PDA

View Full Version : جدوجہد پھولوں کی سیج نہیں ہوتی، اس کیلئے قربانیاں دینی ہوتی ہیں



نذر حافی
12-23-2012, 10:25 PM
علامہ ڈاکٹر طاہر القادری نے بشیر بلور کی شہادت پر ان کے اہل خانہ، اسفندیار ولی اور عوام سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعائے مغفرت کی اور خطاب کرئے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ تحریک منہاج القرآن کا نہیں 18 کروڑ عوام کا اجتماع ہے۔ انہوں نے کہاکہ وہ اللہ کو گواہ بنا کر کہتے ہیں کہ اجتماع کے پیچھے دنیا کا کوئی ملک یا کوئی ایجنسی نہیں، اس اجتماع کے تمام اخراجات تحریک منہاج القرآن نے ادا کئے ہیں، چاہتا ہوں کہ غلط فہمیاں اور بدگمانی ختم کرکے لوگ میرا ایجنڈا سنیں، آج ہم پاکستان کو ایک نئے دور میں داخل کرنے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو معاشی و اقتصادی مشکلات سے نکالنا میرا مقصد ہے، پاکستان سب کیلئے ہے، امیر، غریب، سیاہ سفید کی تفریق نہیں، ہم یہاں پاکستان سے وفاداری کا حلف اٹھاتے ہیں، ہم حلف اٹھاتے ہیں کہ پاکستان میں عدل و انصاف کا راج ہو۔ انہوں نے حاضرین جلسہ سے عہد لیا کہ ہماری تبدیلی کی جدوجہد ہمیشہ پرامن ہوگی، پرامن جدوجہد سے نظام کو بدلیں گے۔ سربراہ تحریک منہاج القرآن نے کہا کہ جدوجہد پھولوں کی سیج نہیں ہوتی، اس کیلئے قربانیاں دینی ہوتی ہیں، ہم تشدد اور توڑ پھوڑ کی سیاست کو مسترد کرتے ہیں، عوام لوٹ کھسوٹ کے نظام کو بچانا نہیں چاہتے۔
مینار پاکستان میں تحریک منہاج القرآن کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے علامہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ استحصالی نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا وقت آگیا ہے۔ پاکستان کو نئے دور میں *داخل کریں *گے۔ انہوں نے کہا کہ میں حلف اٹھا کر کہتا ہوں کہ جلسے پر آنے والے تمام اخراجات منہاج القران کے کارکنان نے دیئے، کسی ایجنسی، ادارے کا کوئی عمل دخل نہیں* ہے۔ انہوں* نے جلسہ کے شرکاء سے حلف لیا کہ یہ پاکستان ہر غریب کے لیے اتنا ہی ہے جتنا امیر کے لیے ہے۔ ہم حلف اٹھاتے ہیں* کہ پاکستان میں *آئین اور جمہوریت کی اصل حکمرانی ہو، پاکستان کی معیشت میں* شفافیت ہو، ہم حلف اٹھاتے ہیں* کہ ہم سب مل کر پاکستان کو ایک ناقابل شکست ریاست بنا دیں *گے۔ ایسی جدوجہد کریں *گے جس سے پاکستان اقوام عالم میں* سربلند ہوسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں* کسی فوجی مداخلت کے لیے نہیں* آیا، مجھے منظور نہیں* کہ میرے ملک کی کوئی کھڑکی بھی ٹوٹے، ہم تشدد اور تھوڑ پھوڑ* کی سیاست کو مسترد کرتے ہیں*۔
دیگر ذرائع کے مطابق تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ آج استحصالی، جاگیردارانہ نظام کو جڑ سے اکھاڑنے کی تحریک کا آغاز ہو رہا ہے، ہم استحصالی اور ظلم و جبر کے نظام کا خاتمہ چاہتے ہیں، ہمارا مقصد ملکی سیاسی نظام سے غلاظت صاف کرنا ہے، میرے جلسے کا مقصد سیاسی بساط کو لپیٹنا نہیں۔ وہ مینار پاکستان پر عوام کے بڑے اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔ خطاب سے قبل انہوں نے ایم کیو ایم کا 50 رکنی وفد بھیجنے پر الطاف حسین کے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے حمایت اور شرکت پر بھی شکریہ ادا کیا۔

بےباک
12-25-2012, 09:49 AM
خؤب اچھی تحریر پیش کی ،ویسے مزے کی بات ہے ، ہر سیاست دان اور ہر عالم یہی سمجھتا ہے کہ اٹھارہ کروڑ انسان اس کے پیچھے ہیں ، یا اس کے ساتھ ہیں ،
ویسے یہ الٹی میٹم صرف صرف ایک ہی طرف لے کر جا رہا ہے ،یعنی انتخاب کا التوا ، حالانکہ اس کے خالق جناب طاھر القادری صاحب کہتے ہیں ایسا نہیں ہو گا ،
ان کے الٹی میٹم کو کسی نے سنجیدگی سے نہیں لیا ، اور نہ لیں گے ، سیاسی جغادریوں کو اس کی پرواہ ہی نہیں ، لہذا طاھر صاحب کی بات غلط ہوتی دکھائی دیتی ہے ۔
اور اس کے نتیجے میں انتخابات ملتوی ہوتے دکھائی دیتے ہیں ، یہ دو متضاد باتیں ہیں ،:photosmile: