PDA

View Full Version : آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) ہمیشہ سچ بولتے تھے



محمداشرف يوسف
12-21-2012, 03:20 AM
3: آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) ہمیشہ سچ بولتے تھے


رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ سچ بولتے تھے اور جھوٹ کے پاس بھی کبھی نہ پھٹکتے تھے۔ آپ کی زبانِ مبارک سے کبھی کوئی غلط بات سننے میں نہیں آئی یہاں تک کہ مذاق میں بھی کوئی جھوٹی بات آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی زبان سے نہیں نکلتی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے دشمنوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) پر طرح طرح کے الزامات لگائے مگر آپ کو جھوٹا کہنے کی ہمت نہ کر سکے۔ یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ ابو جہل آپ کا کتنا بڑا دشمن تھا۔ وہ بھی کہا کرتا تھا:
"محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ! میں تم کو جھوٹا نہیں کہہ سکتا کیوں کہ تم نے کبھی جھوٹ بولا ہی نہیں ، البتہ جو باتیں تم کہتے ہو ان کو میں ٹھیک نہیں سمجھتا۔"

یاد کیجئے اُس واقعہ کو جب حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کوہِ صفا پر چڑھ کر قریش والوں سے یہ سوال کیا تھا:
"اگر میں کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک لشکر آ رہا ہے تو کیا تم یقین کرو گے؟"
سب نے ایک زبان ہوکر جو جواب دیا تھا وہ آپ کے صادق القول ہونے کی دلیل ہے۔
بولے " ہاں! ہم ضرور یقین کریں گے کیوں کہ تم کو ہمیشہ سے ہم نے سچ ہی بولتے دیکھا ہے۔

جانِ حیات ہے ترے اخلاق کی جھلک
خود زندگی ہے موت کا ساماں ترے بغیر
(ماہرالقادری)

سیما
06-12-2013, 03:58 AM
جزاک اللہ
اورابھی زمانے ہم لوگ تو ہر بات می جھوٹ بولتے ہیں :((

سرحدی
07-04-2013, 11:04 AM
بے شک ہم نے یہ فرمان بھی سنا ہے کہ مسلمان جھوٹ نہیں بول سکتا۔
یعنی اسلام جھوٹ اور فریب سے انسان کو دور رکھتا ہے۔ آج کل کے دور میں واقعی اس بات کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ اپنے روز مرہ کے معاملات میں سچائی سے کام لیا جائے اور جھوٹ ، فریب بازی سے اپنے کو روکا جائے۔
اس کے ساتھ محمد اشرف یوسف صاحب کی خدمت اقدس میں عرض ہے کہ میرے محترم!
ادب انسان کو بلندی پر لے جاتا ہے اور خدا نخواستہ بے ادبی پر پکڑ شدید ہوجاتی ہے۔
اس لیے جب بھی سرکارِ دو عالم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ آئے تو اس وقت زبان کی شائشتگی اور انتہائی ادب کا خیال رکھا جائے۔
مضمون پر اعتراض بالکل نہیں کرسکتا البتہ پہلی لائن میں میں جو آپ نے تحریر فرمایا کہ:
رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ سچ بولتے تھے اور جھوٹ کے پاس بھی کبھی نہ پھٹکتے تھے۔
اس میں لفظ ’’پھٹکنا‘‘ بہت عجیب لگا۔
محترم انتہائی ادب کا خیال رکھا کریں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔