PDA

View Full Version : سیاسی خیر سگالی اور جی ایچ کیو



نذر حافی
12-30-2012, 12:12 AM
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نذر حافی
nazarhaffi@yahoo.com
غلطیاں تو سب سے ہوتی ہیں،عوام بھی کرتے ہیں اور رہنما بھی،فوجی بھی کرتے ہیں اور سول بھی الغرضیکہ سرکاری بھی کرتے ہیں اور پرائیویٹ بھی۔لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہم لوگ غلطی پر غلطی کرتے جائیں اور یہ کہتے پھریں کہ غلطیاں تو سب سے ہوتی ہیں۔ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ عوام کی غلطیوں کا ازالہ توکم و بیش ہوسکتاہے لیکن کسی رہبر یا رہنما کی غلطی کی تلافی کرنے میں صدیاں صرف ہوسکتی ہیں۔عوام کی غلطیوں کی سزا گھنٹوں،ہفتوں یا سالوں تک محدود ہوسکتی ہے لیکن قائدین کی غلطیوں کی سزا بعض اوقات نسل در نسل بھگتنی پڑتی ہے۔
اس وقت پاکستان کی تاریخ کے سیاسی و مذہبی رہنماوں میں ایک بڑا نام “علامہ” طاہر القادری کا ہے۔”علامہ” نے ۲۳اگست ۲۰۱۲ کو مینار پاکستان کے نیچے تاریخ پاکستان کا شاید سب سے بڑا اجتماع کر کےبلاشبہ یہ ثابت کردیاہے کہ پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد ان سے اپنی امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہے اور انہیں اپنے لئے کسی مسیحا سے کم نہیں سمجھتی۔
ممکن ہے کہ کوئی شخص یہ کہے کہ لوگ تو ہر کسی کے گرد جمع ہوجاتے ہیں۔ اس ضمن میں ہم یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ آج تک زور تو سب پارٹیوں نے لگایاہے لیکن صاف بات یہی ہے کہ عوام کی اتنی بڑی تعداد کسی کے گرد اکٹھی نہیں ہوئی اور آئندہ کئی سالوں تک کسی پارٹی سے ایسی امید بھی نہیں کی جاسکتی۔
فرزندانِ توحید کا یہ عظیم اجتماع جہاں “علامہ” طاہرالقادری کی عوامی مقبولیت پر کھلی دلیل ہے وہیں ان کی ذمہ داریوں میں شدید اضافے کا باعث بھی ہے۔
شاید انہی ذمہ داریوں کے احساس اورجلسے کی کامیابی کے لئے انتھک جدوجہد کے باعث “علامہ” نے کچھ ایسے بیانات دیے ہیں جن کی طرف انہیں فوری طور پر متوجہ کرنا بہت ضروری ہے۔ان بیانات میں سے ایک اہم بیان یہ ہے کہ ہم جی ایچ کیو کا ایجنڈا لے کر نہیں آئے اور سیاست نہیں ریاست بچاو۔
اب “علامہ” خود ہی بتائیں کہ ریاست کو سیاست کے بغیر بچانے کا ایجنڈا اگر جی ایچ کیو کا نہیں تو پھر اور کس کا ہوسکتاہے۔جمہوری و سیاسی عمل کو التوا میں ڈال کر سیاست بچانے،چلانے اور ریاست کے سیاست کے ساتھ علیحدگی کے تصور سے “علامہ” کی شخصیت اور ساکھ یقینی طور پر متاثر ہوئی ہے۔دوسرے لفظوں میں ۲۳اگست ۲۰۱۲ کے اجتماع کے بعد “علامہ” کی جو تصویر تاریخ کے صفحات میں ابھرنی چاہیے تھی اسے ان کے اس طرح کے بیانات نے دھندلا کردیاہے۔
اب ایسے میں “علامہ” کو تنہا چھوڑنے اور تماشہ دیکھنے کے بجائے تمام سیاسی و دینی پارٹیوں اور خاص کر ان پارٹیوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ جنہوں نے اپنے نمائندگان "“علامہ” " کے جلسے میں بھیجے تھے کہ وہ “علامہ” کے ساتھ ان کے سیاست کے ریاست سے علیحدگی کے نظریے پر کھل کر مذکرات کریں اور عوام النّاس کو اصل صورتحال سے آگاہ کریں۔
سیاسی ہم آہنگی فقط جلسوں میں شمولیت کا نام نہیں ہے بلکہ ملت کو قائدین کے فیصلوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کا نام ہے۔جن پارٹیوں نے “علامہ” کے جلسے میں شریک ہو کر اپنی طرف سے”علامہ” کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا اعلان کیاہے ،اب انہیں چاہیے کہ وہ ملت پاکستان کو یہ بھی بتائیں کہ وہ “علامہ” کے اس نظریے سے متفق ہیں یا نہیں۔
اگر متفق نہیں ہیں تو پھر کیا۔۔۔ “علامہ” کی تحریک کے سیاسی پہلووں کا جائزہ لئے بغیر “علامہ” کے جلسے میں بغیر سوچے سمجھے اوراندھادھند شمولیت کی تھی۔۔۔۔؟اگر ہم اسے سیاسی خیرسگالی کانام دیتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری سیاست کا کوئی اصول اور ضابطہ نہیں۔چنانچہ ہم اپنے فیصلوں سے پہلے یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم عوام نہیں بلکہ رہبر ہیں۔
عوام اگر کسی جلسے جلوس میں بغیر سوچے سمجھے چلیں جائیں تو اس کے اتنے برے اثرات مرتب نہیں ہوتے لیکن اگر قائدین اسی طرح جانا شروع کردیں تو اس طرح کے ماضی کے فیصلوں کی سزا ہم ابھی بھی بھگت رہے ہیں۔
ممکن ہے کہ کوئی پارٹی ڈنکے کی چوٹ پر یہ کہے کہ ہم اس لئے جلسے میں شریک ہوئے کہ ہم “علامہ” کے اس نظریے سے متفق ہیں اور ہم ریاست کوسیاسی عمل التواء میں ڈال کربچانا چاہتے ہیں۔ہاں اگر کوئی واضح یہ کہہ دے تو پھر کم از کم عوام تو آگاہ ہو جائے گی۔
البتہ ایک تیسری صورت بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ ممکن ہے “علامہ” طاہرالقادری کا مطلب یہ نہ ہو جو ہم لوگ سمجھے ہیں۔ویسے بھی بدگمانیوں کے دور میں انسان کو الٹا دکھائی اور غلط سنائی دینے لگتاہے۔ہم یہ ماننے پر تیار ہیں کہ" “علامہ” " سیاست کو ریاست سے الگ کر کے ایوان اقتدار تک نہیں پہنچنا چاہتے اور وہ سیاسی و جمہوری عمل کو ملک میں نہیں روکنا چاہتے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ بھی اپنے اس فرمان کی وضاحت کریں اور ان کے جلسے میں شامل ہونے والی پارٹیاں بھی اس حوالے سے اپنااپنا موقف بیان کریں۔
ہمیں فوجی آمریت کے ہاتھوں مسلسل پسنے کے بعد اب تویہ سمجھنا چاہیے کہ عوام کی غلطیوں کا ازالہ توکم و بیش ہوسکتاہے لیکن کسی رہبر یا رہنما کی غلطی کی تلافی کرنے میں صدیاں صرف ہوسکتی ہیں۔

نذر حافی
12-30-2012, 10:39 PM
عوام اگر کسی جلسے جلوس میں بغیر سوچے سمجھے چلیں جائیں تو اس کے اتنے برے اثرات مرتب نہیں ہوتے لیکن اگر قائدین اسی طرح جانا شروع کردیں تو اس طرح کے ماضی کے فیصلوں کی سزا ہم ابھی بھی بھگت رہے ہیں۔