PDA

View Full Version : محبت رسولﷺ .... ایمان کی آکسیجن



تانیہ
12-21-2012, 04:26 PM
محبت رسولﷺ .... ایمان کی آکسیجن
http://www.ourlastprophet.com/administrator/uploads/articles/762925569.jpg

آکسیجن انسان کی بقا کے لیے بنیادی اور سب سے اہم ضرورت ہے۔ کھانا پانی ایک مدت تک نہ بھی ملے تو انسان زندہ رہ سکتا ہے ،لیکن آکسیجن تھوڑی دیر کے لیے بھی نہ ملے تو انسان کو اپنی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ خون میں آکسیجن کی مقدار اور دباﺅ میں کمی کے باعث انسان کی حالت نازک اور تشویشناک ہو جاتی ہے۔ دراصل ہمارا جسم کروڑوں خلیوں کا مرکب ہے اور خلیہ ہی زندگی کی بنیاد ہے اور آکسیجن ہر خلیے کی بنیادی ضرورت۔ اگر خلیوں کو حسبِ ضرورت آکسیجن نہ ملے تو ان کی موت واقع ہو جاتی ہے اور خلیوں کی موت ہی انسان کی موت ہے۔سانس کے ذریعے پھیپھڑوں میں پہنچائی ہوئی آکسیجن خون کے دوران کے ساتھ ساتھ دل سے ہوتی ہوئی جسم کے کروڑوں خلیوں تک پہنچتی ہے۔ آکسیجن دل و دماغ، آنکھوں، کانوں اور جسم کے دوسرے حصوں میں باقاعدگی کے ساتھ پہنچتی رہتی ہے۔ جس کے نتیجے میں دل و دماغ، آنکھیں اور کان نہایت عمدگی کے ساتھ اپنا اپنا کام انجام دیتے رہتے ہیں۔ آکسیجن کی کمی کی وجہ سے نہ صرف غنودگی، ذہنی تھکان، سر درد اور متلی کی شکایت پیدا ہو جاتی ہے بلکہ تشنج، اینٹھن اور جھٹکے شروع ہو جاتے ہیں اور بعض اوقات انسان کوما میں چلا جاتا ہے جس کی وجہ سے فیصلے کرنے کی قوت اور یادداشت بُری طرح متاثر ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو دل، دماغ، آنکھوں اور کانوں کی نعمتیں عطا فرمائی ہیں، وہ صرف طبعی کارکردگی کے لیے ہی نہیں ہیں کہ دل صرف خون کے دوران کے لیے پمپ کا کام کر رہا ہو، دماغ انسانی جسم کی نشوونما یا انسانی حرکات و سکنات کے لیے احکامات جاری کرنے ہی میں مصروف ہو، آنکھیں صرف دیکھ رہی ہوں یا کان صرف سُن رہے ہوں، بلکہ نفسانی اور روحانی کارکردگی میں بھی ان کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے۔ آنکھیں نہ صرف دیکھ سکتی ہیں بلکہ حق و باطل میں تمیز بھی کر سکتی ہےں، کان نہ صرف سُن سکتے ہیں بلکہ سُن کر حق و باطل میں فرق کو محسوس کر سکتے ہیں۔ آنکھوں اور کانوں کی فراہم کردہ معلومات کی بنا پر دماغ تدبر کرتا اور حق و باطل کے درمیان فیصلہ کر سکتا ہے پھر اس فیصلے کو دل قبول کر بھی سکتا ہے اور نہیں بھی۔

جسم کے ساتھ ساتھ روح کو بھی آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔ محبت رسولﷺ ایمان کی آکسیجن ہے جو روح کو تقویت پہنچاتی ہے۔ یہ آکسیجن جس قدر وافر، شفاف اور منزہ ہو گی، اس قدر ایمان مضبوط ترین اور روح حق شناس ہو گی۔ جن لوگوں کے پھیپھڑوں میں محبت رسولﷺ کی آکسیجن پہنچتی رہتی ہے اور ان کی آنکھیں کان اور دماغ حق کو نمایاں کرتے اور اس کی تائید کرتے ہیں جس کی وجہ سے دل حق کو قبول کر لیتا ہے۔ نبی کریمﷺ سے لامحدود اور غیر مشروط محبت ایمان کی بنیاد ہے۔ اگر اس میں خامی ہو گی، تو ایمان ناقص ہے۔ رسول اللہﷺ سے محبت، مومن کا گراں بہا سرمایہ ہے اور کسی مومن کا دل اس سے خالی نہیں ہو سکتا کیونکہ یہی محبت مقصود حقیقی کے قرب اور اس کی ذات و صفات کے صحیح تصور کا واحد ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

ترجمہ: ”اے پیغمبرﷺ ! آپ ان لوگوں سے صاف صاف کہہ دیجئے کہ اگر تمھارے ماں باپ، تمہاری اولاد، تمھارے بھائی، تمہاری بیویاں اور تمہارا کنبہ قبیلہ اور تمہارا وہ مال و دولت جس کو تم سے محنت سے کمایا ہے اور تمہاری وہ چلتی ہوئی تجارت جس کی کساد بازاری سے تم ڈرتے ہو اور تمھارے رہنے کے وہ اچھے مکانات جو تم کو پسند ہیں (پس دنیا کی محبوب و مرغوب چیزیں) اللہ، اللہ کے رسولﷺ ، اور اللہ کے دین کی راہ کی جدوجہد سے زیادہ تمھیں محبوب ہیں تو انتظار کرو کہ اللہ تعالیٰ اپنا حکم اور فیصلہ نافذ کرے اور یاد رکھو اللہ نافرمان قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔“ (توبہ: 24)

یہ آیت اس باب میں دلیل ہے کہ آپﷺ کی محبت ضروری اور لازمی ہے اور جس شخص کو ان مذکورہ آٹھ اشیاءمیں سے کوئی چیز بھی اللہ کے رسولﷺ سے زیادہ پیاری ہو، اسے ایسا گم کردئہ راہ بتلایا ہے جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں فرماتے۔ آنحضرتﷺ کی محبت کا تقاضا ہے کہ آپﷺ کو اپنی جان سے بھی پیارا سمجھا جائے۔ ایک اور جگہ ارشاد خداوندی ہے:

النبی اولٰی باالمومنین من انفسھم۔ (احزاب: 6)

”مومن کا اپنی جان پر جتنا حق ہے، اس سے زیادہ اس کی جان پر نبیﷺ کا حق ہے۔“

حضور خاتم النبیینﷺ نے اپنی محبت، امت پر فرض قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”قسم ہے اس کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والدین، اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ عزیز تر نہ ہو جاﺅں۔“ (بخاری و مسلم) اورایک روایت میں ہے کہ ”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کی جان سے بھی زیادہ عزیز نہ ہو جاﺅں۔“

زیر نظر حدیث کا ماحصل یہ ہے کہ ایمان کا دارومدارحبّ رسولﷺ پر ہے۔ جس شخص میں نبی اعظم و آخرﷺ سے اس درجہ کی محبت نہ ہو، اس کے ایمان کا کچھ اعتبار نہیں ہے۔ ایک اور روایت میں آپﷺ نے ارشاد فرمایا: تین صفات جس میں پائی جائیں وہ ایمان کی شیرینی کو پالے گا۔ پہلی: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسولﷺ اس کے ہاں سب سے زیادہ محبوب ہوں۔ دوسری: اگر کسی سے محبت رکھے تو اللہ تعالیٰ ہی کے لیے۔ تیسری: یہ کہ کفر میں جانے کو اسی طرح برا سمجھے جس طرح آگ میں گرائے جانے کو برا سمجھتا ہے۔“ (بخاری و مسلم)

اسی طرح حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ ”ایک شخص بارگاہ رسالت مآبﷺ میں حاضر ہوا اور درخواست کی کہ یا رسول اللہﷺ ! یہ فرمائیے کہ قیامت کب برپا ہو گی؟ شافع محشرﷺ نے اس سے پوچھا: مَااَعدَدتَ لَھَا تم نے قیامت کے لیے کیا تیار کر رکھا ہے؟ اس نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ ! میرے ماں باپ آپﷺ پر قربان! میں نے نہ تو زیادہ نمازیں پڑھی ہیں، نہ زیادہ روزے رکھے ہیں اور نہ زیادہ صدقات ہی دیے ہیں۔ لٰکِنِّی اُحِبُّ اللّٰہ رَسُولَہ۔ البتہ میں اللہ اور اس کے رسولﷺ سے محبت کرتا ہوں۔ حضور رحمة اللعالمینﷺ نے فرمایا: ”اَنتَ مَعَن اَحبَبتَ تو اس کے ساتھ ہو گا جس سے تُو محبت کرتا ہو گا۔“ (صحیح بخاری)

محبت رسولﷺ ایمان کی جان، اِس کی پہچان اور سایہ رحمن ہے، محبت رسولﷺ تمام مصائب کا علاج ہے، سرمایہ دین و دنیا ہے، قبر و حشر میں چراغ وفا ہے، پیغامِ شفاہے، روحانی علاج ہے، زیبائش اعمال ہے، ہر زخم کا اندمال ہے، بیماریوں میں ڈھال ہے، زخموں کا مرہم ہے، سرچشمہ برکات ہے، قلب سکون ہے۔محبت رسولﷺ کی وجہ سے ایک مسلمان کی روحانی آنکھیں، کان اور دل و دماغ روشن ہو جاتے ہیں۔ گمراہی و ضلالت کے اندھیرے چھٹ جاتے ہیں۔ مرنے کے بعد بھی اُسے ایک اعلیٰ درجہ کی دائمی اور سرمدی زندگی حاصل ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس جن بدقسمت مسلمانوں کے دلوں میں محبت رسولﷺ کی آکسیجن کم ہوتی ہے، ان کے دل سیاہ، دماغ مفلوج اور چہرے پر نحوست کے آثار جلد ہی ظاہر ہو جاتے ہیں۔ ایمانی اعتبار سے ان پر غنودگی طاری ہو جاتی ہے۔ ان کی دماغی صلاحیت کم سے کم تر ہوتی جاتی ہے۔ وہ ایک چلتی پھرتی لاش تو ہو سکتی ہیں، مسلمان نہیں۔ وہ ایمانی طور پر کوما یعنی بے ہوشی میں چلے جاتے ہیں۔ انہیں کچھ سدھ بدھ نہیں رہتی کہ ان سے جو کچھ سرزد ہو رہا ہے، کیا سرزد ہو رہا ہے۔ وہ دماغی طور پر اتنے پست ہو جاتے اور اپنے ہوش و حواس اس قدر کھو دیتے ہیں کہ حق و باطل اور نیکی و بدی میں کوئی فرق محسوس نہیں کرتے۔ وہ گستاخان رسول بالخصوص قادیانیوں کے ساتھ تعلقات قائم کر لیتے ہیں۔ ان کے ساتھ کھاتے پیتے، اٹھتے بیٹھتے اور خوشی و غمی میں شریک ہوتے ہیں، ان کے ساتھ معاشی و معاشرتی تعلقات قائم کر لیتے ہیں، ان کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھتے ہیں۔ ان کی مصنوعات بالخصوص شیزان وغیرہ کا استعمال کرتے ہیں، یاد رکھنا چاہےے کہ گستاخ رسول سے دوستی کا مطلب اپنے دل سے اللہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت کو رخصت کرنا ہے۔ جب تک کوئی مسلمان گستاخانِ رسول قادیانیوں سے دوستی اور محبت کی پینگیں بڑھاتا رہے گا، اس وقت تک وہ ایمانی آکسیجن کی کمی کا شکار رہے گا جس کے نتیجہ میں وہ نہایت مہلک اور خطرناک روحانی امراض کا شکار ہو جائے گا۔ ایسے لوگ صحیح فیصلے کرنے کے قابل نہیں رہتے۔ وہ رواداری کے ہیضہ میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے فوری طور پر محبت رسولﷺ کا اعلیٰ انتظام کیا جائے تاکہ وہ موت کے منہ میں جانے سے بچ جائیں۔ کیونکہ بے شمار مسلمان اس آکسیجن کی کمی کی وجہ سے ایمانی موت کے شکنجے میں پہنچ چکے ہیں۔

کی محمدﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

محمد متین خالد

pervaz khan
12-22-2012, 04:53 PM
جزاک اللہ