایک لونڈی اور ایک غلام کو مدیر بنایا یعنی اس شرط پر آزادی کا وعدہ کیا تھا کہ میرے بعد تم آزاد ہو، ان بدبختوں نے اس وعدے سے ناجائز فائدہ اٹھانا چاہا۔۔ اور رات کو ایک چادر ڈال کر انکا کام تمام کر دیا، یہ خلافت فاروقی کا واقعہ ہے، صبح کو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے لوگوں سے پوچھا، آج خالہ کے پڑھنے کی آواز نہیں آئی، معلوم نہیں کیسی ہیں؟ مکان میں گئے دیکھا تو ایک چادر میں لپٹی ہوئئ پڑی ہیں نہایت افسوس ہوا، اور فرمایا خدا اور رسول نے سچ کہا تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے۔ کہ "شہیدہ کے گھر چلو" اسکے بعد منبر پر چڑھے اور کہا غلام اور لونڈی دونوں گرفتار کیئے جائیں، چنانچہ وہ گرفتار ہو کر آئے، تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے انکو سولی پر لٹکا دیا۔ یہ دونوں وہ پہلے مجرم ہیں جنکو مدینہ منورہ میں سولی دی گئی،[اصابہ ج8ص289]

pervaz khan
01-11-2013, 02:19 PM
جزاک اللہ

محمداشرف يوسف
01-11-2013, 02:46 PM
جزاک اللہ

تانیہ
01-11-2013, 05:05 PM
حضرت ہند رضی اللہ تعالی عنہا

نام و نسب:۔
ہند نام، قبیلہ قریش سے تھیں، سلسلہ نسب یہ ہے ہند بنت عتبہ ابن ربیعہ بن عبدشمس ابن عبدمناف، ہند کا باپ قریش کا سب سے معزز رئیس تھا۔
نکاح:۔
فاکہ بن مغیرہ مخزومی سے نکاح ہوا، لیکن پھر کسی وجہ سے جھگڑا ہو گیا، تو ابوسفیان ابن حرب کے عقد میں آئیں جو قبیلہ امیہ کے مشہور سردار تھے۔
عام حالات:۔
عتبہ، ابوسفیان اور ہند تینوں کو اسلام سے سخت عداوت تھی اور وہ اسلام کی غیر معمولی ترقی کو نہایت رشک سے دیکھتے تھے، حتی الامکان اسکی راہ میں رکاوٹ پیدا کرتے تھے، ابوجہل ان سب کا سردار تھا۔ لیکن جب بدر کے معرکہ میں جو اسلام و کفر کا پہلا معرکہ تھا۔ قریش کے بڑے بڑے سردار مارے گئے اور ابوجہل اور عتبہ وغیرہ بھی قتل ہو گئے تو ابوسفیان بن حرب نے جو عتبہ کے داماد تھے اسکی جگہ لی اور ابوجہل کی طرح مکہ میں انکی سیادت مسلم ہو گئی، چنانچہ بدر کے بعد سے جس قدر معرکے پیش آئے، ابوسفیان سب میں پیش پیش تھے، غزوہ احد انہی کے جوش انتقام کا نتیجہ تھا۔ اس موقع پر انکے ساتھ انکی بیوی ہند بھی آئی تھیں، جنہوں نے اپنے باپ کے انتقام میں سنگدلی اور خونخواری کا ایسا خوفناک منظر پیش کیا، کہ جسکے تخیل سے بھی جسم لرز اٹھتا ہے، حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے، انہوں نے عتبہ کو قتل کیا تھا، ہندان کی فکر میں تھیں، چنانچہ انہوں نے وحشی کو جو جبیر بن مطعم کے غلام اور حربہ اندازی میں کمال رکھتے تھے، حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کے قتل پر آمادہ کیا تھا، (یہ حضرت وحشی رضی اللہ تعالی عنہ کے قبل از اسلام کا واقعہ ہے) اور یہ اقرار ہوا کہ اس کارگزاری کے صلہ میں وہ آزاد کر دیئے جائیں گے، چنانچہ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ جب انکے برابر آئے تو وحشی نے حربہ پھینک کر مارا جو ناف میں لگا اور پار ہو گیا، حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ان پر حملہ کرنا چاہا لیکن لڑکھڑا کر گر پڑے اور روح پرواز کر گئی۔
خاتونان قریش نے انتقام بدر کے جوش میں مسلمانوں کی لاشوں سے بھی بدلی لیا تھا۔ انکے ناک کان کاٹ لیئے۔ ہند نے ان پھولوں کا ہار بنایا، اور اپنے گلے میں ڈالا حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کی لاش پر گئیں اور اور انکا پیٹ چاک کر کے کلیجہ نکالا اور چبا گئیں۔ لیکن گلے سے اتر ن ہسکا، اس لیۓ اگل دینا پڑا،(حضرت ابوسفیان رضی اللہ تعالی عنہ اور ہند کے یہ سب واقعات اسلام قبول کرنے سے پہلے کے ہیں) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس فعل سے جس قدر صدمہ ہوا تھا، اسکا کون اندازہ کر سکتا ہے لیکن ایک اور چیز تھی جو ایسے موقعوں پر بھی جبینِ رحمت کو شکن آلود نہیں ہونے دیتی تھی،
اسلام:۔
چنانچہ جب مکہ فتح ہوا، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے بیعت لینے کے لیے بیٹھے، تو مستورات میں ہند بھی آئیں، شریف عورتیں نقاب پہنتی تھیں، ہند بھی نقاب پہن کر آئیں جس سے اس وقت یہ غرض بھی تھی کہ کوئئ انکو پہچاننے نہ پائے بیعت کے وقت انہوں نے نہایت دلیری سے باتیں کیں جو حسب ذیل ہیں۔
ہند! یا رسول اللہ! آپ ہم سے کن باتوں کا اقرار لیتے ہیں۔
رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا۔
ہند:
یہ اقرار آپ نے مردوں سے تو نہیں لیا، بہرحال ہم کو منظور ہے۔
رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) چوری نہ کرنا۔
ہند: میں اپنے شوہر کے مال میں سے کبھی کچھ لے لیا کرتی ہوں معلوم نہیں یہ بھی جائز ہے یا نہیں؟
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)اولاد کو قتل نہ کرنا۔
ہند:ربینا ھم صغاراوقتلھم کبارافانت وھو اعلم، ہم نے تو اپنے بچوں کو پالا تھا،
بڑے ہوئے تو جنگ بدر میں آپ نے انکو مار ڈالا، اب آپ اور وہ باہم سمجھ لیں،
(اس دیدہ دلیری کے باوجود) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہند سے درگزر فرمایا، ہند کے قلب پر اسکا بہت اثر ہوا۔ اور انکے دل نے اندر سے گواہی دی کہ آپ سچے پیغمبر ہیں انہوں نے کہا یا رسول اللہ! اس سے پہلے آپکے خیمہ سے زیادہ میرے نزدیک کوئی مبغوض خیمہ نہ تھا لیکن اب آپکے خیمہ سے زیادہ کوئی محبوب خیمہ میرے نزدیک نہیں ہے،[صحیح بخاری]
حضرت ہند رضی اللہ تعالی عنہا مسلمان ہو کر گھر گئیں تو اب وہ ہند نہ تھیں، ابن سعد نے لکھا ہے کہ انہوں نے گھر جا کر بت توڑ ڈالا اور کہا کہ ہم تیری طرف سے دھوکے میں تھے،[اصابہ ج8ص206]
(اسد الغابہ میں انکے حسن اسلام سے متعلق لکھا ہے کہ اسلمت یوم الفتح و حسن اسلامھا)[اسد الغابہ ج5ص562]
غزوات:۔
فتح مکہ کے بعد اگرچہ اسلام کو اعلانیہ غلبہ حاصل ہو گیا تھا، اور اس لیئے عورتوں کو غزوات میں شریک ہونے کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی، تاہم جب حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے عہد میں روم و فارس کی مہم پیش آئی تو بعض مقامات میں اس شدت کا رن پڑا۔ کہ مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کو بھی تیغ و خنجر کا کام لینا پڑا۔ چنانچہ شام کی لڑائیوں میں جنگ یرموک ایک یادگار جنگ تھی، اس میں حضرت ہند رضی اللہ تعالی عنہااور انکے شوہر حضرت ابوسفیان رضی اللہ تعالی عنہ دونوں نے شرکت کی اور فوج میں رومیوں کے مقابلہ کا جوش پیدا کیا۔
وفات:۔
حضرت ہند رضی اللہ تعالی عنہا نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے عہد خلافت میں انتقال کیا۔ اسی دن حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے والد ابوقحافہ نے بھی وفات پائی تھی ابن سعد کی روایت ہے کہ انکی وفات حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانہ میں نہیں بلکہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانہ میں ہوئی، کتاب الامثال سے بھی اسکی تائید ہوتی ہے۔ چنانچہ اس میں مذکور ہے کہ جب حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالی عنہ نے وفات پائی (ابوسفیان نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانہ خلافت میں وفات پائی ہے) تو کسی نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا کہ مجھ سے ہند رضی اللہ تعالی عنہا کا نکاح کردو۔ انہوں نے نہایت متانت سے جوابدیا کہ اب انکو نکاح کرنے کی ضرورت نہیں۔[اصابہ ج8ص206]
اولاد:۔
اولاد میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ زیادہ مشہور ہیں۔
اخلاق:۔
حضرت ہند رضی اللہ تعالی عنہا میں وہ تمام اوصاف موجود تھے جو ایک عرب عورت کے مابہ الامتیاز ہو سکتے ہیں، صاحب اسد الغابہ نے لکھا ہے۔
"ان میں عزت نفس، غیرت رائے و تدبیر اور دانشمندی پائی جاتی تھی،"[اسد الغابہ ج5ص563]
فیاض تھیں، حضرت ابوسفیان رضی اللہ تعالی عنہ انکو انکے حوصلہ کے مطابق خرچ نہیں دیتے تھے اسلام لانے کے وقت جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے عہد لیا کہ چوری نہ کریں تو انہو ں نے عرض کی یا رسول اللہ! ابوسفیان رضی اللہ تعالی عنہ مجھے پورا خرچ نہیں دیتے اگر ان سے چھپا کر لوں تو جائز ہے؟ آپ نے اجازت دی۔[صحیح بخاری]

pervaz khan
01-12-2013, 02:43 PM
جزاک اللہ

تانیہ
01-12-2013, 05:11 PM
حضرت ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ تعالی عنہا

نام و نسب اور اسلام:۔
ام کلثوم کنیت، سلسلہ نسب یہ ہے، ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط بن ابی عمرو بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف، والدہ کا نام اروس بنت کریز تھا، اس بنا پر حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہا اخیافی بھائی بہن ہیں۔ ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہا کا باپ عقبہ بن ابی معیط قبیلہ امیہ کا ایک ممتاز شخص تھا، اسکو اسلام سے سخت عداوت تھی، لیکن خدا کی قدرت دیکھو! اس نے اسی ظلمت کدہ میں ایمان کا چراغ روشن کیا، یعنی اسکی صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہا مشرف بہ اسلام ہوئیں۔
ہجرت:۔
سن ستر ہجری میں صلح حدیبیہ کے بعد حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہا نے مدینہ کی طرف ہجرت کی خزاعہ کے ایک شخص کے ہمراہ مکہ سے پاپیادہ روانہ ہوئیں، چونکہ بھاگ کر نکلی تھیں، اس لیے انکے بھائی انکے پیچھے سے آئے، مدینہ پہنچیں تو دوسرے دن وہ بھی پہنچ گئے، حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہا نے فریاد کی کہ مجھکو اپنےایمان کا خوف ہے، میں عورت ہوں اور عورتیں کمزور ہوتی ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح نامہ میں یہ شرط کی تھی کہ قریش کا کوئی آدمی مدینہ آئے گا تو واپس کر دیا جائے گا۔ اس لیے آپکو فکر ہوئیں لیکن چونکہ اس میں عورتیں داخل نہ تھیں اس لیے انکے متعلق خاص یہ آیت اتری،
"مسلمانو! جب تمھارے پاس مسلمان عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو انکو جانچ لو خدا انکے ایمان کو اچھی طرح جانتا ہے اب اگر تمکو معلوم ہو کہ وہ مسلمان ہیں تو انکو کافروں کے ہاں واپس نہ بھیجو،"
اور آپ نے اس کے مطابق ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہا کو واپس کرنے سے انکار کر دیا۔
نکاح:۔
حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہا اب تک کنواری تھیں اس لیے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ بڑے رتبہ کے صحابی تھے، انکا نکاح کیا گیا، لیکن جب زید رضی اللہ تعالی عنہ نے غزوہ موتہ میں سہادت پائی تو حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ بن العوام کے عقد نکاح میں آئیں، لیکن انہوں نے طلاق دے دی۔ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ تعالی عنہ بن عوف سے نکاح وا۔ انکی وفات کے بعد حضرت عمرو رضی اللہ تعالی عنہ بن العاص
سے نکاح پڑھایا اور یہ آخری نکاح تھا۔
وفات:۔
ایک مہینہ کے بعد وفات پائی، اس زمانہ میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ والی مصر تھے۔
اولاد:۔
حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہا کے حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت عمرو رضی اللہ تعالی عنہ بن عاص سے کوئی اولاد پیدا نہ ہوئی لیکن حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ سے زینب اور حضرت عبدالرحمن رضی اللہ تعالی عنہ بن عوف سے ابراہیم، حمید، محمد اور اسماعیل پیدا ہوئے۔
فضل و کمال:۔
حمید اور ابراہیم نے ان سے کچھ حدیثیں روایت کی ہیں،

تانیہ
01-12-2013, 05:14 PM
حضرت زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا

نام و نسب:۔
زینب نام، قبیلہ مخذوم سے ہیں، سلسلہ نسب یہ ہے، زینب بنت ابی سلمہ عبداللہ بن عبد الاسد بن عمرو بن مخزوم، حبشہ میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے بطن سے پیدا ہوئیں، اور انہی کے ساتھ کچھ زمانہ کے بعد مدینہ کو ہجرت کی، حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا بنت ابی بکر رضی اللہ تعالی عنہ نے دودھ پلایا،[اصابہ ج8ص96 بحوالہ ابن سعد] پہلے برہ نام تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب نام رکھا۔[صحیح مسلم ج2ص231 باب استحباب تغییر الاسم القبیح الی حسن]
عام حالات:۔
سن چار ہجری میں ابو سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ نے وفات پائی، تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد نکاح میں آئیں، اس وقت زینب رضی اللہ تعالی عنہا شیر خوار تھیں، والدہ ماجدہ کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آغوش تربیت میں آئیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے محبت تھی پیروں چلنے لگیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتیں، آپ غسل فرماتے تو انکے منہ پر پانی چھڑکتے تھے، لوگوں کا بیان ہے کہ اسکی یہ برکت تھی کہ بڑھاپے تک انکے چہرے پر شباب کا آبو رنگ باقی رہا،
حضرت عبداللہ بن زمعہ بن اسوداسدی سے شادی ہوئی، دو لڑکے پیدا ہوئے، جن میں ایک کا نام ابو عبیدہ تھا، سن تریسٹھ ہجری میں حرا کی لڑائی میں دونوں کام آئے اور حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کے سامنے انکی لاشیں لاکر رکھی گئیں، انہوں نے انا للہ پڑھا اور کہا کہ "مجھ پر بہت بڑی مصیبت پڑی، ایک تو میدان میں لڑ کر قتل ہوا، لیکن دوسرا تو خانہ نشین تھا لوگوں نے اسکو گھر میں گھس کر مارا۔"
وفات:۔
بیٹوں کے قتل ہونے کے بعد دس برس زندہ رہیں اور سن 73 ہجری میں وفات پائی فرمایا یہ طارق کی حکومت کا زمانہ تھا۔[تہذیب ج2ص421] حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ جنازہ میں تشریف لائے۔
فضل و کمال:۔
حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا فضل و کمال میں شہرہ آفاق تھیں اور اس وصف میں کوئی عورت انکی ہمسری کا دعوی نہیں کر سکتی تھی، اسد الغابہ میں ہے،
"وہ اپنے عصر کی فقیہ عورت تھیں۔"[اسد الغابہ ج5ص469]
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ حدیثیں روایت کیں، آپکے علاوہ حضرت عائشہ ، حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہما اور حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا بنت حجش سے بھی چند حدیثیں روایت کیں۔ جن لوگوں نے ان سے حدیث روایت کی ہے انکے نام یہ ہیں۔
امام زین العابدین رضی اللہ تعالی عنہ، ابو عبیدہ، محمد بن عطاء، عراک بن مالک، ابن نافع، عروہ، ابو سلمہ، کلیب بن وائل، ابو قلابہ جرمی۔

pervaz khan
01-13-2013, 02:24 PM
جزاک اللہ

تانیہ
01-13-2013, 05:23 PM
حضرت ام ابی ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہا

نام و نسب:۔
امیمہ نام تھا، باپ کا نام صبیح یا صفیح بن الحارث تھا۔
اسلام:۔
اگرچہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ جو انکے صاحبزادے تھے مسلمان ہو چکے تھے۔تاہم وہ مشرک تھیں، ایکدن انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کو سخت ناگوار ہوا۔ روتے ہوئے خدمت اقدس میں پہنچے اور کہا۔"حضور! اب میری ماں کے مسلمان ہونے کے لیے دعا فرما ئیے۔" آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی، ادھر انکی حالت میں دفعتہً انقلاب پیدا ہو گیا، غسل کر کے کپڑے پہنے اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کے سامنے کلمہ پڑھا، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرط مسرت سے آبدیدہ ہو گئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر کی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کا شکر ادا کیا۔[صحیح مسلم ج2ص357، باب فضائل ابی ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ]
وفات:۔
وفات کی تاریخ معلوم نہیں،
اولاد:۔
اولاد میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ زیادہ مشہور ہیں۔

تانیہ
01-13-2013, 05:27 PM
حضرت خولہ بنت حکیم رضی اللہ تعالی عنہا

نام و نسب:۔
خولہ نام، ام شریک کنیت، قبیلہ سلیم سے تھیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خالہ ہوتی ہیں۔[مسند ج6ص409] نسب نامہ یہ ہے۔ خولہ بنت حکیم بن امیہ بن حارثہ بن الاوقص بن م ابن ہلال بن فالج بن ذکوان بن ثعلبہ بن بہثہ بن سلیم،
نکاح:۔
حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ بن مظعون سے جو بڑے رتبہ کے صحابی تھے، نکاح ہوا۔
عام حالات:۔
مسلمان ہو کر مدینہ کو ہجرت کی۔ سن دو ہجری میں غزوہ بدر کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ بن مظعون نے وفات پائی تو حضرت خولہ رضی اللہ تعالی عنہا نے دوسرا نکاح نہیں کیا، اکثر پریشان رہتی تھیں، صحیح بخاری میں روایت آئی ہے کہ انہوں نے اپنے کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تھا۔[بخاری ج2ص76، باب ہل للمرٔة ان یہب نفسہا لاعد و تہذیب ج2 ص215]
فضل و کمال:۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پندرہ حدیثیں روایت کیں، راویان حدیث میں حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ بن ابی وقاص، سعید بن مسیب، بشیر بن سعید، عروہ اور ربیع بن مالک داخل ہیں۔
اخلاق:۔
اسد الغابہ میں ہے کانت امرأة صالحة "وہ ایک نیک بی بی تھیں" مسند میں ہے، تصوم النھار و تقوم اللیل یعنی"دن کو روزہ رکھتی اور رات کو عبادت کرتی تھیں۔"
ابتداء ً زیور کا بڑا شوق تھا۔ چنانچہ ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ اگر طائف فتح ہو تو آپ مجھکو فلاں عورت کا زیور دے دیجیئے گا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر خدا اسکی اجازت نہ دے تو پھر میں کیا کر سکتا ہوں،[اصابہ ج8ص70]

pervaz khan
01-14-2013, 01:43 PM
جزاک اللہ

تانیہ
01-14-2013, 05:01 PM
حضرت حمنہ رضی اللہ تعالی عنہا بنت حجش

نام و نسب:۔
حمنہ نام، حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کی ہمشیرہ ہیں، سلسلہ نسب اوپر گزر چکا ہے۔
نکاح:۔
حضرت مصعب رضی اللہ تعالی عنہ بن عمیر سے نکاح ہوا،
اسلام:۔
اور انہی کے ساتھ دائرہ اسلام میں داخل ہوئین۔
عام حالات:۔
مدینہ کی ہجرت کا شرف حاصل کیا اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین اور انصار کی عورتوں سے بیعت لی تو اس میں یہ بھی شامل ہوئیں، مسند ابن حنبل اور ابن سعد وغیرہ میں اکثر عورتوں کے تذکرہ میں لکھا ہے کہ کانت من المبایعات، اس سے یہی بیعت مراد ہے، چنانچہ حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا بنت یزید کے حالات میں ہم اسکا ذکر کر آئے ہیں،
غزوات میں سے احد میں نمایاں شرکت کی وہ پانی پلاتیں اور زخمیوں کا علاج کرتی تھیں، انکے علاوہ اور عورتیں بھی یہ خدمت انجام دے رہیں تھیں، چنانچہ فیدہ رضی اللہ تعالی عنہا اور رام کبشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی نسبت بھی اس قسم کی تصریحات موجود ہیں،
اس واقعہ میں حضرت حمنہ رضی اللہ تعالی عنہ کے شوہر حضرت مصعب رضی اللہ تعالی عنہ بن عمیر نے شہادت پائی، جنکے بعد انہوں نے حضرت طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ سے کہ عشرہ مبشرہ میں تھے، نکاح کیا۔
افک کے واقعہ میں منافقین کے ساتھ غلطی سے جو مسلمان شریک ہو گئے تھے، ان میں حضرت حسان اور حضرت مسطح رضی اللہ تعالی عنہما کے ساتھ حضرت حمنہ رضی اللہ تعالی عنہا بھی تھیں، چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے منقول ہے،[صحیح بخاری ج2ص596]
"یعنی حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کی بہن حمنہ رضی اللہ تعالی عنہا برابر میرے خلاف رہیں، یہاں تک کہ اور اصحاب افک کی طرح برباد ہوئیں۔"
فتح الباری میں ہے کہ حضرت حمنہ رضی اللہ تعالی عنہا کے شریک ہونے کی وجہ یہ تھی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نظروں سے گرا کر حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہ(اپنی بہن) کو بلند کریں،[فتح الباری ج8ص367]
لیکن تعجب ہے کہ خود حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا نے اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا، چنانچہ اسکا تذکرہ انکے حالات میں آ چکا ہے،
وفات:۔
وفات کا سن صحیح طور پر معلوم نہیں، اتنا علم ہے کہ حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کی وفات تک زندہ تھیں، حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا نے سن بیس ہجری میں وفات پائی ہے۔
اولاد:۔
حضرت طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ حضرت حمنہ رضی اللہ تعالی عنہا کے دو لڑکے پیدا ہوئے، محمد اور عمران، محمد کو سجاد کے لقب سے شہرت حاصل تھی۔

تانیہ
01-14-2013, 05:04 PM
اسوہ صحابیات ( رضی اللہ تعالی عنہن) کی جو دلچسپ اور بہت پیاری کتاب کی شیئرنگ میں نے شروع کی وہ آج ختم ہو گئی اور مجھے خوشی ہو رہی کہ اپنی طرف سے ایک بہت خوبصورت تحفہ میں نے اپنے ساتھیوں*سے شیئر کیا، امید ہے کہ آپ سب ساتھی بھی خوش ہوئے ہونگے اور ایمان تازہ ہو گا اس بہت پیاری شیئرنگز کے بعد ۔۔۔۔اسی تھریڈ میں*اسی حوالے سے کوئی ساتھی مزید اضافہ کرنا چاہے اس موضوع پہ تو مجھے بہت خوشی ہو گی۔۔۔سب ساتھیوں کا بہت شکریہ
جزاک اللہ

pervaz khan
01-15-2013, 02:10 PM
جزاک اللہ