PDA

View Full Version : 2012 کی بہترین طبی ایجادات



سقراط
12-18-2012, 12:13 AM
سرخ انتباہ | ذیابیطس کے کئی مریضوں کو باقاعدگی سے اپنا جسم چھیدنا پڑتا ہے تاکہ خون میں گلوگوز یا شکر کی سطح دیکھ سکیں۔ یہ عمل خاصا تکلیف دہ ہے کیونکہ بدن میں جگہ جگہ چھید ہوجاتے ہیں۔مریضانِ ذیابیطس کی اس مشکل کو مدنظر رکھ کر کینیڈا کی ویسٹرن اونٹاریو کے محقق جن زیانگ نے ایک کرشماتی لینز ایجاد کیا ہے۔ جب خون میں شکر کی سطح بڑھ جائے، تو وہ سرخ ہو کر مریض کو اس امر کی اطلاع دیتا ہے۔ یہ کنٹیکٹ لینز دراصل ننھے منے ’’نینو ذرات‘‘ رکھتا ہے۔

یہ نینو ذرات آنسوئوں کے محلول میں مسلسل شکر کی سطح کو چیک کرتے ہیں۔ جب بھی سطح بڑھے، تو وہ اپنا رنگ تبدیل کرکے سرخ ہوجاتے ہیں۔ اس عمل کے دوران انسان کی بصارت بالکل متاثر نہیں ہوتی۔ چنانچہ خون میں سطحِ شکر کی پڑتال کرنے کے سلسلہ میں یہ بڑا سہل اور مؤثر جدید آلہ ہے۔ یہ واضح رہے کہ آنسوئوں کے محلول میں خون کی نسبت شکر کی سطح ۳۰منٹ بعد بڑھتی ہے۔ تاہم بیشتر مریض جِلد چھیدنے کے دو مرحلوں کے درمیان چند گھنٹوں کا وقفہ رکھتے ہیں لہٰذا یہ بے ضرر کنٹیکٹ لینز انھیں جلد چھیدنے کے تکلیف دہ عمل سے بے نیاز کر دیتا ہے۔

نئی قسم کی ویکسین | انسانی جسم میں ویکسین سرنج کے ذریعے داخل کی جاتی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ بدنِ انسان میں جو ’’مامون‘‘ یا ہمیں بیماریوں سے محفوظ رکھنے والے خلیے ہیں، وہ تندرست و توانا ہو جائیں اور بیماری کا بخوبی مقابلہ کریں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ویکسین بہت کم مامون خلیوں تک پہنچ پاتی ہے۔

یہی مسئلہ مدنظر رکھ کر آسٹریلوی یونیورسٹی آف کوئنزلینڈ کے محقق، پروفیسر مارک نے ایسی چیپی تیار کی ہے جس پر ننھے منے نوکیلے اُبھار ہیں۔ جب ان اُبھاروں پر ویکسین لگائی جائے، تو وہ اسے جلد کی بالائی سطح پر موجود مامون خلیوں تک براہِ راست پہنچا دیتے ہیں۔ (انسانی جسم میں اسی جگہ سب سے زیادہ مامون خلیے ملتے ہیں۔ یوں نہ صرف ویکسین فوراً ماموں خلیوں تک پہنچتی ہے بلکہ ٹیکا لگانے کی بھی ضرورت نہیں رہتی۔

اس چیپی کا ایک اور بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس میں خشک ویکسین لگتی ہے جسے ریفریجریٹر میں رکھنے کی ضرورت نہیں۔ مزیدبرآں وہ زیادہ عرصہ چلتی ہے۔ چنانچہ اسے غریب ممالک میں بکثرت استعمال کرنا ممکن ہے جہاں شہروں میں ریفریجریٹر کم ملتے ہیں۔ نیز کسی وبا کے دوران یہ چیپیاں ہزاروں لاکھوں مریضوں کی جانیں بچا سکتی ہیں۔

نسوں کی شناخت ہوئی آسان | ایک کلینک یا ہسپتال میں تجربہ کار نرسیں یا ڈاکٹر بھی عموماً مریض کے بدن میں متعلقہ نس ڈھونڈتے ہوئے خاصے پریشان ہوتے ہیں خون لینے یا ٹیکا لگانے کے لیے۔ ایک تحقیق سے انکشاف ہوا کہ ۵۰فیصد تک پہلی کوششیں ناکامی کا شکار ہو جاتی ہیں۔چنانچہ امریکی ماہرین نے ’’نس شناخت کنندہ‘‘ ایجاد کیا۔ اس کے ذریعے جلد کی ۱۰ملی میٹر گہرائی تک کسی بھی نس کو تلاش کرنا ممکن ہے‘‘۔ یہ آلہ انسانی بدن پر سبز رنگ کی ’’نزد۔زیریں‘‘ سرخ روشنی چھوڑتا ہے۔ یہ روشنی جلد کو بالکل نقصان نہیں پہنچاتی اور نہ ہی حرارت پیدا کرتی ہے۔ یوں اس انوکھے آلے نے نسوں کی تلاش کا کٹھن کام آسان بنا دیا۔یہ آلہ امریکا اور سنگاپور کے ہسپتالوں میں استعمال ہو رہا ہے۔ اس کی وجہ سے خصوصاً بچوں میں ٹیکا لگنے کا خوف کم ہوگیا اور وہ اس کی ٹھنڈی سبز روشنی پسند کرتے ہیں۔

نوزائیدہ بچے بچانے کا نیا طریقہ | جیسے ہی بچہ جنم لے، نرس یا دایہ آنول نال کاٹ دیتی ہے، لیکن آسٹریلیا میں وینر سنٹر فار نیوبورن سے منسلک سائنسدان ڈاکٹر وسیم تارنو نے دریافت کیا ہے کہ اگر دو تین منٹ انتظار کر لیا جائے تو بچہ کمیِ خون کے مرض سے بچ سکتا ہے۔

دراصل جب بچہ جنم لیتا ہے، تو اس کے جسم کا بیشتر خون پھیپھڑوں کی نالیوں میں جمع ہو جاتا ہے۔ یوں دیگر اعضائے جسم میں کمی خون کا خلل جنم لے کر مختلف خرابیاں پیدا کرتا ہے۔لیکن نرس یا دایہ بچے کی پیدائش کے بعد اُسے دو تین منٹ آنول سے نیچے تھامے رکھے، تو ماں کے جسم سے اُسے مزید خون مل جاتا ہے۔ یوں کمی خون پیدا نہیں ہوتی۔ مزیدبرآں اس عمل کے ذریعے بچے کے بدن میں فولاد کا بھی اچھا خاصا ذخیرہ ہو جاتاہے۔

مرہم پٹی کی جدید قسم | ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ زخم پر روزانہ نئی مرہم پٹی ہونی چاہیے تاکہ پتا چلتا رہے کہ وہ ٹھیک ہو رہا ہے یا نہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب بھی نئی مرہم پٹی ہو تو نہ صرف عمل صحت یابی رکتا ہے، بلکہ زخم سے نئے جراثیم بھی چمٹ سکتے ہیں۔ یہی مسئلہ حل کرنے کی خاطر میونخ، جرمنی میں فرائوہوفر ریسرچ انسٹی فار موڈولر سولڈسٹیٹ ٹیکنالوجیز کے ماہرین نے نئی قسم کی مرہم پٹی ایجادکی ہے۔

اس مرہم پٹی کا کرشمہ یہ ہے کہ وہ چھوئے بغیر معالج یا مریض کو بتا دیتی ہے کہ اُسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں۔ دراصل یہ نئی مرہم پٹی اپنا رنگ تبدیل کرکے اس امر کی اطلاع دیتی ہے۔اس جادوئی مرہم پٹی کا راز ایسی ڈائی میں پوشیدہ ہے جو جلد کی بدلتی پی ایچ سطح نوٹ کرکے اپنا رنگ دکھاتی ہے۔ دراصل صحت مند اور مندمل شدہ زخم کی پی ایچ قدر (ویلیو) ۵ سے نیچے ہوتی ہے۔ چنانچہ یہ قدر ۵ئ۶ اور ۵ئ۸ کے مابین ہو، تو یہ اس امر کی علامت ہے کہ زخم ٹھیک نہیں ہوا۔ جو اس بات کی علامت ہے کہ نئی ڈریسنگ ہونی چاہیے۔

ایک تیر سے دو شکار | چند سال قبل امریکی ماہرین طب نے انبریل نامی دوا ایجاد کی تھی۔ یہ ’’امراض خود منیع‘‘ دورکرنے میں کام آتی ہے۔ (یعنی وہ امراض جن میں انسانی بدن ازخود حرکت کرنے لگتا ہے)۔ اب پتا چلا ہے کہ یہ اہم دماغی مرض، الزائمر میں بھی مفید ہے۔ اس مرض میں مبتلا مریض بتدریج اپنی یادداشت کھو بیٹھتا ہے۔

یہ دوا ایک خاص پروٹین، ٹی این ایف (ٹیومرنیکرویسیس فیکٹر) کو نشانہ بناتی ہے۔ یہ پروٹین الزائمر کے مریضوں کے دماغ میں غیر معمولی طور پر زیادہ پایا جاتا ہے۔ جب دوا بذریعہ انجکشن گردن میں داخل کی جائے، تو یہ بہت جلد پروٹین کی سطح معمول پر لے آتی ہے۔ یوں مریض کی یادداشت بہتر ہوتی اور وہ ارتکاز کی قدرت بھی حاصل کرلیتا ہے۔

جادوئی آئینہ | امریکی یونیورسٹیوں ایم آئی ٹی اور ہارورڈ کے ماہرین مل کر ایسا کرشماتی آئینہ ایجاد کر رہے ہیں جو برش کرتے انسان میں نبض کی رفتار، دل کی دھڑکن، سانس لینے کی شرح نوٹ کرے گا۔ یہ عام آئینہ کی طرح ہی ہوگا، مگر ایک ڈیجیٹل باکس کی طرح درج بالا انسانی جسم کے اشارے عیاں کرے گا۔اس آئینے میں ایک طاقتور مانیٹر نصب ہے۔ وہ چہرے پر خون کی نالیوں میں بہائو کے معمولی انحراف کو بھی نوٹ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہی انحراف جان کر وہ بتائے گا کہ اس وقت ہماری رفتار نبض، حرکت قلب اور رفتارِتنفس کیا ہے۔خاص بات یہ ہے کہ آئینہ میں ظاہر ہونے والا یہ ڈیٹا بذریعہ انٹرنیٹ خاندانی ڈاکٹر کو بھیجا جائے گا۔ وہ پھر روزانہ اور ماہانہ کا حساب رکھ کر اس امر پر نظر رکھے گا کہ فرد کسی مرض میں مبتلا تو نہیں ہو رہا؟

جسم انسانی کے پرزہ جات | انسان کا کوئی عضو خراب ہوجائے، تو پھر اسے ہمیشہ کے لیے اس سے ہاتھ دھونے پڑتے ہیں۔ خصوصاً آنکھ، پٍِتّہ، کان وغیرہ خراب ہو جائے تو انسان آیندہ زندگی گزارتے ہوئے بڑی تکالیف برداشت کرتا ہے لیکن اب رفتہ رفتہ صورتِ حال بدل رہی ہے۔یورپی اور امریکی ماہرین طب و سائنسدان ہر سال قدم بہ قدم مشینی و مصنوعی اعضا بنانے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اب تک مشینی بازو، ٹانگیں، آنکھیں، کان وغیرہ ایجاد ہوچکے۔ اب اگلا مرحلہ ایسے مصنوعی اعضا بنانے کا ہے جو انسانی اعضاء جیسے نہیں تو کم از کم ان سے ملتے جلتے ضرور ہوں۔

دماغ: امریکا کی یونیورسٹی آف سائوتھرن کیلی فورنیا نے بذریعہ نینوٹیکنالوجی ایسا ننھا منا برقی سرکٹ بنایا ہے جو بالکل نیورون کی طرح کام کرتا ہے۔ واضح رہے، ہمارا دماغ انہی نیورونوں کا مجموعہ ہے۔ یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے کیونکہ دماغ کا ایک بھی نیورون خراب ہوجائے، تو پھر اس کی مرمت نہیں ہو سکتی۔ اگر ماہرین طب مصنوعی نیورون ایجاد کرلیں، تو یوں بیشتر دماغی امراض کا علاج آسان ہوجائے گا۔

تاہم ماہرین نے ابھی کئی کٹھن مراحل طے کرنے ہیں۔ پہلا مرحلہ یہ ہے کہ ۲ برقی سرکٹوں کو باہم کیونکر ملایا جائے کہ وہ باہمی ربط ضبط سے کام کرنے لگیں، جیسے ء۲ دماغی نیورون اپنی سرگرمیاں انجام دیتے ہیں۔ پھر دماغ میں نیورونوں کے مابین مسلسل نئے جوڑ بنتے رہتے ہیں۔ ماہرین کو اس مشکل سے بھی عہدہ برآہ ہونا ہے۔
پِتّہ: امریکی سائنس دان ایسا مصنوعی پِتّہ بنانے کے قریب ہیں جو ذیابیطس قسم اوّل کا شکار لوگوں میں نظام انسولین منظم کرے گا۔

انسولین پمپ اور گلوکوز سینسروں پر مشتمل یہ مصنوعی عضو جسم میں انسولین کی درست مقدار خارج کرے گا اور خون کے مسلسل ٹیسٹوں کی ضرورت نہیں رہے گی۔ یوں مستقبل میں ذیابیطس کے قسم اوّل کے لاکھوں مریضوں کو روزانہ انسولین لینے اور خون کے ٹیسٹ کرانے سے نجات مل جائے گی۔
آنکھ: آسٹریلوی سائنسدان اگلے سال تک مصنوعی آنکھ ایجاد کرلیں گے۔ یہ مصنوعی آنکھ ایک مائیکرو چپ اور برقی عینک پر مشتمل ہے۔ مائیکروچپ پردہ چشم پر نصب ہوگی۔ پھر بینائی سے محروم فرد برقی عینک لگائے گا۔ یہ برقی عینک جو مناظر دیکھے گی، انتہائی طاقتور ریڈیائی سگنلوں کی صورت مائیکروچپ کو بھجوائے گی۔ چپ سگنلوں کو برقی تحریکی لہروں میں بدلے گی۔
پردہ چشم فطری انداز میں ان برقی تحریکی لہروں بذریعہ بصری عصب دماغ تک پہنچائے گا۔ دماغ پھر انسان کو اس قابل بنا دے گا کہ وہ منظر خاصی حد تک دیکھ سکے۔ ماہرین کے مطابق یہ مصنوعی آنکھ بوڑھے مردوزن کے لیے خصوصاً مفید ثابت ہوگی جن کی بینائی عمر کے باعث کمزور ہوجاتی ہے۔

خراٹے ختم کرنے والا تکیہ | جو لوگ نیند کی ایک بیماری آبسٹریکٹیوسلیپ اپنویا میں مبتلا ہوں، وہ بڑے زوردار خراٹے لیتے ہیں۔ اس طبی خلل میں نہ صرف جسم میں خون کا دبائو کم ہوتا بلکہ خون میں آکسیجن کی مقدار بھی گھٹ جاتی ہے۔ خون کا دبائو اور آکسیجن کی مقدار جتنی کم ہوگی، فرداتنے ہی باآوازبلند خراٹے لے گا۔ یہ خراٹے دوسروں کی بھی نیند حرام کر دیتے ہیں۔اس مسئلے کے حل کے لیے ٹوکیو کی واسیدہ یونیورسٹی کے محققوں نے قطبی ریچھ نما ایک انوکھا مشینی تکیہ ایجاد کیا ہے۔

اس تکیہ میں حساس آلات نصب ہیں جو خراٹوں کی آواز، خون کا دبائو اور آکسیجن کی سطح نوٹ کرتے ہیں۔ جب بھی خراٹے بلندہوں اور خون کا دبائو کم ہوجائے، تو تکیے کا مشینی بازو حرکت میں آتا اور ہولے سے چہرے یا سر پر ٹہوکا دیتا ہے۔ ٹہوکے کے باعث فرد کروٹ بدلتا ہے، یوں اس کی سانس معمول پر آجاتی ہے۔

دماغ ٹھنڈا کرنے والا کولر | سویڈن کے طبی ادارے، کارولنسکا انسٹی ٹیوٹ کے محققوں نے بعداز تجربات دریافت کیا ہے کہ اگر ہارٹ اٹیک کے فوراً بعد مریض کو تھیراپیوٹک ہائپوتھرمیا فراہم کیا جائے (یعنی دانستہ اس کا دماغ و بدن ٹھنڈا کر دیں) تو وہ موت کے منہ میں جانے سے بچ سکتا ہے لیکن یہی عمل بعدازوقت اپنایا جائے، تو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔

یہی دریافت مدنظر رکھ کر ادارے کے محققین نے ’’رائنوچل‘‘ نامی ایک کولر ایجاد کیا ہے۔ یہ کولر ناک کے ذریعے مادہ تبرید براہِ راست بدن اور دماغ تک پہنچاتا ہے۔ اگر ہارٹ اٹیک کے بعد ۱۰ منٹ کے اندر اندر مریض کو سی پی آر اور رائنوچل کا مادہ تبرید مل جائے، تو وہ ۹۰فیصد تک خطرہ کم کرتا ہے اور متاثرہ شخص کے دماغ کو بھی نقصان نہیں پہنچتا۔ رائنوچل بجلی کے بغیر بھی کام کرتا ہے۔

چھاتی کے سرطان کا بہتر معاینہ | دنیا میں ہر سال ہزارہا خواتین چھاتی کے سرطان (کینسر) کا نشانہ بنتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ اب تک کوئی ایسا سکینر نہیں تھا جو ابتدا ہی میں سرطانی گلٹی کو شناخت کرلے۔ چنانچہ جب سرطانی خلیے خاتون کے جسم میں جڑ پکڑ لیتے، تبھی اس آفت کا علم ہوتا مگر اب یہ تکلیف رفع ہونے والی ہے۔برطانوی سائنسدانوں نے ’’ملٹی سٹیٹک ارے پروسیسنگ فار ریڈیو ویو امیج ایکوزیشن‘‘ نامی ایک مشین تیار کی ہے۔ یہ مشین ریڈیائی لہروں کے ذریعے چھاتی کی گہری بافتوں میں چھپی گلٹی کو بھی ڈھونڈ نکالتی ہے۔ گویا اب خواتین کو چھاتی کا باقاعدہ معاینہ کرانے کی ضرورت نہیں، بس سال میں درج بالا مشین سے اسکیننگ کرانا کافی ہے۔

چل کر بے سکونی ختم کیجیے | مغرب میں ادراکی رویہ علاج کے ذریعے بے سکونی یا تشویش ختم کرنے کی سعی ہوتی ہے۔ یہ طریق علاج سب پر کارگر ثابت نہیں ہوا۔ تاہم ماہرین طب نے یہ ضرور دریافت کرلیا کہ بعدازعلاج اگر چہل قدمی یا تھوڑی بہت ورزش کی جائے، تو اس سے نتائج پر مثبت اثر پڑتا ہے۔

دراصل معمولی ورزش کرنے سے بھی ہمارا بدن ایک نیوروٹرانسمیٹر گلوٹامیٹ خارج کرتا ہے۔ یہ مادہ سکھلائی کے عمل میں ہماری مدد کرتا ہے۔ چنانچہ علاج کے بعد معتدل ورزش کی جائے، تو مریضوں کو رویے سیکھنے میں آسانی رہتی ہے۔ اس طرح علاج بھی زیادہ کامیاب ثابت ہوتا ہے۔

کام ہوا آسان | ء۱۵ سال قبل ہسپتالوں میں مصروفِ کار ڈاکٹروں کو کسی طبی مسئلہ سے پالا پڑتا، تو وہ گھنٹوں لائبریری میں رہتے اور حل کی تلاش میں سر کھپاتے لیکن اب انٹرنیٹ نے ان کا کام بہت آسان بنا دیا۔ آج ڈاکٹر چلتے پھرتے اپنے سمارٹ فون یا لیپ ٹاپ کے ذریعے زیادہ سے زیادہ ۱۰ منٹ میں دقیق طبی مسئلے کا حل بھی ڈھونڈ نکالتے ہیں۔

سرطانی خلیے منٹوں میں ختم | آج خدانخواستہ کوئی انسان سرطان کا نشانہ بن جائے، تو اُسے کیموتھراپی اور ریڈیوتھراپی کے جاں گسل مراحل سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔ لیکن سویڈش سائنس دانوں کی سعی و مہربانی سے علاج کی مدت بہت گھٹ سکتی ہے۔

کارولنسکا انسٹی ٹیوٹ نامی سویڈش طبی ادارے سے وابستہ ماہرین نے پریفرینٹل ریڈیو۔ فریکوئنسی ابلیشن نامی طریق علاج ایجاد کیا ہے۔ اس طریقہ میں ’’اُبال کر‘‘ سرطان کے تمام خلیوں کا قلع قمع کیا جاتا ہے۔

سب سے پہلے ایک الیکٹروڈ سرطانی گلٹی کے قلب میں داخل ہوتا ہے۔ پھر اُسے ۹۰درجے سینٹی گریڈ تک گرم کیا جاتا ہے تاکہ تمام سرطانی خلیے ختم ہو جائیں۔ خاص بات یہ ہے کہ گلٹی کے اردگرد موجود بافتوں کو کچھ نقصان نہیں پہنچتا۔

بال بچانے والی ٹوپی | اگر کوئی سرطان کا علاج بذریعہ کیموتھراپی کروائے تو عموماً سر کے بال جھڑ جاتے ہیں۔ یوں وہ خاصا عجیب نظر آتا ہے۔ اب امریکی ماہرین نے دورانِ کیموتھراپی سر کے بال محفوظ کرنے والی خصوصی ٹوپی تیار کی ہے۔ یہ سر ٹھنڈا رکھ کر ۸۰۰فیصد بال گرنے نہیں دیتی۔ڈگنیکیپ سسٹم نامی یہ سیلیکون ٹوپی ۲ کوائلوں پر مشتمل ہے۔

ان میں موجود مادہ تبرید مسلسل سر کے اردگرد چکر لگاتا اور اُسے سرد رکھتا ہے۔ جب مریض یہ ٹوپی پہنے تو سر میں خون کی نالیاں بھنچ جاتی ہیں۔ یوں ان میں خون کا بہائو کم ہوتا اور کیموتھراپی کے اثرات سرطان میں مبتلا مردوزن مریضوں کے خوبصورت بال دورانِ علاج محفوظ رہتے ہیں۔

موبائل اسکینر | دورِ جدید میں الٹراسائونڈ بڑے کام کا طبی آلہ ہے۔ اس کے ذریعے کئی بیماریوں کا بروقت پتا چل جاتا اور بذریعہ علاج انھیں ختم کرنا آسان ہوتا ہے۔ الٹراسائونڈ کی زبردست افادیت دیکھ کر ہی جرمن سائنس دانوں نے موبائل فون جتنا الٹراسائونڈ اسکینر ’’وی اسکین‘‘ ایجاد کرلیا۔ اس کی خوبی یہ ہے کہ اُسے کہیں بھی لے جانا ممکن ہے۔

یہی وجہ ہے کہ یورپ اور امریکا میں کئی ڈاکٹر اسے ایکوکارڈیوگرافی لیب، آئوٹ پیشنٹ کلینک، کورونری کیئر یونٹ، ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ اور ہسپتال کے دیگر شعبہ جات میں لیے گھومتے پھرتے ہیں۔ایک ہسپانوی ڈاکٹر جو ز زامورانو کا کہنا ہے ’’کسی بھی شعبے میں زیرعلاج مریض کو کبھی الٹراسائونڈ کی ضرورت پڑے تو میں فوراً اپنا وی اسکین نکال لیتا ہوں۔ اس کی وجہ سے اب مریضوں کا علاج آسان ہوگیا۔‘‘

ہائیپرٹینشن کا خاتمہ | ماہرین طب جان چکے ہیں کہ ہمارا ’’شارکی نظام اعصاب‘‘ ہمارے بیشتر اندرونی اعضا کو کنٹرول کرتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جو مردوزن بلند فشارخون (ہائی بلڈپریشر یا ہائپرٹینشن) کے مریض ہوں، ان میں گردوں کے نزدیک واقع شارکی اعصاب زودحساس ہوجاتے ہیں۔ یہ خرابی پھر ہائی بلڈپریشر میں اضافہ کرتی ہے۔۲ سال قبل اس خرابی سے چھٹکارا پانے کی خاطر آسٹریلوی ماہرین طب نے ایک نئی قسم کا طریق آپریشن دریافت کیا۔ اس آپریشن میں بذریعہ جانگھ گردوں کے نزدیک واقع ایک شریان تک کیتھڑ داخل ہوتا ہے۔

اسی شریان کے نزدیک شارکی اعصاب واقع ہیں۔ بذریعہ کیتھیٹر پھر انھیں ’’سلا‘‘ دیا جاتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ محفوظ آپریشن بہت جلد انجام پاتا ہے اور بدن میں کٹائو بھی بڑا نہیں لگتا۔ مزیدبرآں اس کی وجہ سے فوراً بلندفشارخون میں کمی آ جاتی ہے۔ اب تک ۱۰ ہزار مردوزن یہ آپریشن کرا چکے اور ۹۰فیصد تک کو کامیابی نصیب ہوئی۔

تحقیق و جستجوعاصم محمود (http://urdudigest.pk/beta/2012/12/2012-ki-behtareen-tibbi-ejadaat/)

ساجد تاج
01-04-2013, 02:10 PM
شیئرنگ کا شکریہ بھائی

pervaz khan
01-04-2013, 05:11 PM
اچھی شئیرنگ کا شکریہ