PDA

View Full Version : پاکستان ایمبیسی اور پاکستان کے مجرم



نذر حافی
12-22-2012, 08:36 PM
پاکستان ایمبیسی اور پاکستان کے مجرم

یہ تو ہم جانتے ہی ہیں کہ دنیا میں ہر شخص کا کوئی نہ کوئی شوق اور مشغلہ ہوتا ہی ہے ۔کسی کو چاند پر جانے کا ،کسی کو پتنگ اڑانے کا ،کسی کو کبوترپالنے کا اور کسی کو بیت بازی کا ۔ہمیں بھی بچپن سے ہی دو عجیب چیزوں کا شوق تھا،ایک تو پولیس میں بھرتی ہوکر چوروں کو پکڑنے کا اور دوسرے پاکستان ایمبیسی دیکھنے کا۔

پہلا شوق تو یونیورسٹی کے زمانے میں اس وقت ہمارے دل سے نکل گیا جب ہم راولپنڈی کے رحمان آباد اسٹاپ سے ویگن پر سوار ہو کر صدربازار میں یونیورسٹی جایاکرتے تھے۔راستے میں جب بھی کوئی پولیس والا گاڑی میں سوار ہوتا تھا تواس کے اترتے ہی لوگ اس کی اور اس کے محکمے کی غیبت شروع کردیتے تھے اور پھر ایسی ایسی باتیں کرتے تھے کہ توبہ توبہ۔۔۔

حالانکہ کئی مرتبہ ہم نے گاڑی میں لوگوں کو پولیس کے مقدس محکمے کی ضرورت اور اہمیت پر لیکچر دینے کی کوشش بھی کی لیکن پولیس کے خلاف لوگوں کی یکجہتی دیکھ کر ہمیں صاف محسوس ہوتا تھا کہ لوگ ہم سے زیادہ پولیس کے بارے میں جانتے ہیں۔

ہم تقریباًہر روز یونیورسٹی آتے جاتے عوام اور پولیس کی نفسیاتی جنگ کا مشاہدہ کرتے چلےآرہے تھےکہ اسی دوران عید قربان کے ایّام آگئے۔

چاندنی چوک سے کچھ فاصلے پر پولیس نے ناکہ لگایا ہوا تھا اور اشارہ کر کے گاڑیوں کو ایک سمت میں کھڑا کرنے کے بعد ڈرائیوروں کو نیچے اتار کر ایک کنارے پر لے جاتے تھے۔چنانچہ چلتے چلتے ہماری گاڑی بھی رکی اور ڈرائیور اُتر کر ایک پولیس کانسٹیبل کے ہمراہ ایک طرف نکل گیا۔ہم سب نے مڑ مڑ کر پیچھے دیکھنا شروع کردیا تو پچھلی سیٹوں پر بیٹھے کسی منچلے نے زور سے آواز دی کہ بھائیو۔۔۔مڑ مڑ کر نہ دیکھو قانون شرما جائے گا۔

کچھ ہی دیر میں ڈرائیور ہنستا مسکراتا لوٹ آیا اور گاڑی چل پڑی۔ہم نے بھی ذرا لہک کر پوچھا کہ جناب کہاں گئے تھے۔وہ شرماتے ہوئے بولا وہ جی اصل میں آج کل عید کے دن ہیں اس لئے ۔۔۔ پولیس والے عیدی اکھٹی کررہے ہیں۔ہم نے پوچھا کتنے لئے ہیں آپ سے؟ بولا دس روپے

ہم نے حیران ہوکرکہاصرف دس روپے اس نے ہنس کرکہا سوزوکی والوں سے چار پانچ روپے بھی وصول کرتے ہیں یعنی جس سے جو مل جائے۔۔۔

اس کے بعد گاڑی صدر بازار پہنچ گئی اور ہم نے پولیس میں بھرتی ہوکر چوروں کو پکڑنے کا خیال اپنے دل سے ہمیشہ کے لئے نکال دیا۔بالآخر ہم اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ ہماری قوم کی بہتری اسی میں ہے کہ پولیس میں بھرتی ہونے کے بجائےچوروں کو ان کے حال پر چھوڑ دیاجائے۔

البتّہ دوسرا شوق وقت کے ساتھ ساتھ ہمارے دل میں جوان ہوتا جارہا تھا اوروہ یہ تھا کہ پاکستان ایمبیسی میں کسی طرح جایاجائے۔

جیسے جیسے ہم تہذیب و ثقافت،اسلامی تمدّن اور تاریخ پاکستان کا مطالعہ کرتے چلے جارہے تھے،پاکستان ایمبیسی کی قدر و اہمیّت ہماری نگاہوں میں اور زیادہ بڑھتی چلی جارہی تھی۔ہم سمجھتے تھے کہ دنیا بھر میں پاکستانی سفارتخانوں کا بچھاہوا جال دراصل پاکستانی تہذیب و ثقافت اور تمدن کا نیٹ ورک ہے، ان سفارتخانوں کے دم سے ملت پاکستان کا تشخص اور وقار قائم و دائم ہے اور یہ سفارت خانے در اصل وہ تہذیبی،ثقافتی اور نظریاتی مراکز ہیں جو اقوام عالم کو فکر اقبال اور افکار قائداعظم سے آشنا کر رہے ہیں۔

ایک طرف تو ہمارے ذہن میں پاکستانی سفارتخانوں کی اہمیتّ کا لاوا پک رہاتھا اور دوسری طرف ہمیں کبھی پاکستان ایمبیسی دیکھنے کا موقع ہی نہیں ملاتھا۔

چنانچہ ہمارے ہاں جو بھی کسی باہر کے ملک سے واپس گھر آتا تھاہم گھما پھرا کر اس سے پاکستان ایمبیسی کے بارے میں سوال کرتے تھے، تقریباً ہر دفعہ ہمیں یہ جواب دے کر خاموش کرادیاجاتا کہ تھانے اور ایمبیسی میں خدا دشمن کو بھی نہ لے جائے۔

ایمبیسی کو تھانے کی شبیہ قرار دیناہمارےلئے ایک انوکھی بات تھی چونکہ ہمارا خیال تھاکہ سفارتخانہ ،سفارتخانہ ہے اور تھانہ ،تھانہ ہے۔بہرحال ہم اپنے خیال پر ڈٹے رہےاور لوگ اپنی ضد پر اڑے رہے۔

اسی دوران صدام کا تختہ الٹ گیا اور ہمیں عراق جانے کا موقع ملا۔وہاں بھی ہم پر پاکستان ایمبیسی دیکھنے کاجنون سوار ہوالیکن دوستوں کے سمجھانے اور بزرگوں کے ڈرانے کےباعث ہم نے پاکستان ایمبیسی جانے کا ارادہ ترک کردیا۔

بعد ازاں ہم نے امریکہ اور یورپ سے آنے والے پاکستانیوں کاتعاقب شروع کیا اور ان سے پاکستانی سفارتخانوں کی خدمات اور ملی سرگرمیوں کے بارے میں سوالات کرنے شروع کئے ۔اکثر لوگ تو ہماری باتوں پر ہنس کر کہتےتھے کہ پتہ نہیں آپ سفارتخانے کو کیا سمجھتے ہیں۔ارے قبلہ ہم تو بس کبھی ویزے یا پاسپورٹ کے چکر میں ایمبیسی جائیں تو جائیں اور وہ بھی دعا کریں کہ خدا کسی کو نہ لے جائے۔۔۔

خدا خدا کر کے اس سال ہماری یہ دیرینہ آرزو پوری ہوگئی اور اپنی سیلانی طبیعت کے باعث ہمیں تہران میں قائم "پاکستان ایمبیسی "جانے کا شرف حاصل ہوہی گیا۔

ہم نے ہزاروں ارمانوں اور خوابوں کے ساتھ کہیں سے پاکستان ایمبیسی کا ٹیلی فون نمبر لیا اور فون کر کے تمام تر ضروری معلومات اکٹھی کرلیں۔تین چار دنوں میں آفس ٹائمنگ معلوم کی گئی،فوٹوکاپیاں کروالی گئیں، تصاویر اتروا لی گئیں اورٹیکسی والے کو صبح لے جانے اور واپس لانے کی تاریخ اور ٹائم بتا دیا گیا۔

اتفاق سے جس صبح ہم نے ایمبیسی جانا تھا اس رات خوشی کے مارے ہمیں نیند ہی نہیں آئی۔رات بھر جاگتے رہے لیکن اس کے باوجود جسم پر کسی قسم کی تھکاوٹ کے کوئی آثار نہیں تھے۔

صبح سویرے ہم ٹیکسی میں سوار ہوئے اور مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ پہلے یعنی آٹھ بجے ایمبیسی پہنچ گئے۔نوبجے قطار بنائی گئی اور ہم بہت خوش ہوئے چونکہ سب سے آگے ہم کھڑے تھے۔پھروہیں کھڑے کھڑے دس بج گئے پھر ساڑھے دس۔۔۔پھر ہمارے منہ پر بارہ بجنے لگے،ہم نے ڈیوٹی پر مامور چند افراد کو مخاطب کر کے کہا کہ ہم لوگ باہر روڈ کے اوپر آخر کب تک کھڑے رہیں گئے ،انہوں نے جواب دیا جب تک بڑے صاحب نہیں آجاتے۔

ہم نے عرض کیا حدّ اقل ان خواتین اور بچوں کو تو صحن میں بٹھادو ہم ادھر روڈ پر ہی قطار بنائے رکھیں گے وہ بولے نہیں ہر گز نہیں چونکہ اوپرسے آرڈر نہیں ہے۔

اس روز یوں ہم اپنی ہی ایمبیسی کے سامنے خود بھی دھوپ اورغصّےمیں جلتے رہے اور دوسروں کو بھی جلتا دیکھتے رہے۔جب گیارہ بجے توملازمین نے اعلان سنایاکہ وقت ختم ہوگیاہے ہم نے بہت منّت سماجت کی کہ ہم دوبارہ نہیں آسکتے ،ہم صبح سے آئے بیٹھے ہیں،کم از کم ابتدائی کاروائی تو کر لی جائے ۔وہ بولے جناب ہم کچھ نہیں کرسکتےہمارے ہاں یہ قانون ہے کہ گیارہ بجے ہم لوگوں کوواپس بھیج دیتے ہیں،ورنہ یہ جو اوپر آفیسرز بیٹھے ہیں وہ ہمیں جوتے مارتے ہیں۔

وہ اپنی باتیں کرتے رہے اورہم لوگ ڈھیٹ بن کر روڈ پرکھڑے رہے ، اسی طرح بارہ بج گئے،بارہ بجے ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے ایک ایک کر کے ساراعملہ گیٹ سے باہر نکلا اور چلا گیا۔

ہم نے بھی واپس پلٹنے میں ہی اپنی عافیّت سمجھی اور یہ بات کچھ کچھ ہمیں سمجھ آنے لگی کہ آخر کیوں لوگ ایمبیسی کو تھانے کی مانند قراردیتے ہیں۔

چند دن ہمیں اپنے آپ کو سمیٹنے میں لگے اور تقریباً دو ہفتوں کےبعد ہم نے ایک مرتبہ پھر ایمبیسی جانے کا ارادہ کیا۔

حسب سابق تمام تیاریاں مکمل کی گئیں اور ایک مرتبہ پھر ہم صبح آٹھ بجے ایمبیسی کے گیٹ کے سامنے روڈ پر کھڑے ہوگئے اور نو بجے تک ہمارے پیچھے شیطان کی دم کی طرح لمبی لائن لگ گئی۔

یہاں پر ہم یہ بھی عرض کرتے چلیں کہ پاکستان ایمبیسی میں صرف پاکستانی نہیں آتے بلکہ مختلف ممالک کےسیّاح، تاجر ،انجینئر اورکاروباری حضرات بھی آتے ہیں جوپاکستان میں بزنس یا کاروبار کے سلسلے میں مشغول ہوتے ہیں یا ہونا چاہتے ہیں۔

ہماری قطار میں نصف سے زیادہ لوگ تو وہ تھے جن کا دومہینوں میں پانچواں یا چھٹا چکر تھا۔ ان کا مسئلہ یہ تھا کہ انہیں پاسپورٹ تومل گئے تھے لیکن پاسپورٹ کے ساتھ ایمبیسی سے ایک لیٹر جاری کیا جارہاتھا جس پر ہمیشہ ان کا یاتونام غلط درج ہوتاتھا اور یاپھر ان کا پاسپورٹ نمبر ۔چنانچہ یہ لوگ مجبور تھے کہ تھوڑے تھوڑے دنوں بعد ایمبیسی کا طواف کرتے رہیں۔

اس مرتبہ ایک خاص تبدیلی بھی ہمارے دیکھنے میں آئی اور وہ یہ کہ خواتین اور بچوں کو گیٹ سے اندر داخل ہوکر صحن میں لگی پرانی اور گندی کرسیوں پر بیٹھنے کی اجازت دے دی گئی۔اتنی بڑی تبدیلی دیکھ کر ہمارا دل خوشی کے مارے اچھل کر حلق میں آگیا۔

نو بجے لوگوں میں فارم تقسیم کردئے گئےتا کہ وہ اپنی اپنی ضرورت کا فارم پر کریں اور جمع کرائیں،فارموں کی تعداد بھی مختلف تھی،کسی کی قسمت میں ۴ کسی کی قسمت میں ۵ اور کسی کی قسمت میں ۶ فارم تھے۔

مزے کی بات یہ ہے کہ یہ سب کے سب فارم انگلش میں تھے اورموجودہ حاضرین کی اکثریت بغیر کچھ سوچے سمجھے ان فارموں پر دستخط کرتی چلی جارہی تھی اور ایک دوسرے کی دیکھادیکھی فارم پر کئے جارہے تھے۔ایک صاحب سے میں نے پوچھا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ بیان حلفی پر دستخط کر رہے ہیں وہ بولے مجھےکیا معلوم ،میں نے پاسپورٹ بنواناہے مجھے ااندر سے دفتر والوں نے کہا تھا کہ یہاں دستخط کردو سومیں نے دستخط کردئے۔

پھر وہ صاحب مجھ سے بولے کے یہ لوگ "اردو زبان"میں فارم کیوں نہیں چھپواتے،میں نے عرض کیا کہ قبلہ اس کی دو وجوہات ہیں ایک یہ کہ اردو غریبوں،کمیوں اور ناداروں کی زبان ہے جبکہ انگلش نوابوں،انگریزوں اور سرکار کی زبان ہے اور دوسری وجہ جب آپ اندر جائیں گئے تو بڑے صاحب سے پوچھ لیجئےگا۔

ادھر ہم لوگ باتیں کررہے تھے اُدھر کچھ لوگ پسینے میں شرابور ہانپ رہے تھے،ہم نے ہانپنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ یہاں پر فوٹوکاپی کی سہولت موجود نہیں ہے لہذا ایک فوٹوکاپی کے لئے آنے اور جانے میں تقریباً ۴۵منٹ لگتے ہیں۔ابھی یہ بات ہوہی رہی تھی کہ ایک اور صاحب بولے کے فیس جمع کرانے کے لئے بھی اچھا خاصا دور جانا پڑتاہے۔

حالانکہ یہ مسئلہ اس طرح بھی حل ہوسکتاہے کہ پاسپورٹ کے ساتھ ہی فیس وصول کرلی جائےاور بعد میں اکاونٹ میں جمع کرادی جائے۔اس کے علاوہ اور بھی بہت سارے طریقے موجود ہیں جنہیں اختیار کر کے فوٹوکاپی اور فیس جمع کرانے کی مشکل حل ہوسکتی ہے۔

باتوں ہی باتوں میں فارم پر ہوگئے اورگیارہ بجے ہمیں بڑے صاحب کی خدمت میں باری باری پیش کیا جانے لگا۔

سب سے پہلے ہمارا نمبر تھا،گیٹ کھول کر ہمیں اندر داخل ہونے کی اجازت دی گئی۔چند قدم چلنے کے بعد ہم نے ایک دروازہ کھولا اور ایک کمرے میں داخل ہوگئے ،ہمارے پیچھے پیچھے دوسرے لوگ بھی چلتے آرہے تھے،بالکل ایسے ہی جیسے کوئی بے گناہ قیدی کال کوٹھڑی کی طرف چلتاہے۔

اندر پہنچ کر ہمیں تو کہیں پر قائداعظم یا علامہ اقبال کی کوئی تصویر نظر نہیں آئی،البتہ ممکن ہے عوام النّاس کی نظروں سے چھپاکر کہیں پر کوئی تصویر لگائی گئی ہو یا قائداعظم کا کوئی قول یا علامہ کا کوئی شعر لکھا ہوا ہو،بہر حال ہماری گستاخ نگاہیں بار بار ڈھونڈھنے کے باوجود نہ ڈھونڈ پائیں۔

اس کے بعد ہمیں بڑے صاحب کے سامنے پیش ہونے کے لئے ایک کمرے میں لے جایاگیا، ان سے ملتے ہی ہمارابدن ایسےسرد پڑگیاجیسے برف۔

ہمارے سرد ہونے کی وجہ یہ تھی کہ بڑے صاحب وہ کام کر رہے تھے جو چھوٹے صاحب کے کرنے والے تھے،موصوف کاغذوں کو نتھی کر رہے تھے،تصاویر مرتب کر رہے تھے اور فارموں کو فائلوں میں ڈال رہے تھے، سلام کے بعد ہم نے کچھ دیر صبر کیا اور پھر بڑے صاحب پر اپنے مفید مشوروں کی خواہ مخواہ بارش شروع کردی۔

ہمارے مشورے کچھ اس طرح کے تھے کہ مثلاًلوگوں سے ملاقات کی ٹائمنگ بڑھائی جائے۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔انہوں نے فائلوں کو ٹٹولتے ٹٹولتے میرے مشورے سنے اور بڑی محبت سے یہ جواب دیاکہ میرے پاس اسٹاف نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ کام بہت زیادہ ہے۔میں بھی حکم کا پابند ہوں جو اوپر سے آرڈر آتا ہے وہی انجام دیتاہوں لہذا میں مجبور ہوں کچھ بھی نہیں کرسکتا۔

اس کے بعد انہوں نے اگلی خبر یہ سنائی کہ اب اوپر سے یہ آرڈر آیاہے کہ آپ کے بچے کے لئے پاسپورٹ جاری نہیں ہوسکتا،ابھی صرف رجسٹریشن ہوگی آپ جائیں فلاں چوک کے نزدیک فلاں بینک میں رجسٹریشن فیس جمع کراکے وہاں سے فلاں چوک کے اتنے نمبر کوچے سے رجسٹریشن فیس کی رسیدکی ۲عددفوٹوکاپیاں بھی کراکے اپنے ہمراہ لیتے آئیں۔

یہ سنتےہی ہمیں خطرہ پڑگیاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم فیس جمع کرانے اور فوٹوکاپی کرانے اتنے دور چلے جائیں اور پیچھے چھٹی ہوجائے۔ اس خدشے کےاظہار پر موصوف نے تسلی دی کہ ہمارے واپس آنے تک یعنی۳۰،۴۰منٹ تک چھٹی نہیں ہوگی۔

ہم بھاگم بھاگ گئے اور واپس آگئے ،ہم نے رجسٹریشن فیس کی رسید جمع کرائی اور دیکھاکہ لوگ جناب عالی سے پوچھ رہے تھے کہ پاسپورٹ کے بغیر ہم بچے کو پاکستان کیسے لے جائیں؟

جناب عالی فخر کے ساتھ مسکراکربتارہے تھےکہ ابھی نیا قانون جاری ہواہے جس کی رو سے ہم آپ کو صرف ایک مہینے کا ایمرجنسی پاسپورٹ بنا کر دیں گے۔جب آپ نے پاکستان جانا ہوتو جانے سے چند روز پہلے ہمارے پاس آئیں اور ہم سے اسی وقت ایمر جنسی پاسپورٹ بنوالیں پھربچے کو پاکستان لے جائیں اور وہاں جاکر نیا پاسپورٹ بنوائیں۔یعنی ۔۔۔کیا جب تک ہم پاکستان نہ جائیں ہمارے بچے بغیر پاسپورٹ کے رہیں گے اور اگر ان کا پاسپورٹ نہیں ہوگا تو انہیں قانونی اقامت بھی نہیں ملے گی،یعنی۔۔۔ غیرقانونی طور پر انہیں ایک دوسرے ملک میں رکھیں گئے۔

وہ بولے مجھےنہیں پتہ میں تو قانون کا پابند ہوں۔یہ شور شرابا جاری تھاکہ میں یہ سوچتے سوچتے ایمبیسی سے باہر نکل آیا کہ اب الجھنے کا کوئی فائدہ نہیں چونکہ جہاں قانون کی حکمرانی ہو وہاں صرف قانون کا ڈنکاہی بجتاہے۔

باہر آکر روڈ پردیکھاتولوگ کھل کرغیر ملکیوں کے سامنے ایک دوسرے کے ساتھ اپنادرد دل بانٹ رہے تھے۔اب آپ خود سوچئے کہ اگر ہر روز سینکڑوں پاکستانی اپنی ایمبیسی کے دروازے پر کھڑے ہوکر اپنی بدقسمتی کاماتم کررہےہیں تو اس سے ہمارےقومی وقار میں ہرروزکس قدر اضافہ ہوتاہے۔

یقین جانیے کہ پاکستان ایمبیسی کا یہ حال دیکھ کر ہر صاحب دردشدّت سے یہ محسوس کرتاہےکہ ہمارے ملک کی داخلی و خارجی کلیدی پوسٹوں پر ایسے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں، جوشعوری یا لاشعوری طور پر پاکستانیوں کو پاکستان سے متنفّر کر رہے ہیں۔

ایسے لوگ قانون کے ذریعے لوگوں کو سہولیات فراہم کرنے کے بجائے لوگوں کواذیّت و آزار میں مبتلاکررہے ہیں۔

اب اور کوئی سوچے یا نہ سوچےارباب علم و دانش کو تویہ سوچنا چاہئے کہ آخریہ کون لوگ ہیں ۔۔۔ جن کی ہر بات قانون اورہر حرف ،حرف آخرہے ۔جن کےسامنے نہ افکار قائداعظم کی کوئی اہمیت ہے اور نہ ہی فکر اقبال کی کوئی حیثیت ہے۔

مختلف کرسیوں پر بیٹھ کرپاکستانیوں کے دل سے پاکستان کی محبت کو مٹانے پر تلے ہوئے یہ لوگ کیااتنا بھی نہیں جانتے کہ جب قانون کو شکنجہ بنا کر عوام کے سامنے پیش کیاجائے تولوگوں کے دل سےخود بخود قانون کا احترام ختم ہوجاتاہے ۔nazarhaffi@yahoo.com

نذر حافی
12-25-2012, 03:01 AM
ہمارے ملک کی داخلی و خارجی کلیدی پوسٹوں پر ایسے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں، جوشعوری یا لاشعوری طور پر پاکستانیوں کو پاکستان سے متنفّر کر رہے ہیں۔

بےباک
12-25-2012, 09:59 AM
یہاں پر بھی ایسا ہی ہے ، میں ریاض سعودی عرب میں ہوتا ہوں ، جدہ اور ریاض میں یقین کریں پاکستانی سفارت خانہ میں صبح پانچ بجے آ کر لائن میں لگنا ھوتا ھے ، اور آٹھ بجے ایمبسی کھلتی ہے ،کیونکہ انہوں نے تقریبا 4 سو بندے روزانہ ٹوکن دیتے ہیں ، جن کو ٹوکن نہیں ملتے یعنی ان کی محنت اور انتظار بےکار گیا ۔اب ان کو اگلے دن آنا ہوتا ہے ،
کیا ہم سٹاف زیادہ نہیں کر سکتے ، بےشک کام بہت زیادہ ہے ، مگر اس کے چارجز بھی کم نہیں لیتے ، دوسرے شہروں سے آنے والے رات سے آ جاتے ہیں تاکہ صبح پانچ بجے ایمبسی میں لائن میں لگ جائیں ،
کیا ہم سدھر سکتے ہیں ، کیا سدھار ممکن ہے ،بالکل ممکن ہے بس تگ دو دو کرنی چاھیے ،:photosmile:

آپ کی دکھی تحریر پڑھ کر اپنا دکھ بھول گیا ، ہاہاہاہا ، پھر سوچا چند حرف لکھ ہی دوں

نذر حافی
06-14-2013, 01:52 PM
ایران میں آج جمعۃ المبارک کے روزانتخابات ہورہے ہیں،لوگ پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹ ڈالنے میں مصروف ہیں۔انتخابات کی گہماگہمی کے دوران دودن پہلےہم اپنی سیلانی طبیعت کے باعث تہران میں قائم پاکستان ایمبیسی جا پہنچے۔وہاں ہم نے پاکستانیوں کی ذلت اور رسوائی کے جو مناظر دیکھے انہیں دیکھنے کے بعد ہم ایرانی انتخابات کی ساری گہماگہمی بھول گئے۔ پاکستان ایمبیسی میں پاکستانیوں کی ذلت و رسوائی کے دیکھے جانے والےیہ مناظر اتنے دردناک تھے کہ قلم انہیں بیان کرنے سے قاصر ہے۔ بات کچھ یوں ہے کہ کہتے ہیں کہ کہیں پر ایک صاحب کے پاس بہت دولت تھی، دوست احباب کا حلقہ بھی بہت وسیع تھا، برادری بھی اچھی خاصی تھی، کمپین بھی خوب چلاتے تھے لیکن اس کے باوجود الیکشن میں ہمیشہ ہارجاتے تھے۔ انہیں یہ "مسئلہ" سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آخر وہ ہمیشہ ہار کیوں جاتے ہیں۔ کئی مرتبہ ہار جانے کے بعد انہیں احساس ہوگیا کہ اس مسئلے کو حل کئے بغیر اب چارہ نہیں۔ بلاخر انہوں نے اس مسئلے کے حل کے لئے دوستوں سے مشورے کئے، برادری کے کھڑپینچوں سے مدد مانگی، بیوروکریٹوں کو رشوت دی، نعرے لگانے والے اور کمپین چلانے والوں کے لئے مال و دولت کی تجوریاں کھول دیں، پیروں فقیروں سے دعائیں کروائیں، مسجدوں میں نیازیں بانٹیں اور اللہ اللہ کرکے ایک مرتبہ پھر الیکشن میں کود گئے، البتہ اس مرتبہ بھی الیکشن کے نتائج پر کوئی اثر نہیں پڑا اور وہ پہلے کی طرح اس مرتبہ بھی شکست سے دوچار ہوگئے۔ اس مرتبہ شکست کھانے کے بعد انہوں مختلف سیاسی ماہرین سے رجوع کیا، اخباروں کے صحافیوں سے مشاورت کی، برادری کے بوڑھوں سے بات چیت کی، دوستوں کی محفلوں میں یہ شکایت کی کہ انہیں یہ سمجھ نہیں آرہی کہ ان کے ساتھ آخر مسئلہ کیا ہے، کئی دن گزر گئے تو ایک روز ایک صاحب نے دستِ ادب باندھ کر ان سے عرض کیا کہ جناب مجھے آپ کے مسئلے کا پتہ چل گیا ہے۔۔۔۔ مسئلے کا حل ڈھونڈنے والے نے کہا کہ میں نے ان چند سالوں میں آپ کے ساتھ رہ کر دیکھا ہے کہ آپ کمپین بھی اچھی چلاتے ہیں، دل کے بھی سخی ہیں، ہاتھ کے کھلے ہیں، سوجھ بوجھ اور تعلیم کے اعتبار سے بھی آپ میں کوئی کمی نہیں، بس آپ کا مسئلہ یہ ہے کہ آپ میں تکبر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ یہ سن کر موصوف نے دوبارہ ایک جلسہ عام کا اعلان کیا اور تقریر میں لوگوں سے کہا کہ میرے بارے میں کچھ افراد کا کہنا ہے کہ میرے اندر تکبر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے، حالانکہ اگر مجھ میں تکبر ہوتا تو میں تمہارے جیسے دو ٹکے کے لوگوں سے بار بار ووٹ مانگنے کیوں آتا۔ یہ تو تھا ان صاحب کا مسئلہ، اب ذرا ہمارا مسئلہ بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔ تقریباً اڑھائی سال کے بعد ہمیں دوبارہ تہران میں قائم پاکستان ایمبیسی جانے کا شرف حاصل ہوا، اب باہر سے گندی کرسیاں اٹھا دی گئی تھیں، لوگوں کو گیٹ سے اندر داخل ہونے کی اجازت دی جا رہی تھی اور غیر ملکیوں کو بڑے پروٹوکول کے ساتھ الگ سے نمٹایا جاتا تھا۔ ہم نے یہ دیکھا تو خوشی سے پھول گئے کہ لو جی پاکستان ترقی کرگیا، پاکستان ایمبیسی میں انقلاب آگیا ہے اور ہمارے جیسے لوگوں کا تو مسئلہ ہی حل ہوگیا ہے۔ بہرحال ہم اندر ہال میں بیٹھے ہی تھے کہ اپنے اردگرد کچھ اور پاکستانیوں کو بھی منہ بسور کر بیٹھے ہوئے دیکھا، لوگوں کے چہروں پر چھائی ہوئی اداسی اور مرجھاہٹ کو دیکھ کر ہمیں اپنی عاقبت کی بھی فکر لاحق ہوگئی، کچھ افراد سے پوچھ گچھ کی تو پتہ چلا کہ ایمبیسی نے ٹائمنگ 9 سے 11 بجے تک کی لکھی ہوئی ہے، ہر روز لوگوں کو نو سے گیارہ بجے تک بلاوجہ بٹھایا جاتا ہے۔ درمیان میں عملے کا ایک آدمی کچھ دیر کے لئے نمودار ہوتا ہے، فارم تقسیم کرکے دوبارہ غائب ہو جاتا ہے۔ ہم نے یہ سنا تو کہا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں کو بٹھا کر ٹائمنگ پوری کی جاتی ہے، لیکن ایک صاحب بولے کہ آگے تو سنیں، جو شخص فارم دیتا ہے اسے خود بھی نہیں پتہ کہ ان فارموں کو کیسے پر کرنا ہے، وہ فارم دیتے ہوئے آنکھیں جھپکتا رہتا ہے اور زیرِ لب کچھ بڑبڑاتا رہتا ہے اور اس کے بعد اندر چلا جاتا ہے۔ فارم وصول کرنے کے بعد لوگ ایک دوسرے کا منہ تکتے رہتے ہیں کہ ان فارموں کو کیسے پر کریں چونکہ ہر فارم کے اوپر نام، والد کا نام، پاسپورٹ نمبر، مسلمان ہونے کا بیان حلفی، انگوٹھے کا نشان وغیرہ لکھا ہوتا ہے۔ فرض کریں اب جس شخص نے بچے کا پاسپورٹ بنوانا ہے وہ مسلمان ہونے کی بیان حلفی بچے کی طرف سے کیسے لکھے؟ چنانچہ بعض لوگ بچے کی طرف سے یہ فارم پر کرتے ہیں، بعض بچے کے باپ کی طرف سے اور بعض بچے کی ماں کی طرف سے اور اس دوران وہ جتنا بھی متعلقہ شخص سے کچھ پوچھنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ شخص جنتر منتر کی طرح کچھ پڑھ کر چلا جاتا ہے اور مسئلہ ویسے کا ویسا ہی باقی رہتا ہے۔ لوگ بغیر کچھ سمجھے اپنی اپنی صوابدید کے مطابق فارم پر کرتے ہیں اور اس کا انتظار کرنے لگتے ہیں۔ بلاخر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوتی ہیں اور 11 بجے سے کچھ دیر پہلے وہی آدمی ایک ایک شخص کو بلا کر فارم چیک کرنا شروع کرتا ہے اور دھڑلے سے فارموں کو مسترد کرتا جاتا ہے، اب کی بار وہ پہلے کی طرح آہستہ آہستہ نہیں بولتا بلکہ تند و تیز لہجے میں لوگوں کو ڈانٹتا ہے کہ تم نے فارم غلط پر کیا ہے، نالائق آدمی۔۔۔ جاو ۔۔۔اب وقت ختم ہوگیا ہے۔۔۔ 11 بج چکے ہیں۔۔۔ اکثر لوگ یہاں پر ہی مار کھا جاتے ہیں اور اسی ہاہو میں کچھ کے فارم جمع ہو جاتے ہیں اور کچھ بے چارے فارموں کی صورت میں اپنی ناکام حسرتوں کو سمیٹے ہوئے واپس لوٹ آتے ہیں۔ ٹھیک 11 بجے وہ شیر کچھار سے باہر آتا ہے اور لوگوں کو بکریوں کی طرح گیٹ سے باہر کر دیتا ہے۔ لیجئے آج کل پاکستان ایمبیسی میں اس طرح 11 بجائے جا رہے ہیں۔ جن لوگوں کے فارم جمع ہو جاتے ہیں، ان میں سے بعض کو چند دن بعد فون آتا ہے کہ آپ اپنی فیملی کے ساتھ دوبارہ تشریف لائیں، ایک فارم مزید پر کرانا ہے، یا پھر ایک فارم کے کچھ خانے نامکمل رہ گئے ہیں اور یا پھر آپ کی بیگم کا انگوٹھا ایک فارم پر نہیں لگا۔ اب جنہیں واپس نہیں بلایا جاتا وہ جب پاسپورٹ لینے کے لئے آتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ پاسپورٹ پر کبھی بچے کی جگہ ماں کا نام کبھی اس کے بھائی کا نام اور اگر تین چار بچوں کے پاسپورٹ بنوانے ہوں تو پھر تو خدا ہی خیر کرے، پورے کا پورا خاندان بھی بدل سکتا ہے۔۔۔ بہر حال یہ تو وہ باتیں ہیں، جو جاتے ہی لوگوں نے ہمیں بتائیں۔ اب وہ ملاحظہ کیجئے جو ہم نے دیکھا اور ہمارے اوپر بیتا۔ ہمارے دائیں طرف بیٹھے ہوئے ایک صاحب اپنے بچے کا پاسپورٹ بنوانے آئے تھے، وہ بیان حلفی فارم لے کر اس کی ماں کی طرف سے پر کر رہے تھے کہ "میں مسلمان ہوں"۔۔۔ دوسرے صاحب انہیں سمجھا رہے کہ پچھلی دفعہ ہم نے یہ فارم بچے کی ماں کی طرف سے پر کیا تھا اور بعد میں پاسپورٹ میں بھی بچے کی ماں کا ہی نام لکھا ہوا تھا۔ دوسرے صاحب کہہ رہے تھے کہ ہم نے یہ فارم بچے کی طرف سے پر کیا تھا، دو دن بعد ہمیں کہا گیا کہ فیملی کے ہمراہ دوبارہ تشریف لائیں اور ہم سے آج یہی فارم دوبارہ بچے کی ماں کی طرف سے پر کروایا گیا ہے۔ اب رہ گئے باپ کی طرف سے فارم پر کرنے والے تو ان میں سے ایک صاحب توہ مارے بائیں جانب بیٹھے تھے، کہنے لگے ہم نے تو باپ کی طرف سے یہ فارم پر کیا تھا اور آج یہ پاسپورٹ لے کر جا رہے ہیں۔ چنانچہ ان کی بات سن کر کچھ نے باپ کی طرف سے ہی وہ فارم پر کر دیا۔ خدا خدا کرکے فارم وصول کرنے والے صاحب تشریف لائے اور انہوں نے دیکھتے ہی دیکھتے فارموں کو ناقص قرار دینا شروع کر دیا، لوگوں نے کہا کہ جب ہم پوچھتے ہیں تو آپ بتاتے نہیں ہیں، وہ بولے کہ میرے پاس اتنا ٹائم نہیں ہے، تم لوگوں کو سمجھ ہی نہیں آتی، پتہ نہیں تمہارے دماغوں کو۔۔۔ آپ یقین جانیں یہ وہی صاحب تھے کہ جو تھوڑی دیر پہلے کسی سوال کا جواب دیتے ہوئے اس طرح سرا سیمہ ہوجاتے تھے کہ سوال پوچھنے والے کو کچھ سمجھ ہی نہیں آتا تھا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں، لیکن اب وہ اس طرح سے بول رہے تھے کہ الاماں۔ ہمارے سامنے کیسے کیسے معزز طالب لوگوں کو انہوں نے رسوا کیا۔ان میں سے اکثر وہ تھے جن کی عمریں ہی درس و تدریس میں صرف ہوگئی ہیں اور جن کا اوڑھنا بچھونا ہی تعلیم اور کتاب ہے، ان لوگوں پر وہ صاحب اپنا علمی رعب جھاڑ رہے تھے کہ تم لوگ کیا پڑھتے ہو؟ دیکھتے نہیں کہ یہاں left thumb لکھا ہے۔ سب آگے سے سر جی، سر جی کر رہے تھے اور "سر جی" فارموں کو ناقص قرار دے رہے تھے، یعنی آج کل سر جی کے ہاتھ بھی کیا خوب مشغلہ آیا ہوا ہے۔ 11 بجے ہمیں بھی سر جی نے طلب کیا، فارموں کو دیکھا اور بولے کہ اب تو 11 بج چکے ہیں، میرے پاس بالکل وقت نہیں، ہم نے سر جی سے عرض کیا کہ "سر جی" آپ نے ہمیں یہاں 9 بجے سے مرغا بنایا ہوا ہے۔ اگر آپ یہ فارم وصول کرلیں تو۔۔۔ بولے مجھے آپ لوگوں نے فارغ سمجھا ہوا ہے، میں بہت مصروف آدمی ہوں۔۔۔ہوں۔۔۔ہوں۔۔ہوں۔۔۔ بہرحال آپ سمجھ گئے ہونگے کہ آج کے دن پاکستان ایمبیسی سے ناکام حسرتیں لے کر لوٹنے والوں میں ہم بھی شامل ہیں۔ اب آپ بتائیں کہ ہمارا مسئلہ کیا ہے۔؟ پاکستان ایمبیسی پاکستانیوں کے ساتھ ایسا کیوں کرتی ہے۔؟ کیا ایمبیسی رجوع کرنے والوں کے لئے ٹوکن جاری نہیں کرسکتی، تاکہ لوگ اپنی اپنی باری پر متعلقہ شخص کے سامنے بیٹھ کر اپنے فارم پر کریں۔ کیا موجودہ "سر جی" کی جگہ کوئی معقول "سر جی" دستیاب نہیں ہوسکتے۔؟ کیا ایمبیسی کی طرف سے جاری شدہ مبہم فارمز کی جگہ نئے فارم جاری نہیں ہوسکتے۔؟ کیا ضروری ہے کہ لوگوں کو 9 سے 11 بجے تک مرغا بنا کر ایمبیسی میں بٹھایا جائے اور گیارہ بجے انہیں کہا جائے کہ اب وقت ختم ہوگیا ہے۔؟ کیا فارم تقسیم کرنے، وصول کرنے اور پر کرنے کے عمل کو بہتر نہیں بنایا جاسکتا؟ تاکہ لوگوں کو بار بار ایمبیسی کے چکر نہ لگانے پڑیں۔ آئیے ملکر اس مسئلے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، البتہ جہاں تک ہماری رائے ہے، ہماری رائے کے مطابق ہم لوگ بھی الیکشن لڑنے والے صاحب کی طرح کمپین بھی اچھی چلاتے ہیں، دل کے بھی سخی ہیں، ہاتھ کے کھلے ہیں، سوجھ بوجھ اور تعلیم کے اعتبار سے بھی ہم میں کوئی کمی نہیں، بس ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم میں تکبر کے بجائے عاجزی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ "سر جی" 9 بجے سے 11 بجے تک ہمیں مرغا بنائے رکھتے ہیں، فارم پر کراونے میں مدد نہیں کرتے، کسی کی نہیں سنتے اور ہم "سر جی" سر جی" کرتے رہتے ہیں۔ ہمیں اپنے مسئلے کا پتہ نہیں لیکن ایمبیسی والوں کو پاکستانیوں کے اس مسئلے کا پتہ چل چکا ہے کہ ہم لوگوں میں بلا کی عاجزی ہے۔ چنانچہ انہوں نے ہم جیسے عاجزی اور انکساری کے پتلوں کو کو دبانے کے لئے "سر جی" کو ہمارے اوپر مسلط کر رکھا ہے۔ ہماری عاجزی اور انکساری کی انتہا دیکھئے کہ پاکستان ایمبیسی میں ہر روز ان لوگوں کی شخصیت کشی کی جاتی ہے اور انہیں ذلیل کیا جاتا ہے جن میں اکثریت طالب علموں کی ہوتی ہے ، لیکن پاکستانیوں کی کوئی تنظیم اس "شخصیت کشی اور ذلت" کے مسئلے کو نہیں اٹھاتی۔ ہم تمام منصف مزاج سیاسی و دینی جماعتوں اور بالخصوص طالب علم تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے اجلاسوں، سیمینارز اور پروگراموں میں تہران میں قائم پاکستان ایمبیسی کے پاکستانیوں کے ساتھ اس شرمناک رویے کی مذمت کریں اور ای میل، فیکس نیز ہر ممکنہ ذریعے سے ارباب حل و عقد تک اس سلسلے میں اپنا احتجاج ضرور پہنچائیں۔ پتہ نہیں وہ وقت کب آئے گا جب ہمارے اعلی حکام اپنی ملت کی آبرو اور وقار کے مسئلے کو سنجیدگی سے لیں گے۔ نوٹ:۔ پاکستان ایمبیسی کے ناہل اسٹاف کے بارے میں لوگوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے کئی مرتبہ شکایات درج کرائی ہیں لیکن ان کی کوئی نہیں سنتا، سب آپس میں ملے ہوئے ہیں،بجائے مشکلات کو کم کرنے کے لوگوں کے لئے مزید مشکلات کھڑی کی جارہی ہیں،ہر روز ایک نیا قانون گھڑ کر لوگوں کے گرد مزید شکنجہ کسا جاتاہے۔ پاکستان ایمبیسی کے عوام کُش قوانین کے بارے میں ہم اگلے چند دنوں میں دوبارہ ایک تازہ ترین رپورٹ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہونگے۔ یاد رہے کہ پاکستان ایمبیسی میں پاکستانیوں کی ذلت کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے بعد ہم نے ایرانی انتخابات کے بجائے پاکستان ایمبیسی کے مظالم کو منظر عام پر لانے کا فیصلہ کرلیاہے۔