PDA

View Full Version : ملالہ امن ایوارڈ 2012 کی حقدارمگر حکمرانوں نے کیا کیا؟



سید انور محمود
01-04-2013, 08:03 PM
تاریخ: 4 جنوری 2013
از طرف: سید انور محمود

http://urdulook.info/imagehost/?di=8W6M

ملالہ امن ایوارڈ 2012 کی حقدارمگر حکمرانوں نے کیا کیا؟
ملالہ یوسف زئی کو برمنگھم کے کوئن الزبتھ اسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا۔ اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انہیں جنوری کے آخر یا فروری میں سرجری کیلئے دوبارہ اسپتال میں داخل کیا جائے گا۔ پورے پاکستان میں اپنی جاہلانہ سوچ کو بندوق کی زور پر منوانے والے تشدد پسند طالبان دہشتگرد گروہ کھلی قتل و غارت گری کر رہے ہیں۔آئے دن کسی نہ کسی شہر میں یہ بم دھماکے کرکے معصوم انسانوں کی جان لے رہے ہیں ۔ 9 اکتوبر2012 کو مینگورہ میں 14 سالہ معصوم مگر حوصلہ مند ملالہ یوسف زئی کو اسکول سے گھر آتے ہوئے فائرنگ کرکے شدید زخمی کردیا تھا، حملے میں ان کی دوساتھی طالبات بھی زخمی ہوئی تھیں، حملے کی ذمہ داری طالبان دہشتگردوں نے قبول کی تھی۔ ان دہشتگردوں کے ہاتھ تو پہلے ہی معصوم و بے گناہ پاکستانیوں کے خون سے رنگے ہوئے تھے۔ اس طالبانی دہشتگردی نے سوات کے باسیوں کو حیرت و افسوس سے گنگ کرکے رکھ دیا ، جبکہ پوری دنیا حیران تھی کہ ایک معصوم نہتی لٹرکی سے دہشتگرد گروہ کو کیا خطرہ ہوسکتا ہے۔سوات میں طالبان کے ظلم سے واقف ملالہ طالبان کو دہشت گرد کہتی ہے تو کیا ہوا یہ تو پوری دنیا کو معلوم کہ طالبان نام ہے دہشتگردوں کا ۔ وادی سوات کی معصوم گل مکئ ملالہ یوسف زئی کواللہ تعالی نے یہ سمجھ بوجھ دی ہے کہ اسکو تعلیم کی اہمیت کا خوب احساس ہے، اور اُس کا یہ کہناکہ تعلیم اسکا بنیادی حق ہے اسکا مشن بن گیا اور یہ ہی اُسکا جرم تھا۔ دہشتگردوں کواُس کے مشن سے خوف ہے اس لیے ان کا کہنا ہے کہ وہ ملالہ کو پھر سے نشانہ بنائیں گے۔ بقول کشور ناہید:
وہ جو بچیوں سے بھی ڈر گئے
وہ جو علم سے بھی گریز پا
کریں ذکررب کریم کا
وہ جو حکم دیتا ہے علم کا
کریں اس کے حکم سے ماورا یہ منادیاں
نہ کتاب ہو کسی ہاتھ میں
نہ ہی انگلیوں میں قلم رہے

حال ہی میں ملالہ کو 2012کا عالمی ٹپریری ایوارڈ برائے امن دیا گیا ہے۔ آئرلینڈ کا یہ ایوارڈ تمام بچوں کے لیے تعلیم کے حق کے لیے آواز بلند کرنے اور ان کے حوصلے کی وجہ سے دیا گیا ہے۔اس سے پہلے یہ ایوارڈجنوبی افریقہ کے رہنما نیلسن مینڈیلا، سری لنکا کی رہنماہ بندرانایکئے، اور 2007میں پاکستانی رہنما بینظیر بھٹو کو مل چکا ہے۔2012کے ایوارڈ کے لیے ملالہ کے علاوہ نامزد ہونے والوں میں امریکی وزیرِخارجہ ہلری کلنٹن، بھارت میں کانگرس پارٹی کی رہنما سونیا گاندھی، کینیا سے تعلق رکھنے والے سابق صحافی جان گیتھونگو اور تنظیم پیکس کرسٹی انٹرنیشنل شامل ہیں۔ اقوام متحدہ نے دس نومبر کو ’یومِ ملالہ‘ منایا اور پوری دنیا میں اس دن کو ملالہ کے حوالے سے تعلیم کا دن کہاگیا۔ امریکی جریدے فارن پالیسی نے دنیا کے سو نمایاں مفکروں کی ایک فہرست میں ملالہ یوسفزئی کو چھٹے نمبر پر رکھا ہے۔سوات میں طالبان کے حملے کا شکار ہونے والی ملالہ اب ایک نام سے زیادہ پاکستانی بچیوں کی تعلیم کے حق کے لیے اٹھائی جانی والی آواز بن گئی ہیں۔ ملالہ پر حملے نے جہاں پاکستانی بچیوں کو تعلیم کے حق کے لیے لڑنے کی اُمنگ دی وہیں ایک مختلف نوعیت کا پاکستانی چہرہ دنیا کے سامنے آیا جو ترقی پسنداور مثبت تھا۔اس پاکستانی بچی کو امن کا ایوارڈ ملے، اقوام متحدہ ’یومِ ملالہ‘ منائے یا امریکی جریدے فارن پالیسی اسکو مفکر قرار دےکیا پاکستانی بچیوں کے لیے کوئی معنی رکھتا ہے؟ ملالہ پر حملے کے حوالے سے ہماری رائے عامہ دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں جب دیکھا گیا تو پاکستان میں ملالہ پر حملہ ایک سیاسی انداز اختیار کرگیا۔ اگر ایک طرف طالبان مخالف ہیں تو دوسری طرف طالبان ہمدرد اور ایک دوسرے کی ضد میں اپنی اپنی بات کررہے ہیں۔

بی بی سی کی ویب سایٹ کے مطابق: ایک پاکستانی خاتون بلاگر ثنا سلیم کہنا تھا کہ ’یہ ہمارے لیے بہت بڑا اعزاز ہے کیونکہ ملالہ ایک بچی ہے جس نے اتنی بہادری دکھائی اتنی بڑی بات سوچی۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’بہت اچھی بات ہے کہ پذیرائی ہو رہی ہے اور بہت اچھی بات ہے کہ لوگ اس بارے میں بات کر رہے ہیں مگر اس سے بھی اچھی بات ہو گی اگر شہرت سے بڑھ کر کوئی اصل کام کریں گے اور سوات اور باقی سب جگہوں کو درحقیقت اتنا محفوظ کیا جا سکے گا کہ آئندہ کسی بچے کی زندگی ملالہ کی طرح خطرے میں نہیں پڑے گی۔مگر کچھ لوگ اس بات سے متّفق نہیں نظر آتے، پاکستانی صحافی اوریا مقبول جان کا کہنا ہے کہ ’میڈیا کا عجیب معاملہ ہے کیونکہ ایک سیاسی اور مخصوص صورتحال میں اگر ایک کیفیت بنے تو پذیرائیاں ہی پذیرائیاں مل جاتی ہیں۔‘ پاکستانی صحافی رابعہ محمود کا خیال تھا کہ ملالہ کی طرح کے افراد ایک علامتی اہمیت رکھتے ہیں اور ان کی ضرورت ہوتی ہے۔رابعہ کہا کہنا تھا کہ ’سب سے اہم بات یہ ہے کہ تمام پاکستانی جو اپنے اپنے دائرے میں روزانہ جدوجہد کر رہے ہیں اور پھر بڑے پیمانے پر جس طرح اس بچی نے کیا تو ایک جو مزاحمت کا عنصر ہے وہ بہت زبردست بات ہے'۔ جماعت اسلامی کے شعبۂ خواتین کی سربراہ ڈاکٹر سمیعہ راحیل قاضی نے کہاکہ ’انہیں اس بات پر فخر ہے اور ملالہ قوم کی ایک بیٹی ہے اور اگر اس کو کوئی عزت مل رہی ہے تو ہم اس کی قدر کرتے ہیں‘۔ مگر ان کا خیال تھا کہ ملالہ پر ضرورت سے زیادہ رد عمل دکھایا گیا خاص طور پر مغربی میڈیا کی جانب سےتو اس کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے کہ اس کے پس پردہ کچھ اور عوامل تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’ملالہ کو تعلیم کی علامت بنا دینے سے میرا نہیں خیال کہ یہاں کی اکثریت اس کو ماننے لگے گی بلکہ اس پر رد عمل نے ملالہ جیسی معصوم بچی کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔‘ پاکستان میں سوشل میڈیا کی سرگرم رکن ماروی سرمد نے کہا ’علامتی اہمیت سے بڑھ کر اس کی حقیقی اہمیت پاکستانیوں کے لیے یہ ہے کہ بہت کم ہمارے بارے میں اچھی خبر آتی ہے۔‘ لاہور سے ایک طالبہ مریم زنیرہ نے سوال اٹھایا کہ ٹھیک ہے کہ ملالہ کا نام ایک جریدے نے چھٹے نمبر پر لکھ دیا مگر کیا یہ کافی ہے اور اس کے بعد کیا ہوا؟

ملالہ نے جو کچھ کیا وہ قابل ستائش ہے اور بالکل ایک مثبت عمل تھا ۔ ملالہ نے شاید اپنے جرات مندانہ عمل سے وہ کچھ کر دکھایا جو بہت سے لوگوں کے لیے ایک بڑی علامتی کامیابی ہے ، مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ علامتی کامیابیوں کے سہارے ہم کب تک اپنے آپ کو تسلیاں دیتے رہیں گے یا پھرکوئی حقیقی تبدیلی یعنی "اپنے آپ سے تبدیلی" کا آغاز کریں گے۔ اور آخرمیں سوال یہ ہے کہ جو روشنی ملالہ کے زریعے ملک کے عوام کو دکھائی دی ہے اس کے لیے ہمارے حکمرانوں نے تعلیم اور خاصکر بچیوں کی تعلیم کے لیے کچھ کیا؟ جواب ہے کہ حکمرانوں نے پانچ سال میں لوٹ مار کے سوا اگر کچھ کیا ہوتا تو کچھ کرتے۔