PDA

View Full Version : پشاور ائر بیس پر حملہ



بےباک
12-16-2012, 07:40 AM
http://express.com.pk/images/NP_LHE/20121216/Sub_Images/1101697130-1.jpg
http://express.com.pk/images/NP_LHE/20121216/Sub_Images/1101697139-1.jpg
http://express.com.pk/images/NP_LHE/20121216/Sub_Images/1101697139-2.gif

انا للہ و انا الیہ راجعون ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج صبح جب ٹی وی پر یہ خبر چل رہی تھی ، کہ امریکن قنصل خانے کے سامنے سے غیر قانونی کنکریٹ دیوار توڑی جا رہی ہے ، اور پشاور کی انتظامیہ مزدور اور بلڈوزر لے کر وہ کنکریٹ سے بنی دیوار توڑ رہے تھے اور مجھے اپنی حکومت کی بےبسی دکھائی دے رہی تھی ، ۔ تو اسی وقت میرے دماغ میں یہ خطرہ گونج رہا تھا کہ اب کوئی نہ کوئی ایسی کاروائی ضرور ہو گی ۔تاکہ امریکا اپنے اس کام کے لیے حق بجانب ثابت کرے کہ اس کے قونصل خانے کو دھشت گردوں سے خطرہ تھا اور خطرہ ہے ،
خیبر روڈ کی طرف سے ایک ہی رات میں کنکریٹ سے دیوار بنا دی گئی اور وہ بھی بغیر اجازت لئے ، اور بغیر اطلاع دئیے ۔ یعنی قلعہ کی حفاظت کے لیے
خبر کا متن ملاحظہ ہو۔ http://www.pakistantoday.com.pk/2012/12/15 کے پہلے صفحے پر یہ خبر جگمگا رہی ہے ،

‘Protection wall’ around US Consulate in Peshawar demolished
PESHAWAR - The under-construction “protection wall” around the United States Consulate in Peshawar was demolished by officials of the Peshawar Cantonment Board on Friday.

“It was illegal… was encroachment, therefore, had to be demolished,” said one of the official.

The wall, construction of which had begun a day ago on Khyber Road was being built to further tighten the security of the consulate.

The official said the Cantonment Board was going to lift all barricades blocking roads and routes connecting to the US Consulate with the rest of the city.

Over two dozen workers of the Peshawar Cantonment Board, equipped with construction and destruction tools, demolished the wall.

http://urdulook.info/imagehost/?di=KMID

اس سے پہلے بھی 2 جولائی 2012 میں ایسی ہی کوشش امریکا کر چکا تھا اور وہ بھی دیوار گرا دی گئی تھی۔
بعد میں حکام نے امریکی قونصل خانے کی غیر قانونی تعمیر کی گئی دیوار گرا دی پشاور ٹاون 3 کے حکام کے مطابق قونصل خانے نے دیوار نے کافی اونچی تعمیر کی تھی جس کی پہلے سے اجازت نہیں لی گئی تھی۔ بلڈنگ کے مالک کو غیر قانونی دیوار تعمیر کرنے پر نوٹس دی گیا تھا۔اور اس نے اپنے طور پر دیوار گرانے کا وعدہ کیا تھا مگر جب دیوار نہیں گرائی گئی تو انتطامیہ نے بلڈوز کے ذریعہ بم پروف دیوار گرا دی۔ امریکی قونصل خانے کی پچاس کمروں پر مشتعمل یہ نئی تین منزلہ بلڈنگ امریکن کلب کے برابر میں واقع ہے

تانیہ
12-16-2012, 01:51 PM
افففف
رات سے یہی سب دیکھ رہی
اللہ معاف کرے
شیئرنگ کے لیے شکریہ بےباک جی

pervaz khan
12-16-2012, 02:01 PM
اچھی شئیرنگ کا شکریہ

بےباک
12-19-2012, 11:57 AM
http://ummatpublication.com/2012/12/19/images/story3.gif

tashfin28
01-02-2013, 08:25 PM
پشاور ائرپورٹ پر دہشتگرد حملہ

محترم قارئين
السلام عليکم

میں اس پر کوئی زيادہ حيران نہيں کہ بعض مبصرین ناحق پشاور ایئر پورٹ پر حالیہ حملے کے لئے امریکہ پر الزام عائد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان ميں کچھ نا سمجھ لوگوں کی يہی سوچ رہی ہے۔

جب کبھی دہشت گرد کی جانب سے سیاسی اور مذہبی رہنماؤں، صحت کے کارکنوں، اور پاکستان میں بے گناہ لوگوں پر دہشت گرد حملے ہوتے ہيں، تو ان حملوں کی مذمت اور مسلۓ پر پر مغز اور تعميری بحث کے ذريعے مثبت اور ديرپا حل تلاش کرنے کی بجاۓ "بيرونی عناصر" اور "امريکی سازش" جيسے نعرے لگا کر اپنی تمام ذمہ داريوں سے ہاتھ صاف کر ليۓ جاتے ہيں۔

امريکی حکومت کا ہميشہ يہ موقف رہا ہے کہ يہ دہشت گرد مجرم ہيں جو اپنے برائی پر مبنی سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کيلۓ کھل کر مذہب کا استعمال کررہے ہيں۔
جرائم پر پردہ ڈالنے کے ليے مذہب کا سہارا ليتے ہيں۔ پاکستانی حدود کے اندر ازبک اور چيچين دہشت گردوں کی موجودگی کسی کے ليے باعث حيرت نہيں ہونی چاہيے۔ پاکستان کی حکومت اور عسکری قيادت اس حقيقت سے بخوبی آگاہ ہے۔ اس ضمن ميں آپ کی توجہ سال 2009 ميں پاک فوج کے سربراہ جرنل اشفاق کيانی کے ايک بيان کی جانب دلوانا چاہوں گا جس ميں انھوں نے وزيرستان ميں فوجی آپريشن کے موقع پر انھی حقائق کو ان الفاظ ميں واضح کيا تھا کہ "جنوبی وزيرستان ميں آپريشن نڈر اور حب الوطن محسود قبائل کے خلاف نہيں ہے بلکہ ان عناصر کے قلع قمع کے ليے ہے جنھوں نے خطے کا امن غارت کر ديا ہے۔ اس آپريشن کا ہدف ازبک دہشت گرد، غير ملکی عناصر اور مقامی عسکريت پسند ہيں"

http://archives.dawn.com/archives/38727

دہشت گردی کی يہ واقعات صرف پاکستان ميں نہيں ہو رہے، حقيقت يہ ہے کہ يہ دہشت گرد جو کم سن بچوں کو خودکش حملہ آوروں ميں تبديل کر کے برطانيہ، عراق، الجزائر، پاکستان اور افغانستان سميت دنيا کے کئ ممالک ميں بغير کسی تفريق کے بے گناہ انسانوں کا خون بہا رہے ہيں، يہ کسی اخلاقی اور مذہبی قدروں يا روايات کو مقدم نہيں سمجھتے۔

آخر میں، ميں اس بات کا اعادہ کرنا چاہتا ہوں کہ امریکی حکومت پاکستانی عوام کيساتھ نے ان ظالموں اور مجرموں کے خلاف ان کی جنگ میں مضبوطی سے کھڑی رہينگی جن انتہا پسندوں نے اپنے مذموم سیاسی مقاصد کو حاصل کرنے کيلۓانسانیت کے تمام حدودں سے تجاوز کر چکے ہيں۔ ان انتہا پسندوں کو شکست دينے اور پاکستان اور خطے میں پائیدار امن بحال کرنے تک ہماری عزم جاری رہيگی۔

تاشفين – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
www.state.gov
https://twitter.com/#!/USDOSDOT_Urdu
http://www.facebook.com/USDOTUrdu