PDA

View Full Version : دولت



ابوسفیان
12-15-2012, 07:25 PM
کیا دولت تخلیق بھی کی جا سکتی ہے؟ اسکا جواب ہے ہاں۔

بلا شبہہ سونا تخلیق نہیں کیا جا سکتا نہ چاندی تانبہ پیتل اور کانسی۔ مگر محنت کر کے اچھی فصل حاصل کی جا سکتی ہے جسے دھاتی کرنسی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح محنت کر کے طرزیات میں ترقی کر کے ایسی اشیا بنائ جا سکتی ہیں جو منڈی میں اچھی قیمت دے جائیں۔ محنت کر کے سونے چاندی وغیرہ کی کانوں سے دولت حاصل کی جا سکتی ہے۔ یعنی دولت محنت سے تخلیق ہوتی ہے اور محنت کرنے والے مزدور ہی ہمیشہ سے دولت کے تخلیق کرنے والے رہے تھے کیونکہ انکی محنت سے ہی خام مال قابل استعمال چیز کی شکل پاتا ہے اور استعمال کی جگہ تک پہنچتا ہے۔ دولت سے جو بھی چیز خریدی جاتی ہے اس پر کوئ محنت کر چکا ہوتا ہے۔ مزدور کےلیئے دولت خون پسینے کی کمائ یا خون جگر کی کمائی ہے۔ مگر ڈالر چھاپنے میں کوئ خاص محنت صرف نہیں ہوتی اور چھاپنے والوں کو یہ دولت بغیر محنت کے مل جاتی ہے۔ یعنی ہوا میں سے دولت تخلیق کی جا سکتی ہے۔ محنت کر کے دولت حاصل کرنا دولت کمانا کہلاتا ہے اور یہ حق ہر ایک کو حاصل ہے۔ مگر بغیر محنت کے دولت تخلیق کرنے کا نا جائز حق مراعت محض چند لوگوں کو حاصل ہے جو بےحد امیر ہو چکے ہیں۔ یہ لوگ مرکزی بینکوں کے مالکان ہیں۔
اس مخطط سے ظاہر ہوتا ہے کہ 28 سالوں میں 80 فیصد غریب اور مڈل کلاس لوگوں کی حقیقی آمدنی میں کوئ اضافہ نہیں ہوا ہے جبکہ ایک فیصد امیر ترین لوگوں کی آمدنی پانچ گنا بڑھ چکی ہے۔

اگر دنیا کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ پچھلے دو ہزار سالوں میں اٹھارہ سو سالوں تک دنیا کا سب سے امیر ملک ہندوستان رہا ہے اس کے بعد چین کا نمبر آتا تھا۔ ان ممالک میں محنت کرنے کے بھر پور مواقع موجود تھے اور خطیر مقدار میں پیداوار ہوتی تھیں۔ ان ممالک کا تجارتی سامان دنیا کے دور دراز علاقوں تک پہنچتا تھا۔ لیکن یہ اس وقت کی بات ہے جب کرنسی دھاتی ہوتی تھی۔ کاغذی کرنسی کے نظام نے محنت کرنے والوں کو شرح تبادلہ کی شعبدہ بازی کی وجہ سے نہایت غریب کر دیا ہے جبکہ کاغذی کرنسی چھاپنے والوں اور اسکے سہارے شرح تبادلہ تظبیط کرنے والے ممالک نہایت ہی امیر ہو گئے ہیں۔

1997 میں ایک سازش کے تحت ملیشیا کی کرنسی رنگٹ کی قدر اچانک گر کر تقریباً آدھی رہ گئی۔ اس پر ملیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ سارے اسلامی ممالک سونے کا دینار خود بنائیں اور آپس کی لین دین کے لیئے امریکی ڈالر کی بجائے سونے کا دینار استعمال کریں۔ مہاتیر محمد نے اعلان کیا تھا کہ 2003 کے وسط تک وہ یہ دینار جاری کر دیں گے۔ ظاہر ہے کہ اگر ایسی سونے کی کرنسی میں لین دین کا رواج آ گیا تو شرح تبادلہ کی ضرورت ختم ہو جائے گی جس پر مغربی ممالک کی ثروت کا انحصار ہے۔ اس لیئے 2003 میں مہاتیر محمد کو 22 سالہ پرائم منسٹری سے ہٹا کر عبداللہ احمد بداوی کو وزیر اعظم بنایا گیا جس نے ملکی سطح پر دینار جاری ہونے رکوا دیئے۔ ملیشیا کی ایک اسٹیٹ کیلانتن نے پھر بھی 20 ستمبر 2006 کو سونے کے دینار جاری کیئے جنکا وزن 4.25 گرام ہے اور یہ 22 قیراط سونے سے بنے ہوئے ہیں۔

صدام حسین نے بھی ایسی ہی جسارت کی تھی۔ اس نے یہ کوشش کی تھی کہ عراق کو تیل کا معاوضہ امریکی ڈالر کی بجائے کسی اور کرنسی میں دیا جائے۔ یہ امریکی ڈالر کی مقبولیت پر براہ راست وار تھا۔ اسکا یہ ناقابل معافی جرم آخر کار اسے لے ڈوبا۔ لیبیا کے معمر قذافی نے صدام حسین کے انجام سے کوئ سبق نہیں سیکھا اور افریقہ میں تجارت کے لیئے سونے کا دینار نافذ کرنے کا ارادہ کیا اس لیئے اسکا بھی وہی حشر کرنا پڑا۔

2007 سے ایران نے بھی اپنے تیل کی قیمت امریکی ڈالر میں وصول کرنا بند کر دی ہے اگر امریکہ ایران پر حملہ کرتا ہے تو ایران انتقاماً اسرائیل پر حملہ کر دے گا۔


اگر آج بھی کاغذی کرنسی کی جگہ سونے چاندی کو خرید و فروخت کے لیئے کرنسی کی طرح استعمال کیا جائے تو ہندوستان اور چین کا شمار امیر ترین ملکوں میں ہونے لگے گا اور امریکہ جلد ہی غریب ممالک کی فہرست میں شامل ہو گا۔ اور اسی لیئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اس بات کا سب سے بڑا مخالف ہے۔


⋖ ⋗⋖ ⋗⋖ ⋗⋖ ⋗⋖ ⋗⋖ ⋗⋖ ⋗⋖ ⋗⋖ ⋗⋖ ⋗⋖ ⋗⋖ ⋗⋖ ⋗⋖ ⋗⋖ ⋗₨¥