PDA

View Full Version : پشاور سے انتہا پسندوں کا پاکستانی فورسز کا اغوا کے بعد بے رحمی سے قتل



tashfin28
12-31-2012, 09:07 PM
پشاور سے انتہا پسندوں کا پاکستانی فورسز کا اغوا کے بعد بے رحمی سے قتل

ہماری دلی، مخلص تعزیت، اور نيک دعائيں ان سپاہيوں کے سوگوار خاندانوں اور دوستوں کے ساتھ ہيں جنکو پشاور کے قريب طالبان نے دہشت گردی کے ايک حالیہ واقع ميں اغوا کرنے کے بعد بے رحمی سے قتل کيا۔ یہ واقعی نہايت پریشان کن ہے کہ اس ظالمانہ دہشتگرد کاروائی ميں ڈیوٹی پر موجود سپاہيوں پر چھاپہ مار کر اغوا کر لیا اور بعد ميں ان انتہا پسندوں نے سےانہيں گولی مار کر ہلاک کرديا۔ اس طرح کی سفاکانہ کارروائیوں سے ان کا حقيقی سیاہ چہرہ، برائی کی ذہنیت، اور دہشت گردی سےپاکستان کو لاحق سنگین خطرہ واضح ہوجاتا ہے۔

یہ باقاعدگی سے دہشت گردی کی کارروائیوں سے واضح طور پر دہشت گردوں کے شر قتل اور دھمکیوں کے ذریعے سیاسی اقتدار حاصل کرنے کے ایجنڈے پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ پاکستان بھر میں باقاعدگی سے سیاسی اور مذہبی رہنماؤں،سیکورٹی فورسز اور پاکستان کے معصوم لوگوں کے خلاف کی جانی والی دہشت گردی کی کارروائیاں واضح طور پر دہشت گردوں کی برائی، قتل اور دھمکیوں کے ذریعے پاکستان ميں اپنے سیاسی طاقت حاصل کرنے کے ایجنڈے اور عزائم کو ظاہر کرتی ہيں۔ يہ ذکر کرنا نہايت ضروری ہے کہ امریکی عوام اور امریکی انتظامیہ انتہا پسندوں کے خلاف پاکستانی عوام اور سيکورٹی فورسز کی طرف سے دی گئی زبردست قربانیوں کا اور ملک کو ان عسکریت پسندی کی خوفناک قتل کی کارروائیوں کی وجہ سے شدید نقصان کا سامنا کرنے کا دل سے قدر کرتے ہیں۔ ہم پاکستانی عوام کے ساتھ ان غیر انسانی درندوں کے خلاف ان کی جاری جنگ ميں ساتھ ساتھ کھڑے ہیں جو بلا امتیازمعصوم لوگوں کے قتل میں ملوث ہيں۔

بلا شک وشبہ،ان دہشت گردوں کو اپنے تشدد اور انتہا پسندی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے سے روکنے کےعلاوہ ہمارے پاس اور کوئی راستہ ہی نہيں ہے۔ ہم سمجھتے ہيں کہ اس وقت زیادہ سے زیادہ مل کر کام کرنے اور باہمی اختلافات کو حل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دہشتگردی کی لعنت کو شکست دينے پر زيادہ توجہ مرکوز کرسکيں جو پاکستان بھرکے پرامن لوگوں کےليۓ ايک خطرہ بن چکی ہے۔ ميں يہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ امریکی حکومت سنجیدگی سے اس ہدف کا تعاقب کرنے میں مصروف عمل ہے۔

تاشفين – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

digitaloutreach@state.gov
www.state.gov
https://twitter.com/#!/USDOSDOT_Urdu
http://www.facebook.com/USDOTUrdu

بےباک
01-03-2013, 02:34 PM
پچھلے چند برسوں میں پاکستان ایک ملک سے زیادہ ’’سرائے عالمگیر ‘‘ اور ’’کورڈ

آپریشن تھیٹر ‘‘بن کر رہ گیا۔ جس غیر ملکی کا دل چاہتا پاکستانی سفارت خانے سے ویزا

لگوا کر،انسٹرکٹر، کنٹریکٹر یا کسی ترقیاتی منصوبے کی نگرانی کے نام پر پاکستان میں

داخل ہوجاتا۔یہ سارا نظام پہلی بار ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری کے وقت اپنی اصل شکل

وصورت میں سامنے آیا۔پاکستان کی حکومت اور ریاستی ادارے بے بسی کی تصویر بن

کر اس صورت حال کو دیکھتے رہتے ۔ اب تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کھیل کی

نئی جہتیں اور پرتیں عوام کے سامنے کھلتی جارہی ہیں ۔یادش بخیر اب ذمہ دار لوگ بھی

اس معاملے پر لب کشائی کے مقام پر پہنچ گئے ہیں۔ اس سلسلے کی ایک کڑی افواج

پاکستان کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور سیکرٹری دفاع آصف یاسین کے حالیہ

انکشافات ہیں۔ان انکشافات کے بعد رحمان ملک بلاشبہ یہ گنگنانے میں حق بجانب ہوں گے


گئے دن کہ تنہا تھا میں انجمن میں


یہاں اب مرے رازداں اور بھی ہیں


سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل(ر) آصف یاسین نے پہلی بار کھل کر کہا ہے کہ امریکا اور

برطانیہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے مخالف ہیں۔ ریٹائرڈ جنرل آصف یاسین کے

انٹرویو میں پاکستان کے اسڑیٹیجک اور موجودہ امریکی جنگ سے متعلق کئی اور اہم

باتیں بھی شامل ہیں مگر ان کی گفتگو کا سب سے اہم حصہ یہی ایک جملہ ہے ۔ان کا یہ

بھی کہنا تھا کہ سی آئی اے کئی دوسرے ملکوں کی ایجنسیوں کے روپ میں بھی پاکستان

میں کام کرتی ہے ۔
دوسرے ہی روز افواج پاکستان کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی

نے بھی کہا کہ پاکستان کو غیر روایتی دشمن کا سامنا ہے ایک ایسا دشمن جس کی کوئی

واضح شکل و صورت نہیں۔ اس سے پہلے پاکستان میں کسی سیاسی حکومت یا فوج نے

کھل کر اس طرح کی بات نہیں ۔ سوائے اس کے کہ وزیر داخلہ رحمان ملک کبھی کبھار’’

تیسرے ہاتھ ‘‘ کا ذکر کرتے رہے ہیں لیکن نہ انہوں نے کبھی اپنے تصورِ ’’تیسرے

ہاتھ‘‘ کی وضاحت کی اور نہ ان کے بیانات کو کبھی کسی حلقے نے سنجیدگی کے ساتھ

لیا۔البتہ یہ ایک پوشیدہ حقیقت ہے کہ گزشتہ کئی برسوں میں پاکستان میں ایک جنگ آزادی

لڑی گئی ۔پاکستان کے حکمرانوں نے جو آزدی ایکڑوں میں گروی رکھی تھی اسے

انچوں کی صورت میں ایک جاں گسل جدوجہد کے نتیجے میں واپس لینا پڑا۔


سیکرٹری دفاع اور آرمی چیف کے بیانات میں ایک نکتہ مشترک ہے کہ پاکستان کا دشمن

کسی واضح شکل وصورت میں موجود نہیں شاید اسی بات کو کورڈ آپریشن کہا جا رہا ہے

۔ یہ وہی مخمصہ ہے جو پشاور ائر بیس پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کے جسموں

پر بنے ٹیٹوز سے کچھ اورگہرا ہوگیا۔جب سی آئی اے کے اہلکار اور دو پاکستانیوں کے

قاتل ریمنڈ ڈیوس کو چھڑانے کے مشن پر اس وقت کے امریکی سینیٹر اور اب نامزد وزیر

خارجہ جان کیری پاکستان آئے تو انہوں نے یہ کہہ کر دنیا کو چونکا دیا تھا کہ میں خون

کے حروف سے لکھ کر دینے کو تیار ہوں کہ امریکا پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا مخالف

نہیں۔ اس وقت یہ تاثر بہت مضبوط ہے کہ امریکا نے اس خطے میں جو آگ بھڑکائی ہے

اس کی بنیادی وجہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام ہے۔یوں تو امریکا روز اول سے ہی اس

پروگرام کا مخالف رہا ہے اور آئے دن مغربی ملکوں کے جاسوس کھوجی کتوں کی طرح

پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بُو سونگھتے ہوئے پائے جاتے رہے ہیںلیکن نائن الیون کے

بعد تو امریکا کی غیر ایٹمی پاکستان کی خواہش پر لگا کر اُڑنے لگی ۔امریکیوں نے طے

کر لیا کہ اب پاکستان سمیت کسی مسلمان ملک کو ایٹمی قوت کا حامل نہیں رہنے دینا۔

نائن الیون کے بعد بی بی سی نیوز پر ایک مذاکرے کی گونج آج بھی سنائی دے رہی ہے

جس میں مغرب کے شہ دماغ ،دفاعی امور کے ماہر ،یونیورسٹیز کے اساتذہ اور دانشور

شامل تھے جنہوں نے کہا تھا کہ بھوکے ننگے مسلمانوں کا مسئلہ روٹی ہے ایٹم بم نہیں

ہمیں انہیں روٹی دے کر ان کے ہاتھ سے ایٹم بم چھین لینا چاہیے ۔ان لوگوں پر سائنسی

تعلیم کے دروازے بند رکھنے چاہئیں کیونکہ یہ ہمارے تعلیمی اداروں سے علم حاصل کر

کے ہماری تقلید میں ایٹمی تحقیق کرتے ہیں۔امریکا اور یورپ نے ان مغربی ماہرین کی

سوچ کو اپنی ریاستی پالیسی بنا لیا۔انہوں نے دنیا کی واحد ایٹمی طاقت پاکستان کو ہر لحاظ

سے غیر مستحکم کرنے کا کھیل شروع کر دیا ۔مسلم دنیا میں جس نے بھی ایٹمی طاقت

حاصل کرنے کا خواب دیکھا امریکا نے جلد یا بدیر اسے انتہائی خوفناک انجام سے دوچار

کیا۔عراق کے ایٹمی ری ایکٹر کو اسی کی دہائی کے اوائل میں ہی اسرائیل کے ذریعے

تباہ کرادیا گیا۔ بعد میں صدام حسین کو ایک غار سے برآمد کرکے پھانسی پر چڑھا دیا

گیا۔عراق کے ایٹمی پرگرام کی تباہی سے کچھ ہی عرصہ پہلے پاکستان کے ایٹمی پروگرام

کے خالق ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر چڑھا کر ہنری کسنجر کی زبان میں نشان ِ

عبرت بنا دیا گیا تھااور اس پروگرام کے سب سے بڑے فنانسر سعودی فرماں روا شاہ

فیصل کو گولی کا نشانہ بنوایا گیا تھا۔معمر قذافی کو اچھے تعلقات اور پشت پناہی کا

جھانسہ دے کر ایٹمی مواد ٹین ڈبوں میں بھر کر منتقل کر لیا گیا بعدمیں قذافی کو جس بے

دردی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتارا گیا اس کی دنیا میں کم ہی مثال ملتی ہے ۔ایران ابھی

اعلانیہ ایٹمی طاقت نہیں مگر اس کا گھیرا تنگ ہی رکھا گیا ہے تاکہ بچنے نہ پائے

۔پاکستان دنیا میں واحد مسلمان ایٹمی طاقت ہے۔ اس کا وجود زخموں سے چُور کر دیا

گیا۔اسے قرون وسطیٰ کا خانہ جنگی کاشکار کوئی افریقی یا یورپی ملک بنا دیا گیا ۔پاکستان

میں رنگ برنگی دہشت گردی پیدا کر دی گئی ہے جس سے یہ ثابت کرنا مقصود ہے

یہ ملک ایٹم بم سنبھالنے کا اہل نہیں ۔پاکستان کو در پردہ معاشی ترقی اور ڈالروں کا لالچ

دے کر ایٹمی پروگرام ختم کرنے کا کہا جاتا رہا لیکن پاک فوج کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ

اس نے ہر قسم کے دبائو کا مقابلہ کرکے ایٹمی صلاحیت پر کوئی سودے بازی کرنے سے

انکار کیا ہے۔ پھر کیری لوگر بل کے تحت امداد کو ترقی کے لیے مختص کرنے کے نام

پر جاسوسی کا ایک پورا نظام قائم کرنے کی حکمت عملی اختیار کی گئی ۔اس کام کے

لیے امریکا کے بجائے یورپی اور اسلامی ملکوں کے نمائندوں کو پاکستان بھیجا جا نے

لگا ۔پاکستان نے اس کی مزاحمت کا راستہ اختیار کیا تو اقوام متحدہ کے بیشتر ترقیاتی

منصوبے قریب قریب ختم ہو کر رہ گئے۔کبھی طالبان کے نام پر تو کبھی این جی اوز کے

نام پر پاکستان کورڈ آپریشنز کا ایک تھیٹر بن کر رہ گیا۔ملک میں ہر تشدد کو طالبان کی

کارستانی قرار دے کرباقی سب ہاتھوں کو خفیہ رکھا جا رہا ہے ۔اب کرنے کاکام یہ ہے کہ

حکومت پاکستان طالبان کو ہر قیمت پر تشدد سے الگ کرے ۔اس کے لیے مونچھ نیچی

کرنا بھی پڑے تو اس گریز نہ کیا جائے ۔جب حقیقی طالبان اس کھیل سے الگ ہوجائیں

گے تو کورڈ آپریشن یعنی دستانہ پوش ہاتھ خود بخود سامنے آتے جائیں گے۔تشدد چھوڑنا

طالبان کی مجبوری نہیں وہ پہاڑوں پر بیٹھے ہوئے ہیں مگر اس تشدد کو چھانٹ کر الگ

کرناپاکستان کی ضرورت ہے ۔اس لیے حکومت کو طالبان کی طرف سے ہتھیار پھینک کر

یا ہتھیار اُٹھاکر مذاکرات کی بحث میں الجھے بغیر مذاکرات کی ڈور کا سرا پکڑ لینا

چاہیے ۔جنرل کیانی اور جنرل آصف یاسین کے بیانات سے مترشح ہے کہ آج پاکستان

بطور ریاست اپنے حرفِ انکار کی قیمت چکا رہا ہے۔

عارف بہار