PDA

View Full Version : کبھی جو ٹوٹ کے برسا دسمبر



شاذیہ سعید
12-20-2012, 06:18 PM
دسمبر کی یادیں

کبھی جو ٹوٹ کر برسا دسمبر
لگا اپنا ، بہت اپنا دسمبر
گزر جاتا ہے سارا سال یوں تو
نہیں کٹتا مگر تنہا دسمبر
بھلا بارش سے کیا سیراب ہو گا ،
تمھارے وصل کا پیاسا دسمبر
وہ کب بچھڑا ، نہیں اب یاد لیکن
بس اتنا یاد ہے کہ تھا دسمبر
جمع پونجی یہی ہے عمر بھر کی
میری تنہائی اور میرا دسمبر

بےباک
12-20-2012, 07:46 PM
بہت خوب شازیہ سعید صاحبہ ،
زبردست

بےباک
12-20-2012, 07:48 PM
کبھی جو ٹوٹ کر برسا دسمبر
لگا اپنا ، بہت اپنا دسمبر
گزر جاتا ہے سارا سال یوں تو
نہیں کٹتا مگر تنہا دسمبر
بھلا بارش سے کیا سیراب ہو گا ،
تمھارے وصل کا پیاسا دسمبر
وہ کب بچھڑا ، نہیں اب یاد لیکن
بس اتنا یاد ہے کہ تھا دسمبر
جمع پونجی یہی ہے عمر بھر کی
میری تنہائی اور میرا دسمبر

خوب خوب

نگار
12-20-2012, 09:38 PM
جمع پونجی یہی ہے عمر بھر کی
میری تنہائی اور میرا دسمبر

بہترین شاعری ارسال کرنے پہ آپ کا بہت شکریہ

تانیہ
12-20-2012, 09:39 PM
واہ بہت خوب

شاذیہ سعید
12-25-2012, 05:36 PM
آپ سب کی پسندیدگی کا بھی شکریہ۔۔۔۔

نورالعین عینی
04-07-2013, 02:47 AM
وہ کب بچھڑا ، نہیں اب یاد لیکن
بس اتنا یاد ہے کہ تھا دسمبر

واہ جی۔۔۔بہت اعلی۔۔

سقراط
04-07-2013, 09:42 PM
بھلا بارش سے کیا سیراب ہو گا ،
تمھارے وصل کا پیاسا دسمبر
بہت خوب اچھا انتخاب ہے مگر دسمبر بہت دور ہے کوئی جون جولائی پر شئیر کریں