PDA

View Full Version : سپریم کورٹ کا الطاف حسین کو توہین عدالت کا نوٹس دوسروں کو کیوں نہیں ؟



سید انور محمود
12-22-2012, 01:35 AM
تاریخ: 22 دسمبر 2012
از طرف: سید انور محمود


معزز جج صاحبان سپریم کورٹ آف پاکستان سب سے پہلے میں اپنی کم علمی کا اعتراف کرنا چہاتا ہوں کہ مجھے قانون کا بہت ہی کم علم ہے لہذا آپ سے
غیرمشروط معافی کا طلبگار ہوں، اس لیے اگر غلطی سے کوئی بات توہین عدالت کے زمرئے آجائے تو اُسے میری کم علمی سمجھ کر مجھے معاف کردیا جائے۔

سپریم کورٹ کا الطاف حسین کو توہین عدالت کا نوٹس دوسروں کو کیوں نہیں؟
کہا جارہا ہے کہ 2013 الیکشن کا سال ہوگااس لیے الیکشن کمیشن نے اپنا کام شروع کردیا ۔ ہر جمہوری ملک میں ووٹر لسٹ وقت کے ساتھ ساتھ اپ ڈیٹ کی جاتی رہتی ہیں مگر ہمارئے ملک میں ایسا کوئی نظام نہیں اور اگر ہے تو اس پر عمل نہیں ہوتا،اسی وجہ سے کراچی میں سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق فوج کی مدد سے ووٹرلسٹوں کی تصدیق کی جائے گی۔ کراچی میں 86 لاکھ ووٹرز موجود ہیں، ووٹر لسٹوں کی تصدیق 65 دنوں میں مکمل ہوگی لہذا کراچی کے شہری اب اس ادارے کی غلطی کو بھگتں گے جس نے اپنا کام ذمیداری سے ادا نہیں کیا، اصولی طور پر قاعدہ یہ ہے کہ نئی حلقہ بندیاں مردم شماری کے بعد کا عمل ہے ۔ مگرسپریم کورٹ کے ایک محترم جج صاحب نےکراچی میں بدامنی کيس کی سماعت کرتے ہوئے سيکرٹری اليکشن کميشن کو کراچی ميں نئی حلقہ بنديوں پر لائحہ عمل طے کرکے رپورٹ عدالت میں پيش کرنے کی ہدايت کرتے ہوئے کہا کہ کراچی ميں ايسے انتخابی حلقے تشکيل ديئے جائيں جہاں کسی ايک سياسی جماعت کی اجارہ داری قائم نہ ہو۔ محترم جج صاحب کے لفظ اجاراداری پر ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے سخت احتجاج کیا اور اپنی ایک تقریر میں کہا کہ"کسی کو يہ حق نہيں پہنچتا کہ وہ اليکشن کميشن کو يہ کہے کہ ایسی حلقہ بندياں تشکيل دی جائيں کہ کسی ايک جماعت کی اجارہ داری نہ ہو بلکہ يہ عوام کا جمہوری حق ہے کہ وہ کسی بھی حلقہ ميں کس جماعت کو اپنا مينڈيٹ ديتے ہيں، کسی کو بھی يہ حق نہيں پہنچتاکہ وہ عوام کے اس حق کوچھينے"، عام طور پر کہا جاتا ہے کہ جج نہیں بولا کرتے انکے کیے ہوئے فیصلے بولا کرتے ہیں مگر بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ماضی میں جب بھی جج بولے انکے فیصلے انکے بولنے کے مطابق ہوے، لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مولوی مشتاق ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف مقدمے میں مسلسل بولے اور جو کچھ وہ کہتے تھے ایسا لگتا تھا جیسے بھٹو سے انکو ذاتی عناد ہے، عدالتی کارروائی کے دوران بھٹو کو نام کامسلمان قرار دیا اور ان کیخلاف سزائے موت کافیصلہ دیا، فیصلہ وہی تھا جو وہ بولے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کا کیس جب سپریم کورٹ پہنچا تووہاں چیف جسٹس انوارالحق تھے، جسٹس دراب پٹیل کے مطابق جسٹس انوارالحق کو بھٹو سے ذاتی عناد اوردشمنی تھی اور ایک رکن جسٹس نسیم حسن شاہ کا تعلق اسلامی جمیت طلبہ سےرہا تھا، اسلامی جمیت طلبہ جماعت اسلامی کی ذیلی تنظم ہے۔ سپریم کورٹ نے بھی سزائے موت کافیصلہ دیا،جس وقت یہ فیصلہ آیا اس وقت جماعت اسلامی ضیاالحق کی کابینہ میں موجود تھی- مگراب جسٹس نسیم حسن شاہ اپنا گناہ قبول کرتے ہوئے کہتےکہ اس وقت کے سپریم کورٹ نے پھانسی کے حق میں فیصلہ ضیاء حکومت کے دباؤ میں آکر دیا تھا۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی ایک عدالتی قتل تھا۔ نواز شریف کی پہلی حکومت کو جب برطرف کیاگیا تو نواز شریف اپنا کیس سپریم کورٹ میں لےگے، اسوقت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نسیم حسن شاہ ہی تھے، جسٹس نسیم حسن شاہ نے اس کیس کے پہلے دن ہی اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ "ہم جسٹس منیر بننے کو تیار نہیں" ہر شخص سمجھ گیا کہ نواز شریف حکومت بحال ہوجائے گی اور ایسا ہی ہوا، جج نے جو بولا فیصلہ بھی وہ ہی تھا، شاید اس لیے ہی الطاف حسین نے لفظ اجاراداری کو جانبداری سمجھا اور بعد میں جو فیصلہ آیا اس میں اجاراداری کو ہی ختم کرنے کو کہا گیا۔

ابھی لوگ اجاراداری اور جانبداری کو ہی سن رہے تھے کہ14 دسمبرکو سپريم کورٹ نے کراچی بدامنی کيس ميں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسين کو توہين عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے انہيں ذاتی حيثيت ميں 7جنوري کو عدالت میں پيش ہونے کا حکم ديا ہے، عدالتی حکم ميں کہا گيا ہے کہ الطاف حسين عدالت ميں آکر وضاحت ديں کہ کيوں نہ انکے خلاف توہين عدالت کی کارروائی کی جائے۔ سپريم کورٹ کے مطابق توہين عدالت کی وجہ یہ ہے کہ "الطاف حسين نے ايک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کراچی ميں نئی حلقہ بنديوں کے فيصلے اور ججوں پر تنقيد کی ہے۔ جلسے سے خطاب ميں الطاف حسين نے کہا تھا کہ ججوں کو معافی مانگی چاہیے۔ جلسہ ميں استعمال کی گئ زبان عدالتی کاموں ميں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف بھی تھی۔ الطاف حسين کے الفاظ نہ صرف توہين آميز بلکہ دھمکی آميز بھی ہيں۔ عدالت نے اپنے ريمارکس ميں کہا کہ کيا آپ چاہتے ہيں کہ ہم يہاں بيٹھ کر کام نہ کريں، ايم کيو ايم کے رہنما نے قابل احترام ججز کيلئے نامناسب الفاظ استعمال کيے "۔ یہ عدالت کا بروقت اور مناسب فیصلہ ہے کہ جو بھی توہين عدالت کا مرتکب ہو اسکو روکا جائے اور عدالت کے پاس توہين عدالت کا نوٹس دینے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے نوٹس کے بعد کراچی میں اپنے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آج سپريم کورٹ کی جانب سے ميرے خلاف جو توہين عدالت کانوٹس جاري کياگياہے اس پر ميں اپنے قانونی ماہرين سے مشورہ کررہاہوں،ميں عدليہ کااحترام کرتاہوں اور کارکنوں سے کہتاہوں کہ وہ اس معاملے پرنہ توقانون ہاتھ ميں ليں اورنہ ہی کوئی احتجاج کريں بلکہ پرامن رہيں۔ لیکن اُسی شب نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے کراچی کے کاروباري مراکز، دکانيں اور پيٹرول پمپس بند کرادئيے ، شہر ميں خوف و ہراس اور بھگڈر کے باعث عام علاقوں ميں واقع دکانيں بھی بند کردی گئی تھيں اور سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ مکمل طور پر غائب ہوگئ تھی، جس کی وجہ سے شہريوں کو شديد مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ہفتہ کو غير اعلانيہ ہڑتال رہی، کراچی سمیت پورےسندھ میں کاروبار، دفاتر اور اسکول بند رہے، اس دن کراچی میں کاروبار نہ ہونے کی وجہ سے سات ارب روپے کا نقصان ہوا، ہفتہ اور اتوار کو ایم کیو ایم نے جگہ جگہ مظاہرئے کیے اور ا ن مظاہروں میں جو نعرئے لگائے گے اورتقاریر ہوئیں وہ ایک مہذب معاشرئے میں ناقابل قبول ہیں۔ آخر تین دن کے بعد الطاف حسین نے مظاہروں کا سلسہ روک دیا اور ايم کيوايم کے تمام کارکنوں اورذمہ داروں کوہدايت کی کہ وہ عدليہ کے بارے ميں اپنے غم وغصہ پر صبروتحمل سے کام ليکر آئندہ کے تمام طے شدہ احتجاجی مظاہرے فوری طورپر منسوخ کرديں اور عدليہ کے بارے ميں کسی بھی قسم کی ہرزہ سرائی اورنامناسب الفاظ کااستعمال ہر گز نہ کريں۔

ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسين نے نئی حلقہ بنديوں کے فيصلے اور ججوں پر تنقيد کيوں کی؟ ججوں کو معافی مانگنےکوکیوں کہا؟ اور انکے الفاظ نہ صرف توہين آميز بلکہ دھمکی آميزکیوں تھے؟ ان تمام باتوں کے جواب تو الطاف حسین خودعدالت میں دینگےمگراس بات کی سمجھ نہیں آتی ہے کہ گذشتہ چند ماہ سے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹرفیصل رضا عابدی نے ایک نہیں دو نہیں بلکہ درجنوں مرتبہ چیف جسٹس صاحب پر ذاتی حملے کیےبلکہ ایک نیوز چینل پر فیصل رضا عابدی نے چیف جسٹس صاحب اور ارسلان چوہدری کے بارے میں بہت سی ایسی باتیں کی ہیں جنہیں اخلاقی طور پر یہاں نہیں لکھا جاسکتا۔ پاکستان کے تمام نیوز چینلز شرجیل میمن ، فواد چوہدری اور فیصل رضا عابدی کے انٹرویو مسلسل نشر کرتے رہے اور سارا پاکستان حیرت میں ڈوبا ان الزامات کوسن رہا تھا۔ ہر چینل پر اور ہر پیریس کانفرس میں فیصل رضا عابدی نے چیف جسٹس صاحب پر الزامات لگائے اور ارسلان کے خلاف کرپشن کے ثبوت پیش کیے، چیف جسٹس آف پاکستان پر اس طرح کے الزامات تاریخ میں پہلی مرتبہ سامنے آئے۔ لیکن فیصل رضا عابدی کو آجتک کوئی توہین عدالت کا نوٹس نہیں ملا اور نہ ہی کسی نیوز چینل کو۔ ملک ریاض جس نے ارسلان کے خلاف فراڈ کی درخواست دی تھی اسے توہین عدالت کا ملزم ٹھہرا دیا گیا اور کاروائی بھی شروع ہوگئی۔ ارسلان کیس میں سپریم کورٹ خود بطور ادارہ ملوث ہوگئی، حتیٰ کہ چیف جسٹس صاحب خود اس کیس کی سماعت کرنے لگے مگرجب میڈیا نے شور کیا تو چیف جسٹس صاحب کیس سے الگ ہوئے،البتہ نیب کو تحقیقات کرنے سے روک دیا گیا۔ بیرسٹر اعتزاز احسن نےچیف جسٹس صاحب کو کہا تھا کہ فیصل رضا عابدی کو فوراً بمعہ تمام ثبوت کے عدالت میں طلب کرلیا جائے تا کہ سچ اورجھوٹ کا پتا چل سکے مگر ایسا نہ کیا گیا۔ ارسلان کے خلاف پرویز مشرف دور میں بھی سنگین الزامات لگے تھے اور ارسلان کو نوکری سے نکالا گیا تھا۔

تھوڑئے دن پہلے لاہور ہائی کورٹ نے کالاباغ ڈیم پر اپنا فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیا کہ کالا باغ ڈیم بنایا جائے حالانکہ معزز عدالت اس بات سے لازمی آگاہ ہوگی کہ پاکستان کے تین صوبے کالا باغ ڈیم کے نہ صرف خلاف ہیں بلکہ تینوں صوبوں کی اسمبلیاں کالا باغ ڈیم کےخلاف قراداد منظور کرچکی ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف میڈیا سے بات کرتے ہوئےعوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیارولی نے کہاہے کہ "پاکستان اور کالا باغ ڈیم ایک ساتھ نہیں چل سکتے، عدالت توہین عدالت کا نوٹس بھیج دے میں تیار ہوں۔ اُن کاکہناتھاکہ کالاباغ ڈیم پر بات کرنے سے اگر توہین عدالت بھی لگتی ہے تو وہ تیار ہیں، عدالتیں متنازعہ ایشوز نہ سنیں۔ اُن کاکہناتھاکہ سپریم کورٹ بھی فیصلہ دے دے تو قبول نہیں"۔ لیکن اسفندیارولی کی خواہش پوری نہیں ہوئی اور فیصل رضا عابدی کی طرح انہیں بھی کوئی توہین عدالت کا نوٹس نہیں ملا۔ فیصل رضا عابدی حکومت کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے عدالت سےمحاذ آرائی کی سیاست کررہے ہیں، اس حکومت نے عدالتی فیصلوں کو نہ ماننے کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔ ہوسکتا ہے ملکی حالات کو مدنظررکھتے ہوئے عدالت نے فیصل رضا عابدی اور اسفندیارولی کو اس لیے نظرانداز کیا ہو کہ ایک کا تعلق حکمراں جماعت پیپلزپارٹی سے ہے اور دوسرا اس سیاسی پارٹی کا سربراہ ہے جس کی جماعت کی ایک صوبے میں حکومت ہے، ان کو نوٹس دینے کی وجہ سے ملکی حالات میں اورخرابی نہ آئے۔ گذشتہ پچیس سال سے کراچی میں جاری قتل وغارت گری کی وجہ سے اب تک ایک اندازہ کے مطابق بیس ہزار کے قریب بےگناہ لوگ اپنی زندگی ہارچکے ہیں اسلیے کراچی کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئےاگر معزز جج صاحب اجاراداری کا لفظ استمال نہ کرتے اور سپریم کورٹ الطاف حسین کے اس بیان کو جو سراسر غلط ہے نظر انداز کردیتی تو بہتر ہوتا اور اگر ایسا ناممکن تھا تو پھر فیصل رضا عابدی اور اسفندیارولی کو بھی توہین عدالت کے نوٹس جاری ہونے چاہیے تھے ۔ اگر اس سلسے میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی مثال دی جائے کہ انہیں توہین عدالت کے جرم میں وزیراعظم کے عہدے سے جانا پڑا تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اگلے الیکشن میں پیپلزپارٹی کو پھر ایک شہید کی ضرورت ہے اس لیے یوسف رضا گیلانی کو عدلیہ کے زریعے سیاسی شہید بنایا گیا ورنہ جو خط راجہ پرویز اشرف نے لکھا وہ یوسف رضا گیلانی بھی لکھ سکتے تھے۔

چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری صاحب کایہ کہنا ہے کہ اسلام کی رو سے کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں ہے اس پر کوئی دو رائے ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور پاکستان کے آئین و قانون کے مطابق کوئی کسی سے بالاتر نہیں ۔ وزیر اعظم ہویا گورنر، کسی سیاسی پارٹی کا لیڈر ہویا بیوروکریسی کا افسر، فوجی جرنیل ہو یا اعلی عدلیہ کا جج، یا ان سب کے گھروالے یا پھر عام لوگ قانون اور انصاف کی نظرمیں سب کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے۔ اور جب ایسا ہوگا تو ہم پاکستانی فخرکے ساتھ کہہ سکیں گے کہ واقعی ہماری عدلیہ آزاد اورانصاف کی محافظ ہے۔ہم سب پر لازم ہے کہ عدلیہ کا احترام کریں مگر کیا ہماری آزاد عدلیہ انصاف کرتے وقت سب کے ساتھ یکساں سلوک کریگی ؟