PDA

View Full Version : سرطان



ابوسفیان
12-21-2012, 06:19 PM
سرطان' قدرتی غذائیں اور جدید تحقیقات

کینسر کے خطرے سے محفوظ رہنے کے لیے غذا میں فائبر(ریشے) کی موجودگی بہت ضروری ہے اور اس کا بہترین مآخذ پھل اور سبزیوں سمیت دیگر قدرتی غذائیں ہیں۔ دن میں تین چار مرتبہ مختلف رنگوں کے پھل اور سبزیوں کا استعمال کینسر کے خلاف ایک ڈھال ثابت ہوتاہے۔پھلوں اور سبزیوں میں پائے جانے والے نباتاتی کیمیاوی مادے(فائیٹو کیمیکلز) بہترین مانع سرطان ثابت ہوئے ہیں۔ہر سبزی اور پھل کا اپنا نباتاتی کیمیکل
ہوتاہے جس کے حصول کا بہترین طریقہ مختلف رنگوں کے پھل اور سبزیوں کا استعمال ہے۔سبزیاں اور پھل جتنے زیادہ کھائے جائیں گے سرطان کا خطرہ اتنا ہی کم ہوگا۔بعض پھلوں اور سبزیوں میں خاص قسم کے سرطان کا مقابلہ یا دفاع کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہوتی ہے۔جیسا کہ سیب کا استعمال آپ کو پھیپھڑوں کے سرطان سے محفوظ رکھتا ہے۔ اسے زیادہ مقدار میں استعمال کرنے والے مرد اور خواتین سیب نہ کھانے والوں کے
مقابلے میں پھیپھڑوں کے سرطان سے پچاس فیصد زیادہ محفوظ پائے گئے۔یہاں آپ کو بتاتا چلوں کے سیب میں موجود اس جز کی بھی حال ہی میں شناخت ہو گئی ہے جس نے پھیپھڑوں کے سرطان سے تحفظ فراہم کیا'یہ جزو ایک''فلیوونائیڈ'' ہے جسے کوئریسی ٹین (Quercetin) کانام دیا گیا ہے۔اس میں مانع تکسیدصلاحیت خوب ترہوتی ہے۔سرطان سے دلچسپی رکھنے والے معالج اور افراد یہ بات تو جانتے ہی ہوں گے کہ مانع تکسید اجزاء جسم کو امراض پیدا کرنے والے مضرفری ریڈیکلز سے محفوظ رکھتے ہیں۔اسی طرح حیاتین ج(وٹامن سی) سے بھر پور پھل اور سبزیاں کھانے والے' معدے'غذائی نالی' منہ اور فم رحم کے سرطان سے محفوظ پائے گئے۔اطبائے قدیم انگور کو قلب سمیت دیگر کئی امراض اور جسمانی صحت کے لیے مفید قرار دیتے چلے آئے ہیں جس کی تصدیق اب جدید تحقیقات نے بھی کر دی ہے۔انگور کھانے سے خون پتلا رہتاہے۔خاص طورپر سیاہ یا سرخ انگوروں کا ایک گلاس رس پینے سے خون میں تھکے بننے کا خطرہ ساٹھ فیصد کم ہوجاتاہے جبکہ ایسپرین کھانے سے یہ خطرہ صرف پچاس فیصد کم ہوتاہے۔ انگور کے حوالے سے ہم اصل موضوع یعنی سرطان کی طرف آتے ہیں۔اس سلسلے میں جو جدید تحقیقات سامنے آئی ہیں اس کے مطابق انگور میں ریزرویراٹول (Reserveratol) نامی ایک اہم جزو شامل ہے جو ہمارے جسم میں تین اہم کام سرانجام دیتاہے۔
١)…خلیے میں ''ڈی این اے'' کو تباہی سے بچاتاہے۔
٢)…عام خلیہ اس سے سرطانی خلیہ میں تبدیل نہیں ہوتا۔
٣)…رسولی بنانے والے خلیوں کو پیدا ہونے اور بڑھنے سے روکتاہے۔
سبزچائے سرطان کے تحفظ میں موثر ہے کیونکہ اس میں ''کیٹے چنز'' (Catechins) مانع تکسیدوافر ہوتے ہیں۔ جوانسانوں میں چھاتی'غذودمثانہ(پروسٹیٹ) اور دیگر کئی قسم کے سرطانوں میں فائدہ مند ہیں جبکہ جانوروں کے بھی کئی قسم کے گومڑوں اور رسولیو ںمیں مفید ثابت ہوئے ہیں۔
http://1.bp.blogspot.com/-iufFu6VKLPI/UCN9iFqYcPI/AAAAAAAACHo/jwvP-xPDF04/s400/grapes.jpg
عام پائے جانے والے مختلف رنگوں کے انگور

سویابین کی کاشت ہمارے ملک میں بھی ہوتی ہے لیکن صرف خوردنی تیل کے حصول کے لیے جبکہ مشرق بعید کے ملکوں اور چین وجاپان وغیرہ میں اس سے دودھ' دہی اور پنیر تیار کیا جاتاہے جو صدیوں سے استعمال ہو رہا ہے۔سویابین میں کینسر خاص طورپر چھاتی کے سرطان کو روکنے کے علاوہ خواتین کو سن یاس کی تکالیف سے بچائے رکھنے کی بھی زبردست صلاحیت پائی جاتی ہے جسے دنیا بھر میں تسلیم کیا گیاہے۔ سویابین خواتین کو رحم کے سرطان سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔ انہی وجوہات کی بناء پر ترقی یافتہ ممالک میں سویابین اور اس سے بننے والی مصنوعات دھڑادھڑ فروخت ہورہی ہیں۔ صحت سے متعلقہ ملکی شعبوں کو بھی اس جانب خصوصی توجہ دینی چاہیے اور سویابین کے دیگر استعمالات سے بھی عوام کو آگاہ کرنا ضروری ہے۔سرطان سے بچنے کے لئے فائبر (ریشے) کاحصول مکئی(پاپ کارن) گندم کی پھلیوں' دلیے وغیرے سے بھی کیا جاسکتاہے۔ سرخ تربوز' سرخ انگور اور لال پکے ہوئے ٹماٹروں میں پایا جانے والا سرخ رنگ دراصل ایک اہم ''بیٹاکروٹین'' ہے جسے ''لائیکوپین'' کہتے ہیں۔جدید تحقیقات سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ یہ قلب کے امراض اور کینسر سے تحفظ فراہم کرتاہے۔
http://1.bp.blogspot.com/-KCg4zsvTt0c/UCN91VD5OyI/AAAAAAAACHw/plLnxzoWVvc/s320/red-blood-cells-oxygen-delivery-erythrocytes-RBCs.jpg
خون کے سرخ خلیے۔۔

ایسی ہی ایک اور تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ صحت مند لوگوں کی بہ نسبت دورہ قلب اور سرطان کا شکار ہونے والے افراد کے ریشوں میں ''لائیکوپین'' کی سطح انتہائی کم پائی گئی۔مندرجہ بالا پھلوں کا دن میں ایک دوبار استعمال کرنا کافی ہے۔ دیگر پھلوں کی نسبت ٹماٹر چونکہ سارا سال دستیاب ہوتے ہیں لہٰذا یہ لائیکوپین کے حصول کا یقینی اور مستقل ذریعہ ہیں یاد رہے کہ ''لائیکوپین'' کچے ٹماٹر کے مقابلے میں پکے ہوئے لال ٹماٹروں میں زیادہ ہوتاہے۔روغن زیتون اور کینولاآئل میں بھی لائیکوپین وافر مقدار میں پایا جاتاہے۔اینگلینڈ کے'' دی انسٹیٹیوٹ آف فوڈ ریسرچ'' نامی ادارے کی حالیہ تحقیق کے مطابق پھل اور سبزیاں انتڑیوں کے کینسر سے بچاؤ کیلئے مفید ہیں اس تحقیق میں خاص طور پر پیاز'سیب اور دیگر سبزیوں کے استعمال پر زور دیا گیا ہے '' دی انسٹیٹیوٹ آف فوڈ ریسرچ''کے پروفیسر ایئن جانسن کا کہنا ہے کہ انتڑیو ںاور نظام انہضام کے کینسر دنیا بھر میں بہت زیادہ اور عام ہیںحیرت کی بات یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں ان کی تعدادبہت زیادہ ہے اسّی فیصد سے زائد ایسے کینسر' فاسٹ فوڈزاور دیگر مضر صحت غذاؤں کے کھانے پینے کی عادات کی وجہ سے ہوتے ہیںسن دو ہزار میں ایک کروڑ کینسروں میں سے تئیس لاکھ سے زائدنظام انہضام سے متعلق تھے۔انسانی انتڑیوں کے اندرونی پرت پر خلیوں کی ایک تہہ ہوتی ہے جسے 'ایپی تھیلیم'کہتے ہیں کھانے پینے کی کوئی بھی چیز سب سے پہلے'ایپی تھیلیم'سے ہوتی ہوئی گزرتی ہے لہذا مضرصحت مرغن اور مصالحے دار غذاؤں 'شراب اور کولا مشروبات کے زیادہ اور بارباراستعمال سے اس تہہ کے خلیے خلاف معمولتقسیم ہوکر ٹیومر یا کینسر کی شکل اختیار کر سکتے ہیںاسی طرح صحت مند غذاؤں خاص طور پر پھل اور سبزیوں میں پائے جانے والے بعض کیمیائی مادے کینسر سے بچاؤ میں مدد کر سکتے ہیں پروفیسر جانسن کہتے ہیں کہ ہم اپنے وزن اور کھانے پینے کا خیال رکھ کر خود کو کینسر سے محفوظ رکھ سکتے ہیں ۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں کینسر ایک ایسی موذی مرض ہے جس سے انسان نے صدیوں پہلے ہارمان لی تھی اور موجودہ سائنس وکمپیوٹر کے دور میں بھی سرطان کو شکست دینے میں ہنوز کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔
http://2.bp.blogspot.com/-zlLmsSvnA-0/UCN9bJKLLoI/AAAAAAAACHg/q3g6lEXZlVM/s200/breast-cancer-diet.jpg
سبزیاں بہترین مدافعت پیدا کرتی ہیں

سرطان اور انسان میں یہ جنگ جاری وساری ہے لیکن یہاں یہ بھی یادرکھنا ضروری ہے کہ انسان کے لئے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔کسی زمانے میں چیچک' ہیضہ'انفلوائنزا' تپ دق(ٹی بی) اور طاعون وغیرہ انسانوں کی بستیوں اور شہروں کے شہر ہلاک کرکے اجاڑدیتے تھے لیکن انسان نے ان کے خلاف جدوجہد کی اور قدرت کی مدد سے اب وہ تمام بیماریوں پر مکمل طورپر قابو پاچکا ہے۔اسی طرح انشاء اللہ مستقبل قریب میں سرطان کے خلاف بھی یقینا کوئی نہ کوئی جامع علاج ضرور نکل آئے گا جو سرطان کو بھی انسان کے قابو میں دے دے گا اور وہ علاج جڑی بوٹیوں سے ہی وجود میں آئے گا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو بھی مرض پیدا کیا ہے اس کے علاج کے لیے ستر جڑی بوٹیاں بھی پیدا فرمائی ہیں۔ اتنی تمہید باندھنے کا اصل مقصد صرف یہ ہے کہ چونکہ کینسر کا ابھی تک کوئی مکمل اور حتمی علاج دریافت نہیں ہوا لہٰذا اس سلسلے میں کیوں نہ ایسی احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں کہ یہ مرض ظہور پذیر ہی نہ ہو۔اس مرض کے خاتمے کے لیے احتیاط ہی سب سے بڑا ہتھیار ہے۔اپنی غذا میں فائبر یعنی ریشہ دار اشیاء شامل رکھیں۔حیاتین الف (وٹامن اے) اور حیاتین ج (وٹامن سی) والی غذائیں زیادہ استعمال کریں۔ گوبھی اور اس جیسی دوسری ترکاریاں ضرورکھائیں۔ فوڈ سٹریٹس جیسے تعیشات میں آگ پر بھنے زیادہ مرچ مصالحے اور نمک لگے خشک گوشت سے حتی الامکان پرہیز رکھیں۔ تازہ ترین تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ تلی ہوئی اشیاء گوشت و آلو کی چپس وغیرہ میں سرطان پیدا کرنے والا ایک جز''ایکریلامائڈ'' بہت زیادہ بڑھ جاتاہے۔ گوشت کو بہت زیادہ نہ پکائیں بہت زیادہ بھنا ہوا کڑاہی گوشت سرطان پیدا کرنے کا باعث بن سکتاہے۔اوزون کی تہہ ختم ہونے کے باعث سورج کی کرنیں مزید نقصان دہ ہو چکی ہیں۔لہٰذا ''سن باتھ'' بلاضرورت نہ لیں۔سورج کی کرنوں کی زد میں بلا مقصد نہ رہیں۔ بریسٹ کینسر (چھاتی کے سرطان) پر خاصی تحقیق ہو چکی ہے اور اب انتہائی ناگزیر حالت کے علاوہ مکمل چھاتی کو الگ کرنا ضروری نہیں سمجھا جاتاکیونکہ اس کا علاج دوائی اور اشعاعی (ریڈی ایشن) کے ذریعے موثر اور ممکن ہو چکا ہے۔ مایوسی'نفرت' بدگمانی' حسد'عداوت' حرص وطمع جسم کے غدودی نظام کو متاثر کرتے ہیں جس سے دماغی صلاحیتیں' شریانیں اور جسم کے خلیات پر بہت برے اثرات پڑتے ہیں۔یہ منفی احساسات آخرکار جسم کے خلیات اور ریشوں کو جلاجلا کر سرطان کا باعث بن جاتے ہیں۔ان منفی احساسات سے بچنے کے لیے سب سے بہترین طریقہ ورزش ہے۔بیس پچیس منٹ کی ورزش مردوخواتین دونوں کے لیے سرطان سے بچنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ورزش سے جسم وذہن تروتازہ ہو جاتاہے۔ورزش اور اس کے ذریعے آکسیجن کا حصول جسم کی قوت مدافعت(Immunity) بڑھادیتاہے اور یہ قوت سرطان سمیت ہر قسم کے امراض کی مدافعت کا باعث بنتی ہے۔ مندرجہ بالاتدابیرپر عمل کرکے انشاء اللہ یقینا ہم سرطان سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
∵∴∷∵∴∷∵∴∷∵∴∷∵∴∷∵ ∷∵∴∷∵∴∷:photosmile:

pervaz khan
12-22-2012, 04:52 PM
اچھی شئیرنگ کا شکریہ

بےباک
12-23-2012, 10:58 AM
جزاک اللہ ، ابوسفیان جی
کافی علمی معلومات آپ نے پیش کیں ۔شکریہ

سقراط
12-24-2012, 01:43 AM
بہت اچھی معلومات دی ہیں خاص کر تو پھلوں کی تصویر دیکھ کر تو منہ میں پانی آگیا کس قدر خوبصورت اور صاف ستھرے پھل ہیں ایسے پھل آج تک کسی ٹھیلے سے نہیں ملے
ا

ابوسفیان
12-24-2012, 05:20 PM
http://urdulook.info/imagehost/?di=BPNX

Nozo Kawanozo
01-09-2013, 02:45 AM
سبحــان اللـَّـه ، ، يــوجـد لكــل داء دواء
و إن يــوجـد داء أو مـرض لـم نـجد لـه عــلاجــاً حتـى يومـنـا هـذا فـهـذا لأن اللـَّـه لا يــريـد لنــا أن نـعـرفـه الـآن ، ،
لعـلـه بســبب كثــرة معـاصـي الإنســان و سيئــاتـه ۔۔ اللــَّـه أعلــم

أسـأل اللـَّـه أن يقنـا مـن جميـع الأمـراض و إن حـلَّ علينـا بمـرض فنسـألــه أن يكـون لتعليمنـا الصبـر و ليـس غضبـاً علينـا ۔۔
جـزاكـ اللـَّـه الجنــة أبـو سفيـان بهائــى

ابوسفیان
01-09-2013, 08:21 PM
[/color]

اكتشاف علاج نهائي لمرض السرطان

إكتشاف علاج نهائي للسرطان بدون التدخل الجراحي او الكيميائي باذن الله أخيرا عقار 'الرحمة' لعلاج السرطان في مصر برعاية سعودية يبدو ان 'السرطان' سوف يتحول في الغد القريب بفضل الله الي مجرد مرض عادي يشبه نزلة البرد تتم معالجته بجرعات دواء متوافرة رخيصة الثمن كانت 'الاسبوع' قد نشرت قصة الدكتور محمد النجار استاذ الطب الشرعي بجامعة الاسكندرية الذي توصل الي اختراع علاج لمرض السرطان بكل انواعه، وقام بتسجيل براءة

اختراعه باكاديمية البحث العلمي في مصر وظل في محاولات مضنية لاقناع وزارة الصحة المصرية بتبني هذا الاختراع الذي يمكنه ان يمحو آلام البشر خاصة بعد أن استفحل المرض في العصر الحديث وبعد ان ثبتت
الاثار الجانبية الحادة للعلاج الاشعاعي والكيماوي للمرضي وعدم فاعليته في الشفاء بنسبة 100 % .. حاول د. النجار اقناع المسئولين الذين تشبثوا بالروتين وطلبوا عرض الموضوع علي الازهر!!! وتساءل د. النجار عن علاقة الازهر بالدواء، وظلت المحاولات والمهاترات العلمية مما دفع المخترع للتفكير في الهجرة لامريكا وبالفعل انهالت عليه عروض شركات الدواء الامريكية لشراء العقار الذي كان يطلق عليه 'رودكس' ووقف سعر العقار حائلا دون اتمام الصفقة حيث
اشترط د. النجار الا يزيد ثمن حقنة الدواء علي (300 جنيه) الامر الذي بات مستحيلا من وجهة نظر الامريكان لان البيزنس لا مكان فيه 'للعواطف المصرية وانهالت العروض الاوربية لشراء العقار ومنها اليونان التي تحمس رئيس وزرائها بنفسه للتعاقد مع المخترع المصري حتي ظهر في الافق عرض سعودي تحمس له الدكتور النجار لأن صاحب العرض كان سمو الامير فهد بن عبد الله بن محمد آل سعود الذي قام بالاتفاق شخصيا مع الدكتور النجار الذي اكد ل'الاسبوع' انه في خلال ايام قليلة سوف يتم التعاقد مع الامير السعودي الذي تبني العقار وسوف يطلق عليه اسم 'عقار الرحمة' بعد ان اثبت فعاليته في علاج حوالي '300 حالة مرضية' في معظم انواع السرطان 'الغدد الليمفاوية والرئة والقولون البنكرياس' وسوف يتم منح *****ية السعودية للمخترع المصري ليتمكن بعدها من انشاء '5 مراكز' لعلاج السرطان في القاهرة والاسكندرية وطنطا ودمنهور والاشراف عليها مع فريق علي اعلي مستوي من اطباء واساتذة الاورام المصريين علي ان يطلق عليها 'مراكز لعلاج السرطان السريع في خلال شهر' وذلك بواسطة عقار الرحمة الذي لن يباع في الصيدليات وانما يتم العلاج به فقط داخل المراكز ولايتعدي ثمن الحقنة الواحدة (300 جنيه) وتكفي حقنتان
من العقار لعلاج سرطان الدم 'اللوكيميا' إلي جانب مستحضرات طبية أخري من العقار لعلاج أنواع السرطان المختلفة وسوف يجري تصنيع العقار في اكبر مصنع أدوية بمدينة الرياض بالسعودية مع وجود فرع آخر بالإمارات وتم بالفعل اختيار اول موقع بالإسكندرية بجوار الحديقة الدولية ويجري البحث عن المواقع الاخري ليتم العمل علي قدم وساق لنتمكن من محو آلام المرضي في مصر والوطن العربي فقط لأمانة التبليغ والله أعلم وهذا رقم التليفون المحمول الخاص
بالطبيب مكتشف العلاج الدكتور محمد النجار > >0020105080657> >بالله عليكم لا تدعوا الرساله تقف عندكم فتأكدوا أن هناك من ينتظرها> >وفي >>حاجة ماسة لها > >ملاحظة هذا الطبيب مصري ومقيم في مصر> >ونسأل الله
>>الشفاء للجميع> >> >(خير الناس أنفعهم للناس)> >> >سبحان الله وبحمده


تفضل هنا لتشاهد المزيد من المواضيع عن : صحة - طب بديل - تغذية - أعشاب طبيعية

http://www.parkwaycancercentre.com/images/content/stock/fruits.jpg
ويعد نمط الغذاء جانبًا هامًا من جوانب علاج السرطان.
[/quote]

محمدمعروف
01-13-2013, 04:55 PM
اچھی اور مفید معلومات شئیر کرنے کا شکریہ

تانیہ
01-13-2013, 05:57 PM
بہت مفید و معلوماتی شیئرنگ کے لیے بہت سا شکریہ
جزاک اللہ

ابوسفیان
01-14-2013, 02:22 PM
http://t1.gstatic.com/images?q=tbn:ANd9GcQbv2SjXzz289BBFG5HKa0kRrFhxQEXF yYIFOxIXjgvaJ1qXUuQLzYWvInl
تانیہ جی