PDA

View Full Version : امت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور شرک



اقبال ابن اقبال
01-03-2013, 10:36 PM
بسم اللہ الرحمٰن الرحمٰن الرحیم
الصلوٰۃ والسلام علیک یاسیدی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
(امت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور شرک)
دورحاضرمیں چندآٹے میں نمک کے برابر،بدمذہب اور بدعقیدہ و باطل پرست لوگ ،شرک و بدعت کا نام لے کر ،اپنے گمراہ کن عقائد باطلہ کو ہمارے بھولے بھالے مسلمانوں میں پھیلاکر ان کے قلوب سے محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زوال کے لئے مصروف عمل ہیں حالانکہ ان کے پیش نظر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کریمہ بھی ہوتی ہے،کہ امت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی شرک کرہی نہیں سکتی، جیساکہ
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ بیان فرماتے ہیں
صَلَّی رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی قَتْلَی أُحُدٍ بَعْدَ ثَمَانِی سِنِینَ کَالْمُوَدِّعِ لِلْأَحْیَاءِ وَالْأَمْوَاتِ ثُمَّ طَلَعَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ إِنِّی بَیْنَ أَیْدِیکُمْ فَرَطٌ وَأَنَا عَلَیْکُمْ شَہِیدٌ وَإِنَّ مَوْعِدَکُمْ الْحَوْضُ وَإِنِّی لَأَنْظُرُ إِلَیْہِ مِنْ مَقَامِی ہَذَا وَإِنِّی لَسْتُ أَخْشَی عَلَیْکُمْ أَنْ تُشْرِکُوا وَلَکِنِّی أَخْشَی عَلَیْکُمْ الدُّنْیَا أَنْ تَنَافَسُوہَا:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ برس کے بعد احد کے شہیدوں پر اس طرح نماز پڑھی ،جیسے کوئی زندوں اور مردوں کو رخصت کرتا ہے پھر واپس آکر منبر پر تشریف لے گئے اور ارشاد فرمایا کہ میں تمہارا پیش خیمہ ہوں تمہارے اعمال کا گواہ ہوں اور میری اور تمہاری ملاقات حوض کوثر پر ہوگی اور میں تو اسی جگہ سے حوض کو ثر کو دیکھ رہا ہوں مجھے اس کا ڈر بالکل نہیں ہے کہ تم میرے بعد مشرک ہو جاؤ گے البتہ میں اس بات کا اندیشہ کرتا ہوں کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے دنیا کے مزوں میں پڑ کر رشک و حسد نہ کرنے لگو۔
(بخاری شریف۔رقم الحدیث3736۔ جلد 12 صفحہ 436۔مکتبۃالشاملۃ)
ملاحظہ فرمایاآپ نے کہ جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر اعلان فرمادیا ،کہ میری امت سے مجھ کو شرک کا خوف نہیں ہے، پھر آج گستاخان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ٹولہ ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان اقدس کے خلاف جاکر آپ (علیہ السلام) کی امت پر شرک کے الزامات کیوں لگاتا ہے؟... آخرکچھ تو ہے، کہ جس کی پردہ داری ہے ،چنانچہ اس سلسلے میں یہ حدیث کریمہ بھی ملاحظہ فرمائیں،کہ
حضرت حذیفۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں،کہ
قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : اِنَّ مَا اَتَخَوَّفُ عَلَیْکُمْ رَجُلٌ قَرَۃَ الْقُرْآنَ حَتَّی اِذَا رُءِیَتْ بَھْجَتُہُ عَلَیْہِ وَ کَانَ رِدْءًا لِلْاِسْلَامِ غَیْرَہُ اِلَی مَاشَاءَ اﷲُ فَانْسَلَخَ مِنْہُ وَ نَبَذَہُ وَرَاءَ ظُھْرِہِ وَ سَعَی عَلَی جَارِہِ بِالسَّیْفِ وَرَمَاہُ بِالشِّرْکِ قَالَ : قُلْتُ : یَا نَبِیَّ اﷲِ، اَیُھُمَا اَوْلَی بِالشِّرْکِ الْمَرْمِیُّ اَمِ الرَّامِی قَالَ : بَلِ الرَّامِی. رسول اﷲصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ،کہ بیشک مجھے جس چیز کا تم پر خدشہ ہے وہ ایک ایسا آدمی ہے جس نے قرآن پڑھا ،یہاں تک کہ جب اس پر اس قرآن کا جمال دیکھا گیا اور وہ اس وقت تک جب تک اﷲنے چاہا اسلام کی خاطر دوسروں کی پشت پناہی بھی کرتا تھا۔ پس وہ اس قرآن سے دور ہو گیا اور اس کو اپنی پشت پیچھے پھینک دیا اور اپنے پڑوسی پر تلوار لے کر چڑھ دوڑا اور اس پر شرک کا الزام لگایا، راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا ،کہ اے اﷲکے نبی(صلی اللہ علیہ وسلم)ان دونوں میں سے کون زیادہ شرک کے قریب تھا؟... شرک کا الزام لگانے والا... یا... جس پر شرک کا الزام لگایا گیا ؟...توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ،کہ شرک کا الزام لگانے والا۔
( صحیح ابن حبان ۔رقم الحدیث81۔جزء 1۔صفحہ157۔مکتبۃالشاملۃ)
مذکورہ بالا2احادیث کریمہ آپ بغورمطالعہ فرمائیں،تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجائے گی ،کہ جو لوگ شرک و بدعت کے نعرے لگاکراس کی آڑ میں لوگوں کوگمراہی پر مائل کرتے ہیں درحقیقتا یہی لوگ ،رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے موجب ہیں،یعنی یہی لوگ مرتکب شرک ہوتے ہیں۔
نیزنہ صرف مرتکب شرک ،بلکہ یہی لوگ ،جناب رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم وتکریم کے سلسلے میں بھی منکرہوتے ہیں،چہ جائیکہ وہ کتنی ہی نمازیں کیوں نہ پڑھ لے،کتنی ہی عبادات کیوں نہ کرلے ،مگر دل میں محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شمع روشن نہ ہونے کی بنا پردخول فی الاسلام سے قاصر ہوتے ہیں ،
کیونکہ یادرہے،کہ ایمان و اسلام کا تعلق عشق ومحبت پرمبنی ہے یعنی اسلام و ایمان تب ہی معتبر ہے،کہ جب دل میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہو ورنہ اگرفقط عبادات کومعیاربنایاجائے اور دل محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خالی ہو، تو واضح رہے کہ روئے زمین پر سب سے زیادہ عبادات،اگرکسی نے کی ہے ،تو وہ شیطان ہے،کہ جس کا اتنا مرتبہ تھا کہ وہ معلم الملائکۃ کہلایاجاتاتھا،یعنی ملائکہ کو علم سکھاتا تھا،لیکن بارگاہ الٰہی سے اگر مردودوملعون ہوابھی ،توفقط اسی وجہ سے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اس کے نبی علیہ السلام کی تعظیم نہ کی۔
لہذا خلاصہ کلام یہ ہے کہ عبادات ، تب ہی قابل قبول ہے ،کہ جب قلوب ،محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شمع سے روشن ہو۔

pervaz khan
01-04-2013, 05:33 PM
جزاک اللہ