PDA

View Full Version : ہر سانس پہ دم نکلے



ابوسفیان
12-24-2012, 07:23 PM
ہر سانس پہ دم نکلے

جب سے یہ کائنات بنی ہے۔ رنگوں سے اس میں رنگینی بھری ہے۔زندگی کے ساتھ وقت نے بھی اپنا سفر شروع کیا ہے۔ تو وہ سفر جاری و ساری ہے،وقت شائد ہی کبھی ٹھہرا محسوس ہوا ہو۔ ورنہ ہر دور میں یہ بھاگتا ہی رہاہے۔ تیز اور تیز، پھر اور تیز۔ اور اس کا ساتھ دینے کو ہمیشہ زمانہ ہی پیچھے بھاگتا رہا۔ اگر کبھی ٹھہرا ہے تو صرف غم کا زمانہ، دل کا فسانہ اور وہ بھی دل کے اندر۔

میں جب بھی زمانے کا چلن محسوس کرنے لگتا ہوں، تو ساتھ ساتھ اپنے بزرگوں اور والدین کے دور میں بھی جھانکنے کی کوشش کرنے لگتا ہوں۔ تو پھر مجھے وہ لوگ خوش قسمت لگتے ہیں جو ایک ہی دور میں پیدا ہوئے، اسی میں اپنی زندگی جیئے، اسی میں اپنی جاگتی آنکھوں سے انھوں نے جو خواب دیکھے، ان میں کچھ پورے ہوئے اور کچھ نہ ہوئے تو انھوں نے اسے اتنا اپنے اوپر طاری نہ کیا۔کچھ اپنی قسمت کے کھاتے میں ڈالے اور باقی صبر کے خانے میں فٹ کیے اور باری آنے پر چلے گئے۔

زمانے کی اتھل پتھل کا انھیں اتنا سامنا نی کرنا پڑا۔ اور جن روایتوں رسموں میں انھوں نے آنکھ کھولی، انھیں ہی نبھاتے نبھاتے وہ اپنی زندگی جی گئے۔ مہذب، بامروت، رواداری کے دائرے میں ہی انھوں نے اپنے آپ کو رکھا۔ وہ

سادگی کے دور وہ دل کو سمجھا لینے منا لینے کے زمانے تب ہی تھے کہ نہ انھیں زمانے کے خلاف جانا پڑا اور نہ ہی انھیں زمانے کی لات پڑی۔

اب یہ مت سمجھیے گا کہ وہ کوئی بہت بے چارے، مظلوم قسم کے لوگ تھے۔ جو کسی سادہ سے دور میں پیدا ہوئے۔ اور ان کو زمانے کی ہوا نہیں لگی اور وہ ناآشنا ہی دنیا سے چلے گئے۔ آپ پیچھے مڑ کر دیکھیں۔ آپ کو ایسے دور اور قومیں نظر آئیں گی۔

میں تو آپ کو یہاں کچھ علیحدہ قسم کے لوگوں بارے بتانا چاہتا ہوں۔ جو بیچارے حیرت زدہ سے بیٹھےزمانے کا چلن دیکھ رہے ہیں۔ اور انھیں ابھی تک یقین نی آ رہا کہ وہ زمانے کی چکی میں پس چکے ہیں اور وقت کی مار کھا رہے ہیں۔

زندگی کا سفر تو ہمیشہ کی طرح کبھی ہموار تو کبھی ٹیڑھی میڑھی پگڈنڈی پرجاری رہتا ہے۔زندگی میں بیلنس ، توازن جب بھی کھویا جائے گا۔ تب مسائل کے انبھار سامنے آکھڑے ہوں گے۔ وقت کے ترازو میں ایک طرف زمانہ اوردوسری طرف روایات، سادگی، خالص پن، محبتیں۔ کہ اچانک زمانے والے پلڑے میں افراط زر، لائف سٹائل،مصنوعی پن، بے مروتی جیسی چیزیں آن گریں تو وہ پلڑاجھک جاتا ہے۔

مقابلے کی دوڑ بھی پہلے نہ تھی۔ جس کے پاس جتنا ہوا کرتا تھا، وہ اسی میں ہی قناعت پسند تھا۔ صبر اور شکر بھی دامن تھامے رہتے تھے۔ دنیا کو دنیا کی طرح لیا جاتا تھا۔اور آخرت کی فکر بھی دل میں دنیا کے لالچ کو کم کردیتی تھی۔ لیکن اب ایسی بے مروتی کی ہوا چلنی شروع ہوئی کہ جس میں صرف اپناآپ ہی دکھائی دینے لگا۔ سو اس دوڑ میں ہر کوئی شریک ہونے لگا۔ اپنی ہمت طاقت سے بڑھ کر۔ اور افراتفری کا ماحول ہو گیا اور بہت سی چیزیں اس کی زد

میں آ کر ریزہ ریزہ ہونے لگیں۔ جن روایات، رسموں اور اصولوں کو ہم اپنےساتھ لے کر چلا کرتے تھے۔ انھی کے بت سب سے پہلے پاش پاش ہوئے۔

طبقاتی دوڑ تو پہلے ہی جاری تھی۔ مگر اب اس میں واضح ایک طبقہ پیچھے رہتا نمایاں ہو رہا ہے۔ اور انفرادی دوڑ بھی جاری ہے۔ جس میں جیتنے والے ہار رہےہین۔ میں یہاں چند ہارنے والوں پر نظریں جمائے ہوں۔ میری ہمدردی انھی

لوگوں کے ساتھ ہے ۔۔۔ جنہوں نے اپنے فرائض خوب نبھائے اور جب اپنے حقوق لینے کا وقت آیا ہی چاہتا تھا۔ تو زمانے کا ناگ یکدم بیدار ہو گیا اور اس کی پھنکار کی زد میں وہ آ گئے ۔ جیسے وہ بہو۔۔۔ جسں نے اپنی ساس کی جی جان سے خدمت کی اور سٹارپلس کے ڈرامے، ساس کے ڈرامے دیکھ کر تیار ہو کر خود ساس کے رتبے پر پہنچنے والی تھی۔ اور

اپنی بہو کو ناچ نچانے والی تھی۔ مگر ایسا نہ کر سکی۔ بلکہ موجودہ دور کی بہو اس پر ساس کے حکم نامے کی طرح فائز ہو گئی۔

پھر خاص طور پر وہ لوگ، جو اپنے والدین کے بھی بہت فرمانبردار،کہنے میں رہے۔ اور اب جبکہ وہ اپنی اولاد کی تابعداری کا کریڈٹ لینا چاہتے تھے تو انھیں بھی گھٹنے ٹیکنے پڑے، نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی اولاد کا بھی انھیں

اتنا ہی کہنا ماننا پڑتا ہے جتنا اپنے والدین کا مانتے تھے۔ کہ اس کے سوااب چارا نہیں۔

اور وہ سٹوڈنٹ، جنہوں نے اپنےاستاد کی جوتیاں سیدھی کیں اور استاد کی چھڑی بھی اپنے جسم پر سٹیمپ کی طرح لی۔۔۔ وہ استاد بن گئے، جنہیں کبھی والدین سے بھی اوپر کا درجہ دیا گیا تھا۔ لیکن آج وہ اپنے شاگردوں کے دلوں اور

نظروں میں وہ مقام نہیں پا رہے۔ جن کے وہ حقدار ہیں۔ آج وہ اپنے شاگردوں کو ڈر ڈر کر پڑھاتے ہیں۔

اسی طرح کی قسموں کے کچھ اور مہربان بھی ہیں۔ اور یہ سب لوگ آپ کے اردگرد ہی ہیں۔ انھیں ڈھونڈئیے اور ان سے ہمدردی رکھیے۔ جو پہلے ہی زمانے کے ستائے ہوئے ہیں انھیں اور کیا ستانا۔۔ بلکہ ان کا ہاتھ پکڑ لیجیے، ممکن ہے وقت کے گھومتے اس پہیے پر نیچے جانے کی اگلی باری آپکی ہو۔

❣❣❣❣❣❣❣❣❣❣❣❣❣❣❣❣ ❣❣❣❣❣❣❣❣❣❣❣❣❣❣❣❣ ❣:vahidrk::290::290:

نگار
12-24-2012, 10:40 PM
بہترین شیئرنگ کرنے پہ آپ کا بہت بہت شکریہ

ابوسفیان
12-25-2012, 12:44 AM
http://urdulook.info/imagehost/?di=BPNX

بےباک
12-25-2012, 09:28 AM
سادگی کے دور وہ دل کو سمجھا لینے منا لینے کے زمانے تب ہی تھے کہ نہ انھیں زمانے کے خلاف جانا پڑا اور نہ ہی انھیں زمانے کی لات پڑی۔

بہت خوب تحریر شئیر کرنے پر شکریہ