PDA

View Full Version : سی این جی سیکٹر ختم، پی آئی اے کی صورتحال تشویشناک، اسپتالوں کا کلینکل کچرا



سید انور محمود
12-12-2012, 07:10 AM
از طرف: سید انور محمود

http://s5.postimage.org/jw0rrjybb/cng_close.jpg

سی این جی سیکٹر کو ختم کرنے کا پلان کابینہ کو بھیج دیا گیا
وزارت پیٹرولیم و قدرتی وسائل نے سی این جی سیکٹر کو ختم کرنے کے چار نکاتی پلان کو حتمی شکل دے دی ہے اور منظوری کے لیے اپنی سفارشات وفاقی کابینہ کو بھیج دی ہیں، وزارت کی سفارشات وفاقی کابینہ کو بھیج دی ہیں، وزارت کی سفارشات میں کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کو صرف پبلک ٹرانسپورٹ تک محدود کرنے اور اس کی قیمت بی ٹی یوکی بنیاد پر پیٹرول کے نرخ کے 80فیصد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے، کابینہ کو بھیجی گئی سمری کی کاپی اخبار کے پاس موجود ہے، جن کا واضح مطلب ہے کہ سی این جی شعبہ کو ختم کرنے کا پلان تیار کرلیا گیا ہے اور وزیراعظم کے مشیر برائے تیل وقدرتی وسائل نے اس کی منظوری دے دی ہے، پلان کے لیے نکتہ کے مطابق ملک بھر میں سی این جی کا استعمال محدود کرنے کے پیش نظر 25/لاکھ پرائیویٹ گاڑیوں میں سی این جی کے استعمال پر پابندی لگادی جائے گی، صرف پبلک ٹرانسپورٹ سی این جی پر چل سکیں گی تاکہ مسافروں کے کرایوں کو استطاعت کے اندر رکھا جاسکے۔

چلو چھٹی ہوئی، نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری۔ اب صرف کراچی میں دس ہزار سے زائد بسیں اور ویگن موبائل بم بنکر سڑکوں پر دندانتی رہیں گیں ، طالبان والے کوئی اور کام تلاش کریں
---------------------------------------
http://s5.postimage.org/uumlncghj/pia2.jpg

پی آئی اے کی صورتحال تشویشناک ہے ،وزیر دفاع نوید قمر
وزیر دفاع سید نوید قمر نے کہا ہے کہ پی آئی اے کی صورتحال تشویشناک ہے ،ادارے میں یکے بعد دیگرے حادثات نہیں ہونے چاہئیں ، پانچ نئے طیارے فروری اور تین اگلے سال کی دوسری ششماہی میں مل جائیں گے۔اسلام آباد میں پی آئی اے سے متعلق اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر دفاع سید نوید قمر کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کے پاس جہازوں کی کمی ہے اور ادارہ پوری استعداد سے کام نہیں کررہا۔

زداری ٹولے کے ساتھ ساتھ اس وزیر دفاع کو بھی دفعہ کردیا جاے تو شاید کچھ بچ جاے۔
---------------------------------------

http://s5.postimage.org/6s5rsgzuf/kachra.jpg

اسپتالوں کا کلینکل کچرا
لاہور میں سرکاری اور پرائیوٹ اسپتالوں کا کلینکل کچرا ضائع کرنے کی بجائے سرعام فروخت کیا جارہا ہے، کچرے کے خریدار اسے ری سائیکل کرکے گھریلو اشیاء اور دیگر سامان تیار کرتے ہیں ،محکمہ ماحولیات نے اس کچرے کے دوگودام اور دوفیکٹریاں سیل کردیں۔ان گوداموں میں پڑا فضلہ کوئی عام فضلہ نہیں بلکہ اسپتالوں میں استعمال شدہ مختلف چیزوں کا ویسٹ ہے ،اس فضلے میں ڈیلسز ٹیوب،ماسک،سرنجز،گلوکوز اور بلڈ بیگز اوردیگر اشیاء شامل ہیں، فضلے کے خریداروں کا کہنا ہے کہ اسپتال انتظامیہ خود یہ اشیاء فروخت کرتی ہے۔ محکمہ ماحولیات نے کلینکل ویسٹ کے دوگودام اور دوفیکٹریاں سیل کردیں ، حکام کا کہنا ہے کہ زہریلے فضلے کی خریدوفروخت میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے لیکن وہ سفارش سے چھوٹ جاتے ہیں۔

کیا ہم بحیث قوم اخلاقی طور پر دیوالیہ ہوگےہیں؟

سقراط
12-13-2012, 05:34 PM
کیا ہم بحیث قوم اخلاقی طور پر دیوالیہ ہوگےہیں؟
بالکل ہوگئے ہیں