PDA

View Full Version : آخر وہ ایمان کیوں لایا؟



گلاب خان
12-24-2012, 07:56 AM
گزشتہ ایک عرصے سے مغربی دنیا اسلام کو نیچا اور جھوٹا ثابت کرنے کے لیے من گھڑت الزامات لگا رہی ہے۔ اگر اسلام سچا مذہب نہ ہوتا تو آج دینا بھر کے غیر مسلم اسلام کی آغوش میں جوق در جوق نہ آتے ....نومسلم اسلام کیوں قبول کرتے ہیں ؟اسی مقصد کے لیے ماضی کے شدت پسند ”گوتم داس“ اور حال کے محمد احمد سے کراچی اپڈیٹس نے ایک نشست طے کی، جس میں انہوں نے اپنے اسلام لانے کی تفصیلی روداد سنائی....جوکہ قارئین کراچی اپڈیٹس کے لیے پیش ہے....
........٭٭٭........
ڈاکٹر صاحب کو پہلی دفعہ دیکھا، تو یقین نہیں آیا کہ یہ شخص کبھی ظلمت کے اندھیروں کا مسافر رہا ہوگا۔ چہرہ پر بلا کا اطمینان کشادہ اور چمکتی پیشانی والے ڈاکٹر صاحب کی گفتگو ایمان کے درجہ حرارت میں اضافہ کا باعث بن رہی تھی۔ وہ جب بھی اسلام کی حقانیت کے حوالے سے باتیں کرتے تو ان کے لہجے کی روانی اور شریعت کے حقانیت کی پابندی کے حوالے سے ان کا سخت موقف سن کر ان کے ایمان پر رشک اور اپنے ایمان پر شک ہوتا۔ ہماری خواہش پرپہلے انہوں نے کورنگی ڈھائی نمبر پر قائم چنیوٹ ہسپتال میں ملاقات کا وقت دیا۔ مگر چند وجوہ کے باعث یہ ملاقات ان کے کلینک میں ہی ہونا طے پائی۔ وقت مقرر پر ہم شیر پاو کالونی میں ان کے کلینک ”محمد احمد کلینک“ میں پہنچے۔ رسمی کلمات کے بعد اصل مدعے کی جانب آئے اور اپنے ایمان لانے کے واقعات بتانے لگے۔ جو خود ان ہی کی زبانی پیش خدمت ہے۔

میری جائے پیدائش ڈسٹرکٹ سانگھڑ کا ایک گھر تھا جہاں میں نے آنکھ کھولی۔ شعور کی منزلیں طے کرتا رہا تو معلوم ہوا کہ ہم ہندو مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ مندر جانا، ہولی اور دیوالی منانا یہ سارے کام بچپن سے ہی دیکھا آرہا تھا۔ ہم پانچ بھائی تھے اور میں اپنے بھائیوں میں درمیانہ یعنی تیسرے نمبر پر تھا۔ اپنے گھر پر میں سب سے زیادہ مذہبی تھا۔ ہمارے گاوں میں ہندووں کے علاوہ مسلمانوں بھی رہتے تھے۔ مجھے مسلمانوں سے سخت نفرت تھی اور میں ایک متشدد ہندو تھا۔ گوشت نہ کھانا.... پیاز نہ کھانا اور ہر اس چیز سے نفرت ظاہر کرنا جو مسلمانوں کو مرغوب ہو ....میں باقاعدہ طور پر اپنے ہندو دوستوں کو اکھٹا کرتا اور ہفتہ میں دوبار ہم لوگ خوب اہتمام سے مندر جایا کرتے تھے۔ اسی دوران میں نے گورنمنٹ ہائی اسکول ڈسٹرکٹ سانگھڑ سے میٹرک کیا۔ میٹرک میں اچھے نمبر حاصل کیے تو حیدر آباد کے ایک کالج میں داخلہ لیا۔ کامیابی کا سفر جاری رہا۔ میڈیکل کی تعلیم مکمل ہوئی۔ پڑھائی کے مزید پانچ سال مکمل کرکے میں نے جامشورو میں ہاوس جاب شروع کردی۔ والد صاحب کے انتقال کے بعد میں نے بھائیوں سے کہا کہ میں وہیں گاوں میں کلینک کھولنا چاہتا ہوں۔ پروگرام میرا طے تھا۔ بھائیوں نے جگہ بھی لے لی تھی۔ اس دوران جب کہ میری ہاوس جاب کو 6 مہینے ہو چکے تھے۔

ایک عجیب اتفاق ہوا۔ میرا ایک دوست ایک دن میرے پاس آیا اور کہا کہ کراچی میں دل کے ہسپتال میں اپلائی کرنا ہے۔ اس لیے تم بھی ساتھ چل کر اپلائی کرو۔ میرے دوستوں نے جب بھی کراچی گھومنے کا پروگرام بنایا میں نے صاف انکار کردیا۔ ڈر، خوف اور ہیبت مجھ پر غالب آچکی تھی اور میں کراچی کبھی نہیں آیا۔ خیر اس بار دوستوں کا اصرار کچھ اتنا بڑھا کہ میں انکار نہ کر سکا اور چل پڑا۔ یہاں دوستوں نے فارم وغیرہ بھرے اور کارڈیﺅ کے لیے جمع کرانے گئے تو میں احتجاج کیا کہ بھئی میں نے گاوں میں کلینک کھولا ہے اور وہیں میں ہاوس جاب کروں گا۔ لیکن انہوں نے میری ایک نہ مانی اور مجھ سے ڈاکو منٹس لے کر زبردستی فارم جمع کردایے گئے۔ خدا کی قدرت مجھے اندھیروں سے روشنی کی جانب لے جارہی تھی۔ میں اس سے بچنے کی انجانے میں ہر ممکن کوشش کرتا رہا۔ مگر بے سود....

اپلائی کرنے والوں میں بہت سارے لوگ تھے۔ ایک مہینہ بعد ہمارا انٹرویو پروفیسر اسد اللہ کنڈی نے لیا۔ ڈاکٹر اسد اللہ ایک دین دار آدمی تھے۔ 30,35 لوگ سلیکٹ کیے گئے جن میں ایک میں بھی تھا۔ پروفیسر اسد اللہ کنڈی نے میر اب تک کی کارکردگی کو سراہا اور دل کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس جوائن کریں۔ میں نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ گاوں میں کلینک کھول چکا ہوں اس لیے آنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ میں یہاں کہاں رہوں گا؟ یہ تو دوستوں نے فارم زبردستی جمع کرایا میرا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ پروفیسر صاحب گویا ہوئے: ”آپ اس پر سوچیے گا۔ آپ کے پاس فی الحال ٹائم ہے۔“

میں بالکل نہیں جانتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے لیے کیا سوچ کر رکھا ہے؟ میں واپس آکر ہاوس جاب کرنے لگا۔ کچھ عرصے بعد پروفیسر اسد اللہ کنڈی کا فون آیا اور انہوں نے کہا کہ آپ جوائن کررہے ہیں یا نہیں تو میں نے جواب دیا: ”جوائن کرنا فی الحال میرے لیے محال ہے۔“ اس طرح کرکرا کے بات ٹال دی۔ انہوں نے ایک بار پھر کال کی جب ہاوس جاب کا گیارہواں مہینہ چل رہا تھا۔ میں کراچی آیا اور پروفیسر صاحب سے تفصیلی نشست ہوئی ان کے کہنے کا لب لباب یہ تھا کہ آپ نے جوائن کرنا ہے یا نہیں....! وگر نہ ہم یہ جگہ کسی اور کو دے دیں۔ میں نے انکار کردیا اور ہسپتال سے باہر نکل آیا۔ خدا کی شان دیکھیں وہیں پر میرے گاوں کا ایک دوست کھڑا تھا۔ اس نے مجھے دیکھا اور چھوڑ تے ہی بولا: ”یہاں کیا کررہے ہو۔“ میں جواب میں کہا کہ انٹر ویو کے لیے آیا تھا۔ لیکن یہاں جگہ کا مسئلہ ہے۔ دوست نے کہا کہ جگہ میں دوں گا۔ تم میرے ساتھ ہی رہو۔ اب میں نے بھی اس پیشکش کو مزید ٹھکرانا کفرانِ نعمت سمجھا اور بھائی کو قائل کیا کہ دل کا Expart بھی بن جاوں گا اور گاوں والوں کے لیے یہ سہولت بھی ہو جائے گی۔

یہاں سے میری زندگی میں انقلاب شروع ہوتا ہے۔ جب میں اپنی پوری زندگی میں یہ انوکھا واقعہ دیکھتا ہوں۔ ایمرجنسی وارڈ میں دن اور رات کے وقت دو یا تین اموات معمول سمجھا جاتا ہے۔ ایک دن جب پہلی مرتبہ میری ڈیوٹی ایمرجنسی وارڈ میں لگی۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک مریض کی طبعیت اچانک بگڑجاتی ہے۔ ہم لوگ ٹریٹمنٹ دے رہے ہیں جب کہ مریض کے عزیز واقارب بلند آواز سے قرآن اور دورد پڑھ رہے ہیں۔ مجھے سخت حیرت بھی ہوئی لیکن یہ بات میرے دل ودماغ میں نقش ہوگئی۔ دوسرے دن میری پھر ایمرجنسی وارڈ میں ڈیوٹی لگی۔ اب جیسے ہی کسی مریض کی طبعیت خراب ہوتی میں ٹریٹمنٹ دینے کے ساتھ ساتھ عزیز واقارب سے بلند آواز سے کہتا کہ قرآن پڑھو، بہت پڑھو........ اور یوں آہستہ آہستہ یہ چیزیں میرے دماغ میں گھستی چلی گئی اور مجھے پتہ ہی نہیں چلا۔ میں انجانے میں خدا کے قریب ہوتا جارہا تھا۔ مجھے جن چیزوں سے نفرت تھی وہ اب میری زبان پر صبح وشام جاری رہنے لگی۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ وہ مسلمان ہو جائے گا تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔ جب تک اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت آپ پر نہیں ہوگی۔ مسلمان ہوجانا ہر ایک کی قسمت میں کہاں۔ مریض کے ساتھ آنے والے عزیز واقارب مجھ سے مل کر بہت حیران ہوتے ان کی حیرانی کی وجہ یہ تھی کہ میں ایک ہندو ڈاکٹر ہوں ہسپتال میں میرے نام ”گوتم داس“ کی تختی لگی ہوئی تھی اور جب وہ اپنے مریض کی خیریت دریافت کرتے تو میں کہتا: ”ان شاءاللہ تعالیٰ بہت جلد شفا عطا فرمائیں گے۔ تم قرآن پڑھو اور مریض کے لیے دعا کرو۔ اللہ تعالیٰ سب ٹھیک کرے دے گا۔“ مجھے خود بھی نہیں تھا کہ میں خدا کا نام بار بار لے رہا ہوں۔

اسی دوران میری ملاقات گلستان جوہر کی ایک فیملی سے ہوگئی۔ ان کی والدہ ایڈمٹ تھی جس کی میں ہر طرح سے دیکھ بھال کرتا تھا۔ انہیں بھی مجھ سے لگاو ہوا اور انہوں نے مجھے گھر آنے کی دعوت دی جب گھر آنا جانا شروع ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ جیسے ہی نماز کا وقت ہوتا ہے۔ گھر کی مالکن اپنے سارے کام چھوڑ چھاڑ کر نماز پڑھنے لگ جاتی تھیں۔ یہ بات مجھے عجیب سی لگتی۔ اس گھر میں چند بچیاں تھیں جن کو ایک عالمہ پڑھانے کے لیے آتی تھی۔ ایک دن میں نے یوں ہی پوچھ لیا کہ یہ کیا ہے؟ تو بولی کہ قرآن مجید ہے؟ میں نے ہاتھ بڑھایا تو قرآن کو پیچھے کرتے ہوئے کہنے لگی کہ جب تک وضو نہ ہوں اسے ہاتھ نہیں لگاتے۔ میں حیران ہو کر بولا کیا یہ اتنی اہم چیز ہے۔ اسے پڑھتے کس طرح ہو؟ زبانی زیادہ تر لوگ اسے حفظ کرتے ہیں؟

کیا یہ پوری کتاب حفظ ہو جاتی ہے۔ میں حیرت کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبتا جارہا تھا۔ جب ان الفاظ کو میں نے دیکھا، پڑھنا تو نہیں جانتاتھا مگر وہ الفاظ ایسے تھے کہ میں انہیں ٹکر ٹکر دیکھنے لگا۔ کشش کی ایک طاقتور قوت مجھے اس سے نظریں ہٹانے نہیں دے رہی تھی۔ جوں جوں ہسپتال میں میرا وقت گزرتا جارہا تھا۔ روز بروز نت نئے انکشافات کا سامنا کرنا پڑرہا تھا اور میرے لیے ایک میدان بنتا جارہا تھا۔ دوستوں سے اسلام کے حوالے سے لمبی لمبی گفتگو کرنا میرا معمول بن گیا۔ ان دوستوں نے ایک دن میری دعوت کی جس میں بڑا گوشت تھا۔ انہوں نے کہا کہ بڑا گوشت تو آپ نہیں کھاتے؟ مگر میں نے انہیں ٹوک دیا اور کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ میں اتنا بدل چکا تھا کہ میری شدت پسندی دوستوں کے پر خلوص رویوں نے ہوا کردی تھی۔ چند دنوں بعد میرے انہیں دوستوں نے ایک تقریب کا اہتمام کیا۔ جس سے مجھے لاعلم رکھا گیا تھا۔ جب وہاں پہنچا تو انہوں نے بتایا کہ تم مسلمان ہوگئے ہو۔ بڑا گوشت کھاتے ہو اور دین کے حوالے سے گفتگو کرتے ہو اور مجھے ایک قرآن پاک تحفے میں دے دیا جیسے میں نے اپنے کمرے کی الماری میں رکھا۔

دین کی کشش مجھے کھنچتی لے جارہی تھی۔ اپنی جانب.... میں گاوں جاتا تو مندر جانا چھوڑ دیا۔ ماں کہتی تو ٹال جایا کرتا تھا۔ مجھے ان بتوں سے نفرت سی ہوگئی تھی۔ گاوں میں ایک دن ٹہرنا محال ہوتا تھا۔ جی چاہتا صبح ہوتے ہی بھاگ جاوں۔ گھر والوں کو تھوڑا بہت شک گزرا کیوں کہ میں نے ہولی اور دیوالی بھی منانی چھوڑ دی تھی۔ مزید دو تین سالوں کے اندر میں بالکل اسلام کی جانب لوٹ آیا۔ Peace چینل صبح کے وقت اردو میں پروگرام دکھاتا ڈاکٹر ذاکر نائیک کے پروگراموں نے میری زندگی کے کئی پیچیدہ مسائل حل کردیئے اور مجھے اسلام کے مزید قریب کردیا۔ ہندو ازم اور اسلام ازم پر ان کی دلائل سے بھرپور گفتگو مجھے اپنی جانب کھنچتی۔ اسلام پسندی میرے رگ وپے میں سماگئی۔ گاوں والوں کو بھی پتہ چل گیا ایک دن انہوں نے مجھے بہانے سے بلوا کر کہا کہ تم مسلمان ہوگئے ہو اور مجھے ایک کمرے میں 4 دن قید رکھا۔ ظلم وتشدد سے مجھے اسلام سے پھر جانے کا کہا۔ یہ سخت آزمائش تھی۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے ان ظالموں کے شر سے بچانا تھا۔ کراچی میں ایک لیڈی ڈاکٹر ساتھی کو میرے قید کا علم ہوا تو انہوں نے سورة محمد ﷺ کی دن رات تلاوت شروع کردی۔ نوافل پڑھے اللہ کی رحمت کو جوش آیا اور میں معجزاتی طور پر وہاں سے بھاگ کر کراچی آیا۔ یہ ایک ایسا معجزہ تھا جیسے میں بیان نہیں کرسکتا۔

اب میرے لیے میدان کھلا تھا۔ میں پورا اسلام میں داخل ہوگیا۔ میرے لیے اسلام قبول کرنا جہاد بن گیا۔ چند لوگوں نے واپس بیوی، بچوں میں لوٹ جانے کا کیا مگر اسلام کو چھوڑنا میرے لیے موت تھی۔ یوں ایک دن دارلعلوم کراچی میں مفتی منان کے ہاتھوں میں نے باقاعدہ کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کیا۔ وہ لمحہ بہت عجیب تھا۔ مفتی منان صاحب نے مجھ سے پوچھا: ”کیسا محسوس کر رہے ہو؟“ میں نے جواب دیا کہ آپ اپنا ہاتھ کھولیں۔ انہوں نے ہاتھ کھولا۔ میں نے کہا کہ اگر اس میں روئی رکھ دی جائے تو کتنا وزن ہوگا۔ جواب ملا: ”نہ ہونے کے برابر“ مفتی صاحب ایسی ہی میری صورتحال ہے۔ میں خود کو روئی سے بھی ہلکا محسوس کررہا ہوں اور یہ ایک حقیقت تھی کہ مجھے یوں لگ رہا تھا۔ جیسے میں پیدا ہی ابھی ہوا ہوں۔ دوسرے دن میں نے گاوں فون کرکے گھر والوں کو خوش خبری سنائی وہ غصہ بہت ہوئے مگر اسلام جیسا سچا دین پا کر مجھے کسی چیز کی پروا نہ تھی۔ میں نے اپنے بھائیوں، بیوی، بچوں اور ماں کو چھوڑ کر خود کو اسلام کی آغوش میں دے دیا۔ قرآن کو جب سمجھ کر پڑھنا شروع کیا تو زندگی گذارنے کے تمام راز منکشف ہونا شروع ہوئے۔

ماضی پر نظر دوڑاتا تو حیرانگی ہوتی کہ ہم بھی کتنے بڑے بے وقوف تھے۔ کہ مٹی کے بنے ہوئے بتوں کے سامنے کھڑے ہوتے۔ دس منٹ ایک کے سامنے، بیس منٹ ایک کے سامنے، ہر ایک کو خوش کرنے کی کوشش ہوتی۔ تعصب کی عینک پہن لینے کی وجہ سے ہم سے اللہ نے عقل سلب کرلی تھی۔ مگر اللہ نے مجھے دکھایا کہ تم میرے لیے کیا ہو۔ اپنے معجزات کے زریعے مجھے حضرت محمدﷺ کی پیاری امت میںشامل فرمایا۔ آپ ﷺ کی حالات زندگی پڑھتا ہوں تو ایمان کی حلاوت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ زندگی گذارنے کے تمام طریقے قرآن وحدیث میں ہمارے لیے ہمارے پیارے نبی ﷺ چھوڑ کر گئے ہیں جن پر عمل کرنے میں ہی ہماری دنیا وآخرت کی بھلائی ہے۔ آج کے مسلمان نسل کو کفار کے نقش قدم پر اور کیبل، انٹر نیٹ کے منفی استعمال کا دلدادہ دیکھتا ہوں تو بڑا دکھ ہوتا ہے۔ اسلام کو وراثت میں ملی ہوئی شے سمجھ کر بے قدر نہ کرو۔ اپنے اعمال واخلاق کو اسلام کے سانچے میں ڈھالو۔ یہ اسلام اگر قرآن وحدیث کے ذریعے محفوظ نہ ہوتا تو آج بربادی وتباہی ہمارا مقدر ٹہرتی۔ اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو ٹھیک ٹھیک طریقے سے اسلام کے اصولوں پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

ساجد تاج
12-24-2012, 12:33 PM
مسلمانوں کے پاس ایک ایسی کتاب موجو دہے جسے پڑھ لیا جائے تو وہ ساری زندگی گمراہ نہیں ہو سکتا مگر وہ پڑھے تو سہی پہلے

گلاب خان
12-24-2012, 11:12 PM
بے شک سچ کھا آپ نے

سقراط
12-25-2012, 01:17 PM
بے بش یہ کتاب راہ ہدایت ہے مگر ان لوگوں کے لئے جو سچ جاننا چاہتے ہیں اور سچ کو قبول کرنے والے ہیں