PDA

View Full Version : مینڈک اور سانپ کی کہانی



سید انور محمود
12-24-2012, 03:28 AM
تاریخ: 24 دسمبر 2012
از طرف: سید انور محمود

مینڈک اور سانپ کی کہانی
ایک تالاب میں بہت سارئے مینڈک رہتے تھے، مینڈک بہت پرامن وسکون سے تالاب میں رہ رہے تھے مگر ان میں کچھ شرپسند مینڈک بھی تھے جن کا مقصد تالاب کےپرسکون ماحول کو برباد کرنا تھا، مگر وہ ایسا کر نہیں پارہے تھے۔ ایک دن تالاب سے باہرجب وہ جمع ہوکراپنی شرپسندی کے بارے میں سوچ رہے تھے تو ان میں سے بڑے شرپسند مینڈک نے تجویز دی کہ اگر ہم سانپ سے دوستی کرلیں اور تالاب کے ان مینڈکوں کے بارئے بتاتے رہیں تو سانپ انہیں کھاتا رہے گااور وہ کمزور پڑتے رہنگے اسطرح ہمارا کام ہوجایگا۔ وہ سانپ سے دوستی کے بعد اسکو مینڈکوں بارئے میں بتاتے رہے کہ آج کونسا مینڈک کہاں ملے گااور سانپ کو اسکی خوراک ملتی رہی، سانپ بھی خوش تھا اور شرپسند مینڈک بھی، مگر کچھ عرصہ بعد مینڈکوں کو اس سازش کا پتہ چل گیا اور انہوں نے اپنی حفاظت کا انتظام کرلیا، مگر اس عرصے میں سانپ مینڈکوں کو کھانے کاعادی ہوچکا تھا- ایک روز جب سانپ نے اپنے شکار کے بارئے میں پوچھا تو شرپسند مینڈک نے اسکو بتایا کہ اب تالاب کےمینڈک ہماری سازش سے آگاہ ہوچکے ہیں لہذا انہوں نے اپنی حفاظت کا انتظام کرلیا ہے اور وہ پہلے سے زیادہ متحد ہوگے ہیں۔ یہ سنتے ہی سانپ کو غصہ آگیا اور اس نے اس شرپسند مینڈک کو کھانے کے لیے اپنے منہ میں دبا لیا، شرپسندمینڈک نے پوچھا میں تو تیرا دوست ہوں پھرمجھ کو کیوں کھا رہا ہے، سانپ نے جواب دیا سانپ کسی کا دوست نہیں ہوتا اور شرپسندمینڈک کو کھاگیا۔

پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کےصف اول کے رہنما اور صوبہ خیبر پختون خوا ہ کےسینئر صوبائی وزیر بشیراحمد بلور سمیت نو افراد خود کش حملے میں شہید ہوگئے ہیں۔ دہشت گرد تحریک طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے بشیر احمد بلور نے اس بات کو اپنی اولین ذمہ داری بنا رکھا تھا کہ پشاور یا صوبے کے کسی دوسرے شہر میں دہشت گردی کا واقعہ پیش آتا تو وہ جائے وقوعہ پر پہنچ جاتے اور ذرائع ابلاغ سے بات کرنے میں عوام کو حوصلہ دینے کی بات کرتے اوردہشت گرد طالبان کےحملوں کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے تھے۔ وہ جس طرح ہر جگہ اور میڈیا میں کھل کر دہشت گردطالبان کی مخالفت کرتے تھے اس وجہ سےطالبان دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر بہت پہلے سے موجود تھے۔ ۔ بشیر احمد بلور پر اس سے پہلے بھی دو مرتبہ قاتلانہ حملے ہوچکے ہیں جبکہ صوبائی وزیر میاں افتخار حسین کے اکلوتے بیٹے بھی دہشت گرد طالبان حملے میں شہید ہوئے تھے۔عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان سینیٹر زاہد کا کہنا ہے کہ بشیر احمد بلور کی شہادت سے ان کے حوصلے پست نہیں ہونگے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفندیار ولی خان نے ان کی ہلاکت کو محض اپنی پارٹی نہیں بلکہ تمام لبرل قوتوں اور پورے ملک کا نقصان قرار دیا۔ اے این پی کے دیگر رہنماؤں کی طرح اسفندیار پر بھی خودکش حملے ہوچکے ہیں۔

اوپر کی کہانی کو اگر آپ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے پس منظر میں دیکھیں تو سانپ سے مراد دہشت گرد طالبان ہیں اور شرپسند مینڈکوں سے مراد دہشت گرد طالبان کے ہمدرد ہیں ۔ ملالہ کے اوپر حملے میں قاضی حسین احمد کو دہشت گرد طالبان کا نام لینے میں تکلیف ہورہی تھی مگر کیا بشیر احمد بلورکی شہادت پر بھی انہیں اور انکی جماعت کو دہشت گرد طالبان کا نام لینے میں تکلیف ہورہی ہے۔ قاضی صاحب لاکھ کہیں ان پر ہونے والا خودکش حملہ امریکہ نے کروایا تھا مگر قاضی صاحب خود جانتے ہیں کہ سانپ سے دوستی اور اپنی قوم سے بےوفائی انہوں نے ہی کی ہے۔

بےباک
12-25-2012, 04:02 PM
کیا عجب سیکولر سوچ ہے، آپ کی تان جماعت اسلامی پر ہی ٹوٹتی ہے ،،،کس نے ان طالبان سے ھمدردی کی ، آپ ان دھشت گردوں کی آڑ میں اسلام اور اسلامی رھنماؤں کو برا سمجھتے ہیں ، کل یہی کہا جائے گا کہ آپ سورۃ توبہ کی آیات قرآن سے نکال دیں ، ان سے طالب علم جہاد کی طرف مائل ہوتے ہیں ۔
اچھے طالبان اور برے طالبان کی سوچ کس نے پیدا کی ، اور کیوں پیدا ہوئی ؟؟؟؟،
آپ سے ایک سوال ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا ہماری فوج اور ملٹری انٹیلجنس ، ایف آئی اے ، سی آئی ڈی ، آئی ایس آئی ، آئی بی اوردیگر خفیہ ادارے سب جاہل ہیں ، نالائق ہیں ۔ان کو کام کا نہیں علم ،
سوچ کر جواب دیجیے گا ،؟؟؟؟
محترم ایسا بالکل نہیں ہے ، دنیا کی سب سے اھل ترین ایجنسی وہ آئی ایس آئی ہے ،
کیا ان سب کے سامنے قاضی حسین احمد صاحب براجمان ہیں کہ وہ ان سارے اداروں کو روک رہے ہیں ، کہ کام نہ کریں ، تو مجھے ہنسی آتی ہے ،
ہمارا معاشرہ اسوقت تقسیم ہو چکا ہے ، اس معاشرے میں پانچ سے زیادہ قوتیں برسرپیکار ہیں ، یہ چومکھی لڑائی ہے ، اصل لڑائی ہماری سیاسی حکومت اپنی کمزوریوں کی وجہ سے لڑنا ہی نہیں چاھتی ،
ہم سب سے پہلے دشمن کے ان ایجنٹوں کو باھر نکالیں ، کیا قاضی صاحب اس پر رکاوٹ ہیں ، محترم اس کام میں حکومت کی کمزوری رکاوٹ ہے ، ان ایجنٹوں کو ہزاروں کے حساب سے ویزے کس نے دئیے ، جب کہ فوج اس کی مخالف تھی ، دبئی میں جمعہ کے روز بھی ویزے ایشو کیے گئے ، جب گھر کے لوگ ہی آپ سے مخلص نہ ہوں تو آٔپ کس کو کوسیں گے جماعت اسلامی کو ، کیا شکیل افریدی جماعت اسلامی کا ہی ایجنٹ ہے ، کیا ریمنڈ ڈیوس جماعت اسلامی کا ایجنٹ ہے کیا امریکا میں پاکستان کا سفیر حسین حقانی ایک مخلص پاکستانی ہے ، جو تھنک ٹینک کی مدد کر رہا ھے کہ فوج سے کیسے اسلامی اور اسلام کی حمایت یافتہ گروپ کو ختم کیا جائے ، جماعت اسلامی اور قاضی صاحب کس شخص کی حمایت کر رہے ہیں ،؟؟ وہ صرف اسلام کی حمایت کر رہے ہیں ، اور دشمن کے ایجنٹوں پر تنقید کر رہے ہیں جو ہم میں نفوذ کر چکے ہیں ،
ملک میں ان دشمن ایجنٹوں سے ہٹ کر بےشمار این جی اوز کام کر رہی ہیں جو دشمن کو معلومات دینے کے مشن پر کام کر رہی ہیں ، ہر ایک این جی او کا پس پردہ لنک، اقوام متحدہ ، پھر برطانیہ یا امریکا یا ٔپھر مزید پیچھے جائیں تو امریکن تھنک ٹینک دکھائی دیتے ہیں ،اور کئی این جی اوز کے لنک ڈائریکٹ پیٹاگون سے ملتے ہیں ۔
اب آئیے ، اسلامی طاقتیں ان میں تقسیم در تقسیم ھے ، ملاؤں مین دو قسمیں موجود ہیں ، ایک سیکولر ذھن کی کہ دین اسلام آزاد خیال ہے ، اور دوسرا اپنا تعلق اسلامی خلفائے راشدین سے ملاتے ہیں ۔ اور پھر ان اداروں کے پس پردہ کئی طاقتیں موجود ہیں جو ان کی حمایت میں موجود ہیں ،
خدا را دشمن کو پہچانیے ، دشمن آپ کے اندر تفرقہ ڈال چکا،،
میں مثالیں دیتا ھوں ،
گورنمنٹ پاکستان ھندوستان سے دوستی کی پینگیں بڑھا رہی ھے ، اور دوسری طرف بھارت ہماری سرحدوں پر اپنی گرفت مضبوط کر رہا ھے ،سرکریک پر اس نے باڑ لگانا شروع کر دیا ھے ، دریاوں پر بند باندھے جا رہے ہیں ، عالمی عدالتوں کے فیصلے اسے منظور نہیں اور سیاہ چین سے وہ انخلا نہین کرنا چاھتا ، کشمیر پر وہ بات نہین کرنا چاھتا ، اور آپ ان سے دوستی اور امن کی آشا کے گن گا رہے ہیں ،تو مجھے اس دوغلے پن پر ھنسی آتی ہے ،اور اس پاکستانی عوام پر ترس بھی آتا ھے ۔۔
یہی دوغلی سوچ اور دوغلی پالیسی ہماری رگوں مین سرایت کر چکی ہے ۔ ھم مسلمان ہوتے ہوئے بھی کفریہ سوچ رکھتے ہیں ، اعمال مسلمانوں والے نہیں ،
ایسے میں کون سی نسل آپ اس ملک میں دے کر جا رہے ہیں جس کے لیڈروں سے لے کر سیاست دانوں اور عوام تک سب دوہرے کردار کے مالک ہیں ، جیو پر خبر چل رہی ہوتی ہے کہ میڈیا اس ثقافتی یلغار کو روکنے میں اہم کردار ادا کرے اور فحاشت کی کیا تعریف ھے اور اس کو ذرائع ابلاغ سے روکنا چاھیے ، اس کے ساتھ ہی انٹرٹینمنٹ کا سیشن شروع ہوتا ھے ، اور وہی انڈین اداکاروں کے روغنی بدن اور بل کھاتی جوانی سے بھرپور انگڑائیاں لیتی فلمی ڈانسروں کے گانے دکھا رہے ہوتے ہیں ۔۔تو اس سے کیا اثرات مرتب ہوں گے ، یہی حال ہمارے ہاں مذھبی پروگراموں میں ہوتا ھےکہ واھیاتی کی حد سے بڑھ کر بےشرم وینا ملک کو رمضان میں ایک ٹی والے استغفار پروگرام میں اس کو ھوسٹ بناتے ہیں اور رمضان کا بابرکت مہینہ میں لوگ اس اداکارہ سے مستفیذ ھوتے رھتے ہیں ، اور پھر وہی اداکارہ ھندوستان میں جا کر توبہ شکن فلموں میں نیم عریان ڈانس کر رہی ہوتی ہین اور ہمارا میڈیا دکھا رہا ہوتا ہے ، توکیا ہم اس معاشرے سے ٹیپو سلطان پیدا ھوتا دیکھیں گے یا پھر فلمی ہیرو نمودار ہوں گے ،
اسلامی جماعتوں کو کوسنے والوں کا یہی مقصد رہ گیا ہے کہ جو تھوڑی بہت ان میں اسلام کی رمق رہ گئی ہے وہ ختم کر دی جائے ، اور اس ملک مین سیکولر نظام کی راہ ہموار کی جائے اور تقریبا سب کا یہی ایجنڈا ہے ۔۔
دشمن کے ایجنٹوں کو پکڑنے میں کوئی اسلامی جماعت رکاوٹ نہیں ، ہم خود دوغلے کردار ہیں ، قاتلوں کے گروہ کراچی میں پکڑے جاتے ہیں جوانٹ انٹیروگیشن ٹیم تفتیش کرتی ھے ۔ سو سو قتل کیے ہوتے ہین ، مگر سیاسی مصلحتوں کی بنیاد پر ان کو چھوڑ دیا جاتا ھے ۔سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے کئی سال سے پھانسی کے سزا یافتہ مجرموں کو سزا تک نہین دے سکتے ۔ اور ان کی تعداد ایک دو نہیں ہزاروں میں ہے ، کیا اسلامی جماعت اس کام میں رکاوٹ ہے ،یا ہم دوغلے کردار ہیں ۔۔
میں موضوع سے بالکل ہٹ گیا ہوں ،،،،، مگر آپ سے سوال ہے کہ محترم کچھ اپنا نقطہ نظر بیان کریں ، اور جماعت اسلامی اور دوسری اسلامی جماعتوں اور زعماء کو چھوڑیں آپ کوئی مثبت ایجنڈا دیں تاکہ ہم سب اس گرداب سے نکلیں ، اگر آپ سمجھتے ہیں کہ اس جہادی عنصر کو بالکل ختم کر دیا جائے ۔تو بھی اپنا ایجنڈا واضع کریں ،

سید انور محمود
12-25-2012, 06:03 PM
محترم بےباک صاب
میرئے مضمو ن پر تبصرہ کرنے کا شکریہ، بس آپ سے ایک ہی شکایت ہے کہ اور جیسا کہ آپ نے تسلیم بھی کیا ہےکہ آپ ہمیشہ موضوع سے ہٹ جاتے ہیں ، اسلیے مجھے سیکولر کہہ کر اور باقی جماعت سلامی کاپروپگنڈاکرکے آپکو کچھ حاصل نہیں ہوگا- رہی حکومت کی بات تو میرئے یہاں جو مضمون موجود اس میں سے کونسا ایسا مضمون ہے جو حکومت کے حق میں ہے دوسرئے کیا میں نے اپنے مضمون " چیف جسٹس سپریم کورٹ سے کراچی کےایک عام شہری کی فریاد" ایک لفظ بھی جماعت اسلامی کے خلاف کہا، ہاں البتہ اپنے مضمون "سپریم کورٹ کا الطاف حسین کو توہین عدالت کا نوٹس دوسروں کو کیوں نہیں؟" میں جسٹس نسیم حسن شاہ کی بات کرتے ہوئے میں نے لکھا "جسٹس نسیم حسن شاہ کا تعلق اسلامی جمیت طلبہ سےرہا تھا، اسلامی جمیت طلبہ جماعت اسلامی کی ذیلی تنظم ہے۔ سپریم کورٹ نے بھی سزائے موت کافیصلہ دیا،جس وقت یہ فیصلہ آیا اس وقت جماعت اسلامی ضیاالحق کی کابینہ میں موجود تھی" اب آپ بتایں کہ میں کیا کروں جو تاریخ ہے وہ ہی لکھونگا، اب جماعت اسلامی کی تاریخ ہی اتنی بری ہے تو میں اور آپ کچھ نہیں کرسکتے، ہاں ایک ضروری بات نوٹ کرلیں اور میں نے پہلے بھی لکھا تھا کہ جماعت اسلامی ایک سیاسی جماعت ہے ، اسلیے جب اس پر تنقید ہو تو اس کے ساتھ مہربانی فرماکر دوسری جماعتوں کو نہ جوڑا کریں- اب اگر سانپ قاضی حسین احمد اور انکی جماعت نے پالے ہیں تو میں الطاف حسین یا اسفندولی یا اُنکی جماعتوں کو تو الزام نہیں دے سکتا۔ شکریہ

بےباک
12-25-2012, 06:55 PM
شاید آپ بھول رہے ہیں کہ وہ ضیا الحق والی حکومت جماعت اسلامی کی بالکل نہیں ، ضیاء الحق نے غیر جماعتی الیکشن کرائے تھے ، چند وزراء اس میں شامل تھے ، حکومت مسلم لیگ کی تھی ،اور محمد خان جونیجو مرحوم اسوقت اس کے وزیر اعظم تھے ، اور پنجاب میں نواز شریف کی حکومت تھی ۔۔ یوسف رضا گیلانی ریلوے منسٹر تھے ، چوھدری شجاھت حسین یہ سب اس کیبنٹ میں شامل رہے ، اور باقی یہ مسنٹر تھے ،
ملک نسیم احمد ایجوکیشن منسٹر کامونیکشن اینڈ ھیلتھ منسٹر
میاں محمد یاسین خان وٹو فنانس اینڈ اکنامکس منسٹر
محمد ابراہیم بلوچ فوڈ ایند ایگریکلچر منسٹر
صاحب زادہ یعقوب خان فارن منسٹر
محمد حنیف طیب ، ھاوسنگ اینڈ ورکس منسٹر
چوھدری شجاھت حسین انڈسٹری پروڈکشن اینڈ واٹر اینڈ پاور منسٹر
محمد اسلم خان خٹک وزیر داخلہ
وسیم سجاد جستس اینڈ پارلیمانی امور کا منسٹر
انورعزیز چوھدری ، لوکل گورنمنٹ کا منسٹر
سید قاسم شاہ فرنٹیر اینڈ کشمیر افیرز منسٹر و اقلیتی امور
محمد اقبال احمد خان ۔
شاہ محمد کھوڑو
حاجی محمد صفی اللہ خان
نثار محمد خان
سید سجاد حیدر
میجر جنرل( ر ) محمد بشیر خان
میاں غلام محمد احمد خان مانیکا
ملک محمد نعیم خان
بیگم کلثوم صفی اللہ خان ۔۔
آپ کی یاداشت لے لیے لسٹ لکھ دی ہے، اس میں ٹک مارک کرے بتا دیں کہاں جماعت اسلامی کا کلیدی رول رہا ، کیا وزیر اعظم جماعت اسلامی کا تھا یا جماعت اسلامی کے ماتحت تھا ،
اور آپ افغانستان میں روس کا حملہ بالکل بھول گئے ، اسوقت ایسے ہی دھماکے ہمارے ملک میں شروع ہو رہے تھے اور وہ خاد اور کے بی جی کرا رہی تھی ۔
اسوقت جماعت اسلامی نے افواج پاکستان کا ساتھ دیا ، جس طرح مشرقی پاکستان میں افواج پاکستان کا ساتھ دیا ،
غیرت مند تھے وہ ، انہوں نے اپنے بیٹے قربان کیے ، کاش آپ وہ لسٹ دیکھیں ، جو شہداء کی لسٹ ہے ، جماعت اسلامی نے ھمیشہ وطن کو اسلامی ریاست بنانے کی کوشش کی ، اور اس طرح انہوں نے ہر اس قوت کا ساتھ دیا جو اس ملک میں اسلامی نظام لانے کا وعدہ کرتی رہی ،
آپ کے پاس ملک دشمنی کا ایک بھی الزام جماعت کے خلاف نہین ،
جب کہ ملک دشمنی کے رول ماڈل الطاف حسین ہیں یا وہ اشتراکیت زدہ لیڈر ،یا سیکولر اور مغرب سے مرعوب دانشور ، یا این جی اوز جن کی طنابیں باہر سے ہلتی ہیں ۔۔
آپ کی تحریر میں ذرا برابر جان نہیں ، میں نے جو باتیں لکھیں اس میں ایک بھی بات کا آپ نے جواب نہین دیا۔ آپ کے لیے یہ کہانی کافی ہے پڑھ لیجیے ،اور ھنس لیجیے ذرا

http://urdulook.info/portal/showthread.php?tid=7285

سید انور محمود
12-26-2012, 12:34 AM
محترم بےباک صاب
جواب کا شکریہ مگر
جنوں کا نام خرد رکھ دیا خرد کا جنوں
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
لگتا ہے جماعت اسلامی کے معاملے میں آپ بہت جذباتی ہوجاتے ہیں، اچھی بات ہے مگر بحث برائے بحث کا کوئی فائیدہ نہیں ہوتا۔ اب یہ آپ کے جذباتی ہونے کا ہی نتیجہ ہے کہ آپ نے سیاق سباق کو چھوڑا اور کاپی کرکے وہ لسٹ یہا ں پیسٹ کردی جو جونیجو کابینہ کی ہے، بس آپ نے یہ پڑھ لیا کہ میں نے جماعت اسلامی کے خلاف پھر لکھدیا اور آپ پڑھنے والوں کو جماعت اسلامی کی صفائی پیش کرنے لگے۔ آپکی اطلاع کےلیے عرض ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی 4 اپریل 1979 کو دی گی اور جو کابینہ کی لسٹ آپنےیہاں لگائی ہے وہ 1985 کے الیکشن کے بعد کی ہے۔ 4 اپریل 1979 تک ضیاالحق دو کابینہ بناچکا تھا، اپنی پہلی کابینہ ضیاالحق نے 5 جولائی 1978 کو بنائی مگر اس کابینہ سے اسکا مقصدپورا نہیں ہورہا تھا۔ اسکو لازمی بھٹو کو ختم کرنا تھا اسلیے اسکو سیاسی حمایت چاہیے تھی اس لیے صرف ڈیڑھ ماہ کی مدت کے بعد اس کابینہ کو ختم کردیااور چھانٹ چھانٹ کر اپنی کابینہ میں بھٹو کے کٹر مخالفین کو جمع کیا دوسروں کے علاوہ جماعت اسلامی نے بھی اس میں اپنے 3 وزیر ڈال دیئے۔ پروفیسر غفور احمد، پروفیسر خورشید احمد اور محمود اعظم فاروقی صاحب ضیاالحق کی دوسری کابینہ جو23 اگست 1978 کو بنائی تھی اسکا حصہ تھے۔ یہ کابینہ بھٹو کو پھانسی دینے کے صرف 17 دن بعد 21 اپریل 1979 کو ختم کردی گی ، بھٹو کے دشمنوں کا مقصد پورا ہوچکا تھا۔ اس لیے میں نے آپکے جواب کے جواب میں ریفرنس کے طور پر عرض کیا تھا "جسٹس نسیم حسن شاہ کا تعلق اسلامی جمیت طلبہ سےرہا تھا، اسلامی جمیت طلبہ جماعت اسلامی کی ذیلی تنظم ہے۔ سپریم کورٹ نے بھی سزائے موت کافیصلہ دیا،جس وقت یہ فیصلہ آیا اس وقت جماعت اسلامی ضیاالحق کی کابینہ میں موجود تھی"۔ اب شاید آپکو یقین آجائے کہ میری یاداشت ٹھیک ٹھاک ہے۔ اور ہاں کہانی پڑحانے کا شکریہ مگر بھائی اس کہانی پر تو آپ من وعن پورئے اترتے ہیں کیونکہ میں کچھ بھی لکھوں آپ اس طالب علم والی حرکت شروع کردیتے ہیں کہ چاہے موسم پر مضمون ہو یا جاپان پر اسکا اونٹ ہر مضمون میں موجود ہوتا ہے، کیونکہ میں کامران خان کا ذکرکروں یا مولانہ آزاد کا آپ کا تبصرہ جماعت اسلامی کا ذکر کیے بغیر نہیں ہوتا۔ ایسا کرتا ہوں آیندہ جب بھی کوئی نیا مضمون لکھونگا پہلے آپ کو دکھادونگا، اگر آپ کی منظوری مل گی توٹھیک ورنہ یہ سوچ کر مضمون پھاڑ دونگا کہ مضمون میں جان ہی نہیں۔ آپ البدر، الشمس کے علاوہ افغانستان میں روسی فوجوں کی آمداورجہاد کے متعلق بہت کاپی پیسٹ کرتے ہیں آپ اس پر مضامین کیوں نہیں لکھتے، اس سے شاید بقول آپکے ہم جیسے سیکولربھی جماعت اسلامی پر ایمان لے آیں ورنہ بھائی میں تاریخ لکھتا ہوں اور تاریخ میں لکھا ہے کہ پاکستان کےلیےدہشت گرد طالبان کی شکل میں سانپ جماعت اسلامی اور قاضی صاحب نے پالے ہیں، آپ تاریخ کو اگر بدلنا چاہتے ہیں تو دلایل سے بدلیں، جھوٹے پروپرگنڈئے سے تاریخ نہیں بدلا کرتیں۔

آپکا بہت بہت شکریہ اور میری طرف سے بے انتہا معذرت اگر جواب میں کوئی بات آپکو گراں گذری ہو۔

سیما
05-23-2013, 02:23 AM
میں سمجی یہ کوئی سچ کہانی ہے :smiley-chores008: ویسے جس نے پڑھا ہو گا بہت اچھا لکھا ہو گا
آپ کا بہت بہت شکریہ