PDA

View Full Version : کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا



نذر حافی
12-30-2012, 10:50 PM
ذرائع کے مطابق ایف آر پشاور سے اغوا ہو نے والے 21 لیویز ا ہلکارو ں کو قتل کر دیا گیا، دو اہلکار معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔ شہید کئے جانے والے تمام اہلکاروں کی شناخت ہوگئی ہے۔ ایک زخمی اہلکار امان اللہ کو تشویشناک حالت میں لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کر دیا گیا جبکہ دوسرا اہلکار جان بچا کر اپنے گھر پہنچ گیا۔ شدت پسندوں نے ایف آر پشاور میں ستائیس دسمبر کو رات گئے لیویز کی تین چیک پوسٹوں پر اچانک حملہ کیا، جس میں دو لیویز اہلکار شہید ہوگئے تھے۔ جن چیک پوسٹوں پر حملہ کیا گیا ان میں جانی خوڑ چیک پوسٹ، زرقا کوہی، حسن خیل اور ذخی سر چیک پوسٹ موسٰی درہ شامل ہیں۔ شدت پسندوں نے 23 اہلکاروں کو بھی اغوا کیا، جن میں سے اکیس کو شہید کر دیا گیا۔ کالعدم تحریک طالبان درہ آدم خیل نے واقعے کی ذمہ داری قبول کر لی تھی۔ مغویوں کی بازیا بی کیلئے ایک جرگہ بلایا گیا تھا لیکن جرگہ سے قبل ہی ان اہلکاروں کو قتل کر دیا گیا۔ اس سے قبل اسی علاقے میں ایس پی سپرنٹندنٹ آف پولیس کو بھی شہید کیا جا چکا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اب تک پولیس اور سکیورٹی فورسز کے ایک ہزار سے زائد جوان جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق دہشت گردوں نے ایک مرتبہ پھر بربریت اور ظلم کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایف آر پشاور سے اغواء ہونے والے 23 لیویز اہلکاروں میں سے 21 کو قتل کر دیا، جبکہ ایک اہلکار زخمی حالت میں جان بچا کر اسپتال پہنچنے میں کامیاب ہوگیا۔ دہشت گردوں نے ایف آر پشاور کے علاقہ حسن خیل میں مختلف چیک پوسٹوں پر 26 اور 27 دسمبر کی درمیانی شب حملہ کیا تھا اور اِس حملے میں 23 لیویز اہلکاروں کو اغواء کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔ جن میں سے 21 کی آج نعشیں برآمد ہوئی ہیں۔ ایک زخمی اہلکار پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال پہنچنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ جس کا علاج جاری ہے، تاہم اُس کے ساتھی کے بارے میں تاحال معلومات حاصل نہیں کی جاسکیں۔ قتل کئے جانے والوں میں سے تمام اہلکاروں کی شناخت ہوچکی ہے۔
ادھر حکام کا کہنا ہے کہ پشاور کے نزدیک ایک چیک پوائنٹ سے اغواء کیے جانے والے کم از کم اکیس نیم فوجی اہلکاروں کو شدت پسندوں نے قتل کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اغواء ہونے والوں میں سے ایک اہلکار زندہ بچا ہے لیکن اس کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔ تحریک طالبان پاکستان درہ آدم خیل کے ترجمان محمد نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے ان افراد کو یرغمال بنانے کا اعتراف کیا تھا۔ حکام کے مطابق بھاری خودکار اسلحے اور راکٹ پروپیلڈ گرینیڈوں (آر پی جی) سے لیس شدت پسندوں نے پشاور کے جنوب میں جانی خوڑ اور حسن خیل میں لیویز کی چوکیوں کو نشانہ بنایا تھا۔ حملے کا نشانہ بننے والی چوکیوں پر ایک سو کے لگ بھگ اہلکار تعینات تھے۔ یہ رواں مہینے میں پشاور اور اس کے گرد و نواح میں ہونے والا تیسرا بڑا حملہ تھا۔