PDA

View Full Version : سرکاری سطح پر شائع ہونے والی قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی۔۔۔۔۔



admin
12-25-2012, 04:05 PM
قادیانیوں کا دیرینہ مطالبہ پورا ہو گیا ،سیکرٹ کاروائی کی اشاعت ہو گئی


مگر اس کے باوجود............

گذشتہ دنوں اسپیکر قومی اسمبلی محترمہ فہمیدہ مرزا نے اپنے خصوصی اختیارات کے تحت سابق وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے سے متعلق پارلیمنٹ کے بند کمرے کے اجلاس میں ہونے والی بحث کے ریکارڈ کو 36 سال بعد اوپن کرنے کی منظوری دے دی ہے، جبکہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے معاملے پر پارلیمنٹ کے حالیہ بند کمرے کے اجلاس میں ہونے والی بحث سیل کر دی گئی ہے،
۔ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے ذرائع کے مطابق بھٹو دور میں 1974ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے سے متعلق پارلیمنٹ کے بند کمرے کا اجلاس تقریباً ایک ماہ سے زائد جاری رہا تھا۔ جس کے نتیجہ میں قادیانیوں کو ان کے کفریہ عقائد کی بناء پر ملک کی منتخب جمہوری حکومت نے متفقہ طور پر 7 ستمبر1974 کو انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا اورآئین پاکستان کی شق 160(2) اور 260(3) میں اس کا اندراج کردیا۔ معاملے کی حساسیت کے پیش نظر بحث کا تمام ریکارڈ اسی وقت سیل کردیا گیا تھا۔ یہ شرط رکھی گئی تھی کہ اسے تیس سال سے کم کے عرصے میں اوپن نہیں کیا جائے گا۔ اسپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا نے اب اس وقت کی بحث کے ریکارڈ کو لائبریری میں رکھنے کی منظوری دے دی ہے۔ اسمبلی ترجمان نے بتایا کہ اس وقت بحث کا تمام ریکارڈ پرنٹنگ کے مراحل میں ہے اور جلد اسے لائبریری کا حصہ بنا دیا جائے گا۔
قادیانی 1974ء سے لے کر اب تک یہ کہتے چلے آرہے ہیں کہ اگر یہ کارروائی شائع ہو جائے تو آدھا پاکستان قادیانی ہو جائے گا۔ قومی اسمبلی کی یہ کارروائی اوپن ہونے سے قادیانیوں کا دیرینہ مطالبہ پورا ہوگیا۔ لیکن حیرت ہے کہ اس خبر سے قادیانیوں کے ہاں صفِ ماتم بچھ گئی ہے۔ کیونکہ اس وقت کے اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار مرحوم نے ایک سوال پر کہ ’’قادیانیوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ روداد شائع ہوجائے تو آدھا پاکستان قادیانی ہوجائے گا۔‘‘ کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، یہ کارروائی ان کے خلاف جاتی ہے۔ ویسے وہ اپنا شوق پورا کرلیں، ہمیں کیا اعتراض ہے۔ ان دنوں ساری اسمبلی کی کمیٹی بنادی تھی اور کہا گیا تھا کہ یہ ساری کارروائی سیکرٹ ہوگی تاکہ لوگ اشتعال میں نہ آئیں۔ میرے خیال میں اگر یہ کارروائی شائع ہوگئی تو لوگ قادیانیوں کو ماریں گے۔‘‘ (انٹرویو نگار منیر احمد منیر ایڈیٹر ’’ماہنامہ آتش فشاں‘‘ لاہور، مئی 1994ئ) سابق اٹارنی جنرل اور معروف قانون دان جناب یحییٰ بختیار نے جس لگن، جانفشانی اور قانونی مہارت سے امت مسلمہ کے اس نازک اور حساس کیس کو لڑا، قادیانی شاطر سربراہوں پر طویل اور اعصاب شکن جرح کے بعد جس طرح ان سے ان کے عقائد و عزائم کے بارے میں سب کچھ اگلوایا، بلکہ اعتراف جرم کروایا، وہ انہی کا حصہ ہے جس پر وہ صد ستائش کے مستحق ہیں۔ بلاشبہ ان کی یہ خدمت سنہرے حروف سے لکھی جانے کے قابل ہے۔ لیکن اس کے برعکس قادیانیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کارروائی کے نتیجہ میں قومی اسمبلی کا کوئی ایک رکن بھی قادیانی نہیں ہوا۔ کسی رکن قومی اسمبلی نے کارروائی کا بائیکاٹ نہیں کیا۔ کسی رکن قومی اسمبلی نے اجلاس سے واک آئوٹ نہیں کیا۔ کسی رکن قومی اسمبلی نے قادیانیوں کی حمایت نہیں کی۔ اس کے برعکس نہ صرف تمام ارکان نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا بلکہ قادیانی خلیفہ مرزا ناصر کی ٹیم میں شامل ایک معروف قادیانی مرزا سلیم اختر چند ہفتوں بعد قادیانیت سے تائب ہو کر مسلمان ہو گیا۔ حالانکہ قادیانی خلیفہ مرزا ناصر پوری ٹیم کے ساتھ مکمل تیاری سے بڑی خوشی سے قومی اسمبلی گیا۔ اس کے اسمبلی کے اندر داخل ہونے کا انداز بڑا فاتحانہ، تکبرانہ اور تمسخرانہ تھا۔ اس کا خیال تھا کہ میں تاویلات اور شکوک و شبہات کے ذریعے اسمبلی کو قائل کر لوں گا، مگر بری طرح ناکام رہا۔ قادیانی قیادت نے قومی اسمبلی کے تمام اراکین میں 180 صفحات پر مشتمل کتاب ’’محضر نامہ‘‘ تقسیم کی جس میں اپنے عقائد کی بھرپور ترجمانی کی۔ اس کتاب کے آخری صفحہ پر ’’دعا‘‘ کے عنوان سے لکھا ہے: ’’دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی جناب سے معزز ارکان اسمبلی کو ایسا نور فراست عطا فرمائے کہ وہ حق و صداقت پر مبنی ان فیصلوں تک پہنچ جائیں جو قرآن و سنت کے تقاضوں کے عین مطابق ہوں۔‘‘ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر قادیانیوں کی دعا قبول ہوئی تو وہ قومی اسمبلی کا یہ فیصلہ قبول کیوں نہیں کرتے؟ اور اگر دعا قبول نہیں ہوئی تو وہ جھوٹے ہیں۔
قادیانی اعتراض کرتے ہیں کہ قومی اسمبلی کی اس کارروائی کو اِن کیمرہ، خفیہ کیوں رکھا گیا۔ یہ کارروائی اخبارات میں روزانہ کیوں شائع نہ ہوئی؟ اس سوال کا جواب قومی اسمبلی کے اس وقت کے سپیکر جناب صاحبزادہ فاروق علی خان نے اپنے ایک انٹرویو میں دیتے ہوئے کہا:
’’بحث اور کارروائی کے دوران ایسی باتوں کے پیش آنے کا بھی امکان تھا کہ اگر منظرعام پر آئیں تو مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچ سکتی تھی۔ قادیانی فرقوں کے رہنمائوں کو بھی بلانا تھا۔ ان کا نقطۂ نظر بھی سننا تھا۔ ظاہر ہے وہ جو کچھ کہتے، مسلمانوں کو ہرگز اتفاق نہ ہوتا۔ لہٰذا کارروائی خفیہ ہی رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ناموس رسالت کا مسئلہ نازک اور حساس ہے۔ مسلمان جان بھی قربان کر دینا ایک انتہائی معمولی بات سمجھتا ہے، لہٰذا کسی بھی خطرناک جذباتی صورتحال سے بچنے کے لیے اس کارروائی کو خفیہ رکھنا ہی مناسب تھا۔ حضور رسالت مآب ﷺ کی ذات گرامی کے ساتھ امت کو جو والہانہ عشق ہے، اس کو زبان و قلم سے بیان کرنا ناممکن ہے۔ اس خفیہ بحث کا فیصلہ کھلا تھا اور اس فیصلے سے ملت اسلامیہ آج تک مطمئن ہے۔‘‘ (قومی اسمبلی کے سابق سپیکر صاحبزادہ فاروق علی خان سے اختر کاشمیری صاحب کا انٹرویو، روزنامہ ’’جنگ‘‘ جمعہ میگزین 3 تا 9 ستمبر 1982ئ)
قادیانی کہتے ہیں یہ ایک یکطرفہ فیصلہ تھا۔ یہ بات لاعلمی اور تعصب پر مبنی ہے۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ جمہوری نظام حکومت میں کوئی بھی اہم فیصلہ ہمیشہ اکثریتی رائے کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ لیکن قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیے جانے کا فیصلہ شاید دنیا کا واحد اور منفرد واقعہ ہے کہ حکومت نے یہ فیصلہ کرنے سے پہلے قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر کو پارلیمنٹ میں آ کر اپنا نقطۂ نظر پیش کرنے کے لیے بلایا۔ جہاں اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار نے اس پر، قادیانی کفریہ عقائد کے حوالہ سے جرح کی۔ مرزا ناصر نے اپنے تمام عقائد و نظریات کا برملا اعتراف کیا بلکہ تاویلات کے ذریعے ان کا دفاع بھی کیا۔ لہٰذا ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے 13 دن کی طویل بحث و تمحیص کے بعد آئین میں ترمیم کرتے ہوئے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا لیکن قادیانیوں نے حکومت کے اس فیصلہ کو آج تک تسلیم نہیں کیا بلکہ الٹا وہ مسلمانوں کا تمسخر اڑاتے ہیں اور انھیں سرکاری مسلمان ہونے کا طعنہ دیتے ہیں۔ وہ خود کو مسلمان اور مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں اور آئین میں دی گئی اپنی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتے۔
قادیانی کہتے ہیں کہ اس وقت اراکین اسمبلی کی اکثریت زانی اور شرابی تھی۔ انھیں کوئی حق حاصل نہ تھا کہ وہ ایسا فیصلہ کرتے۔ قادیانیوں سے پوچھنا چاہیے کہ انہوں نے اس وقت اسمبلی کا بائیکاٹ کیوں نہ کیا؟ کیا انہیں وہاں زبردستی لے جایا گیا تھا؟ حالانکہ وہ تو وہاں گئے ہی اس لیے تھے کہ قومی اسمبلی جو بھی فیصلہ کرے گی، ہمیں قبول ہو گا۔ عجیب بات ہے کہ اگر قادیانیوں کو پارلیمنٹ غیر مسلم اقلیت قرار دے تو وہ زانی اور شرابی، اگر سپریم کورٹ انہیں کافر قرار دے تو یہ کہنا کہ یہ تو انگریزی قانون پڑھے ہوئے ہیں، انھیں شریعت کا کیا علم؟ اور اگر علمائے کرام انہیں غیر مسلم کہیں تو یہ اعتراض کہ ان کا تو کام ہی یہی ہے۔


جاری ہے۔۔۔۔۔۔

بےباک
12-25-2012, 07:07 PM
قادیانی کہتے ہیں کہ اس وقت اراکین اسمبلی کی اکثریت زانی اور شرابی تھی۔ انھیں کوئی حق حاصل نہ تھا کہ وہ ایسا فیصلہ کرتے۔ قادیانیوں سے پوچھنا چاہیے کہ انہوں نے اس وقت اسمبلی کا بائیکاٹ کیوں نہ کیا؟ کیا انہیں وہاں زبردستی لے جایا گیا تھا؟ حالانکہ وہ تو وہاں گئے ہی اس لیے تھے کہ قومی اسمبلی جو بھی فیصلہ کرے گی، ہمیں قبول ہو گا۔ عجیب بات ہے کہ اگر قادیانیوں کو پارلیمنٹ غیر مسلم اقلیت قرار دے تو وہ زانی اور شرابی، اگر سپریم کورٹ انہیں کافر قرار دے تو یہ کہنا کہ یہ تو انگریزی قانون پڑھے ہوئے ہیں، انھیں شریعت کا کیا علم؟ اور اگر علمائے کرام انہیں غیر مسلم کہیں تو یہ اعتراض کہ ان کا تو کام ہی یہی ہے۔ قادیانی کہتے ہیں کہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 20 کے تحت ہر شہری کو مذہبی طور پر آزادی اظہار ہے۔ آپ کسی پر پابندی نہیں لگا سکتے۔ قادیانیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ (نعوذ باللہ) قرآن مجید میں نئے حالات کے مطابق تبدیلی کر دی گئی ہے۔ اس میں سے کئی آیات خارج کر دی گئی ہیں اور کئی آیات شامل کر دی گئی ہیں اور پھر وہ اس نئے قرآن کی تبلیغ و تشہیر بھی کرے تو کیا اس شخص پر پابندی لگنی چاہیے یا نہیں؟ اگر وہ یہ کہے کہ مجھے آئین کے تحت آزادی اظہار ہے تو کیا اسے یہ اجازت دینی چاہیے؟ پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ہر شخص کو کاروبار کی مکمل آزادی ہے مگر ہیروئن اور منشیات وغیرہ فروخت کرنا سختی سے منع ہے۔ کیا یہ آزادی پر پابندی ہے؟ آزادی چند حدود و قیود کے تابع ہوا کرتی ہے۔ آپ اپنا ہاتھ ہلانے میں آزاد ہیں، جب اور جس طرح چاہیں، اسے ہلا سکتے ہیں۔ لیکن اگر آپ کے ہاتھ ہلانے سے کسی دوسرے کا چہرہ زخمی ہوتا ہے تو پھر اس کی آزادی کہاں گئی؟ لہٰذا آزادی ایک حد تک ہے۔ آزادی بے لگام یا شتر بے مہار ہو جائے تو معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے۔ سابق وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو کے دورحکومت میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ لیکن اس کے باوجود قادیانی مسلسل شعائر اسلامی استعمال کرتے ہیں۔ غیر مسلم ہونے کے باوجود اپنی عبادت گاہ کو مسجد، مرزا قادیانی کو نبی اور رسول، مرزا کی بیوی کو ام المومنین، مرزا قادیانی کے دوستوں کو صحابہ کرام، قادیان کو مکہ مکرمہ، ربوہ کو مدینہ، مرزا قادیانی کی باتوں کو احادیث مبارکہ، مرزا قادیانی پر اترنے والی نام نہاد وحی کو قرآن مجید، محمد رسول اللہ سے مراد مرزا قادیانی مراد لیتے ہیں۔ چنانچہ 26 اپریل 1984ء کو حکومت نے مسلمانوں کے پرُزور مطالبہ پر ایک آرڈیننس جاری کیا گیا جس میں قادیانیوں کو شعائر اسلامی کے استعمال سے قانوناً روکا گیا۔ اس آرڈیننس کے نتیجہ میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298/B اور 298/C کے تحت کوئی قادیانی خود کو مسلمان نہیں کہلوا سکتا، اپنے مذہب کو اسلام نہیں کہہ سکتا، اپنے مذہب کی تبلیغ و تشہیر نہیں کر سکتا، شعائر اسلامی استعمال نہیں کر سکتا۔ خلاف ورزی کی صورت میں وہ 3 سال قید اور جرمانہ کی سزا کا مستوجب ہوگا۔ قادیانیوں نے اپنے خلیفہ مرزا طاہر کے حکم پر آرڈیننس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پورے ملک میں شعائر اسلامی کی توہین کی اور آرڈیننس کے خلاف ایک بھرپور مہم چلائی۔ جس کے نتیجہ میں پاکستان کے اکثر شہروں میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا ہوئی۔ قادیانی قیادت نے اس آرڈیننس کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کیا۔ عدالت نے اپنے فیصلہ میں قرار دیا کہ قادیانیوں پر پابندی بالکل درست ہے۔ اس کے بعد قادیانیوں نے چاروں صوبوں کی ہائی کورٹس میں چیلنج کیا، یہاں پر بھی عدالتوں نے دونوں طرف کے دلائل سننے کے بعد قرار دیا کہ آرڈیننس بالکل قانون کے مطابق ہے۔ قادیانیوں کو آئین میں دی گئی اپنی حیثیت تسلیم کرتے ہوئے شعائر اسلامی استعمال نہیں کرنے چاہئیں۔ آخر میں قادیانیوں نے ان تمام فیصلوں کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا اور یہ موقف اختیار کیا کہ ہمیں آئین کے مطابق آزادی کا حق حاصل ہے، لیکن ہمیں شعائر اسلامی استعمال کرنے کی اجازت نہیں۔ لہٰذا عدالت تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298/B اور 298/C کو کالعدم قرار دے۔ سپریم کورٹ کے فل بنچ نے اس کیس کی مفصل سماعت کی۔ دونوں طرف سے دلائل دیے گئے۔ قادیانیوں کی اصل کتابوں سے متنازعہ ترین حوالہ جات پیش کیے گئے۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے اپنے تاریخی فیصلہ ظہیر الدین بنام سرکار (1993 SCMR 1718) میں قرار دیا کہ کوئی قادیانی خود کو مسلمان نہیں کہلوا سکتا اور نہ اپنے مذہب ہی کی تبلیغ کر سکتا ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں وہ سزا اور جرمانے کا مستوجب ہوگا۔ یہ بھی یاد رہے کہ یہ جج صاحبان کسی دینی مدرسہ یا اسلامی دارالعلوم کے استاد نہیں تھے بلکہ انگریزی قانون پڑھے ہوئے تھے۔ ان کا کام آئین و قانون کے تحت انصاف مہیا کرنا ہوتا ہے۔ فاضل جج صاحبان کا یہ بھی کہنا تھا کہ قادیانی اسلام کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں جبکہ دھوکہ دینا کسی کا بنیادی حق نہیں ہے اور نہ اس سے کسی کے حقوق یا آزادی ہی سلب ہوتی ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے تاریخی فیصلہ میں لکھا: ’’ ہر مسلمان کے لیے جس کا ایمان پختہ ہو، لازم ہے کہ رسول اکرم ؐ کے ساتھ اپنے بچوں، خاندان، والدین اور دنیا کی ہر محبوب ترین شے سے بڑھ کر پیار کرے۔‘‘ (’’صحیح بخاری ‘‘ ’’کتاب الایمان‘‘، ’’باب حب الرسول من الایمان‘‘) کیا ایسی صورت میں کوئی کسی مسلمان کو مورد الزام ٹھہرا سکتا ہے۔ اگر وہ ایسا دل آزار مواد جیسا کہ مرزا صاحب نے تخلیق کیا ہے سننے، پڑھنے یا دیکھنے کے بعد اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکے؟ ’’ہمیں اس پس منظر میں قادیانیوں کے صد سالہ جشن کی تقریبات کے موقع پر قادیانیوں کے اعلانیہ رویہ کا تصور کرنا چاہیے اور اس ردعمل کے بارے میں سوچنا چاہیے، جس کا اظہار مسلمانوں کی طرف سے ہو سکتا تھا۔ اس لیے اگر کسی قادیانی کو انتظامیہ کی طرف سے یا قانوناً شعائر اسلام کا اعلانیہ اظہار کرنے یا انہیں پڑھنے کی اجازت دے دی جائے تو یہ اقدام اس کی شکل میں ایک اور ’’رشدی‘‘ (یعنی رسوائے زمانہ گستاخ رسول ملعون سلمان رشدی جس نے شیطانی آیات نامی کتاب میں حضور ﷺ کی شان میں بے حد توہین کی) تخلیق کرنے کے مترادف ہوگا۔ کیا اس صورت میں انتظامیہ اس کی جان، مال اور آزادی کے تحفظ کی ضمانت دے سکتی ہے اور اگر دے سکتی ہے تو کس قیمت پر؟ رد عمل یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی قادیانی سرعام کسی پلے کارڈ، بیج یا پوسٹر پر کلمہ کی نمائش کرتا ہے یا دیوار یا نمائشی دروازوں یا جھنڈیوں پر لکھتا ہے یا دوسرے شعائر اسلامی کا استعمال کرتا یا انہیں پڑھتا ہے تو یہ اعلانیہ رسول اکرم ؐ کے نام نامی کی بے حرمتی اور دوسرے انبیائے کرام کے اسمائے گرامی کی توہین کے ساتھ ساتھ مرزا صاحب کا مرتبہ اونچا کرنے کے مترادف ہے جس سے مسلمانوں کا مشتعل ہونا اور طیش میں آنا ایک فطری بات ہے اور یہ چیز نقض امن عامہ کا موجب بن سکتی ہے، جس کے نتیجہ میں قادیانیوں کے جان و مال کا نقصان ہو سکتا ہے۔‘‘ (ظہیر الدین بنام سرکار1993 SCMR 1718ئ) سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں مزید لکھا: ’’ہم یہ بھی نہیں سمجھتے کہ قادیانیوں کو اپنی شخصیات، مقامات اور معمولات کے لیے نئے خطاب، القاب یا نام وضع کرنے میں کسی دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آخر کار ہندوئوں، عیسائیوں، سکھوں اور دیگر برادریوں نے بھی تو اپنے بزرگوں کے لیے القاب و خطاب بنا رکھے ہیں اور وہ اپنے تہوار امن و امان کا کوئی مسئلہ یا الجھن پیدا کیے بغیر پرُامن طور پر مناتے ہیں۔‘‘ (ظہیر الدین بنام سرکار1993 SCMR 1718ئ) افسوس ہے کہ قادیانی آئین میں دی گئی اپنی حقیقت کو ماننے سے انکاری ہیں اور سپریم کورٹ کے فیصلے کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔ اس صورتحال میں حکومت کا فرض ہے کہ وہ قادیانیوں کو آئین اور قانون کا پابند بنائے تاکہ ملک بھر میں کہیں بھی لا اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا نہ ہو۔ حضرت عمر فاروق ؓ کا قول ہے کہ قانون پر عملدرآمد ہی اصل قانون ہے، تحریر ۔ محمد متین خالد ۔۔۔۔۔ اس کاروائی کی جو کہ ان آفیشیل ہے ایک کتابی شکل میں ختم نبوت والوں نے شائع کی ہے اس کا نسخہ آپ یہاں سے حاصل کر سکتے ہیں ، 1974 کی قومی اسمبلی کی کاروائی ، پہلے سے نیٹ پر موجود ہے ،جناب اللہ وسایا صاحب کی تالیف کردہ کتاب یہاں موجود ھے یہ اس کتاب کا لنک ہے ۔یہ کتاب ان آفیشیل ہے ،
http://urdulook.info/imagehost/?di=PCZT (http://www.mediafire.com/?cer8wqf3lar4rn2)

سرکاری 1974 کی مکمل اور خفیہ دستاویز کے لیے جو 38 سال بعد آپ دیکھیں گے ، اس کے بعد پڑھیے


قادیانیوں کو کافر کیوں کہا گیا ۔ قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی سرکاری سطح پر پہلی دفعہ شائع ہو گئی ھے ، اس لیے ان کی حجت ختم ہو گئی ،کہ حکومت اس کو چھاپنے کی ہمت نہیں کر سکتی ، کتاب کا ایک ایک لفظ پڑھنے کے لائق ہے ۔قادیانیوں کو سرکاری سطح پر چھاپی گئی کتاب کا ایک مکمل نسخہ دے دیا گیا ہے ۔اب ان کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے ، اس کتاب کے تقریبا 21 حصے ہیں ،اور اب یہی 21 حصوں پر مشتمل نسخہ ہم اردو منظر پر پیش کر رہے ہیں



http://urdulook.info/imagehost/?di=V0EH

یہاں مکمل کاروائی لگائی جائے گی قسط وار ان شاءاللہ ۔ یہ دستاویز سرکاری سطح پر 38 سال کے طویل انتظار کے بعد شائع ہو رہی ہے ، اس کے 21 حصے ہیں اور 3000 سے اوپر صفحات ہیں ۔
آپ سب دوستوں نے مولانا اللہ وسایا صاحب کی تالیف کردہ کتاب پڑھ لی ہو گی (http://urdulook.info/portal/showthread.php?tid=7222)۔

اب 38 سال بعد سرکاری رپورٹ کو عام کر دیا گیا ہے اور اسوقت اس رپورٹ کو صرف اس لیے شائع نہیں کیا گیا تھا کہ کہیں امت رسول محمدی صلی اللہ علیہ وسلم ان زندیقوں کا غصہ میں قتل عام نہ کر دے ، 1974 میں اس وقت ماحول میں شدید تناؤ تھا ، اس لیے سرکاری سطح پر قادیانی اقلیت کی حفاظت کے لیے اس رپورٹ کو نشر نہیں کیا گیا تھا ۔ یہ قومی اسمبلی کا متفقہ فیصلہ تھا ، اور ان کو کافر قرار دینے پر قانون بنایا گیا ، اسلامی شعار ان کے لیے ممنوع ہیں ۔اور وہ کافر اور زندیق ہیں ۔ یہ واحد متفقہ قومی اسمبلی کا فیصلہ تھا ،جس پر سیر حاصل بحث کی گئی ، اور فریق مخالف کو پوری دلچسپی ،تحمل اور احترام سے سنا گیا ، اصل اور مکمل کتاب 21 حصوں پر مشتمل ہے ۔اور وہ ترتیب سے بعد والی پوسٹ میں موجود ہیں ۔ ایسی رپورٹ کہ آپ ہر صفحے پر سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ کیسے کفریہ عقائد ہیں ۔مکمل کتاب اس کے بعد موجود ہے http://png.findicons.com/files/icons/1700/2d/512/arrow_down.png
مزید پڑھنے کے لئے
نیچے جائیں

تانیہ
12-25-2012, 09:01 PM
جزاک اللہ بےباک جی
بےشک یہ ایک بہت بڑی خدمت ہے
اللہ تعالی آپکو جزائے خیر دے
آپکو یہ سعادت ملی کہ جھوٹوں(قادیانیوں) کے منہ پہ کالک مل سکیں
لعنۃاللہ علی الکذبین

بےباک
12-25-2012, 09:19 PM
اس کتاب کی تمہید کچھ یوں ہے ،




http://urdulook.info/imagehost/?di=GMW6




اس لنک کو کلک کریں ۔۔پی ڈیف ایف فائیل ہے ۔ ماؤس سے رائٹ کلک کرکے save link target as محفوظ کر لیں ۔
یہ بشیر احمد خان کی رٹ پٹیشن جس میں انہوں نے قومی اسمبلی 1974 والا نسخہ طلب کیا تھا (http://urdulook.net/Book/writ%20petition%20%20judgment%20cover.pdf)
بشیر احمد کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر قومی اسمبلی نے محترمہ فہمیدہ مرزا صاحبہ نے اس کی پرنٹنگ کا حکم صادر فرمایا ، اس بارے تفصیل یہاں ملاحظہ فرمائیے ،
سب سے پہلے 40 لاکھ اور 40 ھزار روپیہ اور بعد میں 6 لاکھ 78 ہزار روپیہ پرنٹنگ پر خرچ ہوئے، یعنی کل 47 لاکھ 18 ھزار روپیہ خرچ آیا ۔ اس کتاب کے 21 حصے ہیں اور یہ ھائی کورٹ کا آرڈر ہے جس سے اسے طلب کیا گیا ہے اور پھر بشیر احمد خان صاحب کو یہ نسخہ ان کے وکیل کی معرفت مہیا کیا گیا ،
اس کی تفصیل اس فائیل میں دیکھیے ،تاکہ آپ آگاہ رہیں ، کہ یہ نسخہ کیسے منظر عام پر آیا ،
اگلے مرحلے پر کاروائی ترتیب سے شروع کی جائے گی ، انشاءاللہ تعالی ۔



http://png.findicons.com/files/icons/1700/2d/512/arrow_down.png

سرحدی
12-25-2012, 10:56 PM
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترمی جناب بے باک بھائی صاحب!
اُمید ہے کہ مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ آپ حضرات کی محنتوں کو قبول فرمائے اور سرکار دو عالم سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کی حفاظت کے لیے کی جانے والی کوششوں میں معاون و مددگار بننے پر آپ کے شکر گزار ہیں، یقینا آپ کا یہ عمل استحکام پاکستان کے لیے معاون ثابت ہوگا۔
آپ حضرات کی جدو جہد اس پورے عمل میں شامل ہے، ہمیں تو رشک آتا ہے ان لوگوں پر جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس اور ختم نبوت کی حفاظت کے لیے اُس دور میں اپنے طور پر جدو جہد کی۔
اخلاص اور محبت و عشق کی اس جدو جہد میں جو نفوس شریک ہوئے وہ یقینا قابل تحسین اور لائق مبارک باد ہیں۔ میری طرف سے آپ کو اور آپ کی پوری ٹیم کو بہت بہت مبارک ہو۔

ابن بطوطہ
12-25-2012, 11:00 PM
بسم اللہ الرحمن الرحیم

كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَوْ آمَنَ أَهْلُ الْكِتَابِ لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَكْثَرُهُمُ الْفَاسِقُونَ۔
تم بہترین امت ہو جسے لوگوں کے لئے منظر عام پر لایا گیا ہے تم لوگوں کو نیکیوں کا حکم دیتے ہو اور برائیوں سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکہتے ہو اگر اہل کتاب بہی ایمان لے آتے تو ان کے حق میں بہتر ہوتا لیکن ان میں صرف چند مومنین ہیں اور اکثريت فاسق ہے۔ (سوره آل عمران آيت 110)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ رَجَائٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَعَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ رَأَی مُنْکَرًا فَاسْتَطَاعَ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ وَقَطَعَ هَنَّادٌ بَقِيَّةَ الْحَدِيثِ وَفَّاهُ ابْنُ الْعَلَائِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ بِلِسَانِهِ فَبِقَلْبِهِ وَذَلِکَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ
محمد بن علاء، ہناد بن سری، ابومعاویہ، اعمش، اسماعیل بن رجاء، ، ابوسعید، قیس بن مسلم، طارق بن شہاب، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ تم میں سے جو شخص کسی منکر (برائی ومعصیت) کو ہوتا دیکھے اور پھر وہ اپنے ہاتھ سے اسے بدلنے کی قدرت رکھتا ہو تو اسے چاہیے کہ اسے بدل ڈالے اپنے ہاتھ سے۔ ہناد نے بقیہ حدیث کا ٹکڑا بیان کیا ہے اور اس میں ابن العلاء گذرا ہے۔ پھر اگر ہاتھ سے بدلنے کی طاقت نہ رکھے تو اسے اپنی زبان سے بدلے اور اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہوں تو دل سے برا سمجھے اور یہ ایمان کا آخری درجہ ہے۔ (سنن ابوداؤد،جلد سوم،لڑائی اور جنگ وجدل کا بیان )
ہمارے منتظم صاحب نے تو اپنا حق ادا کر دیا۔ ہم بھی اس معاملے میں انہی کے نقش قدم پر چلتے ہیں مگر تھوڑا اضافہ کرتے ہیں۔ اللہ بھٹکے ہوئے لوگوں کی ہدایت کرے۔ دین تبدیل کرنا نہایت کٹھن کام ہے۔ اس کی دشواری کا اندازہ صرف وہی کر سکتا ہو جو اس عمل سے گزرا ہو۔ لیکن:
وہ مردہ دل ہیں جنہیں عشق میں ہے جان عزیز
جو اپنی جان پہ کھیلے نصیر کہلاۓ
(یہ شعر تو پیر نصیر الدین نصیر صاحب کا ہے۔ مگر میری ناقص رائے میں دوسرے مصرے میں انہوں نے اپنا تخلص نہیں باندھا بلکہ اس سے مراد “ناصر، نصرت والا، کامیاب، ظفرمند“ ہے۔ )
تو ابھی یہ فیصلہ آپ کا ہے کہ جان کو عزیز سمجھ کر مردہ دل کہلاتے ہیں یا جان پر کھیل کر نصیر بنتے ہیں۔
سویرے سورج نکلنے سے سورج چھپنے تک کا وقت حضرت انسان کا بہت مصروف کٹتا ہے اکثر سمجھتا ہے کہ کاروبار دنیا اسی کے دم سے جاری ہے۔ اگر “میں“ فلاں وقت تک نہ پہنچ سکا تو بہت نقصان ہو گا۔ وہ کچھ نہیں کر سکتے “مجھے“ ہی سب دیکھنا ہو گا۔ یہ بچے بھی تو سارا دن تگنی کا ناچ نچاتے ہیں، “مجھ“ بن انہیں اور کون سنبھال سکے ہے؟۔ لیکن کاروبار دنیا تو حضرت آپ کے گزرنے کے بعد بھی چلے گا۔ تو بہت سی مصروفت سے بہت تھوڑا وقت نکالو ساری کی ساری نہ سہی کچھ تو پڑھو۔ دن تو سارا کٹتا ہے دنیا کو سنوارنے میں رات میں تو خود کو سنوار سکتے ہو۔ ہے کہ نہیں؟ یہ جو اتنے کہتے چلے جا رہے ہیں کہ “بہت اہم ہے“، “بہت اہم ہے“۔ تو ہو سکتا ہے “اہم“ نہ ہو مگر تمہارے لیے “بہت“ ہو۔

بےباک
12-26-2012, 05:26 AM
اس شاندار کتاب کا
پہلا حصہ
یہاں ملاحظہ فرمائیں ،



http://urdulook.info/imagehost/?di=PQR6


اس لنک کو کلک کریں ۔۔پی ڈیف ایف فائیل ہے ۔ ماؤس سے رائٹ کلک کرکے save link target as محفوظ کر لیں ۔

PART 1 قادیانی وفد سے تحقیقی مرحلہ ۔ پہلا حصہ (http://urdulook.net/Book/URDULOOK_Pak-1974-NA-Committe-Ahmadiyya%20-%20Part%2001.pdf)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔

پارٹ 2 یہاں سے ڈاوں لوڈ کرین ،
http://urdulook.info/imagehost/?di=PQR6

اس لنک کو کلک کریں ۔۔پی ڈیف ایف فائیل ہے ۔ ماؤس سے رائٹ کلک کرکے save link target as محفوظ کر لیں ۔
قومی اسمبلی میں قادیانی وفد سے سوالات PART2 (http://urdulook.net/Book/URDULOOK_Pak-1974-NA-Committe-Ahmadiyya%20-%20Part%2002.pdf)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پارٹ 3 یہاں سے ڈاوں لوڈ کرین ،
http://urdulook.info/imagehost/?di=PQR6
اس لنک کو کلک کریں ۔۔پی ڈیف ایف فائیل ہے ۔ ماؤس سے رائٹ کلک کرکے save link target as محفوظ کر لیں ۔
قادیانی وفد سے سوالاتPART 3 (http://urdulook.net/Book/URDULOOK_Pak-1974-NA-Committe-Ahmadiyya%20-%20Part%2003.pdf)

بےباک
12-26-2012, 05:31 AM
پارٹ 4 یہاں سے ڈاوں لوڈ کرین ،
http://urdulook.info/imagehost/?di=PQR6
اس لنک کو کلک کریں ۔۔پی ڈیف ایف فائیل ہے ۔ ماؤس سے رائٹ کلک کرکے save link target as محفوظ کر لیں ۔
[u]قومی اسمبلی کی کاروائی PART 4 (http://urdulook.net/Book/URDULOOK_Pak-1974-NA-Committe-Ahmadiyya%20-%20Part%2004.pdf)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پارٹ5 یہاں سے ڈاوں لوڈ کرین ،
http://urdulook.info/imagehost/?di=PQR6
اس لنک کو کلک کریں ۔۔پی ڈیف ایف فائیل ہے ۔ ماؤس سے رائٹ کلک کرکے save link target as محفوظ کر لیں ۔
قومی اسمبلی کی کاروائی PART 5 (http://urdulook.net/Book/URDULOOK_Pak-1974-NA-Committe-Ahmadiyya%20-%20Part%2005.pdf)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پارٹ6 یہاں سے ڈاوں لوڈ کرین ،
http://urdulook.info/imagehost/?di=PQR6
اس لنک کو کلک کریں ۔۔پی ڈیف ایف فائیل ہے ۔ ماؤس سے رائٹ کلک کرکے save link target as محفوظ کر لیں ۔
قومی اسمبلی کی کاروائی PART 6 (http://urdulook.net/Book/URDULOOK_Pak-1974-NA-Committe-Ahmadiyya%20-%20Part%2006.pdf)

بےباک
12-26-2012, 05:55 AM
پارٹ 7 یہاں سے ڈاوں لوڈ کرین ،
http://urdulook.info/imagehost/?di=PQR6
اس لنک کو کلک کریں ۔۔پی ڈیف ایف فائیل ہے ۔ ماؤس سے رائٹ کلک کرکے save link target as محفوظ کر لیں ۔
[u]قومی اسمبلی کی کاروائی PART 7 (http://urdulook.net/Book/URDULOOK_Pak-1974-NA-Committe-Ahmadiyya%20-%20Part%2007.pdf)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پارٹ8 یہاں سے ڈاوں لوڈ کرین ،
http://urdulook.info/imagehost/?di=PQR6
اس لنک کو کلک کریں ۔۔پی ڈیف ایف فائیل ہے ۔ ماؤس سے رائٹ کلک کرکے save link target as محفوظ کر لیں ۔
قومی اسمبلی کی کاروائی PART 8 (http://urdulook.net/Book/URDULOOK_Pak-1974-NA-Committe-Ahmadiyya%20-%20Part%2008.pdf)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پارٹ 9 یہاں سے ڈاوں لوڈ کرین ،
http://urdulook.info/imagehost/?di=PQR6
اس لنک کو کلک کریں ۔۔پی ڈیف ایف فائیل ہے ۔ ماؤس سے رائٹ کلک کرکے save link target as محفوظ کر لیں ۔
[u]قومی اسمبلی کی کاروائی PART 9 (http://urdulook.net/Book/URDULOOK_Pak-1974-NA-Committe-Ahmadiyya%20-%20Part%2009.pdf)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پارٹ10 یہاں سے ڈاوں لوڈ کرین ،
http://urdulook.info/imagehost/?di=PQR6
اس لنک کو کلک کریں ۔۔پی ڈیف ایف فائیل ہے ۔ ماؤس سے رائٹ کلک کرکے save link target as محفوظ کر لیں ۔
قومی اسمبلی کی کاروائی PART10 (http://urdulook.net/Book/URDULOOK_Pak-1974-NA-Committe-Ahmadiyya%20-%20Part%2010.pdf)

بےباک
12-26-2012, 05:57 AM
پارٹ 11 یہاں سے ڈاوں لوڈ کرین ،
http://urdulook.info/imagehost/?di=PQR6
اس لنک کو کلک کریں ۔۔پی ڈیف ایف فائیل ہے ۔ ماؤس سے رائٹ کلک کرکے save link target as محفوظ کر لیں ۔
[u]قومی اسمبلی کی کاروائی PART 11 (http://urdulook.net/Book/URDULOOK_Pak-1974-NA-Committe-Ahmadiyya%20-%20Part%2011.pdf)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پارٹ12یہاں سے ڈاوں لوڈ کرین ،
http://urdulook.info/imagehost/?di=PQR6
اس لنک کو کلک کریں ۔۔پی ڈیف ایف فائیل ہے ۔ ماؤس سے رائٹ کلک کرکے save link target as محفوظ کر لیں ۔
قومی اسمبلی کی کاروائی PART 12 (http://urdulook.net/Book/URDULOOK_Pak-1974-NA-Committe-Ahmadiyya%20-%20Part%2012.pdf)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پارٹ 13 یہاں سے ڈاوں لوڈ کرین ،
http://urdulook.info/imagehost/?di=PQR6
اس لنک کو کلک کریں ۔۔پی ڈیف ایف فائیل ہے ۔ ماؤس سے رائٹ کلک کرکے save link target as محفوظ کر لیں ۔
[u]قومی اسمبلی کی کاروائی PART 13 (http://urdulook.net/Book/URDULOOK_Pak-1974-NA-Committe-Ahmadiyya%20-%20Part%2013.pdf)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پارٹ14 یہاں سے ڈاوں لوڈ کرین ،
http://urdulook.info/imagehost/?di=PQR6
اس لنک کو کلک کریں ۔۔پی ڈیف ایف فائیل ہے ۔ ماؤس سے رائٹ کلک کرکے save link target as محفوظ کر لیں ۔
قومی اسمبلی کی کاروائی PART14 (http://urdulook.net/Book/URDULOOK_Pak-1974-NA-Committe-Ahmadiyya%20-%20Part%2014.pdf)

بےباک
12-26-2012, 05:59 AM
پارٹ 15 یہاں سے ڈاوں لوڈ کرین ،
http://urdulook.info/imagehost/?di=PQR6
اس لنک کو کلک کریں ۔۔پی ڈیف ایف فائیل ہے ۔ ماؤس سے رائٹ کلک کرکے save link target as محفوظ کر لیں ۔
[u]قومی اسمبلی کی کاروائی PART 15 (http://urdulook.net/Book/URDULOOK_Pak-1974-NA-Committe-Ahmadiyya%20-%20Part%2015.pdf)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پارٹ16 یہاں سے ڈاوں لوڈ کرین ،
http://urdulook.info/imagehost/?di=PQR6
اس لنک کو کلک کریں ۔۔پی ڈیف ایف فائیل ہے ۔ ماؤس سے رائٹ کلک کرکے save link target as محفوظ کر لیں ۔
قومی اسمبلی کی کاروائی PART16 (http://urdulook.net/Book/URDULOOK_Pak-1974-NA-Committe-Ahmadiyya%20-%20Part%2016.pdf)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پارٹ 17 یہاں سے ڈاوں لوڈ کرین ،
http://urdulook.info/imagehost/?di=PQR6
اس لنک کو کلک کریں ۔۔پی ڈیف ایف فائیل ہے ۔ ماؤس سے رائٹ کلک کرکے save link target as محفوظ کر لیں ۔
[u]قومی اسمبلی کی کاروائی PART 17 (http://urdulook.net/Book/URDULOOK_Pak-1974-NA-Committe-Ahmadiyya%20-%20Part%2017.pdf)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پارٹ18یہاں سے ڈاوں لوڈ کرین ،
http://urdulook.info/imagehost/?di=PQR6
اس لنک کو کلک کریں ۔۔پی ڈیف ایف فائیل ہے ۔ ماؤس سے رائٹ کلک کرکے save link target as محفوظ کر لیں ۔
قومی اسمبلی کی کاروائی PART 18 (http://urdulook.net/Book/URDULOOK_Pak-1974-NA-Committe-Ahmadiyya%20-%20Part%2018.pdf)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بےباک
12-26-2012, 06:04 AM
پارٹ 19 یہاں سے ڈاوں لوڈ کرین ،
http://urdulook.info/imagehost/?di=PQR6
اس لنک کو کلک کریں ۔۔پی ڈیف ایف فائیل ہے ۔ ماؤس سے رائٹ کلک کرکے save link target as محفوظ کر لیں ۔
[u]قومی اسمبلی کی کاروائی PART 19 (http://urdulook.net/Book/URDULOOK_Pak-1974-NA-Committe-Ahmadiyya%20-%20Part%2019.pdf)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پارٹ20 یہاں سے ڈاوں لوڈ کرین ،
http://urdulook.info/imagehost/?di=PQR6
اس لنک کو کلک کریں ۔۔پی ڈیف ایف فائیل ہے ۔ ماؤس سے رائٹ کلک کرکے save link target as محفوظ کر لیں ۔
قومی اسمبلی کی کاروائی PART20 (http://urdulook.net/Book/URDULOOK_Pak-1974-NA-Committe-Ahmadiyya%20-%20Part%2020.pdf)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
پارٹ 21 یہاں سے ڈاوں لوڈ کرین ،
http://urdulook.info/imagehost/?di=PQR6
اس لنک کو کلک کریں ۔۔پی ڈیف ایف فائیل ہے ۔ ماؤس سے رائٹ کلک کرکے save link target as محفوظ کر لیں ۔
[u]قومی اسمبلی کی کاروائی PART21 (http://urdulook.net/Book/URDULOOK_Pak-1974-NA-Committe-Ahmadiyya%20-%20Part%2021.pdf)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اہم نوٹ ÷÷ یہ مکمل 21 حصے ہیں ۔ ڈاؤن لوڈ میں مشکل پیش آنے پر اپنی شکایت یہاں درج کریں ،

یہ سب پی ڈی ایف فائلیں ہیں ۔۔ ایکروبیٹ ریڈر یا فوکس اٹ ریڈر سے کھلیں گی ،
کسی قسم کی مشکل ہونے پر یہاں پیغام چھوڑ سکتے ہیں ،

عبادت
12-27-2012, 01:46 AM
جزاک اللہ خیر

pervaz khan
12-27-2012, 05:27 PM
اچھی شئیرنگ کا شکریہ

زیرک
12-28-2012, 05:36 AM
جزاک اللہ خیر

مدنی
12-31-2012, 01:36 PM
محترم جناب بے باک صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
اللہ تعالٰی جس سے راضی ہوتا ہے اس سے اپنے دین کی سرفرازی کا کام لیتا ہے۔یقینا آپ خوش قسمت ہیں اللہ تعالٰی نے آپ سے یہ کا م لیا ہے ۔اللہ آپ کو دین کے نوکروں میں شامل فرمائے ، آمین
میں نے اس کتاب کا کچھ حصہ پڑھا ہے انشاء اللہ الرحمن پوری کتاب پڑھوں گا۔
اللہ آپ کے دین ، دنیا ، عمر اور کام میں برکت عطاء فرمائے اور اللہ آپ کی حفاظت فرمائے۔آمین

عبید قندیل
01-01-2013, 05:17 PM
آن لائن پڑھنے کے لئے نیچے دیا ہوا لنک کلک کریں ،

you can read this book online from here (http://www.scribd.com/fullscreen/118557394?access_key=key-15o3c69pt9v3ax2ohvgm)

محمدمعروف
01-02-2013, 10:48 PM
اردو منظر اور اس کے منتظمین کی یہ کاوش لائق صد تحسین اور قابل داد ہے کہ انہوں نے ایسی تاریخی اور اہم دستاویز کو عوام تک پہنچایا یقینا یہ لوگ دنیا میں بھی اور روز جزا بھی اللہ سے اس عظیم کام کے بدلے میں اجر پائیں گے ۔
میری طرف سے محترم بے باک صاحب اور ان کی تمام ٹیم کو اس نیک کام کرنے پر مبارک باد
باقی میں کتاب ڈائنلوڈ کررہا ہوں ان شاء اللہ وقتا فوقتا ضرور اسے پڑھوں گا۔

سقراط
03-01-2013, 01:54 PM
قادیانی جھوٹے زندیق

اذان
03-08-2013, 12:13 PM
http://urdulook.info/imagehost/image.php?di=SF9G

تانیہ
04-05-2013, 09:39 PM
لعنۃ اللہ علی الکذبین

سقراط
04-07-2013, 12:45 AM
http://www.facebook.com/photo.php?v=631550683527793

بےباک
01-31-2014, 04:52 PM
اس بارے ہماری کوشش سے یہ مکمل کتاب یہاں لگا دی گئی ہے ،
https://archive.org/details/QadiyaniIssueComplete21Parts

ابن خالد
06-04-2015, 10:09 AM
السلام علیکم
قادیانی کہتے ہیں کہ یہ جو کارووائی حکومت نے چھاپی ہے درست نہیں ہے۔اس ضمن میں وہ مندرجہ ذیل وجوہات بیان کرتے ہیں۔کسی صا حب کے پاس ان کے جوابات ہوں تو براہ مہربانی راہنمائی فرمائیں۔اس کے علاوہ ان صا حب نے ایک ویب سائٹ کا حوالہ بھی دیا ہے۔وہ بھی دیکھی جاسکتی ہے۔
http://www.proceedings1974.org
1) جماعت ِ احمدیہ کا موقف ایک محضر نامہ پر مشتمل تھا ۔دو دن کی کارروائی میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ (حضرت مرزا ناص احمد صا حب)نے یہ موقف خود پڑھ کر سنایا تھا۔اس اشاعت میں یہ محضر نامہ جو جماعتِ احمدیہ کا اصل موقف تھا شامل نہیں کیا گیاحالانکہ یہ محضرنامہ کارروائی کا اہم حصہ تھا۔ اس کے برعکس جماعت کے مخالفین نے، جن میں مفتی محمود صاحب کا نام بھی شامل ہے جو اپنے مؤقف پر مشتمل طویل تقاریر کی تھیں وہ اس اشاعت میں شامل کی گئیں۔
2) جماعتِ احمدیہ کے موقف کے طور پر محضر نامہ کے ضمیمے کے طور پر جو مضامین اور کتابچے جمع کرائے گئے تھے وہ اس اشاعت میں شامل نہیں کئے گئے اور جو ضمیمے مخالفین نے جمع کرائے تھے وہ اس اشاعت کا حصہ بنائے گئے۔
3) بعض جگہوں کچھ نمایاں سرخیاں لگا کر خلاف ِ واقعہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔مثلاََ اس اشاعت کے صفحہ 2360اور صفحہ 2384پر جماعت ِ احمدیہ کے مخالفین کی تقاریر کے تحریری ریکارڈ میں یہ ہیڈنگ لگائی گئی ہیں'' مرزا ناصر احمد صاحب سے '' اور نیچے کچھ سوالات درج ہیں۔اور یہ تاثر پیش کیا گیا ہے کہ گویا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ سے یہ سوالات کئے گئے تھے اور آپ نے ان کا کوئی جواب نہیں دیا۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ تقاریر 30/اگست 1974ء کی کارروائی کی ہیں اور اس روز حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ یا جماعتِ احمدیہ کے وفد کا کوئی ممبر وہاں پر موجود ہی نہیں تھا اور نہ ہی یہ سوالات کبھی ان تک پہنچائے گئے۔ خدا جانے یہ سوالات کس سے کئے جا رہے تھے ؟
4) قومی اسمبلی کے قوانین میں یہ قاعدہ درج ہے کہ جب کمیٹی میں ایک گواہ کو سنا جاتا ہے
A verbatim record of the proceedings of the committee shall, when a witness is summoned to give evidence, be kept.
اس قاعدہ کے الفاظ بالکل واضح ہیں ۔جب ایک گواہ کمیٹی میں گواہی دے تو اس کے بیان کا حرف بحرف ریکارڈ رکھنا ضروری ہے لیکن کیا ایسا کیا گیا؟ اس اشاعت میں بعض مقامات پر جہاں حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے حوالہ کے طور پر عربی عبارت پڑھی ہے وہاں اصل عبارت کی جگہ صرف '' عربی'' لکھنے پر اکتفا کی گئی ہے۔ یہ طریقہ کار قواعد کے بالکل خلاف ہے۔ اصل عبارت درج کیوں نہیں کی گئی ؟ مولوی ظفر انصاری صاحب عربی زبان سے بخوبی واقف تھے۔ کئی مولوی صاحبان کوجو اس اسمبلی کے ممبر تھے عربی دانی کا دعویٰ تھا۔ اگر یہ سب عربی عبارت سمجھنے سے عاجز تھے تو حسبِ قواعد ضروری تھا کہ جماعت کے وفد کو متعلقہ حصہ دکھا کر اصل عبارت درج کر لی جاتی ایسا کیوں نہیں کیا گیا؟ یہ گروہ اس بات سے خائف کیوں تھا کہ اس ریکارڈ کا ایک چھوٹا سا حصہ بھی جماعت ِ احمدیہ کے وفد کے کسی ممبر کو دکھایا جاتا ۔ آخر کیا خوف دامنگیر تھا؟ ہم اس کا فیصلہ پڑھنے والوں پر چھوڑتے ہیں۔
ان وجوہات کی بنا پر اگر انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو اگر جماعتِ احمدیہ یا کسی بھی محقق کی طرف سے اس اشاعت کو مکمل طور پر یا جزوی طور پر مسترد کیا جائے تو یہ ان کا حق ہے۔ جب اس کارروائی کو جزوی طور پر شائع کیا گیا تو اس وقت جماعت کے احمدیہ کے وفد کے پانچوں اراکین وفات پا چکے تھے۔ اب اس اشاعت کی تصدیق کرنا ممکن نہیں رہا۔ لہٰذا اس کتاب میں جہاں یہ الفاظ استعمال کئے گئے ہیں کہ '' حضور نے فرمایا ۔۔۔۔۔۔ یا ''حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے فرمایا ۔۔۔۔۔۔ '' تو اس سے مراد صرف یہ ہے کہ اس اشاعت میں یہ لکھا ہے کہ حضور نے یہ فرمایا تھا۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کیا سچ ہے اور کیا غلط؟ لیکن جب بھی اس قسم کا مواد دنیا کے سامنے آتا ہے تو اس کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس کتاب میں ہم نے صرف یہ بیان کرنے کی کوشش کی ہے کہ جب ایک عام پڑھنے والا اس کارروائی کو پڑھ کر اصل پس منظر اور حقائق کا جائزہ لیتا ہے اور اصل حوالوں کو سامنے رکھ کر رائے قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے تو کیا ممکنہ نتائج سامنے آتے ہیں ۔ جس گروہ نے حقائق کو چھپانے کی کوشش کی ہے تو ان کے موقف کی کمزوری کی یہ کیفیت ہے وہ کسی نہ کسی رنگ میں ظاہر ہو ہی جاتی ہے۔

مزید اس سلسلہ میں ان صا حب نے ایک کتاب کا حوالہ دیا۔میں نے جب یہ کتاب پڑھی تو میں تو اس کا جواب دینے سے قاصر رہا۔براہ مہربانی کتاب پڑھ کر راہنمائی فرما ئیں۔
کتاب:قومی اسمبلی کی کارووائی پر تبصرہ (http://www.proceedings1974.org/a-review-on-proceedings-of-national-assembly-1974/)

بےباک
07-11-2015, 02:17 AM
جناب ابن خالد صاحب ،آپ ماشائاللہ سلجھے ھوئے انسان ہیں ، عقل و شعور بھی لازمی عام انسان سے زیادہ ہو گا ، اس لئے
اس ساری بحث سے بچتے ہوئے آپ سے ایک سوال :
کیا آپ نے مرزا صاحب کی کتب کا مطالعہ کیا ہے ؟؟؟اگر نہیں پڑھیں تو پہلے ان کا مطالعہ کر لیں ،پاکستان میں یہ بحث اس کےبہت ہی بعد کی پیداوار ہے ، اصل بات ھے اس سبب کو سمجھیں ، جس کی بے حد ضرورت ہے ،

، کاروائی تو آپ نے پڑھ لی ، اورہم نے بھی پڑھ لی ، ہم نے سمجھ لی ، اور عمومی پاکستانیوں نے بھی پڑھ لی ،
کیا مرزائیوں کو حق حاصل نہیں کہ وہ اپنا کیس عدالت میں لے جائیں ، اور اس کا دفاع کریں ، قادیانیوں نے قومی اسمبلی کا تفصیلی نسخہ عدالت کے حکم پر وکیل کے توسط سے اسی لئے حاصل کیا تھا ، ان کی طرف سے ابھی تک اس بارے کیس داخل نہیں کیا گیا ،
کافی باتیں سمجھ میں نہیں آئیں تو بھی ایک سادہ سا سوال ہے کہ آپ کیا مرزا غلام احمدقادیانی کو نبی مانتے ہیں ، کیا کوئی بندہ محمد صلی اللہ کے بعد نبی ہو سکتا ہے ؟؟؟؟ اس کے بعد آپ سے بات کی جائے گی ، کیونکہ
کاش کوئی ٹھنڈے دل سے اس کی کتب کو پڑھے جس میں مرزا قادیانی نے سب انبیاء سے افضل اپنے آپ کو لکھا ھے ،؟؟؟

بےباک
07-11-2015, 07:34 PM
مرزائی مربی اکثر اپنا "دجل و فریب" دکھاتے ہیں اورکہتے ہیں کہ "ہم تو ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں" اور " ہم کلمہ میں محمد سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مراد لیتے ہیں " ... پیش خدمت ہے کتاب "مطالعهء قاديانيت" سے ایک اقتباس ..... یہ مرزائی ختم بنوت اور کلمہ کی ایک جھلک ..تفصیل کے لیے کتاب کا مطالعه فرمائیں ...
مرزائی مذہب کی چند جھلکیاں
یہاں مرزائی عقیدے کو مزید واضح کرنے کے لئے ان کی کتابوں سے چند اقتباسات بھی (اپنے دل پر پتھر رکھ کر) ملاحظہ فرمائیں تاکہ قادیانی مذہب کا اصل چہرہ نکھر کر سامنے آجائے :
میرا نام محمد رسول اللہ
مرزا قادیانی اپنے اوپر ہونے والی ایک (نام نہاد) وحی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے:۔
’’پھر اسی کتاب میں اسی مکالمے کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینہم اس وحی الہی میں میرا نام محمد بھی رکھا گیا اور رسول بھی ‘‘۔ (ایک غلطی کا ازالہ، رخ 18صفحہ 207)
مرزا کے یہ الفاظ کسی تشریح یا وضاحت کے محتاج نہیں ، وہ اپنے پر ہونے والی (نام نہاد) وحی کے وہی الفاظ بتا رہا ہے جو سورۃ الفتح کی آیت 29 میں حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوئے اور اس آیت میں آپ ﷺ کے بارے میں’’ محمد رسول اللہ‘‘کہا گیا ، اب کیا اس بات میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ جب مرزائی یہ کہتے ہیں کہ ہم بھی وہی کلمہ پڑھتے ہیں جو مسلمان پڑھتے ہیں تو ظاہری طور پر الفاظ تو وہی پڑھتے ہیں جو مسلمان کہتے ہیں لیکن ان کے مذہب میں ’’محمد رسول اللہ‘‘ ایک نہیں بلکہ دو ہیں کیونکہ مرزا قادیانی کے بقول اس کا نام بھی (اس کے)خدا نے محمد رسول اللہ رکھا ہے ۔
تمام نبیوں کے نام مجھے دیے گئے
’’ اور دنیا میں کوئی نبی نہیں گذرا جس کا نام مجھے نہیں دیا گیا سو جیسا کہ براہین احمدیہ میں خدا نے فرمایا ہے (واضح رہے کہ براہین احمدیہ مرزا قادیانی کی پہلی کتاب ہے جس کا مصنف خود مرزا قادیانی ہے پھر اس کتاب میں خدا کے فرمانے کا کیا مطلب؟ ناقل) میں آدمؑ ہوں ، میں نوحؑ ہوں میں ابراہیم ؑ ہوں ، میں اسحاق ؑہوں، میں یعقوبؑ ہوں، میں اسماعیل ؑ ہوں ، میں موسیٰ ؑ ہوں میں داودؑ ہوں،میں عیسیٰ ؑ ابن مریم ہوں ، میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں یعنی بروزی طور پر‘‘۔
(تتمہ حقیقۃ الوحی، رخ 22صفحہ 521)
میرے اور محمد مصطفی ﷺ کے درمیان کوئی فرق نہیں
’’ من فرق بیني وبین المصطفی فما عرفني وما رأی‘‘ جس نے میرے اور (محمد) مصطفی (ﷺ) کے درمیان فرق کیا اس نے نہ ہی مجھے پہچانا اور نہ مجھے دیکھا ۔
(خطبہ الہامیہ، رخ 16 صفحہ )259)
نبی کریم ﷺ دو بار مبعوث ہوئے
’’ اور جان کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا کہ پانچویں ہزار میں مبعوث ہوئے (یعنی چھٹی صدی عیسوی میں۔ ناقل) ایسا ہی مسیح موعود (یعنی مرزا قادیانی۔ ناقل) کی بروزی صورت اختیار کرکے چھٹے ہزار (یعنی تیرھویں صدی ہجری۔ ناقل) کے آخر میں مبعوث ہوئے، اور یہ قرآن سے ثابت ہے اس میں انکار کی گنجائش نہیں‘‘۔
(خطبہ الہامیہ، رخ 16 صفحہ 270)
یہاں ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ مرزا قادیانی کو یہ کس نے بتایا تھا کہ دنیا کا پانچواں ہزار کونسا ہے اور چھٹا ہزار کونسا ہے؟ نہ ہم مرزاسے یہ سوال کریں گے کہ وہ کون سا قرآن ہے جس سے یہ ثابت ہے کہ حضرت محمد ﷺ نے دوبارہ مرزا قادیانی کی بروزی صورت اختیار کرکے مبعوث ہونا تھا ، ہمارا مقصد یہ حوالہ پیش کرنے کا سر دست صرف یہ ہے کہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو آنحضرت ﷺ ہی سمجھتا ہے ۔ (مرزا کی قرآن وحدیث پر کی گئی کذب بیانیوں اور تحریفات پر ہم ان شاء اللہ تحریفات وکذبات مرزا کے عنوان
میری شکل میں آنحضرت ﷺ دوبارہ دنیا میں آئے
’’ اس تقریر سے یہ بات بپایہء ثبوت پہنچ گئی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دو بعث ہیں ، یا بہ تبدیل الفاظ یوں کہہ سکتے ہیں کہ ایک بروزی رنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دوبارہ آنا دنیا میں وعدہ دیا گیا تھا جو مسیح موعود ومہدی معہود (یعنی مرزا قادیانی ۔ ناقل) کے ظہور سے پورا ہوا‘‘۔
(تحفہ گولڑویہ، رخ 17 صفحہ 249)
اور مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم اے، اپنے باپ کے اس دعوے کی وضاحت یوں کرتاہے :۔
’’ اور وہ جس نے مسیح موعود ( اس کے خیال میں مرزا قادیانی ۔ ناقل) کی بعثت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ثانی نہ جانا اس نے قرآن کو پس پشت ڈال دیا کیونکہ قرآن پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ پھر دنیا میں آئے گا…‘‘ ۔
(کلمۃ الفصل، صفحہ 105، مصنفہ مرزا بشیر احمد بن مرزا غلام احمد قادیانی)
اب اسم محمد ﷺ کی تجلی ظاہر کرنے کا وقت نہیں
’’مگر تم خوب توجہ کرکے سن لو کہ اب اسم محمد کی تجلی ظاہر کرنے کا وقت نہیں ۔ یعنی اب جلالی رنگ کی کوئی خدمت باقی نہیں ۔ کیونکہ مناسب حد تک وہ جلال ظاہر ہوچکا ۔ سورج کی کرنوں کی اب برداشت نہیں ۔ اب چاند کی ٹھنڈی روشنی کی ضرورت ہے اور وہ احمد کے رنگ میں ہوکر میں ہوں ‘‘ ۔ (اربعین نمبر 4 ، رخ 17صفحات 445 و 446)
میں مسیح وکلیم اور محمد واحمد مجتبی ہوں
’’منم مسیح زمان ومنم کلیم خدا … منم محمد واحمد کہ مجتبیٰ باشد‘‘ میں ہی مسیح زمان ہوں ، میں ہی کلیم خدا ہوں ، میں ہی محمد واحمد مجتبیٰ ہوں ۔
(تریاق القلوب، رخ 15 صفحہ 134)
ستم کیشی کو تیری کوئی پہنچا ہے نہ پہنچے گا … اگرچہ ہوچکے ہیں تجھ سے پہلے فتنہ گر لاکھوں
قادیان میں محمد ﷺ
مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم اے (جسے مرزائی دنیا قمر الانبیاء کے لقب سے یاد کرتی ہے) اپنے باپ کی ان تحریروں کی تشریح یوں کرتا ہے ، غور سے پڑھیے گا:۔
’’… کیا اس بات میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں اللہ تعالی نے پھر محمد صلعم اُتارا تا اپنے وعدے کو پورا کرے جو اس نے آخرین منہم لما یلحقوا بہم میں فرمایا تھا‘‘۔
(کلمۃ الفصل ، صفحہ 105 )
یاد رہے یہ قادیانی ڈھکوسلہ اور تحریف ہے کہ اس آیت میں کسی کے قادیان میں اتارے جانے کا وعدہ ہے یا اس آیت میں نبی کریم ﷺ کے دوبارہ ظہور کا بیان ہے ۔
اور اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ اگر حضرت محمد ﷺ کے بعد کوئی اور نبی ہے تو اس کا کلمہ بتاؤ؟ یہی مرزا بشیر احمد یوں لکھتا ہے:۔
’’مسیح موعود (یعنی اس کے مطابق مرزا قادیانی ۔ ناقل) کی بعثت کے بعد محمد رسول اللہ کے مفہوم میں ایک اور رسول کی زیادتی ہوگئی ‘‘۔
(کلمۃ الفصل، صفحہ 158)
یعنی وہ تسلیم کرتا ہے کہ جب قادیانی لوگوں کے سامنے مسلمانوں والا کلمہ پڑھتے ہیں تو اگرچہ کلمہ کے ظاہری الفاظ وہی ہوتے ہیں لیکن ان کے نزدیک محمد رسول اللہ میں ان کا (نقلی اور جعلی) مسیح مرزا قادیانی بھی شامل ہوتا ہے۔
مرزا قادیانی خود محمد رسول اللہ ﷺ ہے
پھر اسی صفحے پر مرزا بشیر احمد مرزائی عقیدے کی وضاحت یوں کرتا ہے :۔
’’ پس مسیح موعود (یعنی مرزا قادیانی ۔ ناقل) خود محمد رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے اس لئے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں ہاں اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی ‘‘۔
(کلمۃ الفصل، صفحہ 158)
مرزا قادیانی نبی کریم ﷺ کے پہلو بہ پہلو
اسی پر بس نہیں بلکہ مرزا قادیانی کا یہ بیٹا اس حد تک چلا گیا کہ لکھتا ہے:۔
’’مسیح موعود (یعنی مرزا قادیانی نقلی اور جعلی مسیح ۔ ناقل) کو نبوت تب ملی جب اس نے نبوت محمدیہ کے تمام کمالات کو حاصل کرلیا اور اس قابل ہو گیا کہ ظلی نبی کہلائے ، پس ظلی نبوت نے مسیح موعود کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا بلکہ آگے بڑھایا اور اس قدر آگے بڑھایا کہ نبی کریم ﷺ کے پہلو بہ پہلو لا کھڑا کیا‘‘ ۔
(کلمۃ الفصل، صفحہ 113)
مرزا قادیانی کی روحانیت زیادہ کامل
لیکن اسے اپنے باپ کا یہ مقام بھی پسند نہ آیا اور اس نے ایک قدم اور بڑھایا:۔
’’مسیح موعود (یعنی مرزا قادیانی نقلی اور جعلی مسیح ۔ ناقل) نبی کریم ﷺ سے الگ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ وہی ہے اور اگر مسیح موعود (یعنی مرزا قادیانی ۔ ناقل) کا منکر کافر نہیں تو نعوذ باللہ نبی کریم کا منکر بھی کافر نہیں کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ پہلی بعثت میں تو آپ کا انکار کفر ہو ، مگر دوسری بعثت میں (جو مرزائی عقیدے کے مطابق مرزا قادیانی کی صورت میں ہوئی ۔ ناقل) جس میں بقول حضرت مسیح موعود آپ کی روحانیت اقویٰ اور اکمل اور اشدّ ہے آپ کا انکار کفر نہ ہو‘‘۔
(کلمۃ الفصل، صفحہ 147)
لیجیے اس نے نہ صرف مرزا قادیانی کو آنحضرت ﷺ کی دوسری بعثت قرار دیا بلکہ اس کی روحانیت کو پہلی بعثت ( جو خود حضرت محمد ﷺ کی صورت میں ہوئی) سے زیادہ قوی زیادہ کامل قرار دیدیا ۔ یعنی اصل کی روحانیت سے نقل کی روحانیت زیادہ کامل ہے (نعوذ باللہ من ذلک)۔
’’اسمہ احمد‘‘ کی بشارت مرزا قادیانی کے بارے میں
مرزا قادیانی کادوسرا بیٹا مرزا محمود (دوسرا قادیانی خلیفہ) تو یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا رہا کہ قرآن کریم کی سورۃ الصف کی آیت نمبر 6 میں جو یہ ذکر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے بعد ایک ’’احمد‘‘ نامی رسول کی بعثت کی بشارت دی تھی، اس کا مصداق حضرت محمد ﷺ نہیں بلکہ وہ بشارت مرزا غلام احمد قادیانی کے بارے میں ہے ، چنانچہ وہ کہتا ہے : ۔
’’اسمہ احمد کی پیش گوئی کا مصداق حضرت مسیح موعود (نقلی اور جعلی ۔ ناقل) ہیں ۔ میرا یہ عقیدہ ہے کہ یہ آیت مسیح موعود (یعنی نقلی اور جعلی مسیح مرزا قادیانی ۔ ناقل) کے متعلق ہے اور احمد آپ ہی ہیں ، لیکن اس کے خلاف کہاجاتا ہے کہ احمد نام رسول کریم ﷺ کا ہے اور آپ کے سوا کسی اور شخص کو احمد کہنا آپ کی ہتک ہے ۔ لیکن میں جہاں تک غور کرتا ہوں میرا یقین بڑھتا جاتا ہے اور میں ایمان رکھتا ہوں کہ احمد کا جو لفظ قرآن کریم میں آیا ہے وہ حضرت مسیح موعود (یعنی نقلی مسیح مرزا قادیانی ۔ ناقل) کے متعلق ہی ہے ‘‘ ۔ (انوار خلافت ، انوار العلوم جلد 3 ، صفحہ 83 وما بعد)
قارئین محترم! یہ صرف بطور نمونہ چند مرزائی تحریریں آپ کے سامنے رکھی ہیں ، ورنہ قادیانی لٹریچر اس طرح کی دلخراش اور کفریہ عبارات سے بھرا پڑا ہے ، یقینا ایک مسلمان کا دل یہ سب پڑھ کر تڑپ تڑپ جاتا ہے کہ کیسے ایک جھوٹے اور کذاب کو صادق ومصدوق ﷺ کے ساتھ ملایا جا رہا ہے ، میں بھی اپنے اصل موضوع کی طرف واپس آتا ہوں کہیں میرے قلم کے صبر کا پیمانہ لبریز نہ ہوجائے ، کیونکہ :
ڈرتا ہوں عدم پھر آج کہیں شعلے نہ اٹھیں بجلی نہ گرے
بربط کی طبیعت الجھی ہے ، نغمات کی نیت ٹھیک نہیں

مضمون مرتب (ساحل کاھلوں )