PDA

View Full Version : دیواروں کے بھی کان ہو تے ہیں ۔۔۔۔۔ از۔۔۔۔۔۔ شمس جیلانی



گلاب خان
12-09-2010, 10:35 PM
04.12.2010, 01:05am , ہفتہ (GMT+1)
شمس جیلانی
یہ مثل بڑی مشہور ہے کہ دیواروں کے بھی کان ہو تے ہیں ۔اور بڑی بوڑھیاںاکثر بچیوں کو جو سسرال جانے سے پہلے نصیحت کر تی تھیں اور اس وقت خصوصی طور پر جن پند و نصا ئح سے نوا ز تی تھیں ان میں ایک یہ بھی ہو تی تھی کہ بیٹا سسرال جانے کے بعد بڑی محتاط رہنا کہ دیواروں کہ بھی کان ہو تے ہیں ؟ حالانکہ اس وقت تک یہ نئی سہولتین نہیں تھیں جنہوں نے دیواروں کو بھی کان دیدئیے۔ اور انکو بھی سخن آشنا کر دیا یعنی اس قسم کے آلے ایجادکر لیئے گئے کہ جو دیواروں میں نصب کر دیئے جا ئیں تو بیڈ روم کی بات بھی سنی اور ریکارڈ کی جا سکتی ہے؟ حلانکہ مغرب کو اس بات پہلے بہت فخر تھا کہ ان کے ہاں بیڈ مقدس ترین جگہ ہے اوور حکومت نہ خود اس میں جھانتی ہے نہ کسی کو اج زت دے سکتی ہے۔ مگر وہ دعوے صرف دعویٰ ہی ہیں جس کے بیڈ روم چا ہیں شروع گو وہ تو چھپ کر ہو تی ہوا ئی اڈوں پر تو کھلم کھلا سب برینیٹ اسکریننگ کے ذریعہ گزرنا پڑتا ہے۔ لہذا کچھ پتہ نہیں ہے جوآپ کہہ رہے ہیں وہ کون کون دیکھ اور سن رہا ہے اور جو آپ لکھ رہے ہیں وہ کون کون پڑھ رہا ہے یا کل کو پڑھے گا۔؟

اُس وقت تو یہ ایک مفروضہ تھا جو آج حقیقت اختیار کر گیا، جیسے کہ اڑن کھٹولہ کبھی مفروضہ اور آج ہم سب اڑے پھر رہے ہیں۔جہاں تک میں نے سمجھا ہے اس مثال کے پس ِ منظر میں جو جذبہ کا ر فرما تھا وہ دراصل غیبت سے بچانا تھا جو تمام فتنوں کی جڑ ہے اور اسلام میں سب بری بات سمجھی جا تی ہے۔ جبکہ آجکل مسلمان اس لعنت میں سب سے زیادہ مبتلا ہیں ۔بہت سے لوگ اس کے آجکل عادی ہیں حالانکہ حادی برحق (ص) نے اس برائی کو بہت تفصیل سے سمجھا کر منع فرمایا تھا مگر جان بوجھ کر آج تک اس کے معنی ہم نہیں سمجھ پا ئے اور پو ری مسلم قوم اس لعنت میں گرفتار ہے۔ کیونکہ اب مسلمانوں میں خوف ِ خدا نامی کوئی چیز ہی باقی نہیں رہی ۔ورنہ وہ اس قر آنی ہدا یت کے بعد کہ ً اے مو منوں! غیر مسلموں کو اپنا ولی مت بنا ؤ؟ اور دوسری جگہ فر مایا جو انہیں دوست بنا تا ہے وہ انہیں میں سے ہے ً اگر ہمارا اس پر ایمان ہوتا۔تو وکی لیک میں لیک کر نے کے لیئے کم از کم مسلم دنیا میں کچھ نہیں ملتا؟اس کی کئی وجو ہات ہیں پہلی تو یہ ہے کہ ہم نے اول تو قر آن پڑھا ہی نہیں اور پڑھا تو صرف نا ظرے کی حد تک، یا پھر اس کا ترجمہ ۔ جس سے جو سمجھنا بھی چا ہتا تھا وہ کنفیوڈ ہو گیا مثلا ً لفظ ولی کا ترجمہ اردو میں زیادہ تر “ دوست “ کیا گیا ۔تو نتیجہ یہ ہوا کہ جوشدت پسند ہیں وہ کہتے ہیں کہ ان سے ملنا جلنا ان کی تہذیب اپنا نا وغیرہ وغیرہ سب حرام ہے۔ جبکہ کسی چیز کو حرام قرار دینے کا اختیار صرف اللہ سبحانہ تعالیٰ اور اس کے رسول (ص) کے سوا کسی کو بھی نہیں ہے ۔نتیجہ ہوا کہ جب مسلمان محکوم ہو ئے تو انہوں نے ان کی زبان اپنا نے سے پر ہیز کیا اور تعلیم میں سب سے پیچھے رہ گئے ۔یہ اس قوم کا حشر ہوا جس کے لیئے حصول علم کوفرض قرار دیا گیا تھا وہی خود پیچھے رہ گئے اور اغیا رنے فا ئدہ اٹھا یا۔ دوسرا نقصان یہ ہوا کہ نہ ملنے جلنے کی وجہ سے وہ کام جو انکے ذمہ تھا کہ تم میں ایک جما عت ایسی ہو نا چا ہیئے جو برے کاموں سے روکے اور اچھے کام وں کی تلقین کرے وہ معدوم ہو گئی اور اگر کوئی بعد میں بنی بھی تو چونکہ ان کے پاس کو ئی کام نہیں تھا؟ لہذا وہ اپنے اندر ہی تبلیغ کر نے لگ گئے ۔ اس کے نتیجہ میں جو اسلام تیزی بڑھ رہا تھا وہ رک گیا ؟

حا لانکہ ولی کے معنی عربی میں بہت وسیع ہیں یہ ایک اسلامی اصطلا ح جس کے معنی ہیں انتہا ئی جگری دوست جس کو ہر راز بتایا جا سکتا اور راز چھپا ضروری نہیں ہے اور وہ اہلیت رکھتا ہو کہ آپ کو صحیح مشورہ بھی دے سکے اور آپ کی ہر طرح تمام اسلامی فرائض کی ادا ئیگی میں مدد کر سکے ۔ جبکہ غیر مسلم دوستوں کےے اسلامیی رازوں شریک کرنے اضازت نہیں ہے اس لیئے کہ ان کے مفادات مختلف ہیں۔
مثلا ً اسلامی ٹرسٹ کا چیر مین یا لڑکیوں کا ولی وغیرہ جو خالس اسلامی فرائض اس میں غیر ولی نہیں بن سکتا۔ تو ایک طرف اس کے غلط معنی سمجھنے کی وجہ سے لوگ گمراہ ہو گئے اور دوسری طرف لوگ اتنے بڑھے کہ سارے راز و نیاز صرف انہیں کے ساتھ کر نے لگے ۔جو آج لیک ہو کر ہمارے سامنے آرہے ہیں حلانکہ یہ بدبوں تو فضا میں سالوں سے تھی اور وقت کے ساتھ ساتھ حکومتی حلقوں کے خلاف اڑ نے افواہیں بعد میں سچ ثابت ہو تی رہتی تھیں ۔ مگر اب ایسا لگ ہے کہ جیسے کسی بچے کا ڈرائپر لیک ہو گیا ہو اور بد بو پوری کمرے میں پھیل گئی اور با ہر نکلنے سے رو کنے کے لیئے خوشبو کا چھڑ کاؤ کیا جا رہا ہو۔جبکہ یہ سب جانتے ہیں کہ ڈرائیپر بد لے بغیر بدبو دور نہیں ہو سکتی ۔ اللہ بھلا کرے وکی لیک کے بانی ڈائریکٹر کا کہ جنہوں اپنی زندگی تو کمپیوٹر کے راز چوری کر نے سے شروع تھامگر آجکل بھلا ئی میں لگے ہو ئے ہیں اور غیبت کو روکنے کے کو شاں ہیں اپنے فن کو استعمال کر کے بہت سو ں کا ملمع اتار نے کا با عث بن رہے ہیں اور لطف یہ ہے کہ انہوں نے جو دست آویزات جاری کی ہیں انہیں ابھی تک یہ کسی نے نہیں کہا کہہ غلط ہیں بلکہ مفروضے کی بنا پراس کے مقصد پر بات کرر ہیں کہ وہ عالم اسلام کو لڑانا چا ہتا ہےجبکہ عالم اسلام بہت ہی متحدہےاس کا ثبوت یہ ہے کہ بعض لیڈر تو ایک تیبل پر بیتھنے کو بھی تیار نہیں ہیں؟

اب ہم سب کے پا س ایک ہی حربہ رہ گیا ہے کہ کہدیں کہ یہ سب جھوٹ ہے یا یہ کہ ہندوستان کی سا زش ہے یا اسرا ئیل کی سازش ہے ؟پہلے ہر کام ہمارے بجا ئے شیطان کر تا تھا اور اب یہ دونوں طا قتیں ہمارے، پیچھے پڑی ہو ئی ہیں اور ہم بہت معصوم ہیں ؟
لہذا ہمیشہ کی طرح سب کہہ رہے ہیں کہ سب جھوٹ ہے ۔ اور آج پاکستانی کابینہ کی دفا عی کو نسل نے بھی اسے یہ کہہ کر مذمت کی ہے کہ یہ عالم اسلام کو لڑانے کی سازش ہےچونکہ پاکستاں شدت پسندی کے خلاف جنگ میں بہت آگے ہے لہزا ہمیں نشانہہ بنا یا گیا ہے ۔جبکہ سچ یہ ہے کہ یہ دیواروں کے کان ہو نے کا کر شمہ تھا کہ ان میں کی اکثر خبریں افواہوں کی شکل میں پہلے ہی لیک ہو چکی تھیں۔ مگر افواہیں تھیں لہذا لو گوں نے یقین نہیں کیا ۔مثلا ً یہ خبر کہ ایک مو لا نا جو کہ ایک سدا بہار پارٹی کہ لیڈربھی ہیں وہ وزارت ِ عظمیٰ کے امید وار ہیں اور اس سلسلہ میں انہوں نے امریکہ سے را بطہ بھی قائم اور کیاکہ ہمیں بھی چانس دو پھر دیکھو کہ ہم آپ کے لیئے کیا کر تے ہیں ۔ یہ خبر بھی بہت عرصے دنیا میں گردش کر رہی کہ ایک عرب ملک چا ہتا ہے کہ امریکہ ایران پر حملہ کر دے ؟مگر تھی افواہ کی شکل میں اور جبکہ یہ خبریں وکی لیک میں آگئیں تو سب پریشان ہیں اور کوشش کر رہے کہ انہیں جھوٹ ثابت کر یں بھائی ایسا کرتے ہی کیوں ہو کہ بعد میں پریشانی ہو ؟

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کرتے کیوں ہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر ایک کو اپنے آقا کی نگاہ میں سر خرو ہونا اورنمبر بنا نے ہو تے ہیں اور ثابت کر نا ہوتا ہے کہ میں جو کام آپ کے لیئے کر رہاں وہ دوسرا نہیں کر سکتا لہذا ہر متوقع امید وار کی برا ئیاں کر نا بھی ضروری ہیں ۔لیکن یہ نہیں جانتے کہ اس کو دشمن ان کے اپنے خلاف بھی استعمال کر سکتا ۔خاص طور پر اسلامی ملکوں کے خلاف ؟ کیونکہ اسلامی ملکوں میں جہاں کہیں بھی جمہو ریت نظر آئے اس ملک کے خلاف تو یہ وبا عام ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ با دشاہوں اور آمروں کو ہر جمہو ری ملک سے خطرہ لگا رہتا ہے جب سے ایران میں جمہو ریت قائم ہو ئی ہے ہر حکمراں پر یشان ہے کہ کہیں خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ نہ پکڑ جا ئے۔ لہذا ہٹلر کے وزیر گوبل کی پالیسی اپنا ئے ہوئئے ہے کہ جھوٹ اتنا بولو کہ لوگ سچ سمجھنے لگیں۔ جبکہ جھوٹ کا معاملہ بھی یہ ہی کہ اگر ایک مر تبہ جھوٹ بولا اور ثابت ہو گیا تو زندگی بھر لوگ اعتبار نہیں کر یں گے ۔ اسی اسلام نے سختی سے جھوٹ بولنے کو منع کیا اور اس کو ام الگناہ کہا ۔ لیکن اس میدان میں بھی صورت حال یہ ہی کہ سب سے زیادہ مسلمان جھوٹ بو لتے ہیں ۔ خواہ بظاہر وہ آپ کووضع قطع سے کتنے اچھے دکھا ئی دیں ۔ہم اپنا ایک واقعہ سنا تے ہیں کہ ہم ١٩٥٧ میں میر پو ر خا ص پہونچے تو دیکھا کہ ایک شخص انتہائی متقی نظر آرہا ہے اور اس کی ریش ِمبارک گھٹنو ں کو چھو رہی ہے؟ تو ہم نے سوچا کہ اس سے زیادہ متقی شاید ہی کو ئی ہو؟ لہذا لوگوں کے سامنے ذکر کرنا شروع کیا تو انہوں نے بتایا کہ بچ کے رہنا یہ بہت بڑا جالساز ہے ؟ یقین نہیں آیا ہم لو گوں سے ذکر کرتے رہے ۔ اور جو اس کا کردار تھا لوگ بتا تے رہے۔ جو ہمارے لیئے بڑا عجیب تھاکہ اس وقت تک ہم نے دنیا نہیں دیکھی تھی۔جن سے ہم نے ذکرکیا ان میں ایک وکیل صاحب بھی تھے ۔ انہوں نے ہمیں دعوت دی کہ آج آپ سول کورٹ میں آجا ئیں، ان کا ایک مقدمہ ہے ۔ میں آپ کوعملی طور پر ثابت کر کے دکھا ؤنگا ؟ ہمیں بھی ضد تھی کہ وہاں پہونچ گئے ان کا مقدمہ پیش ہوا وہ شخص وکیلِ مخالف تھا لہذا س نے ان پر سواالوں کی بو چھاڑ کر دی اور وہ ہرسوال کا جواب “دیتے رہے کہ غلط ہے“ چونکہ غلط کاریکا رڈ چل رہا تھا وکیل نے بیچ میں پو چھ لیا، انہیں کے بیٹے کا نام لیکر جو کہ خود بھی وکیل تھا کہ وہ آپکا بیٹا ہے یا نہیں ؟وہ روانی میں کہہ گئے کہ یہ بھی جھوٹ ہے ؟

اس ک بعد جج صاحب نے خود مداخلت کی اور کہا کہ حا جی صا حب بیٹھ جا ئیے ۔ اور پٹے والے سے کہہ کر ان کے لیئے ٹھندا پانی منگوا یا اور پھر تھوڑی دیر کے بعد وہی سوال انہوں نے خود پو چھا کہ حاجی صاحب فلا ں آپکا بیٹا ہے یا نہیں ؟ تب حا جی صاحب کو ہوش آیا اور انہوں نے پہلی دفعہ جھوٹ کی رٹ چھوڑ کر سچ بولا کہ ہاں وہ میرا بیٹا ہے ۔اب ہمیں وہاں رکنے ضروت اس لیئے نہیں رہی تھی کہ مزید ثابت کرنے کے کچھ نہیں رہ گیا تھا اور فیصلہ اس سچ کی روشنیی ہم نے خود اخد کرلیا تھا۔کیونکہ ہمیں اسلام نے یہ سکھایا ہے کہ ایک مرتبہ کو ئی جھوٹا ثابت ہو جا ئے تو اس کی شہادت بھی تا عمرقبول نہ کی جا ئی مگر ہمیں یہ دیکھ کر حیرت ہو تی ہے کہ لوگ ہمیشہ جھوٹے انتخابی وعدے کرتے ہیں اور پھر جاتے ہیں اس کے با وجود بھی لوگ انہیں کو ووٹ دیتے ہیں حالانکہ وہ بھی ہماری طرح مسلمان ہیں ۔جبکہ ہا دی برحق (ص) نے یہ بھی فرمادیا کہ مومن ایک سوراخ سے دوبا ر نہیں ڈسا جا سکتا؟ البتہ اس وکی کے آئنہ دکھانے سے تمام اہلِ سیاست کو اپنے چہرے نظر آنے لگے ہونگے اور عوام کو بھی ان کے مکروہ چہرے نظر رہے ہیں اور شاید سیاست داں یہ بھی جان جا ئیں کہ کہتی ہے انہیں خلقِ خدا غا ئبانہ کیا؟